سید قطب شہید نے "فی ظلال القرآن" کے (جزء عمّ) میں سورہ عبس کے اسلوبِ بیان، اس کے صوتی آہنگ اور اس کے نفسیاتی اثرات پر نہایت گراں قدر اور تفصیلی کلام کیا ہے۔ سید قطب کے نزدیک یہ سورت مکی دور کے اسلوبِ بیان کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں الفاظ کی آوازیں اور معانی مل کر ایک زبردست صوتی اور حسی ماحول پیدا کرتے ہیں۔
سورہ عبس کے اسلوبِ بیان کے بارے میں سید قطب کے تجزئے کا تفصیلی جائزہ درج ذیل اہم نکات میں پیش کیا گیا ہے
1۔سورت کے اسلوب کی تقسیم
سید قطب فرماتے ہیں کہ سورہ عبس کا اسلوبِ بیان چار مختلف حصوں یا مناظر میں بٹا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود پوری سورت کے صوتی اور موضوعاتی تانے بانے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
پہلا حصہ (آیات 1-10): یہ ایک عتاب (ناراضگی) کا منظر ہے، جس کا اسلوب نہایت سنجیدہ، دھیما اور گہرا ہے۔
دوسرا حصہ (آیات 11-16): یہ قرآن مجید کی عظمت اور اس کے بلند مرتبے کا ذکر ہے۔ اس کا اسلوب رعب دار اور نورانی ہے۔
تیسرا حصہ (آیات 17-32): یہ انسان کی ناشکری اور کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا بیان ہے۔ اس کا اسلوب استدلال اور تفکر کا ہے۔
چوتھا حصہ (آیات 33-42):
یہ قیامت کا ہولناک منظر ہے۔ اس کا اسلوب انتہائی تیز، کان پھاڑ دینے والا اور لرزہ خیز ہے۔ 2۔غائب سے مخاطب کی طرف التفات
سید قطب نے سورت کی پہلی دو آیات کے اسلوبِ بیان پر بہت گہرا ادبی نقطہ اٹھایا ہے۔ قرآن کہتا ہے عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ (وہ چیں بہ جبیں ہوا اور منہ موڑ لیا، کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا)۔
سید قطب کہتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کا نام نہیں لیا اور نہ ہی آپ ﷺ کو براہِ راست مخاطب کیا (یعنی یہ نہیں کہا کہ عَبَسْتَ وَتَوَلَّيْتَ کہ "تو چیں بہ جبیں ہوا")۔ بلکہ غائب (Third Person) کا صیغہ استعمال کیا۔
اس اسلوب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ پر براہِ راست عتاب کا بھاری بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا، اس لیے غائب کے اسلوب میں بات کی تاکہ صدمہ کم ہو۔ لیکن جیسے ہی اگلی آیت آئی، تو اسلوب بدل کر براہِ راست خطاب کر دیا گیا: وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ (اور تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جاتا)۔ یہ مکی اسلوب کا ایک اعلیٰ ادبی معجزہ ہے۔
3۔صوتی اثرات اور سخت الفاظ کا چناؤ
سید قطب مکی سورتوں کی صوتی موسیقی کے بہت بڑے مداح ہیں اور سورہ عبس کے آخری حصے میں وہ اس کی انتہا دیکھتے ہیں۔ جب قیامت کا ذکر آتا ہے تو قرآن کہتا ہے: فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ (پھر جب وہ کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی)۔
سید قطب لکھتے ہیں کہ "الصَّاخَّةُ" کا لفظ اپنے تلفظ اور صوتی اثر کے اعتبار سے ہی ایسا ہے کہ یہ کان کے پردوں کو چیرتا ہوا دل میں اتر جاتا ہے۔ اس لفظ کی تکرار اور اس کی سخت آواز قیامت کی اس ہولناک چیخ کی تصویر کشی کرتی ہے جو انسان کے ہوش اڑا دے گی۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس سورت کے آخری حصے کے فواصل (آیات کا اختتام) نہایت مختصر اور تیز ضربوں جیسے ہیں، جیسے: الصَّاخَّةُ، بِأَخِيهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ، بَنِيهِ، شَأْنٌ يُغْنِيهِ۔ یہ صوتی آہنگ انسان کے اندر ایک اضطراب اور خوف کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
4۔الفاظ کے ذریعے حسی مناظر کی تصویر کشی
جیسا کہ سید قطب کا بنیادی نظریہ ہے، اس سورت میں بھی انہوں نے الفاظ کے ذریعے بننے والی تصویروں کو واضح کیا ہے
انسانی غفلت کی تصویر: جب انسان کی پیدائش کا ذکر آتا ہے (مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ مِن نُّطْفَةٍ...) تو اسلوب ایسا ہے جیسے فلم کی طرح انسان کے مراحلِ حیات سامنے آ رہے ہوں۔
قیامت کی نفسیاتی تصویر: آخری آیات میں جب قرآن کہتا ہے کہ انسان اپنے بھائی، ماں، باپ اور بیوی بچوں سے بھاگے گا، تو سید قطب کہتے ہیں کہ قرآن نے یہاں صرف ایک خبر نہیں دی، بلکہ افراتفری اور خوف کی ایک نفسیاتی تصویر کھینچ دی ہے جہاں ہر انسان اپنے نفس میں مقید نظر آتا ہے۔
چہروں کی تصویر کشی: سورت کے آخر میں چہروں کی دو متضاد تصویریں ہیں؛ ایک طرف چمکتے، ہنستے اور مسکراتے ہوئے چہرے (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ) اور دوسری طرف دھول آلود، سیاہ اور غمزدہ چہرے (وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ)۔
سید قطب کے مطابق، قرآن کا یہ اسلوبِ بیان قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ سوچے کہ اس کا اپنا چہرہ اس دن کس صف میں ہوگا۔