حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جو مادہ پرستی کے اندھیروں میں روحانیت کی قندیل بن کر ابھرا۔ آپؑ کی ولادت، دعوت اور مشن کو سمجھنے کے لیے اس دور کے سیاسی اور مذہبی پس منظر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ آپؑ کی پوری زندگی ان حالات کے خلاف ایک الٰہی احتجاج اور اصلاح کی جدوجہد تھی۔
سیاسی و مذہبی پس منظر
حضرت عیسیٰؑ کی بعثت کے وقت فلسطین رومی سلطنت کا ایک صوبہ تھا، جو قیصرِ روم کے مقرر کردہ گورنروں کے زیرِ اثر تھا۔ سیاسی طور پر بنی اسرائیل اپنی آزادی کھو چکے تھے اور رومیوں کے جبر و استبداد کا شکار تھے۔ دوسری جانب، مذہبی صورتحال اس سے بھی ابتر تھی۔ بنی اسرائیل کے مذہبی پیشوا دین کی روح کو بھلا کر محض ظاہری رسومات اور بال کی کھال اتارنے والی بحثوں میں مشغول تھے۔ لوگ ایک ایسے مسیحا کے منتظر تھے جو انہیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے، مگر اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو ان کی اخلاقی اور روحانی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھیجا۔
ذاتی زندگی اور مقام
حضرت عیسیٰؑ کی زندگی سادگی، زہد اور تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ قرآنِ کریم آپؑ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وہ دنیا اور آخرت میں بڑی عزت والا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔" (سورہ آلِ عمران: 45)
آپؑ کی شخصیت میں حلم، بردباری اور ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ آپؑ نے اپنی زندگی اللہ کی بندگی کے لیے وقف کر رکھی تھی، جیسا کہ آپؑ نے گہوارے میں خود اعلان فرمایا:
دعوت اور مشن
حضرت عیسیٰؑ کا مشن شریعتِ موسوی کی بگڑی ہوئی شکل کی اصلاح کرنا اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کرنا تھا۔ آپؑ کی دعوت کا مرکزی نکتہ اخلاص تھا۔ آپؑ نے ان مذہبی پیشواؤں کو للکارا جو لبادے تو دین کے پہنتے تھے مگر ان کے دل کینے سے بھرے ہوئے تھے۔ آپؑ کی آمد کا مقصد قرآن کی زبان میں یہ تھا:
"اور تاکہ میں تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں۔" (سورہ آلِ عمران: 50)
معجزات اور ان کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو ایسے معجزات عطا فرمائے جو اس دور کے مادی فلسفے کو توڑنے کے لیے کافی تھے۔ مٹی سے پرندہ بنانا، اندھوں کو بینا کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا آپ کے نمایاں معجزات تھے۔ قرآن ان کا ذکر یوں کرتا ہے:
"اور میں اللہ کے حکم سے مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہوں اور اللہ ہی کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں۔" (سورہ آلِ عمران: 49)
آخری ایام اور رفعِ آسمانی
جب باطل نظام کو خطرہ محسوس ہوا، تو رومی حکمرانوں اور یہودی مذہبی پیشواؤں نے مل کر آپؑ کے خلاف سازش کی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مصلحت کے تحت آپؑ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ قرآنِ پاک صاف لفظوں میں کہتا ہے:
"اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی چڑھا سکے بلکہ ان کے لیے (معاملہ) مشتبہ کر دیا گیا... بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔" (سورہ النساء: 157-158)
حضرت عیسیٰؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی راہ میں اصل طاقت ایمان اور کردار کی ہوتی ہے۔ آپؑ کا مشن آج بھی انسانیت کو مادہ پرستی کی قید سے نکال کر خدائے واحد کی بندگی کی طرف بلاتا ہے۔