اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو ایسی روحانی خصوصیات عطا فرمائیں جو محض ان کی ذات تک محدود نہ رہیں بلکہ پوری کائنات کو اپنے دائرے میں لے لیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان ہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم ان کی ایک غیر معمولی صفت کو نمایاں کرتا ہے: نغمہ سنج ذکرِ الٰہی—ایسا ذکر کہ پہاڑ اور پرندے بھی اس میں شریک ہو جاتے تھے۔ یہی حقیقت ہمیں زبور (Psalms) میں بھی مختلف اسالیب اور شعری پیکروں میں ملتی ہے۔
قرآنِ کریم حضرت داؤدؑ کو ایک ایسے نبی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہیں اللہ نے حسنِ صوت اور روحانی تاثیر عطا فرمائی۔ جب وہ اللہ کی تسبیح کرتے تو ان کا ذکر محض الفاظ نہ ہوتا بلکہ ایک زندہ نغمہ بن جاتا تھا:
“اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ وہ تسبیح کرتے تھے، اور پرندوں کو بھی۔” (الانبیاء: 79)
ایک اور مقام پر فرمایا:
“اے پہاڑو! اس کے ساتھ رجوع کرو، اور اے پرندو!” (سبأ: 10)
اور سورۃ ص میں اس منظر کو وقت کے تعین کے ساتھ بیان کیا گیا:
“ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر دیا، وہ شام اور صبح تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی جمع ہو جاتے تھے۔”
(ص: 18–19)
قرآن کے مطابق کائنات اللہ کی حمد میں مصروف ہے، تو گویا حضرت داؤدؑ کا ذکر اس کائناتی تسبیح کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا تھا۔
زبور، جو حضرت داؤدؑ کی روحانی کیفیت کو شاعرانہ اور تمثیلی زبان میں بیان کرتی ہے۔ یہاں کائنات کو بولتے، گاتے اور خوشی مناتے دکھایا گیا ہے۔
مثلاً زبور میں ایک جگہ ہے:
“آسمان خدا کے جلال کا اعلان کرتے ہیں،
اور فلک اس کے ہاتھوں کے کام کو ظاہر کرتا ہے۔”
(Psalm 19)
ایک اور مقام پر:
“دریا تالیاں بجائیں،
اور پہاڑ مل کر خوشی کے نغمے گائیں۔”
(Psalm 98:7–8)
اور سب سے جامع انداز ہمیں Psalm 148 میں ملتا ہے جہاں آسمان، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور پرندے—سب کو خدا کی حمد میں شامل دکھایا گیا ہے۔
زبور کا انداز تصویری، جذباتی اور نغماتی ہے۔ یہاں حضرت داؤدؑ کی آواز پس منظر میں ہے، مگر پوری کائنات ایک عظیم حمدیہ نغمہ بن جاتی ہے۔
تقابلی جائزہ: اسلوب مختلف، حقیقت ایک
اگر قرآن اور زبور کے بیانات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو چند اہم نکات نمایاں ہوتے ہیں:
اوّل: قرآن واقعے کو براہِ راست اور قطعی انداز میں بیان کرتا ہے: پہاڑ اور پرندے واقعی حضرت داؤدؑ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔
دوم: زبور اسی حقیقت کو استعارہ، شاعری اور نغمے کی زبان میں پیش کرتی ہے: پہاڑ گاتے ہیں، دریا تالیاں بجاتے ہیں، پرندے نغمے چھیڑتے ہیں۔
سوم: دونوں کتابوں میں مشترک تصور یہ ہے کہ کائنات جامد نہیں بلکہ ذاکر ہے، اور حضرت داؤدؑ اس کائناتی ذکر کے مرکزی نغمہ گر ہیں۔
چہارم: قرآن ہدایت اور عقیدے کو مرکز بناتا ہے، جبکہ زبور دل، احساس اور جمالیاتی شعور کو بیدار کرتی ہے—لیکن منزل دونوں کی ایک ہے: حمدِ الٰہی۔
حضرت داؤدؑ کی تسبیحات اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ وحیِ الٰہی مختلف ادوار اور اسالیب میں نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام ایک ہی رہا۔ قرآن جس حقیقت کو عقیدے اور ہدایت کی زبان میں بیان کرتا ہے، زبور اسی کو نغمہ، دعا اور شاعری میں ڈھال دیتی ہے۔
اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ذکرِ الٰہی محض زبان کا عمل نہیں بلکہ کائنات کی فطرت ہے—اور حضرت داؤدؑ اس فطری اور کائناتی ذکر کی سب سے خوبصورت انسانی آواز تھے۔
