نفسیاتی الجھنیں اور سکونِ قلب کا قرآنی نسخہ

انسانی زندگی خیالات کے ایک نہ ختم ہونے والے تسلسل کا نام ہے۔ کبھی یہ خیالات ہمیں امید کی روشنی دکھاتے ہیں اور کبھی خوف و حزن کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جہاں نفسیاتی امراض کی بھرمار ہے، وہاں قرآنِ کریم کا یہ نسخہ آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر سوچ ہماری اپنی ہے؟ اور "خیال" اور "وسوسے" میں بنیادی فرق کیا ہے؟

عام فہم انداز میں سمجھا جائے تو ’خیال‘ ایک فطری عمل ہے۔ یہ کسی ضرورت، مشاہدے یا یادداشت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً بھوک لگنے پر کھانے کا خیال آنا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا۔ خیال بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی عقل کے متحرک ہونے کی علامت ہے۔

دوسری طرف ’وسوسہ‘ ایک بیرونی مداخلت ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الناس میں "الوسواس الخناس" کا ذکر ملتا ہے، جو وہ چھپ کر حملہ کرنے والا ہے جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وسوسہ دراصل وہ منفی، بے بنیاد اور خوفزدہ کر دینے والی سوچ ہے جو اچانک ذہن میں پیدا کی جاتی ہے۔ خیال شعور سے جنم لیتا ہے، جبکہ وسوسہ لاشعور پر حملہ کر کے انسان کے جذبات میں خلل ڈالتا ہے۔

شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار "خوف" اور "حزن" (غم) ہے۔ وہ انسان کو مستقبل کے اندیشوں سے ڈراتا ہے اور ماضی کے پچھتاووں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ان کیفیات کا واحد حل ’ذکرِ الٰہی‘ میں رکھا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" (الرعد: 28)۔ یہ اطمینان دراصل اسی ذہنی انتشار اور وسوسوں کے طوفان کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ہے۔

قرآنی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ جب وسوسوں کا حملہ ہو تو ان سے بحث کرنے یا ان میں الجھنے کے بجائے "پناہ" طلب کی جائے۔ "اعوذ باللہ" کہنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ میں اپنی سوچوں کو قابو کرنے میں کمزور ہوں، اے اللہ! تو مجھے اپنی حفاظت میں لے لے۔

انسانی نفسیات کا ماہرِ اعظم وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اکیلا نہیں ہے؛ اس کے ساتھ جہاں شیطان کے وسوسے ہیں، وہاں اللہ کا مضبوط سہارا بھی ہے۔ جب ہم اللہ سے تعلق مضبوط کرتے ہیں، تو وہی بے چین کر دینے والے خیالات مدہم پڑنے لگتے ہیں اور ذہن پر ایک ایسی سکینت طاری ہوتی ہے جسے دنیا کی کوئی مادی چیز فراہم نہیں کر سکتی۔

آج کے اضطراب زدہ دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے خیالات کی چوکیداری کریں۔ جو سوچ ہمیں اللہ سے دور کرے یا مایوسی کی طرف لے جائے، اسے 'وسوسہ' سمجھ کر رد کر دیں اور جو سوچ عملِ خیر کی طرف راغب کرے، اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اپنا لیں۔ سکون کا راستہ دماغ کی الجھنوں میں نہیں، بلکہ دل کے اللہ سے جڑ جانے میں ہے۔