قرآن مجید اور فساد بر و بحر کی لازوال حقیقت

آج جب ہم اخبارات کی سرخیاں دیکھتے ہیں، تو قرآن کی یہ چودہ سو سال پرانی آیت کسی زندہ حقیقت کی طرح ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی مثلث میں الجھی ہوئی جنگ نے نہ صرف انسانیت کے امن کو غارت کیا ہے، بلکہ اس زمین کے ذرے ذرے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی معاشی اور جغرافیائی ہوس کس طرح "بر و بحر" یعنی خشکی اور پانی، دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
 ارشاد باری تعالی ہے:
"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" (الروم: 41)
"خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کماہی کی وجہ سے، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آ جائیں"۔

جب ہم آج کے مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی جنونیت پر نظر ڈالتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت نے اپنی جغرافیائی ہوس، معاشی برتری اور مذہبی انتہا پسندی کی آگ میں نہ صرف اپنا امن جھونک دیا ہے بلکہ پوری زمین کے توازن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف چند ریاستوں یا فوجوں کے درمیان نہیں رہی، بلکہ اس نے زمین کی توانائیوں کے مرکز مشرق وسطی کے سمندروں کی گہرائیوں اور فضاؤں کی وسعتوں کو اپنا نشانہ بنا لیا ہے، جہاں بارود کی بو اور کیمیائی مادوں کا زہر خاموشی سے اس "فسادِ بر و بحر" کی گواہی دے رہا ہے جس کا ذکر خالقِ کائنات نے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔

حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران اور عرب کے توانائی کے مراکز اور اسرائیل کے حساس علاقوں میں جو تباہی مچی ہے، اس کا دائرہ انسانی جانوں کے ضیاع سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ جب میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے تیل کے ذخائر اور صنعتی و ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں فضا کو اس حد تک آلودہ کر دیتا ہے کہ آنے والی نسلیں سانس کی بیماریوں اور جینیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیاں اور تجارتی جہازوں پر حملے نہ صرف عالمی معیشت کی شہ رگ کو کاٹ رہے ہیں، بلکہ لاکھوں گیلن تیل اور خطرناک کیمیکلز کو سمندر برد کر کے ان بے زبان آبی جانداروں کی نسل کشی کر رہے ہیں جن کا اس انسانی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ انسان کی وہ "اپنے ہاتھوں کی کمائی" ہے جس نے فطرت کے اس خوبصورت نظام کو درہم برہم کر دیا ہے جو اللہ نے تمام جانداروں کی بقا کے لیے بنایا تھا۔

اس ہولناک تباہی کو روکنے اور انسانیت کو اس بند گلی سے نکالنے کا واحد راستہ وہی ہے جو اس قرآنی آیت کے اختتام پر "لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" کی صورت میں بتایا گیا ہے، یعنی اپنی روش سے باز آ جانا اور فطرت کے قوانین کی طرف لوٹنا۔ آج انسانیت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اندھا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ اس "عذاب کا مزہ" ہے جو ہم اپنے ہی فیصلوں کی صورت میں چکھ رہے ہیں۔ تباہی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے جو صرف سیاسی مفادات پر مبنی نہ ہو بلکہ جس میں زمین کے ماحولیاتی تحفظ اور انسانی جان کی حرمت کو اولیت حاصل ہو۔ جنگی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کراتے ہوئے سویلین ڈھانچے، آبی ذخائر اور ماحولیاتی اثاثوں کو جنگ سے مستثنیٰ قرار دینا ہوگا، کیونکہ ان کی تباہی کا مطلب صرف ایک ملک کی ہار نہیں بلکہ پوری نسلِ انسانی کی شکست ہے۔ اگر آج ہم نے عدل و انصاف اور باہمی احترام کے راستے پر واپسی اختیار نہ کی، تو یہ فساد اس مشرق وسطی کو ایک ایسے بنجر ریگستان میں بدل دے گا جہاں نہ انسان باقی رہے گا اور نہ ہی زندگی کی کوئی اور رمق۔