سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت

قرآنِ مجید کی بعض سورتیں انسان سے صرف مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ اسے آئینہ دکھاتی ہیں۔ سورۃ النحل بھی ایسی ہی سورت ہے۔ یہ سورت ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوئی جہاں نعمتیں موجود تھیں مگر شعور مفقود تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کا جدید انسان بھی اسی تضاد کا شکار نظر آتا ہے—وسائل کی فراوانی، مگر مقصد سے دوری۔

سورۃ النحل سب سے پہلے انسان کو اس کے گرد و پیش کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جانور، دودھ، شہد، بارش، فصلیں اور لباس—یہ سب محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ توحید کی خاموش دلیلیں ہیں۔ قرآن سوال اٹھاتا ہے: کیا یہ سب کچھ خودبخود ہو گیا، یا اس کے پیچھے ایک حکیم ارادہ کارفرما ہے؟ (سورۃ النحل 5–11، 68–69)

لیکن انسان اکثر دلیل کو نظرانداز کر دیتا ہے، اس لیے قرآن تمثیل کا سہارا لیتا ہے۔ ایک بے اختیار غلام اور ایک صاحبِ اختیار انسان کی مثال دے کر بتایا جاتا ہے کہ جو خود محتاج ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک گونگے، ناتواں فرد اور ایک صاحبِ عدل انسان کا تقابل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ حق اور باطل، روشنی اور اندھیرا کبھی برابر نہیں ہو سکتے (سورۃ النحل 75–76)۔

پھر قرآن فرد سے آگے بڑھ کر قوموں سے بات کرتا ہے۔ ایک خوشحال بستی کا ذکر ہے جو امن، رزق اور آسودگی میں تھی، مگر ناشکری نے اسے خوف اور بھوک میں مبتلا کر دیا۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی قانون ہے: جب نعمت شکر سے خالی ہو جائے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے (سورۃ النحل 112)۔

اسی تناظر میں قرآن ایک ایسی حقیقت بیان کرتا ہے جسے کوئی فلسفہ رد نہیں کر سکا:
جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ فنا ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے۔ دولت، طاقت، منصب اور شہرت—سب عارضی ہیں، اصل بقا اقدار کی ہے (سورۃ النحل 96)۔

قرآن انسان کو اس کی اصل بھی یاد دلاتا ہے۔ وہ ماں کے پیٹ سے کچھ نہ جانتے ہوئے نکالا گیا، نہ علم تھا، نہ اختیار۔ جو کچھ بعد میں ملا، وہ سب عطا تھا۔ یہ یاد دہانی غرور کو توڑتی اور شکر کو جنم دیتی ہے (سورۃ النحل 78)۔

ہدایت اور گمراہی کے بارے میں بھی سورۃ النحل کوئی ابہام نہیں چھوڑتی۔ ہر قوم میں رسول آئے، پیغام واضح تھا، مگر کسی نے قبول کیا اور کسی نے رد کر دیا۔ یوں انجام کا فیصلہ خود انسان کے انتخاب سے جڑا ہوا ہے (سورۃ النحل 36)۔

یہ سورت ایمان کو محض عقیدہ نہیں رہنے دیتی بلکہ کردار کا مطالبہ کرتی ہے۔ عدل، احسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دے کر قرآن ایک مکمل معاشرتی ضابطہ پیش کرتا ہے، اور فحاشی، ظلم اور بدعہدی کو سماجی زہر قرار دیتا ہے (سورۃ النحل 90)۔

اسی لیے وعدوں کی پابندی پر اتنا زور دیا گیا ہے۔ وقتی فائدے کے لیے اصولوں کو بیچ دینا قرآن کے نزدیک اخلاقی خودکشی ہے، کیونکہ اصل حساب اللہ کے ہاں ہونا ہے (سورۃ النحل 91–95)۔

آخر میں سورۃ النحل انسان کو صبر اور انجام کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ دنیا میں انصاف مکمل نظر نہ بھی آئے، مگر اللہ کا وعدہ اٹل ہے۔ صبر کرنے والوں کا اجر محفوظ ہے، اور ظلم کبھی دائمی نظام نہیں بن سکتا (سورۃ النحل 96، 110)۔

یوں سورۃ النحل ہمیں ایک سادہ مگر گہرا سوال دیتی ہے:
کیا ہم نعمتوں کو صرف استعمال کر رہے ہیں، یا ان سے سبق بھی لے رہے ہیں؟

شکر انسان کو بقا کی طرف لے جاتا ہے، اور ناشکری اسے تاریخ کا ایک عبرت ناک حوالہ بنا دیتی ہے۔ یہی سورۃ النحل کا پیغام ہے—آج کے انسان کے نام، آج کی دنیا کے لیے۔