انسانی تاریخ دراصل کرداروں کی تاریخ ہے۔ قومیں بدلتی رہتی ہیں، مگر انسان کے باطن میں اٹھنے والی کیفیات—حسد، تکبر، خوف، محبت، ایمان اور انکار—ہر دور میں ایک جیسی رہتی ہیں۔
قرآن مجید نے اسی حقیقت کو مرکز بنایا ہے۔ وہ واقعات کو محض تاریخی بیانیہ کے طور پر نہیں لاتا بلکہ انہیں انسانی نفسیات کی آئینہ داری کے لیے پیش کرتا ہے۔
جب ہم حضرت آدم ؑ کے بیٹوں کا قصہ پڑھتے ہیں تو ہمیں صرف پہلا قتل نظر نہیں آتا بلکہ حسد کی وہ آگ دکھائی دیتی ہے جو انسان کے اندر سے اٹھتی ہے۔
جب ہم نوح ؑ کے بیٹے کو موجوں میں ڈوبتے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ نسب ایمان کی ضمانت نہیں۔
جب حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں کو معاف کرتے ہیں تو ہمیں عفو کی وہ بلندی نظر آتی ہے جو انسانی کمزوریوں کو شکست دے دیتی ہے۔
قرآن میں بیان کردہ ان متضاد کرداروں کا مقصد واقعات کو دہرانا نہیں بلکہ ان کے پس پردہ کارفرما نفسیاتی، فکری اور روحانی اصولوں کو واضح کرنا ہے۔
تاکہ ہمیں ان درج ذیل سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے :
- کیوں ایک ہی گھر میں دو مختلف راستے جنم لیتے ہیں؟
- کیوں اقتدار بعض لوگوں کو سرکش بنا دیتا ہے اور بعض کو عادل؟
- کیوں حسد بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتا ہے؟
- اور کیوں ایمان کبھی اقلیت میں ہو کر بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے؟
قرآن انسانی کرداروں کو نمونہ بنا کر ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ دراصل انسان کے اندر لکھی جاتی ہے۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ محض واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ ہدایت اور عبرت کا زندہ سرچشمہ ہے۔ تاریخ، قرآن کے نزدیک، مردہ ماضی نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کا آئینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار سابقہ اقوام، انبیاء اور معاشروں کے واقعات بیان کرتا ہے، مگر انہیں محض داستان کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری پیغام کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ قرآن کا مقصد تاریخ دہرانا نہیں بلکہ تاریخ کے اندر کارفرما سنتوں اور قوانین کو آشکار کرنا ہے۔
قرآن کے نزدیک انسانی تاریخ اخلاقی دنیا میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہاں واقعات اندھے اتفاقات کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی اعمال کے منطقی اور اخلاقی نتائج ہوتے ہیں۔ جب کوئی قوم سرکشی، ظلم اور تکذیب کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا انجام تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور جب کوئی گروہ ایمان، صبر اور استقامت کو اختیار کرتا ہے تو اسے بالآخر کامیابی اور تمکّن نصیب ہوتا ہے۔ اس اصولی تصور کے تحت تاریخ ایک درسگاہ بن جاتی ہے جہاں ہر واقعہ ایک سبق ہے اور ہر انجام ایک تنبیہ۔
قرآن بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ زمین میں چل پھر کر پچھلی قوموں کے انجام کو دیکھے۔ یہ دعوت محض جغرافیائی سیاحت کی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بصیرت کی ہے۔ آثارِ قدیمہ، ویران بستیاں اور مٹی میں ملی تہذیبیں قرآن کی نظر میں خاموش مگر بلیغ گواہ ہیں کہ انسانی غرور اور طاقت دائمی نہیں۔ جب انسان اپنی قوت کو مطلق سمجھنے لگتا ہے تو تاریخ اسے اس کی اصل حیثیت یاد دلاتی ہے۔ اس طرح تاریخ انسان کے تکبر کو توڑنے اور اس کے شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
قرآن میں انبیاء اور ان کی اقوام کے واقعات اسی مقصد کے تحت بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً نوح ؑ کی طویل دعوت اور ان کی قوم کی مسلسل تکذیب اس بات کی مثال ہے کہ حق کا انکار وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے مگر انجام کار وہی غالب آتا ہے جو حق پر ثابت قدم ہو۔ اسی طرح موسی ؑ اور فرعون کا واقعہ طاقت اور اقتدار کے غرور کا انجام دکھاتا ہے۔ تاریخ کے یہ ابواب ہمیں بتاتے ہیں کہ سیاسی قوت اور عسکری برتری ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتیں؛ اصل قوت اخلاقی صداقت اور الٰہی تائید ہے۔
قرآن تاریخ کو صرف اجتماعی سطح پر نہیں بلکہ فرد کی سطح پر بھی عبرت بناتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخصیت پوری تاریخ کی تمثیل بن جاتی ہے۔ متکبر حکمران، مال و دولت پر ناز کرنے والے افراد، یا ایمان کے لیے قربانی دینے والے لوگ—یہ سب کردار تاریخ کے صفحات سے نکل کر انسانی باطن کے آئینے بن جاتے ہیں۔ اس اسلوب سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخ کا اصل میدان انسان کا دل اور اس کے فیصلے ہیں۔ بیرونی واقعات دراصل اندرونی کیفیات کا اظہار ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ قرآن تاریخ کو ئی جامد شی نہیں بلکہ اسے “سنّت اللہ” کے تحت جاری ایک مسلسل عمل قرار دیتا ہے۔ سنّت اللہ سے مراد وہ اخلاقی قوانین ہیں جو قوموں کے عروج و زوال پر حاکم ہیں۔ اگر کوئی معاشرہ عدل، امانت اور تقویٰ کو اختیار کرے تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اور اگر وہ ظلم، بدعنوانی اور اخلاقی انحطاط میں مبتلا ہو جائے تو اس کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ قوانین کسی ایک زمانے یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ آفاقی ہیں۔ اس طرح قرآن تاریخ کو ایک عالمگیر ضابطۂ حیات کے تحت سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
قرآن کا انداز یہ بھی ہے کہ وہ ماضی کے واقعات کو حال کے تناظر میں زندہ کر دیتا ہے۔ جب وہ عاد، ثمود یا بنی اسرائیل کا ذکر کرتا ہے تو دراصل موجودہ مخاطب کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ بھی انہی راہوں پر چل سکتا ہے اور انہی انجاموں سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس طرح تاریخ محض قصہ نہیں رہتی بلکہ آئندہ کے خطرات اور امکانات کا اشاریہ بن جاتی ہے۔ یہ شعور انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ اس کے فیصلے صرف اس کی ذات تک محدود نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
قرآن کے بیانیے میں تاریخ امید کا پیغام بھی رکھتی ہے۔ اگر زوال اور تباہی کے واقعات عبرت ہیں تو صبر اور استقامت کے نتائج بشارت ہیں۔ مکہ کے کمزور اور مظلوم مسلمانوں کے سامنے جب سابقہ انبیاء کی جدوجہد بیان کی گئی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ اس طرح تاریخ حوصلہ افزائی اور استقامت کا سرچشمہ بھی بن جاتی ہے۔ ماضی کی آزمائشیں حال کے صبر کو تقویت دیتی ہیں اور مستقبل کی کامیابی کا یقین پیدا کرتی ہیں۔
عصرِ حاضر میں جب تاریخ کو اکثر محض سیاسی یا معاشی عوامل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، قرآن ہمیں اس کے اخلاقی اور روحانی پہلو کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ یاد دلاتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال صرف مادی اسباب کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاقی فیصلوں اور اجتماعی کردار سے وابستہ ہے۔ اگر انسانی معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دے تو ظاہری ترقی بھی اسے دیرپا استحکام نہیں دے سکتی۔ اس نقطۂ نظر سے قرآن تاریخ کو ایک اخلاقی سائنس کی حیثیت دیتا ہے جس کے اصول واضح اور نتائج متعین ہیں۔
خلاصہ یہ کہ قرآن کی نظر میں انسانی تاریخ ایک زندہ درسگاہ ہے۔ اس میں بیان کیے گئے واقعات نہ تو محض ماضی کی یادگار ہیں اور نہ ہی ادبی قصے، بلکہ وہ سنّتِ الٰہی کے مظاہر ہیں جو ہر دور میں کارفرما رہتے ہیں۔ جو شخص تاریخ کو اس زاویے سے دیکھتا ہے وہ محض واقعات نہیں پڑھتا بلکہ قوانینِ حیات کو سمجھتا ہے۔ یوں تاریخ اس کے لیے عبرت، بصیرت اور ہدایت کا سرچشمہ بن جاتی ہے، اور وہ اپنے حال کو سنوارنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ماضی کی روشنی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔