اردو دائرہ معارف القرآن
یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
قرآن کے سائنسی و عددی پہلوؤں پر تحقیق
سورہ عبس کے اسلوب بیان کا تجزیہ
سید قطب شہید نے "فی ظلال القرآن" کے (جزء عمّ) میں سورہ عبس کے اسلوبِ بیان، اس کے صوتی آہنگ اور اس کے نفسیاتی اثرات پر نہایت گراں قدر اور تفصیلی کلام کیا ہے۔ سید قطب کے نزدیک یہ سورت مکی دور کے اسلوبِ بیان کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں الفاظ کی آوازیں اور معانی مل کر ایک زبردست صوتی اور حسی ماحول پیدا کرتے ہیں۔
سورہ عبس کے اسلوبِ بیان کے بارے میں سید قطب کے تجزئے کا تفصیلی جائزہ درج ذیل اہم نکات میں پیش کیا گیا ہے
1۔سورت کے اسلوب کی تقسیم
سید قطب فرماتے ہیں کہ سورہ عبس کا اسلوبِ بیان چار مختلف حصوں یا مناظر میں بٹا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود پوری سورت کے صوتی اور موضوعاتی تانے بانے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
پہلا حصہ (آیات 1-10): یہ ایک عتاب (ناراضگی) کا منظر ہے، جس کا اسلوب نہایت سنجیدہ، دھیما اور گہرا ہے۔
دوسرا حصہ (آیات 11-16): یہ قرآن مجید کی عظمت اور اس کے بلند مرتبے کا ذکر ہے۔ اس کا اسلوب رعب دار اور نورانی ہے۔
تیسرا حصہ (آیات 17-32): یہ انسان کی ناشکری اور کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا بیان ہے۔ اس کا اسلوب استدلال اور تفکر کا ہے۔
چوتھا حصہ (آیات 33-42):
اعجازِ نظمِ قرآن: سورتوں کا باہمی ربط اور ہم آہنگی
- عقائد کا محور: "الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین" میں توحیدِ ربوبیت، صفاتِ باری تعالیٰ اور عقیدہ آخرت و جزا کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔
- شریعت اور بندگی: "ایاک نعبد وایاک نستعین" کے ذریعے بندے اور رب کا تعلق واضح کر کے پوری شریعت کی اساس قائم کر دی گئی ہے۔
- صراطِ مستقیم کا خاکہ: "اہدنا الصراط المستقیم" انسان کی سب سے بڑی ضرورت یعنی ہدایت کی دعا ہے۔
- تاریخ کے گمراہ فرقے: "صراط الذین انعمت علیہم" کے ذریعے سچے پیروکاروں کا مژدہ سنایا گیا، جبکہ "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" کہہ کر ان گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا جو حق کو جاننے کے باوجود بھٹک گئے (جیسے یہود و نصاریٰ)۔