سورتوں کا پانچواں گروپ: تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سورتوں کا پانچواں گروپ: تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

49۔ سورۃ الحجرات تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق


یہ سورۃ سابق سورۃ … الفتح … کا ضمیمہ و تتمہ ہے۔ سورۃ فتح کی آخری آیت میں، تورات کے حوالہ سے، رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رضی اللہ تعالی عنہم) کی یہ صفت جو وارد ہوئی ہے کہ "مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ" الحجرات : ۲۹ (محمد اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار کے لئے سخت اور باہمدگر نہایت مہربان ہوں گے) یہ پوری سورۃ اسی ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کی وضاحت سورۃ فتح کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ اس کی یہ اہمیت مقتضی ہوئی کہ اس کے وہ مضمرات یہاں وضاحت سے بیان کر دیئے جائیں جن کا بیان کیا جانا اس وقت مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کے لئے نہایت ضروری تھا۔ یہ بات اپنے محل میں بیان ہوچکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہو سکے۔ چنانچہ یہ سورۃ بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے اصلی مرتبہ و مقام ہی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرہ کے اندر اپنی ذمہ داریوں ہی سے چنانچہ اس ضمیمہ میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو اس وقت کے حالات کے اندر ضروری تھیں۔ ان احکامات و ہدایات کا تعلق تمام تر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے باہمی حقوق ہی سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیر بحث نہیں آیا۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو جو رویہ اختیار کرنا چاہئے اس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہوچکی ہے ۔

سورہ کے تیسرے گروپ میں جس نوعیت کا تعلق سورۃ نور کا سورۃ مومنوں کے ساتھ ہے اسی نوعیت کا تعلق اس سورۃ کا سورۃ فتح کے ساتھ ہے۔ دونوں کا مزاج باہمدگر بالکل ملتا جلتا ہوا ہے ۔

ب - سورۃ کے مطالب کا تجزیہ


(5-1) مسلمانوں کو یہ تنبیہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہیں۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کو رسول کی رائے یا آپ کے حکم پر مقدم کرنے کی کوش کرے گیا گفتگو میں اپنی آواز کو آپ کی آواز پر بلند کرے یا آپ کو اس طرح پکارے جس طرح اپنے کسی مساوی درجہ کے آدمی کو پکارتا ہے۔ تقویٰ کی افزائش اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے دلوں ک اندر کرتا ہے جو اس کے رسول کے ادب و احترام ک وپویر طرح ملحوظ رکھتے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے رسول اور اسلام کا محسن سمجھتے ہیں اور رسول کے سامنے خطاب و کالم میں اپنے تفوق کا اظہار کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہئے کہ اس طرح کی حرکت سے غیر شعوری طور پر وہ اپنے اعمال ہی نہ گنوا بیٹھیں ۔

(10-6) مسلمانوں کا معاملہ مسلمانوں کے ساتھ اخوت کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ پارٹی اور گروہ کی عصیبت کی بنیاد پر یہ جائز نہیں ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمان مسلمانوں کسی کسی جماعت کے خلاف اقدام کر ڈالیں، جس پر بالاخر انہیں پچھتانا پڑے۔ تمام اہم معاملات میں رسول کی صوابدید اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا چاہئے۔ کسی پارٹی کو رسول کی حمایت اپنے حق میں حاصل کرنے کے لئے اس پر غلط قسم کا دبائو ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ یہ چیز اس فضل و انعام کی ناقدری ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شکل میں اہل ایمان کو نوازا ہے۔ ایمان کا مزا چکھ لینے کے بعد کوئی ایسی بات کرنا جو اس کے منافی ہے کفر و عصیان کی طرف رجعت ہے جس سے لوگوں کو بچانے ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایمان کو دلوں میں رچانے اور کفر کو مبغوض بنانے کے لئے سارے جتن کئے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ گروہی رجحانتا کی بنا پر ان میں سے کسی گروہ اس حق کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہو تو اس کو بزور اس کے آگے جھکنے پر مجبور کرا چاہئے ۔

(13-11) ان باتوں سے بچنے کی ہدایت پر جو دلوں میں نفرت کی تخم ریزی اور معاشرے میں فساد کی آگ بھڑکانے والی ہیں۔ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کی تحقیر کرے یا اس کا مذاق اڑائے یا اس کو عیب لگائے یا اس پر پھبتیاں چست کرے یا اس کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرے یا اس کی غیبت کرے یا اس کے عیوب کی ٹوہ میں لگے۔ حسب و نسب اور خاندان و قبیلہ کا غرور جاہلیت کی یادگار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک ہی آدم و حوا سے پیدا کیا ہے۔ خاندانوں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے نہ کہ نسب اور خاندان


(18-14) خاتمہ سورۃ جس میں اس بات کی مزید وضاحت کر دی گئی ہے جو سورۃ کی تمہید میں اشارات کی شکل میں فرمائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی آیات میں جن لوگوں کا رویہ زیر بحث آیا ہے یہ اطراف مدنیہ کے وہ اہل بدو تھے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن ایمان کے دلوں میں اچھی طرح اترا نہیں تھا اس وجہ سے وہ اس پندار میں مبتلا تھے کہ اسلام لا کر انہوں نے اسلام اور پیغمبر پر ایک احسان کیا ہے۔ ان کے اس پندار کا اظہار بعض اوقات اس طرح کی حرکتوں سے ہوجاتا تھا جن سے ابتدائیآیات میں مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ اب یہ آخر میں ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ ان کو بتا دو کہ وہ اپنے ایمان و اسلام کا احسان نہ جتائیں۔ اللہ ان کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہوں نے اطاعت تو ضرور کرلی ہے لیکن ابھی ایمان نے ان کے اندر جڑ نہیں پکڑی ہے۔ یہ ان کا احسان نہیں ہے کہ وہ پیغمبر پر ایمان لائے بلکہ یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی توفیق بخشی۔ اگر وہ اس کا حق ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بھرپور صلہ پائں ی گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔

48۔ سورۃ الفتح : تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ ۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے ربط


سابق سورۃ کی آیت 35 میں اہل ایمان سے یہ وعدہ جو فرمایا ہے کہ اگر تم کمزور نہ پڑے تو تمہی سربلند ہو گے، تمہارے حری ذلیل و پامال ہوں گے، اس سورۃ میں اسی وعدہ کے ایفاء کی واقعاتی شہادت ہے۔ اس کا آغاز صلح حدیبیہ کے ذکر سے ہوا ہے جو فتح مکہ کی تمہیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر اتمام نعمت کا فتح باب ثابت ہوئی۔ اس میں فتح و غلبہ کی ان پیشین گوئیوں اور بشارتوں کا بھی حوالہ ہے جو اس امت کے باب میں تورات اور انجیل میں وارد ہوئی ہیں تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں پر اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ جو کچھ ہوا ہو رہا ہے اور آگے ہوگا، ان میں سے کوئی بات بھی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی سکیم میں پہلے سے طے ہے اور یہ سکیم پوری ہو کے رہے گی۔ کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس میں مزاحم ہو سکے ۔

ب - سورۃ کا پس منظر


اس سورۃ کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے اس کے پس منظر کو نگاہوں کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ نہایت مایوس کن حالات کے اندر امید کی روشنی اور شکست کے عام احساس کے اندر فتح مبین کی بشارت بن کر نازل ہوئی۔ اس نے نہایت نازک حالات کے اندر مسلمانوں کی ڈھارس بند ھائی اور دو سال سے زیادہ کی مدت نہیں گزری کہ اس کے ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید کی سچائی اس طرح سامنے آگئی کہ دوست اور دشمن کسی کے لئے بھی اس میں شک کی کوئی گنجائش باقین ہیں رہی ۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ٦ ھ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روئیا میں یہ بشارت ہوئی کہ آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ عمرہ کی سعادت سے بہرہ اندوز ہوئے ہیں۔ اس رئویا کی بنا پر آپ نے منادی کرا دی کہ لوگ عمرہ کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ قریش کے ساتھ مسلسل جنگ کی حالت قائم تھی نہایت قوی اندیشہ تھا کہ مسلمان جماعتی حیثیت سے عمرہ کے لئے نکلے تو وہ لازماً مزاحم ہوں گے اور جنگ کی نوبت آجائے گی لیکن مسلمانوں پر بیت اللہ سے محرومی اتنی شاق تھی کہ وہ اس خطرے سے بے پردا ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت کے لئے تیار ہوگئے۔ منافقین نے جن کا ذکر پچھلی سورۃ میں گزر چکا ہے، مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کی بہت کوشش کی ڈرایا کہ جو لوگ مکہ جائیں گے ان کو گھر پلٹنا نصیب نہیں ہوگا لیکن مسلمانوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رئویا پر پورا اعتماد تھا اس وجہ سے تقریباً چودہ پندرہ سو صحابہ ہم رکابی کے لئے تیار ہوگئے ۔


اس امر میں راویوں کا اختلاف ہے کہ مہینہ رجب کا تھا یا ذوقعدہ کا بہرحال انہی دونوں مہینوں میں سے کوئی مہینہ تھا۔ یہ مہینے ہمیشہ سے حج و عمرہ کے لئے خاص رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس توقع کے لئے معقول وجہ موجود تھی کہ قریش ان کا احترام محلوظ رکھیں گے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے مکہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ذوا الحلیفہ میں عمرہ کا احرام باندھا قربانی کے لئے ستر اونٹ ساتھ لئے جن کی گردنوں میں علامت امتیاز کے طور پر پٹے بھی ڈال دیئے گئے کہ ہر دیکھنے والے پر واضح ہوجائے کہ یہ ہدی کے جانور ہیں کوئی ان سے تعرض نہ کیر۔ جنگ کا کوئی سامان ساتھ نہیں تھا، صرف تلواریں تھیں وہ بھی میانوں کے اندر غرض اس بات کا پورا اہتمام کیا گیا کہ قریش جنگ کا کوئی ہبانہ پیدا نہ کر سکیں لیکن ان کی نخوت جاہلیت نے گوارا نہیں کیا کہ یہ قافلہ مکہ میں دخل ہونے پائے۔ اپنے آدمیوں کے ذریعہ سے انہوں نے چھیڑ چھاڑ کے مختلف بہانے پیدا کئے لکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے ان کی کوئی شرارت کامیاب نہ ہونے دی۔ حدیبیہ پہنچ کر آپ نے ایک شخص کو قریش کے لیڈروں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ صرف عمرہ کے قصد سے آئے ہیں اس کے سوا کوئی اور غرض نہیں ہے لیکن انہوں نے قاصد کو قتل کر دینے کا ارادہ کرلیا۔ بڑی مشکل سے ایک دوسرے گروہ کی مداخلت سے اس کی جان بچی۔ اس کے بعد آپ نے اپنے خاص سفیر حضرت عثمان کو بھیجا۔ انہوں نے بھی قریش کو اطمینان دلانے کی پوری کوشش کی لیکن قریش اپنی ہٹ پر قائم رہے۔ البتہ حضرت عثمان کے ساتھ انہوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی بلکہ عزت سے پیش آئے اور یہ پیشکش کی کہ اگر وہ تنہا طواف کرنا چاہیں تو کرلیں لیکن حضرت عثمان نے ان کی پیشکش رد کر دی کہ رسول اللہ صلعم کے بغیر وہ طواف کے لئے تیار نہیں ہیں ۔

اسی حیص بیص میں حضرت عثمان کی واپسی میں کچھ دیر ہوگئی اور ادھر مسلمانوں کے کیمپ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان شہید کر دیئے گئے اس افواہ سے قدرتی طور پر مسلمانوں کے اندر ایک شدید قسم کا اشتعال پیدا ہوگیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس سے نہایت متاثر ہوئے۔ آپ نے لوگوں کو بیعت جہاد کی دعوت دی کہ اب ہم قریش سے جنگ کریں گے، تختہ یا تختہ ! صحابہ بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے جب قریش کو خبر پہنچی کہ مسلمان مرنے مارنے پر تل گئے ہیں تو انہوں نے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد صلح کی بات چیت کے لئے بھیجا اس وفد نے قریش کی آن رکھنے کے لئے اس بات پر بہت اصرار کیا کہ مسلمان اس سال واپس چلے جائیں، اگلے سال عمر ہ کے لئے آئیں، اہل مکہ تین دن کے لئے شہر خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا اندیشہ نہ رہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی اصرار کیا کہ اگر کوئی ہمارا آدمی بھاگ کر مسلمانوں کے پاس چلا جائے تو مسلمان اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے اور اگر مسلمانوں کا کوئی آدمی ہمارے پاس آجائے تو ہم اس کے واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ صحابہ یہ شرطیں قبول کرنے پر کسی طرح بھی راضی نہیں تھے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ غیبی کے تحت یہ مان لیں اور مندرجہ ذیل شرائط پر ایک معاہدہ طے پا گیا ۔


١- دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی۔ اس دوران میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے کے خ لاف کوئی خفیہ یا علانیہ کارروائی نہ کرے گا ۔


٢- اس دوران میں قریش کا کوئی آدمی اگر بھاگ کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائے گا تو وہ اس واپس کر دیں گے اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی قریش کے پاس آجائے گا تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے ۔


٣- قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی چاہے فریقین میں سے کسی کا حلیف بن کر اس معاہدہ میں شامل ہوسکتا ہے ۔


٤- مسلمان اس سال واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ عمرہ کے لئے آئیں تین دن تک وہ مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔ اسلحہ میں سے ہر شخص صرف ایک تلوار میان میں لا سکتا ہے۔ ان تین دنوں میں اہل مکہ ان کے لئے شہر خالی کر دیں گے تاکہ کس تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے ۔


ان میں سے دو شرطیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا، مسلمانوں کو شدید ناگوار تھیں۔ لوگ ان کو قبول کرنا اور اعتراف شکست کے ہم معنی سمجھتے تھے اور کسی طرح بھی راضی نہیں تھے کہ کوئی بات قریش سے دب کر مانی جائے۔ حضرت عمر نے اپنے جذبات کا اظہار اس موقع پر ایسے تند الفاظ میں کیا کہ زندگی بھر ان کو اس کا پچھتاوا رہا۔ صلح نامہ طے پا جانے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ لوگ قربانی کر کے سرمنڈوائیں اور عمرہ سے فارغ ہوں۔ لیکن لوگوں کی افسردگی و کبیدگی کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص بھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ بالآخر حضور نے خود پہل کی۔ جب لوگوں کو انداز ہوگیا کہ اب فیصلہ میں کسی تبدیلی کی گنجائش باقی نہیں رہی تب بادل نخواستہ لوگ اٹھے اور عمرہ سے فارغ ہوئے۔ واپسی کے وقت لوگوں کا عام احساس یہ تھا کہ ہم ناکام واپس ہو رہے ہیں اس وجہ سے قدرتی طور پر بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی تھا کہ نبی کی رئویا سچی ہوتی ہے تو اس رئویا کا کیا بنا جو حضو نے دیکھی اور جس کی بنا پر گھر سے نکلے ! … یہ حالات تھے جن میں یہ سورۃ نازل ہوئی اور جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، فتح مبین کی بشارت بن کر نازل ہوئی۔ رہا یہ سوال کہ جس چیز کو عام مسلمانوں نے اپنی شکست تصور کیا وہ فتح مبین، کس طرح بنی تو اس کا جواب سورۃ کی تفسیر سے سامنے آئے گا۔ پہلے سورۃ کے مطالب پر ایک اجمالی نظر ڈال لیجیے ۔

ج - سورۃ کے مطالب کا تجزیہ



(7-1) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس امرکی بشارت کہ صلح حدیبیہ کی شکل میں تمہیں ایک فتح مبین حاصل ہوئی ہے۔ یہ فتح مبین تمہید ہے اس بات کی کہ اب وہ وقت قریب ہے جب فتح مکہ کی صورت میں تمہیں کفار پر کامل غلبہ حاصل ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنے دین کی نعمت تم پر تمام کرے گا اور تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر اپنے رب کی کامل اور زاید خوشنودی حاصل کرو گے۔ اس مہم کا یہ پہلو بھی نہایت مبارک ہے کہ اہل ایمان کے لئے اس نے ایمان میں افزونی اور حصول جنت کی راہ کھولی جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک فوز عظیم ہے اور ان منافقین و مناقات کے لئے یہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت کا سبب بنی جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا رہے اور اس حقیقت کو نہ پا سکے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں خدا ہی کے حکم کے تحت ہیں اور وہ اپنے علم و حکمت کے تحت جس طرح چاہے ان سے کام لیتا ہے اور لے سکتا ہے۔ 

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿١﴾ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٢﴾ وَيَنصُرَكَ اللَّـهُ نَصْرًا عَزِيزًا ﴿٣﴾ هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّـهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٤﴾ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ اللَّـهِ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٥﴾ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّـهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿٦﴾ وَلِلَّـهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿٧﴾

(10-8) عام مسلانوں کو خطاب کر کے اس حقیقت کی وضاحت کہ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک شاہد اور بشیر و نذیر ہو کر آتا ہے۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اس پر ایمان لائیں، اس کی توقیر کریں، تمہام مہمات میں اس کے ساتھی اور مددگار بنیں جو لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بیعت کرتے ہیں۔ اگر وہ اس بیعت کا حق ادا کریں تو اس کا اجر بہت بڑا ہے اور اگر اس کا حق ادا نہ کریں تو یاد رکھیں کہ اس میں انہی کی تباہی ہے۔ اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿٨﴾ لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ﴿٩﴾إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّـهَ يَدُ اللَّـهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّـهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿١٠﴾

(16-11) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ آگاہی کہ اس موقع پر جو منافقین پیچھے بیٹھ رہے اب وہ تمہارے پاس یہ درخواست لے کر آئیں گے کہ گھر بار کی ذمہ داریوں نے ان کو مجبور رکھا اس وجہ سے وہ معافی اور پیغمبر کی دعائے مفغرت کے سزا وار ہیں۔ ان کو بتا دیجیو کہ تمہارے نہ اٹھنے کی وجہ تمہارا یہ گمان تھا کہ اب کے مسلمانوں اور پیغمبر کو گھر پلٹنا نصیب نہ ہوگا تو تم نے اپنے اس گمان کے باعث خود اپنی تباہی کا سامان کیا۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہی جس کو چاہے گا معاف کرے گا، جس کو چاہے گا سزا دے گا ۔

ان منافقین کے بارے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ یہ لوگ جب دیکھیں گے کہ کسی مہم میں بغیر سکی خطرے کے لقمہ تر ہاتھ آنے والا ہے تو یہ پورا زور لگائیں گے کہ انہیں بھی ساتھ نکلنے کی اجازت دی جائے لیکن ان کو ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ ان کو آگاہ کردیا جائے کہ آگے ایک طاقتور دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے، اگر اس موقع پر تم نکلے تو غیر ہے اور اگر اس وقت بھی اسی طرح بہانہ سازی کر کے بیٹھ رہے تو تمہارے لئے بھی وہی عذاب مقدر ہے جو کفار کے لئے ہے ۔

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّـهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿١١﴾ بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا ﴿١٢﴾ وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا ﴿١٣﴾ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿١٤﴾ سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥﴾قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّـهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٦﴾

17 ان معذورین کا بیان جن کی جنگ سے غیر حاضری نفاق پر محمول نہیں ہوگی بشرطیکہ وہ دل سے اللہ اور رسول کے فرمانبردار رہیں ۔

لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٧﴾ 

( 21-18) ان جاں نثاروں کا بیان جنہوں نے بیعت رضوان میں شرکت کی۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، فتوحات، غنیمت اور فتح مکہ کی بشارت ۔

لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿١٨﴾ وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٩﴾ وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٢٠﴾ وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّـهُ بِهَا ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا ﴿٢١﴾ 

(25-22) اس امر کا باین کہ حدیبیہ کے موقع پر قریش جنگ کرتے تو منہ کی کھاتے مسلمانوں کے غلبہ کے پہلو کی طرف اشارہ قریش کی کھلی ہوئی اخلاقی و مذہبی شکست قریش کی مرعوبیت کے باوجود مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہ دینے کی حکمت ۔

وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿٢٢﴾ سُنَّةَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ﴿٢٣﴾ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ﴿٢٤﴾ هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿٢٥﴾ 

(26 ) قریش کی اخلاقی شکست کے پہلو بہ پہلو مسلمانوں کی طرف سے اخلاقی فتح کا جو مظاہرہ ہوا اس کی طرف اشارہ حمیت جاہلیت کے بالمقابل مسلمانوں نے تقویٰ اور اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی جو شان نمیاں کی اس کا حوالہ ۔

إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٢٦﴾ 

(27 ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رئویا کی تصدق۔ اس کی تعبیر کے ظہور میں جو تاخیر ہوئی اس کی حکمت 

لَّقَدْ صَدَقَ اللَّـهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّـهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿٢٧﴾

(29-28) اسلام کا غلبہ تمام ادیان پر یقینی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) کی تصویر تورات میں اور حق کے تدریجی غلبہ کی تمثیل انجیل ہیں ۔

 هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿٢٨﴾ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿٢٩﴾

47۔ سورہ محمد ﷺ : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


47۔ سورہ محمد ﷺ کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ

ا - سورۃ کا عمود اور گروپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت
پچھلی سورۃ … سورۃ احقاف … پر اس گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں، اب آگے تین سورتیں مدنی ہیں، سورۃ احقاف کے بعد یہ سورۃ اس طرح بلا تمہید شروع ہوگئی ہے گویا احقاف کی آخری آیت میں کفار کے لئے جو وعید ہے اس میں اس کا عملی ظہور ہے۔ پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ یہ حققیت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ قریش اور ان کے حامی اہل کتاب جس باطل کی حمایت میں لڑ رہے ہیں نہ افٓاق و انفس اور عقل و فطرت کے اندر اس کی کوئی بنیاد ہے نہ انبیاء کی تاریخ اور آسمانی صحیفوں میں اس کی کوئی شہادت ہے۔ یہ گھورے پراگاہوا ایک درخت ہے جس نے محض اس وجہ سے جگہ گھیر رکھی ہے کہ اس کو اکھاڑنے والا ہاتھ موجود نہیں ہے۔ اب اس سورۃ اور اس کے بعد کی دونوں سورتوں میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کو اکھاڑ پھینکنے والے ہاتھ اللہ نے پیدا کر دیئے ہیں اور تقدیر کا یہ اٹل فیصلہ صادر ہو چا ہے کہ کفار کی وہ تمام کوششیں رائیگاں ہو کے رہیں گی جو انہوں نے خق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لئے صرف کی ہیں۔ ساتھ ہی اہل ایمان کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کی مساعی اس دنیا میں بھی بار آور ہوں گی اور آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوں گے بشرطیکہ وہ اپنے فرائض پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ ادا کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ اسی ضمن میں منافقوں کو دھمکی دی گئی ہے جو مدعی تو ایمان کے تھے لیکن ان کی ہمدردیاں کفار اور اہل کتاب کے ساتھ تھیں۔ ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس نفاق کو چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ اللہ اور رسول کا ساتھ نہ دیا تو ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو کفار و مشرکین کے لئے مقدر ہوچکا ہے ۔
ب - سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(3-1) اس فیصلہ الٰہی کا اعلان کہ کفار نے چونکہ اپنی تمام جدوجہد باطل کی پیروی اور اس کی حمایت میں صرف کی ہے اس وجہ سے یہ بالکل رائیگاں جائے گی۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی ہے اور اس راہ میں قربانیاں دی ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مساعی دنیا اور آخرت دونوں میں برد مند کرے گا ۔
(12-4) اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کہ اگر ان کفار سے جنگ کی نوبت آئے تو تم ان سے ذرا مرعوب نہ ہونا۔ یہ بالکل بے ثبات و بے بنیاد ہیں۔ ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دینا۔ ان کا قافیہ اس طرح تنگ کر دو کہ یا تو تمہارے احسان کے طفیل رہائی پائیں یا فدیہ دے کر جان چھڑائیں یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ان سے نمٹنے کے لئے خود کافی ہے لیکن وہ تمہارا امتحان کر چاہتا ہے اس وجہ سے تم کو یہ حکم دے رہا ہے۔ اگر تم اللہ کی مدد کے لئے اٹھو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے دشمن ذلیل و پامال ہوں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان سے پہلے جن قوموں نے حق کی مخالفت کی اللہ نے ان کو پامال کر دای۔ یہی حشر تمہارے ان دشمنوں کا بھی ہونا ہے ۔
(15-13) قریش کو قوت و شوکت کا جو غرہ ہے یہ بالکل بے بنیاد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جو ہر اعتبار سے ان پر فوقیت رکھتی تھیں۔ یہی اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ دلیل و بربان کی روشنی میں زندگی گزارنے والے اور اپنی خواہشوں کے پیچھے آنکھ بند کر کے چلنے والے یکساں کس طرح ہو سکتے ہیں ! لازم ہے کہ دونوں کا انجام مختلف ہو۔ چنانچہ دلیل و برہان کی روشنی میں چلنے والوں کا انجام جنت ہے جس میں ان کے لئے یہ نعمتیں ہوں گی اور خواہشوں کی پیروی کرنے والوں کے لئے دوزخ ہے جس میں ان کا انجام یہ ہوگا۔ بالا جمال جنت اور دونوں کے احوال کی تصویر ۔
(19-16) مسلمانوں کے اندر کے مار آستین گروہ … منافقین … کی طرف اشارہ کہ یہ لوگ پیغمبرک کی باتیں بظاہر سنتے تو ہیں لیکن سمجھتے کچھ بھی نہیں۔ جن باتوں سے اہل ایمان کے ایمان اور ان کے تقویٰ میں افزونی ہوتی ہے ان سے ان کے نفاق میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ فیصلہ کی گھڑی کے منتظر ہیں حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد اس کے ظہور کی شرطیں پوری ہوچکی ہیں۔ اگر وہ گھڑی اچانک آدھمکی تو پھر اس موعظت سے فائدہ اٹھانے کا موقع کہاں باقی رہے گا جو اللہ نے ان کے لئے نازل فرمائی ہے ؟ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیات کہ تم اپنے لئے اور اہل ایمان کے لئے اپنے رب سے مغفرت مانگو، کیا عجب کہ عذاب سر پر آیا کھڑا ہو ۔
(31-20) منافقین کے باطن اور ان کی پس پردہ سازشوں کی پردہ دری کہ یہ محض زبان کے غازی ہیں پہلے تو آگے بڑھ بڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ جہاد کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو ان پر خوف سے موت کی غشی طاری ہو رہی ہے۔ یہ لوگ درحقیقت دین سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ان کا سازباز اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ہے۔ یہ ان کو اطمینان دلا رہے ہیں کہ اگر آپ لوگوں پر کوئی سخت وقت آیا تو ہم آپ ہی کا ساتھ دیں گے۔ ان کے نفاق اور ان کی سازشوں سے اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے تو ان کی پیشانیوں سے ان کے نفاق کی گواہی دلوا دیتا اور ہر شخص ان کو پہچان لیتا لیکن ابھی وہ ان کو مہلت دے رہا ہے تاہم وہ ایسے امتحانوں میں ان کو ڈالے گا جو ان کے ہر کھوٹ کو ظاہر کر دیں گے ۔
(38-32) خاتمہ سورۃ جس میں ابتدائے سورۃ کے مضمون کی یاد دہانی کے بعد مسلمانوں کو عام طور پر اور منافقین کو خاص طور پر تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ اور رسول کے ہر حکم کی اطاعت کرو۔ اگر اس میں کمزوری دکھائی تو تمہارے تمام اعمال رائیگاں جائیں گے۔ اب کفار میں کوئی دم خم باقی نہیں رہا ہے اس وجہ سے جو لوگ ان سے سمجھوتے کی سکیمیں سوچ رہے ہیں وہ گرتی دیوارکے سایہ میں پناہ ڈھونڈھ رہے ہیں۔ عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھو۔ اگر تم آگے بڑھے تو بازی تمہاری ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ اس دنیائے دنی کی محبت میں پھنس کر اللہ کی راہ میں انفاق سے جی نہ چرائو۔ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے پیسہ پیسہ کا اجر دے گا۔ وہ تم سے تمہارے کل مال کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے کہ تم اس سے جی چرائو۔ اگر وہ ایسا کرتا تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق اور حسد ہے ان کا سارا بھرم کھل جاتا۔ یاد رکھو کہ جو اللہ سے بخل کرتا ہے وہ خود اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے۔ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں ہے وہ بالکل بے نیاز ہے البتہ تم اللہ کے محتاج ہو۔ یہ تمہارا امتحان ہو رہا ہے۔ اگر تم اس امتحان میں فیل ہوگئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے گا جو تمہاری طرح نکمے نہیں ہوں گے ۔


45۔ سورۃ الجاثیہ : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


45۔ سورۃ الجاثیہ کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ نام، تمہید اور بنیادی مطالب میں سابق سورۃ کا مثنیٰ ہے۔ فرق ہے تو اجمال و تفصیل کا ہے۔ اس میں قریش کو صاف الفاظ میں دھمکی دی گئی ہے کہ توحید اور قیامت کے دلائل سے آسمان و زمین کا ہر گوشہ معمور ہے اور ان کی تفصیل اللہ نے اپنی اس کتاب میں بھی بیان کر دی ہے۔ اگر یہ دلیلیں تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں تو دنیا کی کوئی چیز بھی تمہاری سمجھ میں نہ سکتی۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی تمہارا فیصلہ فرمائے گا ۔
مسلمانوں کو اس میں صاف الفاظ میں فتح و غلبہ کی بشارت دی گئی ہے کہ کچھ دنوں صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو۔ اگر استقلال کے ساتھ تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو آخری کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ اس راہ میں جو مصیبتیں بھی تم جھیلو گے وہ رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا بھرپور صلہ دے گا ۔
یہ سورۃ اس دور کی سورتوں میں سے ہے جب یہود کھلم کھلا قریش کی پیٹھ ٹھونکنے لگ گئے تھے۔ اس وجہ سے اس میں یہود کو بھی نہایت واضح الفاظ میں ملامت ہے کہ اللہ نے ان کو امامت کے جس منصب پر فائز فرمایا تھا اپنی شامت اعمال سے انہوں نے اس کو ضائع کر دای۔ اب ان کا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا اور وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تنبیہ ہے کہ اللہ نے جو روشن شاہراہ تم کو دکھائی ہے اس پر چلو اور ان دین بازوں سے ہوشیار رہو۔ یہ زور لگا رہے ہیں کہ اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا کر کے تمہیں بھی اللہ کی راہ سے اس طرح محروم کر دیں جس طرح خود محروم ہو بیٹھے ہیں ۔
ب - سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(6-1) یہ قرآن خدائے عزیز و حکیم نے نہایت اہتمام سے اتارا ہے۔ جس توحید کی یہ دعوت دے رہا ہے اور جس روز جزاء و سزا سے یہ ڈرا رہا ہے اس کے دلائل آسمان و زمین کے چپہ چپہ میں موجود ہیں انسان کی خلقت، رات اور دن کی آمد شد، بارش کے نزول، زمین میں اس کی برکات کے ظہور اور ہوائوں کی گردش، ہر چیز کے اندر توحید اور معاد کی نہایت واضح نشانیاں موجود ہیں بشرطیکہ لوگ غور کریں اور غور کرنے کے بعد جو نتائج سامنے آئیں ان کو تسلیم کرنے کا ان کے اندر ارادہ پایا جاتا ہو۔ یہی حقائق قرآن پیش کر رہا ہے۔ اگر یہ واضح باتیں لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں تو ان کے بعد وہ کون سی بات ہے ج س کو یہ سمجھیں اور مانیں گے !
(11-7) شرک کے سرغنوں کو وعید جنہوں نے بالکل جھوٹ موٹ ایک دنی گھڑکے کھڑا کیا اور اب اس کی حمایت میں اسے اندھے بہرے بن گئے ہیں کہ اللہ کا کلام سننے کے روا دار نہیں ہے۔ اگر اللہ کا کلام ان کو سنایا جاتا ہے تو تکبر کے ساتھ اس طرح چل دیت یہیں گویا کوئی بات انہوں نے سنی ہی نہیں۔ اگر کسی بات کے متعلق انہیں اندازہ ہوتا ہے۔ کہ یہ دولں پر اثر انداز ہونے والی ہے تو اس کو مذاق بنا لیتے ہیں تاکہ اس طرح اس کو بے وزن کر دیں۔ یہ لوگ یاد رکھیں کہ ان کا یہ استکبار ان کے لئے باعث رسوائی ہوگا اور جب ان کو جہنم سے سابقہ پیش آئے گا تو اس وقت نہ ان کا وہ اندوختہ ان کے کچھ کام آئے گا جو حرام راتوں سے انہوں نے حاصل کیا ہے اور نہ ان کی وہ مزعومہ شرکاء ہی ان کی کوئی مدد کر سکیں گے جو اللہ کے سوا انہوں نے گھڑ رکھے ہیں ۔
(15-12) توحید کے بعض دلائل کا بیان ایک نئے اسلوب سے اور مسلمانوں کو صبر استقامت کی تلقین کہ وہ مشرکین کی ژاژخائی کی مطلق پروا نہ کریں بلکہ اپنے مئوقف پر ڈٹے رہیں۔ اگر مخالفین ان کی بات نہیں مانیں گے تو اپنا ہی بگاڑیں گے، اس سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔
(20-16) بنی اسرائیل کے حال پر اظہار افسوس کہ اللہ نے ان کو حکومت، نبوت، وسعت رزق سے نوازا اور قوموں کی امامت کے مصنب پر سرفراز فرمایا لیکن انہوں نے ان نعمتوں کا حق ادا نہیں کیا بلکہ باہمی حسد و عداوت کے سبب سے خدا کے دین میں اختلاف برپا کیا۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ اب اللہ نے بنی اسرائیل سے اپنی شریعت کی امانت واپس لے کر تمہارے حوالہ کی ہے تو تم ان کی گمراہیوں سے بچنا اور اللہ کے دین پر استوار رہنا۔ اس وقت یہود اور مشرکین نے تمہارے خلاف جو گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اس سے ذرا مرعوب نہ ہونا۔ اللہ کی تائید بہرحال ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرنے والے ہیں ۔

(37-21) قیامت کے باب میں منکرین قیامت کے بعض شبہات کا ازالہ۔ اس دن قیامت کے مکذبین کا جو مال ہوگا اس کی تصویر آخر میں توحید کے مضمون کا پھر اعادہ ۔

46۔ سورۃ الاحقاف: تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


46۔ سورۃ الاحقاف کا تعارف اور اس کے مطالب کا تجزیہ
-1 سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ اس گروپکی آخری مکی سورۃ ہے۔ اس کے بعد تین سورتیں مدنی ہیں جن میں انہی وعدوں اور وعیدوں کی تکمیل ہے جن کا پچھلی مکی سورتوں میں ذکر ہوا ہے۔ اس کا قرآنی نام وہی ہے جو پچھلی سورۃ کا ہے اور اس کی تمہیں بھی بعینہ وہی ہے جو پچھلی سورۃ کی ہے۔ اس میں مخالفین قرآن کو نہایت آشکار الفاظ میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن جس روز قیامت سے تم کو خبردار کر رہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے۔ شرک و شفاعت کے بل پر اگر تم اس انداز کو نظر انداز اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک مفتری قرار دے رہے ہو تو یاد رکھو کہ تمہارے ان ادہام کے حق میں عقل و نقل کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ برعکس اس کے یہ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کی شہادت اس کے نزول سے پہلے ہی بنی اسرائیل کے ایک عظیم شاہد نے بھی دی ہے اور اس کی پیشین گوئیاں تورات میں بھی موجود ہیں جن کا یہ ٹھیک ٹھیک مصداق ہے اس وجہ سے تمہیں یہود اور نصاریٰ کی شہ سے بھی کسی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے، یہ لوگ تو خود اپنے رسولوں اور اپنے صحفیوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔
اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت واضح الفاظ میں تسلی دی ہے کہ ان مخالفین کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمہاری ذمہ داری لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کی طبیعت میں سلامت روی، حق شناسی اور عاقبت بینی ہے۔ ان لوگوں سے کسی خیر کی امید نہ رکھو جو بالکل مادر پدر آزاد ہیں۔ تم جو چیز پیش کر رہے ہو اس کی اثر آفرینی کا حال تو یہ ہے کہ راہ چلتے جنوں کے کان میں بھی اس کے کلمات پڑ گے ہیں تو وہ بھی اس پر فریضتہ ہوگئے ہیں۔ اگر ان لوگوں پر اس کا اثر نہیں پڑ را ہے تو یہ اس کلام کی کوئی خرابی نہیں بلکہ ان کے دلوں ہی کی خرابی ہے۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کرو اور ان کو ان کے انجام کے حوالہ کرو جس کے ظہور میں اب زیادہ دیر نہیں ہے ۔
ب - سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(14-1) قرآن خدائے عزیز و حکیم کا نازل کیا ہوا صحیفہ ہے لیکن جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ اس سے اعراض کر رہے ہیں، حالانکہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم غایت و مقصد کے ساتھ اس کو پ یدا کیا ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ ایک دن اس کی مدت پوری اور اس کا انجام ظاہر ہو۔ ان لوگوں کا عاتماد اپنے شرکاء و شفعاء پر ہے۔ ان کا گمان ہے کہ قیامت ہوئی تو وہ ان کو بچا لیں گے حالانکہ ان شرکاء کے حق میں نہ کوئی نقلی دلیل موجود ہے نہ عقلی یہ لوگ ان سے لو لگائے بیٹھے ہیں اور ان کو خبر بھی نہیں کہ کوئی ان کی پرستش کر رہا ہے اور ان کو مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ وہ قیامت کے دن کے مددگار ہونے کے بجائے الٹے ان کے دشمن ہوں گے یہ قرآن کے دلائل سے مرعوب ہو کر اس کو سحر کہتے اور پیغمبر کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ ایسے ہٹ دھرم منہ لگافے کے قابل نہیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میں دنیا میں پہلا رسول نہیں ہوں، مجھ سے پہلے بھی رسول آ چکے ہیں۔ میں بھی انہی خصوصیات و صفات کے ساتھ آیا ہوں جن خصوصیات و صفات کے ساتھ وہ آئے۔ ان کو آگاہ کر دو کہ یہود و نصاریٰ کے چکمے میں آ کر اگر تم میری مخلافت کر رہے ہو تو اس کے انجام بد کو اچھی طرح سوچ لو۔ بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد میری گواہی دے چکا اور مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور تورات کی پیشین گوئیوں کا بھی میں مصداق ہوں۔ اگر میرے اوپر غریب لوگ ایمان لائے ہیں تو اس کو بہانہ بنا کر اپنے کو اللہ کی رحمت سے محروم نہ کرو۔
(20-15) اس امر کا بیان کہ کس طرح کے لوگ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور کس طرح کے لوگ اس کی تکذیب کریں گے ۔
اس پر ایمان وہ لائیں گے جو ان حقوق کو پہچانتے ہیں جن کا شعور فطرت کے اندر ودیعت ہے۔ جو اپنے ماں باپ کے احسان شناس اور ان کے فرمانبردار رہے ہیں۔ جوانی کے دور میں اگرچہ جذبات کے غلبہ سے انہوں نے ٹھوکریں بھی کھائیں، لیکن اس طرح نہیں کہ گولے ہوں تو پھر اٹھنے کا نام ہی نہ لیا ہو بلکہ گرنے کے بعد سنبھلتے بھی رہے ہیں یہاں تک کہ جب وہ پختگی کے سن و سال یعنی چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا کہ اے رب، اب تو ہمیں سنبھلا کہ ہم تیرے انعامات کا شکر ادا کر سکیں جو تو نے ہم پر اور ہمارے ماں باپ پر کئے ہمیں عمل صالح کی توفیق بخش اور ہماری اولاد کو بھی صالح بنا ہم نے تیری طرف رجوع کیا اور تیرے فرماں برداروں میں سے بنتے ہیں۔ اس طرح کے سلیم الفطرت لوگوں کے گناہوں سے اللہ تعالیٰ در گزر فرمائے گا اور ان کو اہل جنت میں شامل کرے گا ۔
اس کو جھٹلانے والے وہ ہوں گے جنہوں نے اس کے بالکل برعکس مادر پدر آزاد زندگی گزاری۔ نہ ماں باپ کے حقوق انہوں نے پہچانے اور نہ خدا کے حقوق کا کبھی ان کو خیال آیا۔ اگر ماں باپ نے آخرت اور حساب کتاب سے ڈرایا تو انہوں نے جھڑک دیا کہ یہ سب اگلوں کے ڈھکو سلے ہیں، ہم اس طرح کی خرافات پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر مرنے کے بعد پھر زندگی ہے تو آخر بے شمار خلقت جو مرچکی ہے وہ زندہ ہو کر کیوں نہیں واپس آتی۔
مذکورہ دونوں قسم کے لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں ان کے اعمال کے اعتبار سے جزا یا سزا ہوگی۔ نیک اپنی نیکیوں کا بھرپور صلہ پائیں گے اور بد اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں گے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرے گا۔ وہ متکبرین جو قرآن کے خلاف اس بات کو دلیل بنائے ہوئے ہیں کہ اس کو غریبوں نے قبول کیا ہے وہ جب دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے حصہ کی اچھی چیزیں دنیا میں لے چکے۔ اب یہاں تمہارے لئے ذلت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
(28-21) قریش کی تنبیہ کے لئے قوم عاد کی مثال کہ ان کو بھی تمہاری ہی طرح اللہ کی پکڑسے ڈرایا گیا لیکن انہوں نے اپنی قوت و صولت کے غرور میں اس کی کوئی پروانہ کی بالآخر اللہ نے ان کو ہلاک کردیا درآنحالیکہ وہ قوت و شوکت اور تعمیر و تمدن کے اعتبار سے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے لیکن ان کی ساری ذہانت و فطانت اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام نہ آئی ۔
(32-29) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے قرآن سے متعلق جنوں کے ایک تاثر کا حوالہ کہ اگر قریش کے ناقدیر قرآن کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس میں قرآن کا یا تمہارا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ یہ انہی کے دلوں کی خرابی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کی تاخیر و تسخیر کا حال تو یہ ہے کہ جنوں کی ایک جماعت کے کان میں اس کی چند آیتیں پڑگئیں تو وہ اس پر اس طرح فریضتہ ہوگئے کہ اپنی قوم کے اندر وہ اس کے داعی بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔
(35-33) خاتمہ سورۃ کفار کے لئے تہدید و وعید اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و عزیمت کی تلقین کی ۔


44۔ سورہ الدخان : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


44۔ سورہ الدخان کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ

ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
اس سورۃ کا قرآنی نام دہی ہے جو سابق سورۃ کا ہے اور اس کی تمہید بھی اصل مدعا کے اعتبار سے تقریباً وہی ہے جو سابق سورۃ کی ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ سابق سورۃ میں توحید کے دلائل کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں توحید کے دلائل کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ پوری سورۃ پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں قرآن اور رسالت کا اثبات اس پہلو سے ہے کہ قرآن منکرین کو جس انجام کی خبر دے رہا ہے وہ دنیا میں بھی شدنی ہے اور آخرت میں بھی۔ تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سابق سورۃ کی آخری آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ فاصفح عنھم وقل سلام فسوف یعلمون (الزخرف :89) (ان کو نظر انداز کرو اور کہو میرا سلام لو، پس یہ عنقریب جان لیں گے) اس سورۃ میں اس تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے۔ گروپ کی آگی کی سورتوں میں یہ مضمون زیاہ واضح ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ گروپ کے آخر میں جو مدنی سورتیں ہیں ان میں قریش کے عزل اور اہل ایمان کی نفرت اور ان کے غلبہ کا بالکل قطعی الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(16-1) قرآن کی عظمت و شان اور اس کے اہتمام نزول کی طرف اشارہ کہ یہ مبارک لیلتہ القدر میں اتارا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام امور مصلحت کی تقسیم ہوتی ہے۔ یہ خدائے سمیع و علیم کی رحمت و ربوبیت کے تقاضوں سے ظہور میں آیا ہے جس کے سوا کوئی رب نہیں اور مقصود اس کے اتارنے سے انذار ہے کہ جو لوگ غفلت میں پڑے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں وہ جاگیں اور جو دن آنے والا ہے اس کے لئے تیاری کریں۔ جو لوگ رسول کی صداقت کے لئے یہ شرط ٹھہراتے تھے کہ ان کو عذاب دکھا دیا جائے، ان کو تنبیہ کو عذاب دیکھ لینے کے بعد جو ایمان لایا جاتا ہے وہ سود مند نہیں ہوتا۔ اگر عذاب کے آنے میں اس وقت تاخیر ہو رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ عذاب کی دھمکی محض دھمکی ہے۔ اگر اللہ نے یہاں لوگوں کو مہلت دے بھی دی تو اس سے وہ خدا کے عذاب سے محفوظ نہیں ہوجائیں گے۔ ان کی پکڑ لازماً آخرت میں ہوگا اور یہ بالکل مبنی بر انصاف ہوگا۔ اہل کفر اپنی ناشکریوں کی سزا بھگتیں گے اور اہل ایمان اپنی نیکیوں کا پورا پورا صلہ پائیں گے اور یہی اصل کامیابی ہے نہ کہ وہ جس پر یہ نادان ریجھے ہوئے ہیں ۔

(59-58) خاتمہ سورۃ، جس میں اس احسان عظیم کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ ہے جو قرآن کو عربی مبین میں نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے قریش اور اہل عرب پر فرمایا۔ واضح رہے کہ قرآن کی عظمت کے بیان ہی سے اس سورۃ کا آغاز ہوا تھا اور اسی مضمون پر اس کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ اس میں قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ ان پر اتمام حجت کے لئے اللہ نے اس کتاب کو تمام ضروری لوازم سے آرساتہ کر کے بھیجا ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہیں جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے مقدر ہے۔ آخری آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی بھی دی گی ہے کہ اگر یہ لوگ اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب ہی کے منتظر ہیں تو تم بھی ان کے لئے اب اس روز بدہی کا انتظار کرو ۔

43۔ سورۃ الزخرف : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


43۔ سورۃ الزخرف کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ، سابق سورۃ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ گروپ کی دوسری سورتوں کی طرح اس کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے اور اس توحید ہی کی اہمیت واضح کرنے کے لئے اسی میں قیامت کا بھی ذکر ہوا ہے۔ خاص طور پر ملائکہ کی الوہیت اور ان کی شفاعت کے تصور کا ابطال اس میں فصیل سے ہے اور قریش کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ وہ جس دین شرک کے پیرو ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔
سابق سورۃ میں قرآن کی عظمت ایک خاص پہلو سے نمایاں کی گئی تھی اس میں اس کے بعض دوسرے پہلو نمایاں کر کے قریش کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر محض دولت دنیا کے غرور میں تم نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی تو یاد رکھو کہ پیغمبر کے اوپر ذمہ داری صرف اس حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کی تکذیب کے نتائج کی ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہوگی ۔
قرآن پر نفس وحی کے پہلو سے مخالفین کے جو اعتراضات تھے اور جن کو وہ اس کی تکذیب کا بہانہ بنا رہے تھے ان کے جواب پچھلی سورۃ میں دیئے گئے ہیں، اس سورۃ میں انبیائے سابقین کی دعوت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی واضح فرمائی گی ہے کہ جس دین توحید کی دعوت یہ قرآن دے رہا ہے اسی کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹال رہے ہیں وہ اپنے لئے اسی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں جس سے رسولوں ک تکذیب کرنے والی دوسری قومیں دو چار ہوئیں ۔
ب - سوروہ کے مطالب کا تجزیہ
(8-1) قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے قوم عرب پر جو احسان فرمایا اور اس کے ذریعہ سے ان پر اتمام حجت کا جو سامان کیا اس کا حوالہ اور اس بات کی یاد دہانی کہ اگر انہوں نے بھی اپین رسول کی تکذیب کی وہی روش اختیار کی جو ان سے پہلے کی قوموں نے اختیار کی تو اسی انجام سے دوچار ہونے کے لے تیار رہیں جس سے وہ دوچار ہوئیں اور یاد رکھیں کہ قوت و شوکت کے اعتبار سے وہ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں ۔
(15-9) مخالین کے اس اعتراف کا حوالہ کہ آسمان و زمین کا خالق خدائے عزیز و علیم ہی ہے۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود انہوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کے شریک بنا رکھے ہیں حالانکہ اس کائنات میں قدرت، ربوبیت اور حکمت کے جو آثار و شواہد ہر قدم پر موجو دہیں وہ خدا کی توحید اور قیامت پر گواہ ہیں ۔
( 25-16) ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال دو مختلف پہلوئوں سے
ایک اس پہلو سے کہ یہ لوگ ملائکہ کہ خدا کی بیٹیاں مانتے ہیں درآنحالیکہ خود اپنے لیے بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ ایک چیز کو اپنے لیے پسند نہ کرنا اور اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا صریح حماقت اور رب عزیز و جلیل کی اہانت ہے ۔
دوسرے اس پہلو سے کہ ملائکہ کو شریک خدا قرار دینے کی واحد دلیل ان کے پاس یہ ہے کہ ان کے باپ دادا ان کو شریک خدا مانتے رہے ہیں۔ حالانکہ کسی طریقہ کی صحت و صداقت کی یہ کوئیل دلیل نہیں ہے کہ یہ طریقہ ان کو اپنے باپ دادا سے ملا ہے یا تو وہ اللہ کی کسی کتاب کی سند پیش کریں یا عقل و فطرت سے کوئی دلیل لائیں ورنہ اسی انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہیں ج سے وہ قومیں دوچار ہوئیں جنہوں نے اس قسم کے لا طائل بہانوں کی آڑ لے کر اپنے رسولوں کی تکذیب کی ۔
(28-26) تاریخ کی روشنی میں مشرکین کے اس دعوے کی تردید کہ یہ دین شرک ان کے باپ دادا کی وراثت ہے۔ ان کے اصل جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اننی برآء مما تعبدون (میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم پوجتے ہو) کا یادگار کلمہ کہہ کر اپنی قوم کو چھوڑا اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ میں بسایا۔ ان کا یہ اعلان ہجرت ایک مقدس روایت کی حیثیت سے ان کی ذریت میں باقی رہا تو یہ کہنے کے کیا معنی کہ یر شرک ان کے باپ دادا کی وراثت ہے !
(45-29 ) مکذبین کی سرکشی کے اصل سبب کا بیان کہ یہ اپنی جہالت کے حق میں جو دلیلیں گھڑنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ محض سخن سازی ہے۔ اصل چیز جو ان کے لئے فتنہ بنی ہوئی ہے وہ ان کی دنیوی رفاہیت ہے حالانکہ خدا کی میزان میں اس رفاہیت کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور یہ اس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ شیطان نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ اور یہ پٹی ان کی اس وقت کھلے گی جب اس کا کھلنا اور نہ کھلنا دونوں ہی بے سود ہوگا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم اپنی دعوت حق پر جمے رہو۔ ہم ان کا انجام یا تو تمہاری زندگی ہی میں دکھا دیں گے یا تمہارے بعد یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ تم جس دنی کی دعوت دے رہے ہو وہ دین حق یہی ہے، تمام انبیائکی ہشادت اسی کے حق میں ہے۔
(65-46) حضرات انبیاء علیہم السلام میں سے دو غیبوں … حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ … کی دعوت کا حوالہ کہ انہوں نے بھی بعینیہ اسی دین توحید کی دعوت دی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی رسالت کے حق میں، فرعون اور اس کے اعیان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھائیں لیکن وہ کسی نشانی سے بھی قائل نہ ہوئے۔ ان کی تکذیب کا سبب بعینیہ یہی تھا جو قریش کے ان فراعنہ کی تکذیب کا ہے۔ بالآخر وہ کیفر کردار کو پہنچے، وہی انجام ان لوگوں کا بھی ہونا ہے ۔
اسی توحید کی دعوت حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام نے بھی دی۔ ان کا نام سنتے ہی قریش کے جھگڑالو تم سے مناظرہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ ان سے بہتر تو ہمارے ہی معبود ہیں گویا ان جاہلوں کے نزدیک قرآن ان کا ذکر خیر اس لئے کر رہا ہے کہ لوگ نصاریٰ کی طرح ان کو ابن اللہ مانیں۔ حالانکہ قرآن ان کو ابن اللہ کی حثیت سے نہیں پیش کر رہا ہے بلکہ اس حیثیت سے پیش کر رہا ہے کہ ان کی دعوت ان اللہ ھو ربی و ربکم قاعبدوہ (اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور وہی تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو) کی دعوت تھی۔ ان کی اس دعوت حق میں اختلافات تو بعد والوں نے پیدا کئے ہیں اور وہ عنقریب اس کا انجام دیکھیں گے ۔
(89-66) خاتمہ سورۃ جس میں پہلے ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس دعوت حق پر ایمان لائیں گے۔ پھر ان لوگوں کا اجنام بیان ہوا ہے جو اس کی تکذیب کریں گے۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ ان ضدی لوگوں سے اعراض کرو۔ یہ خود اپنا انجام دیکھ لیں گے اور فرشتوں کی جس شفاعت کے بل پر اکڑ رہے ہیں اس کی حقیقت ان کے سامنے آجائے گی ۔
اس تجزیہ مطالب پر ایک نظر ڈلا کر دیکھ لیجیے کہ عمود کے ساتھ اس کے ہر جزو کا کیسا گہرا تعلق اور شروع سے لے کر آخر تک یہ پوری سورۃ کس طرح مربوط ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورۃ کی تفسیر تشروع کرتے ہیں۔ وبیدہ التوفیق


42۔ سورہ الشوری : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


42۔ سورہ الشوری  کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا - سورۃ کا عمود اور زمانہ نزول
اس سورۃ کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے۔ اسی کے تحت قیامت سے بھی ڈرایا گیا ہے اس لئے کہ توحید کی اصلی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس بات پر ایمان ہو کہ انصاف کا ایک دن لازماً آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص کو سابقہ اللہ واحد و قہار ہی سے پیش آئے گا، کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کی پکڑ سے کسی کو بچا سکے یا اس کے اذن کے بغیر اس کے سامنے زبان ہلا سکے ۔
استدلال کی بنیاد اس میں دعوت انبیاء کی تاریخ پر ہے کہ آدم و نوح سے لے کر اب تک تمام انبیاء نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور ان کو بھی اللہ نے اسی طرح وحی کے ذریعہ سے تعلیم دی جس طرح یہ قرآن وحی کیا جا رہا ہے مختلف حلقوں نے دین کے معاملہ میں جو اختلاف کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولوں نے الگ الگ دینوں کی تعلیم دی بلکہ اس کی وجہ صرف باہمی عداوت و رقابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح علم آجانے کے باوجود مختلف گروہوں نے اپنی ضد اور اپنی برتری قائم رکھنے کے زعم میں حق سے اختلاف کیا اور اس طرح لوگ مختلف گروہوں اور حلقوں میں بٹتے گئے۔ یہ قرآن اسی اختلاف کو مٹانے کے لئے ایک میزان حق بن کر نازل ہوا ہے۔ اگر لوگ اس میزان کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے تو اب قیامت کی میزان عدل لوگوں کا فیصلہ کرے گی ۔
ورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں ہجرت سے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہے چنانچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے قریش کے لیڈروں کو اس میں جو خطاب ہے اس کی نوعیت و داعی خطاب کی ہے، گویا ان سے متعلق پیغمبر کی جو ذمہ داری تھی وہ پوری ہوگئی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اگر انہوں نے یہ ذمہ داری اب بھی محسوس نہ کی تو اس کے نتائج کے لئے تیار رہیں۔ اسی طرح مسلمانوں سے متعلق اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان کو ایک ہئیت اجتماعی کی شکل میں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جس کے تقاضے پورے کرنے کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں بار بار یہ تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری لوگوں کو واضح طور پر حق ہپنچا دینے کی تھی وہ تم نے پوری کر دی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کا کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ اس ضمن میں بعض اعتراضات کے جواب بھی دیئے گئے ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر مخالفین کی طرف سے کئے گئے ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(10-1) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے یہ حقیقت واضح فرماگئی ہے کہ جس دین توحید کی وحی اللہ نے تم پر کی ہے۔ اسی دین کی وحی اس نے تم سے پہلے آنے والے رسولوں پر بھی کی اور روحی کا طریقہ بھی وہی ہے جو اس سیپہلے اختیار کیا گیا۔ اللہ کی ذات بہت بلند اور عظیم ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آسمان اس کی خشیت سے پھٹا جا رہا ہے اور فرشتے برابر اس کی تسبیح اور اہل زمین کے لئے استغفار میں سرگرم ہیں جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں اللہ ان کو دیکھ رہا ہے۔ ان کے ایمان کی ذمہ داری تمہایر اوپر نہیں ہے۔ اللہ نے جو عربی قرآن تم پر اتارا ہے اس کے ذریعہ سے اہل مکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دو جس دن وہ سب کو اکٹھا کرے گا اور پھر ایمان لانے والوں کو جنت میں اور کفر کرنے والوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ ہدایت وہی پائیں گے جو اس کے سزاوار ٹھہریں گے ۔
(20-11) آسمان و زمین کا خالق خدا ہی ہے، ان کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اولاد اور رزق خدا ہی بخشتا ہے۔ اس کی خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی دین توحید کی تعلیم تمام نبیوں نے دی اور اسی پر قائم رہنے اور اس میں اختلاف نہ پیدا کرنے کی انہوں نے برابر تلقین کی۔ جن لوگوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا انہوں نے خدا کی طرف سے صحیح علم آجانے کے بعد، محض باہمی عناد اور تعصب کے سبب سے پیدا کیا۔ اگر اللہ نے اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ایک وقت نہ مقرر کرلیا ہوتا تو ان کا فیصلہ فوراً کردیا جاتا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم اسی دین انبیاء کی دعوت دو اور اسی پر جمے رہو اور لوگوں کو آگاہ کر دو کہ اللہ نے جو کتاب میزان عدل بنا کر اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے یہ ہدایت ہوئی ہے کہ اسی میزان عدل کے ذریعہ سے تمہارے درمیان فیصلہ کروں۔ جو لوگ اس کے بعد بھی تم سے جھگڑیں ان کے لئے عذاب شدید ہے۔ انہیں متنبہ کر دو کہ قیامت کو بہت دور نہ سمجھیں۔ اللہ نے جو مہلت بخشی ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ نہایت مہربان بھی ہے اور نہایت منتقم و قہار بھی۔ اگر وہ لوگوں کو، ان کے طغیان و فساد کے باوجود مہلت دیتا ہے تو اپنی سنت کے مطابق دیتا ہے۔ اس مہلت کے بعد وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہوگا ۔
(26-21) اگر انہوں نے کچھ شرکاء ایجاد کئے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کے لائے ہوئے دنی سے کوئی الگ دین ان کے لئے ایجاد کیا ہے تو یہ دین اور اور ان کے یہ شرکاء قیامت کے دن کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن مشرکین اپنے انجام پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس دن کی کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح والوں کے لئے ہوگی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کی ان لوگوں کو بتا دو کہ میں تمہاری ہدایت کے لئے جو اتنا فکرمند ہوں تو اس لئے نہیں کہ میں تم سے کسی صلہ کا طالب ہوں بکلہ یہ محض قرابت ہے جو تمہارے لئے مجھے بے چین کئے ہوئے ہے۔ اگر تم ایمان لائو گے تو اس کا صلہ تم خود پائو گے۔ اگر یہ لوگ تمہاری وحی کو افتراء بتاتے ہیں تو تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس ہے کہ تم جانتے ہو کہ یہ چشمہ فیض تمہارے انر خدا نے جاری کیا ہے، اگر وہ چاہے تو ابھی اس کو بند کر دے، پھر تم کسی طرح بھی اس کو جاری نہیں کرسکتے۔ علاوہ ازیں دیکھنے کی چیز اس کے اثرات اور اس کی برکات ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے باطل کو مٹا اور حق کو سربلند کر رہا ہے۔ یہ لوگ جو کچھ بھی کہیں اسکی پروا نہ کرو جن کے اندر صلاحیت ہے وہ اس کو لبیک کہہ رہے ہیں۔ تمہارے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے ۔
(36-27) اگر یہ لوگ اپنی دنیوی برتری کو اپنے برحق ہونے کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں تو ان کو بتا دو کہ آخرت کی نعمتوں کے مقابل میں اس دنیا کی بڑی سے بڑی دولت کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شیطان کے فنتوں سے بچانا چاہا اس وجہ سے دنیا کے طالبوں کو بھی ا تنا ہی دیتا ہے جتنا اس کے مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے ورنہ وہ ان کو پوری ڈھیل دے دیتا کہ وہ اس دنیا میں سے جتنا چاہیں اپنے دامن بھر لیں … اللہ کی ڈھیل سے کسی کو غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے لوگوں کو پکڑ سکتا ہے لیکن وہ لوگوں کی ناشکری اور ان کے طغیان کے باوجود ان سے درگزر کرتا ہے۔ انسان کی روزمرہ کی زندگی میں جو تجربات و مشاہدات ہوتے رہتے ہیں اگر کوئی دیدہ بنیاد رکھتا ہو تو انہی کے اندر دیکھ سکتا ہے کہ انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے۔ اگر خدا حفاظت نہ کرے تو انسان کے تمام وسائل اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ کافروں کو جو کچھ حاصل ہوت ہے وہ عارضی وفاقی ہے۔ خدا کیہاں ابدی بادشاہی ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو ایمان لائیں گے اور خدا پر بھروسہ رکھیں گے ۔
(43-37) اہل ایمان کی حقیقی صفات کا بیان اور ان کو چند خاص ہدایات جو موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات میں ان کی رہنمائی اور ذمہ داریوں سے عہدہ برآن ہونے کے لئے ضروری تھیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس دور میں کفار کی تعدیاں بھی بہت بڑھ گئی تھیں اور مسلمان بھی ایک جماعت اور تنظیم کی شکل اختیار کرہے تھے اس وجہ سے ان کو ضروری ہدایات سے آگاہ کردیا گیا تاکہ اس نازک دور میں ان کا کوئی قدم غلط نہ اٹھ جائے ۔
(53-44) خاتمہ سورۃ جس میں پہلے مخالفین کو تنبیہ ہے۔ اس کے بعد ان کو دوت ہے کہ اب بھی موقع ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کر کے اپنی عاقبت سنوار لو۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر یہ کبھی واپس آنے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین صبر ہے کہ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں تو ان کا پیچھا چھوڑو، تمہارے اوپر جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کر دی، ان کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ انسان کی تنک ظرفی کا حال یہی ہے۔ اگر اللہ اس کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے تواتراتا اور اکڑتا ہے اور اگر اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اپنی مزعومہ شریکوں پر بڑا ناز ہے لیکن خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے غرور کے سبب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خدا ان سے رو درود ہو کر بات کرے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے سے بات کرتا ہے صرف وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے اور اس کے خاص طریقے ہیں۔ اسی طرح کی وحی اس نے تم پر بھی کی ہے اور یہ تم پر اور تمہارے واسطہ سے لوگوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے ورنہ اس سے پہلے نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان کی تفصیلات اور اس کے مطالبات سے ۔


41۔ سورہ حم السجد ۃ (فصلت) : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی



41۔  سورہ  حم السجد ۃ (فصلت)  کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا۔ سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
اس سورۃ کا بھی اصل مضمون سابق سورۃ کی طرح توحید ہی ہے۔ اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو اتذار بھی کیا گیا ہے جو قرآن کی دعوت توحید کی مخالفت کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ان ایمان والوں کو ابدی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے جو مخالفوں کی تمام مخالفانہ سرگرمیوں کے علی الرغم، توحید پر استوار رہیں گے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تمہارے دشمن خواہ کتنا ہی جاہلانہ رویہ اختیار کریں لیکن تم ان کی جہالت کا جواب صبر و بردباری سے دینا۔ یہی طریقہ بابرکت اور اسی میں تمہاری دعوت کی کامیابی مضمر ہے ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(١۔ ٨) سورۃ کی تمہید، جس میں یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ خدائے رحما ن و رحیم نے اہل عرب پر یہ عظیم احسان فرمایا کہ قرآن کو عربی زبان میں ان کے لئے نذیر و بشیر بنا کر اتارا۔ اس احسان کا حق یہ تھا کہ لوگ اس کی قدر کرتے لیکن یہ نہایت رعونت سے اس نعمت کو ٹھکرا رہے ہیں اور ایمان لانے کے بجائے اس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ ان کے اس مطالبہ کے جواب میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ ان کو بتا دو کہ مجھے جس توحید کی وحی ہوئی تھی وہ میں نے تم کو پہنچا دی، رہا عذاب کا معاملہ تو یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں ایک بشر ہوں، خدا نہیں ہوں ۔
اہل ایمان کو استغفار و استقامت کی تلقین اور اجر دائمی کی بشارت اور مشرکین کو ابدی تباہی کی وعید جو ایمان و انفاق کے بجائے محض اپنے مزعومہ شفعار کے بل پر آخرت سے بالکل نچنت بیٹھے تھے ۔
(٩۔ ١٢) اس کارخانۂ کائنات میں جو قدرت و حکمت، جو رحمت و ربوبیت اور جو نظم و اہتمام کار فرما ہے وہ شاہد ہے کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل یا مختلف دیوتائوں کی بازی گاہ یا رزم گاہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خدائے عزیز و حلیم کی منصوبہ بندی سے وجود میں آیا ہے اس وجہ سے جو لوگ شرکاء و شفعاء کے بل پر خدا اور آخرت سے غافل ہیں وہ صرف اپنی شامت کے منتظر ہیں ۔
(١٣۔ ١٨) قریش کو تہدید و عید کہ اگر تم رسول کی دعوت کی تکذیب ہی پر تل گئے ہو تو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے دوچار ہونے کے لئے بھی تیار ہو جائو۔ تم سے پہلے عاد و ثمور نے بھی تمہاری ہی روش اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب نے ان کو تباہ کردیا اور یاد رکھو کہ قوت و شوکت میں وہ تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے ۔
(١٩۔ ٢٤ ) مشرکین جو اپنے شریکوں کی شفاعت کی امید لئے بیٹھے ہیں یاد رکھیں کہ قیامت کے دن ان کے کان، آنکھ اور ہاتھ پائوں خود ان کے خلاف گواہی دیں گے اور کسی کی شفاعت ان کے کچھ کام نہیں آئے گی۔ اس دن ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ سب سے زیادہ ان کی تباہی کا سبب یہ چیز ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس وہم میں مبتلا رہے کہ اس کو بندوں کے سارے اعمال کی خبر نہیں ہوتی۔ اس دن ان کے لئے امید کے سارے دروازے بند ہوجائیں گے۔ ان کا واحد ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ اگر وہ معافی کی درخواست کریں گے تو ان کو معافی نہیں ملے گی۔
(٢٥۔ ٢٩ ) گمراہ لیڈروں اور ان کے گمراہ پیروئوں کو اللہ تعالیٰ دوزخ میں جمع کرے گا۔ قرآن کی دعوت توحیدکی مخالفت میں انہوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کیا، اس بات کا انجام اس دن ان کے سامنے آئے گا۔ اس وقت وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور گمراہ ہونے والے عوام اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اے رب ! انسانوں اور جنوں میں سے جنہوں نے بھی ہمیں گمراہ کیا ہے تو ان کو ہمیں دکھا کر ہم ان کو اپنے پائوں سے روند ڈالیں ۔
(٣٠۔ ٣٢) جو لوگ تمام مخالفتوں اور سازشوں کے علی الرغم توحید پر جمے رہیں گے قیامت کے دن ان کے پاس فرشتے اللہ تعالیٰ کی ابدی رحمت و نعمت کی بشارت لے کر آئیں گے ۔
(٣٣۔ ٣٦) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی کہ تم نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ دعوت لے کر اٹھے ہو۔ اگر جاہل لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں تو ان کی جہالت کا مقابلہ شرافت اور عفو و درگزر سے کرو۔ اگرچہ یہ کام نہایت مشکل ہے لیکن یہ نہایت اعلیٰ حکمت ہے جو ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں اور نصیبہ ور درحقیقت وہی لوگ ہیں۔ اس وجہ سے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے یہی روش زیبا ہے۔ اور اگر کبھی شیطان کی وسوسہ اندازی سے اس کی کوئی خلاف ورزی ہوجائے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ۔
(٣٧۔ ٤٠ ) ابتدائے سورۃ میں توحید اور معاد کی جو دلیل بیان ہوئی ہے بعض دوسرے دلاء آفاق سے اس کی تائید اور ان لوگوں سے اظہار بزاری، جو ان واضح آیات کے بعد بھی توحید اور آخرت کی مخالفت کر رہے تھے ۔
(٤١۔ ٤٤ ) قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل عرب پر جو احسان فرمایا اور جس کی طرف سورۃ کی تمہید میں اشارہ گزر چکا ہے، اس کی تائید ایک نئے اسلوب سے۔ قرآن کی شان اور اس کی عظمت کے بیان کے ساتھ ساتھ قرآن کے خلاف اہل کتاب کے القاء کئے ہوئے ایک اعتراض کا جواب اور مکذبین کی اصل بیماری کی نشان دہی ۔
(٤٥۔ ٤٦ ) یہود کے القاء کئے ہوئے اس سوال کا جواب کہ جب قرآن تورات کو آسمانی کتاب تسلیم کرتا ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کسی اور آسمانی کتاب کی کیا ضرورت پیش آئی ؟
(٤٧۔ ٥١ ) جو لوگ آخرت کا مذاق اس وجہ سے اڑا رہے تھے کہ اس کا ظہور نہیں ہو رہا ہے یا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تاریخ نہیں متعین کرسکتے، ان کو جواب اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے نچنت تھے ان کو تنبیہ کہ اس دن سب اپنے شریکوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ علاوہ ازیں قیامت کے لئے جلدی مچانے والوں کی تنک ظرفی پر اظہار افسوس کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ذرا سا خدا کی گرفت میں آجاتے ہیں تو فوراً بلبلا اٹھتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کو ذرا ڈھیل دے دیتا ہے تو شیخی بگھارنے اور عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں ۔

(٥٢۔ ٥٤ ) خاتمہ ٔ سورۃ جس میں تکذیب قرآن کے ہولناک انجام کی طرف اشارہ اور اس بات کی تہدید ہے کہ اب قرآن کی صداقت کی نشانیاں آفاق و انفس میں ظاہر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر چیز اس کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ جو لوگ شک میں مبتلا ہیں وہ عنقریب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے ۔

39۔ سورۃ الزمر: تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


39۔ سورۃ الزمر کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ سابق سورۃ … سورۃ ص … کے مثنیٰ کی حیثیت رکتھی ہے۔ جس مضمون پر سابق سورۃ ختم ہوئی ہے اسی مضموکن سے اس کا آغاز ہا ہے۔ سورۃ ص کے آخر میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن دنیا والوں کے لئے ایک عظیم یاد دہانی ہے، لوگوں کو یاد دلا رہا ہے کہ آخرت شدنی ہے اور سب کی ایک ہی رب حقیقی کے آگے پیش ہونا ہے تو جو لوگ آج اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ بہت جلد اس کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب اس سورۃ کی تلاوت کیجیے تو اس کا آغاز بھی اسی مضموکن سے ہوتا ہے کہ خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے اس لئے اتاری ہے کہ لوگوں نے اللہ کی توحید کے بارے میں جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ کر دے تاکہ حق واضح ہوجائے اور جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتائوں کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں وہ چاہیں تو وقت آنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کرلیں۔ اسی پہلو سے اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، شرک اور شرکاء کی تردید بھی فرمائی گی ہے اور قایمت کے دن مشرکین کا جو حشر ہوگا اس کی تصویر بھی کھینچی گئی ہے۔ سورۃ کی بنیاد توحید پر ہے اور اسی تعلق سے اس میں قیامت کا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ سورۃ اس گروپ کی ان سورتوں میں سے ہے جو کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب ہجرت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ چنانچہ بعد کی سورتوں میں یہ مضمون باللہ ریج واضح ہوتا گیا ہے ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(4-1) خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب توحید و شرک کے قضیہ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک قول فیصل کی حیثیت سے اتاری ہے تو لوگ اللہ واحد ہی کی عبادت و اطاعت کریں۔ عبادت و اطاعت کا حقیقی سزا وار وہی ہے۔ جو لوگ دوسرے معبودوں کو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنائے بیٹھے ہیں اگر وہ اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اللہ ان کے درمیان قیامت ے دن فیصلہ فرمائے گا اور وہ یاد رکھیں کہ اللہ جھوٹوں اور ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے ارفع ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹے بیٹیاں بنئاے۔ وہ بالکل یکتا اور ساری کائنات کو کنٹرول کرنے کے لئے کافی ہے ۔
(٥-٨) یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے غایت اور حکمت کے ساتھ پیدا کی ہے۔ رات اور دن کی آمد و شد، سورج اور چاند کی گردش اس کے حکم سے ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور سای نے اس کی پرورش کا سامان کیا ہے، وہی خالق وہی رب اور وہی اپنی تمام کائنات کا علم رکھنے والا او اس کا مالک ہے تو لوگ اس کو چھوڑ کر کہاں بھٹکے جا رہے عیں ! لوگ یاد رکھیں کہ اللہ لوگوں کی بندگی اور شکر گزاری کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہوتی ہے اور اس دن کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ خدا سب کے بھیدوں سے خود واقف ہے اور وہ سب کا کچاچٹھا ان کے سامنے رکھ دے گا۔ لوگں کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ مصیبت دور ک ردیتا ہے تو اس کو اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں گویا کبھی اس سے کوئی واسطہ تھا ہی نہیں ۔
(21-9) اللہ کے بجو بندے توحید پر ایمان لانے کے جرم میں اپنی قوم کے اشرار کے ہاتھوں ظلم و ستم کا ہدف بنے ہوئے تھے ان کو فوز و فالح کی بشارت اور یہ پیغام اپنے ایمان پر جمے رہو۔ اگر یہ زمین تمہارے اوپر تنگ کر دی گئی تو اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔ اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو اللہ بے حساب اجر دیتا ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے شرک اور مشرکین سے برأت کا اعلان۔ مشرکین کو عذاب کی وعید اور توحید پر قائم رہنے والوں کو کامیابی کی بشارت۔ آخر میں ان لوگوں کو تنبیہ جو اپنی دنیوی زندگی کے غرور میں قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا رہے تھے ۔
(٢٢-٣٥) پغیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی کہ اس قرآن کی دعوت پر وہی لوگ ایمان لائیں گے جن کی فطرت کا نور زندہ ہے۔ جن کے دل سخت ہوچکے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قومیں دوچار ہئیں۔ قرآن نے ہر پہلو سے توحید اور شرک کی حقیقت نہایت واضح طور پر بیان کر دی ہے۔ جو لوگ اب بھی اپنی منہ پر اڑے ہوئے ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔
(٣٦-٥٢ ) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطمینان دہانی کہ اگر یہ لوگ تم کو اپنے معبودوں سے ڈرا رہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ میری حفاظت کے لئے اللہ کافی ہے وہ جس رحمت سے مجھے بہرہ مند کرنا چاہے گا کوئی مجھے اس سے محروم نہیں کرسکتا اور اگ روہ کوئی ضرر پہنچانا چاہے گا تو کوئی دوسرا اس سے مجھے بچا نہیں سکتا۔ پس تم اپنی جگہ کا مکرو، میں اپنی جگہ کام کرت اہوں۔ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔
اس امر کی وضاحت کہ زندگی اور موت تمام تر اللہ ہی کے قبضے میں ہے تو جو لوگ باطل شفاعت کی امید پر جی رہے ہیں انہیں بتا دو کہ شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالے کر دو۔ اس کے لئے دعا کی تلقین ان کی تدبیر ان کے کچھ کام نہ آسکی۔ یہی حشر انکا بھی ہوتا ہے۔ رزق و فضل سب اللہ کا عطیہ ہے اس وجہ سے ہر ایک پر اللہ ہی کا شکر واجب اور یہی توحید کا تقاضا ہے ۔
(61-53) لووگں کو یہ تذکیر کہ خدا سے مایوس ہو کر دوسرے شرکاء و شفعار کا دامن پکڑنا جائز نہیں ہے بلکہ ہر حالت میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے، وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے۔ پس خدا کی پکڑ سے پہلے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں اور سا بہترین کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کی ہدایت کے لئے اتاری ہے ورنہ ایک دن وہ ایمان کی حسرت کریں گے اور اپنی محرومی پر اپنے سرپیٹیں گے لیکن وقت گزر جانے کے بعد ان کے لئے یہ چیز کچھ نافع نہیں ہوگی ۔
(٦٢-٧٥) خاتمہ سورۃ جس میں پہلے یہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ عبادت کا حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور سای کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے مشرکین کو خطاب کر کے یہ اعلان فرما رہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا اس کے تمام عمل حبط ہوجائیں گے۔ اس کے بعد مشرکین کو ملامت کہ ان لوگوں نے خدا کی شان بالکل نیں پہچانی۔ یہ فرضی معبودوں کی شفاعت کے بل پر جی رہے ہیں حالانکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔ زمین خدا کے نور سے چمک اٹھے گی۔ دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگں کے درمیان بالکل انصاف کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کے بعد اہل دوزخ اور اہل جنت کے حالات کی تفصیل بیان ہوئی ہے ۔


40۔ سورہ المؤمن ( غافر ) : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


40۔ سورہ المؤمن (  غافر )  کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
ا۔ سورۃ کا عمود
گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورۃ کی بنیاد بھی توحید پر ہی ہے۔ قرآن کے دوسرے اصولی مطالب بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں لیکن اصلاً نہیں بلکہ ضمناً توحید کے لوازم و مقتضیات کی حیثیت سے آئے ہیں ۔
اس کا قرآنی نام حٰمٓ ہے اور یہی نام اس کے بعد کی چھ سورتوں کا بھی ہے۔ یہ ساتوں حوا میم کے نام سے مشہور ہیں اور اپنے ناموں کی طرح اپنے مطالب میں بھی مشترک ہیں۔ یہ تمام سورتیں دعوت کے اس دور سے تعلق رکھنے والی ہیں جب تو حید و شرک کی بحث نے اتنی شدت اختیار کرلی تھی کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں پر مکہ میں عرصہ ٔ حیات تنگ ہونے لگا تھا۔ ہجرت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اب اس میں اور آگے کی سورتوں میں وقت کے یہ حالات بالتدریج نمایاں ہوتے جائیں گے اور ان کے تقاضے سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ٔ نصرت و حمایت بھی بالکل واضح ہوتا جائے گا۔ جو مسلمان اس وقت حالات سے نبرد آزما تھے ان کی اس میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو خطرات میں تھے ان کو تسلی دی گئی ہے اور جو دعوت کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود کسی مصلحت سے، اب تک کھل کر اس کی حمایت کے لئے میدان میں نہیں اترے تھے ان کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ کلمہ ٔ حق کی سربلندی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہوگا ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(١۔ ٦) اس کتاب کی تنزیل اس خدا کی طرف سے ہے جو غالب و مقتدر بھ ہے اور علیم بھی۔ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور صاحب قدرت و اختیار بھی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹنا اور اسی کے آگے سب کو پیش ہونا ہے۔ اس قرآن کی مخالفت میں کج بحثی وہی لوگ کر رہے ہیں جو جزا و سزا کے منکر ہیں۔ اس وقت اس ملک میں یہ لوگ جو دندنا رہے ہیں اس سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ ان سے پہلے جو تو میں گزر چکی ہیں ان کی تاریخ سبق آموزی کے لئے کافی ہے۔ ان قوموں نے بھی اسی طرح اپنی کج بحثیوں سے حق کو پسپا کرنے اور رسولوں کو شکست دینے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ اللہ کے رسول پر ہاتھ ڈالیں ان کو عذاب نے آ پکڑا۔ اسی طرح ان متمردین پر بھی اللہ کا قانون عذاب صادق ہوچکا ہے اور یہ اپنے طغیان و فساد کی پاداش میں جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں ۔
(٧۔ ٩) جو لوگ فرشتوں کی سفارش کے بل پر خد ا اور اس کے روز جزا سے بے پروا بیٹھے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے مقرب فرشتے خدا کے باغیوں کے سفارشی نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کی حمد و تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے اور ان اہل ایمان کے لئے برابر استغفار کرتے رہتے ہیں جو اپن گمراہیوں سے توبہ کر کے خدا کے راستہ کی پیروی کریں ۔
(١٠۔ ١٢) قیامت کے دن مشرکین جس طرح اپنے جرم کا اقرار اور خدا سے فریاد کریں گے اور ان کی فریاد کے جواب میں خدا کی طرف سے ان پر ج پھٹکار ہوگی، اس کی طرف اجمالی اشارہ ۔
(١٣۔ ٢٠ ) تمام رحمت اور نقمت اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس وجہ سے بندگی اور اطاعت کا حق دار وہی ہے۔ وہ بہت بلند رتبہ اور عالی مقام ہے۔ اس کے بھیدوں سے کوئی واقف نہیں ہوسکتا۔ قیامت کے دن تنہا وہی مالک ہوگا اور مشرکوں کی سفارش کوئی نہیں کرسکے گا ۔
(٢١۔ ٢٢ ) تاریخ کی شہادت کہ جن قوموں نے توحید کی دعوت دینے والے رسولوں کو جھٹلایا ان پر اللہ کا عذاب آیا اور جب ان پر عذاب آیا تو ان کے مزعومہ شرکاء ان کے کچھ کام نہ آسکے۔ قریش کو تنبیۃ کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی ۔
(٢٣۔ ٥٥ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت کا ایک خاص حصہ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) اور قریش کو مندرجہ ذیل امور کی یادہانی کی گئی ہے ۔
oقریش کو یہ تنبیہ کہ قوت و صولت میں فرعون اور اس کی قوم کے لوگ تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے، لیکن جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی پاداش میں ان پر عذاب آیاتو کوئی چیز بھی ان کے کام آنے والی نہ بن سکی ۔
۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو یہ یاد دہانی کہ دعوت حق کے مخالفین کے ہاتھوں جو آزمائشیں پیش آ رہی ہیں، صبر و عزیمت کے ساتھ، ان کو برداشت کرو۔ اگر تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہے تو بالآخر کامیابی تمہی کو حاصل ہوگی ۔
۔ اس سرگزشت کے ذیل میں خاندان فرعون کے ایک مرد مومن کا کردار بھی بیان ہوا ہے، جو قریش کے لیڈروں کے لئے بھی نہایت سبق آموز ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی نہایت ہمت افزا ہے جو دعوت حق سے ہمدردی رکھنے کے باوجود اب تک اس کے اظہار و اعلان میں ہچکچا رہے تھے ۔
(٥٦۔ ٨٥) توحید اور قیامت کے آفاقی و انفسی دلائل کا حوالہ۔ قریش کو نہایت کھلے الفاظ میں انداز اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) سے نہایت قطعی الفاظ میں فتح و نصرت کا وعدہ ۔