حضرت موسی ؑ اور خضر ؑ کی گفتگو (سُوْرَةُ الْكَهْف : 60 تا 82)


وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ :

(جب موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا)

"لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا "

(”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“)

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ، فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ:

(پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریامیں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جا کر موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے کہا)

" اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا "

(”لاوٴ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں۔“ )

قَالَ : " اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ عَجَبًا "

(خادم نے کہا”آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر ﴿آپ سے کرنا﴾ بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔“)

قَالَ: " ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ "

(موسیٰؑ نے کہا”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ )

قرآن کا طریقِ دعوت

ابوسلیم محمد عبد الحی

قرآن کریم ایک دعوت کی کتاب ہے اور ایک دعوت اور ایک تحریک کے ساتھ ساتھ نازل کی گئی ہے۔ پورے ۲۳ سال کی مدّت میں اسلامی دعوت کو جن جن مرحلوں سے ہو کر گزرنا پڑا ، ان تمام مرحلوں میں اس کتاب نے بروقت رہنمائی کی ہے۔ ہر موقعے پر ضرورت کے لحاظ سے اس کے مختلف حصے نازل ہوتے رہے ہیں۔ ضرورت کے تقاضوں کے ماتحت اندازبدل بدل کر ایک بات کو بار بار دُہرایا گیا ہے اور ہر موقعے پر کسی ضروری پہلو کو زیادہ ابھارا گیا ہے ۔

ایسی کتاب کو اگر آپ دوسری کتابوں کی طرح پڑھیں گے تو ظاہر ہے کہ آپ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، جو باتیں کسی خاص موقعے اور کسی خاص محل پر کہی جاتی ہیںاگر آپ انھیں موقع اور محل کے تصور سے الگ کر کے دیکھیں تو ان میں نہ اثر باقی رہتا ہے اور نہ سننے والے اس سے وہ لطف محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ نے خود تجربہ کیا ہو گا ۔ کبھی کسی نازک موقعے پر خاص حالات کے تحت کسی شاعر کا ایک مصرع یا کسی شخص کا کوئی مقولہ سننے والوں کو تڑپا دیتا ہے لیکن وہی مصرع اور وہی مقولہ اگر ان حالات سے الگ ہوکر دھرایا جائے تو اس میں کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوتی ۔
٭قرآن ایک دعوت کی کتاب ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن آپ کی آنکھوں کو پُر نم اور آپ کی قوتوں کو متحرک کرے تو آپ پہلے اس دعوت کو اپنائیںجو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔ آپ اس دعوت کو عملاً دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر آپ سچ مچ اسلامی دعوت کو لے کر اٹھیں گے توآپ محسوس کریں گے کہ آپ کو قدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت ہے اور جب آپ کے حسبِ ضرورت وہ رہنمائی براہِ راست مالک ِ کائنات کے الفاظ میں آپ کے سامنے آئے گی تو ممکن نہیں کہ آپ کے جذبات میں اُبھار پیدا نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی آنکھیں پُر نم ہوجائیں اور آپ اپنے اندر ایسی قوت محسوس کرنے لگیں کہ آپ کو دنیا کی ساری قوتیں ہیچ نظر آئیں۔

بنی اسرائیل کی تباہی (2) ، سید ابوالاعلی مودودیؒ


فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا   (بنی اسرائیل : 7) 

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد ﴿بیت المقدس﴾ میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کر کے رکھ دیں ۔ 

--------------------------------

اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے :

مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ پومپی سن ٦٣ ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر سن ٤٠ ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی۔ یہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن ٤٠ سے ٤ قبل مسیح تک رہی۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سر پرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔

ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق ، اگست 2018

(نوٹ : بلاگر کا مضمون نگار کی رائی سے اتفاق لازمی نہیں ) 

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کاماخذِ کُل ہے اورہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی موشگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اورمعیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سرسید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے میعار پر دکھانے کے لیے تفسیر یں لکھیں۔
عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ

یہودیوں کا عروج ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا  ( سورۃ بنی اسرائیل : 6)

اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ 
--------------------------
" یہ اشارہ ہے اس مہلت کی طرف جو یہودیوں (یعنی اہل یہودیہ) کو بابل کی اسیری سے رہائی کے بعد عطا کی گئی۔ جہاں تک سامریہ اور اسرئیل کے لوگوں کا تعلق ہے، وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اٹھے، مگر یہودیہ کے باشندوں میں ایک ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ان لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو یہودیہ میں بچے کھچے رہ گئے تھے، اور ان لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیے گئے تھے۔ آخرکار رحمت الہی ان کی مدد گار ہوئی۔ بابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ سن ٥٣٩ قبل مسیح میں ایرانی فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل کو فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے فرمان جاری کردیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہوگئے جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ سائرس نے یہودیوں کی ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی اجازت بھی دی، مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہوگئی تھیں، مزاحمت کرتی رہیں۔ آخر داریوس (وارا) اول نے سن ٥٢٢ ق م یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور اس نے حِجِّی نبی، زکریا نبی اور سردار کاہن یشوع کی نگرانی میں ہیکل مقدس نئے سرے سے تعمیر کیا۔ پھر سن ٤٥٧ ق م میں ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ حضرت عزیر (عزرا) یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششتا (ارٹا کسر سزیا اردشیر) نے ایک فرمان کی رو سے ان کو مجاز کیا کہ :

بنی اسرائیل کی تباہی (1) ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل آیت 5 ) 

آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ 
----------------------------------
" اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کرچکے ہیں، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گر اکر ایک شکست خوردہ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔

حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوٹے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتِّی اَمَّوری کنعانی، فِرِزِّی، حَوِی، یبوسی، فِلستی وغیرہ سان قوموں میں بد تیرن قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔ ان کے سب سے بڑے معبود کا نام ایل تھا جسے یہ دیوتاؤں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموما سانڈے سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عشیرہ تھا اور اس سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد ٧٠ تک پہنچتی تھی۔ اس کی اولاد میں سب سے زیادہ زبردست بعل تھا جس کو بارش اور روئیدگی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ شمالی علاقوں میں اس کی بیوی اناث کہلاتی تھی اور فلسطین میں عستارات۔ یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا موت کا مالک تھا، کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی۔ کسی دیوتا کو وبا اور قحط لانے کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے، اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔ ان دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی ان کے ساتھ مشتہر ہونا پسند نہ کریں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی کمینہ ہستیوں کو خدا بنائیں اور ان کی پرستش کریں وہ اخلاق کی ذلیل ترین پستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جو حالات آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں وہ شدید اخلاقی گراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی کا عام رواج تھا۔ ان کے معابد زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔ عورتوں کو دیوداسیاں بنا کر عبادت گاہوں میں رکھنا اور ان سے بدکاریاں کرنا عبادت کے اجزاء میں داخل تھا۔ اور اسی طرح کی اور بہت سی بد اخلاقیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں ۔