اضطراری علم

اضطراری علم


علم کو بدیہی اور نظری میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پھر بدیہی اُسے قرار دیا جاتا ہے جو فکر و تدبر کے بغیر آپ سے آپ حاصل ہوتا ہے اور نظری اُسے جس کا فکر و تدبر کے ذریعے سے خود بدیہی سے اکتساب کیا جاتا ہے۔ اِس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدیہی اصل اور اساس کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور باقی ہر چیز اُس کی فرع قرار پاتی ہے۔ فلسفہ کی ابتدا خارجی حقائق سے متعلق بحث و تمحیص سے ہوئی تھی۔ پھر مدارک کی حقیقت موضوع بحث بنی اور بدیہی کو اصل قرار دیا گیا تو اُس کی علامت یہ سمجھی گئی کہ اُس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوتا۔ مگر انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز سے اختلاف کر سکتا ہے۔ چنانچہ یہی ہوا اور ظنون و شبہات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایک فریق کا اصرار ہے کہ معلوم صرف محسوس ہے اور وہی اصل ہے۔ تمام افکار و خیالات اُس چیز سے پیدا ہوتے ہیں جسے ہم اپنے حواس کی مدد سے سمجھتے ہیں۔ دماغ ‘tabula rasa’ یعنی لوح سادہ ہے۔ ہمارے ادراک سے پہلے کوئی چیز اُس پر ثبت نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہتا ہے کہ علم و اردات نفس ہیں اور نفس مدرکہ کے سوا ہم کسی موجود کے وجود کا یقین نہیں رکھتے۔ تیسرے کا دعویٰ ہے کہ اثر محسوس کے سوا کوئی چیز یقینی نہیں ہے اور چوتھے نے اعلان کر رکھا ہے کہ حس اور فکر، دونوں ناقابل اعتماد ہیں، اِس لیے دنیا میں یقین اور قطعیت نام کی کوئی چیز سرے سے پائی ہی نہیں جاتی۔
اِس کا نتیجہ کیا ہے؟ پہلے فریق نے عقل، روح، الٰہ اور معاد کا انکار کر دیا ہے؛ دوسرا اِس عالم محسوس کو نہیں مانتا؛ تیسرا دونوں کا منکر ہے اور علم محض کے سوا کسی چیز کا اثبات نہیں کرتا؛ چوتھے نے علی الاطلاق علم اور یقین کی نفی کر دی ہے ، وہ اِن میں سے کسی چیز کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دیکارت(Descartes)نے جب یہ کہا تھا کہ ’’میں سوچتا ہوں، اِس لیے میں ہوں‘‘، تو سقراط و فلاطوں کے بعد ایک مرتبہ پھر علم وتفلسف کو اِسی تشکیک سے نکالنے کی کوشش کی تھی۱؂۔دور ما بعد جدیدیت میں یہی سوفسطائیت زبان کی تحلیل کے ذریعے سے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اِس کا کہنا ہے کہ کوئی علامت یا کوئی لفظ(signifier)بھی کسی متعین شے(signified)کے معنی بیان نہیں کرتا، اِس لیے کہ کسی متعین شے کا کوئی حتمی وجود نہیں ہے۔ ہر لفظ کے معنی جملے میں موجود دوسرے الفاظ کے سہارے متعین کیے جاتے ہیں۔ آپ ایک لفظ کا اضافہ کر دیجیے یا ایک لفظ کم کر دیجیے تو پورے جملے کے معنی تبدیل ہو جائیں گے۔ چنانچہ معنی نہ الفاظ میں ہیں نہ جملوں میں، وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔ جملے میں کوئی لفظ بھی پوری طرح معنی کا متحمل نہیں ہوتا، لہٰذا وہ دوسرے لفظ یا الفاظ تک معنی کو ملتوی(defer)کر دیتا ہے۔ اِسی طرح مختلف الفاظ کے سہارے معنی اپنا رخ متعین کرتے ہیں، عبارت کا سیاق اُنھیں برابر بدلتا رہتا ہے، وہ کبھی قطعی اور حتمی نہیں ہوتے۔ چنانچہ اُن سے وابستہ اقدار بھی بے معنی ہیں، وہ بھی حتمی نہیں ہو سکتیں۲؂۔وحی الٰہی کی رہنمائی کے بغیر جو لوگ حقیقت کی تلاش میں نکلے تھے، اُن کی رودادسفر یہی ہے۔ اقبال نے غلط نہیں کہا تھا:
ہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی
قرآن اِس کے برخلاف اپنے استدلال کی بنیاد اُس فطری علم پر رکھتا ہے جو نفس انسانی میں الہام کر دیا گیا ہے۔ انسان کے تمام علم و عمل اور فکر و استدلال کی بنیاد درحقیقت یہی علم ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ نگاہ سب سے پہلے جس چیز پر پڑتی ہے، وہ بدیہی ہے، لہٰذا اِسی کو اصل مان کر انسان اپنی جستجو شروع کرتا ہے۔ اُسے توجہ نہیں ہوتی کہ یہ حقیقت میں اُس کا فطری علم ہے جو اُسے بدیہیات تک پہنچاتا اور ہانکتا ہوا نظریات تک لے جاتا ہے۔ یہ علم نہ ہوتا تو بداہت، نظر، استدلال، اِن میں سے کوئی چیز بھی وجود پذیر نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ خارج سے جو چیز آتی ہے، وہ صرف موضوعات ہیں۔ اُن کا حکم خارج سے نہیں آتا، وہ نفس کے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ وہی یہ حکم لگاتا اور بارہا موضوعات کو نئے موضوعات میں تبدیل کر دیتا ہے تاکہ اُن پر نیا حکم لگائے۔ ذوق و ادراک اِسی کا ظہور ہے جس میں سے پہلا عمل اور دوسرا علم کا مصدر ہے۔ ذات و صفات، حامل و محمول، فعل و انفعال، حسن و قبح، مدرک اور غیر مدرک اور ذات اور اُس کے عوارض میں فرق و امتیاز کا منبع بھی یہی ہے ۔حو اس کے ذریعے سے جو اثرات نفس انسانی تک پہنچتے ہیں، اُن سے موثرات پر استدلال اِسی کا وظیفہ ہے جس سے وجود خارجی کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ انسان جب تک انسان ہے، اِس کے فیصلوں کا انکار نہیں کر سکتا۔ نفس انسانی پر اِس کی حکومت قائم ہے۔ لہٰذا یہ تسلیم و انقیاد کوئی اختیاری چیز نہیں ہے، وہ مجبور ہے کہ اِس علم کے فیصلوں کو اُسی طرح تسلیم کرے، جس طرح وہ اپنی جبلتوں کے تقاضے تسلیم کرتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ انسان ہر چیز کا انکار کر سکتا ہے تو اِس کا کیوں نہیں کر سکتا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ زبان سے یقیناًکر سکتا ہے، مگر جس وقت کرتا ہے، عین اُسی وقت اُس کا عمل، اُس کے اعضا و جوارح اور اُس کے احوال اُس کی تکذیب کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ہر سلیم الطبع شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ صریح مکابرت ہے۔ امام حمید الدین فراہی نے اِسی بنا پر اِسے علم اضطراری سے تعبیر کیا اور بالکل درست فرمایا ہے کہ نفس انسانی میں ایک مہبط الہام ہے، اِسے مرکز کہنا چاہیے۔ اِس سے علم کا وہ دائرہ وجود میں آتا ہے جسے ہم فطری کہیں گے۔ اِس کے بعد بدیہی اور نظری ہے۔ چنانچہ علم کی تقسیم محض بدیہی اور نظری میں نہیں، بلکہ جذری، فطری، بدیہی اور نظری میں ہونی چاہیے، کیونکہ یہی حقیقت ہے۔
اِس روشنی میں دیکھیے:
قرآن بتاتا ہے کہ خالق کا اقرار مخلوقات کی فطرت ہے۔ وہ اپنے وجود ہی سے تقاضا کرتی ہیں کہ خالق کی محتاج ہیں۔ اُن کے لیے خالق کا اثبات پیش نظر ہو تو کسی منطقی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف متنبہ کرنے اور توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ کوئی مخلوق اپنے خالق کا انکار نہیں کرتی، بلکہ توجہ دلائی جائے تو اُس کو ماننے کے لیے اِس طرح لپکتی ہے ، جس طرح پیاسا پانی کے لیے لپکتا ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ بنی آدم سے جب خدا نے پوچھا تھا کہ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں تو سب نے ایک ہی جواب دیا تھا کہ ہاں، آپ ضرور ہمارے رب ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ حیات دنیوی میں انسان بعض اوقات انکار کر دیتا ہے۔ یہ محض مکابرت ہے۔ لہٰذا جس وقت انکار کرتا ہے، عین اُسی وقت اپنے دائرۂ علم میں ہر انفعال کے لیے فاعل، ہر ارادے کے لیے مرید، ہر صفت کے لیے موصوف، ہر اثر کے لیے موثر اور ہر نظم کے لیے ایک علیم و حکیم ناظم کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے۔ اُس کا تمام علم اِسی سرگردانی کی سرگذشت ہے۔ یہ عمل کی تکذیب ہے جو اُس کے انکار کی حقیقت بالکل آخری درجے میں واضح کر دیتی ہے۔
یہی معاملہ خیر و شر کے شعور کا ہے۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی نفس انسانی میں الہام کر دیا گیا ہے۔ مگر انسان بعض اوقات انکار کرتا ہے۔ اِسے بھی مکابرت کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا،اِس لیے کہ جس وقت انکار کرتا ہے، عین اُسی وقت خود اُس کو برائی کا ہدف بنا لیا جائے تو بغیر کسی تردد کے برائی کو برائی ٹھیراتا اور اُس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ پھر یہی نہیں، نیکی کی جائے تو اُس کے لیے عزت و احترام کے جذبات ظاہر کرتا اور اپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتا ہے تو اُس میں حق و انصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے۔ اُس کا قانون ، عدالتیں اور بین الاقوامی ادارے، سب اِسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
الفاظ کی دلالت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ میزان، فرقان اور فصل نزاعات کے لیے حکم کی حیثیت سے نازل ہوا ہے اور اُس نے اپنی بات اِس قطعیت کے ساتھ پہنچا دی ہے کہ اُس کی بنیاد پر روزقیامت انسان مسؤل ہوں گے اور اُن کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قرآن کا یہ ارشاد اُس فطری یقین پر مبنی ہے جو انسان کو نطق و بیان کی صلاحیت اور اُس کے ذریعے سے ابلاغ کی قطعیت پر ہمیشہ سے رہا ہے۔ ائمہ فقہ و حدیث ایک مسلمہ قاعدے کی حیثیت سے بیان کرتے ہیں کہ ’ماثبت بالکتاب قطعی موجب للعلم والعمل‘۔ فلسفے کے زیغ و ضلال سے متاثر متکلمین، البتہ نہیں مانتے۔ اُن کا اصرار ہے کہ الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر ظنی ہوتی ہے، اِس لیے قرآن کے الفاظ نہیں، بلکہ عقلی براہین حق و باطل کے لیے کسوٹی ہیں۳؂ ۔یہ بھی، اگر غور کیجیے تو صریح مکابرت ہے،اِس لیے کہ وہ جس وقت یہ کہتے ہیں، عین اُسی وقت اپنا یہ نقطۂ نظر اُنھی الفاظ کے ذریعے سے بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اُنھیں ادنیٰ تردد بھی نہیں ہوتا کہ اُن کی بات اُن کے مخاطبین تک پوری قطعیت کے ساتھ نہیں پہنچے گی۔ پھر یہی نہیں، دوسروں کو سنتے اور اُن کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھتے ہوئے بھی اُنھیں اِس طرح کا کوئی تردد کبھی لاحق نہیں ہوتا۔ بحث و مباحثہ کی نوبت آجائے تو اُن کا ایک ایک لفظ اِس کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ نفس انسانی پر نفس انسانی کی شہادت ہے جس سے بڑی کوئی شہادت نہیں ہو سکتی: ’بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ، وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘۔۴؂
ابن قیم لکھتے ہیں:
من ادعی انہ لا طریق لنا الی الیقین بمراد المتکلم، لان العلم بمرادہ موقوف علی العلم بانتفاء عشرۃ اشیاء فھو ملبوس علیہ ملبس علی الناس؛ فان ھذا لوصح لم یحصل لاحد العلم بکلام المتکلم قط، وبطلت فائدۃ التخاطب، وانتفت خاصیۃ الانسان، وصار الناس کالبہائم، بل اسوأ حالاً، ولما علم غرض ھذا المصنف من تصنیفہ، وھٰذا باطل بضرورۃ الحس والعقل، وبطلانہ من اکثر من ثلاثین وجھًا مذکورۃ فی غیر ھذا الموضع.(اعلام الموقعین۳/ ۱۰۹)
’’جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے لیے پورے یقین کے ساتھ متکلم کے منشا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، اور اُس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اُس کے منشا کا علم اِس چیز پر موقوف ہے کہ پہلے دس چیزوں کی نفی کی جائے،؂ ۵ وہ خود بھی الجھاؤ میں ہیں اور دوسروں کو بھی الجھاؤ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِس لیے کہ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو متکلم کے کلام کا علم کبھی حاصل نہ ہوتا، مخاطبت بے معنی ہو جاتی، بلکہ انسان اپنے انسان ہونے کی خاصیت کھو بیٹھتا اور لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتے۔ یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اِس مصنف کا مقصد کیا ہے جو یہ اپنی تصنیف سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ عقل اور حس، دونوں کا فیصلہ ہے کہ یہ دعویٰ بالضرور باطل ہے۔ اِس کے ابطال کے تیس سے زیادہ وجوہ ہیں جو دوسری جگہ مذکور ہیں۔‘‘ 
———————-
۱؂ ‘Cogito ergo sum’ ۔دیکارت کی یہ کوشش بھی فیصلہ کن نہیں ہو سکی، اِس لیے کہ اِس میں بھی فطرت انسانی کے اندر بدیہیات کی اصل اور اساس کو بناے استدلال نہیں بنایا گیا۔ چنانچہ ژاک دریدا(Jaques Derrida) سب سے پہلے وجود کی مابعد الطبیعیاتی حیثیت پر قائم اِسی روایت کو ہدف تنقید بناتا اور اِس بات پر اصرار کرتا ہے کہ خود ’میرا وجود‘ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا،اِس لیے کہ اُس کے بھی کوئی قطعی معنی نہیں ہیں۔
۲؂ س نقطۂ نظر کے حاملین اِس بات پر غور نہیں کرتے کہ اُن کا یہ استدلال بجاے خود نظر و استدلال کی صحت پر اُن کے یقین کا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یقین کا ابطال بھی اُس سے بالاتر کسی دوسرے یقین کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انسان کا اضطرار ہے۔ چنانچہ ابطال کی ہر کوشش کا نتیجہ احقاق ہوتا ہے، لیکن انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ شدت جذبات میں گریز کرکے گزر جاتا ہے۔شخصی آزادی اور انفرادیت جس کے لیے یہ حضرات مرے جاتے ہیں، وہ بھی ایک قدرہے اور تمام اقدار کی نفی پر اصرار سے بھی اِس کے سوا کچھ مقصود نہیں کہ اُس سے پھر ایک قدر کا اثبات کیا جائے۔ گویا وہی صورت حال ہے کہ نہ جاے ماندن نہ پاے رفتن۔
۳؂  دور مابعدجدیدیت کے مفکرین یقین کی یہ بنیاد بھی انسان سے چھین لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اِس کے بعد بے معنویت اور اتھاہ بے یقینی کے سوا انسان کے پاس کیا باقی رہ جائے گا اور اُس کے آلام اِس کے نتیجے میں کہاں پہنچیں گے، اِس کا کسی کو اندازہ نہیں ہے۔
۴؂ القیامہ۷۵:۱۴۔۱۵۔’’انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے۔‘‘
۵؂  یعنی اشتراک، مجاز، نقل، اجمال، تخصیص اور معارض عقلی وغیرہ۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے: شرح المواقف، الجرجانی ۲/ ۵۱۔

    بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2011
    مصنف : جاوید احمد غامدی