یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا ایک تجربہ اور مخلصانہ مشورہ - مولانا سید ابوالحسن علی ندوی
قرآن مجید سے ذاتی اور قوی تعلق، ربط و مناسبت اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ اور اس کے ذریعہ سے ترقی اور قرب الٰہی حاصل کرنے کے سلسلہ میں ایک تجربہ اور مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ :
![]() |
| قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا ایک تجربہ اورمخلصانہ مشورہ ۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ |
جہاں تک ہو سکے کلام اللہ سے براہ راست اشتغال اور متن قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے، اس سے لذت و ذوق حاصل کیا جائے اور اس کے معانی و مضامین میں تدبر سے کام لیا جائے۔
اگر بقدر ضرورت عربی زبان کی استعداد اور اس کے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے تو براہ راست ۔
ورنہ کسی معتبر ترجمہ اور مختصر حاشیہ کے ذریعہ حتی الامکان انسانی تفہیم و تشریح کی مدد پر انحصار اور تفسیروں کی بار بار مراجعت کے بغیر قرآن مجید کی تلاوت ،اس کے سمجھنے اور اس کا لطف لینے کی کوشش کی جائے ۔
اور ایک عرصہ تک اسی پر اکتفا کیا جائے، اور توفیق خداوندی اور اعانت الٰہی سے جو کچھ میسر آئے اس پر ہزار زبان سے شکر کیا جائے۔۔
اس میں سوائے اضطراری موقعوں کے کہ کسی لفظ کی تحقیق، کسی شبہ کے ازالہ اور کسی سبب نزول کی واقفیت کے بغیر کام نہ چلتا ہو، کتب تفسیر ( عربی و اردو) کی تفصیلی بحثوں، مفسرین و مصنفین کی دقیقہ سنجیوں اور نکتہ آفرینیوں سے پرہیز کیا جائے۔
کہ بعض اوقات قرآن مجید کے چشمہ صافی پر انسانی عقول و علوم کا ایسا ہی سایہ پڑ جاتا ہے جیسا کہ کسی صاف شفاف چشمہ پر کنارے کے درختوں کے گھنے سایہ کا، اور پھر اس میں وہ لطافت و اصلیت اور کلام الٰہی کی حلاوت و لذت باقی نہیں رہتی جو اس کی اصل جان ہے۔
بلکہ بعض اوقات یہ تجربہ ہوا ہے کہ پڑھنے والا کسی لائق و ذہین انسان کی تفہیم سے (جس سے وہ پہلے سے متاثر تھا) اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو جاتا ہے جتنا کہ اصل کلام سے اس کو متاثر ہونا چاہیے۔
اور اس کے ذہن کے روزن سے یہ بات اس کے شعور میں داخل ہو جاتی ہے کہ اس کلام کی عظمت و جلال اور اس کا حسن و جمال شاید اس تفہیم کے بغیر سامنے نہ آتا اور کم سے کم یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ انسان کلام الٰہی کو اس کے کسی خاص مفسر یا شارح یا ترجمان کی عینک ہی سے دیکھنے کا عادی بن جاتا ہے۔
-----------
مولانا ابوالحسن علی ندوی، مطالعہ قرآن کے اصول و مبادی ص 192، 193
علوم القرآن اور علم القرات پر ڈاکٹر محمد سالم محيسن کی اہم عربی کتب
اولا : تفسير فتح الرحمن الرحيم فى تفسير القرآن الكريم وهو اول تفسير يشتمل على جميع القراءات القرآنيه المتواتره
التى ثبتت فى العرضة الاخيره مع القاء الضوء على توجيهها ونسبة كل قراءه الى قارئها وهو ستة اجزاء
هذا هو الرابط للجزء الاول والثانى من التفسير
اول تفسير للقرآن يشتمل على جميع القراءات القرآنيه المتواتره
ثانيآ : تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
هذا هو الرابط للجزء الاول
تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
ثالثآ : فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن
هذا هو الربط
فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن كتاب تاليف الدكتور محمد سالم محيسن
رابعآ : تاريخ القرآن الكريم
تاريخ القرآن الكريم كتاب للدكتور محمد محيسن
خامسآ : ديوان خطب الجمعه
ديوان خطب الجمعه كتاب للدكتور محيسن
سادسآ : روائع البيان فى اعجاز القرآن
التى ثبتت فى العرضة الاخيره مع القاء الضوء على توجيهها ونسبة كل قراءه الى قارئها وهو ستة اجزاء
هذا هو الرابط للجزء الاول والثانى من التفسير
اول تفسير للقرآن يشتمل على جميع القراءات القرآنيه المتواتره
ثانيآ : تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
هذا هو الرابط للجزء الاول
تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
ثالثآ : فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن
هذا هو الربط
فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن كتاب تاليف الدكتور محمد سالم محيسن
رابعآ : تاريخ القرآن الكريم
تاريخ القرآن الكريم كتاب للدكتور محمد محيسن
خامسآ : ديوان خطب الجمعه
ديوان خطب الجمعه كتاب للدكتور محيسن
سادسآ : روائع البيان فى اعجاز القرآن
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)

