ڈاکٹر کوثرمحمود
ہمارے اُردو دان طبقے کو لفظ بائبل ذرا نامانوس لگے گا ۔ ہم نے قرآن سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں تورات، زبور اور انجیل کا نام سُن رکھا ہے لیکن ان پر فرداً فرداً بات کرنے سے پہلے یہ سُن لیجئے کہ حدیث میں وارد ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے جن میں 315صاحبِ کتاب تھے۔ آدم ؑ کے دس صحیفوں کا ذکر ملتا ہے لیکن اب وہ ناپید ہیں ۔ قدیم ترین صحائف میں حضرت ادریس ؑ (ا خنوخ یا انوخ) کا صحیفہ بحرِ مردار کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حال ہی میں انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔
علاوہ ازیں آتش پرستوں کے ہاں قدیم مذہبی کتاب؛ زردشت کی ’’اوستا‘‘ پائی جاتی ہے جو ژند زبان میں لکھی گئی پھر جب ژند زبان متروک ہو گئی تو اس کا خلاصہ اور شرح ’’ پاژند‘‘ نامی زبان میں لکھا گیا اور اب اس کا بھی صرف دسواں حصہ محفوظ ہے۔
ہندوستان میں بھی کچھ مذہبی کتابیں مثلاً وید ، پران ، اپنثد اور دوسری کتابیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہندو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں سال پرانی ہیں لیکن علمائے مستشرقین نے ان کی قدامت کو 1500سے1200 قبل مسیح کے لگ بھگ مانا ہے۔ ’سر ایڈورڈ کا لبروک ‘نے اسے1400قبل مسیح کی تصنیف مانا ہے۔ *۱
عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تورات ،زبور اورانجیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جو بائبل ملتی ہے یہ ایک کتاب نہیں بلکہ تین زبانوں عبرانی، آرامی اور یونانی کی بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ آج تک دُنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اب تک اس کے531 زبانوں میں مکمل تراجم ہو چکے ہیں تین ہزار کے لگ بھگ اِس کے جزوی تراجم موجود ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں ،
1۔۔۔عہد نامۂ عتیق ( یا عہدنامۂ قدیم)
2۔۔۔ عہد نامہ جدید
عہد نامۂ عتیق میں حضرت موسی ؑ سے منسوب پانچ کتابیں ہیں جن میں ایک نام تورہ (Torah) بمعنی قانون ہے جسے ہم تورات کے نام سے جانتے ہیں یہ اُن احکامات کا مجموعہ ہے جو موسیٰ ؑ پر الواح کی شکل میں نازل ہوئے تھے۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق داؤد ؑ پر اُترنے والی کتاب کا نام زبور تھا۔ یہ زبور بھی عہدنامۂ عتیق میں ’سام‘ (Psalm) نامی کتاب میں ’’ خدا کی حمد و ثنا کی نظمیں‘‘ کے نام سے موجود ہے۔
