بائبل کے ترجمے کی کہانی


ڈاکٹر کوثرمحمود

ہمارے اُردو دان طبقے کو لفظ بائبل ذرا نامانوس لگے گا ۔ ہم نے قرآن سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں تورات، زبور اور انجیل کا نام سُن رکھا ہے لیکن ان پر فرداً فرداً بات کرنے سے پہلے یہ سُن لیجئے کہ حدیث میں وارد ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے جن میں 315صاحبِ کتاب تھے۔ آدم ؑ کے دس صحیفوں کا ذکر ملتا ہے لیکن اب وہ ناپید ہیں ۔ قدیم ترین صحائف میں حضرت ادریس ؑ (ا خنوخ یا انوخ) کا صحیفہ بحرِ مردار کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حال ہی میں انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔

علاوہ ازیں آتش پرستوں کے ہاں قدیم مذہبی کتاب؛ زردشت کی ’’اوستا‘‘ پائی جاتی ہے جو ژند زبان میں لکھی گئی پھر جب ژند زبان متروک ہو گئی تو اس کا خلاصہ اور شرح ’’ پاژند‘‘ نامی زبان میں لکھا گیا اور اب اس کا بھی صرف دسواں حصہ محفوظ ہے۔

ہندوستان میں بھی کچھ مذہبی کتابیں مثلاً وید ، پران ، اپنثد اور دوسری کتابیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہندو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں سال پرانی ہیں لیکن علمائے مستشرقین نے ان کی قدامت کو 1500سے1200 قبل مسیح کے لگ بھگ مانا ہے۔ ’سر ایڈورڈ کا لبروک ‘نے اسے1400قبل مسیح کی تصنیف مانا ہے۔ *۱

عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تورات ،زبور اورانجیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جو بائبل ملتی ہے یہ ایک کتاب نہیں بلکہ تین زبانوں عبرانی، آرامی اور یونانی کی بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ آج تک دُنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اب تک اس کے531 زبانوں میں مکمل تراجم ہو چکے ہیں تین ہزار کے لگ بھگ اِس کے جزوی تراجم موجود ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں ،

1۔۔۔عہد نامۂ عتیق ( یا عہدنامۂ قدیم)
2۔۔۔ عہد نامہ جدید

عہد نامۂ عتیق میں حضرت موسی ؑ سے منسوب پانچ کتابیں ہیں جن میں ایک نام تورہ (Torah) بمعنی قانون ہے جسے ہم تورات کے نام سے جانتے ہیں یہ اُن احکامات کا مجموعہ ہے جو موسیٰ ؑ پر الواح کی شکل میں نازل ہوئے تھے۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق داؤد ؑ پر اُترنے والی کتاب کا نام زبور تھا۔ یہ زبور بھی عہدنامۂ عتیق میں ’سام‘ (Psalm) نامی کتاب میں ’’ خدا کی حمد و ثنا کی نظمیں‘‘ کے نام سے موجود ہے۔

کیا قرآن کریم کا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

اجمل کمال

کیا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب کی ایک معنویت تو وہ ہے جو ادبی تحریروں پر صادق آ سکتی ہے؟ ۔ چنانچہ جب غیرعربی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کی نوبت آئی تو اس سے متعلق کئی سوالات پر اختلاف رائے پیدا ہوا۔ ان بحثوں میں تین سوالات زیادہ اہم تھے:

۱) کیا قرآن کا کسی غیرعربی زبان میں ترجمہ ممکن ہے؟
۲) کیا قرآن کا ترجمہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
۳) کیا کوئی غیرعربی ترجمہ قرآن کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

روٹلج انسائیکلو پیڈیا آف ٹرانسلیشن اسٹڈیز ۱۹۹۸ء میں قرآن کے ترجمے کے موضوع پر حسن مصطفی کا لکھا ہوا مضمون شامل ہے جس سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:2

(۱) قرآن کے ترجمے کے جواز کے مسئلے کو اس کے قابلِ ترجمہ ہونے کے نسبتاًعمومی سوال سے علیحدہ کرنا دشوار ہے۔ جو لوگ قرآن کے قطعی ناقابل ترجمہ ہونے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی واضح حمایت سورۂ یوسف کی آیت 2سے حاصل کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے:

“We have sent it down/as an Arabic Qur’an”

آج بھی ایک طاقتور اور بااثر مکتب فکر ایسا موجود ہے جس کی رائے ہے کہ قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جتنے بھی ’ترجمے‘ موجود ہیں وہ سب ناجائز ہیں۔ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن کا ترجمہ کرنا ہی ہو تو مترجم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ …تاہم قرآن کے ترجمے کے ناجائز ہونے کے عقیدے کے مخالفین بھی ہمیشہ موجود رہے ہیں، یہاں تک کہ اسلام کے قرون اولیٰ میں بھی موجود تھے۔ عراق سے تعلق رکھنے والے محقق اور عالم دین امام ابوحنیفہ (c.700-67) مانتے تھے کہ قرآن کی تمام آیات کاکسی غیرزبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے لیکن ’’اس ترجمے کو ایک جلد میں اس طرح شائع کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مقابل اصل عربی آیات درج نہ ہوں‘‘۔

مختصر تاریخ اردو ترجمۂ قرآن

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

بارہویں صدی ہجری میں اردو زبان برصغیر پاک وہند میں نہ صرف ادبی زبان بن کر اُبھر رہی تھی بلکہ کثیر تصنیفات و تالیفات اور تراجم کے باعث ایک عام فہم زبان بھی بنتی جارہی تھی ۔ اگرچہ دکن کی اسلامی ریاستوں میں عرصۂ دراز سے اردو زبان میں عقائد تصوف و اخلاقیات اور فقہی کتابوں کے تراجم ہورہے تھے مگر اردو ترجمۂ قرآن کا آغاز ابھی نہ ہوا تھا۔ شاید اردو کی نشوونما کی ابتداء میں چونکہ ذخیرہئ الفاظ محدود تھا اس لئے ترجمۂ قرآن کی طرف علماء نے قدم نہ اٹھایا۔ دوسری طرف بر صغیر سے عربی زبان کے بعد فارسی زبان بھی تیزی کے ساتھ رخصت ہونے لگی تو عوام تو عوام، خواص کے لئے بھی اب ترجمہ قرآن اردو زبان میںضروری سمجھا جانے لگا چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م1176ھ)جو خود فارسی ترجمہ قرآن کے برصغیرمیں اولین مترجم میں شمار ہوتے ہیں ان کے دو صاحبزادں کو اردو زبان کے ترجمہ قرآن کے اولین مترجم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

شاہ محمد رفیع الدین دہلوی (م 1233ھ/1817ء) نے اردو زبان کا پہلا مکمل لفظی ترجمہ قرآن 1200ھ میں مکمل کیا جب کہ آپ کے چھوٹے بھائی شاہ محمد عبدالقادر دہلوی (م 1230ھ/1814ء) نے اردو زبان کی تاریخ کا پہلا مکمل بامحاورہ ترجمہ قرآن 1205 ھ /1790ء میں مکمل کیا ۔ یہ دونوں تراجم قرآن تیرھویں صدی ہجری ہی میں شائع ہونا شروع ہوگئے جس کے باعث ان کو اولیت کے ساتھ ساتھ پذیرائی بھی حاصل ہوئی اگرچہ تاریخ میں ان دونوں اردو تراجم قرآن سے قبل کے بھی تراجم پائے جاتے ہیں لیکن یاتو وہ مکمل ترجمہ قرآن نہیں تھے یا مخطوطہ ضائع ہوگئے اس لحاظ سے ان دونوں بھائیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ایک لفظی ترجمہ قرآن کا بانی ہے تو دوسرا با محاورہ ترجمہ قرآن کا حامل ۔

شاہ برادران کے بعد فورٹ ولیم کالج ( قائم شدہ 1214ھ/ 1800ء) نے پہلے انجیل کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا اور پھر 5 مولوی حضرات نے مل کر اردو میں ترجمہ قرآن (1219 ھ /1804ء) میں مکمل کیا ۔

 تیرھویں صدی ہجری میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 25 ترجمہ قرآن اردو زبان میں کئے گئے مگر کسی کو بھی شاہ برادران کی طرح پذیرائی حاصل نہ ہو سکی البتہ سرسید احمدخاں کی تفسیر اور ترجمہ 15 پاروں تک شائع ہو ا تھا اور علی گڑھ کے ہم خیال لوگوں کے درمیان اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔

اصول ترجمہ قرآن کریم

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری


قرآن مجیدکی تعلیمات زمانی و مکانی قیود سے ماورا بنی نوع انسان کی ہدایت پر مبنی ہیں اس اعتبار سے اس کی تعلیمات دنیا کی دیگر زبانوں تک پہنچنا ہی اس کا اصل ھدف ہے کہ اسی کیفیت میں اس کے نزول کا مقصد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے لہذا قرآن مجید کی ترجمانی یا ترجمہ دیگر زبانوں میں کرنا اس کے کچھ آداب اور معین کیفیات ہیں جن کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور اگر ان امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو قرآن مجید کی ترجمہ کما حقہ ناممکن ہے یا اس کا آفاقی پیغام اپنی اصل روح کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے لفظ قرآن ، تفسیر اور ترجمہ کے معانی و مفاہیم ذکر کردیے جائیں تاکہ اصل مطلب کے فہم اور تفہیم میں آسانی رہے۔
قرآن : عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)

"بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو"

پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔

تفسیر: عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے "واضح کرنا اور بیان کرنا" اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے: وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا(الفرقان 25/ 33)
"اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے"

اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔
جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔

علم قراء ت: اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔

علم رسم عثمانی: اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔
علم کلام: اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔
علم صرف: اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔
علم نحو: اس میں کلمات کے معرب و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔
علم معانی: اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔
علم بیان: اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔
علم بدیع: اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔

وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:

علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے: (1) لغت (2) صرف (3) نحو (4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید (7) قصص (8) ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی (10) اسباب نزول کی معرفت (11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث ،  وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔

ترجمہ و تفسیر قرآن کے لئے شرائط

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

قرآن مجیدفرقان حمید دنیا میں واحد کتاب ہے جس کو مسلسل 1400سال سے شائع کیاجارہا ہے ، اور کسی زمانے میں اس کی اشاعت کے وقت اس کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکی یہاں تک کہ زیرزبر پیش میں بھی کبھی مسلمانوں میں (معاذاللہ) تنازعہ نہ ہوسکا اور نہ ہوسکے گا کیو نکہ جب سے یہ نازل ہوئی ہے اس کو عربی زبان میں حفظ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسی لئے اس میں کبھی بھی کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہے یہاں راقم صرف ایک حوالہ انسائیکلو پیڈیا سے دینا چاہے گا جس سے دنیا کے سامنے یہ بتایاجا سکے کہ مسلمان ایک ایسی کتاب کے پیروکار ہیں جس پر تمام مسلمان ١٤٠٠ سال سے متفق ہیں اور تاقیامت متفق رہیں گے۔ اور یہ گواہی بھی ایک عیسائی مصنف کی ہے۔

Yet There is no doubt that the Koran of today is substantially same as it came from Prophet (Muhammad Sallallaho Aalaihe Wasallam) (The Webster Family Encyclopedia V.10 p. 237, 1984(

قرآن کریم کا نزول مکہ کی وادی سے شروع ہوا جہاں تمام مقامی لوگ عرب تھے اور عربی زبان بولتے تھے اور قرآن کریم کے نزول کا اختتام مدینہ پاک کی وادی میں ہوا جہاں انصار بھی عربی ہی بولتے تھے۔ اللہ پاک نے اپنے کلام کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا تاکہ پہلے پہل عمل کرنے والے اس کو اچھی طرح سمجھ کر عمل کرسکیں تاکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ماڈل بن جائیں اور پھر عجمی لوگ عملی قرآن ان صحابہ کرام کے عمل سے سیکھ سکیں اور یوں یہ سلسلہ جاری رہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اِنَّآ اَنزَلْنٰہُ قُرئٰنًا عَرَ بِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ O (الیوسف:10)
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو ۔

مخطوطہ قرآن ، برمنگھم یونیورسٹی

 مخطوطہ برمنگھم , قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق  ہے
 برطانیہ کی برمنگھم  یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود قرآن کریم کا دو ورقی نسخہ جو سن 2015ء میں برمنگھم کتب خانے سے دریافت ہوا۔[1][2] جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم ترین نسخہ ہے، جامعہ کے مطابق ریڈیو کاربن تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ مخطوطہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مخطوطہ جامعہ برمنگھم کے کتب خانے میں مشرق وسطیٰ کی دیگر کتابوں اور دستاویزات کے ساتھ ایک صدی سے موجود تھا۔ جامعہ آکسفرڈ کے ریڈیو کاربن ایکسلیریٹر یونٹ میں کیے گئے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا ہے، نیز اس تجزیے کے مطابق یہ سنہ 568ء اور سنہ 645ء کے درمیان کا نسخہ ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کے مسیحیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس کے بقول:

اس تاریخ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے چند سال بعد کا نسخہ ہے۔ اور اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ جس نے بھی یہ لکھا وہ شخص پیغمبر اسلام کے وقت زندہ تھا۔ جس نے یہ لکھا ہے ممکن ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے قریب تھے۔ ممکنہ طور پر انھوں نے پیغمبر کو دیکھا ہو گا اور ان کو تبلیغ کرتے ہوئے سنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ اور یہ ایک اہم بات ہے۔ قرآن کو کتاب کی صورت میں 650 میں مکمل کیا گیا۔ یہ اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا جو حصہ اس چمڑے پر لکھا گیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے گزر جانے کے دو دہائیوں کے بعد کا ہے۔

قرآن سے مطابقت

ڈاکٹر محمد بن شمس الدین کا کہنا ہے کہ مخطوطہ برمنگھم موجودہ مصحف کے مطابق ہے، نیز ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تقابلی مطالعہ میں رائج مصحف کو اصل بنیاد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ نسخہ ہم تک تواتر سے پہونچا ہے۔ جبکہ مخطوطات میں اغلاط کا احتمال ہوتا ہے کیونکہ مخطوطہ نویس کا علم ہوتا ہے، نہ اس کے مذہب و تدین اور حالات زندگی کا؛ تاہم مخطوطہ برمنگھم قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق ہونے کی بنا پر درست ہے۔[3]

====================
حوالہ جات
 1- "Birmingham Qur'an manuscript dated among the oldest in the world"۔ جامعہ برمنگھم۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
2-  "'Oldest' Koran fragments found in Birmingham University"۔ بی بی سی۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
3-  "شیخ محمد بن شمس الدین کی ویب سائٹ"۔ فتوى.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2015۔

سامری اور بچھڑے کی حقیقت

ارشاد باری تعالی : 

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ 95؀  قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِيْ 96؀ (سورۃ طہ )

ترجمہ : " موسیٰ نے کہا کہ اے سامری، تمھارا کیا معاملہ ہے۔  اس نے کہا کہ مجھ کو وہ چیز نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی۔ میرے نفس نے مجھ کو ایسا ہی سمجھایا۔" 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید ابوالاعلی مودودیؒ نے کی تفسیر میں لکھا ہے کہ " اس آیت کی تفسیر میں دو گروہوں کی طرف سے عجیب کھینچ تان کی گئی ہے۔ 

ایک گروہ جس میں قدیم طرز کے مفسرین کی بڑی اکثریت شامل ہے، اس کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ " سامری نے رسول یعنی حضرت جبریل کو گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور ان کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی، اور یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔ " حالانکہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا ہے فی الواقع ایسا ہوا تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ کی باز پرس کے جواب میں سامری نے یہ بات بنائی۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مفسرین اس کو ایک امر واقعی، اور قرآن کی بیان کردہ حقیقت کیسے سمجھ بیٹھے۔ 

دوسرا گروہ سامری کے قول کو ایک اور ہی معنی پہناتا ہے۔ اس کی تاویل کے مطابق سامری نے دراصل یہ کہا تھا کہ " مجھے رسول، یعنی حضرت موسیٰ میں، یا ان کے دین میں وہ کمزوری نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہ آئی۔ اس لیے میں نے ایک حد تک تو اس کے نقش قدم کی پیروی کی، مگر بعد میں اسے چھوڑ دیا "۔ یہ تاویل غالباً سب سے پہلے ابو مسلم اصفہانی کو سوجھی تھی، پھر امام رازی نے اس کو اپنی تفسیر میں نقل کر کے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا، اور اب طرز جدید کے مفسرین بالعموم اسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن یہ حضرات اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ قرآن معموں اور پہیلیوں کی زبان میں نازل نہیں ہوا ہے بلکہ صاف اور عام فہم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کو ایک عام عرب اپنی زبان کے معروف محاورے کے مطابق سمجھ سکے۔ کوئی شخص جو عربی زبان کے معروف محاورے اور روز مرہ سے واقف ہو، کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ سامری کے اس مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لیے عربی مبین میں وہ الفاظ استعمال کیے جائیں گے جو آیت زیر تفسیر میں پائے جاتے ہیں۔ نہ ایک عام عرب ان الفاظ کو سن کر کبھی وہ مطلب لے سکتا ہے جو یہ حضرات بیان کر رہے ہیں۔ لغت کی کتابوں میں سے کسی لفظ کے وہ مختلف مفہومات تلاش کرلینا جو مختلف محاوروں میں اس سے مراد لیے جاتے ہوں۔ اور ان میں سے کسی مفہوم کو لا کر ایک ایسی عبارت میں چسپاں کر دینا جہاں ایک عام عرب اس لفظ کو ہرگز اس مفہوم میں استعمال نہ کرے گا۔ زباں دانی تو نہیں ہو سکتا، البتہ سخن سازی کا کرتب ضرور مانا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے کرتب فرہنگ آصفیہ ہاتھ میں لے کر اگر کوئی شخص خود ان حضرات کی اردو تحریروں میں، یا آکسفورڈ ڈکشنری لے کر ان کی انگریزی تحریروں میں دکھانے شروع کر دے، تو شاید اپنے کلام کی دو چار ہی تاویلیں سن کر یہ حضرات چیخ اٹھیں۔ بالعموم قرآن میں ایسی تاویلیں اس وقت کی جاتی ہیں جبکہ ایک شخص کسی آیت کے صاف اور سیدھے مطلب کو دیکھ کر اپنی دانست میں یہ سمجھتا ہے کہ یہاں تو اللہ میاں سے بڑی بےاحتیاطی ہوگئی، لاؤ میں ان کی بات اس طرح بنا دوں کہ ان کی غلطی کا پردہ ڈھک جائے اور لوگوں کو ان پر ہنسنے کا موقع نہ ملے۔ 

ابراہیم ؑ ، ذریت نوح ؑ نہیں : قرآن کا ایک انکشاف

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق 

 تاریخ اشاعت ، ستمبر 2018


بائیبل کے مطابق طوفانِ نوح کے بعد کشتی میں سوار جانوروں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات مرگئی تھیں۔ گویا طوفانِ نوح عالم گیر طوفان تھا،جس نے زمین کے ہر گوشے سے زندگی کا خاتمہ کردیا تھا۔۱؂ اسی طرح بائیبل یہ بتاتی ہے کہ طوفانِ نوح کے وقت کشتی میں صرف نوح علیہ السلام کے بہو بیٹے ہی سوار تھے، کوئی اور نہ تھا۔ کتاب پیدائش میں لکھا ہے:
’’طوفانی سیلاب سے بچنے کے لیے نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔‘‘ (۷: ۷)


اسی ساتویں باب ہی میں لکھا ہے:
’’چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا، پانی چڑھا تو اس نے کشتی کو زمین سے اٹھا لیا۔ پانی زور پکڑ کر بہت بڑھ گیا، اور کشتی اس پر تیرنے لگی آخر کار پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ تمام اونچے پہاڑ بھی اس میں چھپ گئے۔بلکہ سب سے اونچی چوٹی پر پانی کی گہرائی بیس فٹ تھی۔ زمین پر رہنے والی ہر مخلوق ہلاک ہوئی۔ پرندے، مویشی، جنگلی جانور، تمام جان دار جن سے زمین بھری ہوئی تھی اور انسان، سب کچھ مرگیا۔ زمین پر ہر جان دار مخلوق ہلاک ہوئی۲؂۔ یوں ہر مخلوق کو روے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے والے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کردیا گیا ۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اس کے ساتھی بچ گئے۔ سیلاب ڈیڑھ سو دن تک زمین پر غالب رہا۔‘‘ (۱۷۔۲۴) 


کتاب پیدائش ہی کے آٹھویں باب میں لکھا ہے:
’’پھر اللہ نے نوح سے کہا: اپنی بیوی، بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ کشتی سے نکل آ۔ جتنے بھی جانور ساتھ ہیں، انھیں نکال دے، خواہ پرندے ہوں، خواہ زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور۔ وہ دنیا میں پھیل جائیں، نسل بڑھائیں اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔چنانچہ نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں سمیت نکل آیا۔ تمام جانور اور پرندے بھی اپنی اپنی قسم کے گروہوں میں کشتی سے نکلے۔‘‘(۱۵۔۱۹)

جنت اسی زمین پر ہوگی ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ " زمین پھیلا دی جائے گی "۔ سورۃ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ، " سمندر پھاڑ دیے جائیں گے " جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا سورۃ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ، " سمندر بھردیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے "۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جائے گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کی طرح بنا دیا جائے گا۔ یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۃ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔ " وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی۔ " اور یہی زمین کی وہ شکل ہوگی جس پر حشر قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرمائے گا۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنادی جائے گی جس کو سورۃ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُوا لْحَمْدُ لِلِہ الَّذِیْ صَدَقَٓنَا وَعْدَہ وَ اَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآءُ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ " کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے "۔ 

 اس سے معلوم ہوا کہ آخر کار یہ پورا کرہ جنت بنا دیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے۔ اس وقت پوری زمین ایک ملک ہوگی۔ پہاڑ، سمندر، دریا، صحرا، جو آج زمین کو بےشمار ملوں اور وطنوں میں تقسیم کر رہے ہیں، اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے۔

 (واضح رہے کہ صحابہ و تابعین میں سے ابن عباس (رض) اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہوگی، اور سورۃ نجم کی آیت عِنْد سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ہ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمأویٰ، کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں )

----------------------

تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ، سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :83

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ،  ايَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ  ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ  ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ  (سورۃ البقرۃ :  ١٨٤)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں﴿پھر نہ رکھیں﴾ تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے ، تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔ 

--------------------------------

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا آدمی کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو صحابہ (رض) سفر میں جایا کرتے تھے، ان میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہ رکھتا تھا اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہ کرتا تھا۔ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کبھی سفر میں روزہ رکھا ہے اور کبھی نہیں رکھا ہے۔ ایک سفر کے موقع پر ایک شخص بد حال ہو کر گر گیا اور اس کے گرد لوگ جمع ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حال دیکھ کر دریافت فرمایا : کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا روزے سے ہے۔ فرمایا : یہ نیکی نہیں ہے۔ جنگ کے موقع پر تو آپ حکماً روزے سے روک دیا کرتے تھے تاکہ دشمن سے لڑنے میں کمزوری لاحق نہ ہو۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو مرتبہ رمضان میں جنگ پر گئے۔ پہلی مرتبہ جنگ بدر میں اور آخری مرتبہ فتح مکہ کے موقی پر، اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے چھوڑ دیے۔ ابن عمر (رض) کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضُور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا تھا کہ انہ یوم قتال فافطروا۔ دوسری روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ انکم قدد نوتم من عدوکم فافطروا اقوی لکم۔ یعنی دشمن سے مقابلہ درپیش ہے، روزے چھوڑ دو تاکہ تمہیں لڑنے کی قوت حاصل ہو۔