خلفائے راشدین کی خلافت پر قرآن سے استدلال

امام شاہ ولی اللہ ؒ کا خلفائے راشدین کی خلافت پر قرآن سے استدلال 

سید ابوالحسن علی ندوی ؒ 

کتاب(ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء ) کا سب سے وجد انگیز حصہ وہ ہے جس میں شاہ صاحب ؒ نے قرآن مجید کی متعدد آیات سے خلفائے راشدین کی خلافت کے انعقاد اور ان کے خلیفہ راشد ہونے اور ان کے ذریعہ سے منشائے الہٰی کی تکمیل، اور امر تکوینی کے تحقق پر استدلال کیا ہے، اور آیات کے ایسے اشارات بلکہ تصریحات کی طرف توجہ دلائی ہے جن سے بدیہی طور پر ( بلکہ بعض مقامات پر ریاضی کے نتائج کے رنگ میں ) یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کے سوا ان آیات کا کوئی اور مصداق اور مراد نہیں ہو سکتا، اورا ن پیشین گوئیوں کا انطباق ان کی ذات کے سوا کسی پر، اور ان وعدوں کا تحقق ان کے دور خلافت کے سوا کسی دور میں وقوع پذیر نہیں ہوا، اگر ان کی شخصیتوں اور ان کے عہد کو بیچ میں سے نکال لیا جائے تو یہ صفات بغیر کسی مصداق کے اور یہ وعدے نشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں۔

ان آیات میں جو شاہ صاحب رحمہ اللہ نے پیش کی ہیں، ہم بطور نمونہ کے صرف دو آیتیں انتخاب کرتے ہیں، ان میں سے ایک سورہ نور کی آیت ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَ‌ٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿النور:٥٥﴾

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے، (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔

شاہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ (استخلاف و تمکین فی الارض، اور خوف کے بعد امن کا) ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ہے، جو سورہ نور کے نزول کے وقت موجود ، اسلام اور صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف، اور دین کی نصرت و تائید میں شریک تھے، شاہ صاحب رحمہ اللہ صفائی سے لکھتے ہیں کہ اس وعدہ کا اطلاق حضرت معاویہ، بنو امیہ اور بنو عباس پر نہیں ہوتا، جو اس وقت یا تو اسلام نہیں لائے تھے یا مدینہ میں موجود نہیں تھے۔

پھر لکھتے ہیں کہ یہ بات نہ تو ممکن ہے نہ معقول کہ اس پوری جماعت مسلمین کو خلافت فی الارض سے سرفراز کیا جائے اور وہ سب بیک وقت منصب خلافت پر فائز ہوں، اس لئے اس سے کچھ خاص افراد ہی مراد لئے جا سکتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

"لیستخلفنھم یعنی لیستخلفن جمعاً منھم، و "انقیا و لوازم اوست" یعنی ان میں سے ایک جماعت کو خلیفہ بنایا جائیگا، اور انقیاد و طاعت اس کے لئے شرط ہے، پھر یہ کہ جب اس وعدہ کا تحقق ہو گا، تو دین علی اکمل الوجوہ ظہور میں آئیگا، اور اس کو پورا اقتدار اور اختیار حاصل ہو گا، ایسا نہیں، جیسے اثناعشری حضرات کہتے ہیں کہ خدا کو جو دین پسند ہے وہ ہمیشہ مستور و مخفی رہا ہے، اور اسی بناء پر ائمہ اہل بیت نے ہمیشہ تقیہ سے کام لیا، اور ان کو اپنے دین کے کھلم کھلا اعلان کی کبھی قدرت حاصل نہیں ہوئی "ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم" (ان کے لئے اللہ تعالٰی اس دین کو قوت و غلبہ عطا فرمائیگا، جس کو اس نے ان کے لئے پسند کر لیا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ وہ دین خدا کا پسندیدہ اور منتخب دین نہیں جس کا اس زمانہ خلافت میں اعلان و اظہار نہ کیا جا سکے۔ ( ازالۃ الخفا، ص ۱/۲۰۔)
اسی طرح فرماتا ہے "ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا" اس زمانہ استخلاف  میں اللہ تعالیٰ نے خوف و ہراس کی فضا کے بجائے امن و اطمینان کی فضا پیدا کردے گا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستخلفین اور بقیہ مسلمان اس وعدہ کی تکمیل کے وقت امن و اطمینان کے ساتھ ہوں گے، نہ ان کو مختلف الادیان کفار کا کوئی ڈر ہوگا، اور نہ کسی اور جماعت یا طاقت کا اندیشہ برخلاف اس کے فرقہ امامیہ کے لوگ کہتے ہیں کہ آئمہ اہل بیت ہمیشہ ترساں و ہراساں رہے، اُنہوں نے تقیہ سے کام لیا، ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ مسلمانوں سے اذیت اور تکلیف پیش آئی اور وہ اہانت و ذلت کا سامنا کرتے رہے، اور کبھی مؤید و منصور نہیں رہے۔(ازالۃ الخفاء ج ١، ص ٢٠)، استخلاف اور تمکین فی الارض کے وعدہ کا ظہور اُنہیں مہاجرین اولین اور نزول آیت استخلاف کے وقت موجود رہنے والے حضرات کے ذریعہ ہوا، اور اگر یہ لوگ خلیفہ نہیں تھے، تو اس وعدہ کا ظہور ہی نہیں ہوا، اور نہ قیامت تک ہونے والا ہے تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا ( ازالۃ الخفاء ج ١، ص ٣٢) 

دوسری آیت قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ (سورۃ الفتح آیت ١٧) کی ہے، شاہ صاحب نے اس آیت پر مفصل بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٦ھ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس خواب کی بناء پر جو آپ نے دیکھا تھا، عمرہ کے قصد سے مکہ معظمہ کی طرف کوچ فرمایا، واقعہ کی اہمیت مکہ معظمہ کے حالات اور قریش کی مخالفت کے خطرہ کی بناء پر صحابہ کرام بڑی تعداد میں ہمرکاب ہوئے، لیکن اعراب (بادیہ کے ساکنین) خوف و نفاق کی بناء پر ساتھ نہیں ہوئے حدیبیہ میں فسخ عزیمت اور قریش کے ساتھ صلح کا وہ تاریخ ساز واقعہ پیش آیا جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ ملتا ہے، وہیں وہ بیعت رضوان ہوئی، جس میں شریک ہونے والوں کو اللہ تعالٰی نے اپنی خوشنودی کا خاص پروانہ عطا فرمایا، اور قریبی زمانہ کی فتح کا مژدہ سنایا (سورۃ فتح – ۱۸۔)، پھر اسی سورہ فتح میں یہ بھی اعلان فرما دیا کہ اس فتح قریب (فتح خیبر) میں (جو محرم ۷ھ کا واقعہ ہے) ان اعراب کو ساتھ نہیں لیا جائیگا، جو حدیبیہ کے موقعہ پر موجود نہیں تھے، اور جنہوں نے اس عظیم و خطرناک مہم میں رفاقت سے پہلوتہی کی تھی، اللہ تعالٰی فرماتا ہے :

سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَ‌ٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿الفتح:١٥﴾

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہدو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے، پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھے ہی نہیں مگر بہت کم۔
لیکن اس کے بعد ہی ان متخلفین سے فرمایا گیا کہ اس فتح قریب (فتح خیبر) میں  تو تمہیں شركت اور اس كے مغانم سے فائدہ اٹھأنے كی اجازت نہیں ہے، لیكن عنقریب تم كو ایسے لوگوں سے قتال كرنے كے لیے مدعو كیا جائے گا، جن كی ایك صفت تو یہ ہے كہ وہ بڑی شجاعت اور طاقت كے مالك ہیں، دوسرے ان كی خصوصیت ہوگی كہ ان سے یا تو قتال كیا جائے گا یا وہ اسلام لے آئیں گے، درمیان كی كوئی چیز (جزیہ) نہیں ہے، اور یہ دعوتِ قتال اللہ كو ایسی محبوب اور اس كا داعی ایسا معتبر اور واجب اطاعت ہوكا كہ اگر تم اس كی دعوت قبول اور اس كے حكم كی بجا آوری كروگے تو اللہ تعالی تم كو اجر حس سے نوازےگا، اور اگر پہلے كی طرح روگردانی كروگے، تو عذابِ الیم میں مبتلا كرے گا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے۔

قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّـهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا( سورۃ الفتح۔۱۶)
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے كہہ دو كہ تم ایك سخت جنگجو قوم كے (ساتھ لڑائی كے )لیے جاؤ گے ان سے تم (یا تو)جنگ كرتےرہو گے یا وہ اسلام سے لائیں گے اگر تم حكم مانوگے توخا تم كو اچھا بدلہ دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم كو بڑی تكلیف كی سزادے گا۔
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں كہ ’’سَتُد عُوْنَ‘‘ (عنقریب تم بلائے جاؤ گے) سے بطریق اقتضاء ثابت ہوتا ہے كہ زمانہٴ مستقبل میں كوئی ایسا داعی (بُلانے والا) ہوگا جو اعراب

(بادیہ کے رہنے والوں کو جو صلح حُدیبیہ کے موقعہ پر لشکر اسلام کے ساتھ نہیں گئے تھے) کو ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لئے دعوت دے گا، جس کے لئے دو ہی شکلیں ہیں یا قتال، یا اسلام (اور جس کا مصداق عرب کے مرتد قبائل ہی ہو سکتے ہیں، جن سے جزیہ لینا جائز نہ تھا، وہ یا تو جنگ میں مارے جاتے یا اسلام قبول کرتے) اور یہ شکل صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پیش آئی جنھوں نے مرتدّین عرب سے قتال کیا، ان کا حکم شرعی یہی تھا ، اس سے مراد نہ رومی ہو سکتے ہیں، نہ ایرانی ، جن کے لئے تین شکلیں تھیں قتال، اسلام اور جزیہ، اس لئے اس سے بداہتہً حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت ثابت ہوتی ہے، جنھوں نے مرتدّین سے جنگ کرنے کے لئے حضرت خالدؓ کی ماتحتی میں فوج بھیجی اور اعراب کو اس کی دعوت دی، پھر اس دعوت کے قبول کرنے پر اجر کا ملنا اور نہ قبول کرنے پر عذاب کا مستحق ہونا ایک خلیفۂ راشد ہی کا مقام و منصب ہے۔ ۱؎
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ تفصیل کے ملاحظہ ہو ازالۃ الخفا ؃ ۳۹-۳۸ شاہ صاحب کے اس استدلال کی تائید علامہ شہاب الدین محمود الؔالوسی (م١۲۷۰ھ ) کی مشہور تفسیر ’’ روح المعانی ‘‘ سے بھی ہوتی ہے، وہ لکھتے ہیں : ۔

’’ المراد بالمغانم مغانم خیبر کما علیہ عامۃ المفسرین ۔ ‘‘ ۱؎

’’ستدعون الی قوم اولی بأس شدید‘‘ و ھم علی ما اخرج ابن المنذر و الطبرانی عن الزھری بنو حنیفۃ مسیلمۃ و قومہ اھل الیمامہ و عن رافع بن خدیج انا کنا نقرأ ھذہ الایۃ فیما مضی و لا نعلم من ھم حتیٰ دعا ابوبکر رضی اللہ عنہ الی قتال بنی حنیفۃ فعلمنا انھم أرید ا بھا ۔

( ماخوذ از تاریخ دعوت و عزیمت ج 5 ص 263-269، سید ابوالحسن علی ندوی ؒ ) 

نفس لوَّامہ



نفس لوَّامہ   

سید ابوالاعلی مودودی ؒ 

"قرآن مجید میں نفسِ انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفسِ لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے ۔ اس کا نام نفسِ مطمئنہ ہے۔
اس مقام پر(سورہ قیامہ کی آیت : لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾ وَ لَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ ؕ﴿۲﴾ )  اللہ تعالی نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالی انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا اور وہ ا یسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے؟
جہاں تک روزِ قیامت کا تعلق ہے، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ اس کی نوعیت ہی خود یہ بتا رہی ہے کہ یہ نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ انسان کی عقل پہلے لھی اس گمانِ بے ا صل کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہ پاتی تھی کہ یہ ہر آن بدلنے و الی دنیا کبھی قدیم اور غیر فانی بھی ہو سکتی ہے، لیکن جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھنا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ یہ امر خود انسان کے نزدیک بھی یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس ہنگامئہ ہست و بو کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا ، اور لازماً اس کی ایک ا نتہا بھی ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت ہی کی قسم کھائی ہے، اور یہ ایسی قسم ہے جیسے ہم کسی شکی انسان کو جو اپنے موجود ہونے ہی میں شک کر رہا ہو، خطاب کر کے کہیں کہ تمہاری جان کی قسم تم موجود ہو، یعنی تمہارا وجود خود تمہارے موجود ہونے پر شاہد ہے۔
لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد پھر انسان دوباوہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا اور وہ اپنے کیے کا اچھا یا برا نتیجہ دیکھے گا ، تو اس کے لیے دوسری قسم نفسِ لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیزنہ رکھتا ہو۔ اس ضمیر میں لازماً بھلائی اور برائی کا ایک ا حساس پایا جاتا ہے، اور چاہے انسان کتنا ہی بگڑا ہوا ہو، اس کا ضمیر اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے بھلائی اور برائی کا جو معیار بھی قرار دے رکھا ہو وہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے، اس کے اندر فطری طور پر بھلائی اور برائی کی تمیز پائی جاتی ہے، وہ خود اپنے آپ کو ا پنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے، اور جس برائی کا ارتکاب اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو اس پر ا گر وہ اپنے ضمیر کی ملامتوں کو دبا کر خوش بھی ہو لے، تو اس کے برعکس صورت میں جبکہ اسی برائی کا ارتکاب کسی دوسرے نے اس کے ساتھ کیا ہو، اس کا دل اندر سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس زیادتی کا مرتکب ضرور سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔ اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی کے بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے ان کی جزا یہ سزا اس کو ضرور ملتی چاہیے ، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہو سکتا۔ کوئی صاحبِ عقل آدمی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ مرنے کے بعد اگر آدمی معدوم ہو جائے تو اس کی بہت سی بھلائیاں ایسی ہیں جن کے اجر سے وہ لازماً محروم رہ جائے گا۔ اور اس کی بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کی منصفانہ سزا پانے سے وہ ضرور بچ نکلے گا۔ اس لیے جب تک آدمی اس بیہودہ بات کا قائل نہ ہو کہ عقل رکھنے والا انسان ایک غیر معقول نظامِ کائنات میں پیدا ہو گیا ہے اور اخلاقی احساسات رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں جنم لیے بیٹھا ہے جو بنیادی طور پر اپنے پورے نظام میں اخلاق کا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی، اس وقت تک وہ حیات بعدِ موت کا انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح تناسخ یا آواگون کا فلسفہ بھی فطرت کے اس مطالبے کا جواب نہیں ہے۔ کیونکہ اگر انسان اپنے اخلاقی اعمال کی سزا یا جزا پانے کے لیے پھر اسی دنیا میں جنم لیتا چلا جائے تو ہر جنم میں وہ پھر کچھ مزید ا خلاقی اعمال کرتا چلا جائے گا جو نئے سرے سے جزا و سزا کے متقاضی ہوں گے۔ اور اس لامتناہی سلسلے میں بجائے اس کے کہ اس کا حساب کبھی چک سکے، الٹا اس کا حساب بڑھتا ہی چلاجائے گا۔ اس لیے فطرت کا یہ تقاضا صرف اسی صورت میں پورا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی صرف ایک زندگی ہو، اور پھر پوری نوع انسانی کا خاتمہ ہو جانے کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں انسان کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب کر کے اسے پوری جزا اور سزا دی جائے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف حاشیہ 30)۔"

(ماخوذ از تفہیم القرآن ج 6 )

قیامت کا منظر سُوْرَةُ الزِّلْزَال کی روشنی میں

زمانۂ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عطاء، جابر اور مجاہد کہتے ہیں کہ یہ مکی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول اس کی تائید کرتا ہے۔ بخلاف اس کے قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ مدنی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی دوسرا قول اس کے مدنی ہونے کی تائید میں نقل ہوا ہے۔

 اس کے مدنی ہونے پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اُس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے جو ابن ابی حاتم نے ان سے نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثال ذرۃ شرا یرہ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اپنا عمل دیکھنے والا ہوں؟ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں، میں نے عرض کیا "یہ بڑے بڑے گناہ؟" آپ نے جواب دیا "ہاں" میں نے عرض کیا "اور یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی؟" حضور نے فرمایا ہاں۔ اس پر میں نے کہا "پھر تو میں مارا گیا؟" حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا "خوش ہو جاؤ اے ابو سعید، کیونکہ ہر نیکی اپنے جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔" اس حدیث سے اس سورت کے مدنی ہونے پر استدلال کی بنا یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری مدینے کے رہنے والے تھے اور غزوۂ احد کے بعد سن بلوغ کو پہنچے۔ اس لیے اگر یہ سورت ان کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی، جیسا کہ ان کے بیان سے ظاہر ہے، تو اسے مدنی ہونا چاہیے لیکن صحابہ اور تابعین کا جو طریقہ آیات اور سورتوں کی شان نزول کے بارے میں تھا، اس کی تشریح سورۂ دہر کے مضمون میں بیان کی جا چکی ہے، اس لیے کسی صحابی کا یہ کہنا ہے کہ یہ آیت فلاں موقع پر نازل ہوئي، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا نزول اسی وقت ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو سعید نے ہوش سنبھالنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے یہ سورت سنی ہو اس وقت اس کے آخری حصے سے خوف زدہ ہو کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے وہ سوالات کیے ہوں جو اوپر درج کیے گئے ہیں اور اس واقعہ کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہو کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ عرض کیا۔ اگر یہ روایت سامنے نہ ہو تو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرے گا کہ یہ مکی سورت ہے، بلکہ اس کے مضمون اور اندازِ بیان سے تو اس کو یہ محسوس ہوگا کہ یہ مکہ کے بھی اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہوگی جب نہایت مختصر اور انتہائی دلنشین طریقہ سے اسلام کے بنیادی عقائد لوگوں کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے۔ 

موضوع اور مضمون


اس کا موضوع ہے موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں ان سب اعمال کا پورا کچا چٹھا انسان کے سامنے آ جانا جو اس نے دنیا میں کیے تھے۔ سب سے پہلے تین مختصر تقریروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی کس طرح واقع ہوگی اور وہ انسان کے لیے کیسی حیران کن ہوگی۔ پھر دو فقروں میں بتایا گیا ہے کہ یہی زمین جس پر رہ کر انسان نے بے فکری کے ساتھ ہر طرح کے اعمال کیے ہیں، اور جس کے متعلق کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ یہ بے جان چیز کسی وقت اس کے افعال کی گواہی دے گی، اس روز اللہ تعالٰی کے حکم سے بول پڑے گی اور ایک ایک انسان کے متعلق یہ بیان کردے گی کہ کس وقت کہاں اس نے کیا کام کیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس دن زمین کے گوشے گوشے سے انسان گروہ در گروہ اپنے مرقدوں سے نکل نکل کر آئیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں، اور اعمال کی یہ پیشی ایسی مکمل اور مفصل ہوگی کہ کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہ رہ جائے گی جو سامنے نہ آ جائے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾ وَ اَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَہَا ۙ﴿۲﴾ وَ قَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ﴿۳﴾ یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا ۙ﴿۴﴾ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوۡحٰی لَہَا ؕ﴿۵﴾ یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب زمین اپنی پُوری شدّت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی(1) ، اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی،(2) اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے،(3) اُس روز وہ اپنے ﴿اُوپر گزرے ہوئے﴾ حالات بیان کرے گی،(4) کیونکہ تیرے ربّ نے اُسے ﴿ایسا کرنے کا ﴾ حکم دیا ہوگا۔ اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے (5) تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔(6) پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔(7)   ؏

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 1

اصل الفاظ ہیں زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۔ زلزلہ کے معنی پے در پے زور زور سے حرکت کرنے کے ہیں۔ پس زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو جھٹکے پر جھٹکے دے کر شدت کے ساتھ ہلا ڈالا جائے گا۔ اور چونکہ زمین کو ہلانے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ زمین کا کوئی مقام یا کوئی حصہ یا علاقہ نہیں بلکہ پوری کی پوری زمین ہلا ماری جائے گی۔ پھر اس زلزلے کی مزید شدت کو ظاہر کرنے کے لیے زِلْزَالَهَا کا اس پر اضافہ کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں " اس کا ہلایا جانا " اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ایسا ہلایا جائے گا جیسا اس جیسے عظیم کرے کو ہلانے کا حق ہے، یا جو اس کے ہلائے جانے کی انتہائی ممکن شدت ہوسکتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس زلزلے سے مراد وہ پہلا زلزلہ لیا ہے جس سے قیامت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا یعنی جب ساری مخلوق ہلاک ہوجائے گا اور دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ لیکن مفسرین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جس سے قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، یعنی جب تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ زندہ ہوکر اٹھیں گے۔ یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعد کا سارا مضمون اسی پر دلالت کرتا ہے۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 2
یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ انشقاق آیت 4 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ " اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی" اس کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہاں جس شکل اور جس حالت میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور بعد کا فقرہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت ان کے جسم کے تمام بکھرے ہوئے اجزاء جمع ہوکر از سر نو اسی شکل و صورت میں زندہ ہوجائیں گے جس میں وہ پہلی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہورہا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مرے ہوئے انسانوں ہی کو وہ باہر نکال پھینکنے پر اکتفا نہ کرے گی، بلکہ ان کو پہلی زندگی کے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات کی شہادتوں کا جو انبار اس کی تہوں میں دبا پڑا ہے اس سب کو بھی وہ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اس پر بعد کا یہ فقرہ دلالت کرتا ہے کہ زمین اپنے اوپر گزرے حالات بیان کرے گی۔ تیسرا مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ سونا، چاندی، جواہر اور ہر قسم کی دولت جو زمین کے پیٹ میں ہے اس کے بھی ڈھیر کے ڈھیر وہ باہر نکال کر رکھ دے گی اور انسان دیکھے گا کہ یہی ہیں وہ چیزیں جن پر وہ دنیا میں مرا جاتا تھا، جن کی خاطر اس نے قتل کیے، حق داروں کے حقوق مارے، چوریاں کیں، ڈاکے دالے، خشکی اور تری میں قزاقیاں کیں، جنگ کے معرکے برپا کیے اور پوری قوموں کو تباہ کر ڈالا۔ آج وہ سب کچھ سامنے موجود ہے اور اس کے کسی کام کا نہیں ہے بلکہ الٹا اس کے لیے عذاب کا سامان بنا ہوا ہے۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 3
انسان سے مراد ہر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ زندہ ہوکر ہوش میں آتے ہی پہلا تاثر ہر شخص پر یہی ہوگا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے، بعد میں اس پر یہ بات کھلے گی کہ یہ روز محشر ہے۔ اور انسان سے مراد آخرت کا منکر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ جس چیز کو وہ غیر ممکن سمجھتا تھا وہ اس کے سامنے برپا ہورہی ہوگی اور وہ اس پر حیران و پریشان ہوگا۔ رہے اہل ایمان تو ان پر یہ حیرانی و پریشانی طاری نہ ہوگی، اس لیے کہ سب کچھ ان کے عقیدہ و یقین کے مطابق ہورہا ہوگا۔ ایک حد تک اس دوسرے معنی کی تائید سورۃ یسین کی آیت 52 کرتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ اس وقت منکرین آخرت کہیں گے کہ مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا " کس نے ہمارے خواب گاہ سے ہمیں اٹھا دیا"؟ اور جواب ملے گا ۆھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۔ " یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں نے سچ کہا تھا"۔ یہ آیت اس معاملہ میں صریح نہیں ہے کہ کافروں کو یہ جواب اہل ایمان ہی دیں گے، کیونکہ آیت میں اس کی تصریح نہیں ہے، لیکن اس امر کا احتمال ضرور ہے کہ اہل ایمان کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 4
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا " جانتے ہو اس کے وہ حالات کیا ہیں"؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا " وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی" (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، عبد بن حمید، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) حضرت ربیعہ الخرشی کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیاد ہے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا برا"۔ (معجم الطبرانی) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " قیامت کے روز زمین ہر اس عمل کو لے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو" پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں (ابن مردویہ، بیہقی) حضرت علی کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال کا سب روپیہ اہل حقوق میں تقسیم کر کے اسے خالی کر دیتے تو اس میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے " تجھے گواہی دینی ہوگی کہ میں نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرا اور حق ہی کے ساتھ خالی کردیا"۔

زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کرے گی، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کن ہوگی کہ آخر زمین کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علوم طبیعی کے اکتشافات اور سینما، لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈ، الیکڑانکس وغیرہ ایجادات کے اس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں، گھروں کی دیواروں اور ان کے فرش اور چھت کے ذرے ذرے میں، اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں آدمی نے باتکی ہو تو ان سب کے ذرات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دہروا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ انسان اپنے کانوں سے اس وقت سن لے گا کہ یہ اس کی اپنی ہی آوازیں ہیں، اور اس کے سب جاننے والے پہچان لیں گے کہ جو کچھ وہ سن رہے ہیں وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اس کے گرد و پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر ان پر نقش ہوچکی ہے۔ بالکل گھپ اندھیرے میں بھی اس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شعاعیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اجالا کوئی معنی نہیں رکھتا، وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں، یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور یہ دکھا دیں گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں کہاں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہ راست خود جانتا ہے، مگر آخرت میں جب وہ عدالت قائم کرے گا تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا۔ اس کی عدالت میں ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا جائے گا اس کو ایسی مکمل شہادتوں سے ثابت کردیا جائے گا کہ اس کے مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ سب سے پہلے تو وہ نامہ اعمال ہے جس میں ہر وقت اس کے ساتھ لگے ہو ٤ ے کراما کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کر رہے ہیں (قٓ۔ آیات 17۔18۔ الانفطار آیات 1 تا 12) یہ نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ پڑھ اپنا کارنامہ حیات، اپنا حساب لینے کے لیے تو خود کافی ہے (بنی اسرائیل 14) انسان اسے پڑھ کر حیران رہ جائے گا کہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں ہے جو اس میں ٹھیک ٹھیک درج نہ ہو (الکہف 49) اس کے بعد انسان کا اپنا جسم ہے جس سے اس نے دنیا میں کام لیا ہے۔ اللہ کی عدالت میں اس کی اپنی زبان شہادت دے گی کہ اس سے وہ کیا کچھ بولتا رہا ہے، اس کے اپنے ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے کہ ان سے کیا کیا کام اس نے لیے ( النور 24) اس کی آنکھیں شہادت دیں گے، اس کے کان شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کیا کچھ سنا۔ اس کے جسم کی پوری کھال اس کے افعال کی شہادت دے گی۔ وہ حیران ہوکر اپنے اعضا سے کہے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟ اس کے اعضا جواب دیں گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے اسی کے حکم سے ہم بھیبول رہے ہیں ( حم السجدہ 20 تا 24) اس پر مزید وہ شہادتیں ہیں جو زمین اور اس کے پورے ماحول سے پیش کی جائیں گی جن میں آدمی اپنی آوازیں خود اپنے کانوں سے اور اپنی حرکات کی ہوبہو تصویریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں جو خیالات، ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے، اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں گے، جیسا کہ آگے سورۃ عادیات میں آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے قطعی اور صریح اور ناقابل انکار ثبوت سامنے آجانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائے گا اور اس کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا (المرسلات، آیات 35۔36)

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 5
اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا، خاندان، جتھے، پارٹیاں، قومیں سب بکھر جائیں گی۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورۃ انعام میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ " لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا" (آیت 94) اور سورۃ مریم میں فرمایا یہ " اکیلا ہمارے پاس آئے گا" (آیت 80) اور یہ کہ " ان میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا" (آیت 95) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے، زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہوں گے، جیسا کہ سورۃ نباء میں فرمایا گیا " جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی تم فوج در فوج آجاؤ گے" ( آیت 18) اس کے علاوہ جو مطلب مختلف مفسرین نے بیان کیے ہیں ان کی گنجائش لفظ اشتاتا میں نہیں ہے، اس لیے ہمارے نزدیک وہ اس لفظ کے معنوی حدود سے باہر ہیں، اگرچہ بجائے خود صحیح ہیں اور قرآن و حدیث کے بیان کردہ احوال قیامت سے مطابقت رکھتے ہیں ۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 6
اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں، یعنی ہر ایک کو بتایا جائے کہ وہ دنیا میں کیا کر کے آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے۔ اگرچہ یہ دوسرے معنی بھی لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ کے لیے جاسکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے لِّيُرَوْا جَزٓاءَ اَعْمَالَهُمْ (تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے) نہیں فرمایا ہے بلکہ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ (تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں) فرمایا ہے۔ اس لیے پہلے معنی ہی قابل ترجیح ہیں، خصوصا جبکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کافر و مومن، صالح و فاسق، تابع فرمان اور نافرمان، سب کو ان کے نامہ اعمال ضرور دیے جائیں گے ( مثال کے طور پر ملاحظۃ ہو الحاقہ آیات 19 و 25، اور الانشقاق، آیات 7 و 10) ظاہر ہے کہ کسی کو اس کے اعمال دکھانے، اور اس کارنامہ اعمال اس کے حوالہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ علاوہ بریں زمین جب اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات پیش کرے گی تو حق و باطل کی وہ کشمکش جو ابتدا سے برپا ہے اور قیامت تک برپا رہے گی، اس کا پورا نقشہ بھی سب کے سامنے آجائے گا، اور اس میں سب ہی دیکھ لیں گے کہ حق کے لیے کام کرنے والوں نے کیا کچھ کیا، اور باطل کی حمایت کرنے والوں نے ان کے مقابلہ میں کیا کیا حرکتیں کیں۔ بعید نہیں کہ ہدایت کی طرف بلانے والوں اور ضلالت پھیلانے والوں کی ساری تقریریں اور گفتگوئیں لوگ اپنے کانوں سے سن لیں۔ دونوں طرف کی تحریروں اور لٹریچر کا پورا ریکارڈ جوں کا توں سب کے سامنے لاکر رکھ دیا جائے۔ حق پرستوں باطل پرستوں کے ظلم، اور دونوں گروہوں کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کے سارے مناظر میدان حشر کے حاضرین اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 7
اس ارشاد کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کہ آدمی کی کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہیں ہوگی جو اس کے نامہ اعمال میں درج ہونے سے رہ گئی ہو، اسے وہ بہرحال دیکھ لے گا۔ لیکن اگر دیکھنے سے مراد اس کی جزا و سزا دیکھنا لیا جائے تو اس کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کہ آخرت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی جزا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بدی کی سزا ہر شخص کو دی جائے گی، اور کوئی شخص بھی وہاں اپنی کسی نیکی کی جزا اور کسی بدی کی سزا پانے سے نہ بچے گا۔ کیونکہ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک ایک برے عمل کی سزا اور ایک ایک اچھے عمل کی جزا الگ الگ دی جائے گی۔ دوسرے اسکے معنی یہ بھی ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا صالح مومن بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے قصور کی سزا پانے سے نہ بچے گا اور کوئی بدترین کافر و ظالم اور بدکار انسان بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے اچھے فعل کا اجر پائے بغیر نہ رہے گا۔ یہ دونوں معنی قرآن اور حدیث کی تصریحات کے بھی خلاف ہیں، اور عقل بھی اسے نہیں مانتی کہ یہ تقاضائے انصاف ہے۔ عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات آخر کیسے سمجھ میں آنے کے قابل ہے کہ آپ کا کوئی خادم نہایت وفادار اور خدمت گزار ہو، لیکن آپ اس کے کسی چھوٹے سے قصور کو بھی معاف نہ کریں، اور اس کی ایک ایک خدمت کا اجر و انعام دینے کے ساتھ اس کے ایک ایک قصور کو گن گن کر ہر ایک کی سزا بھی اسے دے ڈالیں۔ اسی طرح یہ بھی عقلا ناقابل فہم ہے کہ آپ کا پروردہ کوئی شخص جس پر آپ کے بےشمار احسانات ہوں، وہ آپ سے غداری اور بےوفائی کرے اور آپ کے احسانات کا جواب ہمیشہ نمک حرامی ہی سے دیتا رہے، مگر آپ اس کے مجموعی رویے کو نظر انداز کر کے اس کی ایک ایک غداری کی الگ سزا اور اس کی ایک ایک خدمت کی، خواہ وہ کسی وقت پانی لاکر دے دینے یا پنکھا جھل دینے ہی کی خدمت ہو، الگ جزا دیں۔ اب رہے قرآن و حدیث تو وہ وضاحت کے ساتھ مومن، منافق، کافر، مومن صالح، مومن خطاکار، مومن ظالم و فاسق، محض کافر، اور کافر مفسد و ظالم وغیرہ مختلف قسم کے لوگوں کی جزا و سزا کا ایک مفصل قانون بیان کرتے ہیں اور یہ جزا و سزا دنیا سے آخرت تک انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔

اس سلسلے میں قرآن مجید اصولی طور پر چند باتیں بالکل وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے :

اول یہ کہ کافر و مشرک اور منافق کے اعمال (یعنی وہ اعمال جن کو نیکی سمجھا جاتا ہے) ضائع کردیے گئے، آخرت میں وہ ان کا کوئی اجر نہیں پاسکیں گے، ان کا اگر کوئی اجر ہے بھی تو وہ دنیا ہی میں ان کو مل جائے گا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف 147۔ التوبہ 17۔67 تا 69۔ ہود 15۔16۔ ابراہیم 18۔ الکہف 104۔105۔ النور 39۔ الفرقان 23۔ الاحزاب 19۔ الزمر 65۔ الاحقاف 20۔

دوم یہ کہ بدی کی سزا اتنی ہی دی جائے گی جتنی بدی ہے، مگر نیکیوں کی جزا اصل فعل سے زیادہ دی جائے گی، بلکہ کہیں تصریح ہے کہ ہر نیکی کا اجر اس سے 10 گنا ہے، اور کہیں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ جتنا چاہے نیکی کا اجر بڑھا کر دے۔ ملاحظہ ہو البقرہ 261۔ الانعام 160۔ یونس 26۔27۔ النور 38۔ القصص 84۔ سباء 37۔ المومن 40۔

سوم یہ کہ مومن اگر بڑے گناہوں سے پرہیز کریں گے تو ان کے چھوٹے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ النساء 31۔ الشوری 37۔ النجم 32۔ 

چہارم یہ کہ مومن صالح سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اس کی برائیوں سے درگزر کیا جائے گا اور اس کے بہترین اعمال کے لحاظ سے اس کو اجر دیا جائے گا۔ العنکبوت 7۔ الزمر 35۔ الاحقاف 16۔ الانشقاق 8۔

احادیث بھی اس معاملہ کو بالکل صاف کردیتی ہیں۔ اس سے پہلے ہم سورۃ انشقاق کی تفسیر میں وہ احادیث نقل کرچکے ہیں جو قیامت کے روز ہلکے حساب اور سخت حساب فہمی کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے فرمائی ہیں (تفہیم القرآن، جلد ششم، الانشقاق، حاشیہ 6) حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ اتنے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ " یا رسول اللہ کیا میں اس ذرہ برابر برائی کا نتیجہ دیکھوں گا جو مجھ سے سرزد ہوئی"؟ حضور نے فرمایا " اے ابوبکر دنیا میں جو معاملہ بھی تمہیں ایسا پیش آتا ہے جو تمہیں ناگوار ہو وہ ان ذرہ برابر برائیوں کا بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوں، اور جو ذرہ برابر نیکیاں بھی تمہاری ہیں انہیں اللہ آخرت میں تمہارے لیے محفوظ رکھ رہا ہے" (ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، بیہقی فی الشعب، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، عبد بن حمید) حضرت ابو ایوب انصاری سے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ " تم میں سے جو شخص نیکی کرے گا اس کی جزا آخرت میں ہے اور جو کسی قسم کی برائی کرے گا وہ اسی دنیا میں اس کی سزا مصائب اور امراض کی شکل میں بھگت لے گا" (ابن مردویہ) قتادہ نے حضرت انس کے حوالہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ "اللہ تعالیٰ مومن پر ظلم نہیں کرتا، دنیا میں اس کی نیکیوں کے بدلے وہ رزق دیتا ہے اور آخرت میں ان کی جزا دے گا۔ رہا کافر، تو دنیا میں اس کی بھلائیوں کا بدلہ چکا دیا جاتا ہے، پھر جب قیامت ہوگی تو اس کے حساب میں کوئی نیکی نہ ہوگی" ( ابن جریر) مسروق حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ عبداللہ بن جدعان جاہلیت کے زمانہ میں صلح رحمی کرتا تھا، مسکین کو کھانا کھلاتا تھا، مہمان نواز تھا، اسیروں کو رہائی دلواتا تھا۔ کیا آخرت میں یہ اس کے لیے نافع ہوگا ؟ حضور نے فرمایا نہیں، اس نے مرتے وقت تک کبھی یہ نہیں کہا کہ رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین " میرے پروردگار، روز جزا میں میری خطا معاف کیجیو"۔ (ابن جریر) اسی کے جوابات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض اور لوگوں کے بارے میں بھی دیے ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں نیک کام کرتے تھے، مگر مرے کفر و شرک ہی کی حالت میں تھے۔ لیکن حضور کے بعض ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کی نیکی اسے جہنم کے عذاب سے تو نہیں بچا سکتی، البتہ جہنم میں اس کو وہ سخت سزا نہ دی جائے گی جو ظالم اور فاسق اور بدکار کافروں کو دی جائے گی۔ مثلا حدیث میں آیا ہے کہ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے اس کو ہلکا عذاب دیا جائے گا (روح المعانی)

تاہم یہ آیت انسان کو ایک بہت اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اپنا ایک وزق اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے، اور یہی حال بدی کا بھی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے، یونہی نظر انداز کر دینے والی چیز نہیں ہے۔ اس لیے کسی چھوٹی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے، کیونکہا یسی بہت سی نیکیاں مل کر اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک بہت بڑی نیکی قرار پاسکتی ہیں، اور کسی چھوٹی سے چھوٹی بدی کا ارتکاب بھی نہ کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بہت سے چھوٹے گناہ مل کر گناہوں کا ایک انبار بن سکتے ہیں۔ یہی بات ہے جس کو متعدد احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عدی بن حاتم سے یہ روایت منقول ہے کہ حضور نے فرمایا " دوزخ کی آگ سے بچو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا دینے یا ایک اچھی بات کہنے ہی کے ذریعہ سے ہو"۔ انہی حضرت عدی سے صحیح روایت میں حضور کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ " کسی نیک کام کو بھی حقیر نہ سمجھو خواہ وہ کسی پانی مانگنے والے کے برتن میں ایک ڈول ڈال دینا ہو، یا یہی نیکی ہو کہ تم اپنے کسی بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو"۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے عورتوں کو خطاب کر کے فرمایا " اے مسلمان عورتو، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہاں کوئی چیز بھیجنے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو"۔ مسند احمد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضور فرمایا کرتے تھے " اے عائشہ ان گناہوں سے بچی رہنا جن کو چھوٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی پرستش بھی ہونی ہے"۔ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا " خبردار، چھوٹے گناہوں سے بچ کر رہنا، کیونکہ وہ سب آدمی پر جمع ہوجائیں گے یہاں تک کہ اسے ہلاک کردیں گے"۔ (گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے فرق کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، النساء حاشیہ 53۔ جلد پنجم، النجم حاشیہ 32)

(ماخوذ از تفہیم القرآن ج 6، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

قیامت کا منظر سُوْرَةُ الْقَارِعَة کی روشنی میں - سید ابوالاعلی مودوی ؒ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾ مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾ یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾ وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾ وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾ نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿۱۱﴾

قیامت کا منظر سورۃ القارعۃ کی روشنی میں 
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

عظیم حادثہ!(1) کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ وہ دن جب لوگ بِکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔(2) پھر (3) جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ دل پسند عیش میں ہوگا، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے(4) اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی۔(5) اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟ بھڑکتی ہوئی آگ۔(6) ؏١

----------------------------

پہلے ہی لفظ القارعۃ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے کیونکہ اس میں سارا ذکر قیامت ہی کا ہے۔ زمانۂ نزول اس کے مکی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چونکایا گیا ہے کہ عظیم حادثہ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ اس طرح سامعین کوکسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دھنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالٰی کی عدالت قائم ہوگی تو اس میں فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس شخص کے نیک اعمال برے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے برے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب ہوگا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہوگی۔

 حاشیہ نمبر : 1:   اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے "ٹھونکنے والی" قرع کے معنی کسی چیز کو کسی چیز پر زور سے مارنے کے ہیں جس سے سخت آواز نکلے۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں قرعتہم القارعہ یعنی فلاں قبیلے یا قوم کے لوگوں پر سخت آفت آگئی ہے۔ قرآن مجید میں بھی ایک جگہ یہ لفظ کسی قوم پر بڑی مصیبت نازل ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورۃ رعد میں ہے وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ۔ " جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئہ نہ کوئی آفت نازل ہوتی رہتی ہے" (آیت 31) لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور سورۃ الحاقہ میں بھی قیامت کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ (آیت 4) اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہاں قیامت کے پہلے مرحلے سے لے کر عذاب و ثواب کے آخری مرحلے تک پورے عالم آخرت کا یکجا ذکر ہورہا ہے۔

 حاشیہ نمبر : 2 : یہاں تک قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں، اور پہاڑ رنگ برنگ کے ڈھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ رنگ برنگ کے اون سے پہاڑوں کو تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں ۔

 حاشیہ نمبر : 3 یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے جب دوبارہ زندہ ہوکر لوگ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

 حاشیہ نمبر : 4 : اسل میں لفظ موازین استعمال ہوا ہے جو موزون کی جمع بھی ہوسکتا ہے اور میزان کی جمع بھی۔ اگر اس کو موزون کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد وہ اعمال ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وزن نہ ہو، جو اس کے ہاں کسی قدر کے مستحق ہوں۔ اور اگر اسے میزان کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد ترازو کے پلڑے ہوں گے۔ پہلی صورت میں موازین کے بھاری اور ہلکے ہونے کا مطلب نیک اعمال کا برے اعمال کے مقابلے میں بھاری یا ہلکا ہونا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صرف نیکیاں ہی وزنی اور قابل قدر ہیں۔ دوسری صورت میں موازین کے بھاری ہونے کا مطلب اللہ جل شانہ کی میزان عدل میں نیکیوں کے پلڑے کا برائیوں کے پلڑے کی بہ نسبت زیادہ بھاری ہونا ہے، اور ان کے ہلکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے کی بہ نسبت ہلکا ہو۔ اس کے علاوہ عربی زبان کے محاورے میں میزان کا لفظ وزن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس معنی کے لحاظ سے وزن کے بھاری اور ہلکا ہونے سے مراد بھلائیوں کا وزن بھاری یا ہلکا ہونا ہے۔ بہرحال موازین کو خواہ موزون کے معنی میں لیا جائے، یا میزان کے معنی میں، یا وزن کے معنی میں، مدعا ایک ہی رہتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ آدمی اعمال کی جو پونجی لے کر آیا ہے وہ وزنی ہے، یا بےوزن، یا اس کی بھلائیوں کا وزن اس کی برائیوں کے وزن سے زیادہ ہے یا کم۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے جن کو نگاہ میں رکھا جائے تو اس کا مطلب پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ سورۃ اعراف میں ہے " اور وزن اس روز حق ہوگا، پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے، اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے" (آیات، 8۔9) سورۃ کہف میں ارشاد ہوا " اے نبی ان لوگوں سے کہو کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا، اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے" (آیات 104۔105) سورۃ انبیاء میں فرمایا "قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخس پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا، جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں" (آیت 47) ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ کفر اور حق سے انکار بجائے خود اتنی بڑی برائی ہے کہ وہ برائیوں کے پلڑے کو لازما جھکا دے گی اور کافر کی کوئی نیکی ایسی نہ ہوگی کہ بھلائیوں کے پلڑے میں اس کا کوئی وزن ہو جس سے اس کی نیکی کا پلڑا جھک سکے۔ البتہ مومن کے پلڑے میں ایمان کا وزن بھی ہوگا اور اس کے ساتھ ان نیکیوں کا وزن بھی جو اس نے دنیا میں کیں۔ دوسری طرف اس کی جو بدی بھی ہوگی وہ بدی کے پلڑے میں رکھ دی جائے گی۔ پھر دیکھا جائے گا کہ آیا نیکی کا پلڑا جھکا ہوا ہے یا بدی کا۔


 حاشیہ نمبر : 5 اصل الفاظ ہیں اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ " اس کی ماں ھاویہ ہوگی" ھاویہ ھوی سے ہے جس کے معنی اونچی جگہ سے نیچی جگہ گرنے کے ہیں، اور ھاویہ اس گہرے گڑھے کے لیے بولا جاتا ہے جس میں کوئی چیز گرے۔ جہنم کو ھاویہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ وہ بہت عمیق ہوگی اور اہل جہنم اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ اس کی ماں جہنم ہوگی، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے، اسی طرح آخرت میں اہل جہنم کے لیے جہنم کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔

حاشیہ نمبر : 6 یعنی وہ محض ایک گہری کھائی ہی نہ ہوگی بلکہ بھڑکتی ہوئی آگ سے بھری ہوئی ہوگی۔

--------------
( ماخوذ از تفہیم القرآن ج 6 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

قیامت کا منظرسورة الْاِنْشِقَاق کی روشنی میں

قیامت کا منظرسورة الْاِنْشِقَاق کی روشنی  میں 

سید ابوالاعلی مودودی ؒ 
نام :
پہلی ہی آیت کے لفظ انشقت سے ماخوذ ہے۔ انشقاق مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں اور اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں آسمان کے پھٹنے کا ذکر آیا ہے۔
زمانۂ نزول :
یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ اس کے مضمون کی داخلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ابھی ظلم و ستم کا دور شروع نہیں ہوا تھا، البتہ قرآن کی دعوت کو مکہ میں برملا جھٹلایا جا رہا تھا اور لوگ یہ ماننے سے انکار کر رہے تھے کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور انہیں اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا۔
موضوع اور مضمون :
اس کا موضوع قیامت اور آخرت ہے۔
پہلی پانچ آیتوں میں نہ صرف قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے بلکہ اس کے برحق ہونے کی دلیل بھی دے دی گئی ہے۔ اس کی کیفیت یہ بتائی گئی ہے کہ اس روز آسمان پھٹ جائے گا، زمین پھیلا کر ہموار میدان بنا دی جائے گی، جو کچھ زمین کے پیٹ میں ہے (یعنی مردہ انسانوں کے اجزائے بدن اور ان کے اعمال کی شہادتیں) سب کو نکال کر وہ باہر پھینک دے گی، حتیٰ کہ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے گا اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ آسمان و زمین کے لیے ان کے رب کا حکم یہی ہوگا اور چونکہ دونوں اس کی مخلوق ہیں اس لیے وہ اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتے، ان کے لیے حق یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں ۔
اس کے بعد آیت 6 سے 19 تک بتایا گیا ہے کہ انسان کو خواہ اس کا شعور ہو یا نہ ہو، بہرحال وہ اس منزل کی طرف چار و ناچار چلا جا رہا ہے جہاں اسے اپنے رب کے آگے پیش ہونا ہے۔ پھر سب انسان دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک، وہ جن کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کسی سخت حساب فہمی کے بغیر معاف کر دیے جائیں گے۔ دوسرے وہ جن کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ وہ چاہیں گے کہ کسی طرح انہیں موت آ جائے، مگر مرنے کے بجائے وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ ان کا یہ انجام اس لیے ہوگا کہ وہ دنیا میں اس غلط فہمی پر مگن رہے کہ کبھی خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا نہیں ہے۔ حالانکہ ان کا رب ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان اعمال کی بازپرس سے چھوٹ جائیں۔ ان کا دنیا کی زندگی سے آخرت کی جزا و سزا تک درجہ بدرجہ پہنچنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج ڈوبنے کے بعد شفق کا نمودار ہونا، دن کے بعد رات کا آنا اور اس میں انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے بسیروں کی طرف پلٹنا، اور چاند کا ہلال سے بڑھ کر ماہ کامل بننا یقینی ہے۔
آخر میں ان کفار کو دردناک سزا کی خبر دے دی گئی ہے جو قرآن کو سن کر خدا کے آگے جھکنے کے بجائے الٹی تکذیب کرتے ہیں، اور ان لوگوں کو بےحساب اجر کا مژدہ سنا دیا گیا ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ ۙ﴿۱﴾ وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾ وَ اَلۡقَتۡ مَا فِیۡہَا وَ تَخَلَّتۡ ۙ﴿۴﴾ وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ؕ﴿۵﴾ یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾ فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ﴿۷﴾ فَسَوۡفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیۡرًا ۙ﴿۸﴾ وَّ یَنۡقَلِبُ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ وَرَآءَ ظَہۡرِہٖ ﴿ۙ۱۰﴾ فَسَوۡفَ یَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ یَصۡلٰی سَعِیۡرًا ﴿ؕ۱۲﴾ اِنَّہٗ کَانَ فِیۡۤ اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾ اِنَّہٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ یَّحُوۡرَ ﴿ۚۛ۱۴﴾ بَلٰۤی ۚۛ اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیۡرًا ﴿ؕ۱۵﴾ فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِ ﴿ۙ۱۶﴾ وَ الَّیۡلِ وَ مَا وَسَقَ ﴿ۙ۱۷﴾ وَ الۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ﴿ۙ۱۸﴾ لَتَرۡکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾ فَمَا لَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیۡہِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا یَسۡجُدُوۡنَ ﴿ؕٛ۲۱﴾ بَلِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُکَذِّبُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۲﴾ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُوۡعُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۳﴾ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۲۴﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴿٪۲۵﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے ربّ کے فرمان کی تعمیل کرے1 گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے ﴿کہ اپنے ربّ کا حکم مانے﴾ ۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے2 گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے3 گی اور اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے ﴿ کہ اس کی تعمیل کرے4﴾۔ اے انسان، تُو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا5 رہا ہے اور اُس سے ملنے والا ہے۔ پھر جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا6 اور وہ اپنے لوگو ں کو طرف خوش خوش پلٹے گا7۔ رہا وہ شخص جس کا نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا8 تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا9۔ اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا10۔
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ، اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے ، اور چاند کی جب کہ وہ ماہِ کامل ہو جاتا ہے، تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے11۔ پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑ ھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے12؟ السجدة
بلکہ یہ منکرین تو اُلٹا جھُٹلاتے ہیں، حالانکہ جو کچھ یہ ﴿ اپنے نامہٴ اعمال میں﴾ جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے13۔ لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجرہے۔ ؏
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :1
اصل میں اذنت لربھا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے لفظی معنی ہیں " وہ اپنے رب کا حکم سنے گا "۔ لیکن عربی زبان میں محاورے کے طور پر اذن لہ کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ اس نے حکم سنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سر تابی نہ کی۔ 

سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :2
زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنا دیا جائے گا۔ سورۃ طہ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ " اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پاؤ گے "۔ (آیات 106۔ 107)۔ حاکم نے مستدرک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ " قیامت کے روز زمین ایک دستر خوان کی طرح پھیلا دی جائے گی،۔ پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی "۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس دن تمام انسانوں کو جو روز اول آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالت الہی میں پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، گھاٹیاں اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے پورے کرہ زمین کو ایک میدان بنا دیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پا سکیں ۔ 
سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :3
مطلب یہ ہے کہ جتنے مرے ہوئے انسان اس کے اندر پڑے ہوں گے سب کو نکال کر وہ باہر ڈال دے گی، اور اسی طرح ان کے اعمال کی جو شہادتیں اس کے اندر موجود ہوں گی وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آ جائیں گی، کوئی چیز بھی اس میں چھپی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :4
4۔ یہ صراحت نہیں کی گئی کہ جب یہ اور یہ واقعات ہوں گے تو کیا ہو گا، کیونکہ بعد کا یہ مضمون اس کو آپ سے آپ ظاہر کر دیتا ہے کہ اسے انسان تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے، تیرا نامہ اعمال تجھے دیا جانے والا ہے، اور جیسا تیرا نامہ اعمال ہو گا اس کے مطابق تجھے جزا یہ سزا ملنے والی ہے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :5
5۔ یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے، اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے ا ور دنیوی اغراض کے لیے ہے، لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب کی طرف اور آ خر کار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :6
6۔ یعنی اس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی ۔ اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تو نے کیوں کیے تھے ا ور تیرے پاس ان کاموں کے لیے کیا عذر ہے۔ اس کی بھلائیوں کے ساتھ اس کی برائیاں بھی اس کے نامہ اعمال میں موجود ضرور ہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے، اس کے قصوروں سے در گزر کیا جا ئے گا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کجے لیے سوء الحساب(بری طرح حساب لینے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (الرعد، آیت 18)، اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کر لیں گے اور ان کی برائیوں سے در گزر کریں گے‘‘۔ (الاحقاف، آیت 16)۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی جو تشریح فرمائی ہے اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، حاکم، ابن جریر، عبد بن حمید اور ابن مردودیہ نے مختلف الفاظ میں حضرت عائشہؓ نے نقل کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ، کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ ’’جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا‘‘؟ حضورؐ نے جواب دیا ’’وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے ، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا‘‘۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ا یک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ ’’خدایا مجھ سے ہلکا حساب لے‘‘۔ آپ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا مطلب پوچھا ۔ آپ نے فرمایا ’’ ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے اور اس سے در گزر کیا جائے گا، اے عائشہ، اس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا‘‘۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :7
7۔ اپنے لوگوں سے مراد آدمی کے وہ اہل و عیال ، رشتہ دار و ساتھی ہیں جو اسی کی طرح معاف کیے گئے ہوں گے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :8
8۔ سورۃ الحاقۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے کہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالباً اس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ شخص اس بات سے تو پہلے ہی مایوس ہو گا کہ اسے دا ئیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب واقف ہو گا اور اسے یقین ہو گا کہ مجھے نامہ ا عمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے۔ البتہ ساری خلقت کے سامنے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال لیتے ہوئے اسے خفت محسوس ہو گی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔ مگر اس تدبیر سے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ اپنا کچا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ جائے۔ وہ تو بہرحال اسے پکڑایا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ کے پیچھے چھپا لے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :9
9۔ یعنی اس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت 26) میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر وقت انہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتار ہو کر ہم ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت برباد نہ کرلیں۔ اس کے برعکس اس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کرا رہا تھا، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :10
10۔ یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور ا سے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :11
11۔ یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے ، بڑھاپے سے موت، موت سے برزخ ، برزخ سے دوبارہ زندگی ، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بے شمار منزلوں سے لازما تم کو گزرنا ہو گا۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں ان بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر کہیں ٹھیراؤ نہیں ہے۔ ایک مسلسل تغیر اور درجہ بدرجہ تبدیلی ہر طرف پائی جاتی ہے، لہذا کفار کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ موت کی آخری ہچکی کے ساتھ معاملہ ختم ہو جائے گا۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :12
12۔ یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہو تا اور یہ اس کے آگے نہیں جھکتے۔ اس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورۃ پڑھ کر اس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ ؓ نے یہاں سجدہ کیا ہے۔ بخاری ، ابوداؤد اور نسائی نے ابو رافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے عشاء کی نماز میں یہ سورۃ پڑھی ہے اور حضورؐ نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے اس سورۃ میں اور اقراء باسم ربک الذی خلق میں سجدہ کیا ہے۔

سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :13
13۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے سینوں میں کفر اور عناد اور عداوتِ حق اور برے ارادوں اور فاسد نیتوں کی جو گندگی انہوں نے بھر رکھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔


 ( حوالہ :  تفہیم القرآن ج 6 سید ابوالاعلی مودودیؒ )



قیامت کا منظر سُوْرَةُ التَّكْوِیْر کی روشنی میں

 قیامت کا منظر  سُوْرَةُ التَّكْوِیْر  کی روشنی میں 

سید ابوالاعلی مودودی ؒ 

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ کوِّرَت' سے ماخوذ ہے۔ کوِّرَت تکویر سے صیغۂ ماضی مجہول ہے جس کے معنی ہیں لپیٹی گئی۔ اس نام سے مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس میں لپیٹنے کا ذکر آیا ہے۔زمانۂ نزول :

مضمون اور اندازِ بیاں سےصاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔موضوع اور مضمون :

اس کے دو موضوع ہیں ایک آخرت اور دوسرے رسالت۔
پہلی چھ آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر کیا گیا ہے جب سورج بے نور ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے، پہاڑ زمین سے اکھڑ کر اڑنے لگیں گے، لوگوں کو اپنی عزیز ترین چیزوں تک کا ہوش نہ رہے گا، جنگلوں کے جانور بدحواس ہو کر اکٹھے ہو جائیں گے اور سمندر بھڑک اٹھیں گے۔ پھر سات آیتوں میں دوسرے مرحلے کا ذکر ہے جب روحیں از سرنو جسموں کے ساتھ جوڑ دی جائیں گی، نامۂ اعمال کھولے جائیں گے، جرائم کی بازپرس ہوگی، آسمان کے سارے پردے ہٹ جائیں گے اور دوزخ جنت سب چیزیں نگاہوں کے سامنے عیاں ہو جائیں گی۔ آخرت کا یہ سارا نقشہ کھینچنے کے بعد یہ کہہ کر انسان کو سوچنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے کہ اس وقت ہر شخص کو خود معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔
اس کے بعد رسالت کا مضمون دیا گیا ہے۔ اس میں اہل مکہ سے کہا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں ہے، نہ کسی شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ ہے، بلکہ خدا کے بھیجے ہوئے ایک بزرگ، عالی مقام اور امانت دار پیغام بر کا بیان ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھلے آسمان کے افق پر دن کی روشنی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس تعلیم سے منہ موڑ کر آخرت تم کدھر چلے جا رہے ہو؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾ وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ ۪ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ ۪ۙ﴿۳﴾ وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ۪ۙ﴿۴﴾ وَ اِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۪ۙ﴿۵﴾ وَ اِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۪ۙ﴿۶﴾ وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ ۪ۙ﴿۷﴾ وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ ۚ﴿۹﴾ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ ﴿۪ۙ۱۰﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتۡ ﴿۪ۙ۱۱﴾ وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ﴿۪ۙ۱۲﴾ وَ اِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ﴿۪ۙ۱۳﴾ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ ﴿ؕ۱۴﴾ فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾ الۡجَوَارِ الۡکُنَّسِ ﴿ۙ۱۶﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ ﴿ۙ۱۷﴾ وَ الصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ ﴿ۙ۱۸﴾ اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾ ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾ وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾ وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾ وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾ وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾ فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾ وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا1 ، اور جب تارے بکھر جائیں گے2 ، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے3، اور جب دس مہینے کی حاملہ اُونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی4، اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے5، اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے6، اور جب جانیں 7﴿جسموں سے﴾ جوڑ دی جائیں گی8، اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قُصور میں مار ی گئی9؟ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے، اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا10، اور جب جہنّم دہکائی جائے گی، اور جب جنّت قریب لائی جائے11 گی، اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔
پس نہیں12 ، میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے اور چھُپ جانے والے تاروں کی ، اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا13، یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے14 جو بڑی توانائی رکھتا ہے15، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے16، وہ بااعتماد ہے17۔ اور ﴿اے اہلِ مکّہ﴾ تمہارا رفیق18 مجنون نہیں ہے، اُس نے اُس پیغام بر کو روشن اُفق پر دیکھا ہے19۔ اور وہ غَیب ﴿کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے﴾ کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے20۔ اور یہ کسی شیطان ِ مردُود کا قول نہیں ہے21۔ پھر تم لوگ کِدھر چلے جا رہے ہو؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے، تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہِ راست پر چلنا چاہتا ہو22۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ ربّ العالمین نہ چاہے23۔ ؏
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :1
1۔ سورج کے بے نور کر دیے جانے کے لیے یہ ایک بے نظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ سر پر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے ا ور پھر سر کے گرد اسے لپیٹا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل سارے نظام شمسی میں پھیلتی عمامہ سے تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا، یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :2
2۔ یعنی وہ بندش جس نے ان کو اپنے اپنے مدار اور مقام پر باندھ رکھا ہے، کھل جائے گی اور سب سارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کدار میں کدورت کا مفہوم بھی شامل ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف منتشر ہی نہیں ہو گے بلکہ تاریک بھی ہو جائیں گے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :3
3۔ دوسرے الفاظ میں زمین کی وہ کشش بھی ختم ہو جائے گی جس کی بدولت پہاڑ وزنی ہیں اور جمے ہوئے ہیں۔ پس جب وہ باقی نہ رہے گی تو سارے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور بے وزن ہو کر زمین پر اس طرح چلنے لگیں گے جیسے فضا میں بادل چلتے ہیں۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :4
4۔ عربوں کو قیامت کی سختی کا تصور دلانے کے لیے یہ بہترین طرز بیان تھا۔ موجودہ زمانہ کے ٹرک اور بسیں چلنے سے پہلے اہل عرب کے لیے اس اونٹنی سے زیادہ قیمتی مال اور کوئی نہ تھا جو بچہ جننے کے قریب ہو۔ اس حالت میں اس کی بہت ز یادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی تاکہ وہ کھوئی نہ ہو جائے، کوئی اسے چرا نہ لے ، یا اور کسی طرح وہ ضائع نہ ہو جائے۔ ایسی اونٹنیوں سے لوگوں کا غافل ہو جانا گویا یہ معنی رکھتا تھا کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد لوگوں پر پڑے گی کہ انہیں اپنے اس عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :5
5۔ دنیا میں جب کوئی عام مصیبت کام موقع آتا ہے تو ہر قسم کے جانور بھاگ کر ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت نہ سانپ ڈستا ہ ے، نہ شیر پھاڑتا ہے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :6
6۔ اصل میں لفظ سجرت استعمال کیا گیا ہے جو تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ تسجیر عربی زبان میں تنور کے ادر آگ دہکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑ اٹھے گی۔ لیکن اگر پانی کی حقیقت لوگوں کی نگاہ میں ہو تو اس م یں کوئی چیز بھی قابل تعجب محسوس نہ ہو گی۔ یہ سراسر اللہ تعالی کا معجزہ ہے کہ اس نے آکسیجن اور ھائیڈروجن، دو ایسی گیسوں کو باہم ملایا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے۔ اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مادہ پیدا کیا جو آگ بجھانے والا ہے۔ اللہ کی قدرت کا ایک اشارہ اس بات کے لیے باکل کافی ہے کہ وہ پانی کی اس ترکیب کو بدل ڈالے اور یہ دونوں گیسیں ایک دوسرے سے الگ ہو کر بھڑکنے اور بھڑکانے میں مشغول ہو جائیں جو ان کی اصل بنیادی خاصیت ہے۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :7
7۔ یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :8
8۔ یعنی انسان از سر نو اسی طرح زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :9
9۔ اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضبناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبناکی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالی کی نگاہ میں ایسے قبال نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے بوچھا جائے گا کہ تو بے چاری آخر کس قصور میں ماری گئی ، اور وہ اپنی داستان سنائے گی کہ ظالم ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا ظلم کیا اور کس طرح اسے زندہ دفن کردیا۔ اس کے علاوہ اس مختصر سی آیت میں دو بہت بڑی مضمون سمیٹ دیے گئے ہیں جو الفاظ میں بیان کیے بغیر خود بخود اس کے فحوی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں اہل عرب کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جاہلیت نے ان کو اخلاقی پستی کی کس انتہا پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ہی ا ولاد کو اپنے ہاتھوں زندہ در گور کرتے ہیں، پھر بھی انہیں اصرار ہے کہ اپنی اسی جاہلیت پر قائم رہیں گے اور اس اصلاح کو قبول نہ کریں گے جو محمد رسول اللہ ﷺ ان کے بگڑے ہوئے معاشرے میں کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے۔ جس لڑکی کو زندہ دفن کر دیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی چاہیے۔ اور جن ظالموں نے یہ ظلم کیا، آخر کبھی تو وہ قت آنا چاہیے جب ان سے اس بے دردانہ ظلم کی باز پرس کی جائے۔ دفن ہونے والی لڑکی کی فریاد نیا میں تو کوئی سننے والا نہ تھا۔ جاہلیت کے معاشرے میں اس فعل کو بالکل جائز کر رکھا گیا تھا۔ نہ ماں باپ کو اس پر کوئی شرم آتی تھی۔ نہ خاندان میں کوئی ان کو ملامت کرنے والا تھا۔ نہ معاشرے میں کوئی اس پر گرفت کرنے والا تھا۔ پھر کیا خدا کی خدائی میں ظلم عظیم بالکل ہی بے داد رہ جانا چاہیے؟
عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا یے بے رحمانہ طریقہ قدیم زمانے میں مختلف وجوہ سے رائج ہو گیا تھا۔ ایک، معاشی خستہ حالی جس کی وجہ سے لوگ چاہتے تھے کہ کھانے و الے کم ہوں اور اولاد کو پالنے پوسنے کا بار ان پر نہ پڑے۔ بیٹوں کو تو اس امید پر پال لیا جاتا تھا کہ بعد میں وہ حصول معیشت میں ہاتھ بٹائیں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کر دیا جاتا تھا کہ انہیں جوان ہونے تک پالنا پڑے گا اور پھر انہیں بیاہ دینا ہو گا۔ دوسرے، عام بد امنی جس کی وجہ سے سے بیٹوں کو اس لیے پالا جاتا تھا کہ جس کے جتنے زیادہ بیٹے ہوں گے اس کے اتنے ہی حامی و مدد گار ہوں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کر دیا جاتا تھا کہ قبائلی لڑائیوں میں الٹی ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی اور دفاع پر وہ کسی کام نہ آ سکتی تھیں۔ تیسرے عام بد امنی کا ایک شاخسانہ یہ بھی تھا کہ دشمن قبیلے جب ایک دوسرے پر اچانک چھاپے مارتے تھے تو جو لڑکیاں بھی ان کے ہاتھ لگتی تھیں انہیں لے جا کر وہ یا تو لونڈیاں بنا کر رکھتے تھے یا کہیں بیچ ڈالتے تھے۔ ان وجوہ سے عرب میں یہ طریقہ چل پڑا تھا کہ کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے آگے ایک گڑھا کھود رکھا جاتا تھا تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی جائے۔ اور کبھی اگر ماں اس پر راضی نہ ہوتی یا اس کے خاندان والے اس میں مانع ہوتے تو باپ بادل ناخواستہ اسے کچھ مدت تک پالتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جا کر زندہ دفن کر دیتا۔ اس معاملہ میں جو شقاوت برتی جاتی تھی اس کا قصہ ایک شخص نے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک مرتبہ بیان کیا۔ سنن دارمی کے پہلے ہی باب میں حدیث منقول ہے کہ ایک شخص نے حضورؐ سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی۔ جب میں اس کو پکارتا تو دوڑ دوڑی میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور ا پنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستہ میں ایک کنواں آیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے ابا ، ہائے ابا۔ یہ سن کر ر سول اللہ ﷺ رو دیے اور آپ کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا اے شخص تو نے حضورؐ کو غمگین کر دیا۔ حضورؐ نے فرمایا اسے مت روکو ، جس چیز کا اسے سخت احساس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا کہ اپنا قصہ بیان کر۔ اس نے دوبارہ اسے بیان کیا اور آپ سن کر اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہو گیا اللہ نے اسے معاف کر دیا، اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر۔
یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ اہل عرب اس انتہائی غیر انسانی فعل کی قباحت کا سرے سے کوئی احساس ہی نہ ر کھتے تھے۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی معاشرہ خواہ کتنا ہی بگڑ چکا ہو، وہ ایسے ظالمانہ افعال کی برائی کے احساس سے بالکل خالی نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے قرآن پاک میں اس فعل کی قباحت پر کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کی گئی ہے، بلکہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے الفاظ میں صرف اتنی بات کہہ کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ ا یک وقت آئے گا جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تو کس قصور میں ماری گئی ۔ عرب کی تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو زمانہ جاہلیت میں اس رسم قباعت کا احساس تھا۔ طبرانی کی روایت ہے کہ فرزدق شاعر کے دادا صعصعہ بن ناجیۃ المجاشعی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ، میں نے جاہلیت کے زمانے میں کچھ اچھے اعمال بھی کیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے 360 لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا اور ہر ایک کی جان بچانے دو دو اونٹ فدیے میں دیے۔ کیا مجھے ا س پر اجر ملے گا؟ حضورؐ نے فرمایا ہاں تیرے لیے اجر ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تجھے اسلام کی نعمت عطا فرمائی۔
در حقیقت یہ اسلام کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ عرب سے اس انتہائی سنگدلانہ رسم کا خاتمہ کیا، بلکہ اس تخیل کو مٹایا کہ بیٹی کی پیدائش کوئی حادثہ اور مصیبت ہے جسے بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے یہ تعلیم دی کہ بیٹیوں کو پرورش کرنا، انہیں عمدہ تعلیم و تربیت دینا اور انہیں اس قابل بنانا کہ وہ ایک اچھی گھر والی بن سکیں، بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس معاملہ میں لڑکیوں کے متعلق لوگوں کے عام تصور کو جس طرح بدلاہے اس کا اندازہ آپؐ کے ان بہت سے ارشادات سے ہو سکتا ہے جو احادیث میں منقول ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل میں ہم آپؐ کے چند ارشادات نقل کرتے ہیں:
من ابتلی من ہذہ البنات بشیء فا حسن الیھن کن لہ سنزاً من النار۔ (بخاری ، مسلم)
جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔

من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیمۃ انا و ھذا او ضم اصابعہ(مسلم)
جس نے دولڑکیوں کو پرورش کیا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا، یہ فرما کر حضورؐ نے اپنی انگلیوں کو جوڑ کر بتایا۔

من عال ثلث بنات او مثلھن من الاخوات فاد بھن و رحمھن حتی یغنیھن اللہ او جب اللہ لہ الجنۃ، فقال رجل یا رسول اللہ او اثنتین۔ قال او اثنتین حتی لو قالوا او واحدۃ لقال واحدۃ۔(شرح السنۃ)
جس شخص نے تین بیٹیوں، یا بہنوں کو پرورش کیا، ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ وہ اس کی مدد کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور دو، حضورؐ نے فرمایا اور دو بھی۔ حدیث کے راوی ابن عباس کہتے ہیں کہ ا گر لوگ اس وقت ا یک کے متعلق پوچھتے تو حضورؐ اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔

من کانت لہ انثیٰ فلم یئدھا و لم یھنھا و لم یؤثر والدہ علیھا ادخلہ اللہ الجنۃ۔ جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلیل کر کے رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔

من کان لہ ثلاث بنات و صبر علیھن و کساھن من جدتہ کن لہ حجابا من النار۔(بخاری فی الادب المفرد۔ ابن ماجہ)
جس کے ہاں تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی وسعت کے مطابق ان کو اچھے کپڑے پہنائے وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔

ما من مسلم تدرکہ ابنتان فیحسن صحبتھما الا ادخلتاہ الجنۃ۔(بخاری، ادب المفرد)
جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے وہ اسے جنت میں پہنچائیں گی۔

ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال لسراقۃ بن جعشم الا ادلک علی اعظم الصدقۃ او من اعظم الصدقۃ قال بلی یا رسول اللہ قال ابنتک المردودۃ الیک لیس لھا کا سب غیرک۔(ابن ماجہ۔ بخاری فی الادب المفرد)
نبی ﷺ نے سراقہ بن جعشم سے فرمایا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑا صدقہ۔ (فرمایا بڑے صدقوں میں سے ایک) کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ ۔ فرمایا تیری وہ بیٹی جو (طلاق پا کر یا بیو ہو کر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو۔
یہی وہ تعلیم ہے جس نے لڑکیوں کے متعلق لوگوں کا نقطہ نظر صرف عرب ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی ان تمام قوموں میں بدل دیا جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوتی چلی گئیں۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :10
10۔ یعین جو کچھ اب نگاہوں سے پوشیدہ ہے وہ سب عیاں ہو جائے گا۔ اب تو صرف خلا نظر آتا ہے یا پھر بادل ، گرد غبار، چاند اور تارے۔ لیکن اس وقت خدا کی خدائی اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سب کے سامنے بے پردہ ہو جائے گی۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :11
11۔ یعنی میدان حشر میں جب لوگوں کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہو گی اس وقت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ بھی سب کو نظر آ رہی ہو گی اور جنت بھی اپنی ساری نعمتوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہو گی تاکہ بد بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہو کر کہاں جانے والے ہیں، اور نیک بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے بچ کر کن نعمتوں سے سرفراز ہونے والے ہیں۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :12
12۔ یعنی تم لوگوں کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے یہ کسی دیوانے کی بڑ ہے یا کوئی شیطانی وسوسہ ہے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :13
13۔ یہ قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ آگے کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ مطلب اس قسم کا یہ ہے کہ محمد ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا بلکہ جب تارے چھپ ئگے تھے، رات رخصت ہو گئی تھی اور صبح روشن نمودار ہو گئی تھی، اس وقت کھلے آسمان پر انہوں نے خدا کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لیے وہ جو کچھ بان کر رہے ہیں وہ ان کے آنکھوں دیکھے مشاہدے اور پورے ہوش گوش کے ساتھ دن کی روشنی میں پیش آنے والےتجربے پرمبنی ے۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :14
14۔ اس مقام پر بزگ پیغامبر (رسول کریم) سے مراد وحی لانے والا فرشتہ ہے جیسا کہ آگے کی آیات سے بصراحت معلوم ہو رہا ہے۔ اور قرآن کو پیغام بر کا قول کہنے وا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اس فرشتے کا اپنا کلام ہے، بلکہ ’’قولِ پیغامبر‘‘ کے الفاظ خود ہی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ اس ہستی کا کلام ہے جس نے اسے پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔ سورہ الحاقۃ آیت 40 میں اسی طرح قرآن کو محمد ﷺ کا قول کہا گیا ہے اور وہاں بھیمراد یہ نہیں ہے کہ یہ حضورؐ کا اپنا تصنیف کردہ ہے بلکہ اسے ’’ رسولِ کریم‘‘ کا قول کہہ کر وضاحت کردی گئی ہے کہ اس چیز کو حضورؐ خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں نہ کہ محمدؐ بن عبداللہ کی حیثیت سے۔ دونوں جگہ قول کو فرشتے اور محمد ﷺ کی طرف منسوب اس بنا پر کیا گیا ہے کہ اللہ کا پیغام محمد صلی ا للہ علیہ و سلم کے سامنے پیغام لانے والے فرشتے کی زبان سے، اور لوگوں کے سامنے محمد ﷺ کی زبان سے ادا ہو رہا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن ، جلد ششم، الحاقہ، حاشیہ 22)۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :15
15۔ سورہ نجم آیات 4۔5 میں اسی مضمون کو یوں ا دا کیا گیا ہے کہ ان ھو الا وحی یوحی۔ علمہ شدید القوی۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نال کی جاتی ہے۔ اس کو زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے‘‘۔یہ بات درحقیقت متشابہات میں سے ہے کہ جبریل علیہ السلام کی ان زبردست قوتوں اور ان کی اس عظیم توانائی سے کیا مراد ہے۔ بہرحال اس سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں میں بھی وہ اپنی غیر معمولی طاقتوں کے اعتبار سے ممتاز ہیں۔ مسلم، کتاب الایمان میں حضرت عائشہؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے دومرتبہ جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے د رمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس شان میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ اس سے کچھ ان کی زبردست طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :16
16۔ یعنی وہ فرشتوں کا ا فسر ہے۔ تمام فرشتے اس کے حکم کے تحت کام کرتے ہیں۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :17
17۔ یعنی وہ اپنی طرف سے کوئی بات خدا کی وحی میں ملا دینے والا نہیں ، بلکہ ا یسا امانت دار ہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے اسے جوں کا توں پہنچا دیتا ہے۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :18
18۔ رفیق سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، اور آپ کو اہل مکہ کا رفیق کہہ کر در اصل انہیں اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ آپ ؐ ان کے لیے کوئی ا جنبی شخص نہیں ہیں بلکہ انہی کے ہم قوم اور ہم قبیلہ ہیں۔ انہی کے دریان آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی ہے، اور ان کا شہر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آپ کس قدر دانا اور ہوشمند انسان ہیں۔ ایسے شخص کو جانتے بوجھتے مجنون کہتے ہوئے انہیں کچھ تو شرم آنی چاہیے (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآ ن، جلد پنجم، النجم، حواشی 2۔3)۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :19
19۔ سورہ نجم آیات 7 تا 9 میں رسول اللہ ﷺ کے اس مشاہدے کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا یا ہے۔ (تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم، النجم، حواشی 7۔8)۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :20
20 یعنی رسول اللہ ﷺ تم سے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھتے۔ غیب کے جو حقائق بھی اللہ تعالی کی طرف سے ان ر کھولےگئے ہی، خواہ وہ اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں ہوں، یا فرشتوں کے بارے میں، یا زندگی بعد موت اور قامت اور آخرت اور جنت اور دوزخ کے بارے میں، سب کچھ تمہارے سامنے بے کم و کاست بیان کر دیتے ہیں۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :21
21۔ یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی شیطان آ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں یہ باتیں پھونک دیتا ہے۔ شیطان کا آخر یہ کام کب ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کو شرک ا ور بت پرستی اور دہریت و الحاد سے ہٹا کرخداپرست اور توحید کی تعلیم دے۔ انسان کو شتربےمہار بن کر رہنے کے بجائے خدا کے حضور ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلائے۔ جاہلانہ رسموں اور ظلم اور بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کر کے پاکیزہ زندگی، عدل اور تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی طرف رہنمائ کرے ۔ (مزیدتشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، الشعراء، آیات 210 تا 212 معی حواشی 130 تا 133، اور آیات 221 تا 223 مع حواشی 140 ۔ 141)۔

سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :22
22۔ بالفاظ دیگر یہ کلام نصیحت ہے تو ساری نوع انسانی کے لیے گر اس سے فائدہ وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو خود راست روی اختیار کرنا چاہتا ہو۔ انسان کا طالبِ حق اور راستی پسند ہونا اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے شرطِ اول ہے۔
سُوْرَةُ التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :23
23۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورہ مدثر آیت 56، اور سورہ دھر آیت 30 میں گزر چکا ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم، المدثر، حاشیہ 41۔



سید ابوالاعلی مودودی ؒ 
ماخوذ از تفہیم القرآن ج 6