قرآن کا موضوع ، جاوید احمد غامدی


قرآن کے بارے میں یہ بات اس کا ایک عام قاری بھی بہت آسانی کے ساتھ جان سکتا ہے کہ اس کا موضوع صرف وہ حقائق ہیں جن کو ماننے اور جن سے پیدا ہونے والے تقاضوں کو پورا کرنے ہی پر انسان کی ابدی فلاح کا انحصار ہے۔ وہ انھی حقائق کو انفس و آفاق اور تاریخ کے دلائل سے ثابت کرتا ہے، بنی آدم کو انھیں ماننے کی دعوت دیتا ہے، ان کو جھٹلا دینے کے نتائج سے انھیں خبردار کرتا ہے اور ان سے جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں، ان کی شرح و وضاحت کرتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی چیز سے اسے بحث نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لیے وہ عالم طبیعی کے بارے میں بھی اگر کچھ کہتا ہے تو اس کا بیان کبھی حقیقت کے خلاف نہیں ہوتا، لیکن اس عالم کے متعلق جو علوم و فنون انسان کی عقل نے دریافت کیے ہیں اور جو وہ آنے والے زمانوں میں دریافت کرے گی، انھیں قرآن مجید کبھی زیر بحث نہیں لاتا۔ اس طرح کی کوئی چیز سرے سے اس کا موضوع ہی نہیں ہے۔

لیکن اسے کیا کہیے کہ اس امت کی تاریخ میں بارہا لوگ اس کتاب کو اس کی اس اصلی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے پہلے یہ مقدمہ قائم کیا کہ یہ چونکہ اللہ کی کتاب ہے، اس لیے دنیا کے سارے علوم و فنون اس میں لامحالہ ہونے چاہییں۔ اس کے بعد وہ اپنے اس مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے اس بات کے درپے ہوئے کہ کسی طرح ان علوم و فنون کے ماخذ اس کی آیات میں سے ڈھونڈ نکالے جائیں۔ چنانچہ زبان و بیان اور نظم کلام کی ہر دلالت کو نظرانداز کر کے کبھی فلسفۂ یونان کے اوہام اس سے ثابت کیے گئے، کبھی ایک خاص زمانے کی سائنسی معلومات کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ درحقیقت اس کی فلاں اور فلاں آیت سے اخذ کی گئی ہیں، کبھی علم طب اور نجوم و فلکیات کے بعض عقائد اس سے برآمد کیے گئے، اور کبھی انسان کے ایٹم بم بنانے اور چاند پر پہنچنے کا ذکر اس میں سے نکال کر دکھایا گیا۔

یہ ساری زحمت لوگوں کو صرف اس لیے اٹھانا پڑی کہ انھوں نے اس کتاب کے بارے میں بالکل غلط تصور قائم کر لیا۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ عالم کے پروردگار نے اس کتاب سے پہلے انسان کو عقل عطا کی ہے۔ جس طرح یہ کتاب پروردگار کی عنایت ہے، اسی طرح عقل بھی اسی کی عنایت ہے۔ چنانچہ جن معاملات میں عقل کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہے، ان سے اس کتاب کو کوئی تعلق نہیں اور جن سے یہ کتاب بحث کرتی ہے، ان میں عقل اگر اپنے وجود ہی سے غافل نہ ہو جائے تو اس کی رہنمائی سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتی۔

یہ صرف قرآن مجید ہی کا معاملہ نہیں ہے، اللہ کے نبی نے اپنے بارے میں بھی یہ حقیقت اپنے ماننے والوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھائی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کھجوروں میں گابھا دیتے ہوئے دیکھا توفرمایا: اس کے بغیر ہی ٹھیک ہے۔ انھوں نے اس سال گابھا نہیں دیا ۔ چنانچہ پھل بہت ردی آیا۔ لوگوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم اس طرح کے معاملات کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔ میں تمھیں اللہ کا دین بتانے آیا ہوں، اس لیے میری طرف صرف اسی کے لیے رجوع کیا کرو۔


ہم اگر قرآن مجید سے فی الواقع ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ اس کی طرف صرف دین کے حقائق و معارف جاننے کے لیے رجوع کریں۔ اپنے سونے کے لیے چارپائی بنانے اور اپنی آواز زہرہ و مریخ تک پہنچانے کے لیے ہمیں اپنی عقل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نے انسان کو اپنے دائرۂ عمل میں کبھی مایوس نہیں کیا۔


قرآن مجید ہم کو یہ بتانے کے لیے نازل کیاگیا ہے کہ اپنے پروردگار کی رضا ہم اس دنیا میں کن چیزوں کو مان کر اور کن چیزوں پر عمل کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس کی آیات میں اپنی خواہشوں کا مضمون پڑھنے کے بجائے اپنی خواہشوں کو اس کی پیروی کے لیے مجبور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن میں جگہ جگہ واضح کی ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی شرط یہی ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دنیا کے سارے علوم و فنون اسی ایک کتاب میں دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو، لیکن اس کی یہ خواہش اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ اس میں صرف اس علم کا بیان ہے جو انسان کی ابدی فلاح کے لیے ضروری ہے۔


(بشکریہ، ماہنامہ اشراق )






تاریخ قرآن مجید (حصہ دوم ) - ڈاکٹر حمید اللہ ؒ


محقیقین کا خیال ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور میں لکھاگیا ہے
قرآن مجید کا قدیم ترین نسخہ 

قرآن مجید کی تبلیغ و اشاعت کے متعلق قدیم ترین ذکر ابن اسحٰق کی کتاب المغازی میں ملتا ہے۔ یہ کتاب ضائع ہو گئی تھی لیکن اس کے بعض ٹکڑے حال ہی میں ملے ہیں اور حکومت مراکش نے ان کو شائع بھی کیا ہے۔ اس میں ڈیڑھ سطر کی ایک بہت دلچسپ روایت ہے، جسے ابن ہشام نے اپنی سیرۃ النبی میں معلوم نہیں کس بناء پر یا سہواً چھوڑ دیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: “جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کی کوئی عبارت نازل ہوتی تو آپ سب سے پہلے اس مردوں کی جماعت میں تلاوت فرماتے پھر اس کے بعد اسی عبارت کو عورتوں کی خصوصی محفل میں بھی سناتے”۔ اسلامی تاریخ میں یہ ایک ہم واقعہ ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں کی تعلیم سے بھی اتنی ہی دلچسپی تھی جتنی مردوں کی تعلیم سے۔ یہ قدیم ترین اشارہ ہے جو قرآن مجید کی تبلیغ کے متعلق ملتا ہے۔ اس کے بعد کیا پیش آیا یہ کہنا مشکل ہے لیکن بالکل ابتدائی زمانے ہی سے ہمیں ایک نئی چیز کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ قرآن مجید کو لکھوا یا جائے اور غالباً حفظ کرانا بھی اسی ابتدائی زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پہلی وحی کے موقع پر قرآن مجید کی سورۂ اقراء کی پہلی پانچ آیتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں تو ایک حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دو کام اور کیے۔ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استنجاء اور وضو کرنا سکھایا کہ نماز کے لیے کس طرح اپنے آپ کو جسمانی طور پر پاک کریں۔ دوسرے یہ کہ نماز پڑھنے کا طریقہ بھی بتایا۔ خود جبرئیل علیہ السلام امام بنے اور پیغمبر مقتدی کی حیثیت سے پیچھے کھڑے دیکھتے رہے کہ پہلے کھڑے ہوں، پھر رکوع میں جائیں، پھر سجدہ کریں وغیرہ اور ساتھ ساتھ خود بھی وہی کرتے رہے۔ ظاہر ہے کہ نماز میں قرآن مجید کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، لہٰذا ابتدائی زمانے ہی سے جب لوگ مسلمان ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ہو گا کہ قرآن مجید کو حفظ بھی کرو اور روزانہ جتنی نمازیں پڑھنی ہوں ان نمازوں میں ان کا اعادہ بھی کرتے رہو۔ گویا اس وقت ہمیں دو باتیں نظر آتی ہیں۔ قرآن مجید حفظ کرنا اور اسی کو لکھنا۔ آدمی کو کسی نئی چیز کو ازبر کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی تحریری عبارت ہو تو اس کو بار بار پڑھتا ہے بالآخر وہ حفظ ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن کو حفظ کرنا اور لکھنا دونوں ایک ہی زمانے کی چیزیں ہیں۔ ہمارے مورخ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو وہ اپنے صحابہ میں سے کسی ایسے شخص کو جسے لکھنا پڑھنا آتا ہوتا، یاد فرماتے اور اس کو املا کراتے تھے۔ اہم بات یہ بیان ہوئی ہے کہ لکھنے کے بعد اس سے کہتے کہ “جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر سناؤ” تاکہ اگر کاتب نے کوئی غلطی کی ہو تو اس کی اصلاح کرسکیں۔ یہ قرآن مجید کی تدوین کا آغاز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ لکھوانے کے بعد اپنے صحابہ کو حکم دیتے کہ اسے ازبر کر لو اور روزانہ دو وقت کی نمازوں میں پڑھو۔ اس وقت دو نمازیں تھی معراج کے بعد پانچ نمازیں ہوئیں تو دو کے بجائے پانچ مرتبہ اس کو لوگ نماز میں دہرانے لگے۔ اس کا ایک عملی فائدہ یہ ہے کہ اگر آدمی کا حافظہ اچھا نہ ہو اور سال بھر میں مثلاً صرف عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن قرآن مجید کو حافظے کی مدد سے پڑھے تو ممکن ہے کہ اس کو بھول جائے لیکن اگر کوئی آدمی روزانہ پانچ مرتبہ دہراتا ہے تو ظاہر ہے قرآن مجید اس کے حافظے میں رہے گا اور وہ اسے نہیں بھولے گا۔

الغرض قرآن مجید کو لکھنے اور اسے حفظ کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ اس سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال ہمیں نظر نہیں آتی ہے۔ ا س سے بڑھ کر ایک اور کام بھی ہوا وہ یہ کہ فرض کیجئے میرے پاس ایک تحریری نسخہ موجود جس میں کسی نہ کسی وجہ سے کتابت کی کچھ غلطیاں موجود ہیں اس غلط نسخے کو میں حفظ کر لیتا ہوں۔ اس طرح میرا حفظ بھی غلط ہو گا۔ اس کی اصلاح کس طرح کی جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف بھی توجہ فرمائی اور حکم فرمایا کہ ہر مسلمان کو کسی مستند استاد ہی سے قرآن مجید پڑھنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بڑھ کر قرآن مجید سے کون واقف ہوسکتا ہے؟ اس لیے ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ اگر اس کے پاس تحریری نسخہ موجود ہے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلاوت کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر فرمائیں کہ ہاں یہ نسخہ ٹھیک ہے تب اسے حفظ کیا جائے۔ جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو ظاہر ہے کہ ایک آدمی سارے لوگوں کو تعلیم و تربیت نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایسے صحابہ کو جن کی قرآن دانی کے متعلق آپ کو پورا اعتماد تھا یہ حکم دیا کہ اب تم بھی پڑھایا کرو۔ یہ وہ مستند استاد تھے جن کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سند دیتے تھے کہ تم پڑھانے کے قابل ہو اور اس کا سلسلہ آج بھی دنیا میں قائم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی استاد سے قرآن مجید پڑھتا ہے تو قرات کی تکمیل کے بعد استاد کی طرف سے اسے جو سند ملتی ہے اس میں وہ استاد لکھتا ہے کہ “میں نے اپنے شاگرد فلاں کو قرآن مجید کے الفاظ، قرآن مجید کی قرات کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر یہ تعلیم دی ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جو میرے استاد نے مجھ تک پہنچائی تھی اور اس نے مجھے اطمینان دلایا تھا کہ اس کو اس کے اپنے استاد نے اسی طرح پڑھایا تھا۔ اس کا سلسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی محفوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

اسلامی روایات (Tradition) کے سوا دنیا کی کسی قوم نے اپنی مذہبی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یہ اصول کبھی اختیار نہیں کیے تھے۔ یہ چیزیں قرآن مجید کی تدوین کے سلسلے میں عہد نبوی میں ہی پیش آئیں مگر اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ ایک اور چیز کی بھی شروع ہی سے ضرورت تھی۔ قبل اس کے کہ میں اس کا ذکر کرو، قرآن مجید کے تحریری نسخوں کے متعلق بھی کچھ آپ کو بتاتا چلوں کہ ان کا کب سے پتہ چلتا ہے۔ غالباً نبوت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کے واقعہ سے آپ واقف ہوں گے۔ وہ اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت جانی دشمن تھے۔ ایک دن یہ طے کر کے گھر سے نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) قتل کر ڈالوں۔ راستے میں ان کا ایک رشتہ دار ملا جس نے اسلام تو قول کر لیا تھا لیکن اسے چھپا کر رکھا تھا۔ اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ہتھیار سے لیس ہو کر کہاں جا رہے ہو؟ چونکہ وہ رشتہ دار تھا اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بتا دیا کہ میں محمد کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے جا رہا ہوں کہ اس نے ہنگامہ مچا رکھا ہے۔ اس رشتے دار نے کہا اے عمر، اپنے قبیلے کو بنو ہاشم کے قبیلے سے جنگ میں الجھانے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن فاطمہ بھی مسلمان ہو چکی ہے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ پہلے اپنے گھر کی خبر لو بعد میں دنیا کی اصلاح کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیران ہوئے اور سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ دروازے کے پاس انہوں نے اندر سے کچھ آواز سنی جیسے کوئی شخص گا رہا ہے یا خوش الحانی سے کچھ پڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بہت زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، گھر سے ایک شخص نکلا اور یہ اندر پہنچے۔ وہاں بہن اور بہنوئی سے جو سخت کلامی ہوئی اس سے آپ لوگ واقف ہیں۔ میں مختصراً ذکر کر رہا ہوں کہ بالآخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بہن کواس بات پر آمادہ کر لیا کہ جو چیزیں پڑھ رہی تھیں وہ ان کو دکھائیں۔ انہوں نے غسل کرانے کے بعد آپ کو وہ چیز پیش کی۔ یہ قرآن مجید کی چند سورتیں تھیں۔ ان کو پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ متاثر ہوئے اور مسلمان ہو گئے۔ اس واقعے سے میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی کم از کم چند سورتوں کے تحریری صورت میں پائے جانے کا ذکر سنہ ٥ نبوی ہی سے یعنی قبل ہجرت سے ملتا ہے۔ اس کے بعد جس تحریری نسخے کا پتہ چلتا ہے اس کا ذکر بھی دلچسپ ہے۔ یہ غالباً بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ ہے۔ مدینے سے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ان میں سے بنی زریق کے ایک شخص کے بارے میں مؤرخین نے صراحت سے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی اس وقت تک نازل شدہ سورتوں کا مکمل مجموعہ ان کے سپرد کیا۔ یہ صحابی مدینہ منورہ پہنچ کر اپنے قبیلے میں اپنے محلے کی مسجد میں اسے روزانہ با آواز بلند پڑھا کرتے تھے۔ گویا قرآن مجید مدون ہونے یا تحریری صورت میں پائے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جس کا مورخوں نے صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

میں یہ بیان کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قرآن کو کسی مستند استاد سے پڑھنا پہلی خصوصیت تھی۔ دوسری خصوصیت تحریری صورت میں محفوظ رکھنا، تاکہ اگر کہیں بھول جائے تو تحریر دیکھ کر اپنے حافظے کو تازہ کر لیا جائے اور تیسری خصوصیت اسے حفظ کرنا تھا۔ ان تین باتوں کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن اس میں ایک پیچیدگی اس طرح پیدا ہو گئی تھی کہ قرآن مجید کامل حالت میں بہ یک وقت نازل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ جستہ جستہ 23 سال کے عرصے میں نازل ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میکانیکی طور پر مدون نہیں کیا کہ پہلی آیت شروع میں ہو اور بعد میں نازل شدہ دوسرے نمبر پر رہے بلکہ اس کی تدوین الہام اور حکمت نبوی کے تحت ایک اور طرح سے کی گئی۔ قرآن مجید کی اولین نازل شدہ آیتیں جیسا کہ میں نے ابھی آپ سے عرض کیا سورۂ اقراء کی ابتدائی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ آیتیں سورہ نمبر 96 میں ہیں۔ جب کہ قرآن مجید کی کل سورتیں 114 ہیں۔ ان میں 96 نمبر پر ابتدائی سورۃ ہے۔ قرآن مجید میں اب جو بالکل ابتدائی سورتیں ملتی ہیں، مثلاً سورہ بقرہ وغیرہ وہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ دوسرے الفاظ میں قرآن مجید ترتیب کے لحاظ سے مدون نہیں ہوا بلکہ ایک دوسری صورت میں مرتب ہوا۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو دشواریاں پیش آسکتی تھیں۔ یعنی آج ایک سورۃ نازل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت دیتے ہیں کہ اس کو فلاں مقام پر لکھو۔ پھر کل ایک آیت نازل ہوئ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اس کو فلاں آیت سے قبل لکھو یا فلاں آیت کے بعد لکھو یا فلاں سورۃ میں لکھو۔ اس لیے ضرورت تھی کہ وقتاً فوقتاً نظر ثانی ہوتی رہے۔ لوگوں کے ذاتی نسخوں کی اصلاح اور نظر ثانی کا ذکر بھی ہجرت کے بعد سے ملتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے مہینے میں دن کے وقت قرآن مجید کو جتنا اس سال تک نازل ہوا تھا با آواز بلند دہرایا کرتے تھے اور ایسے صحابہ جن کو لکھنا پڑھنا آتا تھا وہ اپنا ذاتی نسخہ ساتھ لاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت پر اس کا مقابلہ کرتے جاتے تاکہ اگر ان سے کسی لفظ کے لکھنے میں یا سورتوں کو صحیح مقام پر درج کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ اس کی اصلاح کر لیں۔ یہ چیز “عرضہ” یا پیشکش کہلاتی تھی۔ مؤرخین مثلاً امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ آخری سال وفات سے چند ماہ پہلے جب رمضان کا مہینہ آیا تو آپ نے پورے کا پورا قرآن مجید لوگوں کو دو مرتبہ سنایا اور یہ بھی کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری وفات قریب آ گئی ہے کیونکہ قرآن حکیم کے متعلق جبرئیل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں دو مرتبہ پڑھ کر سناؤں تاکہ اگر کسی سے غلطیاں ہوئی ہوں تو باقی نہ رہیں۔ یہ تھی تدبیر جو آخری نبی نے آخری پیغام ربانی کی حفاظت کے لیے اختیار فرمائ۔ اس طرح قرآن مجید کے ہم تک قابل اعتماد حالت میں پہنچنے کا اہتمام ہوا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو شروع میں قرآن مجید کی طرف کسی کی توجہ مبذول نہ ہوئ۔ لوگوں کے پاس جو کچھ موجود تھا اس کو نماز میں پڑھا کرتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے لیکن پھر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اسلامی حکومت بلکہ تمام مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ قرآن مجید کی طرف فوری توجہ دیں۔ اس زمانے میں قرآن مجید کا کوئی سرکاری نسخہ موجود نہیں تھا اور غالباً کسی ایک شخص کے پاس بھی کامل قرآن مجید لکھا ہوا موجود نہیں تھا۔ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آیا۔ ہوا یوں کہ ملک میں چند لوگ مرتد ہو گئے اور مسلیمہ کذاب نے نہ صرف ارتداد کیا بلکہ نئے نبی ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔ وہ چونکہ ایک طاقتور قبیلے کا سردار تھا اس لیے بہت سے لوگ اس کے حامی بھی ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے جنگ کی۔ یہ جنگ بہت شدید تھی اور اس میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی جب کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جنگ بھی دشمن کے علاقے میں یمامہ کے مقام پر ہوئ۔ میں جب وہاں گیا تھا تو وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ جنگ موجود شہر ریاض کے مضافات میں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ ان شہید ہونے والوں میں چند لوگ ایسے بھی تھے جو قرآن مجید کے بہترین حافظ تھے۔ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئ۔ مدینے کے مسلمانوں کو فتح پر خوشی ہوئی لیکن یہ اطلاع پاکر کہ بہت سے برگزیدہ اور بہترین حافظ قرآن مسلمان اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں رنج بھی ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر قرآن مجید کے تحفظ پر حکومت نے توجہ نہ کی اور حافظ قرآن رفتہ رفتہ آئندہ جنگوں میں شہید ہوتے رہے یا طبعی موت سے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے تو پھر قرآن مجید کے لیے بھی وہی دشواری پیش آئے گی جو پرانے انبیاء علیہ السلام کی کتابوں کے سلسلے میں پیش آئی تھی۔ اس لیے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے امیر المومنین قرآن کے تحفظ پر توجہ فرمائیے۔ یمامہ کی جنگ میں چھ ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں جن میں بہت سے حافظ قرآن بھی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تجویز پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب، ان کی سیرت کے ایک خاص پہلو کا مظہر ہے۔ وہ فدائے رسول تھے اور فدائے رسول کا جواب ایسا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحث کرتے ہیں۔ بالآخر دونوں اس بات پر رضا مند ہوئے کہ کسی تیسرے شخص کو حاکم بنائیں اور وہ جو فیصلہ کر دے اس پر عمل کریں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا حاکم بنایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاتب وحی تھے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فوری جواب بھی وہی تھا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں؟ دوبارہ بحث ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا اے زید! اگر لکھیں تو اس میں حرج کیا ہے؟ روایت میں حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ واقعی حرج تو مجھے بھی نظر نہیں آتا۔ یہ ایک جذباتی رویہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو ہم کیسے کریں؟ لیکن اگر کریں تو اس سے کوئی امر مانع نظر نہیں آتا۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ یہ کام میں سر انجام دوں تو مجھے یہ اتنا مشکل معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تدوین کے مقابلے میں اگر مجھے جبلِ احد کے سرپر اٹھانے کا حکم دیا جاتا تو وہ میرے لیے آسان ہوتا۔

قرآن مجید کی تدوین کے سلسلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے شہر مدینہ میں ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ جس شخص کے پاس قرآن مجید کا کوئی حصہ تحریری صورت میں موجود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس “عرضہ” کے موقع پر جو تلاوت ہوتی تھی اس سے کر کے تصحیح شدہ ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا ہوا نسخہ موجود ہے تو وہ لا کر اس کمیشن کے سامنے پیش کرے۔ کمیشن کے صدر حضرت زید بن ثابت تھے لیکن کئی اور مددگار بھی تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔ اس کمیشن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ قرآن مجید کے جو نسخے پیش کیے جائیں قابل اعتماد ہوں، عرضہ میں پیش کیے ہوئے نسخے ہوں۔ اگر کوئی آیت کم سے کم دو تحریری نسخوں میں موجود ہو تو اسے لکھا جائے ورنہ رد کر دی جائے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس طرح قرآن مجید کی تدوین ہوئی اور اس کو ایک کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔ یہ بات بھی نہ بھلائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کم از کم پچیس حافظ موجود تھے جن میں سے کچھ انصار تھے اور کچھ مہاجرین، جنہیں سارا قرآن مجید زبانی یاد تھا۔ ان میں ایک خاتون حافظہ حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ خود اس کمیشن کے صدر، زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حافظ تھے۔ اس لیے انہوں نے جو کچھ لکھا اس میں یقین کے ساتھ لکھا کہ ان کے ذہن میں بھی اسی طرح موجود ہے یہاں ایک اور چھوٹی سی بات کا ذکر کرتا ہوں کہ جب لوگ نسخہ لا کر پیش کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں حکم دیتے تھے کہ قسم کھا کر بتاؤ کہ یہ نسخہ جو تم پیش کر رہے ہو وہی ہے جس کی تصحیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی ہے۔ وہ قسم کھا کر یقین دلاتے تو پھر اس سے استفادہ کیا جاتا۔ جب پورا قرآن مجید لکھا جا چکا تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے شروع سے آخر تک پڑھا۔ اس میں مجھے ایک آیت کم نظر آئی یہ آیت میرے حافظے میں تو موجود تھی مگر کسی تحریری نسخے میں موجود نہیں تھی۔ چنانچہ میں نے شہر کے چکر لگائے۔ ہر گھر میں داخل ہوا اولاً مہاجرین کے گھروں میں، کسی کے پاس یہ آیت تحریری صورت میں موجود نہیں تھی۔ پھر انصار کے گھروں کو گیا۔ بالآخر ایک شخص کے پاس ایک تحریری نسخہ ملا۔ وہ نسخہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا ہوا تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت تھی کہ جب تک دو تحریری نسخے نہ ملیں اس وقت تک اس کو قرآن کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ جبکہ یہ آیت صرف ایک تحریری نسخے میں ملی تھی۔ لیکن یہاں مشیت خداوندی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اتفاق سے یہ وہ شخص تھا جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس کے کسی کام سے خوش ہو کر کہا تھا کہ آج سے تمہاری شہادت دو شہادتوں کے مساوی سمجھی جائے گی، ان کا نام خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ غرض یہ قدرت کی طرف سے پیشگی انتظام تھا۔ اس طرح اس آیت کو انہوں نے صرف ایک شخص سے لے کر نقل کیا۔ ان کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے قرآن کو دوبارہ پڑھا تو ایک اور آیت کی بھی کمی نظر آئی۔ ممکن ہے کہ وہ ایک ہی واقعہ ہو اور آیت کے متعلق راویوں میں اختلاف ہو۔ بہر حال وہاں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس نام والے ایک شخص نے وہ چیز بیان کی۔ یہ آیتیں جن کا ہمارے پاس صراحت سے ذکر موجود ہے، کہ کون سی آیتیں تھی، فرض کیجئے کہ اگر آج ہم ان کو قرآن مجید سے خارج بھی کر دیں تو کوئی اہم چیز خارج نہیں ہوتی۔ قرآن مجید کی جن آیتوں کی طرف یہ اشارہ ہے ان کا مفہوم دوسری آیتوں میں بھی موجود ہے۔ لیکن بہر حال جس احتیاط سے قرآن مجید کی تدوین عمل میں آئی اس کا مقابلہ تاریخ عالم کی دینی کتابوں می سے کوئی کتاب بھی نہیں کرسکتی۔

ایک اور نکتہ یہاں بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہو گا اور اسی پر یہ تقریر ختم کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کا ذکر ہے، جرمنی کے عیسائی پادریوں نے یہ سوچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں آرامی زبان میں جو انجیل تھی وہ تو اب دنیا میں موجود نہیں۔ اس وقت قدیم ترین انجیل یونانی زبان میں ہے اور یونانی سے ہی ساری زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یونانی مخطوطوں کو جمع کیا جائے اور ان کا آپس میں مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ یونی زبان میں انجیل کے نسخے جتنے دنیا میں پائے جاتے تھے کامل ہوں کہ جزوی، ان سب کو جمع کیا گیا اور ان کے ایک ایک لفظ کا باہم مقابلہ (Collation) کیا گیا۔ اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے لفظ یہ ہیں: “کوئی دو لاکھ اختلافی روایات ملتی ہیں” یہ ہے انجیل کا قصہ۔ غالباً اس رپورٹ کی اشاعت سے کچھ لوگوں کو قرآن کے متعلق حسد پیدا ہوا۔ جرمنی ہی میں میونک یونیورسٹی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا “قرآن مجید کی تحقیقات کا ادارہ” اس کا مقصد یہ تھا کہ ساری دنیا سے قرآن مجید کے قدیم ترین دستیاب نسخے خرید کر، فوٹو لے کر، جس طرح بھی ممکن ہو جمع کیے جائیں۔ جمع کرنے کا یہ سلسلہ تین نسلوں تک جاری رہا۔ جب میں 1933ء میں پیرس یونیورسٹی میں تھا تو اس کا تیسرا ڈائریکٹر پریتسل Pretzl، پیرس آیا تھا تاکہ پیرس کی پبلک لائبریری میں قرآن مجید کے جو قدیم نسخے پائے جاتے ہیں ان کے فوٹو حاصل کرے۔ اس پروفیسر نے مجھ سے شخصاً بیان کیا کہ اس وقت (یہ 1933ء کی بات ہے) ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں قرآن مجید کے بیالیس ہزار نسخوں کے فوٹو موجود ہیں اور مقابلے (Collation) کا کام جاری ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس ادارے کی عمارت پر ایک امریکی بم گرا اور عمارت اس کا کتب خانہ اور عملہ سب کچھ برباد ہو گیا لیکن جنگ کے شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے ایک عارضی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں کہ قرآن مجید کے نسخوں میں مقابلے کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا وہ ابھی مکمل تو نہیں ہوا لیکن اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ان نسخوں میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں تو ملتی ہیں لیکن اختلافاتِ روایت ایک بھی نہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کتابت کی جو غلطی ایک نسخے میں ہو گی وہ کسی دوسرے نسخوں میں نہیں ہو گی۔ مثلاً فرض کیجئے “بسم اللہ الرحیم” میں “الرحمٰن” کا لفظ نہیں لیکن یہ صرف ایک نسخے میں ہے۔ باقی کسی نسخے میں ایسا نہیں ہے۔ سب میں “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” ہے۔ اس کو ہم کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ یا کہیں کوئی لفظ بڑھ گیا ہے مثلاً ایک نسخے میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے باقی نسخوں میں نہیں تو اسے کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی چیزیں کہیں کہیں سہو قلم یعنی کاتب کی غلطی سے ملتی ہیں لیکن اختلاف روایت یعنی ایک ہی فرق کئی نسخوں میں ملے ایسا کہیں نہیں ہے۔ یہ قرآن مجید کی تاریخ کا خلاصہ، جس سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں خدا کا جو فرمان ہے (انا نحن نزلنا الذکر ونا لہ لحافظون) “ہم ہی اسے نازل کرتے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے” یہ تمام واقعات جو میں نے آپ سے بیان کیے اس آیت کی حرف بحرف تصدیق کرتے ہیں۔"

( ماخوز از خطبات بہاولپور ، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ )

حروف مقظعات ، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ



میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد میں دوسرے سوالوں پر توجہ کرسکتا ہو۔ ایک سوال حروف مقطعات کے متعلق ہے۔ یعنی قرآن مجید میں بعض جگہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ حروف ہیں مثلاً الم، حم، عسق، وغیرہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان الفاظ کی کبھی تشریح نہیں فرمائی۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تشریح فرما دی ہوتی تو بعد میں کسی کو جرات نہ ہوتی کہ اس کے خلاف کوئی رائے دے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کم از کم ساٹھ ستر آراء پائی جاتی ہیں۔ الف صاحب یہ بیان کرتے ہیں۔ ب صاحب وہ بیان کرتے ہیں اور یہ چودہ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ اس کا قصہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی لوگ نئی نئی رائے دے رہے ہیں۔ لطیفے کے طور پر میں عرض کرتا ہوں۔ 1933ء کی بات ہے۔ میں پیرس یونیورسٹی میں تھا، تو ایک عیسائی ہم جماعت نے ایک دن مجھ سے کہا کہ مسلمان ابھی تک حروف مقطعات کو نہیں سمجھ سکے۔ میں بتاتا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے؟ وہ موسیقی کا ماہر تھا، کہنے لگا کہ یہ گانے کی جو لے اور دھن وغیرہ ہوتی ہے ان کی طرف اشارہ ہے۔ کہنے کا منشا یہ ہے کہ لوگ حروف مقطعات کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اپنی حد تک میں کہہ سکتا ہوں مجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ سوائے ایک چیز کے اور وہ یہ ہے کہ ایک حدیث میں کچھ اشارہ ملتا ہے کہ ایک دن کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور پوچھا کہ تمہارا دین کب تک رہے گا؟ کم و بیش اسی مفہوم کے الفاظ انہوں نے ادا کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ “الم” تو انہوں نے کہا اچھا تمہارا دین الف (١) ل(٣۰) اور م(٤۰) یعنی اکہتر سال رہے گا الحمد للہ اکہتر سال بعد تمہارا دین ختم ہو جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر “الر” اور “المر” بھی نازل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا الر ٢٣١ سال المرا ٢٧ سال۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مجھ پر فلاں فلاں لفظ بھی نازل ہوا ہے مثلاً لحم عسق وغیرہ۔ یہاں تک کہ یہودیوں نے کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا اور چلے گئے ہوسکتا ہے کہ انہیں پریشان کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا جواب دیا ہو۔ لیکن اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے کہ حروف کی گویا عددی قیمت ہے۔ جس طرح لوگ واقف ہیں کہ الف کے ایک، ب کے دو، ج کے تین اور د کے چار عدد مقرر ہیں اسی طرح عربی زبان میں اٹھائیس حروف ہیں۔ ان سے بہت ہی مکمل طریقے سے ایک ہزار تک لکھ سکتے ہیں تاکہ ہندسہ لکھنے میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو حروف کے ذریعے اسے دور کیا جاسکے۔ میں نے سنا ہے کہ سنسکرت میں بھی یہ طریقہ موجود ہے لیکن سنسکرت میں حروف تہجی ٢٨ سے کہیں زیادہ ہیں اور اس میں ایک سو مہاسنکھ تک لکھ سکتے ہیں۔ بہر حال ایک ہزار ہماری ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ یہ تھا حروف مقطعات کے متعلق میری معلومات کا خلاصہ۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ اس سے زیادہ میں آپ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کرسکتا۔

قرآن مجید میں اَسمائے حُسنٰی کی تکرار کا راز


قرآن مجید میں اَسمائے حُسنٰی کی تکرار اصل کا راز


اللہ تعالی  نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے :-
وللہِ الاَسمَاۤءُ الحُسنٰی فَادعُوہُ بِھَا  (سورۃ الاعراف : 180) اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ، وہی نام لے کر اس کو پکارو۔
یہ نام گنتی میں ننانوے(99) کی تعداد کو پہونچتے ہیں ، قرآن مجید کے اٹھائیسویں(28) پارہ میں  ایک جگہ ان میں سے چودہ (14) نام اس طرح لئے گئے ہیں کہ پڑھنے والے کو وجد سا آنے لگتا ہے ، اور وہ پڑھتے ہوئے جھوم اٹھتا ہے ، یہاں و ہ آیا ت نقل کی جاتی ہیں :-

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (٢٢)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (٢٣)هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (٢٤)

(سورۃ الحشر : 22-24)

وہ اللہ ایسا (پاک ذات ) ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے  والا ، وہی بڑا مہربان (اور ) رحم کرنے  والا ہے ، وہ اللہ  ایسا (پاک) ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (تمام جہاں کا ) بادشاہ ہے ، پاک ذات ہے ، (تمام) عیبوں سے بری ہے ، امن دینے والا ہے ، نگہبان ہے ، زبردست ہے ، بڑا دباؤ والا ہے بڑی عظمت رکھتا ہے ، یہ لوگ جیسے جیسے شرک کر تے ہیں اللہ (کی ذات ) اس سے پاک ہے ، وہی اللہ (ہر چیز کا ) خالق (ہر چیز کا ) مُوجد ( مخلوقات کی طرح طرح کی ) صورتیں بنانے والا ہے ( اس کی اچھی اچھی صفتیں ہیں ، اور اسی سبب سے ) اس کے اچھے ہی اچھے نام ہیں جو (مخلوقات ) آسمان و زمین میں ہے (سب ہی تو ) اس کی تسبیح (وتقدیس ) کر تے ہیں ، و ہ زبر دست (اور ) حکمت والا ہے ۔


یہ نام برائے نام نہیں  ، اللہ تعالی کی ( جو اس کائنات ، زمین و آسمان اور انسان کا پیدا کرنے والا اور اس کارخانۂ قدرت کا تنہا چلانے والا ہے ) صفات ہیں ، ان سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ ان خوبیوں ، قدرتوں ، کمالات اور اوصاف کا مالک ہے ، اس کو اپنی مخلوق سے کیسا تعلق ہے ، وہ ان پر کتنا مہربان ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کتنا قابلِ محبت  ، مستحقِ اطاعت و عبادت اور تعظیم و احترام ہے ، کیا چیز ہے جو اس کے پاس نہیں اور اس کےاحاطۂ قدرت میں داخل نہیں ؟ کائنات میں اس سے زیادہ محبت کرنے والا ، اچھائی کی قدر کرنے والا ، رحم کرنے والا ، انصاف کرنے والا ، چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ، اور بڑی سی بڑی چیز اور مشکل سے مشکل کام کو نیست سے ہست میں لانےوالا ،  اور ناممکن کو ممکن بنانے والا ، اس کے علاوہ کو ن ہے ؟ پھر کیوں نہ اس سے محبت کی جائے ، اس کی بڑائی کی گیت  گائی جائیں ، اٹھتے بیٹھتے اس کا نام لیا جائے ، ہر مشکل ہر مصیبت میں اس کو پکارا جائے ، اس کی دُہائی دی جائے ، اس کے سہارے جیا جائے ، زندگی بھر اس کا دم بھرا جائے ، اور اس کے منشاپر چلا جائے ، اپنی جان اپنے ماں باپ اور اولاد ، اور پیاری سے پیاری چیز سے زیادہ اس سے محبت  کی جائے ، پھر اس سب کے ہوتے ہوئے اس کے سوا کسی کی بندگی کرنے ، کسی سے دعا و التجاکرنے اور کسی کو کار ساز و مشکل کشا سمجھنے کا کیا جواز ہے ۔
رب اور بندہ کے تعلق کو سمجھنے کے لئے بھی خدا کی صفات (ATTRIBUTES) سے واقفیت ضروری ہے ، اس لئے کہ تعلقات ہمیشہ صفات کے تابع ہوتے ہیں ، صفات ہی سے ان کی نمد ہے ، اگر ہم کو کسی دو ہستیوں یا دو شخصیتوں کے صفات کا علم نہیں ، اور ہم حسن سلوک اور احسان مندی کے اس رشتہ سے واقف نہیں جو ان دونوں کے درمیان قائم ہے ، تو ہم ان تعلقات کی صحیح نوعیت کبھی نہیں سمجھ سکتے ، وہ تمام تعلقا ت جن کو ہم زندگی میں برتتے ہیں ، جن سے قانون کی تشکیل ہوتی ہے اور جو کسی تہذیب و معاشرہ کو وجود میں لاتے ہیں ،  وہ سب درحقیقت ان ہی صفات کے تابع ہیں جن کی کارفرمائی انسانی معاشرہ پر ہم کو نظر آرہی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی صحیفے اور تمام مذہبوں اور شریعتون نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ زور خدا کی صفات پر دیا ہے، اس کے بعد عبادات ، طاعات اور فرائض و معاملات کی تفصیل بیان کی ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالے کے صفات کریمہ ، اسمائے حسنی  ، اس کے افعال و تصرفات ، اس کی قوت و قدرت ، اس کی صنعت  وخلاقی ، اس کے لطف و رحمت ، اس کی محبت و رافت ، اس کے جود وکرم ، اس کے عفو و درگذر ،  اس کے عطا و منع ، اس کے نفع و ضرر ، اس کے علم و معرفت اس کے قرب و معیت ، اس کے احاطۂ  قدرت اور اس کے قبول و نواز ش کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جمال ، و جلال ، کمال و نوال ، اور حسن و احسان کی آخری مثال بندہ کے سامنے آجاتی ہے ۔ 
وللہ المثل الاعلی وھو العزیز الحکیم (سورۃ النمل – 60) اللہ کی شان (سب سے ) اعلی ہے ، اور وہ زبردست حکمت والا ہے ۔
لیس کمشلہ شیئ وھو السمیع البصیر ( سورۃ الشوری -11) کوئی چیز اس کے مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والاہے (ہر چیز ) دیکھنے والاہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی کے صفات و افعال اور اس کے انعامات کا اتنی کثرت سے ذکر اور اعادہ و تکرار اور اس قدر شرح و بسط کے ساتھ بیان کا اصل راز یہی ہے ، اس لئے کہ صفات ہی محبت و شوق کا سر چشمہ ہیں یہی اثبات ہے (ASSERTION) (یعنی اللہ تعالی کی صفات کریمہ کا بیان اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر )  جس سے انسان کے ذوق و شوق کو غذا ملتی ہے ، اور محبت جوش مانے لگتی ہے ، اگر اللہ تعالی کی یہ صفات عالیہ اور اسمائے حسنی ہمارے سامنے نہ ہوں ، جن سے قرآن و حدیث بھرے پڑے ہیں  اور جن پر عشاق اور محبین ہمیشہ سر دھنتے رہے ، عارفین ان کے ترانے گاتے رہے ، ذاکرین ان کی تسبیح میں مشغول رہے ، اور ان کاکلمہ پڑھتے رہے ، تو ان کا دین ایک چوبی اور آہنی نظام کی طرح ہوجاتا،  جس کی  دلوں میں کوئی جگہ نہ ہوتی ، یہ نہ ان میں کوئی جذبہ ار گرم جوشی پیدا کرسکتا ، نہ ان کے دلوں کو گرم اور نہ آنکھوں کو نم کر نے کی صلاحیت رکھتا ، نہ اس سے دعا میں انابت و رقت کی کیفیت ہوتی نہ دل میں سر فروشی کا جوش ، نہ سر میں  اس کا سود ا ، اس کے بغیر خدا اور بندہ کا تعلق ایک مردہ اور محدود تعلق ہے ، اس میں نہ کوئی زندگی ہے ، نہ روح ، نہ لچک نہ وسعت ، زندگی ایک ایسی خشک ، سخت اور بے جان چیز ہے ، جو لذت آرزو ، متاع شوق ، جنون و شوریدگی کی دولت سے باکل تہی دامن اور محروم ہے ۔
اگر انسانیت سے یہ دولت چھین لی جائے ، تو زندگی اور موت،  اور انسان و جمادات میں آخر کیا فرق  باقی رہ جائے گا ؟

(ماخوز  از" اسمائے حسنی"  تالیف : مفکر اسلام سید ابوالحسن علی  ندوی ؒ  ، دائرہ حضرت شاہ علم اللہ ؒ رائے بریلی ، 16
 شوال المکرّم 1410ھ ،  12 مئی 1990ء)


تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟


تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے ؟

Which of the blessings of your Lord will you deny ?


سورۃ الرحمن  

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾ عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾ اَلشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿۪۵﴾ وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾ وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾ وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ ﴿۹﴾ وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾ وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾ وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾ رَبُّ الۡمَشۡرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الۡمَغۡرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۸﴾ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۱﴾ یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۳﴾ وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۲۵﴾


نوٹ : تفسیر ی حاشیہ کے لے ترجمہ میں  درج نمبر پر کلک کریں 

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
رحمن نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے 1 ۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا 2اور اسے بولنا سکھا یا ۔ 3
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں 4 اور تارے5 درخت سب سجدہ ریز ہیں 6۔ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی7 ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تو لو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو 8۔
زمین9 کو اس نے سب مخلوقات کے لیۓ بنایا10 اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں ۔ کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوۓ ہیں ۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی 11۔ پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں 12 کو جھٹلاؤ گے 13؟
انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوۓ گارے سے بنا یا 14 اور جن کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا 15 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن عجائب قدرت 16 کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں مشرق اور دونوں مغرب ، سب کا مالک پروردگار ہی ہے 17 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں 18کو جھٹلاؤ گے ؟
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ با ہم مل جائیں ، پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے 19 ۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟
ان سمندروں سے موتی اور 20 مونگے نکلتے ہیں 21 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے 22؟
اور یہ جہاز اسی کے ہیں23 جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوۓ ہیں ۔ پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن احسانات کو جھٹلاؤ 24گے ؟ ع



کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾ وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾ یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۰﴾ سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾ یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾ فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾ یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۲﴾ ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾ یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۴۵﴾

ہر چیز 25 جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کے کن کن کما لات کو جھٹلاؤ گے 26 ؟ زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں ۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے27۔ پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمید ہ کو جھٹلاؤ گے؟ 28 ۔
اے زمین کے بوجھو 29، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیۓ فارغ ہو ۓ جاتے ہیں 30 ، (پھر دیکھ لیں گے کہ ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ تے ہو31 ؟۔ اے گرہ جن و انس اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ نہیں بھاگ سکتے ۔ اس کے لیۓ بڑا زور چاہیے32 ۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو ) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں 33 چھوڑ دیا جاۓ گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے ۔ اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ پھر (کیا بنے گی اس وقت ) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جا ۓ 34گا؟ اے جن و انس (اس وقت ) تم اپنے کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے 35؟
اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گنا ہ پوچھنے کی ضرورت نہ 36 ہو گی ، پھر پھر (دیکھ لیا جاۓ گا کہ ) تم دونوں گروہ رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو37۔ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیۓ جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جاۓ گا ۔ اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ (اس وقت کہا جاۓ گا ) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے ۔ اسی جہنم اور کھولتے ہوۓ پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں 38 گے ۔ پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے39؟ ع



وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۴۷﴾ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۹﴾ فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ تَجۡرِیٰنِ ﴿ۚ۵۰﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۱﴾ فِیۡہِمَا مِنۡ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوۡجٰنِ ﴿ۚ۵۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۳﴾ مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۵﴾ فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۵۶﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۵۷﴾ کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۹﴾ ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ ﴿ۚ۶۰﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾ وَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۶۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۶۳﴾ مُدۡہَآ مَّتٰنِ ﴿ۚ۶۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۵﴾ فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ﴿ۚ۶۶﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۷﴾ فِیۡہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ ﴿ۚ۶۸﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۹﴾ فِیۡہِنَّ خَیۡرٰتٌ حِسَانٌ ﴿ۚ۷۰﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۱﴾ حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِی الۡخِیَامِ ﴿ۚ۷۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۳﴾ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۷۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۵﴾ مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّ عَبۡقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿ۚ۷۶﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۷۷﴾ تَبٰرَکَ اسۡمُ رَبِّکَ ذِی الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿٪۷۸﴾

اور ہر اس شخص کے لیۓ جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا40 ہو، دو باغ41 ہیں ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے 42؟ ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں43 ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشتوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر و بیز ریشم کے ہوں 44گے ، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑی ہوں گی ۔ اپنے رب کی کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے۔؟ ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں45 گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہو گا46۔ ا پنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا47 ہے ۔ پھر اے جن و انس ، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے48؟
اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں 49گے ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ گھنے سر سبز و شاداب باغ50 ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوۓ ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں51 ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھو ہو گا ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں52پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟
بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام ۔ع


(ماخوذ از تفہیم القرآن ، سورۃ الرحمن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

فیصلہ سازی کے تین قرآنی اصول

سید ابوالاعلی مودودیؒ 


قرآن تین اصولی ہدایات دیتا ہے:



اوّل: یہ کہ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، 

’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو‘‘ (النحل، رکوع۶،الانبیاء، رکوع۱)۔ اس آیت میں ’اہل الذکر‘کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ ’ذکر‘ کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں مخصوص طور پر اُس سبق کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ اور اس کے رسولؑ نے کسی اُمت کو دیا ہو، اور ’اہل الذکر‘ صرف وہ لوگ ہیں، جنھیں یہ سبق یاد ہو۔ اس لفظ سے محض علم (knowledge) مراد نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اس کا اطلاق لازماً علمِ کتاب و سنت ہی پر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے میں مرجعیت کا مقام اُن لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے، جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتے ہوں اور اُس طریقے سے باخبر ہوں جس پر چلنے کی تعلیم اللہ کے رسولؐ نے دی ہے۔




دوم :یہ کہ وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ ۝۰ۭ [النساء۴:۸۳] 


’’اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں، حالاں کہ اگروہ اس کو رسولؐ تک اور اپنے اُولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے، وہ لوگ جو ان کے درمیان اس کی کنہ نکال لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے کو پیش آنےوالے اہم معاملات میں، خواہ وہ امن کی حالت سے تعلق رکھتے ہوں یا جنگ کی حالت سے، غیراندیش ناک نوعیت کے ہوں یا اندیش ناک نوعیت کے، ان میں صرف وہی لوگ مرجع ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اُولی الامر ہوں، یعنی جن پر اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو، اور جو’استنباط‘ کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور کتاب اللہ و طریقِ رسولؐ اللہ سے بھی دریافت کرسکتے ہوں کہ اس طرح کی صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اجتماعی مہمات اور معاشرے کے لیے عام اہل الذکر کے بجاے ان لوگوں کو مرجع قرار دیتی ہے جو اُولی الامر ہوں۔


سوم: یہ کہ اَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ (الشوریٰ۴۲:۳۸) ،


’’ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے‘‘۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا آخری فیصلہ کس طرح ہونا چاہیے۔


ان تین اصولوں کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں وہ ’اہل الذکر‘ سے رجوع کریں۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے مسائل، تو وہ اُولی الامر کے سامنے لائے جائیں، اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ کی رُو سے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق و صواب ہے۔(’رسائل و مسائل ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۱، رجب ۱۳۷۷ھ/اپریل ۱۹۵۸ء،ص ۴۴-۴۵)


(ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، شمارہ ، اپریل 2018)

بنی اسرائیل کے فسادات ، بائبل اور قرآن مجید

ارشاد باری تعالی ہے  ۔ 

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾ (بنی اسرائیل )

میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاوٴ گے۔ آخرِ کار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اُٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھُس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پُورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ اِس کے بعد ہم نے تمہیں اُن پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور بُرائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے بُرائی ثابت ہوئی۔

 پھر جب دُوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دُوسرے دشمنوں کو تم پر مسلّط کیا تا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد ﴿بیت المَقدِس﴾ میں اُسی طرح گھُس جائیں جس طرح پہلے دُشمن گھُسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں۔ 
----------------------------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے بنی اسرائیل کے ان فسادات کے بارے ے میں بائبل کے بیانات کو جمع کردیا :


"بائیبل کے مجموعہ کتبِ مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے بُر ے نتائج پر بنی اسرائیل کو زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل میں متنبہ کیا گیا ہے، اور دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیش گوئی حضرت مسیح ؑ نے کی ہے جو متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی پوری تصدیق ہو جائے۔

پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں:
”انہوں نے اُن قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خدا وند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنےلگے جو ان کے لیے پھندا بن گئے۔ بلکہ اُنہوں نے اپنی بیٹیوں کو شیاطین کے لیے قربان کیا اور معصوموں کا، یعنی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون بہایا۔۔۔۔۔۔ اس لیے خدا وند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے نفرت ہوگئی اور اس نے ان قوموں کے قبضے میں کردیا اور ان سے عداوت رکھنے والے اُن پر حکمراں بن گئے“
(زبور، باب ١۰٦۔ آیات۳۴۔۴١)

نزول قرآن کے وقت غیر ضروری سوالات کی ممانعت


نزول قرآن کے وقت غیر ضروری سوالات  میں پڑنے کی ممانعت


ارشاد باری تعالی ہے :   يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ  وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔   (سورۃ المائدۃ :101، 102)

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،  لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ "

  غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی (دینی مسائل جاننے کا)صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے ۔(1)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ بیٹھے کہ”میرا اصلی باپ کون ہے؟“ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا” کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے؟“ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر خاموش ہوگئے۔ تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ”تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکو گے اور نافرمانی کرنے لگو گے“۔۔۔۔۔۔۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔ " ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۔ ”  مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی“۔
 ایک دوسری حدیث میں ہے۔ "  ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا و حرم حرمات فلا تنتھکو ھا وحَدّ حُدُوْداً فلا تعتدُوْھَا وسَکتَ عَنْ اشیَا من غیر نسیان فلا تبحثو ا عنھا۔”
"اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ “۔

 ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے۔ جن امور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیل اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیا ہے، ان میں اجمال اور عدم تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھول ہوگئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے، استنباط سے کسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصل، مطلق کو مقَیَّد، غیر معین کو معین بنا کر ہی چھوڑتا ہے، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی امور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ الجھن کے مواقع بڑھیں گے، اور احکام میں جتنی قیود زیادہ ہوں گی پیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے ۔(2)

اب قرآن کی آیات تلاوت کریں  ، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

  يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ  وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔   (سورۃ المائدۃ :101، 102)
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،  لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ "

مولانا امین احسن  اصلاحی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں " یہ بھی برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اوپر ان سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں جو ابتدائے سورۃ میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اب یہ تنبیہ فرمائی کہ جو  مفید سوال تھے ان کے جواب دے دیے گئے لیکن ایسے سوال نہ کرو جن کے جواب اگر دے دیے جائیں تو تہارے مزاج اور تمہاری خواہش کے خلاف پڑنے کے سبب سے وہ تمہیں برے لگیں گے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ یہ زمانہ نزول قرآن کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ بارش کے ایام سے مشابہ ہے۔ بارش کے زمانہ میں جس طرح ہر بیج اگ پڑتا ہے اسی طرح اس زمانے میں جو سوال بھی کروگے اس کا جواب نازل ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے سوچ سمجھ کر وہی سوالات کرو جو دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے نافع اور علمِ شریعت میں اضافہ کے موجب ہوں۔ غیر ضروری سوالات اٹھا کر اپنی پابندیوں میں اضافہ کی راہ نہ کھولو، خدا بخشنے والا اور بردبار ہے۔ اس وجہ سے اس نے تمہارے لیے ضرورت سوالات نظر انداز کردیے ہیں۔ اگر انکے بھی جواب دے دیے جاتے تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کو نباہ نہ پاتے اور اس طرح  اپنے ہی ہاتھوں اپنی راہ میں کانٹے بونے والے اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والے بنتے۔
اس کے بعد بطور مثال ایک قوم کا حوالہ دیا ہے۔ مراد تو اس سے بالبداہت یہود ہیں لیکن ان کا نام نہیں لیا ہے بلکہ ان کا ذکر نکرہ کے ساتھ کیا ہے جس سے فی الجملہ اعراض اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنے نبی سے اسی طرح کے سوالات و مطالبات کیے لیکن جب ان کو جواب دے دیے گئے تو وہ ان کے منکر بن بیٹھے۔ ان کے سوالوں کی نوعیت سورۃ بقرہ میں گائے کے قصہ سے واضح ہوچکی ہے اور پچھلی سورتوں میں یہ بات بھی ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ درحقیقت ان کے اسی طرح کے سوالات تھے جن سے انہوں نے اپنی ان قیدوں اور پابندیوں میں اضافہ کرایا جن کو قرآن نے اصر و اغلال سے تعبیر فرمایا ہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے غیر ضروری سوالوں کو نظر انداز فرما کر ہمیں اصر و اغلال سے بچایا ہے اور ان معاملات کو ہمارے عقل و اجتہاد پر چھوڑ دیا جن میں ہماری عقل و فطرت میں ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ یہ شریعت آخری اور کامل شریعت ہے، اس میں کوئی بات بھی معیار، سے مختلف نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں تھا جو اس کو معیار پر لاتا۔ اس کے برخلاف یہود کی شریعت میں، یہ ایک وقتی شریعت تھی، اس میں اگر اصر و اغلال تھے تو وہ جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، آخری پیغمبر کے زریعہ سے دور ہوگئے۔ 'قد سالہا' میں ضمیر کا مرجع مذکورہ سوال ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے بعینہ وہی سوالات کیے جن کی طرف اوپر اشارہ ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات کیے۔ عربی میں ضمیروں کا استعمال اس طرح بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔۔۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)     (تذکیر القرآن ، سورۃ المائدۃ : 101 ، 102 مولانا وحید الدین خان )
(2)     (تفہیم القرآن ،جلد 1 سورۃ المائدۃ : 101 ، 102 سید ابوالاعلی مودودی ؒ )
(3)     (تدبر قرآن ، جلد 2 سورۃ المائدۃ : 101، 102 ، مولانا امین احسن اصلاحی ؒ )

عیسائیوں میں مریم پرستی کی روایت

عیسائیوں میں مریم پرستی کی روایت 


اللہ تعالی نے سورۃ المائدہ کی آیت116 میں قیامت میں حضرت عیسی ؑ سے ہونے والی ایک گفتگو کا حوالہ دیا ، ارشاد فرمایا “ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟ ” تو وہ جواب میں عرض کرے گا “ سبحان اللہ ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں ۔" 

 اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں " عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم علیہا السلام کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ” مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول اول چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نسطُوریَس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جداگانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دنیا میں بحث و جدال کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے سن ٤٣١ میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی، اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ”مادر خدا“ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتٰی کہ نزول قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہوگئے۔ ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے، ان کے آگے عبادت کے جملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے، انہی سے دعائیں مانگی جاتی تھیں، وہی فریاد رس، حاجت روا، مشکل کشا اور بکسیوں کی پشتیبان تھیں، اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ” مادر خدا“ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ قیصر جسٹِینَن اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریم علیہا السلام کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہور جنرل نرسیس میدان جنگ میں حضرت مریم علیہا السلام سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمعصر قیصر ہِرَقْل نے اپنے جھنڈے پر ”مادر خدا“ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہوگا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مریم پرستی کے خلاف شدت سے آواز اٹھائی، لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔

(تفہیم القرآن جلد 1 سورۃ المائدہ آیت 116، سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :130، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )




سورۃ المدثر کے مضامین

زمانۂ نزول :


اس کی پہلی سات آیات مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ بعض روایات جو بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے منقول ہیں ان میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کی اولین آیات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئیں۔ لیکن امت میں یہ بات قریب قریب بالاتفاق مسلم ہے کہ پہلی وحی جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی وہ اقرا باسم ربک الذی خلق سے مالم یعلم تک ہے۔ البتہ صحیح روایات سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سر نو نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورۂ مدثر کی انہی آیات سے ہوا تھا۔ امام زہری رحمت اللہ علیہ اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں:

” ایک مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کا نزول بند رہا اور اس زمانے میں آپ پر اس قدر شدید غم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرا دینے کے لیے آمادہ ہو جاتے تھے لیکن جب کبھی آپ کسی چوٹی کے کنارے پر پہنچتے جبریل علیہ السلام نمودار ہو کر آپ سے کہتے ہیں آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپ کے دل کو سکون حاصل ہو جاتا تھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دور ہو جاتی تھی “

اس کے بعد امام زہری خود حضرت جابر بن عبد اللہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا: ایک روز میں راستے سے گزر رہا تھا۔ یکایک میں سے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہو گیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اُڑھاؤ، مجھے اُڑھاؤ۔ چنانچہ گھر والوں نے مجھ پر لحاف (یا کمبل) اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یاایھا المدثر ۔۔۔۔۔۔۔ پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا “

سورت کا باقی ماندہ حصہ آیت 8 سے آخر تک اس وقت نازل ہوا جب اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع ہو جانے کے بعد مکہ میں پہلی مرتبہ حج کا موقع آیا۔ اس کا مفصل واقعہ سیرت ابن ہشام میں بیان کیا گیا ہے۔

موضوع اور مضمون :


جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پہلی وحی جو بھیجی گئی تو وہ سورۂ علق کی ابتدائی پانج آیات پر مشتمل تھی جس میں صرف یہ فرمایا گیا تھا کہ:
” پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “

یہ نزولِ وحی کا پہلا تجربہ تھا جو اچانک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پیش آیا تھا۔ اس پیغام میں آپ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپ کس کارِ عظیم پر مامور ہوئے ہیں اور آگے کیا کچھ آپ کو کرنا ہے، بلکہ صرف ایک ابتدائی تعارف کرا کے آپ کو کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آپ کی طبیعت پر جو شدید بار اس پہلے تجربے سے پڑا ہے اس کا اثر دور ہو جائے اور آپ ذہنی طور پر آئندہ وحی وصول کرنے اور نبوت کے فرائض سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ 

اس وقفہ کے بعد جب دوبارہ نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سورہ کی ابتدائی سات آیتیں نازل کی گئیں اور ان میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اٹھیں اور خلق خدا کو اس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں، جہاں دوسروں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں، خدا کی بڑائی کا اعلان کریں۔ اس کے ساتھ آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب جو کام آپ کو کرنا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی زندگی ہر لحاظ سے انتہائی پاکیزہ ہو اور آپ تمام دنیوی فائدوں سے قطع نظر کر کے کامل اخلاص کے ساتھ خلق خدا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ پھر آخری فقرے میں آپ کو تلقین کی گئی کہ اس فریضہ کی انجام دہی میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان پر آپ اپنے رب کی خاطر صبر کریں۔

اس فرمانِ الٰہی کی تعمیل میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ نے سنانا شروع کیا تو مکہ میں کھلبلی مچ گئی اور مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ چند مہینے اس حال پر گزرے تھے کہ حج کا زمانہ آ گیا اور مکہ کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر جا جا کر آنے والے حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور حج کے اجتماعات میں جگہ جگہ کھڑے ہو کر قرآن جیسا بے نظیر اور موثر کلام سنانا شروع کر دیا، تو عرب کے ہر گوشے تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی اور نہ معلوم کون کون اس سے متاثر ہو جائے۔ 

اس لیے قریش کے سرداروں نے ایک کانفرنس کی جس میں طے کیا گیا کہ حاجیوں کے آتے ہی ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جائے۔ اس پر اتفاق ہو جانے کے بعد ولید بن مغیرہ نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے متعلق مختلف باتیں لوگوں سے کہیں تو ہم سب کا اعتبار جاتا رہے گا۔ اس لیے کوئی ایک بات طے کر لیجیے جسے سب بالاتفاق کہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم محمد ((صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو کاہن کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہیں، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے، جیسی وہ باتیں گنگناتے ہیں اور جس طرح کے فقرے وہ جوڑتے ہیں، قرآن کو ان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کچھ اور لوگ بولے، انہیں مجنون کہا جائے۔ ولید نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں ہیں۔ ہم نے دیوانے اور پاگل دیکھے ہیں۔ اس حالت میں آدمی جیسی بہکی بہکی باتیں اور الٹی سیدھی حرکات کرتا ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ کون باور کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) جو کلام پیش کرتے ہیں وہ دیوانگی کی بڑ ہے یا جنون کے دورے میں آدمی یہ باتیں کر سکتا ہے؟ 

لوگوں نے کہا کہ اچھا تو پھر ہم شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا، وہ شاعر بھی نہیں ہیں۔ ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہیں۔ اس کلام پر شاعری کی کسی قسم کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔ لوگ بولے، تو ان کو ساحر کہا جائے۔ ولید نے کہا وہ ساحر بھی نہیں ہیں۔ جادوگروں کو ہم جانتے ہیں اور اپنے جادو کے لیے جو طریقے وہ اختیار کرتے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ یہ بات بھی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر چسپاں نہیں ہوتی۔ پھر ولید نے کہا ان باتوں میں سے جو بات بھی تم کرو گے لوگ اس کو ناروا الزام سمجھیں گے۔ خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت ہے، اس کی جڑ بڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمر دار ہیں۔ اس پر ابو جہل ولید کے سر ہو گیا اور اس نے کہا تمہاری قوم تم سے راضي نہ ہوگی جب تک تم محمد کے بارے میں کوئی بات نہ کہو۔ اس نے کہا اچھا مجھے سوچ لینے دو۔ 

پھر سوچ سوچ کر بولا قریب ترین بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ تم عرب کے لوگوں سے کہو یہ شخص جادوگر ہے، یہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو آدمی کو اس کے باپ، بھائی، بیوی بچوں اور سارے خاندان سے جدا کر دیتا ہے۔ ولید کی اس بات کو سب سے قبول کر لیا۔ پھر ایک منصوبے کے مطابق حج کے زمانے میں قریش کے وفود حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور انہوں نے آنے والے زائرین کو خبردار کرنا شروع کیا کہ یہاں ایک ایسا شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کا جادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے، اس سے ہوشیار رہنا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام خود ہی سارے عرب میں مشہور کر دیا[3] اس قصے کا یہ حصہ کہ ابو جہل کے اصرار پر ولید نے یہ بات کہی تھی عکرمہ کی روایت سے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس پر اس سورت کے دوسرے حصے میں تبصرہ کیا گیا ہے۔

 اس کے مضامین کی ترتیب یہ ہے۔ 

آیت 8 سے 10 تک منکرین حق کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا برا انجام وہ قیامت کے روز دیکھ لیں گے۔

آیت 11 سے 26 تک ولید بن مغیرہ کا نام لیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس شخص کو کیا کچھ نعمتیں دی تھیں اور ان کا جواب اس نے کیسی حق دشمنی کے ساتھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کی ذہنی کشمکش کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ ایک طرف دل میں وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کی صداقت کا قائل ہو چکا تھا، مگر دوسری طرف اپنی قوم میں اپنی ریاست و وجاہت کو بھی خطرے میں نہ ڈالنا چاہتا تھا، اس لیے نہ صرف یہ کہ وہ ایمان لانے سے باز رہا، بلکہ کافی دیر تک اپنے ضمیر سے لڑنے جھگڑنے کے بعد آخر کار یہ بات بنا کر لایا کہ خلق خدا کو اس کلام پر ایمان لانے سے باز رکھنے کے لیے اسے جادو قرار دینا چاہیے۔ اس کی اس صریح بد باطنی کو بے نقاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اپنے اس کرتوت کے بعد بھی یہ شخص چاہتا ہے کہ اسے مزید انعامات سے نوازا جائے، حالانکہ اب یہ انعام کا نہیں بلکہ دوزخ کا سزاوار ہو چکا ہے۔

اس کے بعد آیت 27 سے 48 تک دوزخ کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کس اخلاق اور کردار کے لوگ اس کے مستحق ہیں۔

پھر آیات 49 - 53 میں کفار کے مرض کی اصل جڑ بتا دی گئی ہے کہ وہ چونکہ آخرت سے بے خوف ہیں اور اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ قرآن سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے شیر سے ڈر کر جنگلی گدھے بھاگے جا رہے ہوں، اور ایمان لانے کے لیے طرح طرح کی غیر معقول شرطیں پیش کرتے ہیں، حالانکہ خواہ ان کی کوئی شرط بھی پوری کر دی جائے، انکار آخرت کے ساتھ وہ ایمان کی راہ پر ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکتے۔

آخر میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے کہ خدا کو کسی کے ایمان کی کوئی ضرورت نہیں پڑ گئی ہے کہ وہ اس کی شرطیں پوری کرتا پھرے۔ قرآن ایک عام نصیحت ہے جو سب کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس کو قبول کر لے خدا اس کا مستحق ہے کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈریں، اور اسی کی یہ شان ہے کہ جو شخص بھی تقویٰ اور خدا ترسی کا رویہ اختیار کرلے اسے وہ معاف کر دیتا ہے خواہ وہ پہلے کتنی ہی نافرمانیاں کر چکا ہو۔



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾ وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾ وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾ وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾ وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾ فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾ فَذٰلِکَ یَوۡمَئِذٍ یَّوۡمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾ ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ مَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿ۙ۱۴﴾ ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿٭ۙ۱۵﴾ کَلَّا ؕ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿ؕ۱۶﴾ سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾ اِنَّہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۸﴾ فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۹﴾ ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۲۰﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾ ثُمَّ اَدۡبَرَ وَ اسۡتَکۡبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿ؕ۲۵﴾ سَاُصۡلِیۡہِ سَقَرَ ﴿۲۶﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾ لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾ لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ ﴿ۚۖ۲۹﴾ عَلَیۡہَا تِسۡعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾ وَ مَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃً ۪ وَّ مَا جَعَلۡنَا عِدَّتَہُمۡ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۙ لِیَسۡتَیۡقِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ یَزۡدَادَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِیۡمَانًا وَّ لَا یَرۡتَابَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ وَ لِیَقُوۡلَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡکٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ مَا ہِیَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡبَشَرِ ﴿٪۳۱﴾

( تفسیری حاشیہ  کے لئے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں ۔ )


اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔


ترجمہ : اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے1، اُٹھو اور خبر دار کرو2۔ اور اپنے ربّ کی بڑائی کا اعلان کرو3۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو4۔ اور گندگی سے دُور رہو5۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے6۔ اور اپنے ربّ کی خاطر صبر کرو7۔
اچھا، جب صُور میں پھُونک ماری جائے گی، وہ دن بڑا ہی سخت دن ہو8 گا، کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا9۔ چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص10 کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا11، بہت سامال اُس کو دیا، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے12، اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دُوں13۔ ہر گز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواوٴں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی ، تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اُس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر ﴿لوگوں کی طرف﴾ دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور مُنہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبُّر میں پڑ گیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادُو جو پہلے سے چلا آرہا ہے، یہ تو ایک انسانی کلام ہے14۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے15۔ کھال جھُلس دینے والی16۔ اُنّیس کارکن اُس پر مقرر ہیں۔۔۔۔ ہم 17نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں18 ، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے19، تاکہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے20 اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے21، اور اہلِ کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار22 اور کفّار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے23۔ اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے24۔ اور تیرے ربّ کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں25 جانتا۔۔۔۔ اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیےنہیں کیا گیا کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو26۔ ؏١


( تفہیم القرآں جلد 6 ، مفکراسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )