سچی دین داری اور یہود کی بے دینی

 کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے پاس اپنا پیغمبر بھیجے اور اس کے ذریعے اس گروہ کے اوپر ابدی فلاح کا راستہ کھولے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت سے پہلے یہ نعمت بنی اسرائیل (یہود) کو دی گئی تھی مگر مدت گزرنے کے بعد ان کا دین ان کے لیے ایک قسم کی تقلیدی رسم بن گیا تھا نہ کہ شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کی ہوئی ایک چیز۔

 نبی عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت نے حقیقت کھول دی۔ ان میں سے جن افراد کا شعور زندہ تھا وہ فوراً آپ کی صداقت کو پہچان گئے اور آپ کے ساتھ بن گئے۔ اور جن لوگوں کے لیے ان کا دین آبائی رواج بن چکا تھا ان کو آپ کی آواز نامانوس آواز لگی۔ وہ بدک گئے اور آپ کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ اگرچہ آپ کی نبوت کے بارے میں تورات میں اتنی واضح علامتیں تھیں کہ یہود کے لیے آپ کی صداقت کو سمجھنا مشکل نہ تھا، مگر دنیوی مفاد اور مصلحتوں کی خاطر انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔

 صدیوں کے عمل سے ان کے یہاں جو مذہبی ڈھانچہ بن گیا تھا اس میں ان کو سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھر ان کو ملتے رہتے تھے۔ ان کو نظر آیا کہ اگر انہوں نے نبی عربی کو سچا مان لیا تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔ 

یہود کو چوں کہ اس وقت عرب میں مذہب کی نمائندگی کا مقام حاصل تھا، لوگ ان سے نبی عربی کی بابت پوچھتے۔ وہ معصومانہ انداز میں کوئی ایسی شوشہ کی بات کہہ دیتے جس سے پیغمبر کی ذات اور آپ کا مشن لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہوجائے۔ اپنے وعظوں میں وہ لوگوں سے کہتے کہ حق پرست بنو اور حق کا ساتھ دو۔ مگر عملاً جب خود ان کے لیے حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو وہ حق کا ساتھ نہ دے سکے ۔

خدا کی پکار پر لبیک کہنا جب اس قیمت پر ہو کہ آدمی کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے، عزت و شرف کی گدیوں سے اپنے کو اتارنا ہو تو یہ وقت ان لوگوں کے لیے بڑا سخت ہوتا ہے جو انہیں دنیوی جلووں میں اپنا مذہبی مقام بنائے ہوئے ہوں، مگر وہ لوگ جو خشوع کی سطح پر جی رہے ہوں ان کے لیے یہ چیزیں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ وہ اللہ کی یاد میں، اللہ کے لیے خرچ کرنے میں، اللہ کے حکم کے آگے جھک جانے میں اور اللہ کے لیے صبر کرنے میں وہ چیز پا لیتے ہیں جو دوسرے لوگ دنیا کے تماشوں میں پاتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ڈرنے کی چیز اللہ کا غضب ہے نہ کہ دنیوی اندیشے ۔ (تفسیر سورۃ البقرۃ  آیات 40 تا 46) 

یہود کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لیے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت سی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ، وقتی لغزشوں سے درگزر، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور "خداوند کی طرف سے ان کے لیے روٹی کا انتظام" وغیرہ۔ اس سے یہود کی اگلی نسلیں اس غلط فہمی پڑگئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لیے پشتینی نہیں ہوتے۔

 کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں ۔

سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے۔ (تفسیر آیات 47۔۔ ۔57)


یہود پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ خدا کے شکر گزار بندے بنتے مگر انہوں نے بالکل برعکس ثبوت دیا۔ ایک بڑا شہر ان کے قبضہ میں دے دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں داخل ہو تو فاتحانہ تمکنت سے نہیں بلکہ عجز کے ساتھ اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے۔ مگر وہ اس کے بجائے تفریحی کلمات بولنے لگے۔ ان کو من و سلوی کی قدرتی غذائیں دی گئیں تاکہ وہ معاشی جدوجہد سے فارغ رہ کر احکام الٰہی کی بجا آوری میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہوں مگر انہوں نے چٹ پٹے اور مسالہ دار کھانوں کا مطالبہ شروع کردیا۔ انہوں نے دنیا میں ضرورت پر قناعت نہ کرکے لذت کی تلاش کی۔ ان کی بے حسی اتنی بڑھی کہ اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں بھی ان کے دلوں کو پگھلانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئیں۔ ان کی تنبیہہ کے لیے جو اللہ کے بندے اٹھے ان کو انہوں نے ٹھکرایا حتی کہ قتل کرڈالا۔ یہود میں یہ ڈھٹائی اس لیے پید اہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نجات یافتہ گروہ ہیں۔ مگر خدا کے یہاں نسلی اور گروہی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں۔ ایک یہودی کو بھی اسی خدائی قانون سے جانچا جائے گا جس سے ایک غیر یہودی کو جانچا جائے گا۔ جنت اسی کے لیے ہے جو جنت والے عمل کرے نہ کہ کسی نسل یا گروہ کے لیے ۔

زمین کے اوپر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیونکہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ حد سے نکل جانا ہے جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اپنی حد کے اندر عمل کرے ۔ (تفسیر آیات 58 تا 61)

 
(تذکیر القرآن ، تفسیر سورۃ البقرۃ آیت : 40 تا 61 ، مولانا وحید الدین خاں) 



اللہ تعالی اپنی نشانیوں سے انسانوں کو جانچتا ہے ۔

آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کے درمیان کھڑا کیا اور سجدہ کے امتحان کے ذریعہ آدم کو عملی طور پر بتایا کہ ان کے لیے زمین پر دو ممکن راہیں ہوں گی۔ ایک فرشتوں کی طرح حکم الٰہی کے سامنے جھک جانا، خواہ اس کا مطلب اپنے سے کمتر ایک بندے کے آگے جھکنا کیوں نہ ہو۔ دوسرا ابلیس کی طرح اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کے آگے جھکنے سے انکار کردینا۔ انسان کی پوری زندگی اسی امتحان کی رزم گا ہہے۔ 

یہاں ہر وقت آدمی کو دو رویوں میں سے کسی ایک رویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک ملکوتی رویہ، یعنی دنیا کی زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے، اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدمی حق و انصاف کے آگے جھک جائے۔ دوسری شیطانی رویہ، یعنی جب کوئی معاملہ پیش آئے تو آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ انکے زیر اثر آ کر صاحب معاملہ کے آگے جھکنے سے انکار کردے ۔

ممنوعہ درخت کا معاملہ بھی اسی ذیل کا ایک عملی سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بھٹکنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے ورغلانے میں آجائے اور اس حد میں قدم رکھ دے جس میں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ "منع کیے ہوئے پھل" کو کھاتے ہی آدمی اللہ کی نصرت، بالفاظ دیگر جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتا ہے۔

 تاہم یہ محرومی ایسی نہیں ہے جس کی تلافی نہ ہوسکتی ہو۔ یہ امکان آدمی کے لیے پھر بھی کھلا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے اور اپنے رویہ کو درست کرتے ہوئے اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔ جب بندہ اس طرح پلٹتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے اور اس کو اس طرح پاک کردیتا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہٰیں کیا تھا۔ 

کسی انسانی آبادی میں اللہ کی دعوت کا اٹھنا بھی اسی قسم کا ایک سخت امتحان ہے۔ داعی حق بھی گویا ایک "آدم" ہوتا ہے جس کے سامنے لوگوں کو جھک جانا ہے۔ اگر وہ اپنے کبر اور اپنے تعصب کی وجہ سے اس کا اعتراف نہ کریں تو گویا کہ انہوں نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا اس دنیا میں عیاناً سامنے نہیں آتا، وہ اپنی نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو جانچتا ہے۔ جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو پایا اسی نے خدا پایا اور جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو نہیں پایا وہ خدا سے محروم رہا ۔

(تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ، تفسیر سورۃ البقرۃ آیت : 34 تا 39) 

عیسی علیہ السلام کے رفع اور نزول کا عقیدہ

"اور خود (یہودیوں نے)  کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے۔ ۔۔ حالانکہ  فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا ۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے ۔اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا  اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا" 

(سورۃ النساء آیت : 157-159)

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اپنی تفسیر میں لکھتے  ہیں  کہ "حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا معاملہ یہودی قوم میں فی الواقع ذرہ برابر بھی مشتبہ نہ تھا بلکہ جس روز وہ پیدا ہوئے تھے اسی روز اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو اس بات پر گواہ بنا دیا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی شخصیت کا بچہ ہے جس کی ولادت معجزے کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی اخلاقی جرم کا۔ جب بنی اسرائیل کے ایک شریف ترین اور مشہور و نامور مذہبی گھرانے کی بن بیاہی لڑکی گود میں بچہ لیے ہوئے آئی، اور قوم کے بڑے اور چھوٹے سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اس کے گھر پر ہجوم کر کے آگئے، تو اس لڑکی نے ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے خاموشی کے ساتھ اس نوزائیدہ بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ تمہیں جواب دے گا۔ مجمع نے حیرت سے کہا کہ اس بچہ سے ہم کیا پوچھیں جو گہوارے میں لیٹا ہوا ہے۔ مگر یکایک وہ بچہ گویا ہوگیا اور اس نے نہایت صاف اور فصیح زبان میں مجمع کو خطاب کر کے کہا کہ اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ  اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ ” میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔“(سورہ مریم رکوع ٢)۔

 اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کی ہمیشہ کے لیے جڑ کاٹ دی تھی جو ولادت مسیح کے بارے میں پیدا ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سن شباب کو پہنچنے تک کبھی کسی نے نہ حضرت مریم (علیہ السلام) پر زنا کا الزام لگایا، نہ حضرت عیسیٰ کو ناجائز ولادت کا طعنہ دیا۔ لیکن جب تیس برس کی عمر کو پہنچ کر آپ نے نبوت کے کام کی ابتدا فرمائی، اور جب آپ نے یہودیوں کو ان کی بد اعمالیوں پر ملامت کرنی شروع کی، ان کے علماء و فقہاء کو ان کی ریاکاریوں پر ٹوکا، ان کے عوام اور خواص سب کو اس اخلاقی زوال پر متنبہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوگئے تھے، اور اس پرخطر راستے کی طرف اپنی قوم کو دعوت دی جس میں خدا کے دین کو عملاً قائم کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانیاں برداشت کرنی پڑتی تھیں اور ہر محاذ پر شیطانی قوتوں سے لڑائی کا سامنا تھا، تو یہ بےباک مجرم صداقت کی آواز کو دبانے کے لیے ہر ناپاک سے ناپاک ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے۔ اس وقت انہوں نے وہ بات کہی جو تیس سال تک نہ کہی تھی کہ مریم علیہا السلام معاذاللہ زانیہ ہیں اور عیسیٰ ابن مریم ولد الزنا۔ حالانکہ یہ ظالم بالیقین جانتے تھے کہ یہ دونوں ماں بیٹے اس گندگی سے بالکل پاک ہیں۔ پس درحقیقت ان کا یہ بہتان کسی حقیقی شبہہ کا نتیجہ نہ تھا جو واقعی ان کے دلوں میں موجود ہوتا، بلکہ خالص بہتان تھا جو انہوں نے جان بوجھ کر محض حق کی مخالفت کے لیے گھڑا تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے ظلم اور جھوٹ کے بجائے کفر قرار دیا ہے کیونکہ اس الزام سے ان کا اصل مقصد خدا کے دین کا راستہ روکنا تھا نہ کہ ایک بےگناہ عورت پر الزام لگانا۔ 

یعنی جرأت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ رسول کو رسول جانتے تھے اور پھر اس کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے۔ اوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے اس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہودیوں کے لیے مسیح (علیہ السلام) کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے حضرت موصوف سے مشاہدہ کیں ( جن کا ذکر سورۃ آل عمران رکوع ٥ میں گزر چکا ہے) ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہوچکا تھا کہ آنجناب اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس لیے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اس جرم کا ارتکاب اس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہے۔ 

بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اسے قتل کر دے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے انداز و اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں۔ وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جو ان کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے ان کو روکے۔ ایسے لوگ چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہوں، ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزائیں پاتے ہی رہے ہیں۔ تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المَقْدِس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اس کی سیر کرنے لگا۔ عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اسے ایک تیر کا نشان نظر آیا۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے جواب دیا”یہاں زکریا نبی کو ہم نے قتل کیا تھا۔ وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔ آخر جب ہم اس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اسے مار ڈالا“۔ بائیبل میں یرمیاہ نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گزر گئیں اور حضرت یرمیاہ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان اعمال کی پاداش میں خدا تم کو دوسری قوموں سے پامال کرادے گا تو ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں (کلدانیوں) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے۔ اس الزام میں ان کو جیل بھیج دیا گیا۔ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کے واقعہ صلیب سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ کا معاملہ پیش آچکا تھا۔ یہودی بالعموم ان کو نبی جانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ ان کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں۔ مگر جب انہوں نے ہیرو دیس (والی ریاست یہودیہ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہ کیا گیا۔ پہلے جیل بھیجے گئے، اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کردیا گیا۔ یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں مسیح کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو“ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے”۔ 

یہ آیت تصریح کرتی ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) صلیب پر چڑھائے جانے سے پہلے اٹھا لیے گئے تھے اور یہ کہ مسیحیوں اور یہودیوں، دونوں کا یہ خیال کہ مسیح نے صلیب پر جان دی، محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ قرآن اور بائیبل کے بیانات کا متقابل مطالعہ کرنے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غالباً پیلاطس کی عدالت میں تو پیشی آپ ہی کی ہوئی تھی، مگر جب وہ سزائے موت کا فیصلہ سنا چکا، اور جب یہودیوں نے مسیح جیسے پاک نفس انسان کے مقابلہ میں ایک ڈاکو کی جان کو زیادہ قیمتی ٹھیرا کر اپنی حق دشمنی و باطل پسندی پر آخری مہر بھی لگا دی، تب اللہ تعالیٰ نے کسی وقت آنجناب کو اٹھالیا۔ بعد میں یہودیوں نے جس شخص کو صلیب پر چڑھایا وہ آپ کی ذات مقدس نہ تھی بلکہ کوئی اور شخص تھا جس کو نہ معلوم کس وجہ سے ان لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم سمجھ لیا۔ تاہم ان کا جرم اس سے کم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس کو انہوں نے کانٹوں کا تاج پہنایا، جس کے منہ پر تھوکا اور جسے ذلت کے ساتھ صلیب چڑھایا اس کو وہ عیسیٰ بن مریم ہی سمجھ رہے تھے۔ اب یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ معاملہ کس طرح ان کے لیے مشتبہ ہوگیا۔ چونکہ اس باب میں کوئی یقینی ذریعہ معلومات نہیں ہے اس لیے مجرد قیاس و گمان اور افواہوں کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس شبہ کی نوعیت کیا تھی جس کی بنا پر یہودی یہ سمجھے کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم کو صلیب دی ہے درآں حالے کہ عیسیٰ ابن مریم ان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ 


اختلاف کرنے والوں سے مراد عیسائی ہیں۔ ان میں مسیح (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے پر کوئی ایک متفق علیہ قول نہیں ہے بلکہ بیسیوں اقوال ہیں جن کی کثرت خود اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل حقیقت ان کے لیے بھی مشتبہ ہی رہی۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر جو شخص چڑھایا گیا وہ مسیح نہ تھا بلکہ مسیح کی شکل میں کوئی اور تھا جسے یہودی اور رومی سپاہی ذلت کے ساتھ صلیب دے رہے تھے اور مسیح وہیں کسی جگہ کھڑا ان کی حماقت پر ہنس رہا تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر چڑھایا تو مسیح ہی کو گیا تھا مگر ان کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی بلکہ اتارے جانے کے بعد ان میں جان تھی۔ کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے صلیب پر وفات پائی اور پھر وہ جی اٹھے اور کم و بیش دس مرتبہ اپنے مختلف حواریوں سے ملے اور باتیں کیں۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب کی موت مسیح کے جسم انسانی پر واقع ہوئی اور وہ دفن ہوا مگر الوہیت کی روح جو اس میں تھی وہ اٹھالی گئی۔ اور کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد مسیح (علیہ السلام) جسم سمیت زندہ ہوئے اور جسم سمیت اٹھائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان لوگوں کے پاس حقیقت کا علم ہوتا تو اتنی مختلف باتیں ان میں مشہور نہ ہوتیں ۔ (1)



مولانا صلاح الدین یوسف اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں " یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور متواتر صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ حدیث کی تمام کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی وارد ہیں۔ ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول کا اور دیگر بہت سی باتوں کا تذکرہ ہے۔ امام ابن کثیر یہ تمام روایات کا ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں پس یہ احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متواتر ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، مجمع بن جاریہ، ابی سریحہ اور حذیفہ بن اسیر (رض) ہیں۔ ان احادیث میں آپ کے نزول کی صفت اور جگہ کا بیان ہے، آپ (علیہ السلام) دمشق میں منارہ شرقیہ کے پاس اس وقت اتریں گے جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔ آپ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، جزیہ معاف کر دیں گے، ان کے دور میں سب مسلمان ہوجائیں، دجال کا قتل بھی آپ کے ہاتھوں سے ہوگا اور یاجوج و ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپ کی موجودگی میں ہوگا، بالآخر آپ ہی کی بددعا سے ان کی ہلاکت واقع ہوگی۔ (2)


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) (تفہیم القرآن سورۃ النساء آیات : 157-159،  مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

(2) ( سورۃ النساء آیات : 157-159ترجمہ  مولانا محمد جونا گڑھی ، تفسیری حواشی مولانا یوسف صلاح الدین ،  مطبع شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس )

انسان کا سب سے بڑا جرم

خلیفہ کے لفظی معنی ہیں کسی کے بعد اس کی جگہ لینے والا، جانشین، وراثتی اقتدار کے زمانہ میں یہ لفظ کثرت سے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوا جو ایک کے بعد دوسرے کی جگہ تخت پر بیٹھتے تھے۔ اس طرح استعمالی مفہوم کے لحاظ سے خلیفہ کا لفظ صاحب اقتدار کے ہم معنی ہوگیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد ہوگا۔ فرشتوں کو اندیشہ ہوا کہ اختیار و اقتدار پا کر انسان بگڑ نہ جائے اور زمین میں خوں ریزی کرنے لگے۔ فرشتوں کا یہ اندیشہ غلط نہ تھا۔ اللہ کو بھی اس امکان کا پورا علم تھا۔ مگر اللہ کی نظر اس بات پر تھی کہ انسانوں میں اگر بہت سے لوگ آزادی پا کر بگڑیں گے تو ایک قابل لحاظ تعداد ان لوگوں کی بھی ہوگی جو آزادی اور اختیار کے باوجود اپنی حیثیت کو اور اپنے رب کے مقام کو پہچانیں گے اور کسی دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ سے تسلیم و اطاعت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگرچہ نسبتاً کم تعداد میں ہوں گے مگر وہ فصل کے دانوں کی طرح قیمتی ہوں گے۔ فصل میں لکڑی اور بھس کی مقدار ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر دانے، کم ہونے کے باوجود، اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کی خاطر لکڑی اور بھس کے ڈھیر کو بھی اگنے اور پھیلنے کا موقع دے دیا جاتا ہے ۔

اللہ نے اپنی قدرت سے آدم کی تمام ذریت کو بیک وقت ان کے سامنے کردیا۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ دیکھو یہ ہے اولاد آدم۔ اب بتاؤ کہ ان میں کون کون اور کیسے کیسے لوگ ہیں۔ فرشتے عدم واقفیت کی وجہ سے بتا نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ان کے ناموں، بالفاظ دیگر شخصیتوں سے آگاہ کیا اور پھر کہا کہ فرشتوں کے سامنے ان کا تعارف کراؤ۔ جب آدم نے تعارف کرایا تو فرشتوں کو معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد میں، فسادیوں اور برے لوگوں کے علاوہ کیسے کیسے صلحاء و متقین ہوں گے۔ انسان کا سب سے بڑا جرم، انکار رب کے بعد، زمین میں فساد کرنا اور خون بہانا ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی کارروائیاں کرے جس کے نتیجہ میں زمین پر خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام بگڑ جائے، انسان انسان کی جان مارنے لگے۔ ایسا ہر فعل آدمی کو خدا کی رحمتوں سے محروم کردیتا ہے۔ زمین میں خد اکے بنائے ہوئے فطری نظام کا قائم رہنا اس کی اصلاح ہے اور زمین میں  فطری نظام کو بگاڑنا اس کا فساد ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ  تفسیر آیات 30۔۔ ۔33۔ مولانا وحید الدین خاں )

قرآنی سورتوں کے بارے میں سید قطب شہید ؒ کے احساسات

" قرآن مجید کی ہر سورہ علیحدہ شخصیت کی مالک ہے ۔ ہر سورہ کے اپنے خد وخال ہیں ۔ ہر ایک کا ایک متعین اسلوب اور ایک خاص دائرہ کار ہے ۔ ہر سورہ کا ایک متعین موضوع اور خاص ہدف ہو تا ہے ہرسورہ اپنے موضوع اورہدف کو لیکر آگے بڑھتی ہے اور اپنے مخصوص راہوں سے گزرتی ہوئی اپنے ہدف اور مقصد تک پہنچتی ہے اور قاری کو بھی پہنچاتی ہے ۔
قرآن مجید کی تمام سورتوں کا حال باکل انسانوں کی طرح ہے ۔ اگرچہ تمام انسان ایک ہیں ۔ لیکن ہر انسان کے خد وخال دوسرے سے جدا ہیں ۔ ہر ایک کے انسانی خصائص مختلف ہیں ۔ ہر ایک کے جسمانی ساخت اور بناوٹ مختلف ہے ۔ پھر شخصیت کے اعتبار سے انسانوں کے مختلف نمونے ہیں ۔ بعض کے درمیان معمولی اختلاف ہوتا ہے اور بعض ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتے ہیں کہ بنیادی اور عام انسانی خصوصیات کے سوا ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں ہوتی ۔ میں قرآن کو اسی انداز میں سمجھنے کا عادی ہوں ، قرآن کے بارے میں یہی میرا احساس ہے،قرآن کے ساتھ میرا طویل تعلق ، ممارست ، اور محبت کی وجہ سے میں قرآن سے اسی احسا س کے ساتھ معاملہ کرتاہوں ۔ اور تمام سورتوں میں غور وفکر کے بعد میں نےہر سورہ کا مزاج اس کا رجحان اور اس کے خدوخال کو باکل علیحدہ متعین کیا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ مجھے قرآن مجید کی سورتوں کی شکل میں مختلف نمونے نظر آتے ہیں ۔ اور میں نے ہر سورہ کے ساتھ ذاتی تعلق کی وجہ سے ایک خاص لگاؤ پیدا کرلیا ہے اور ہر سورہ کے ساتھ اس ذاتی لگاؤ اور ممارست کی وجہ سے مجھے نظر آتا ہے کہ اس کے خدوخال دوسرے سورتوں سے مختلف ہیں اور اس کے رجحانات بھی دوسرے سورتوں کے مقابلے میں مختلف ہیں ۔ قرآن مجید کی سورتوں کے ساتھ میرا تعلق بالکل اسی طرح ہے جس طرح کسی انسان کا مختلف دوستوں کے ساتھ تعلق ہو تا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک دوست ہو تا ہے ۔ سب کے ساتھ لگاؤ اور محبت ہوتی ہے۔ سب محبوب ہوتے ہیں سب قیمتی متاع کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ہر ایک کے ساتھ انسان کا دل عجیب رنگ ڈھنگ اختیار کر تا ہے ہر ایک کے ساتھ وہ ایک الگ خوشی محسوس  کرتا ہے ۔ ہر ایک کے ساتھ الگ الگ تاثرات اور جذبات ہوتے ہیں اور ہرایک کے ساتھ برتاؤ اور مذاق علیحدہ ہو تا ہے ۔ جب انسان ایک سورہ کے اندر داخل ہو تا ہے تو اس کے اول سے آخر تک ایک سفر ہوتا ہے ۔ اس سورہ کی دنیا اور اس کے مناظر دوسری سورتوں سے الگ ہو تے ہیں ۔ تصورات اور حقائق مختلف ہوتے ہیں ۔ اشارات اور قراردادیں مختلف ہوتی ہیں ، ہر سورہ نفس انسانی میں غوطے لگاکر موتی نکال لاتی ہے ، ہر سورہ میں نئے نئے مناظر پیش کئے جاتے ہیں حتی کہ ہر سورہ کا سفر ایک نئی دنیا کا سفر ہو تا ہے اور اس سفر کی منزل اور نشانات متعین ہوتے ہیں ۔
( فی ظلال القرآن : سورہ اعراف )


اورایک نشانی رات ہے… پروفیسر خورشید احمد

ضبط ِگریہ تو ہے پر دل پہ جو اِک چوٹ سی ہے
قطرے آنسو کے ٹپک پڑتے ہیں دو چار ہنوز

جس طرح دن ایک حقیقت ہے، اسی طرح رات بھی ایک حقیقت ہے۔ روشنی اور تاریکی، سپید و سیاہ ، سکون و اضطراب، بہا ر و خزاں، شیریں و تلخ، یہ سبھی زندگی کے حقائق ہیں، اور قافلۂ زندگی ان تمام مراحل سےدوچار رہتا ہے۔ زندگی نام ہی نشیب وفراز سے گزرنے کا ہے۔
کارخانۂ قدرتِ حق ایک صورت کو دوسری صورت سے بدلنے میں ہمہ وقت مصروف ہے اور انسان کا اصل امتحان اسی دھوپ چھائوں کے درمیان رازِ حیات کی تلاش و جستجو میں ہے۔ گردشِ لیل و نہار کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ جانا جائے کہ ہر تبدیلی کے مقابلے میں انسان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ آیا وہ بھی ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ ہوا کے رُخ کی سمت میں اُڑنا شروع ہوجاتاہے، یا اپنے نہ بدلنے والے مقاصد ِ حیات کی خدمت کے لیے نیا عزم اور نیا راستہ تلاش کرنے کی جستجو میں مصروف ہو جاتاہے۔
ہرتبدیلی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرورِ ایّام کی ہر کروٹ کارزارِ زندگی میں کچھ نئے میدانوں کا اضافہ کرتی ہے۔ لیل و نہار کی ہر گردش ایک نئی آزمایش کا باب کھولتی ہے۔ اصل اہمیت زمانے کی اس گردش کی نہیں، بلکہ اس ردعمل کی ہے جو اس کے نتیجے میں رُونما ہوتا ہے اور انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا اسی ردعمل سے چلتا ہے۔ گردش لیل و نہار کے اس پہلو کا مطالعہ ہدایت ربّانی کی روشنی میں کیا جائے تو بڑے اہم، سبق آموز اور ہوش ربا پہلو نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ 

قرآنِ پاک، زمین و آسمان کے خالق و مالک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی نشانیوں کی طرف اس طرح اشارہ کرتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ (لقمٰن۳۱:۲۹) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟

روشن دن کا رات کی آغوش میں دم توڑ دینا اور پھر تاریک رات کے بطن سے روشنی ٔ سحر کا رُونما ہونا ربِّ جلیل و کریم کی قدرت اور اس کے اقتدار کی دلیل ہے اور سوچنے سمجھنے والوں کے لیے ایک نشانی بھی۔ یہ کائنات کے قوانین اور زمانے کی گردش کی آئینہ دار ہے اور خود انسانی زندگی اور معاملات کے لیے اس میں عبرت ، بصیرت اور رہنمائی کے بے شمار پہلو اور اسباق پوشیدہ ہیں:
يُقَلِّبُ اللہُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۝۴۴ (النور ۲۴:۴۴) رات اور دن کا اُلٹ پھیر وہی [اللہ] کر رہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے، آنکھوں والوں کے لیے۔

قرآن کا یہ خاص اسلوب ہے کہ وہ ایک معلوم و محسوس چیز کی طرف توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ایسی چیز جو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے، جو ہمارے لیے اتنی واضح اور بیّن ہے کہ ہم اس پر سے یونہی گزر جاتے ہیں۔ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم کائنات کی ان نشانیوں پر سے یونہی نہ گزر جائیں، بلکہ ایک لمحہ توقف کر کے ان پر غور کریں اور دیکھیں کہ تفکّر و تدبر کے بے شمارگوشے وہ اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ دن اور رات کی آمدورفت، جو ہمارے لیے بس ایک روز مرّہ کی سی حیثیت اختیار کرچکی ہے،کوئی بے معنی شے نہیں ہے۔ اس کے دامن میں عبرت و معرفت کے دفتر پنہاں ہیں۔ قرآن پاک اس نگاہ کوبیدار کرنا چاہتا ہے، جو گردش لیل و نہار کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کو دیکھ اور سمجھ سکے اور انسان اس علم و بصیرت کی روشنی میں ایک دانش مندانہ رویہ اختیار کرسکے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے یہاں پر وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ رات میں دن ظاہر کردے یا دن میں رات نمودار کردے، یا ان کی آمدوشد میں منٹ یا سیکنڈ کا فرق ہی پیدا کردے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے اندر، اہلِ نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ ’عبرۃ‘ کا مفہوم ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا [بھی]ہے، یعنی جو لوگ وہ نظر رکھتے ہیں، جو ظاہر کے اندر باطن اور جزئیات کے اندر کلیات کو دیکھنے والی ہے، ان کو اِن مشاہدات کے بعد اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ یہ کائنات ایک خداے حکیم و قدیر کی بنائی ہوئی ہے، جو اس ساری کائنات پر یکّہ و تنہا حاکم و متصرف ہے۔ اس وجہ سے تنہا وہی حق دار ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔ یہ امرملحوظ رہے کہ ’عبرۃ‘ انسانیت کا اصلی جوہر ہے۔ اگر یہ جوہر کسی کے اندر نہیں ہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے، اور جو آنکھ ظاہر کے اندر باطن نہ دیکھ سکے وہ کور ہے۔(تدبر قرآن، ج۵، ص ۴۲۱)

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدئہ بینا نہ ہوا

سیّد قطب شہیدؒ نے اپنی معرکہ آرا تفسیر فی ظلال القرآن میں تحریر فرمایا ہے:
’’گردش لیل و نہار کے نظام پر غوروفکر، قرآنِ مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیّر و تبدل رُونما نہیں ہوا ہے۔ اس سے وہ ناموسِ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے، جو اس کائنات میں کارفرما ہے۔ اس ناموسِ کائنات پر غوروفکر سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ قرآنِ کریم اپنے مؤثر اندازِ بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے، جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے انسانی ذہن اور یادداشت سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔مگر آیاتِ قرآنی کے مطالعے کے بعد انسان ان مناظر کو ایک نئے احساس کے ساتھ دیکھتا ہے اور ہربار ان سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ ذرا یہ بات ذہن میں لایئے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو؟ لیکن انسانی احساس اور اِدراک، دن اور رات کی گردش کے مناظر کو دیکھتے دیکھتے بجھ سا گیا ہے، حالاں کہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوب صورتی اور انوکھے پن میں کسی چیز کی کمی نہیں پیدا ہونے دی۔ درحقیقت جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت اور خوشی کو گنوا دیتا ہے، اس طرح اس کائنات کی حقیقی خوب صورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوکر رہ جاتی ہے۔ 

قرآن عظیم کا یہ کمال ہے کہ وہ ہماری بجھی ہوئی حِس کو تازہ کردیتا ہے، اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید و توانائی بخشتا ہے۔ ہمارا سرد مہر دل پُرجوش اور ہمارا کُند وجدان تیز تر ہوجاتا ہے۔ پھر ہم کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ پھر ہم اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آنے لگتا ہے کہ دست ِ قدرت ہرجگہ کام کر رہا ہے۔ ہمارےماحول کی ہرچیز میں اسی خالق و مالک کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہرچیز میں اسی پروردگار کے نشانات روشن ہیں، اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں___

اللہ تعالیٰ ہم پر یہ کتنا بڑا احسان فرماتا ہے کہ جیسے ہی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں ایک حیاتِ تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہرچیز کے بارے میں ایک نیا احساس اور ایسی مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوب صورت ہے اور ہماری فطرت، فطرتِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ فی الحقیقت ہماری فطرت اس سرچشمے سے پھوٹی ہے، جس سے اس کائنات نے وجود پایا۔ جب ہم اس کائنات کی روح سے پیوست ہوجاتے ہیں، تو ہمیں عجیب اطمینان و سکون نصیب ہوتا ہے۔ خوشی، محبت اور طمانیت ملتی ہے، بالکل اسی طرح ، جیسے کوئی شخص براہِ راست اپنے محبوب سے مل جائے۔

’’اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں، ہمیں اس میں اللہ کا نُور نظر آتا ہے اور یہی ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض ہونے کا۔ جب ہم اپنے وجود، اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں، تو اس میں ہرجگہ، ہرسمت اللہ کا نُور نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ مناظر کو ذرا گہرے غوروفکر کے ساتھ دیکھیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ: اُن مظاہر اور مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو آنکھیں بند کرکے، کیوں کہ اس دنیا میں تمھارا یہ سفر نہایت بامقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو، لیکن افسوس: انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں‘‘۔(فی ظلال القرآن، ترجمہ: معروف شاہ شیرازی، ج۴، ص۹۲۲، ۹۲۳)

وقت کی ان کروٹوں کو آیاتِ الٰہی قرار دیا گیا اور ان کو ذریعہ ذکر بتایا گیا ہے:
وَہُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۝۶۲ (الفرقان ۲۵:۶۲) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہراس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار ہونا چاہے۔
دوسرے مقام پر دن رات کو ’آیات‘ سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ:
اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۝۸۶ (النمل ۲۷:۸۶) کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اس میں بہت سی نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے، جو ایمان لاتے تھے۔

ان آیات پر غور کرنے سے جہاں گردش لیل و نہار کی طبیعی اور اخلاقی حکمتوں کا علم ہوتا ہے۔ وہیں ہمیں غوروفکر کا ایک اسلوب بھی ملتا ہے، جس کے ذریعے ہم صرف دن اور رات ہی کی گردش نہیں، بلکہ گزرتے ہوئے زمانے کے برسوں، مہینوں، دنوں حتیٰ کہ لمحوں کی ہر کروٹ پر بصیرت کی نگاہ ڈال سکتے ہیں۔ اس سے عبرت کے درس حاصل کرسکتے ہیں اور حال و مستقبل کی تعمیر کے لیے روشنی اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔
رات صرف تاریک نہیں ہوتی ، بلکہ قدرت کے اس نظام میں اس کا بھی بڑا اہم وظیفہ ہے۔ اور دن صرف روشن ہی نہیں ہوتا، اس روشنی کے پہلو بہ پہلو بہت سے سایے بھی ہوتے ہیں، جو کچھ حلقوں کو سورج کی روشنی کے باوجود دامِ سیاہ میں گرفتار رکھتے ہیں، اور کچھ انسانوں کے لیے کمرِہمت کسنے کی دعوت اور گوشۂ آرام طلبی کو مسترد کرنے کی پکار بن جاتے ہیں۔ قرآن کریم جہاں ان حقائق زندگی سے ہمیں بلند تر اخلاقی حقائق کو سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے، وہیں ہمیں یہ تعلیم بھی دے رہا ہے کہ اس نقطۂ نظر سے زندگی کے چند در چند پہلوئوں اور زمانے کی ہر گردش پر نگاہ ڈالیں اور ان اخلاقی حقائق کو سمجھیں، جو سطح بین نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔


*

دن اور رات اور ماہ و سال کی یہ گردش ہمیں اس حقیقت کا احساس بھی دلاتی ہے کہ تبدیلی اور تغیّر محض کوئی ماضی کے واقعات یا اتفاقی حادثات نہیں ہیں، بلکہ فطرت کا ایک قانون ہیں۔
’ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں‘۔ زندگی نام ہی تبدیلیوں کا ہے۔ یہ تبدیلیاں خوش آیند بھی ہوسکتی ہیں، ناپسندیدہ بھی۔ بلندی کی سمت میں بھی ہوسکتی ہیں اور پستی کی طرف بھی۔ ان سے روشنیوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور تاریکیوں میں بڑھوتری بھی۔ یہ تعمیر کی راہ ہموار کرنے والی بھی ہوسکتی ہیں اور اس راہ میں کانٹے بکھیرنے والی بھی۔لیکن جس کی نگاہ زندگی کے حقائق پر ہے، وہ ان میں سے کسی تبدیلی پر بھی قناعت کرکے نہیں بیٹھ جاتا۔ نہ ’خیر‘ کی سمت میں کوئی کامیابی اس میں غلط بھروسا، غرّہ یا غفلت پیدا کرتی ہے اور نہ ’شر‘ کے کسی جھونکے کا وقتی غلبہ اس میں مایوسی، ہمت شکنی اور بے کیفی کا کہرام برپا کرتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شمع کی لَو جتنی تیز ہوگی اور روشنی کا ہالہ جتنا بڑھے گا، تاریکیوں سے مقابلے کا میدان بھی اتنا ہی وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا۔{ FR 1133 } اور حق و باطل کی کشمکش کا دائرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں ذرا سی غفلت بھی بے پناہ گھاٹے اور نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کبھی ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو ناخوش گوار اور ناموافق ہیں، تو اسے یہ یقین رہتا ہے کہ اس ناخوش گوار حالت کو دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ قابلِ تغیّر ہے اور اسے بدلنے کی کوشش ہی ایک صاحب ِ بصیرت کے لیے کرنے کا کام ہے۔ وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور وقت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ وہ کسی ایک تبدیلی کو بھی مستقل اور دائمی نہیں سمجھتا، بلکہ تاریخ کی طول طویل شاہراہ پر نگاہ ڈال کر صاف صاف نشانِ منز ل دیکھ لیتا ہے۔
وقت، تاریخ اور زمانے کے تغیّرات کا یہ شعور انسان کے لیے بڑا قیمتی سرمایہ ہے اور شب و روز کی گردش کا ہرلمحہ اسی کا درس دیتا ہے۔ اگر یہ احساس نہ ہو تو انسان نہ کامیابیوں میں علم اور برداشت کا مظاہرہ کرسکے اور نہ ناکامیوں میں صبر اور وقار کا اظہار۔ نہ فتح مندیاں اس کا دماغ خراب کردیں اور نہ شکستیں اس کا کلیجہ پھاڑ دیں۔ نہ اچھے حال میں وہ راہِ اعتدال پر قائم رہ سکے اور نہ بُرے حال میں وہ خودشکنی و خودکُشی کی راہ پر دوڑ پڑے۔ اسی گردشِ ایام پر غوروفکر انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness)پیدا کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ وہ محض ایک لمحہ حال (Moment in Time)میں زندگی نہ گزارے بلکہ پورے جادئہ وقت (Time Stream) کو اپنی نگاہ میں رکھے۔ اسلام صبر، قناعت، شکر اور مجاہدے کی جن اقدار کا درس دیتا ہے، ان کو صرف اسی ذہنی پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے اوراسی فضا میں ان پر عمل ہوسکتا ہے۔


*


قرآنِ پاک میں رات کی آمد کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس سے ذہن کو فوری طور پر اس خالقِ لیل و نہار کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جس کے قبضۂ قدرت میں ہر شے ہے اور جس کی مرضی کے بغیر زمانے کی سطح پر کوئی جنبش نہیں ہوتی:
وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الَّيْلُ۝۰ۚۖ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ۝۳۷ۙ (یٰسین۳۶:۳۷) اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے ، ہم اس کے اُوپر سے دن ہٹادیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔
قدرتِ الٰہی سے روشن زمین و آسمان پر تاریکی کا پردہ غالب آجاتا ہے اور انسان نیچے، اُوپر، دائیں بائیں غرض ہر سمت میں تاریکی ہی تاریکی کو غالب پاتا ہے۔
انسان اس تاریکی سے نیند کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ دوسری آیت ِ قرآنی انسان کو اس کے ربّ کی قدرت اور اس کے اقتدار و اختیار کا احساس دلاتی ہے:
وَہُوَالَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْہِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى۝۰ۚ ثُمَّ اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۶۰ۧ (الانعام ۶:۶۰) وہی ہے جو رات کو تمھاری روحیں قبض کرتاہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمھیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقررہ مدت پوری ہو۔آخرکار اسی کی طرف تمھاری واپسی ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
ان قرآنی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رات اور دن کی یہ گردش اس ابدی سچائی جاننے اور پہچاننے کی دعوت دیتی ہے کہ اس کے پیچھے جو قوت کارفرما ہے، اُسے سمجھا جائے اور جن مقاصد کے لیے وہ رفتارِ زمانہ میں یہ تبدیلیاں کر رہا ہے، ان کو پورا کرنے کی سعی کی جائے۔ رات محض تاریکی کا ایک پردہ نہیں، دراصل یہ ایک مہلت ہے جو اس ہستی کی طرف سے انسان کو ملتی ہے، جس کے ہاتھ میں انسانوں کی جان ہے، جس میں وہ ہمیں کاروبارِ حیات سے کھینچ کر اس حالت میں لے آتا ہے،کہ جس میں محنت اور جدوجہد کے دوران صرف کی ہوئی قوت کو بحال کیا جائے اور پھر دوبارہ کاروبارِ عالم کی طرف انسانوں کو بھیج دیا جائے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ:
وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا۝۴۷ (الفرقان ۲۵:۴۷)وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمھارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا۔
ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱- یہ گردش لیل و نہار بے مقصد نہیں ہے۔ اس کو سطحی نظر سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کے ذریعے انسان ان مقاصد کا شعور حاصل کرنے کی کوشش کرے، جن کی خاطر حکیم مطلق نے دن اور رات، روشنی اور تاریکی کا یہ نظام بنایا ہے۔
۲- اس کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ انسان کی کام اور آرام کی فطری ضرورتیں پوری ہوں۔ انسان کے جسم و جان کے یہ تقاضے ہیں کہ ان میں جدوجہد اور راحت و آرام کے درمیان ایک فطری توازن قائم ہو۔ لیکن یہ آرام محض براے آرام نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ کارگاہِ حیات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے انسان اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ آرام، جس کے بعد انسان نئی طلوع ہوتی صبح کے تقاضوںکو پورا کرنے کے لیے نہیں اُٹھتا اور جو نئی جدوجہد پر منتج نہیں ہوتی، وہ راحت اور آرام نیند کا آرام نہیں، موت کی علامت تھا۔ خالق کا عطاکردہ آرام دراصل وہ آرام ہے ،جو جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اگر انسان اس کو نظرانداز کردے، تو وہ اپنے مقصد کو کھو دیتا ہے اور اس کی سرحدیں موت سے جاملتی ہیں۔ یہ رات کا ایک حرکی تصور (dynamic view) ہے جو قرآن سے ملتا ہے، اور جس کی بناپر صبح و شام اوردن اور رات انسان کی عملی زندگی کے لیے علامتیں (symbols) بن جاتے ہیں۔ پھر ان علامتوں کی مدد سے انسان زندگی کے وسیع میدان میں بے شمار چیزوں کو سمجھ سکتا ہے اور انھیں ان کے صحیح پس منظر میں ان کے ٹھیک ٹھیک مقام پر رکھ کر ان کے بارے میں صحیح رویہ اختیار کرسکتا ہے۔
۳- قرآن ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ زندگی کے ان واقعات سے اپنے ذہن کو ان کے پسِ پشت کارفرما قوتوں پر غوروفکر کی طرف راغب کریں اور صرف مادی اور طبیعی پہلوئوں ہی پر غور نہ کریں بلکہ ان کے اخلاقی پہلوئوں پر بھی توجہ صرف کریں۔ پھر اسبابِ حیات ہی کو انتہاے زندگی نہ سمجھ لیں، بلکہ ان اسباب کے ذریعے مسبب الاسباب تک پہنچیں اور اس کے دامنِ رحمت کے سایے کی طلب میں بے چین و بے قرار ہوکر، اس کی مرضی جاننے اور اس پر چلنے کی دیوانہ وار کوشش کریں۔لاریب، وقت کی ہر کروٹ اور زمانے کی ہر جنبش کے پیچھے اس کی حکمت ِ بالغہ کام کر رہی ہے۔ عقل مند وہ انسان ہے، جو اس حکمت کو پانے کی جستجو کرتا ہے اور اپنے ربّ سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے۔


*


اگر ہم اس معاملے پر دوسرے پہلو سے غور کریں تو محسوس کریں گے کہ رات دوقسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے:
ایک گروہ وہ ہے جسے روشنی سے نفرت ہے اور جو تاریکی کا پرستار ہے۔ دن کے اُجالے میں بھی یہ تاریکیوں ہی کی تلاش میں مصروف رہتا ہے اور رات کی چادر کے جلد از جلد پھیل جانے کی آرزو کرتا ہے۔ رات کی آمد اس کی تمنائوں کی بہار ہوتی ہے۔ اس کی ساری سرگرمیاں شب کے اندھیروں میںفروغ پاتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں جس فساد کو پھیلاکر یہ گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اندھیروں کے پردے ہی میں برپا کیے جاسکتے ہیں۔ جرائم کے ارتکاب اور سازشوں کے جال پھیلانے سے لے کر، دوسروں کے مال، جان اور عزّت و آبرو پر حملہ کرنے کے لیے رات کی تاریکی اس گروہ کو بہترین مو اقع فراہم کرتی ہے ۔ اس لیے یہ اس کی تمنا کرتا ہے اور اسی کے لیے یہ رات کو استعمال کرتاہے۔ انسانی معاشرے پر جب اندھیرا چھاتا ہے تو یہ گروہ سرگرمِ عمل ہوتا ہے اور صبح کی روشنی جب اُفق کو پُرنور کردیتی ہے، تو یہ اپنی پناہ گاہوں میں جا چھپتا ہے۔ جس رات کو مالک نے آرام کے لیے بنایا تھا، یہ گروہ اسے انسانوں کے لیے حرام کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور فساد فی الارض کا باعث ہوتا ہے۔ زمین میں فساد نام ہے اللہ کے دیے ہوئے احکام کو توڑنے اور اس کی جگہ دوسرے طریقوں کو رائج کرنے کا:

اَوْلِيٰۗــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۝۰ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۵۷) ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔
اہلِ کفر اور اہلِ فساد کی یہی روش ہے اور رات ان کو بالکل بے نقاب کردیتی ہے۔ جس طرح چمگادڑ اندھیرے میں ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح یہ شیطانی گروہ بھی اندھیرے کے دوران میدان میں آتا ہے اور معاشرے کا صاحب ِ بصیرت گروہ اس کو دیکھ بھی لیتا ہے اور اس کے مقابلے میں مدافعت اور جان،مال اور آبرو کی حفاظت کا بندوبست بھی کرتا ہے۔
انسانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے، جس نے نُورِ ہدایت سے اکتساب کیا ہے۔ اس کے لیے رات ’لباس‘ اور ’سکینت‘ ہے۔ وہ اس سے نئی قوتِ کار حاصل کرتا ہے۔ تاریکی کا کوئی پرتو اس کے روشن دل ودماغ پر نہیں پڑتا۔ وہ اس موقعے کو جسم کے آرام اور روح کی غذا کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ایسی نیند سے اجتناب کرتا ہے جو غفلت کا رنگ لیے ہو،اور جو چوروں اور نقب زنوں کا سہارا ہو۔ وہ رات کی تاریکیوں میں اپنی، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے معاشرے کی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے ایک فوج رات کے وقت دشمن کے شب خون کی مدافعت کے لیے سامان کرتی ہے۔ ایسے چوکنّے اور ہوشیار لوگ ہی ان خطرات سے محفوظ رہتے ہیں، جو فسادپرست عناصر سے ان کو لاحق ہیں اور جن کے لیے رات ان عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے۔ پھر یہ گروہ آرام تو ضرور کرتا ہے لیکن مزید کام کے لیے تیار ہونے کی خاطر، اس کا آرام بے مقصد نہیں ہوتا، بامقصد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کبھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ رات کی تاریکی میں دل زندہ چراغ کی طرح روشن رہتا ہےاور اندھیروں کو کبھی غالب نہیں ہونے دیتا۔
یہ گروہ رات کو صرف جسم کے آرام ہی کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ روح کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صرف کرتا ہے۔ جس طرح جسم آرام اور نیند کا مطالبہ کرتا ہے،اسی طرح روح محاسبہ، عبادات اوردُعا کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ جسم کا تقاضا ہے تو یہ روح کی غذا ہے۔ خدا پرست انسانوں کا یہ گروہ رات کو آرام کے لیے بھی استعمال کرتا ہے اور محاسبہ، عبادت اور دُعا کے لیے بھی:

قُـمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۲ۙ نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِيْلًا۝۳ۙ اَوْ زِدْ عَلَيْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۝۴ۭ اِنَّا سَـنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا۝۵ اِنَّ نَاشِـئَۃَ الَّيْلِ ہِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا۝۶ۭ (المزمل۷۳: ۲تا ۶) (اے محمدؐ) رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرو یا کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو ٹھیرٹھیر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔درحقیقت رات کا اُٹھنا، نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور (قرآن) ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
محاسبے اور دُعا کے لیے بھی یہ بہترین وقت ہے، جیساکہ متعدد احادیث ِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اس وقت بندے اور رب کے درمیان کوئی شے حائل نہیں ہوتی اور دینے والا سب کچھ دینے کے لیے سب سے زیادہ آمادہ ہوتا ہے اور پکارتا ہے:’ہے کوئی مانگنے والا؟‘ سمجھ دار وہ ہے جو رات کو ان کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پھر رات کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور شب کے پردوں کے باوجود نُور غالب رہتا ہے:
اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۝۰ۙ يُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ(البقرہ ۲:۲۵۷) جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے، اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔


*


رات کا طول بھی اپنے اندر غوروفکر کے چند پہلو رکھتا ہے۔ ہر رات برابر کی طویل نہیں ہوتی ۔ ایک ہی سال میں رُونما ہونے والی ہر رات دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ محض ایک طبیعی حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس امرواقعہ کی معنویت کے پہلو بے شمار ہیں۔
اسی طرح رات کی گراں باری ہرہر فرد کے لیے مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ جو اپنے مقصد کو سمجھتا ہے اور اس کے لیے خلوص اور توکّل کے ساتھ مصروفِ کار ہے، وہ نہ رات سے گھبراتا ہےاور نہ رات کے اندھیروں سے خوف کھاتا ہے۔ اس کا کام اپنا چراغ روشن رکھنا ہے۔ وہ چراغ جو پہاڑی کا چراغ ثابت ہوتا ہے اور دُور دُور تک اندھیروں کا سینہ چیر کر رہ نوردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن، جس کی نگاہ اپنے اصل سے ہٹ گئی ہو، اس کے لیے ہر رات پہاڑ ہوجاتی ہے، جسے صبح کرنا ’لانا ہے جوئے شِیر کا!‘
دراصل رات کے اصل طول کے احساس کا انحصار انسان کے وجدان اور رویے پر ہے۔ بات شاعری کی نہیں لیکن ’شب ِ ہجر‘ اور ’شب ِ وصل‘ میں جو فرق ہے، وہ ساعتوں کے طول کا نہیں احساس کی کیفیت اور شدت کا ہے۔ اس لیے جس کی نگاہ ایک انمٹ مقصد پر ہو اور جس کا کام اللہ کے دین کو قائم کرنا ہو (جو ایک مسلمان کا مقصد وجود ہے) اس کے لیے دن اور رات میں کوئی فرق نہیں۔ سرما کی رات ہو یا گرما کی، خزاں کی شب ہو یا بہار کی۔ اسے اپنا کام انجام دینا ہے۔ رات اس کے لیے جو معنویت رکھتی ہے، اس کی پیمایش ساعتوں اور لمحوں سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس کے لیے تو: ’جاوداں ، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘ کی سی سرشاری چاہیے۔


*


قرآنِ پاک میں دن اور را ت کا ذکر جس انداز میں کیا گیا ہے، اس میں ایک بڑا معنی خیز پہلو یہ ہے کہ دن سے رات اور رات سے دن کے رُونما ہونے کا منظر ۔ ہر رات کو ایک دن ختم ہونا ہے۔ کامیاب ہیں وہ خوش نصیب، جو رات کا استقبال اس طرح کرتے ہیں کہ صبحِ نو کے لیے تیاری کریں:

یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

جس طرح بیماری سے انسان کو صحت کی ضرورت و عظمت کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح رات بھی دن کے نُور کی اہمیت اور اس کی ضرورت کے احساس کو تیز تر کرنے کا ذریعہ ہے۔ جس نے رات سے یہ سبق سیکھ لیا، اس کی رات احساس سے محروم انسانوں کے ’دن‘ سے ہزار گنا بہتر ہے:

شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی


(ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، تاریخ اشاعت مئی 2018  بانی سید ابوالاعلی مودویؒ )

کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق

 کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ عبدیت کے اس عہد کو نبھائے جوپید اکرنے والے اور پیدا کیے جانے والے کے درمیان اول روز سے قائم ہوچکا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان وہ اس طرح رہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تعلقات کو پوری طرح استوار کیے ہوئے ہو جن کے استوار کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جب خدا اپنے ایک بندہ کی زبان سے اپنے پیغام کا اعلان کرائے تو اس کے خلاف بے بنیادی باتیں نکال کر خدا کے بندوں کو اس سے بدکایا نہ جائے۔ حق کی دعوت دینا در اصل لوگوں کو حالت فطری پر لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص لوگوں کو اس سے روکتا ہے وہ زمین میں  فساد ڈالنے کا مجرم بنتا ہے۔ 

اللہ کا یہ احسان کہ وہ آدمی کو عدم سے وجود میں لے آیا، اتنا بڑا احسان ہے کہ آدمی کو ہمہ تن اس کے آگے بچھ جانا چاہیے۔ پھر اللہ نے انسان کو پیدا کرکے یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسی زمین دی جو اس کے لیے انتہائی طور پر موافق ڈھنگ سے بنائی گئی تھی۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بہت آگے کی ہے۔ انسان ہر وقت اس نازک امکان کے کنارے کھڑا ہوا ہے کہ اس کی موت آجائے اور اچانک وہ مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش کردیا جائے۔ ان باتوں کا تقاضا ہے کہ آدمی ہمہ تن اللہ کا ہوجائے، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارے۔ ساری عمر وہ اس کا بندہ بان رہے۔ 

پیغمبرانہ دعوت کے انتہائی واضح اور مدلل ہونے کے باوجود کیوں بہت سے لوگ اس کو قبول نہیں کرپاتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شوشے نکالنے کا فتنہ ہے۔ آدمی کے اندر نصیحت پکڑنے کا ذہن نہ ہو تو وہ کسی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتا ایسے آدمی کے سامنے جب بھی کوئی دلیل آتی ہے تو وہ اس کو سطحی طور پر دیکھ کر ایک شوشہ نکاللیتا ہے اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دعوت کوئی معقول دعوت نہیں ہے۔ اگر وہ معقول دعوت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں اس قسم کی بے وزن باتیں شامل ہوں۔ مگر جو نصیحت پکڑنے والے ذہن ہیں جو باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں، ان کو حق کے پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، خواہ حق کو "مچھر" جیسی مثالوں ہی میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو ۔



(تذکیر القرآن ،  تفسیر سورۃ البقرۃ  آیت 26 تا 29، مولانا وحید الدین خاں )

انسان کی اصل گمراہی

انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے، اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے۔ وہ ہر آن ان کی پرورش کر رہا ہے۔

 اس لیے انسان کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک اور رازق تسلیم کرے، وہ اس کو اپنا سب کچھ بنا لے مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی کے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو، جزئی یا کلی طور پر، خالق کے برابر ٹھہرالیتا ہے، کبھی اس کو خدا کا نام دے کر اور کبھی خدا کا نام دئیے بغیر۔ یہی انسان کی اصل گم راہی ہے۔ 

پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا مقام دے۔ اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔ جب خالص خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ جن کا دل خدا کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جنہوں نے خدا کے سوا کسی اور کے لیے بھی عظمت کو خاص کر رکھاہو۔ ایسے لوگوں کو اپنے فرضی معبودوں سے جو شدید تعلق ہوچکا ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ بے حقیقت ہیں اور حقیقت صرف اس پیغام کی ہے جو آدمیوں میں سے ایک آدمی کی زبان سے سنایا جا رہا ہے۔ 

جو دعوت خدا کی طرف سے اٹھے اس کے اندر لازمی طور پر خدائی شان شامل ہوجاتی ہے۔ اس کا ناقابل تقلید اسلوب اور اس کا غیر مفتوح استدلال اس بات کی کھلی علامت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود جولوگ انکار کریں ان کو خدا کی دنیا میں جہنم کے سوا کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی۔ البتہ جو لوگ خدا کے کلام میں خدا کو پالیں انہوں نے گویا آج کی دنیا میں کل کی دنیا کو دیکھ لیا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے ۔

(تذکیر القرآن،  تفسیر سورۃ البقرۃ  آیات 21 تا 25، مولانا وحید الدین خاں)

شر پسندوں کی مثال

کسی کمرہ میں کالی اور سفید چیزیں ہوں تو جب تک اندھیرا ہے وہ اندھیرے میں گم رہیں گے۔ مگر روشنی جلاتے ہی کالی چیز کالی اور سفید چیز سفید دکھائی دینے لگے گی۔

 یہی حال اللہ کی طرف سے اٹھنے والی دعوت نبوت کا ہے۔ یہ خدائی روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو اسکے اجالے میں ہدایت اور ضلالت صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں۔ برا عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں، سب کھل کر ٹھک ٹھیک سامنے آجاتا ہے۔

 مگر جو لوگ اپنے آپ کو حق کے تابع کرنے کے بجائے حق کو اپنا تابع بنائے ہوئے تھے، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ انکا چپا ہوا حسد اور گھمنڈ زندہ ہو کر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ خدائی آئینہ میں اپنی چہرہ دیکھتے ہی ان کی منفی نفسیات ابھر آتی ہیں۔ ان کے اندرونی تعصبات ان کے حواس پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آنکھ، کان، زبان رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ اندھے ہیں، وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں۔ اب وہ نہ تو کسی پکارنے والے کی پکار کو سن سکتے ہیں، نہ اس کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں نہ کسی قسم کی نشانی سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے صحیح رویہ یہ تھا کہ وہ پکارنے والے کی پکار پرغور کرتے۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے اس سے بچنے کا سادہ سا علاج یہ دریافت کیا ہے کہ اس کی بات کو سرے سے سنا ہی نہ جائے، اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔ 

اسی طرح ایک اور نفسیات ہے جو حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ ڈر کی نفسیات ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر بارش جب آتی ہے تو اپنے ساتھ کڑک اور گرج بھی لے آتی ہے جس سے کمزور لوگ ہیبت کھا جاتے ہیں۔ 

اسی طرح جب اللہ کی طرف سے حق کی دعوت اتھتی ہے تو ایک طرف اگر وہ انسانوں کے لیے عظیم کامرانیوں کا امکان کھولتی ہے تو دوسری طرف اس میں کچھ وقتی اندیشے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کو مان لینے کی صورت میں اپنی بڑائی کا خاتمہ، زندگی کے بنے بنائے نقشہ کو بدلنے کی ضرورت، رواجی ڈھانچہ سے ٹکراؤ کے مسائل ہیں اور کبھی تذبذب کے ساتھ چند قدم آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ احتیاطیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں ہیں۔ کیونکہ خدائی پکار کے لیے اپنے کھلے دل سے پیش نہ کرکے وہ زیادہ شدید طور پر اپنے کو خدا کی نظر میں قابل سزا بنا رہے ہیں ۔

(تذکیر القرآن ، تفسیر سورۃ البقرۃ آیت 17 تا 20، مولانا وحید الدین خاں)

یہ بھی پڑھیں :

قرآن مجید میں مذکور شرپسند کفار کے نام اور القاب

مُصلِحین اور مُفسِدین میں فرق


جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت دیے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ حق سے بھی اپنا ایک ظاہری رشتہ قائم کرلیتے ہیں۔ اس کو وہ عقل مندی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی دنیا بھی محفوظ ہے اور اسی کے ساتھ ان کو حق پرستی کا تمغہ بھی حاصل ہے۔

 مگر یہ ایک ایسی خوش فہمی ہے جو صرف آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ اس کے دماغ کے باہر کہیں اس کا وجود نہیں ہوتا۔ آزمائش کا ہر موقع ان کو سچے دین سے کچھ اور دور اور اپنے مفاد پرستانہ دین سے کچھ اور قریب کردیتا ہے۔ اس طرح گویا ان کے نفاق کا مرض بڑھتا رہتا ہے۔

 ایسے لوگ جب سچے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ سچائی کی خاطر اپنے کو برباد کررہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں اپنے طریقے کو وہ اصلاح کا طریقہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ اس طرح کسی سے جھگڑا مول لیے بغیر اپنے سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کی جا سکتا ہے۔ مگر یہ صرف بے شعوری کی بات ہے۔

 اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو ان پر کھلے گا کہ اصلاح یہ ہے کہ بندے صرف اپنے رب کے ہوجائیں۔ اس کے برعکس فساد یہ ہے کہ خدا اور بندے کے تعلق کو درست کرنے کے لیے جو تحریک چلے اس میں روڑے اٹکائے جائیں۔ ان کا یہ بظاہر نفع کا سودا حقیقۃً گھاٹے کا سودا ہے۔ کیونکہ وہ بے آمیز حق کو چھوڑ کر ملاوٹی حق کو اپنے لیے پسند کر رہے ہیں جو کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ 

اپنے دنیوی معاملات میں ہوشیار ہونا اور آخرت کے معاملہ میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی جھوٹی زندگی آدمی کو اللہ کے یہاں عذاب کے سوا کسی اور چیز کا مستحق نہیں بناتی ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ  آیت 8 تا 16: مولانا وحید الدین خان )

سورة الرُّوْم : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوم سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول :


آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ “ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ ٦١٥ ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لئے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔

تاریخی پس منظر :


جو پیش گوئی اس سورة کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں ۔


نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے ٨ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Maurice) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوکاس (Phocas) تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کرا کے باپ بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں بر سر عام لٹکوا دیے، اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کے لئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ ٦٠٣ ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے در پے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا ﴿موجودہ اورفا﴾ تک اور دوسری طرف شام میں حَلَب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے بیٹے ہرقل (Heracllus) کو ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ٦١٠ ء کا واقعہ ہے، اور وہی سال ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔


خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑی تھی، فوکاس کا عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔ اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوکاس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کر لینی چاہیے تھی۔ مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی، اور اب اس جنگ کو اس نے مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو رومی سلطنت کے سرکاری کلیسا نے ملحد قرار دے کر سالہا سال سے تختہ مشق ستم بنا رکھا تھا ﴿یعنی نسطوری اور یعقوبی وغیرہ ان کی ساری ہمدردیاں بھی مجوسی حملہ آوروں کے ساتھ ہوگئیں۔ اور یہودیوں نے بھی مجوسیوں کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ خسرو پرویز کی فوج میں بھرتی ہونے والے یہوویوں کی تعداد ٢٦ ہزار تک پہنچ گئی۔


ہرقل آکر اس سیلاب کو نہ روک سکا۔ تخت نشین ہوتے ہی پہلی اطلاع جو اسے مشرق سے ملی وہ انطاکیہ پر ایرانی قبضے کی تھی۔ اس کے بعد ٢١٣ ء میں دمشق فتح ہوا۔ پھر ٦١٤ ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھادی۔ ٩٠ ہزار عیسائی اس شہر میں قتل کیے گئے۔ ان کا سب سے زیادہ مقدس کلیسا، کینستہ القیامہ (Holy Sepulchre) برباد کردیا گیا۔ اصلی صلیب، جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اسی پر مسیح نے جان دی تھی، مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دی۔ لاٹ پادری زکریاہ کو بھی پکڑ لے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے مسمار کردیا۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسرو پرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل کو لکھا تھا۔ اس میں وہ کہتا ہے :


” سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بےشعور بندے ہرقل کے نام،


تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا ؟ “ 


اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہوکر حدود مصر تک پہنچ گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ معظمہ میں ایک اور اس سے بدرجہا زیادہ تاریخی اہمیت رکھنے والی جنگ برپا تھی۔ یہاں توحید کے علم بردار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں، اور شرک کے پیرو کار سرداران قریش کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر جنگ تھے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ٦١٥ ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حبش کی عیسائی سلطنت میں ﴿جو روم کی حلیف تھی﴾ پناہ لینی پڑی۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکے کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی اور رسالت کو ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔


ان حالات میں قرآن مجید کی یہ سورة نازل ہوئی اور اس میں یہ پیشین گوئی کی گئی کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں، مگر اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر اندر ہی وہ غالب آجائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا جبکہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان خوش ہو رہے ہونگے۔ “ اس میں ایک کے بجائے دو پیشین گوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی۔ بظاہر دور دور تک کہیں اس کے آثار موجود نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہوجائے گی۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکے میں مارے اور کھدیڑے جارہے تھے۔ اور اس پیشین گوئی کے بعد بھی آٹھ سال تک ان کے لئے غلبہ و فتح کا کوئی امکان کسی کو نظر نہ آتا تھا۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ سن ٦١٩ ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ایشیائے کوچک میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئیں اور سن ٦١٧ ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقدون ﴿Chalcedon، موجودہ قاضی کوئی ﴾ پر قبضہ کرلیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ” اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دونگا جب تک وہ پابز بخیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی نہ اختیار کرلے۔ “ آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ ﴿Carthage, موجودہ ٹیونس﴾ منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا۔ غرض انگریز مؤرخ گبن کے بقول، قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی۔﴿Gibboon, Declineand fall of theRomanempire, Vol. II, p, 788. Modern Library, New York.﴾


قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو کفار مکہ نے ان کا خوب مذاق اڑایا اور ابی بن خلف نے حضرت ابو بکر سے شرط بدی کہ اگر تین سال کے اندر رومی غالب آگئے تو دس اونٹ میں دوں گا ورنہ دس اونٹ تم کو دینے ہوں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس شرط کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قرآن میں فِی بضعِ سِنِین کے الفاظ آئے ہیں، اور عربی زبان میں بضع کا اطلاق دس سال سے کم پر ہوتا ہے، اس لئے دس سال کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر سو ﴿١٠٠﴾کردو۔ چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ نے اُبَیّ سے پھر بات کی اور نئے سرے سے یہ شرط طے ہوئی کہ دس سال کے اندر فریقین میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ سو﴿١٠٠﴾ اونٹ دے گا۔


سن ٦٢٤ ء میں ادھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے، اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا جہاں اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لئے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقُف اعظم سر جیس (Sergius) نے مسیحیت کی مجو سیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ سن ٦٢٣ ء میں ارمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال سن ٦٢٤ ء میں اس نے آذربیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کردیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورة روم میں کی گئی تھیں، دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں ۔


پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں۔ نینویٰ کی فیصلہ کن لڑائی ﴿سن ٦٢٧ ء﴾ میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑدی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد ﴿دَسکرة الملک﴾ کو تباہ کردیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔ سن ٦٢٨ ء میں خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوئی، وہ قید کرلیا گیا، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ١٨ بیٹے قتل کردیے گئے، اور چند روز بعد وہ خود قید کی سختیوں سے ہلاک ہوگیا۔ یہی سال تھا جس میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی جسے قرآن ” فتح عظیم “ کے نام سے تعبیر کرتا ہے، اور یہی سال تھا جس میں خسرو کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضات سے دست بردار ہو کر اور اصلی صلیب واپس کر کے روم سے صلح کرلی۔ سن ٦٢٩ ء میں قیصر ”مقدس صلیب “ کو اس کی جگہ رکھنے کے لئے خود بیت المقدس گیا، اور اسی سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عُمرة القضا ادا کرنے کے لئے ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔


اس کے بعد کسی کے لئے بھی اس امر میں شبہہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ قرآن کی پیشین گوئی بالکل سچی تھی۔ عرب کے بکثرت مشرکین اس پر ایمان لے آئے۔ اُبَیّ بن خلف کے وارثوں کو ہار مان کر شرط کے اونٹ ابو بکر صدیق (رض) کے حوالے کرنے پڑے۔ وہ انہیں لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں صدقہ کردیا جائے۔ کیونکہ شرط اس وقت ہوئی تھی جب شریعت میں جوئے کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا، مگر اب حرمت کا حکم آچکا تھا، اس لئے حربی کافروں سے شرط کا مال لے لینے کی اجازت تو دے دی گئی مگر ہدایت کی گئی کہ اسے خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے۔


موضوع اور مضمون :



اس سورة میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا۔


اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیا کہ انسان اپنی سطح بینی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے، جو بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ یہ ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب ہوتی ہے، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کہ ” کل کیا ہونے والا ہے “ آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے، تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو داؤ پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے۔


اس طرح روم اور ایران کے معاملے سے تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھر جاتا ہے۔ اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے، معقول بھی ہے، اس کی ضرورت بھی ہے، اور انسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے، ورنہ وہی غلط ہوگی جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے۔


اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی طرف پھر جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے فطری دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہو کر خدائے واحد کی بندگی کرے۔ شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے، اسی لئے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے۔ اس موقع پر پھر اس فساد عظیم کی طرف، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ کی بدولت برپا تھا، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد شرک کے نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئی ہیں وہ سب بھی مشرک ہی تھیں ۔


خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہار کے خزانے اگلنے شروع کردیتی ہے، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی اور نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کا نزول اس کے لئے زندگی اور نشو ونما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہٰی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے اپنے لئے ہی ہوگی۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، پھر پچھتانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا۔


---------------------------------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد سوم ص 723، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


سورة الْعَنْکَبُوْت : زمانہ نزول، موضوع و مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آیت کے فقرے مَثَلُ الَّذِیْنَ التَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْ لِیَاءَ کَمَثَلِ العَنْکَبُوْتِ سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ ” عنکبوت “ آیا ہے۔

زمانہ نزول :


آیات ٥٦ تا ٦٠ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانے کے حالات جھلکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کرلیا کہ اس سورة کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورة مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدنیہ میں۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس سورة میں مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دیا ہے۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔ یہ تمام قیاسات دراصل کسی روات پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادت پر ان کی بنا رکھی گئی ہے۔ اور یہ اندرونی شہادت، اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔

موضوع ومضمون :


سورة کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر بڑے مصائب و شدائد کا زمانہ تھا۔ کفار کی طرف سے اسلام کی مخالفت پورے زور و شور سے ہو رہی تھی اور ایمان لانے والوں پر سخت ظلم و ستم توڑے جارہے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورة ایک طرف صادق الایمان لوگوں میں عزم و ہمت اور استقامت پیدا کرنے کے لئے، اور دوسری طرف ضعیف الایمان لوگوں کو شرم دلانے کے لئے نازل فرمائی۔ اس کے ساتھ کفار مکہ کو بھی اس میں سخت تہدید کی گئی کہ اپنے حق میں اس انجام کو دعوت نہ دیں جو عداوت حق کا طریقہ اختیار کرنے والے ہر زمانے میں دیکھتے رہے ہیں ۔


اس سلسلے میں ان سوالات کا جواب بھی دیا گیا ہے جو بعض نوجوانوں کو اس وقت پیش آرہے تھے۔ مثلا ان کے والدین ان پر زور ڈالتے تھے کہ تم محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے دین پر قائم رہو۔ جس قرآن پر تم ایمان لائے ہو اس میں بھی تو یہی لکھا ہے کہ ماں باپ کا حق سب سے زیادہ ہے۔ تو ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانو ورنہ تم خود اپنے ہی ایمان کے خلاف کام کرو گے۔ اس کا جواب آیت ٨ میں دیا گیا ہے۔


اسی طرح بعض نو مسلموں سے ان کے قبیلے کے لوگ کہتے تھے کہ عذاب ثواب ہماری گردن پر، تم ہمارا کہنا مانو اور اس شخص سے الگ ہوجاؤ۔ اگر خدا تمہیں پکڑے گا تو ہم خود آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ صاحب، ان بےچاروں کا کچھ قصور نہیں، ان کو ہم نے ایمان چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، اس لئے آپ ہمیں پکڑلیں۔ اس کا جواب آیات ١٢۔ ١٣ میں دیا گیا ہے۔


جو قصے اس سورة میں بیان کئے گئے ہیں ان میں بھی زیادہ تر یہی پہلو نمایاں ہے کہ پچھلے انبیاء کو دیکھو، کیسی کیسی سختیاں ان پر گزریں اور کتنی کتنی مدت وہ ستائے گئے۔ پھر آخر کار اللہ کی طرف سے اس کی مدد ہوئی۔ اس لئے گھبراؤ نہیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، مگر آزمائش کا ایک دور گزرنا ضروری ہے۔ مسلمانوں کو یہ سبق دینے کے ساتھ کفار مکہ کو بھی ان قصوں میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پکڑ ہونے میں دیر لگ رہی ہے تو یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ کبھی پکڑ ہوگی ہی نہیں۔ پچھلی تباہ شدہ قوموں کے نشانات تمہارے سامنے ہیں۔ دیکھ لو آخر کار ان کی شامت آکر رہی اور خدا نے اپنے نبیوں کی مدد کی ۔


پھر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر ظلم و ستم تمہارے لئے ناقابل برداشت ہوجائے تو ایمان چھوڑنے کے بجائے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ۔ خدا کی زمین وسیع ہے۔ جہاں خدا کی بندگی کرسکو وہاں چلے جاؤ۔


ان سب باتوں کے ساتھ کفار کی تفہیم کا پہلو بھی چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ توحید اور معاد، دونوں حقیقتوں کو دلائل کے ساتھ ان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے، شرک کا ابطال کیا گیا ہے، اور آثار کائنات کی طرف توجہ دلا کر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ سب نشانات اس تعلیم کی تصدیق کر رہے ہیں جو ہمارا نبی ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ تمہارے سامنے پیش کررہا ہے۔

------------------------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد سوم ص 671، سید ابوالاعلی موودی ؒ )


سورة الْقَصَص : زمانہ نزول، موضوع و مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت نمبر ٢٥ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے وَ قَصَّ عَلیہ القَصَصَ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورة کا عنوان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔

زمانہ نزول :


سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید (رض) کا یہ قول ہم نقل کرچکے ہیں کہ سورة شعراء، سورة النمل اور سورة القصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ زبان، اندازبیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہ نزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورة شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ عرض کرتے ہیں کہ ” قوم فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے “ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے ” کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا۔ “ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورة میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورة نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہوگیا کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کو لے کر جارہے تھے، اور اچانک انھوں نے ایک آگ دیکھی، وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آرہے تھے اور کدھر جارہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورة میں بیان ہوئی ہے۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تکمیل کر دیتی ہیں۔ 

موضوع اور مباحث :


اس کا موضوع ان شبہات اور اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے، اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کیے جاتے تھے۔


اس غرض کے لئے سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانہ نزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کردیتا ہے۔


اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب وذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے اپنے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہا ہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔


دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کو کسی بڑے جشن اور زمین اور آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کیسے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ ﴿علیہ السلام ﴾ کا تم خود حوالہ دیتے ہو لَو لَا اُوتِیَ مثلَ ماَ اُوتِیَ مُوسیٰ، ﴿آیت ٤٨﴾، انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) خود ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔


تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سرو سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی، مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سروسامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کون جیتا اور کون ہارا۔


چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیتے ہو کہ ”محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا “ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گو یا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دکھائے تھے۔ مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انھوں نے کیا کیا تھا ؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔ کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آؤ گے؟ پھر تمہیں کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق کا انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا ؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کر کے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزے مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟


یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اس شخص کے ذہن میں اتر جاتی ہیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا، کیونکہ اس وقت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان برپا ہوچکی تھی، اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے کس معاملے پر چسپاں ہورہا ہے۔


اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔


پہلے اس بات کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ امی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں۔ حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کے برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشاندہی کر سکیں ۔


پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کے لئے ہدایت کا انتظام کیا۔


پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے کہ ” یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ “ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام)، جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشات نفس کی بندگی نہ کرو تو حق اب بھی تمہیں نظر آسکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں ۔


پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکہ آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بےعزتی کی۔


آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ ماننے کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہل عرب دین شرک کو چھوڑ کر اس نئے دین توحید کو قبول کرلیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سر زمین میں ہمارے لئے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لئے تراشتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخری سورة تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطہ نظر سے کرتے تھے۔
------------------------------------

(تفہیم القرآن ، جلد سوم ص 609، سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 


سورة النَّمْل : زمانہ نزول، موضوع و مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : دوسرے رکوع کی چوتھی آیت میں واد النَّملِ کا ذکر آیا ہے۔ سورةکا نام اسی سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورة جس میں النمل کا ذکر آیا ہے۔ یا جس میں النمل کا لفظ وارد ہوا ہے۔

زمانہ نزول :


مضمون اور انداز بیان مکہ کے دور متوسط کی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ اور اس کی تائید روایات سے بھی ہوتی ہے۔ ابن عباس (رض) اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ ”پہلے سورۃ شعراء نازل ہوئی، پھر النمل، پھر القصص۔ “ 

موضوع اور مباحث :


یہ سورة دو خطبوں پر مشتمل ہے۔ پہلا خطبہ آغاز سورة سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے۔ اور دوسرا خطبہ پانچویں رکوع کی ابتدا سے سورة کے اختتام تک۔


پہلے خطبے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کی رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی صرف وہی لوگ ہیں جو ان حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ اور پھر مان لینے کے بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں۔ لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے وہ انکار آخرت ہے۔ کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار بندہ نفس اور فریفتہ حیات دنیا بنا دیتا ہے۔ جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کے خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔


ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بےنیازی اور نتیجۃً نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہوگئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنی ان بدکاریوں پر بھی پورا اصرار کیا جن کا گھناؤنا پن کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔


دوسرا نمونہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے جن کو خدانے دولت، حکومت، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے، اس لئے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔


تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرور نفس میں مبتلا کرسکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کرسکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی، اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار رکھنے کی خاطر بھی، اس کے لئے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لئے ہوسکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی، کیونکہ اس کی گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کے احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا۔


دوسرے خطبے میں سب سے پہلے کائنات کے چند نمایاں ترین مشہور حقائق کی طرف اشارہ کر کے کفار مکہ سے پے در پے سوال کیا گیا ہے کہ بتاؤ، یہ حقائق اس شرک کی شہادت دے رہے ہیں جس میں تم مبتلا ہو، یا اس توحید پر گواہ ہیں جس کی دعوت اس قرآن میں تمہیں دی جارہی ہے ؟ اس کے بعد کفار کے اصل مرض پر انگلی رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے اور سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتے وہ دراصل آخرت کا انکار ہے۔ اسی چیز نے ان کے لئے زندگی کے کسی مسئلے میں بھی کوئی سنجیدگی باقی نہیں چھوڑی ہے۔ کیونکہ جب ان کے نزدیک آخر کار سب کچھ مٹی ہوجانا ہے، اور حیات دنیا کی اس ساری تگ و دو کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے، تو آدمی کے لئے پھر حق اور باطل سب یکساں ہیں۔ اس کے لئے اس سوال میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی کہ اس کا نظام حیات راستی پر قائم ہے یا ناراستی پر۔


لیکن اس بحث سے مقصود یاس نہیں ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں مگن ہیں تو انہیں دعوت دینا بےکار ہے۔ بلکہ دراصل اس سے مقصود سونے والوں کو جھنجوڑ کر جگانا ہے۔ اس لئے چھٹے اور ساتویں رکوع میں پے در پے وہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو لوگوں میں آخرت کا احساس بیدار کریں اس سے غفلت برتنے کے نتائج پر متنبہ کریں، اور انہیں اس کی آمد کا اس طرح یقین دلائیں جس طرح ایک آدمی اپنی آنکھوں دیکھی بات کا اس شخص کو یقین دلاتا ہے جس نے اسے نہیں دیکھا ہے۔


خاتمہ کلام میں قرآن کی اصل دعوت، یعنی خدائے واحد کی بندگی کی دعوت نہایت مختصر، مگر انتہائی مؤثر انداز میں پیش کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسے قبول کرنا تمہارے اپنے لئے نافع اور اسے رد کرنا تمہارے اپنے لئے ہی نقصان دہ ہے۔ اسے ماننے کے لئے اگر خدا کی وہ نشانیاں دیکھنے کا انتظار کرو گے جن کے سامنے آجانے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے گا۔ تو یاد رکھو کہ وہ فیصلے کا وقت ہوگا۔ اس وقت ماننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

---------------------------------------------------

(تفہیم القرآن جلد سوم ص 551، سید ابوالاعلی مودودیؒ )