![]() |
| تفسیر سفیان ثوری کی تحقیق و تدوین |
باختلاف روایت سفیان ثوری کی ولادت سلیمان ابن عبد الملک کے زمانۂ خلافت میں سنہ 96،97ھ بمطابق 715ء میں ہوئی (بعض لوگوں نے ان کا سنہ ولادت سنہ95ھ لکھا ہے؛ مگریہ اس لیے غلط ہے کہ اس بات پرسب کا اتفاق ہے کہ وہ سلیمان کی خلافت میں پیدا ہوئے تھے اور سلیمان سنہ96ھ میں تخت خلافت پربیٹھا تھا)۔ سفیان ثوری کی وفات۔ 161ھ /۔ 778ء میں ہوئی.
برصغیر کے مشہور عالم دین، عربی دان، محقق و ادیب و نقاد مولانا امتیاز علی عرشی صاحب نے پہلی مرتبہ تفسیر سفیان ثوری کو عربی زبان میں مرتب کیا، آپ نے اس پر حواشی اور تعلیقات بھی لکھی، حکومت ہند کی طرف سے اس کی طباعت کا اہتمام کیا گیا۔
مولاناعرشی صاحب نے ان کی دیگر تصنیفات کی جوتفصیل اپنے مضمون مطبوعہ معارف سنہ۱۹۳۵ء میں دی ہے اس کے مطابق سفیان ثوری کی تصانیف درج ذیل ہیں۔
(۱)الجامع الکبیر فی الفقہ، یہ کتاب ابوبکر محمد بن ابی الخیر الاموی نے چوتھی صدی ہجری میں اور علامہ محمد عابد بن احمد لعی سندی نے تیرھویں صدی ہجری کے نصف اوّل میں پڑھی تھی۔
(۲)الجامع الصغیر، جو الجامع کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ ایک زمانہ میں محدثین میں بڑی مقبول و متداول رہی ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے علمِ حدیث کی جب تحصیل شروع کی تو سب سے پہلے جن کتابوں کی طرف توجہ کی وہ سفیان ثوری کی ’’جامع‘‘ اور عبد اللہ بن مبارک اور وکیع کی تصنیفات تھیں۔ امام بخاری نے ’’جامعِ سفیان‘‘ کا سماع اپنے وطن ہی میں امام ابوحفص کبیر سے کیا تھا۔
(۳)اکتاب الفرائض یہ کتاب بھی محمد بن عابد سندی نے پڑھی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب بھی تیرھویں صدی تک موجود تھی۔
.jpg)


