حقائق قرآنی


قرآن کریم کتاب حقائق ہے جن کی وضاحت اللہ رب العزت نے مختلف مثالوں ، واقعات ، دلائل اور تصورات کے ذریعے کی ہے ، تاکہ وہ انسان کے دل پر اتر جا ئے اور اللہ تعالی پر ایمان مظبوط تر ہو جائے ۔


ان حقائق میں سے ایک حقیقت " تقدیر" ہے : تقدیر کا مطلب ہے کہ کا ئنات میں سب کچھ اللہ کے فیصلے کے مطابق ہو رہا ہے ۔ کوئی امر اس کے فیصلے سے مستثنی نہیں ہے ۔ حدیث کے مطابق درخت سے کوئی پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں گرتا ۔ قرآن میں ایک جگہتقدیر کی حقیقت کو حضرت یعقوب ؑ کے ایک واقعہ کے ضمن میں بیان کیا ،حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو مشورہ دیا تھا کہ عزیز مصر کے محل میں الگ الگ دروازہ سے داخل ہوں ، یقینا انہوں نے یہ فیصلہ اس لے کیا تھا تاکہ ان کے بیٹے نقصان سے بچ جا ئے ۔ لیکن اللہ کا فیصلہ ان کے فیصلے کے خلاف تھا جس کو حضرت یعقوب ؑ کے فیصلہ پر مسلط کیا پھر حضرت یعقوب ؑ اپنے فیصلہ کے مطابق کچھ نہیں کرسکے، بس وہ تو حضرت یعقوب ؑ کے دل کی ایک خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی ۔ لیکن اس سے وہ اللہ کے فیصلہ کو ٹال نہ سکے ۔ اللہ رب العزت نے لوگوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ (" ولكِنّ اَكْثَرَ النَّاسِ لاَيَعْلَمُوْنَ " ایت :68) لیکن اکثر لوگ اس( حقیقت) کو نہیں جا نتے ۔ 

اسی طرح حضر ت خضر ؑ اور موسی ؑ کا واقعہ بھی قرآن میں تقدیر الہی کی حقیقت کی وضاحت کر تا ہے ۔ اس طرح بہت سے واقعات، مثالیں اور دلائل مختلف کائناتی حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔ اس طرح قرآن ہمارے لیے قابل فہم ہوجاتا ہے اور کائنات کے حقائق اور تقدیر الہی سے پردہ بھی ہٹ جاتا ہے ۔

قرآن مجید میں شرپسند کفار کے نا م اور القاب

1ـ فِرْعَوْن: شاہان ِمصر  کا  لقب تھا ۔ قرآن میں اس فرعون کے کردار کا  ذکر ہو ا    کہ ایک فرعون نے موسی ٰ کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل کے  ہزاروں بچے قتل کرادیے ۔کیونکہ نجومیوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا  ایک بچہ بڑا ہو کر اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے گا ۔ اس کے باوجود موسی ؑ کی اللہ تعالی نے حفاظت  زریعہ خود فرعون اور اس کی بیوی بن گی ۔ آخر میں فرعون اپنے لشکر سمیت بحیرۂ قلزم میں غرق ہوا ۔ اس کی لاش  ہمیشہ کی عبرت کا سامان بن گی ۔ وہ آج تک مصری میوزیم میں محفوظ ہے ۔ 

 2ـ  هَامَان : فرعون کا وزیر ۔ حضرت موسی ؑ    نے جب فرعون کو دین کی دعوت دی تو اس نے ہامان سے کہا کہ اے ہامان " ذرا اینٹیں پکواکر میرے لے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، جس پر چڑھ کر میں موسی ٰ کے خدا کو دیکھ سکوں "
2_ قَارُوْن : ۔ موسی ٰ ؑ کا چچیرا بھائی اور موسی ٰ ؑ اور ہا رون  ؑکے بعد تورات کا سب سے پڑا عالم تھا ۔ بے انتہا  مال ودولت کا مالک تھا ۔ موسی  ٰ علیہ  السلام نے زکوۃ  کا مطالبہ کیا تو یہ با ت اسے نا گوار گزری ۔  اس کا کہنا تھا کہ یہ دولت اسے اس کی محنت اور تجربہ کی بنا پر حاصل کی ہے ۔ اس پر وہ فرعونیوں سے مل گیا ۔ اس جرم پر اللہ نے اس کو اور اس کے تمام خزانوں کو زمین میں  دھنسا دیا ۔
 3_ سَامِرِي ۔ بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی کی دعوت دینے والا ۔جب موسی  ؑ کوہ طور پر چالیس روز کیلے گیے سامری نے سونے کا بچھڑا بناکر لوگوں کو اس کی پرستش کی دعوت دی ۔ لوگ اس کی اس سازش کا شکار ہوگئے اس پر اللہ نے اسکو اس کے ساتھیوں کو سخت سزا دی ۔
 4_ جَالُوْت : ۔ یہ نہایت ظالم بادشاہ تھا ۔ طالوت کی قیادت  میں حضرت داؤد  ؑ کے ہا تھوں قتل ہو ا ۔
6_ اَبُوْلَهَب : رسول اللہ ﷺ کا حقیقی چچا تھا ۔ اس کا رنگ سرخ تھا۔اس لیے لو گ اس کو ابو لھب کے لقب سے پکا ر تے ۔ (  لھب: شعلہ کو کہتے ہیں  ۔)

یہ بھی پڑھیئے :

شر پسندوں کی مثال 

حصول مقاصد کے قرآنی اصول

کامیابی کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ کہ انسان اپنی زندگی کے مقاصد واہداف ہمیشہ ذہن میں تازہ رکھے کسی بھی لمحہ اس سے غافل نہ رہے ۔ 

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ایک ہی بات کو باربار دہراتا ہے۔ مکی دور سے لیکر مدنی دور کی آخری وحی تک چند اہم اصول زندگی جن کا تذکر ہ قرآن مجید میں بار بار کیا جا تاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم انسانی فطرت کا جائزہ لیں تو اس میں تین فطری کمزوریاں پائی جا تی ہیں ۔ ایک ہے عدم علم یا جہالت۔ دوسرا ہے نسیان یعنی اگر علم ہو بھی جائے توجلد اس کو بھول جا نا ۔ تیسری بڑی کمزوری ہے غفلت ۔ ان تینوں کمزوریوں کا علاج یہ ہے کہ اگرکسی انسان کو علم نہیں تو صاحب علم سے معلوم کریں ۔یا اگر معلوم ہے تو اس کو تازہ رکھیں ۔اور غفلت سے چٹکا ر ا علم پر فوری عمل پیرا ہو نے سے ممکن ہے ۔ کا میابی کے لے یہ سب سے بنیادی اور اہم شرط ہے ۔

ہماری زندگی میں ایسا ہی ہو تا ہے کہ جب ہم ایک مقصد متعین کرلیتے ہیں تو وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ ہم اور مقاصد میں الجھ کر اصل مقصد کو بھول جا تے ہیں یا اصل مقصد لاشعور میں چھپ جا تا ہے ۔پھر عملی زندگی میں بھی اس اصل مقصد سے لا تعلق ہو جا تے ہیں ۔حالت آہستہ آہستہ یہ ہو جا تی ہے کہ جانا کہیں اور تھا نکل کہیں اور گئے جس طرح راستہ بھٹکا ہو ا انسان کے ساتھ ہو تا ہے ۔ گویا فارسی کے اس مقولہ کا مصداق بن جا تے ہیں " راہ رو پشت بہ منزل " یعنی اس مسافر کی طرح جس کی پشت منزل طرف ہے ۔

عمل کی تین اہم بنیا دہیں: سب سے پہلی یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک واضح ، متعین مقصد ہو۔ دوسری بنیا د کہ اس کا تعلق عام معاشرتی زندگی کے ساتھ ہو، محض کوئی خیالی تصو ر نہ ہو ۔ تیسری یہ ہے کہ وہ ایسا مقصد ہو جو کسی واضح نظریہ حیات((Ideology سے جنم لیا ہو ۔ جب عمل ان تین بنیاد وں پر استوار ہو گا تو اس کے نتائج نہایت واضح اور مفید ہو ں گے ۔ ورنہ اس عمل کی نہ کوئی قدر وقیمت ہو گی نہ اس کا تعلق معاشرہ سے ہو گا، نہ اس کے نتائج سے لو گوں کو  کو ئی فائد ہ ہو گا ۔

اگر ہم ان بنیادی باتوں کو قرآن پاک کی روشنی میں سمجھنا چاہیں تو قرآن ہماری رہنمائی کر تا ہے قرآن میں کئی کامیاب انسانوں کے ماڈل موجود ہیں ،قرآن نے ان کامیاب شخصیا ت کی زندگیوں کو ماڈل ( اسوہ ) کہا ہے ۔ ان میں سے ایک ماڈل پر ہم غور کر تے ہیں ۔

وہ حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت ہے ۔ان کی شخصیت قرآن میں بہت نمایا ہے ۔ بلکہ اللہ تعالی نے ان کی شخصیت ان کے بعد آنے والی تمام امتوں کے لیے ماڈل قرار دیا ۔ اگر ان کی سیرت پر ہم غور کریں تو سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی پوری زندگی کا رخ اللہ تعالی کی طرف ہو گئی تھی ۔

اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ  (سورہ انعام : 79)

میں اپنا رخ یکسو ہوکر اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‏


یہ سب بنیا دی چیز جو ایک مؤمن کی زندگی کا رخ متعین کر تا ہے اس توحید کا اقرار کہے یا ایمان کہے بہر صورت میں اس کے لے اس بات کا اقرار ضروری ہے ۔


دوسری بات حضرت ابراہیم ؑ نے سارے غلط اور بے مقصد تعلقات کو چھوڑکر اللہ تعالی سے تعلق کو جوڑا ۔ اور اس وقت تک ان تعلقات سے بے تعلق رہنے کا فیصلہ کیا یعنی ہر تعلق پر  اللہ کا تعلق غالب ہے ہر دوستی پر اللہ کی دوستی غالب ہے کہ جب تک وہ سب خدائے یکتا پر ایمان نہیں لے آتے ۔ انسانی زندگی تعلقات کا نام ہے، انسان کے تعلقات خاندان سے ، معاشرے سے یا مادی سازوسامان سے اور مفادات سے ہو تے ہیں ۔ اگر یہ تعلقات درست سمت میں نہ ہو تو انسان کی زندگی خسارے میں رہتی ۔


قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَکَ وَ مَاۤ اَمۡلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ رَبَّنَا عَلَیۡکَ تَوَکَّلۡنَا وَ اِلَیۡکَ اَنَبۡنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴﴾ الممتحنۃ )

‏ مسلمانو! تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے (١) جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں (٢) ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی (٣) لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی (٤) کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے (۵) اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔


اس سے معلوم ہو ا کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لے اللہ کی بندگی اختیا ر کرنا اس کی طرف دوسروں کو بھی راغب کرنا ۔ یہی اصل مقصد زندگی ہے ۔ اسلام کی آئیڈیل شخصیات کی زندگی میں ہمیں یہ دونوں باتیں مشترکہ نظر آتے ہیں ۔ قرآن ہم سے مطالبہ کر تا ہے کہ کسی مسرفین کی اطاعت نہ کریں جو فسادی ہیں اور تعمیری و اصلاحی عمل سے باغی ہیں ۔

وَ لَا تُطِیۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾ۙالَّذِیۡنَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾

بے باک حد سے گزر جانے والوں کی (١) اطاعت سے باز آجاؤ۔‏‏ جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‏(الشعراء: 151-152)


یہ ہمیں قرآن کریم میں نظر آتاہے کہ انبیاء کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ جو کچھ آپ کو دیا وہ لوگوں تک پہنچائیں ۔ اس لے کامیابی میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ کے پیغام اور عمل سے لوگ آشنا ہوں تاکہ لوگ آپ کی کامیابی سے فائدہ اٹھا ئیں ۔


یہ بات یا د رکھنا چاہئے کہ انبیا کی دعوت کا جہاں ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ کی بندگی قائم ہو وہان اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی کہ انسانوں کی زندگی انصا ف کے اوپر قائم ہو دراصل انبیا کی تما م تر جد وجہد اسی مقصد کے لے ہے ۔ اس بات کو سورۃ الحدید میں بڑے واضح انداز میں بیان فرما یا :


لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ ۔۔۔۔۔﴿٪۲۵﴾ (سورہ الحدید)


ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔

اسلام میں زبا ن کو تقدس کا درجہ حاصل نہیں ( یا زبان کی پرستش نہیں کی جا تی ) مسلمانوں نے دین کی تفہیم اور تشریح کے لے ہمیشہ نئے الفاط کا استعمال کیا ہے ۔ جب بھی ان کو نئے معنی اور مفہوم کی ضرورت پڑی انہوں نے نئے الفاظ استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ۔ بلکہ اللہ تعالی نے تو یہاں تک فرمایا کہ ہم نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ اللہ کے پیغام کو واضح کر سکے ۔


وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمۡ ؕ فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴﴾ (ابراہیم )


‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ ‏


یعنی ہم جس قوم سے، جس معاشرے سے، جس دور میں بات کریں اس کی زبان ہی میں بات کو بہتر طور پر کہی اور سمجھا ئی جا سکتی ہے ۔مسلمان ایران گئے وہا ں اللہ کے ساتھ ساتھ خدا کا لفظ استعمال ہو تا تھا انہوں نے اس پر اصرار نہیں کیا کہ ہم لازما (اللہ ) کا لفظ استعمال کریں گے ۔ بلکہ خدا کا لفظ اختیار کرلیا ۔ اسی طرح " صلوۃ" کے لے" نماز" کا لفظ ۔ جیسے جیسے ضرورت پڑی تو شریعت اور تصوف اور فقہ کے الفاظ استعمال کیے گے ۔ اگرچہ یہ الفاظ دوسری زبان کے ہیں ۔اس کے باجود علماء اسلام نے ان کو وضع کیا تاکہ دین کی بات پھیل سکے ۔


اسی لے انبیاء کی دعوت کا جہاں ایک جز یہ رہا ہے کہ صر ف اللہ کی بندگی اختیار کرو اور صرف میری اطاعت کر و وہاں دوسرا جز ہمیشہ معاشرے کے بنیادی مسائل سے متعلق رہا اگر بنی اسرئیل سیاسی غلامی کے شکار تھے توموسی ؑ نے فرعون سے سیاسی آزادی کا مطالبہ کیا۔ اگر قوم عاد تھی تو اس کی جہاں گیر ی (imperialism) کے خلاف آواز اٹھا ئی ۔ اگر نوح علیہ السلام کی قوم تھی تو اس کی طبقاتی کش مکش کے خلاف سخت پکار بلند کی گی ۔ اور اگر قوم لوط تھی تو اخلاقی اباحیت کے خلاف دعوت دی گی ۔ گویا ہر دعوت معاشرے کے زندہ مسائل اور دل چسپیوں سے متعلق تھی ۔ اس کی حیثیت رد عمل کی سی نہیں تھی ۔ وہ دعوت الی اللہ تھی لیکن معاشرے اور انسان سے غیر متعلق نہیں تھی ۔ 

اس وقت دنیا کے تمام ادارو ں ،ریا ستوں، تنظیموں میں یہ ایک بڑا بنیا دی مسئلہ ہےکہ فرد اور جماعت کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اور کس کو کس پر فوقیت اور اہمیت حاصل ہے ؟ بعض لو گ کہتے ہیں اصل چیز فرد ہے اس لے کہ پوری جماعت اور معاشرہ فرد کو آگے بڑھا نے کے لے وجود میں آتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ اصل چیز جماعت ہے چونکہ جماعت اور معاشرہ فرد کی تشکیل کر تے ہیں اس لے فرد کو اپنی شخصیت اجتماعیت کی خاطر قربان کر دینا چاہئے ۔ اسلام نے ان دونوں کے درمیان توازن پید کیا آخرت کی کامیاب کے لحاظ سے فرد ہی اصل ہے اس لے جماعت ریاست معاشرہ کی سب تگ ودو فرد کی لے لیے ہو تا ہے کہ فر د اپنے مقصد میں کا میاب ہو خواہ اس کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے ۔

ایک مسلم فرد کی زندگی کا کیا مقصد ہو نا چاہئے جب ہم اس سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ نبی کی سنت کی پیروی کرے تو اس سنت سے کیا مراد ہے ؟ آج کل المیہ یہ ہے کہ سنت کا لفظ سنتے ہی ایک مخصوص حلیہ یا لباس کھانے پینے اور چلنے پھر نے کے آداب ہما رے سامنے آتے ہیں ۔صرف اسی کو سنت سمجھ تے ہیں حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ۔ اگر ہم غار حرا سے حضرت عائشہ کے حجرے تک جہاں حضور ﷺ نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی حضور ﷺ زندگی پر غور کر یں کہ آپ ﷺ نے عمر بھر کیا کیا اور کیا کہا آپ کے ساتھی کیا کرتے رہے اور کیا کہتے رہے جس کو آپ نے منظور کیا قبول کیا تو ہمارے سامنے سنت کی کیا تصویر بنتی ہے ؟ وہ تصوریر یہ بنتی ہے کہ آپ ﷺ ہر لمحہ دعوت وجہاد اور غلبہ دین کے کام میں مصروف رہے ، مکہ کی گلیاں ہوں یا طائف کی وادی ، یا بدر کا میدان ہو یا مسجد نبوی ہر جگہ آپ کی تعلیم ، تزکیہ اور دعوت میں مصروف نظر آتے ہیں یہ آپ کی سب سے بڑی سنت تھی ۔ اس امت کےلیے سب سی بڑی سنت دعوت الی اللہ جہاد اور تعلیم وتزکیہ کی سنت ہے ۔ 


اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ (الحجرات )


مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں ‏


وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾ (الانفال)


‏ اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ ‏

یہ سنت ایسی سنت نہیں کہ اس کے بارے میں کہا جا سکے کہ وقت ہو گا تو کریں گے یا ماحول ساز گار ہو گا تو کریں گے بلکہ اس سنت پر عمل ایمان لاتے ہی ضروری ہو جا تاہے اور عمر بھر عائد رہتاہے اس کو نہ ملتوی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ٹالی جا سکتی ہے ۔


یہ بھی پڑھئے : 






قرآن کریم کی زبان عربی کا مستقبل

دنیا اب سمیٹ کر ایک محلہ بن گئی ہے ۔ اس سے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ ملا ۔ انسانوں کے باہمی تعصبات میں کمی آئی ۔انسان ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہو گیا ۔زبانوں کو فروغ ملا، ہر ایک دوسرے کی زبان سے واقف ہونے لگا ۔ تہذیب وثقافت کے دائرے مٖٹنے لگے ۔ انسان عمل وفکرہر چیز میں باہمی متحد ہونے لگے۔  تمام ناقص مذاہب کے دائرے ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہوگئے۔

اب ایک عالم گیر تہذیب، ایک عالم گیر مذہب اور ایک عالم گیر زبان بین الانسان کی ضرورت محسوس ہورہی ۔ جو ہرلسانی ضروریا ت کو پورا کر ے ۔ ہر فکر وعمل کو انسانی فطرت کےمطابق بنادے ۔  یقینا یہ کا م دین اسلام اور عربی زبان اور قرآن کریم اور سیرت النبی ﷺ کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔  اس کے علاوہ کو ئی اور ذریعہ، انسانی اتحاد کے لے ناممکن ہی نہیں بلکہ باعث انتشار ہے۔ 

تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں عربی زبان، قرآن وسیرت النبی ﷺ نے دنیا کو ایک مثالی نظام حیات دیا جس کے اثرات انسانی زندگی میں نظر آئے ۔ 

عربی ایک فطری کامل اور محفوظ زبان ہے ۔ اس حوالے سے دنیا کی کوئی زبان اس کے مقابل کھڑی نہیں ہوسکتی ۔  یہ دنیا کی واحد زبان ہے جس میں مختصر اسلوب میں باریک سے باریک معنی کے اظہار اور نازک سے نازک مسئلہ کی توضیح وتشریح  اور ہر جدید تقاضوں کو بھی خوبی سے انجام دینے کی پوری صلاحیت ہے ۔ 

ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ دیگر زبانوں کے سوا عربی زبان انسان کے تمام فطری جذبات ،احساسات کو بیان کر نے کا واحد ذریعہ ہے ۔  کیونکہ اس میں سامی زبان کی باقیات کے ساتھ ساتھ تمام انسانی زبانوں کی خوبیاں بھی موجود ہیں ۔ 

اس سے اس بات پر یقین آتا ہے کہ اللہ نے چونکہ اس زبان میں اپنے آخری پیغام کو پیش کر نا تھا اس لے اس کی حفاظت کی ، اس کو مٹنے نہ دیا ۔ جس طرح قرآن مجید قیامت تک محفوظ ہے عربی زبان بھی محفوظ ہو گئی۔ اس کا مستقبل اللہ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لے محفوظ کر دیا ۔

اس وقت سوچ نے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لے آخری کتاب قرآن مجید اور معلم کتاب اور شریعت اسلام کو عربی زبان سے کیوں وابستہ کیا ؟ ہر مسلمان کے نام ، عبادت ، رسم رواج سب کے ساتھ عربی زبان کا تعلق ہے ۔ عربی نہ صر ف زبان کی حد تک بلکہ ہر مسلمان کی روح میں بسی ہوئی ہے ۔ 

 قرآن کی تلاوت 7/24 وقت عام ہو نے کی وجہ سے مسلسل پھیلتی اور ترقی کرتی جا رہی ہے ۔