واقعہ معراج - سید ابوالاعلی مودودیؒ

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا  ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ  (الاسراء : 1)
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت  میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ۔

-------------
یہ وہی واقعہ ہے جو اصطلا حا ”معراج“ اور ”اسراء“ کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں جن کی تعداد ٢٥ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایت حضرت انس بن مالک، حضرت مالک بن صعصَعہ، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو سعید خدری، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عائشہ اور متعدد دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی اس کے بعض اجزاء بیان کیے ہیں ۔

قرآن مجید یہاں صرف مسجد حرام (یعنی بیت اللہ ) سے مسجد اقصٰی (یعنی بیت المقدس) تک حضور کے جانے کی تصریح کرتا ہے اور اس سفر کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھانا چاہتا تھا۔ اس سے زیادہ کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی ہے۔ حدیث میں جو تفصیلات آئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ رات کے وقت جبریل (علیہ السلام) آپ کو اٹھا کر مسجد حرام سے مسجد اقصی تک براق پر لے گئے۔ وہاں آپ نے انبیاء علہیم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر وہ آپ کو عالم بالا کی طرف لے چلے اور وہاں مختلف طبقات سماوی میں مختلف جلیل القدر انبیاء سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آخر کار آپ انتہائی بلندیوں پر پہنچ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے اور اس حضوری کے موقع پر دوسری اہم ہدایات کے علاوہ آپ کو پنج وقتہ نماز کی فرضیت کا حکم ہوا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس کی طرف پلٹے اور وہاں سے مسجد حرام واپس تشریف لائے۔ اس سلسلے میں بکثرت روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جنت اور دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔ نیز معتبر روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ دوسرے روز جب آپ نے اس واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا تو کفار مکہ نے اس کا بہت مذاق اڑایا اور مسلمانوں میں سے بھی بعض کے ایمان متزلزل ہوگئے۔

کیا قرآنی الفاظ کے معانی قدیم اور متروک ہوچکے ہیں ؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کا کام تو محض شرعی و دینی امور سے بحث کرنا ہے۔ یہ تو مراسمِ عبودیت اور عقائد و احکام کا مجموعہ ہے۔ سائنس کی ترقی اور نئی نئی معلومات سے اسے کیا سروکار؟ نیز اگر یہ کہا جائے کہ قرآن سائنسی مواد سے بحث کرتا ہے اور جدید سائنسی معلومات سے قرآن کے بہتر فہم میں مدد ملتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانے لوگ قرآن کو درست طور پر نہ سمجھ سکے۔

یہ بات قرآن کی عظمت کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی دلیل ہے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن سب انسانوں اور سب زمانوں کے لیے ہے، جو لوگ جس دور میں بھی اس کا مطالعہ کریں گے، یہی محسوس ہوگا کہ یہ انہی لوگوں اور اسی دَور کے لیے نازل ہوا ہے۔

چونکہ یہ ایسی ہستی کا کلام ہے، جو ازلی و ابدی ہے اور جس کا علم سب زمانوں کو محیط ہے، گردشِ ایام جس میں کبھی بھی کوئی ترمیم و اضافہ یا اصلاح و تجدید تجویز نہیں کرسکتی۔ لہٰذا لازم تھا کہ اس کے الفاظ کی ساخت و ترکیب ایسی ہو اور اس کے معانی میں ایسی وسعت و لچک رکھی جائے کہ یہ پرانے لوگوں کی سمجھ سے بالا ہو اور نہ نئے لوگوں کو پرانا لگے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے، جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (2/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ

حَمْد :۔

عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں، یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو یہ حمد نہ ہوگی، حمد پر الف لام ہے یہ استغراق کے لیے بھی ہوسکتا ہے، جنس کے لیے بھی۔ پس ’’ الحمد للہ‘‘ کے معنی یہ ہوئے کہ حمد و ثنا میں سے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔ اور اگر حسن موجود ہے تو نگاہ عشق کیوں نہ ہو اور اگر محمودیت جلوہ افروز ہے تو زبان حمد و ستائش کیوں خاموش رہے؟

آئینہ ما روائے ترا عکس پذیر است ::: گر تو نہ نمائی گنہ از جانب ما نیست

حَمْد سے سورت کی ابتدا کیوں کی گئی؟

 اس لیے کہ معرفت الٰہی کی راہ میں انسان کا پہلا تاثر یہی ہے۔ یعنی جب کبھی ایک صادق انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلی حالت جو اس کے فکر و وجدان پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر وہی ہوگی جسے یہاں تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے معرفت حق کی راہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات خلقت میں تفکر و تدبر کرے۔ مصنوعات کا مطالعہ اسے صانع تک پہنچا دے گا۔

الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (188:3)

تحویل قبلہ کی حقیقت

مولانا ابوالکلام آزاد ؒ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اقوام عالم کی امامت ملی تھی۔ انہوں نے مکہ میں عبادت گاہ کعبہ تعمیر کی اور امت مسلمہ کے ظہور کی الہامی دعا مانگی۔ مشیت الٰہی میں اس ظہور کے لیے ایک خاص وقت مقرر تھا۔ جب وہ وقت آگیا تو پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور ان کی تعلیم و تزکیہ سے موعودہ امت پیدا ہوگئی۔ اس امت کو نیک ترین امت ہونے کا نصب العین عطا کیا گیا اور اقوام عالم کی تعلیم اس کے سپرد کی گئی۔ ضروری تھا کہ اس کی روحانی ہدایت کا ایک مرکز بھی ہوتا۔ یہ مرکز قدرتی طور پر عبادت گاہ کعبہ ہوسکتا تھا چنانچہ تحویل قبلہ نے اس کی مرکزیت کا اعلان کردیا۔ یہی حقیقت قلبہ کے تقرر میں پوشیدہ تھی۔ چنانچہ سیقول السفہاء سے یہی بیان شروع ہوتا ہے۔ پیروان دعوت قرآنی مخاطب ہیں اور انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل حق نے جو بیج بویا تھا وہ بار آور ہوگیا ہے اور نیک ترین امت تم ہو۔

قانونِ قصاص

ارشاد باری تعالی ہے :۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی ؕ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ وَ الۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَ الۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ فَمَنۡ عُفِیَ لَہٗ مِنۡ اَخِیۡہِ شَیۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحۡسَانٍ ؕ ذٰلِکَ تَخۡفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ،  وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ سورۃ البقرۃ 178-179 ﴾ 

ترجمہ :

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص (1) کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نےقتل کیا ہو تو آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو غلام ہی قتل کیا جائے،اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔(2) ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی(3) کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق (4) خوں بہا کا تصفیہ ہو نا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔

یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے،اس کے لیےدرد ناک سزاہےـ عقل و خرد ر کھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے(5)۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔"

------------------------

حواشی : 

1- قِصَاص، یعنی خُون کا بدلہ ، یہ کہ آدمی کے ساتھ وہی کیا جائے، جو اُس نے دُوسرے آدمی کے ساتھ کیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے مقتول کو قتل کیا ہو، اُسی طریقے سے اس کو قتل کیا جائے، بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ جان لینے کا جو فعل اُس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے وہی اُس کے ساتھ کیا جائے۔

نیک اور سچی زندگی

ارشاد باری تعالی ہے ۔

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ  ﴿سورۃ البقرۃ : ۱۷۷﴾


نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، 

 بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو

 اور یومِ آخر

 اور ملائکہ کو

 اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب

 اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے 

اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں

 اور یتیموں پر ،

 مسکینوں اور مسا فروں پر،

 مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر 

اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے،

 نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ 

اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں،

 اور تنگد ستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ 

یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

----------------------------------

(ترجمہ سید ابوالاعلی مودودیؒ ۔ سورۃ البقرۃ آیت 177)

شرعی حدود ـ سید ابوالاعلی مودودیؒ

قرآن مین ایک جگہ روزے کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

---------تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا ---------- ( سورۃ البقرۃ - ١٨٧)

 یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ 

----------------------------
اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے سید ابوالاعلی مودودیؒ لکھتے ہیں ۔ 

"یہ نہیں فرمایا کہ ان حدوں سے تجاوز نہ کرنا، بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقام سے معصیت کی حد شروع ہوتی ہے، عین اسی مقام کے آخری کناروں پر گھومتے رہنا آدمی کے لیے خطرناک ہے۔ سلامتی اس میں ہے کہ آدمی سرحد سے دور ہی رہے تاکہ بھولے سے بھی قدم اس کے پار نہ چلا جائے۔ یہی مضمون اس حدیث میں بیان ہوا ہے، جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لکل ملکٍ حمیٰ و ان حمی اللہ محار مہ، فمن رتع حول الحمی، یوشک ان یقع فیہ۔ عربی زبان میں حمیٰ اس چراگاہ کو کہتے ہیں، جسے کوئی رئیس یا بادشاہ پبلک کے لیے ممنوع کر دیتا ہے۔ اس استعارے کو استعمال کرتے ہوئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ”ہر بادشاہ کی ایک حمیٰ ہوتی ہے اور اللہ کی حمیٰ اس کی وہ حدیں ہیں، جن سے اس نے حرام و حلال اور طاعت و معصیت کا فرق قائم کیا ہے۔ جو جانور حمیٰ کے گرد ہی چرتا رہے گا، ہوسکتا ہے کہ ایک روز وہ حمیٰ کے اندر داخل ہوجائے۔“ افسوس ہے کہ بہت سے لوگ جو شریعت کی روح سے ناواقف ہیں، ہمیشہ اجازت کی آخری حدوں تک ہی جانے پر اصرار کرتے ہیں اور بہت سے علما و مشائخ بھی اسی غرض کے لیے سندیں ڈھونڈ کر جواز کی آخری حدیں انہیں بتایا کرتے ہیں، تاکہ وہ اس باریک خط امتیاز ہی پر گھومتے رہیں، جہاں اطاعت اور معصیت کے درمیان محض بال برابر فاصلہ رہ جاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بکثرت لوگ معصیت اور معصیت سے بھی بڑھ کر ضلالت میں مبتلا ہو رہے ہیں، کیونکہ ان باریک سرحدی خطوط کی تمیز اور ان کے کنارے پہنچ کر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے۔"

-------------------------

تفہیم القرآن ، سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :196 ، سید ابوالاعلی مودودیؒ 

حشر اسی زمین پر برپا ہوگا

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (سورہ ابراھیم :  48)

ڈراؤ انہیں اس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے 57 اور سب کے سب اللہ واحد قہّار کے سامنے بےنقاب حاضر ہوجائیں گے ۔

-------------------------------------

اس آیت سے اور قرآن کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست و نابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبیعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا۔

 اس کے بعد نفخ صور اول اور نفخ صور آخر کے درمیان ایک خاص مدت میں، جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، زمین اور آسمانوں کی موجودہ ہیئت بدل دی جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت، دوسرے قوانین فطرت کے ساتھ بنا دیا جائے گا۔ 

وہی عالم آخرت ہوگا۔ پھر نفخ صور آخر کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیق آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے، از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ 

اسی کا نام قرآن کی زبان میں حشر ہے جس کے لغوی معنی سمیٹنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔

 قرآن کے اشارات اور حدیث کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا، یہیں عدالت قائم ہوگی، یہیں میزان لگائی جائے گی اور قضیہ زمین برسر زمین ہی چکایا جائے گا۔

 نیز یہ بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ ہماری وہ دوسری زندگی جس میں یہ معاملات پیش آئیں گے محض روحانی نہیں ہوگی بلکہ ٹھیک اسی طرح جسم و روح کے ساتھ ہم زندہ کیے جائیں گے جس طرح آج زندہ ہیں، اور ہر شخص ٹھیک اسی شخصیت کے ساتھ وہاں موجود ہوگا جسے لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوا تھا۔(1)


--------------------------------------

1- تفہیم القرآن ، سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :57، سید ابوالاعلی موودیؒ


متعلہ مضامین :

1- قیامت کا منظر سورۃ الزلزال کی روشنی میں 

قبلہ کا تعین

مولانا وحید الدین خاں 

تذکیر القرآن : سورۃ البقرۃ ،  تفسیر آیات 144 تا 147

قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙاِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  ، اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 

ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ پس ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو، اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رخ کو اسی کی طرف کرو۔ اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی جانب سے ہے۔ اور اللہ بےخبر نہیں اس سے جو وہ کر رہے ہیں ۔

اور اگر تم ان اہل کتاب کے سامنے تمام دلیلیں پیش کردو تب بھی وہ تمہارے قبلہ کو نہ مانیں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرسکتے ہو۔ اور نہ وہ خود ایک دوسرے کے قبلہ کو مانتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے، حالاں کہ وہ اس کو جانتا ہے۔ حق وہ ہے جو تیرا رب کہے۔ پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔
--------------------------------------
 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقہ کی پیروی کرتے تھے۔ اسی بناء پر آپ نے ابتداءً بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔

قبلہ اول کی تبدیلی ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 142 تا 143

سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۗءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا ۭ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ  وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ۭ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ   

اب بےوقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔  اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بات بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ بےشک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔

------------------------------------

 قبلہ کا تعلق مظاہر عبادت سے ہے نہ کہ حقیقت عبات سے۔ قبلہ کا اصل مقصد عبادت کی تنظیم کے لیے ایک عمومی رخ کا تعین کرنا ہے۔ ہر سمت اللہ کی سمت ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے جو سمت بھی مقرر کردے وہی اس کی پسندیدہ عبادتی سمت ہوگی، خواہ وہ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف۔ مگر لمبی مدت تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کرنے کی وجہ سے قبلہ اول کو تقدس حاصل ہوگیا تھا۔ چنانچہ 2 ھ میں جب قبلہ کی تبدیلی کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں کے لیے اپنے ذہن کو اس کے مطابق بنانا مشکل ہوگیا۔

پانی ، بارش ، قرآن اور سائنسی تحقیقات


ارشاد باری تعالی ہے : 

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (الانبیاء : 30 ) " اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا "

پانی ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مائع ہے۔ یہ تمام حیات کے لیے نہایت اہم ہے۔ پانی نے کرۂ ارض کے ٪70.9 حصّے کو گھیرا ہوا ہے۔
سائنس دان کے مطابق پانی کیمیائی طور پر یہ ایک ایٹم آکسیجن اور دو ایٹم ہائیڈروجن سے مل کر بنا ہے۔


قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں بیسیوں آیات صرف آبیات یعنی بانی کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود آبیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ [ قرآن اور جدید سائنس،" ڈاکٹرذاکر نائیک، صفحہ 16، اور " قرآن، بائبل اور جدید سائنس،" : ڈاکٹرمارس بوکائے، صفحہ 125]


آبی چکر: (water cycle)


آج سائنس دان جس تصور کو آبی چکر (water cycle ) کے نام سے ذکر کرتے ہیں، اسے پہلے 1580ء میں برنارڈپیلیسی (Bernard Pallissy) نامی ایک شخص نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سمندروں سے کس طرح پانی بخارات میں تبدیل ہوتا ہے اور کس طرح وہ سرد ہو کر بادلوں کی شکل میں آتا ہے۔ کس طرح زمین سے بلند ہوکر تکثیف (Condensation) ہوتا ہے اور بارش برستی ہے۔ پھر یہ پانی جھیلوں، جھرنوں، ندیوں اور دریائوں میں آتا ہے اور بہتا ہوا واپس سمندر میں چلا جاتا ہے اس طرح پانی کا یہ چکر جاری رہتا ہے ۔