سورتوں کا دوسرا گروپ : تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سورتوں کا دوسرا گروپ : تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

9۔ سورۃ براءۃ : تعارف ، مضامین اور مطالب تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

9۔سورۃ براءۃ کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ 
(الف)۔ سورۃ کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ :
یہ سورۃ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم عرض کرچکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورۃ ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورۃ انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورۃ میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورۃ پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے ہی سے چلی آ رہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد و غایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیار کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلانِ جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورۃ سابق سوہ سے بالکل الگ بھی نہ لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہوگئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہوگیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوسیت بھی سامنے آگئی۔
(ب) سورۃ کے مطالب کا تجزیہ :
اس سورۃ میں مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ پہلے ان تمام مشرکین سے اعلان براءت کیا ہے جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن و صلح کے معاہدے کیے لیکن ان کی خلاف ورزیاں کر کے وہ ان کو کالعدم کرچکے تھے۔ جنہوں نے اپنے معاہدے قائم رکھے تھے ان کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ مدت پوری ہوجانے کے بعد یہ معاہدے بھی ختم کردیے جائیں اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب یہ اسلام نہ قبول کریں۔
اس کے بعد اہل کتاب کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ ان سے بھی جنگ کرو تاآنکہ یہ تمہاری ماتحتی قبول کرنے اور تمہیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔ اس کے بعد آخر سورۃ تک بڑی تفصیل کے ساتھ منافقین کا تعاقب کیا ہے اور ان کے باب میں بھی یہ ہدایت دی ہے کہ اب ان کا سختی سے محاسبہ کیا جائے، ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے تاآنکہ یہ یا تو سچے اور اچھے مسلمان بن جائیں یا پھر مشرکین اور اہل کتاب میں سے، جن کے ساتھ بھی ان کی وابستگی ہے، ان کے انجام میں یہ بھی شریک ہوجائیں۔ یہی تین گروہ اس وقت مسلمانوں کے کھلے یا چھپے دشمن تھے۔ ان تینوں کا ذکر پچھلی سورۃ میں بھی آیا تھا لیکن ان کے باب میں قطعی پالیسی واضح نہیں ہوئی تھی۔ اس سورۃ میں بالکل واضح ہوکر سامنے آگئی۔ اگرچہ سورۃ کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے تاہم سورۃ کے مطالب کا تفصیلی تجزیہ بھی ہم لیے دیتے ہیں۔
(1۔4)۔ جن مشرکین نے معاہدہ کرکے درپردہ یا علانیہ اپنے معاہدے توڑدیے تھے ان سے براءت ذمہ کا اعلان۔ ان کو چار مہینے کی مہلت اور مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ حج کے موقع پر یہ منادی کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اب ان کے معاہدوں کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یاد رکھیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔ صرف وہ مشرکین اس حکم سے مستثنی ہیں جنہوں نے نہ تو اپنے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی ہے نہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی کوئی مدد کی ہے۔ یہ معاہدے قراردادہ مدت تک باقی رکھے جائیں۔
(5۔6)۔ مسلمانوں کو یہ حکم محترم مہینوں کے گزرنے کے بعد ان کے خلاف جنگی کاروائی کرو۔ ان کو پکڑو، گھیروا اور ماروا اور اس وقت تک ان کا یچھا نہ چھوڑو جب تک یہ توبہ کر کے نماز نہ قائم کریں اور زکوۃ نہ ادا کریں۔ البتہ ان میں اگر کوئی شخص پناہ کا طالب ہو تو اس کو اتنی مہلت دو کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے اور پھر اس کے مامن میں پہنچا دو۔ یہ رعایت ان کو اس لیے دی جائے کہ یہ امی لوگ رہے ہیں، ممکن ہے ان کو خدا کلام نہ پہنچا ہو۔
(7۔16)۔ مشرکین کے ساتھ آئندہ کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے وجوہ کی تفصیل۔ مسجد حرام کے پاس قریش سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ بھی اسی وقت تک باقی رکھا جائے جب تک وہ اس کو نباہتے ہیں۔ اگر وہ اس کو توڑدیتے ہیں تو تم ان ائمہ کفر سے بھی جنگ کرو۔ قریش کے بعض سنگین جرائم کی طرف اشارہ۔ مسلمانوں کو بشارت کہ تم ان سے ڈرو نہیں، لڑو، تمہارے ہاتھوں اللہ ان مظلوم مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا جو ان ظالموں کی قساوت کا ہدف بنے ۔
(17۔22) مشرکین قریش کو بیت اللہ اور مساجد الٰہی پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں مساجد الٰہی کے متولی اور منتظم وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے، نماز قائم کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں۔ حاجیوں کو پانی پلا دینا اور حرم کی کچھ دیکھ بھال کردینا نیکی کے کام سہی لیکن یہ نیکیاں اللہ اور آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا بدل نہیں ہوسکتیں۔
(23۔ 28) مسلمانوں کو تنبیہ کہ ان لوگوں سے جنگ کرنے میں رشتہ و قرابت کا پاس و لحاظ مانع نہ ہو جو لوگ ایمان کے تقاضوں پر ان چیزوں کو ترجیح دیں گے ان کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اللہ اور رسول کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ جنگ حنین اور پچھلے غزوات سے مسلمانوں کو سبق کہ اصل شے خدا کی مدد و نصرت ہے، پس اصلی بھروسہ خدا ہی پر ہونا چاہیے۔ یہ اعلان کہ مشرکین نجس ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کو یہ اطمینان دہانی کہ اس کا جو اثر تجارت اور معاشی حالات پر پڑے گا اللہ اپنے خزانہ جود سے اس کی تلافی فرمائے گا۔
(29۔35) اہل کتاب سے جہاد اور ان کو ذمی بنا کر جزیہ وصول کرنے کا حکم۔ ان کے فساد عقائد اور فساد اخلاق کی طرف بعض اشارات۔ ان کے علماء اور صوفیا کے فاسد کردار اور ان کی اسلام دشمنی کا حوالہ۔
(36۔37) مسلمانوں کو یہ تاکید کہ یہ جنگ و جہاد اگرچہ تمام مشرکین سے من حیث القوم ہو، کسی گروہ کے ساتھ رعایت نہ کی جائے تاہم محترم مہینوں کا احترام ہر حال میں ملحوظ رہے۔ محترم مہینے بحساب سال قمری ملت ابراہیم کی یادگار ہیں۔ اگر تم نے ان کی حرمت کو بٹہ لگایا تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنوگے۔ نسی کی بدعت کی طرف اشارہ کہ اس بدعت نے ان مہینوں کو ان کے اصل مقام سے ہٹا کر موسموں کے ساتھ باندھ دیا اور یہ کفر میں ایک اضافہ ہے۔ تمہیں مری مہینوں کے حساب پر، جو روزِ اول سے خدا کے مقرر کیے ہوئے مہینے ہیں، ان چار محترم مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے ۔
(38۔42) منافقین کو تنبیہ کہ تم جہاد سے جی چراتے ہو، یاد رکھو کہ اگر تم اسی طرح جی چراتے رہے تو تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑوگے، اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہ بنوگے۔ خدا تمہاری جگہ اپنے دین کی نصرت کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ یاد کرو کہ ایک دن وہ بھی گزرا ہے جب ہمارا رسول ایک غار میں پناہ گیر تھا اور اس کے ایک ساتھی کے سوا اور کوئی بھی اس کے ساتھ نہ تھا لیکن پھر وہ دن بھی آیا کہ خدا نے اپنی طرف سے اس پر سکینت نازل فرمائی۔ غیبی فوجوں سے اس کی مددفرمائی، کفر کا سر نیچا اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ پس یہ خدا کی ضرورت نہیں بلکہ تمہاری اپنی سعادت ہے کہ جو سروسامان بھی میسر ہو اس کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھو۔ مناقین کے جہاد سے جی چرانے اور جھوٹی قسموں کے بل پر بہانہ سازی کی ایک مثال۔
(43۔ 46)۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبت آمیز عتاب کہ جہاد سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات تم قبول کرلیتے ہو حالانکہ یہ منافق لوگ ہیں۔ اگر یہ چاہیں تو جہاد کے لیے نکلنے کا سامان مہیا کرسکتے ہیں لیکن یہ جھوٹے بہانے بنا کر تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(47۔ 52)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی کہ جہاد کے لیے تمہارے ساتھ ان منافقین کے نہ نکلنے میں ہی خیر ہے۔ اگر یہ نکلتے تو کوئی نہ کوئی فساد ہی برپا کرتے۔ ان کے دلوں میں خیر خواہی کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ یہ تو ہر پہلو سے تمہارے لیے کسی مصیبت کے متمنی ہیں۔
(53۔57)۔ منافقین بادل ناخواستہ دین کے نام پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ اللہ اور رسول کے منکر ہیں اور ان کا انفاق اور ان کی نماز سب محض نمائش ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کہ ان کے مال کو کوئی وقعت نہ دو اور ان کی رفاقت کی ذرا پروا نہ کرو۔ یہ بزدل اور ڈرپودک تمہارے ساتھی نہیں بن سکتے۔
(58۔60) منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ جو محض صدقات کے مال میں حصہ بٹٓنے کی حد تک پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی تھا۔ اگر خواہش کے مطابق پا جاتے تو راضی ورنہ پیغمبر کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے۔ صدقات کے اصل حق داروں کی تفصیل۔
(61۔66)۔ ان شریر منافقین کی طرف اشارہ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈا کرتے کہ آپ کان کے کچے ہیں، لوگوں میں آپ کی رائے اور معاملہ فہمی کا مذاق اڑاتے، جب کسی بات پر گرفت ہوتی تو جھوٹی قسمیں کھاتے اور لا یعنی صفائی پیش کرتے۔
(67۔70)۔ منافق مردوں اور منافق عورتوں کا کردار اور ان کا نجام دنیا اور آخرت میں۔
(71۔ 72)۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ کفار کی طرح ان منافقین کے معاملے میں بھی اب سخت رویہ اختیار کرو کہ تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھا کر یہ اسلام کے ساتھ چمٹے نہ رہیں۔ یہ جھوٹی قسموں کے پردے میں اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور رسول کی کریم النفسی نے ان کو اسلام دشمنی میں اور زیادہ دلیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے وعدے کچھ کیے اور ان کا عمل اس کے بالکل خلاف ہوا اور اس چیز نے ان کے نفاق کو پختہ سے پختہ تر کردیا۔
(79۔84) منافقین کی اس شرارت کا بیان کہ خود تو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اگر اللہ کے مخلص اور غریب بندے اپنی گاڑھی کمائی میں سے خرچ کرتے ہیں تو انکا مذاق اڑاتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ اسی طرح خود تو جہاد میں نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جو اللہ کے بندے نکلتے ہیں ان کو گرمی اور سردی کے ڈراوے سنا سنا کر بٹھا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشرار کے بارے میں وعیدِ الٰہی کا بیان اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے دعا و استغفار کرنے کی شدید ممانعت۔
(85۔96)۔ دین کے مطالبات سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات کی طرف اشارہ۔ سچے اہل ایمان کے کردار کا بیان۔ ان معذورین کی تفصیل جن کا عذر قابل قبول ہے۔ عذر تراشوں اور بہانہ بازوں کو یہ دھمکی کہ اگر تم پیغمبر اور مومنین کو اپنے خانہ ساز عذرات سے دھوکا دینے میں کامیاب بھی ہوجاؤ جب بھی یہ چیز تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں۔ خدائے علام الغیوب کو تم بہرحال ان بہانہ سازیوں سے فریب نہیں دے سکتے۔
(97۔101)۔ اعراب یعنی اہل بدو میں جو منافقین تھے ان کی طرف اشارہ اور ان کے اندر جو مخلصین تھے ان کی حوصلہ افزائی۔ سابقون الاولون اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تحسین، منافقین اعراب اور منافقین مدینہ دونوں کو دھمکی۔
(102۔106)۔ ان لوگوں کو قبولیت توبہ کی بشارت جنہوں نے ان تنبیہا سے متاثر ہو کر اپنے رویہ میں تبدیلی کرلی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی مزید تربیت اور ان کے لیے دعا کی ہدایت۔ اس گروہ کے بعض افراد کی قبولیتِ توبہ کے معاملہ کا التوا ۔
(107۔110)۔ مسجد ضرار کے بانیوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت ۔
(111۔113) اہل ایمان اور اللہ کے درمیان جو عہد و میثاق ہے اس کی نوعیت کی وضاحت اور اس کے حقیق مقتضیات کا بیان۔
(114۔116)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو شرک پر مرنے والوں کے لیے دعائے استغفار کرنے کی ممانعت اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لیے دعا کی اس کی نوعیت۔
(117۔118)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مخلص مہاجرین و انصار کے لیے عام قبولی توبہ کی بشارت۔ جن لوگوں کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ آیت 106 میں ملتوی کیا گیا تھا، رجوع کامل کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان ۔
(119۔122)۔ اہل مدینہ اور اعراب کو راست بازی اور کامل وفاداری کے ساتھ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جاں نثاری کی تلقین۔ اس جاں نثاری کی راہ میں چھوٹی یا بڑی جو تکلیف بھی اہل ایمان اٹھائیں گے اس کے اجر عظیم کا بیان۔ اہل بدو کو یہ ہدایت کہ ان میں سے ہر گروہ کے لوگ اپنے منتخب آدمی حصول تربیت کے لیے مجلسِ نبوی میں بھیجتے رہیں تاکہ یہ لوگ وہاں سے کسبِ فیض کر کے انی قوت کی تربیت کرسکیں۔
(123۔ 129)۔ مسلمانوں کو یہ عام ہدایت کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے اپنے علاقہ کے کفار سے مصروف جہاد ہوں۔ ان لوگوں کی طرف اشارہ جو قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مواجہہ سے گریز کرتے تھے۔ پیغمبر کے وجود قدسی کی صورت میں دنیا پر اللہ کی جو عظیم رحمت نازل ہوئی تھی اس کی قدر کرنے کی تلقین۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناقدروں سے بے پروا ہو کر صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت۔
اس فہرست مطالب پر ایک سرسری نظر ڈال کر بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سورۃ کا ہر جزو نہایت مربوط و نظم ہے اور آغاز سے لے کر انتہا تک باہم دگر ایک فطرت تسلسل کے ساتھ وابستہ و پیوستہ۔ ۔۔۔۔"

(حوالہ:  تدبر قرآن  از امین احسن اصلاحی )

8- سورۃ الانفال : تعارف، مضامین و مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

(الف) سورۃ کا عمود :

سورہ انفال دوسرے گروپ کی تیسری سورۃ ہے۔ یہ مدنی ہے۔ اس میں مسلمانوں کو تقوی، باہمی اخوت و ہمدردی اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر منظم اور جہاد کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ملت ابراہیمی اور مرکز ملت ابراہیمی، بیت اللہ، کی امانت و تولیت کے اہل ہوسکیں جو اب قریش کی جگہ ان کی تحویل میں دی جانے والی ہے۔
سورۃ الانفال : تعارف مضامین و مطالب کا تجزئیہ


پچھلی دونوں سورتوں۔ انعام اور اعراف۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کو عقائد، اعمال اور اخلاق، ہر پہلو سے اس امانت کے لیے نا اہل ثابت کردیا ہے۔ اب اس سورۃ میں مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم، ان کی اصلاح اور تزکی کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ غزوہ بدر کے دوران میں بعض کمزور مسلمانوں کی طرف سے جو کمزوریاں، اللہ ور سول کی اطاعت اور ایمان و توکل کے منافی، صادر ہوئی تھیں، ان پر پہلے گرفت فرمائی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک کریں۔ پھر ان غیبی تائیدات کی طرف اشارہ فرمایا جو غزوہ بدر کے دوران میں ظاہر ہوئیں تاکہ مسلمانوں کا اعتماد اللہ پر مضبوط ہو اور جو لوگ ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے ہیں وہ یکسو ہو کر آگے کے مراحل کے تقاضے پورے کرنے کے اہل ہوسکیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ حریف کی سازشوں کے سارے تار و پود بکھر جائیں گے۔ بیچ بیچ میں قریش کو بھی تنبیہ فرمائی ہے کہ بدر کے واقعہ میں تمہارے لیے بڑا سبق ہے، تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اگر تم نے مزید کوئی شرارت کی تو پھر منہ کی کھاؤ گے، اب تک تمہارے ساتھ جو رعایت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول تمہارے اندر موجود تھا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک رسول قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا لیکن اب جب کہ رسول تمہارے اندر سے ہجرت کرچکا ہے۔ تمہاری امان اٹھ چکی ہے اور تم ہر وقت عذابِ الٰہی کی زد میں ہو۔ تمہارا یہ غرہ بالکل بے جا ہے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہو، بیت اللہ کے متولی ہونے کے اہل تم نہیں ہو، تم نے ابراہیم کے بنائے ہوئے اس گھر کا مقصد بالکل برباد کر کے رکھ دیا اور اس کی حرمت کو بٹہ لگایا، تم جس نماز اور عبادت کے مدعی ہو یہ نماز عبادت نہیں بلکہ محض مذاق ہے، تمہارے لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تم توبہ اور اصلاح کی روش اختیار کرو ورنہ یاد رکھو کہ اب اس حرم کی سرزمین پر نہ اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے گا اور نہ اللہ کے دین کے سوا یہاں کوئی اور دین باقی رہنے دیا جائے گا ۔

آگے بدر کے واقعات ہی کی روشنی میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے ان اعتراضات کے جواب تک  بات  پہنچ گئی ہے جو قریش نے بدر میں شکست کھانے کے بعد لوگوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے۔ بدر سے پہلے تک تو وہ مسلمانوں کی کمزوری و مجبوری کو اسلام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے لیکن بدر میں انہی کمزور مسلمانوں کے ہاتھ جب پٹ گئے تو یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیغمبر کس طرح ہوسکتے ہیں، بھلا پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ اپنی ہی قوم کو باہم لڑا دے۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرائے، پھر ان کو قید کرے، ان سے فدیہ وصول کرے اور ان کا مال و اسباب غنیمت بنا کر کھائے اور کھلائے ؟  اس اعتراض سے بھی کمزور قسم کے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہوسکتے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو بھی صاف کیا اور آخر میں انصار اور مہاجرین کو باہمی  اخوت کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دونوں مل کر کفر کے مقابلہ میں بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔

اگرچہ سورۃ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورۃ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں ۔

(ب)۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ :

(1۔4) مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق بعض کمزور قسم کے مسلمانوں کی طرف سے معترضانہ نوعیت کے سوال کا حوالہ اور اس کا اجمالی جواب۔ اس اعتراض کو پیش نظر رکھ کر مسلمانوں کو اس امر کی ہدایت کہ اگر تم سچے مون ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے آپس کے تعلقات رشک و رقابت سے پاک رکھو، اللہ و رسول کی ہر مرحلے میں اطاعت کرو۔ سچے اور پکے اہل ایمان کی خصوصیات کا بالاجمال حوالہ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں اجر عظیم کا وعدہ۔

(5۔8)۔ کمزور قسم کے مسلمانوں کی ایک اور کمزوری کی طرف اشارہ جو جنگ بدر کے لیے نکلتے ہوئے ان سے صادر ہوئی کہ باوجودیکہ ان پر یہ بات واضح تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ نکلنا قریش کی اس فوج سے مقابلہ کے لیے ہے جو تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے ہے لیکن وہ فوج کے مقابلہ سے ڈرتے رہے اور انہوں نے پورا زور اس بات پر لگایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسل تجارتی قافلہ کا رخ کریں تاکہ بغیر کسی خطرے کے لقمہ تر ہاتھ آئے حالانکہ اللہ و سول کا منشا یہ تھا کہ حق کا بول بالا ہو اور باطل کا زور ٹوٹے جو اس ی صورت میں متصور تھا جب قریش کی عسکری قوت مجروح ہو نہ کہ ایک غیر مسلح تجارتی قافلہ۔

(9۔14)۔ مسلمانوں کی تقویت اور حوصلہ افزائی کے لیے ان غیبی تائیدات کا حوالہ جو بدر کے موقع پر ظاہر ہوئیں۔ مسلمانوں کی دعا کے جواب میں بروقت ہزار فرشتوں کی مدد کا وعدہ۔ برسر موقع میدان جنگ میں اطمینان کی نیند اور بارش کے نزول سے مساعد حالات کا ظہور۔ امدادی فرشتوں کو یہ ہدایت خداوندی کہ مسلمانوں کا حوصل بحال رکھو، کفار کو مرعوب کرو اور ان کے پرخچے اڑا دو۔

(15۔18)۔ مذکورہ تائیدات غیبی کی روشنی میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ کفار سے جب مقابلہ ہو تو کبھی پیٹھ نہ دکھاؤ، منظم فوج کشی کی صورت میں پیٹھ دکھانے والے خدا کے غضب اور جہنم کے عذاب کے سزاوار ٹھہریں گے۔ مسلمان جب خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو صرف وہی نہیں لڑتے بلکہ ان کی طرف سے خدا بھی لڑتا ہے اور اہل ایمان کے لیے جوہر دکھانے کے مواقع فراہم کرتا ہے، بدر میں اس حقیقت کا مشاہدہ تم کرچکے ہو، اور یہ جو کچھ ہوا ہے اس پر بس نہ سمجھو، آئندہ اللہ ان کفار کی ساری چالیں بے کار کردے گا۔

(19)۔ قریش کو اللہ تعالی کی طرف سے برسر موقع تنبیہ کہ تم کہتے تھے کہ اس جنگ میں جس کو فتح حاصل ہوگی وہ برسر حق سمجھا جائے گا تو دیکھ لو فتح ظاہر ہوگئی۔ اب بہتر ہے کہ کسی مزید شرارت کی جرات نہ کرو۔ اگر تم باز نہ آئے، پھر شرارت کی تو یاد رکھو ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں، ہمبھی اپنی شان پھر دکھائیں گے اور یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہارے لاؤ لشکر کی کثرت کچھ کام نہ آئے گی، مسلمانوں کے پہلو پر ہم ہیں ۔

(20۔30)۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ پوری وفاداری کے ساتھ اللہ و رسول کی اطاعت کرو، رسول اکی عین موجودگی میں اس سے انحراف نہ اختیار کرو۔ یہ روش ان یہود کی ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے مانا لیکن مانتے نہیں تھے۔ الہ کے نزدیک سب سے بد تر جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں۔ اللہ نے ان میں کوئی صلاحیت نہیں پائی۔ اس وجہ سے ان کو قبول حق سے محروم کردیا۔ توفیق الٰہی انہی لوگوں پر کارگر ہوتی ہے جو اپنے اندر اثر پذیر اور قبول حق کی صلاحیت زندہ رکھتے ہیں ۔

(24۔ 26) مسلمانوں کو تنبیہ کہ رسول کی دعوت تمہارے لیے روح و قلب کی زندگی کی دعوت ہے تو اس دعوت کی قدر کرو اور اس پر لبیک کہو۔ اگر تم نے کمزوری دکھائی اور تذبذب کے شکار رہے تو یاد رکھو کہ آدمی اور اس کی قوت ارادی کے درمیان سنت الٰہی حائل ہوجاتی ہے۔ پھر وہ خیر کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جو خرابیاں کچھ مخصوص لوگوں کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں اگر دوسرے ان کی اصلاح کی کوشش نہ کریں تو ان کے برے نتائج کی لپیٹ میں اچھے برے سب آجاتے ہیں، اسلام کے مستقبل کی طرف سے کسی تذبذب اور اندیشے میں مبتلا نہ ہو۔ تم اس ملک میں تھوڑے تھے۔ خدا نے تمہیں زیادہ کیا اور اپنی تائید و نصرت سے تمہیں نوازا۔ اسی خدا پر بھروسہ رکھو وہ آگے کے مراحل میں بھی تمہارا کارساز ہے۔

(27۔29)۔ کمزور قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ کہ اللہ اور رسول سے عہد اطاعت و وفاداری کرچکنے کے بعد بے وفائی نہ کرو۔ مال و اولاد کی محبت اللہ و رسول کی محبت کے تقاضوں میں مانع نہ ہو۔ یہ چیزیں فتنہ ہیں۔ ان فنوں میں پڑ کر اس اجر عظیم کو ضائع نہ کرو جو اللہ کے پاس اس کے وفادار بندوں کے لیے محفوظ ہے۔ جو لوگ محبت دنیا کو اپنے اوپر غالب نہ ہونے دیں گے اللہ ان کے آگے سے باطل کے تمام حجابات چاک کردے گا اور ان کو اپنی مغفرت سے نوازے گا۔

(30۔37)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے ان تائیدات ربانی کی یاد دہانی جو قریش کی مسلسل سازشوں کے مقابل میں ظاہر ہوئیں اور جن سے ان کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے، ان کی ساری چالیں شکست کھا گئیں اور خدا کی تدبیر غالب رہی۔ وہ قرآن کو اگلوں کا افسانہ کہتے تھ لیکن اس کا انذار ان کے لیے واقعہ ثابت ہوا۔ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اگر تم پیغمبر برحق ہو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسیں یا کوئی اور عذاب آئے تو ہم مانیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان پر عذاب نہیں بھیجا کہ تم ان کے اندر موجود تھے لیکن اب جب کہ تم ان کے اندر سے نکل چکے ہو کوئی نہیں ہے کہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔ وہ اپنے آپ کو مسجد حرام کا متولی سمجھتے ہیں لیکن وہ اس کے متولی کہاں سے ہوئے ؟ اس کے متولی تو صرف خدا سے ڈرنے والے بندے ہی ہوسکتے ہیں۔ ان مدعیوں کو اللہ کے اس گھر کی اصل تاریخ اور اس کے مقاصد تعمیر کا کوئی علم نہیں، تالی پیٹنا اور سیٹی بجانا ان کی نماز ہے، بھلا اس مسخراپن کو نماز ابراہیمی سے کیا علاقہ ؟ یہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے اور اسلام کو شکست دینے کے لیے بڑی دلیری سے جو اپنے مال خرچ کر رہے ہیں اس کا کچھ حاصل نہیں۔ یہ سارا خرچ ان کے لیے موجب حسرت و اندوہ بنے گا۔ اب ان کے آگے صرف جہنم ہے۔ خدا اس سارے ذخیرہ خبیث کو اکٹھا کر کے دوزخ کی آگ میں جھونک دے گا ۔

(38۔40)۔ کفار قریش کو تنبیہ کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اگر انہوں نے اپنے رویے کی اصلاح کرلی تو ان کی پچھلی غلطیاں معاف کردی جائیں گی اور اگر وہ باز نہ آئے تو یاد رکھیں کہ ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو ان سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کا ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ کمزور مسلمانوں پر ان کے جبر و ظلم کا خاتمہ ہوجائے اور اس سرزمین پر اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہ جائے اگر یہ باز آگئے تو ان کے لیے بہتر ہے، اگر باز نہ آئے تو خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔

(41۔44)۔ مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق سوال مذکورہ آیت 1 کا تفصیلی جواب اور مسلمانوں کو یہ تنبیہ کہ اس تقسیم کو خوش دلی سے قبول کریں۔ اللہ و رسول کے فیصلہ پر راضی رہنا ہی سچے ایمان کی علامت اور اس کا تقاضا ہے۔ یہ یاد رکھو کہ بدر کے دن تمہیں جو کامیابی حاصل ہوئی یہ تمہاری اپنی تدابیر اور تمہارے اپنے تدبر کا کرشمہ نہیں تھی بلکہ یہ ساری اسکیم اللہ کی بنائی ہوئی تھی۔ یہ اسی کی کارسازی تھی اور اس نے ٹھیک اس وقت تمہاری فوج کو اس وادی کے ایک سرے پر پہنچا دیا جس کے دوسرے سرے پر دشمن کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ اگر تم ایک دوسرے کو الٹی میٹم دے کر نکلتے تو تمہارا یہ عین وقت پر دشمن کے مقابلہ کے لیے پہنچ جانا ممکن نہ تھا۔ یہ اللہ کی اسکیم تھی جو پوری ہوئی۔ اس نے یہ چاہا کہ تمہارے اور قریش کے درمیان ایک ایسا معرکہ ہوجائے جو حق و باطل کے درمیان ایک امتیاز پیا کردے، تاکہ اس کے بعد جو کفر پر جمے رہنا چاہیں ان پر حجت قائم ہوجائے اور جو اسلام کو اختیار کریں ان کو ایک روشن دلیل مل جائے۔ یہی رمز تھا کہ خدا نے کفار کی فوج کو پیغمبر کی روما میں کم دکھایا تاکہ مسلمانوں میں ہراس پیدا نہ ہو اور وہ ان سے ٹکر لینے کے لیے پر حوصلہ رہیں اور پھر یہیی رمز تھا کہ جب تہاری اور ان کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو تمہاری نگاہوں میں خدا نے ان کو حقیر دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تم کو کم دکھایا تاکہ ٹکر لینے سے کوئی بھی نہ جھج کے اور وہ معرکہ واقع ہو ہی جائے جو حق و باطل کے درمیان ایک فرق بن کر نمایاں ہو۔ یاد رکھو کہ سارے معاملات کا سر رشہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔

(45۔46)۔ مسلمانوں کو آئندہ کے لیے نصیحت کہ بدر کی اس جنگ میں تم نے دیکھ لیا کہ اصل کارساز خدا ہے تو جب کفار کے کسی گروہ سے تمہاری ٹکر ہوجائے تو پورے جماؤ اور پوری ثاتب قدمی سے لڑو اور اپنے مرجع حقیقی خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرو۔ کسی امر میں اختلاف نہ کرو ورنہ ہزیمت اٹھاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ دوسری چیز جو اطاعت کے ساتھ مطلوب ہے وہ ثابت قدرمی اور پامری ہے۔ خدا انہی کے ساتھ ہوتا ہے جو اس کی راہ میں ثابت قدمی دکھاتے ہیں۔

(47۔49)۔ ان کفار کی روش سے بچتے رہنے کی ہدایت جو اکڑتے، اتراتے اور اپنے کر و فر کی نمائش کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترے تھے اور مقصود جن کا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنا تھا، ان لوگوں کو پتہ نہیں کہ خدا کے آگے کسی کی پیش نہیں جاتی، سب کا زور زور اور سب کا کر و فر اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان لوگوں کو شیطان نے پٹی پڑھائی تھی کہ آج تمہارے کوئی مد مقابل نہیں اور میں تمہارا ساتھ ہوں لیکن جب اس نے میدان جنگ کا نقشہ دیکھا تو اپنی روایت کے مطابق دم دبا کر بھاگا کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (یہاں ایک لطیف تعریض یہود کی طرف بھی ہے، تفسیر میں اس کی وضاحت آگے آئے گی)۔ منافقین اور حاسدوں کے اس طعنہ کا جواب جو وہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کے لیے دیتے تھے کہ ان کو ان کے دین کے غرے نے نتائج و عواقب سے بے پروا کردیا ہے، یہ ہاتھیوں سے گنے کھانے چلے ہیں۔ ان منافقین کو پتا نہیں تھا کہ خدا کا برھوسہ بڑی چیز ہے۔ خدا عزیز و حکیم ہے۔

 (50۔54) قریش کو تہدید کہ یہ بدر میں جو کچھ پیش آیا ہے یہ تو محض نقد عاجل ہے، مرنے کے بعد جو کچھ تمہارے سامنے آنے والا ہے وہ بڑی ہی سخت چیز ہے اور یہ جو کچھ ہوا ہے یا جو کچھ ہوگا یہ تم پر کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ تمہارے اعمال کا قدرتی نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنے رویے کو نہیں بدلتا، جب تک وہ قوم اپن رویہ نہ بدل لے۔ تم سے پہلے قوم فرعون اور دوسری قوموں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی معاملہ کیا۔ جب انہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی خدا نے ان کو تنبیہ کی۔ پھر جب است نبیہ کے بعد بھی وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو خدا نے ان کو اپنے عذاب میں دھر لیا اور وہ فنا کردیے گئے۔ اسی طر بدر کا واقعہ تمہارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ اگر اس سے تم نے سبق نہ لیا تو تمہارے سامنے بھی وہی انجام آجائے گا جو فرعون اور اس کی قوم کے سامنے آیا۔

(55۔62)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کہ جن گروہوں نے تم سے معاہدہ کر رکھا ہے لیکن وہ اس کا احترام نہیں کر رہے ہیں بلکہ جب کوئی موقع ان کو ہاتھ آجاتا ہے معاہدے کو توڑ دیتے ہیں، ان کے ساتھ ذرا رعایت نہ کرو۔ اگر کسی جنگ میں وہ تمہارے مقابل میں آئیں تو ان کو ایسا سبق دو کہ جو ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان ان کے بھی ہوش درست ہوجائیں۔ یہ لوگ تمہارے قابو سے باہر نہیں نکل سکتے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے مقدور بھر اپنی فوجی قوت بڑھائیں تاکہ اللہ کے اور اپنے ان دشمنوں کو مرعوب رکھ سکیں جن میں سے بعض ظاہر ہیں اور بعض ابھی پس پردہ ہیں۔ مسلمان اس مقصد کے لیے جو بھی خرچ کریں گے خدا کے ہاں سب پورا کردیا جائے گا، کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ہاں اگر یہ صلح کے خواہشمند ہوں تو تم بھی صلح سے گریز نہ کرو۔ اللہ پر بھروسا کر کے ان سے صلح کرلو۔ اگر اس مصالحت سے ان کا مقصد تم کو دھوکا دینا ہو تو تمہارے لیے وہ اللہ کافی ہے جس نے اپنی تائید خاص اور مسلمانوں کے ذریعے سے تمہاری مدد فرمائی۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہوا ہے کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے ورنہ یہ کام تو دنیا جہان کی دولت بھی تم لٹا دیتے جب بھی ہونا ممکن نہیں تھا ۔

(63۔65)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطمینان دہانی کہ تم اپنے ساتھیوں کی افرادی قوت کی کمی سے کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہو، تمہارے لیے اللہ اور مومنین کی یہی مختصر سی جماعت کافی ہے۔ تم انہی مسلمانوں کو جہاد پر ابھارو۔ تمہارے بیس ثابت قدم جانباز کفار کے دو سو آدمیوں پر بھاری رہیں گے اور تمہارے سو مجاہد حریف کے ایک ہزار کے لشکر کو شکست دیں گے۔ جنگ، عزم و ایمان سے لڑی جاتی ہے۔ ان ناسمجھ کفار کے اندر یہ جوہر کہاں ؟

(66)۔ ایک آیت تخفیف جو بعد میں اس زمانہ میں نازل ہوئی جب لوگ اسلام کے اندر فوج در فوج داخل ہونے لگے۔ چونکہ ان مسلمانوں کے اندر وہ پختہ کاری نہیں تھی جو سابقون الاولون کے اندر تھی۔ اس وجہ سے وہ عددی نسبت گھٹا دی گئی جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی۔ اب نسبت صرف ایک اور دور کی رہ گئی۔ وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت آئے گی۔

(67۔69)۔ کفار کے اس طعنہ کا جواب جو بدر میں شکست کھانے کے بعد انہوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کہ بھلا یہ پیغمبر کس طرح طرح ہوسکتے ہیں، پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی قوم سے جنگ کرے، اس کا خون بہائے، اس کے اندر سے قیدی پکڑے، ان سے فدیہ وصول کرے، اور قوم کے مال کو مال غنیمت قرار دے کر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کرے اور کھائے کھلائے ؟ اس طعنہ سے ان کا مقصود بدر میں مسلمانوں کی فتح کے ان اثرات کو مٹانا تھا جو قدرتی طور پر عام لوگوں کے دلوں پر پڑتے نظر آئے۔ چونکہ قریش کے لیڈروں نے خود اس جنگ کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی بنا دیا تھا، اس وجہ سے انہیں بدر میں منہ کی کھانے کے بعد اپنے پروپیگنڈے کا رخ بدل دینا پڑا۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نعوذ باللہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اقتدار اور حکومت کے خواہاں ہیں۔ اور اس مقصد کی خاطر انہوں نے اپنی ہی قوم کو آپس میں ٹکرا دیا ہے جو ایک پیغمبر کا کام کبھی نہیں ہوتا۔ قرآن نے ان کو یہ جواب دیا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے پیغمبر کی وجہ سے نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے باعث تم خود ہوئے ہو۔ دنیا کے طالب تم ہو، اللہ و رسول دنیا کے طالب نہی ہیں۔ تم نے اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کی سازش کر کے جو اقدام کیا تھا وہ ایسا سنگین مجرمانہ اقدام تھا کہ حق تھا کہ تم پر خدا کی طرف سے عذاب عظیم آجاتا جو تمہارا فیصلہ ہی کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے جو مہلت لکھ رکھی ہے وہ تم کو ملی اور تم عذاب سے تباہ کردیے جانے کے بجائے صرف تنبیہ کر کے چھوڑ دیے گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب کر کے ان کو اطمینان دلایا کہ یہ تمہارے مال غنیمت پر جو اعتراض کر رہے ہیں تم اس کی کوئی پروا نہ کرو۔ اس کو کھاؤ برتو، یہ تمہارے لیے حلال و طیب ہے۔

(70)۔ اسی سلسلہ میں بدر کے قیدیوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے یہ کہلوایا کہ اگر اللہ نے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی پائی، انہوں نے اس احسان کی قدر کی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو ان کے لیے مزید بھلائی کی راہیں کھلیں گی۔ اور اگر انہوں نے بے وفائی اور بدعہدی کی اور پھر خدا سے لڑنے کے لیے نکلے تو یاد رکھیں کہ خدا ان پر پھر تم کو اسی طرح قابو دے دے گا جس طرح اس نے بدر میں ان کو تمہارے قابو میں دے دیا۔

(71۔75)۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کی تاسیس، اس اخوت میں وہ تمام مسلمان شریک ہیں جو کفر کے علاقوں سے ہجرت کر کے اس میں آ شامل ہوں۔ جو مسلمان ہجرت نہ کریں، دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی نصرت و حمایت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگر اپنے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے وہ کسی مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کی جائے بشرطیکہ یہ مدد مسلمانوں کے کسی معاہدہ گروہ کے خلاف یا اس کے مقابل میں نہ ہو۔ اب حقوق و فرائض اور حمایت و نصرت کی ذمہ داری ایمان و ہجرت کی بنیاد پر ہوگی۔ پچھلے خاندانی اور قبائلی تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہوگی۔ البتہ مسلمانوں کے آپس کے حقوق کی بنیاد انہی رحمی رشتوں کے تحت ہوگی جو اللہ کی کتاب میں بیان ہوئے ہیں ۔


----------------------

(بحوالہ: تدبر قرآن از مولانا امین احسن اصلاحی )

7۔ سورۃ الاعراف : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

 7۔ تعارف و مضامین سورۃ الاعراف :
الف : سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
سورہ انعام میں، جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوا، قریش کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہی اصل ملت ابراہیم ہے جس کی ابراہیم نے اپنی ذریت کو تلقین کی نہ کہ وہ مجموعہ بدعات و اوہام جو تم یے بیٹھے ہو۔ اللہ نے تم پر بڑا فضل فرمایا ہے کہ اس نے تمہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جس نے اللہ کی حجت تم پر پوری کردی ہے اب تمہارے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو خدا نے ہمیشہ تباہ کردیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک معروف حقیقت ہے جس کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے تمہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس ملک میں آج با اقتدار ہو خود اسی کی تاریخ میں تمہارے لیے کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ تم اس سرزمین پر پہلے آنے والے نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی طرح اقتدار کی مالک ہوئیں جس طرح تم۔ بلکہ بعض اپنے اقتدار و سطوت کے اعتبار سے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھی۔ انہی کے وارث تم ہوئے ہو۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ قدرت کا قانون تمہارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ان کے جن جرائم کی بنا پر خدا نے ان کو ہلاک کر کے ان کی جگہ تم کو بکشی، انہی جرائم کے مرتکب تم ہوئے تو خدا تم کو دندناتے پھرنے کے لیے کیوں چھوڑے رکھے گا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے۔
انعام کے بعد اعراف، انعام کی مثنی سورۃ ہے۔ اس میں دعوت کے بجائے انذا کا پہلو غالب ہے۔ اس میں صاف صاف قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو بس سمجھ لو کہ اب تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ اس میں پہلے ان کی فرد قرار داد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں جس کے مرتکب قریش ہوئے۔ یہ تفصیل گویا انعام کی آخری آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اسی کے ساتھ یہود کو بھی لے لیا ہے اور ان کو بھی بالکل آخری تنبیہ فرمائی ہے۔ آخر میں عہد فطرت کو، جو تمام ذریت آدم سے لیا گیا ہے، بنیاد قرار دے کر انذار کے مضمون کو اس کے آخری نتائج تک پہنچا دیا ہے جس کے بعد براءت، ہجرت اور اعلان جنگ یا نزولِ عذاب کے مراحل سامنے آجاتے ہیں ۔
اب ہم سورۃ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورۃ بیک نظر نگاہ کے سامنے آجائے ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ :۔
(آیات 1 تا 9)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسل کو تسلی کہ اس کتاب الٰہی سے متعلق تمہاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ تم پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ اس کو قبول بھی کرلیں۔ اس سے فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ قریش کو تنبیہ کہ اس کتاب کو قبول کرو ورنہ یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی قومیں رسولوں کی تکذیب کے جرم میں ہلاک ہوچکی ہیں اور جب خدا کا عذاب ان پر آیا تو اس کے مقابل میں وہ کوئی بند نہ باندھ سکیں بلکہ انہوں نے خود اپنے جرم کا اقرار کیا اور عذاب الٰہی کی پکڑ میں آگئیں۔ پھر تم پرا یک دن ایسا لامزاً آنے والا ہے جس میں تم سے تمہاری ذمہ داریوں کے بابت پرسش ہونی ہے اور رسول سے اس کی ذمہ داری کے بابت۔ اس دن سارا کچا چٹھا ہم سب کے سامنے رکھ دیں گے۔ اس دن جو میزانِ عدل نصیب ہوگی وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ کس کے پاس کتنا حق ہے، کتنا باطل، اس دن فلاح صرف وہی پائیں گے جن کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ باقی سب نامراد ہوں گے ۔
(10 تا 25)۔ قریش کو تنبیہ کہ اس ملک میں تمہیں جو اقتدار حاصل ہوا، خدا ہی کا بخشا ہوا ہے۔ اسی نے تمہارے لیے معاش و معیشت کی راہیں فراخ کیں۔ لیکن شیطان نے تم پر حاوی ہو کر تم کو ناشکری کی راہ پر ڈال دیا، آدم اور ابلیس کے ماجرے کا حوالہ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیطان نے ذریت آدم کو جو دھمکی دی تھہ کہ وہ ان کو اپنی چالوں سے گمراہ کر کے چھوڑے گا، ان کی اکثریت خدا کی نافرمان و ناشکری بن جائے گی، اس نے اپنی وہ دھمکی تمہارے اوپر سچ کر دکھائی، جس طرح اس نے آدم و حوا کو دھکا دے کر جنت سے نکلوایا اسی طرح اس نے اپنا فریب تم پر چلایا ہے تو تم شیطان کے چکموں میں آ کر اس کی امیدیں بر آنے کے سامان نہ کرو ۔
(26 تا 30)۔ یہ تذکیر کہ تم نے آدم کی اولاد ہو کر شیطان کی اس دشنی کو یاد نہ رکھا جو اس نے تمہارے باپ کے ساتھ کی۔ اس نے انہیں فتنہ میں ڈالا اور حلہ جنت سے محروم کر کے جنت سے نکلوا دیا۔ وہی کھی وہ تمہارے باپ کے ساتھ کھیلا ہے۔ خدا نے تم کو ظاہر و باطن کے جس لباس سے مزین کرنا چاہا شیطان کی اطاعت میں تم نے وہ دونوں جامے اتار پھینکے۔ تقوی کا لباس بھی جو باطن کی زینت ہے، اتار کر پھینک دیا اور ظاہر کا لباس بھی اتار دیا۔ چنانچہ عینِ حرمِ الٰہی میں۔ اس نے تمہیں عریاں طواف پر ورغلایا اور تم اس بے حیائی نہ صرف باپ دادا کی واثت سمجھتے ہو بلکہ یہ دعوی کرتے ہو کہ اس کا حکم تمہیں خدا نے دیا ہے۔ سوچو کہ خدا ایسی بے حیائی کا حکم کس طرح دے سکتا ہے ؟ خدا نے تو ہر باب میں صرف حق و عدل کا حکم دیا ہے، صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے، توحید کا حکم دیا۔ تم نے شیطان کی پیروی میں اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا کیا اور دعوی کرتے ہو کہ یہی راہ ہدایت کی راہ ہے۔ صرف تھوڑے سے لوگ اس فتنہ سے محفوظ رہ سکے۔
(31 تا 34)۔ قریش کو تنبیہ کہ اپنے جی سے تم نے یہ جو حرام و حلال بنا رکھا ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ خدا نے نہ تو زینت حرام کی ہے اور نہ کھانے پینے کی چیزیں حرام کی ہیں۔ یہ دنیا میں بھی اہل ایمان کے لیے مباح ہیں اور آخرت میں تو وہ ان کے بلا شرکت غیرے حق دار ہوں گے ہی۔ خدا نے حرام بے حیائی کو ٹھہرایا ہے خواہ ظاہری ہو یا باطنی، حق تلفی اور سرکشی کو حرام ٹھہرایا ہے جن کا کوئی جواز نہیں، شرک کو ٹھہرایا ہے جس کے حق میں کوئی دلیل نہیں اور اللہ کے اوپر افترا کو حرام ٹھہرایا ہے۔ لیکن تم ان ساری ہی باتوں کے مرتکب ہو رہے ہو۔ اگر اس کے باوجود تمہیں مہلت مل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے ہاں ہر امت کی تباہی کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔
(35 تا 43)۔ اس امر کی یاد دہانی کہ ذریت آدم کو ابتدا ہی میں یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے رسول بھیجے گا تو جو لوگ ان رسولوں کی پیروی کریں گے وہ جنت حاصل کریں گے، جو ان کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے۔ یہ دوزخ میں پڑنے والے سب ایک دوسرے کے اوپر لعنت بھیجیں گے اور ان کو کسی طرح دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ بس دوزخ کی آگ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بنے گی۔ البتہ جو اہل ایمان ہوں گے وہ جنت حاصل کریں گے اور وہ باہمدگر ایک دوسرے کی ملاقات سے مسرور اور اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہوں گے۔ وہ اعتراف کریں کہ یہ ہمیں جو کچھ خدا نے بخشا اپنے رسولوں کی پیروی کے طفیل بخشا۔ رسولوں نے جو کچھ فرمایا سب حرف حرف سچ ثابت ہوا۔
(44 تا 53)۔ اہل جنت کا اہل دوزخ سے خطاب کہ ہم سے تو ہمارے رب نے جو وعدے فرمائے تھے وہ سب حرف بحرف پورے ہوئے، تم بتاؤ کہ تم نے بھی وہ سب کچھ دیکھ لیا یا نہیں جس سے تمہیں آگاہ کیا گیا تھا، اہل دوزخ پر خدا کی طرف سے لعنت کا اعلان۔ اس امر کا بیان کہ مقامِ اعراف سے اہل ایمان کے ایک گروہ کو دوزخ اور جنت دونوں کا مشاہدہ کرایا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ خدا نے رسولوں کے ذریعے سے جن باتوں کی خبر دی تھی وہ سب پوری ہوئیں۔ اصحاب اعراف کی طرف سے اہل جنت کو مبارک باد اور اہل دوزخ کو ملامت۔ اہل دوزخ کی اہل جنت سے فریاد کہ وہ ان پر کچھ کرم کریں۔ اہل جنت کی طرف سے جواب کہ جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان کہ جنھوں نے دنیا میں خدا کی باتوں کو نظر انداز کیا آج خدا نے ان کو نظر انداز کردیا ہے۔ کفار کی طرف سے اپنی محرومی و بدبختی پر اظہار حسرت ۔
(54 تا 58)۔ کفار قریش کو تنبیہ کہ خلق و امر سب خدا ہی کے اختیار میں ہے تو امید و بیم ہر حالت میں اسی کو پکارو۔ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ برپا کرو۔ قیامت شدنی ہے۔ موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ تم اس کائنات میں برابر کر رہے ہو۔ خدا نے ہر پہلو سے اپنی آیات واضح فرما دی ہیں۔
(59 تا 93)۔ قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم لوط، قوم شعیب کی سرگزشتیں، جو اس بات کا تاریخی ثبوت ہیں کہ جو قومیں فساد فی الارض کی مرتکب ہوتی اور اپنے رسول کی دعوت اصلاح کی تکذیب کردیتی ہیں اللہ تعالیٰ کو صفحہ ارض سے مٹا دیتا ہے۔
(94 تا 102)۔ مذکورہ بالا سرگزشتوں پر ایک اجمالی تبصرہ، قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ کرتا ہے اس کے بعض بنیادی اصول اور بعض حکمتیں اور عبرتیں، قریش کو یہ تنبیہ کہ انہی کے خلف تم ہو تو اگر تم دیدہ عبرت سے دیکھتے تو تمہارے اپنے ملک کی تاریخ میں تمہارے لیے کافی سامان بصیرت موجود ہے لیکن جس طرح ان قوموں کے دلوں پر اللہ کی مہر لگ گئی تھی اسی طرح تمہارے دلوں پر بھی اللہ کی مہر لگ چکی ہے ۔
(103 تا 136)۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت جس سے واضح ہوتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کو شکست دینے کے لیے تمام ہتھکنڈے، جو اس کے امکان میں تھے، استعمال کیے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بامراد کیا اور فرعون کو، تمام اسباب و وسائل کے علی الرغم شکست دی، مفسدین کا بیڑا غرق ہوا اور جو جماعت مظلوم و مقہور تھی خدا نے اس کو، اس کی استقامت کی بدولت، زمین میں اقتدار بخشا ۔
(137 تا 171)۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کے تمام ادوار پر ایک جامع تبصرہ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہمیشہ بڑے بڑے کرم فرمائے لیکن انہوں نے شروع سے لے کر اب تک ہمیشہ خدا کے انعامات کی ناقدری کی اور کسی تذکیر و تنبیہ سے بھی کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھایا اور اب بھی ان کی روش وہی ہے چنانچہ جس حق کی علمبرداری کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی تھی وہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہیں حالانکہ یہ موقع ان کے لیے آخر موقع ہے جس کو ضائع کردینے کے بعد ان کے لیے دائمی ذلت کے سوا اور کوئی چیز باقی نہیں رہ جائے گی۔
(171 تا 206)۔ خاتمہ سورۃ جس میں قریش کو عہد فطرت کی یاد دہانی کی گئی ہے اور بنی اسرائیل کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ پھر ان کو عذابِ الٰہی کی دھمکی دی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ جب اللہ کی پکڑ میں آجاؤ گے تو تمہارے یہ اولیا و اصنام جو تم نے گھڑ رکھے ہیں کچھ کام نہیں آئیں گے۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر، اعراض اور ہر آن یاد الٰہی کے ساتھ وابستہ رہنے کی ہدایت ۔


(حوالہ:  تدبر قرآن  از امین احسن اصلاحی )

6۔ سورہ انعام : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

6۔ سورہ انعام کا تعارف اور مضامین
الف۔ سورتوں کے دوسرے گروپ پر ایک اجمالی نظر :
سورۂ مائدہ پر، جیسا کہ ہم مقدمے میں واضح کرچکے ہیں، سورتوں کا پہلا گروپ تمام ہوا۔ اب یہ انعام سے۔ دوسرا گروپ شروع ہورہا ہے۔ اس میں چار سورتیں ہیں۔ انعام، اعراف، انفال، براءت۔ انعام اور اعراف مکی ہیں، انفال اور براءت مدنی۔ انعام و اعراف دونوں میں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ انعام میں توحید، معاد اور رسالت کے بنیادی مسائل زیر بحث آئے ہیں اور اصل دینِ ابراہیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ بنائے استدلال تمام تر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے شواہد پر ہے یا پھر ان مسلمات پر جن کو اہل عرب تسلیم بھی کرتے تھے اور جو صحیح بھی تھے ۔
 اعراف میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں قریش پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہوتے ہیں، اس باب میں اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور ضابطے کیا ہیں، اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر جم جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، اس معاملے میں تاریخ کی شہادت کیا ہے اور اگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی اس روش سے باز نہ آئے تو اسے اپنے لیے کس روزِ بد کا انتظار کرنا چاہیے ۔
 انفال میں مسلمانوں کو اپنی کمزوریاں دور کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے اور کفارِ قریش سے جہاد پر ابھارا ہے۔ قریش کے متعلق صاف صاف یہ اعلان فرمایا ہے کہ ان کو بیت اللہ پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس وراثتِ ابراہیمی کے حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔ مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ تم ان سے مرعوب نہ ہو، اب ان کے لیے ذلت اور عذاب کا وقت آ چکا ہے۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو منہ کی کھائیں گے اور دنیا و آخرت دونوں میں کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہیں ہوگا
 سورۃ براءت میں کھلم کھلا قریش کو الٹی میٹم ہے۔ ان کے لیے صرف دو راہیں کھلی چھوڑی گئی ہیں۔ اسلام یا تلوار۔ مسلمانوں کو ان سے ہر قسم کے روابط قطع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو مسلمان رشتہ و قرابت کی بنا پر ان سے در پردہ تعلق رکھتے تھے ان کو سخت سرزنش کی گئی ہے اور ان کے سامنے بھی واضح طور پر دو شکلیں رکھ دی گئی ہیں، یا تو اپنے آپ کو نفاق کی تمام آلائشوں سے پاک کر کے سچے اور پکے مسلمان بن جائیں یا پھر اسی انجام سے دو چار ہونے کے لیے تیار ہوجائیں جو اللہ و رسول کے ان دشمنوں کا ہونے والا ہے ۔
 اس روشنی میں اگر تدبر کے ساتھ آپ اس گروپ کی تلاوت کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں سورتوں میں نہایت گہری حکیمانہ ترتیب ہے۔ انعام میں قریش پر اتمامِ حجت ہے، اعراف میں ان کو انذار ہے، انفال میں مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کی ہدایت اور بیت اللہ کی تولیت سے قریش کی معزولی کا فیصلہ ہے۔ براءت میں قریش کو الٹی میٹم اور منافقین کو آخری تہدید ہے۔
 پہلے گروپ میں اصل بحث اہل کتاب سے تھی، قریش سے اگر کہیں خطاب ہوا تھا تو ضمناً۔ برعکس اس کے اس گروپ میں اصل خطاب قریش سے ہے۔ اہل کتاب کا اس میں ذکر آیا ہے تو ضمناً۔ مواد استدلال میں بھی مخاطب کے اختلاف کے لحاظ سے بنیادی فرق ہے۔ اس گروپ میں بیشتر استدلال عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے شواہد سے ہے اور پہلے گروپ میں اہل کتاب کے تعلق سے وہ ساری چیزیں استدلال کے طور پر استعمال ہوئی ہیں جن کو اہل کتاب مانتے تھے۔ پہلے گروپ میں اہل کتاب کو امامت کے منصبت سے معزول کیا گیا ہے اور ان کی جگہ مسلمانوں کو دی گئی ہے۔ اس گروپ میں قریش کو بیت اللہ کی تولیت سے معزول کیا گیا ہے اور اس کی خدمت امت مسلمہ کے سپرد کی گئی ہے ۔
 یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی تبصرہ ہوا۔ اب ہم اس کی ایک ایک سورۃ کو الگ الگ لے کر اس کی تفسیر کریں گے۔ گروپ کی پہلی سورۃ انعام ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وبید اللہ التوفیق ۔
ب۔ سورۃ کا عمود : سورۂ انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے اور ان کا دعوی یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورۃ میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہوجائے کہ اصل ملتِ ابراہیم کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ہیں یا قریش۔ سورۃ کے اس عمود کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ایک اجمالی نظر سورۃ کے مطالب پر ڈالیے ۔
ج۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ :
(1۔5)۔ توحید اور معاد کے بعض واضح دلائل کی طرف اشارہ۔ بالکل بدیہی حقائق سے اعراض پر اظہارِ تعجب۔ قرآن کی تکذیب ایک امر حق کی تکذیب ہے جس کا خمیازہ یہ بھگتیں گے۔ قرآن انہیں جن نتائج کی خبر دے رہا ہے وہ سب پیش آ کے رہیں گے۔
(6 - 7) رسولوں کی تکذیب کرنے والے عذاب الٰہی میں پکڑے گئے۔ عرب کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ ۔
(8- 11) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان جھٹلانے والوں کو قائل نہیں کرسکتا۔ جو معجزہ یہ مانگتے ہیں وہ بھی ان کو دکھا دو گے جب بھی یہ اپنے انکار سے باز نہیں آئیں گے۔ تم سے پہلے جو رسول آئے اس قماش کے لوگوں نے ان کا بھی مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب میں مبتلا ہو کے رہے جس کا انہوں نے مذاق اڑایا۔ ان کو ان کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلاؤ۔
(12- 13) آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ جزا اور سزا کا دن لائے ۔
(14 - 18) شرک سے اظہار براءت۔ خیر و شر سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ حکیم و خبیر ہے۔
(19 - 24) توحید اور شرک کے باب میں فیصلہ کن شہادت اللہ کی ہے اور اللہ کی شہادت توحید کے حق میں ہے۔ یہ قرآن اسی شہادت کے ساتھ اترا ہے۔ سچے اہل کتاب بھی اس سے آشنا ہیں، صرف بدبخت ہی ہیں جو اس پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ جو لوگ شرک کے مدعی ہیں وہ خدا پر جھوٹ افترا کر رہے ہیں۔ ایسے ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ قیامت کے دن جب ان سے سوال ہوگا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے ۔
(33 - 39) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ نشانیٔ عذاب کا مطالبہ پورا نہ کیے جانے پر یہ جو تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ چیز تمہارے لیے غم کا باعث نہ بنے۔ یہ تمہارا مذاق نہیں بلکہ خدا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے کو خدا پر چھوڑو۔ تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے صبر کیا۔ اس کے بعد اللہ کی نصرت ظاہر ہوئی۔ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تمہیں اس معاملے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے ایمان تو وہی لائیں گے جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے، جن کے دل بالکل مردہ ہوچکے ہیں وہ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ خدا کے آسمان و زمین نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن جو اندھے ہوچکے ہیں ان کو ان نشانیوں سے کیا فائدہ ؟
(40 - 50) یہ عذاب کی نشانی مانگتے ہیں، ان سے پوچھو کہ اگر خدا کا عذاب آیا تو اس سے بچاؤ کا کیا سامان انہوں نے کر رکھا ہے ؟ پچھلی قوموں کا حوالہ کہ انہوں نے بھی اپنے رسولوں سے نشانیاں مانگیں تو اللہ نے ان کو مختلف مصیبتوں میں مبتلا کیا لیکن خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ان کے دل اور سخت ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اظہار و اعلان کہ میں خدا کے خزانوں کا مالک اور غیب کا عالم ہونے کا مدعی نہیں ہوں۔ میں تو بس وحی الٰہی کا پیرو ہوں ۔
(51 - 55) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جن کے اندر خدا و آخرت کا خوف موجود ہے وہی اس قرآن سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سو ان کو اس ذریعہ سے جگاؤ۔ رہے وہ جو معجزات کے طالب ہیں تو ان کو نظر انداز کرو۔ جو غریب لوگ اللہ کی خوشنودی کے طالب اور تمہاری باتوں کے سننے والے ہیں ان کو ان متکبرین کے مطالبہ پر اپنے سے دور نہ کرو۔ اگر یہ متکبرین اس وجہ سے تمہارے پاس نہیں آتے کہ تمہاری مجلس میں غربا ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ ان کے لیے غریبوں کی غریبی اور ان کی اپنی امیری فتنہ بن گئی ہے۔ تم ان غربائے مسلمین کا بہرحال خیر مقدم کرو اور ان کو بشارت دو ۔
(56 - 67) شرک سے اعلانِ بیزاری کی ہدایت اس لیے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ پیغمبر ایک واضح شہادت اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ مکذبین اس شہادت کو تو جھٹلاتے ہیں اور نشانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عذاب کا لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں، خدا کے اختیار میں ہے۔ ہر جان خا کی مٹھی میں ہے۔ اللہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے عذاب بھیج سکتا ہے۔ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے۔ یہ جھٹلانے والے عنقریب جان لیں گے ۔
(68 - 70) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جب دیکھو کہ ان مکذبین کو اعتراض و مخالفت کا بخار چرھ گیا ہے تو ان سے بحث میں نہ الجھو، بلکہ کنارہ کش ہوجاؤ۔ تمہارا کام تذکیر و موعظت ہے، جب دیکھو کہ وہ سننا نہیں چاہتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، یہ خود بھگتیں گے، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو ۔
(71 - 73) ان سے کہہ دو کہ حق واضح ہوجانے اور اللہ کی ہدایت آجانے کے بعد کیا ہماری مت ماری ہوئی کہ ہم صحرا میں گم کردہ راہ قافلے کی طرح بھٹکتے پھریں ؟ ہم تو اب اسی راہ پر چلیں گے جو خدا نے ہمارے لیے کھولی ہے ۔
(74- 83) توحید کے ثبوت میں حضرت ابراہیم نے جو دلیل اپنی قوم پر قائم کی اس کا بیان ۔
(84 - 90) حضرت ابراہیم سے پہلے اور ان کے بعد ان کی ذریت میں جو انبیا و رسل اس دین توحید کے حامل اٹھے ان کی طرف ایک سرسری اشارہ اور اس بات کی تاکید کہ اصل ہدایت کی راہ یہی ہے جو ان پیغمبروں نے بتائی ہے تو اس پر مضبوطی سے استوار رہو۔ اگر کفار قریش اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پروا نہ کرو۔ اللہ دوسروں کو اس کی تائید و حمایت میں کھڑا کردے گا ۔
(91 - 92) یہود کا القا کیا ہوا ایک اعتراض اور اس کا جواب ۔
(93 - 94) ان بد دماغوں کی تردید جو دعوی کرتے تھے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اسی طرح کا کلام پیش کرسکتے ہیں جس قسم کا کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں، انہیں بھی وحی کا تجربہ ہوتا ہے ۔
(95- 99) توحید کے آفاقی دلائل ۔
(100- 105) شرک کی تردید اور یہ تنبیہ کہ ہدایت تمہارے پاس آ چکی، اب جو گمراہی اختیار کرے گا تو ذمہ داری خود اس پر ہے۔
(106- 108) پیغمبر کو مضبوطی سے وحی الٰہی کے اتباع پر جمے رہنے اور مشرکین سے اعراض کی ہدایت اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کہ مشرکین کے بتوں اور معبودوں کی بے ضرورت تحقیر و تذلیل نہ کی جائے کہ وہ مشتعل ہو کر تمہارے خدا کو برا بھلا کہنے لگیں ۔
(109- 111) کفار کی اس قسم کی تردید کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ فرمایا کہ اگر ان کو دنیا جہان کے معجزے دکھا دیے جائیں جب بھی جو ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔
(112 - 117) اس سنت اللہ کا بیان کہ جب نبی کی دعوت بلند ہوتی ہے تو شیاطین جن و انس کو بھی یہ مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرلیں تاکہ جن کو ان کی راہ اختیار کرنی ہے وہ ان کی راہ اختیار کریں۔ پیغمبر کو یہ ہدایت کہ تم ان الجھنے والوں کو بتا دو کہ جب میرے پاس خدا کی کتاب آ چکی ہے تو میں اس کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں ۔
(118 - 123) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ تم ورغلانے والوں کی باتوں سے ہوشیار رہو۔ انہوں نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت جو چیزیں حرام کر رکھی ہیں ان کے باب میں تم ان کی بدعات کی پروا نہ کرو بلکہ وہ چیزیں کھاؤ جن کی حرمت کی کوئی دلیل نہ ملت ابراہیم میں موجود ہے۔ نہ قرآن نے ان کے حرام ہونے کی خبر دی ہے۔ اب خدا نے تمہیں تاریکی سے روشنی میں لا کھڑا کیا ہے تو تم ان لوگوں کی بدعا اور کج بحثیوں کی پروا نہ کرو جو کفر و شرک کے اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔
(124 - 127) ان مغروروں کی تردید جو قرآن پر ایمان لانے کی شرط یہ ٹھہراتے تھے کہ جب تک ان پر بھی اسی طرح وحی نہ آئے جس طرح پیغمبر پر آتی ہے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ فرمایا کہ نبوت کے مرتبہ بلند کا سزاوار ہر شخص نہیں ہوتا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے، کون نہیں۔ جو لوگ کبرِ نفس میں مبتلا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں کی سرفرازیوں کا اجارہ دار صرف اپنے کو سمجھتے ہیں وہ اپنے اس غرور کی سزا پائیں گے۔ رہا ایمان لانے اور نہ لانے کا معاملہ تو یہ اللہ کی توفیق پر منحصر ہے اور اس توفیق کے لیے ایک مخصوص سنت الٰہی ہے ۔
(128 - 135) آخرت میں جنوں اور انسانوں کے گمراہ لوگ اعتراف کریں گے کہ وہ اتمام حجت کے باوجود محض اپنی شامت اعمال سے اس انجام کو پہنچے۔ قریش کو دھمکی کہ سنبھلنا چاہتے ہو تو اب بھی سنبھل جاؤ ورنہ جس عذاب کی دھمکی تمہیں سنائی جا رہی ہے وہ آ کے رہے گا اور کوئی اس سے بچ نہ سکے گا ۔
(136 - 144) مشرکین نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت کھیتی اور چوپایوں میں سے جن چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا یا اپنے دویتاؤں کو راضی کرنے کے لیے انسانی جانوں کی جو قربانیاں پیش کرتے تھے ان کی تردید و مذمت کہ یہ سب باتیں بے سروپا اوہام پر مبنی ہیں۔ عقل، فطرت اور ملتِ ابراہیم میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے ۔

(145- 154) اس قرآن کے ذریعہ سے جو اتمام حجت ہوا ہے اس کا بیان۔ اب اس کے بعد بھی اگر لوگ کسی نشانی کے ظہور کے منتطر ہیں تو وہ انتظار کریں، اس قسم کی نشانی دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اعلان کہ خدا نے مجھے ملتِ ابراہیم کی ہدایت بخشی ہے اور میں اس پر چل کھڑا ہوا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے اس صراط مستقیم پر آئے اور جس کا جی چاہے بھٹکتا پھرے۔ اللہ کے ہاں ہر ایک اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔