مشہور عرب سردار احنف بن قیس کا فہم قرآن

(… اپنے آپ کو پا لیا)

سیّدابوالحسن علی ندویؒ


احنف بن قیس ایک بڑے عرب سردار تھے۔ مشہور تھا کہ: اگر احنف کو غصّہ آتا ہے تو ایک لاکھ تلواروں کو غصّہ آجاتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت تو انھوں نے نہیں کی، مگر آپؐ کی زیارت کرنے والوں کی زیارت کی اور ان کے ساتھ رہے۔ خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے معتقد اور مخلص تھے۔ ایک دن کسی قاری نے یہ آیت تلاوت کی:

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْہِ ذِكْرُكُمْ ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۱۰ۧ (الانبیا ۲۱:۱۰) ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ہی تذکرہ موجود ہے۔ تم غوروفکر سے کام نہیں لیتے؟

عربی اُن کی زبان تھی، یہ سن کر چونک پڑے۔ گویا نئی بات سنی، کہنے لگے: ’’ہمارا تذکرہ! ذرا قرآن تو لائو، دیکھوں میرا کیا تذکرہ ہے اور میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں؟‘‘قرآن مجید دیکھا تو لوگوں کی صورتیں ان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔

٭ایک گروہ آیا جس کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَہْجَعُوْنَ۝۱۷ وَبِالْاَسْحَارِہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۝۱۸ وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝۱۹ (الذاریات ۵۱:۱۷-۱۹) وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں استغفار کیا کرتے تھے اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق تھا۔

٭پھر کچھ ایسے لوگ آئے جن کا حال یہ تھا کہ:
تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۡوَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۱۶ (السجدہ ۳۲:۱۶) ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے رب کو اُمید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔

امام رازی ؒ کی "تفسیر کبیر" کا تعارف

مولانا عمار ناصر 

ماہنامہ اشراق ، مئی 2002


’’مفاتیح الغیب‘‘ یعنی تفسیر کبیر کا شمار تفسیر بالرائے کے طریقہ پر لکھی گئی اہم ترین تفاسیر میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیف چھٹی صدی ہجری کے نام ور عالم اور متکلم امام محمد فخر الدین رازی (۵۴۳ھ ۔ ۶۰۶ھ) نے شروع کی ، لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا ۔ بعد میں اس کی تکمیل، حاجی خلیفہ کی رائے کے مطابق قاضی شہاب الدین بن خلیل الخولی الدمشقی نے اور ابن حجر کی رائے کے مطابق شیخ نجم الدین احمد بن محمد القمولی نے کی۔ یہ بات بھی معین طور پر معلوم نہیں کہ تفسیر کا کتنا حصہ خود امام صاحب لکھ پائے تھے ۔ ایک قول کے مطابق سورۂ انبیا تک ، جبکہ دوسرے قول کے مطابق سورۂ فتح تک تفسیر امام صاحب کی اپنی لکھی ہوئی ہے۔ ۱؂ تاہم اس معاملے میں سب سے زیادہ تشفی بخش اور مدلل نقطہ نظر الاستاذ عبد الرحمن المعلمی نے اپنے مضمون ’’حول تفسیر الفخر الرازی‘‘ میں اختیار کیا ہے۔ انھوں نے مضبوط داخلی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ تفسیر کے درج ذیل حصے خود امام صاحب نے لکھے ہیں ، جبکہ باقی اجزا الخولی یا القمولی کے لکھے ہوئے ہیں:
۱۔ سورۂ فاتحہ تا سورۂ قصص
۲۔ سورۂ صافات ، سورۂ احقاف
۳۔ سورۂ حشر، مجادلہ اور حدید
۴۔ سورۂ ملک تا سورۂ ناس ۲؂


خصوصیات: 

جامعیت

تفسیر کبیر کی نمایاں ترین خصوصیت، جس کا اعتراف اکابر اہل علم نے کیا ہے، اس کی جامعیت ہے۔ وہ جس مسئلہ پر لکھتے ہیں، اس کے متعلق جس قدر مباحث ان سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں، ان سب کا استقصا کر دیتے ہیں۔ محمد حسین ذہبی لکھتے ہیں :

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " البیان" : خصائص و امتیازات (۱)

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018

قرآن مجید کو اس وضاحت کے ساتھ اتاراگیاہے کہ یہ سراسرہدایت اورحق کے معاملے میں پیداہوجانے والے اختلافات میں خداکی آخری حجت ہے۔اس کی دین میں یہی حیثیت ہے کہ اسے سیکھنے اوردوسروں کوسکھانے کاکام ہر زمانے میں حقیقی مسلمانوں کاہدف رہا ہے۔یہ کام شروع دورمیں بہت سادہ اورکسی حدتک آسان بھی تھاکہ لوگ اس کی زبان سے مکمل طورپرآشنا،اس کی آیات کے پس منظر اور جس ماحول میں یہ اُتریں،اُن سے اچھی طرح سے واقف تھے۔لیکن یہ قدرے مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا گیاجب اس کتاب کے براہ راست مخاطبین اس دنیامیں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کی زبان میں کچھ ناگزیرتبدیلیاں رونماہونے لگیں۔ الفاظ میں متولد مفاہیم پیدا ہوئے تو بعض اسالیب متروک ہوکرنئی نئی صورتوں میں ظاہرہونے لگے۔اس سلسلے کی ایک مشکل اُن نومسلموں کے ہاں بھی پیدا ہوئی جو عربی زبان سے قطعی نابلدہونے کی بناپر اپنے اورقرآن کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب دیکھتے تھے۔ 

یہ حالات تھے جن میں صاحبان علم کواس بات کا شدت سے احساس ہواکہ فہم قرآن کے کام کوباقاعدہ علمی طریقے سے انجام دیاجائے ۔سواُنھوں نے اسے متعددزبانوں میں بیان کرنا شروع کیاجوترجمہ کی ایک مستقل اورشان دار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اس سے پہلے کتاب کا اصل مدعا جاننے کے لیے انھوں نے بہت سی تفسیری کاوشوں کابھی اہتمام کیااوراس کے لیے عام طورپردوطریقوں کواختیارکیا:ایک یہ کہ اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کے بجاے صرف اگلے لوگوں کی آراکونقل کردیااوردوسرے یہ کہ اصل زبان سے استشہادکرتے ہوئے اورتاریخ کی حتمی شہادت اور آیات کے بین السطورسے مددلیتے ہوئے خوداس کے مطالب کوبیان کیا۔یہ کوششیں بہت سالوں تک اسی طرح ہوتی رہیں اور مسلمانوں کے تفسیری علم میں گراں قدراضافے کاباعث بنیں۔

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (2)


 جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن
" ​البیان" : خصائص و امتیازات (2) 

’’واو‘‘

’’واو‘‘ کا حرف بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اسے مترجمین بالعموم’’اور‘‘کے لفظ سے اداکرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے درست ہے کہ عربی کے ’’واو‘‘ کی طرح یہ بھی اپنے اندرمعنی و مفہوم کی بہت سی وسعتیں رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کواپنی گرفت میں لے لینا، ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ قرآن کے اصل فہم کوترجمے میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ’’ واو‘‘جس مقام پرجس معنی میں استعمال ہوا ہو، وہاں اُسی معنی کواداکرنے والے اردوکے الفاظ لائے جائیں۔ ’’البیان‘‘ میں یہ اہتمام کس قدر کیا گیا ہے، ذیل کی چندمثالیں بڑی حدتک اسے بیان کردیتی ہیں:

۱۔ ہاں

وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا.(النساء ۴: ۵)
’’ہاں،اِس سے فراغت کے ساتھ اُن کوکھلاؤ،پہناؤاوراُن سے بھلائی کی بات کرو۔‘‘


یتیموں کے بارے میں فرمایاہے کہ اگروہ نادان اوربے سمجھ ہوں تواُن کامال اُن کے حوالے نہ کرو۔اس ہدایت کا منشا یہ بالکل نہیں تھا کہ اُن کی واجبی ضروریات کوبھی پورانہ کیاجائے،چنانچہ اصل حکم پراستدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوھُمْ‘۔ یعنی، جہاں تک اُن کی ضروریات کاتعلق ہے توانھیں فراغت کے ساتھ پورا کرو۔ یہاں ’’واو‘‘کاترجمہ’’ اور‘‘کے لفظ سے کریں تویہ مدعاکسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں ’’ہاں‘‘ کا لفظ آسانی سے اس مشکل کوحل کردیتاہے۔
’’البیان‘‘ میں بعض مقامات پرکلام کی مناسبت سے اس’’ہاں‘‘میں مزیدلفظوں کا اضافہ بھی کیاگیاہے،جیساکہ ’’ہاں،البتہ‘‘ یا ’’اورہاں‘‘وغیرہ:

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (3)

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018 


’’تنوین‘‘

تنوین بھی ایک حرف ہے کہ اسے نحوی حضرات ’’ن‘‘ کاقائم مقام قراردیتے ہیں۔یہ اصل میں تنکیرکے لیے آتی ہے،مگرکلام عرب میں اس سے بعض دوسرے معانی کوبھی اداکیاجاتاہے۔ان میں سے ایک معنی تفخیم شان کابھی ہے اوراس کاترجمہ عام طورپراس کے صرف ایک پہلو کے لحاظ سے کیاجاتاہے،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’’البیان‘‘ میں تفخیم کی اس تنوین کاترجمہ ہرجگہ ایک سانہیں کیاگیاکہ مختلف مقامات پراس کے مختلف پہلومرادہواکرتے ہیں،مثلاً:

۱۔ عظمت

سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النور ۲۴: ۱)
’’یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کوہم نے اتاراہے اوراس کے احکام (تم پر)فرض ٹھیرائے ہیں اوراس میں نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم یادرکھو۔‘‘


یہاں ’سُوْرَۃٌ‘ کی تنوین اصل میں اس کی عظمت اوراہمیت کے اظہارکے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبرہے اوراس حذف سے مقصودیہ ہے کہ ساری توجہ خبرپرمرکوزہوکررہ جائے۔مزیدیہ کہ اگلے جملے، جیساکہ اسے ہم نے اتاراہے،اس کے احکام فرض ٹھیرادیے ہیں ،اس میں نہایت واضح تنبیہات اتاردی ہیں؛ان سب سے بھی ’سُوْرَۃٌ‘ کے اس لفظ میں عظمت واہمیت کاپہلوپیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ ’’ایک عظیم سورہ‘‘ کے الفاظ میں کیاگیاہے۔

۲۔ برتری

بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلآی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۲)
’’ہرگزنہیں،بلکہ یہ توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداکوایک برترطریقے پرپایاہے اورہم اُنھی کے قدم بہ قدم ٹھیک راستے پرچل رہے ہیں۔‘‘

واقعۂ نوح

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق 2018 


یہ انسانی تاریخ کاایک اہم واقعہ ہے جس کابیان ہمیں کئی مذہبی روایات میں ملتاہے۔بائیبل میں تاریخی ترتیب کے ساتھ اس کی تفصیل آئی ہے تو قرآن میں تذکیری اندازکے مطابق جستہ جستہ اس کے متعلق بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں الہامی ہونے کے لحاظ سے چونکہ ایک ہی روایت کی امین ہیں اور ان میں اکثر و بیش تر واقعات باہم موافق پائے جاتے ہیں،اس لیے ان میں یہ واقعہ بھی اپنی اصل کے لحاظ سے ایک ساآیاہے۔ تاہم،کئی مقامات پریہ اپنے بیان میں مختلف بھی ہوگیاہے اور تورات کی نقل میں غلطی، اِلحاق اور تحریف جیسے امکانات کے ہوتے ہوئے ایساہوجاناناممکن نہیں ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات کیاہیں؟ان سے توہم سب لوگ واقف ہیں اور اُنھیں یہاں بیان کرنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں،مگراس کے بارے میں چندسوالات ایسے پیداہوتے ہیں جو شدت سے اس بات کا تقاضاکرتے ہیں کہ اُن کے تشفی بخش جواب ضروردیے جائیں، مثال کے طورپر:
۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیا سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟
۲۔ طوفان نوح کیاپوری زمین پرآیا؟
۳۔ اُن کی کشتی میں کون سوارہوئے؟
۴۔ کیانوح کے اہل محض اہل ہونے کی بناپرسوارہوئے؟
۵۔ آج کے سب انسان کس کی اولادہیں؟
۶۔ سیدنا ابراہیم کیاواقعی حضرت نوح کی نسل سے ہیں؟
ہم ذیل میں ان سوالات کے جواب میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں:

۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیاسب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟

تفسیر اور تذکیر کا فرق

محمد ذکوان ندوی 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018


قرآن مجید سے ذِکر ونصیحت کا فائدہ حاصل کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ مفروضہ ہے کہ — قرآن ایک مشکل کتاب ہے۔ اُس کو سمجھنا عام لوگوں کا کام نہیں۔یہ صرف علما کا مقام ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اُس سے استفادہ کرسکیں۔

اِس قسم کا مفروضہ قرآن کے تذکیری اور تفسیری مطالعے میں فرق نہ کرنے کی بنا پرپیدا ہواہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن سے استفادہ کرنے کی دو سطحیں ہیں: ایک ہے تلاوت براے تذکیر، اور دوسری ہے تلاوت براے تفسیر۔ قرآن میں بار بار ارشادہوا ہے کہ تذکیر کے لیے اُسے پوری طرح موزوں بنا دیا گیا ہے: ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ‘۔ قرآن کے مطابق، تذکیر کے لیے اصلاً ’تَقْوٰی‘ (الحاقہ ۶۹: ۴۸) اور ’اِنَابَت‘ (غافر۴۰: ۱۳) جیسی داخلی صفات درکار ہیں۔ البتہ تفسیر کے لیے، بلاشبہ یہ ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر مطلوب علمی استعدادپیدا کرے۔

اِس معاملے میں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اِس باب میں خود قرآن مجید کا اپنا بیان کیا ہے؟ قرآن کا مطالعہ واضح طورپر بتاتا ہے کہ یہ مفروضہ بالکل بے اصل ہے۔ قرآن نے متعدد مقام پر باربار اِس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد کے بیان واِبلاغ کے اعتبار سے بالکل ایک واضح کتاب ہے۔ وہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اپنے ابدی مستقبل (جنت یا جہنم) کا آخری فیصلہ سننے کے لیے اُس کے حضور میں پیش ہونا ہے۔

اِسی کے ساتھ قرآن میں باربار یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن نصیحت کے لیے پوری طرح موزوں بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک ہی سورہ میں چار مرتبہ بہ تکرار اِس حقیقت کو دہرا یا گیا ہے: ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ، فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ‘ (القمر۵۴: ۱۷، ۲۲، ۳۲، ۴۰)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو یاددہانی کے لیے نہایت موزوں بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا؟ 
اِس کے علاوہ،ایک معمولی فرق کے ساتھ یہی بات قرآن میں مزید دوبار حسب ذیل الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

* ’فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیۡنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا‘ (مریم ۱۹: ۹۷)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو تمھاری زبان میں اِسی لیے سہل اور موزوں بنا دیا ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو اِس کے ذریعے سے بشارت دو جو خدا سے ڈرنے والے ہیں،اوراِن ہٹ دھرم لوگوں کو اِس کے ذریعے سے خبردار کردو۔ 

* ’فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ‘ (الدخان ۴۴: ۵۸)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو تمھاری زبان میں نہایت موزوں بنا دیا ہے تاکہ وہ اِس سے یاددہانی حاصل کریں۔

اِسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے: ’وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ. قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ‘ (الزمر ۳۹: ۲۷- ۲۸)، یعنی ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کی تذکیر کے لیے ہر قسم کی تمثیلیں بیان کردی ہیں تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔وہ ایک عربی قرآن کی صورت میں ہے جس کے اندر کوئی ٹیڑھ نہیں پائی جاتی۔ 

اِن آیات سے یہ حقیقت پوری طرح مبرہن ہوجاتی ہے کہ تذکیرکے لیے قرآن بالکل واضح اور آسان کتاب ہے ۔اِسی کے ساتھ قرآن میں ہرگزکسی قسم کی کوئی فلسفیانہ پیچیدگی نہیں پائی جاتی۔وہ فصیح و بلیغ زبان، اور ایسے فطری اور دل نشیں اسلوب میں نازل کیا گیا ہے جس سے اُس کا اصل مقصد ہرجگہ کسی ابہام کے بغیر پوری قطعیت کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے۔