شعائر اللہ کى عظمت اور اس کى شرعى حيثيت -

شعائر اللہ کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ البقر آیت 158 اور سورۃ المائدہ آیت 2 اور سورۃ الحج آیات : 32،36 میں آیا ہے ۔ 
شعائر اللہ سے کیا مراد ہے ؟ 
سورۃ البقرہ میں صفا اور مروہ کو شعائر کا حصہ قرار دیا ، سورۃ المائدہ میں مختلف شعائراللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ، اور سورۃ الحج کی آیت : 32 میں شعائراللہ کی تعظیم کا حکم دیا اور اس کو تقوی کی نشانی قرار دیا ، اور سورۃ الحج کی آیت : 36 میں خاص اونٹ" بدن" کی قربانی کو بھی شعائر اللہ کہا ہے ۔ 

امام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حصہ اول باب 7 (شعائر اللہ کی تعظیم واحترام) میں لکھتے ہیں :۔ ’’ شعائر الہیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری ومحسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لیے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت وحرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت وحرمت سمجھتے ہیں۔ اور ان کے متعلق کسی قسم کی کوتاہی کو ذات الٰہی کے متعلق کوتاہی سمجھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھا :۔ بڑے بڑے شعار الٰہیہ چار ہیں!

1-  قرآن حکیم
2- کعبۃ اللہ
3- نبی کریم ﷺ
4-  نماز

 قرآن حکیم میں ہے:۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ (2:158) بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔

 اور والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ (22:36) اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔

 شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں۔

  کعبہ، عرفہ، مزدلفہ جمار ثلاثہ، صفا، مروہ، منیٰ، جمیع مساجد، ماہ رمضان، اشہر حرم، عید الفطر، عید النحر ایام تشریق۔ جمعہ، اذان، اقامت، نماز ،جماعت، نماز عیدین۔

سب کو شعائر اللہ میں سے گردانتے ہیں۔


بیت اللہ:

 اللہ کے شعائر میں سے سب سے بڑا شعیرہ ہے۔ مقصود اس کی عبادت کرنا نہیں بلکہ عبادت تو اللہ کی جاتی ہے، لیکن چونکہ یہ گھر اللہ کے ساتھ نسبت خاص رکھنے اور مرکز عبادت ہونے کی وجہ سے ایک خاص حیثیت کا مالک ہے۔ 

اس لیے اس کی تقدیس اور اس کا احترام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم جب بھی اسے دیکھتے ہیں تو جہاں اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں وہیں اس کے احترام اور اس کی مرکزیت میں اضافے کے لیے اللہ ہی سے دعائیں مانگتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مکان ہے، نہایت سادہ، نہایت پروقار، لیکن اس ایک کوٹھے نے دنیائے اسلام کو ایک جہت، ایک مرکزیت، ایک منزل اور ایک شعور میں پرو رکھا ہے۔ ہرسال لاکھوں لوگوں کے دل اس کی وجہ سے اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے اور اپنی ذات کی معرفت سے آشنا ہوتے ہیں۔ دنیا کو مختلف طبقوں اور مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی اس امت کو ایک جگہ اور ایک رنگ میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی اس گھر کا وہ حقیقی کردار ہے، جس نے اسے اللہ کے شعائر میں ایک اہم حیثیت کا حامل بنادیا ہے۔


اس حوالے سے مولانا سید ابولاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں " ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ”شعار“ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم، سکے، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہیں۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے پیرووں سے اپنے ان شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی نظام کے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دراصل اس نظام کے خلاف دشمنی رکھتا ہے، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اسی نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے۔


”شعائر اللہ“ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ایسی علامات جہاں جس مسلک اور جس نظام میں بھی پائی جائیں مسلمان ان کے احترام پر مامور ہیں، بشرطیکہ ان کا نفسیاتی پس منظر خالص خدا پرستانہ ہو، کسی مشرکانہ یا کافرانہ تخیل کی آلودگی سے انہیں ناپاک نہ کردیا گیا ہو۔ کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اگر اپنے عقیدہ و عمل میں خدائے واحد کی بندگی و عبادت کا کوئی جزء رکھتا ہے، تو اس جزء کی حد تک مسلمان اس سے موافقت کریں گے اور ان شعائر کا بھی پورا احترام کریں گے جو اس کے مذہب میں خالص خدا پرستی کی علامت ہوں۔ اس چیز میں ہمارے اور اس کے درمیان نزاع نہیں بلکہ موافقت ہے۔ نزاع اگر ہے تو اس امر میں نہیں کہ وہ خدا کی بندگی کیوں کرتا ہے، بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ خدا کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیوں کی آمیزش کیوں کرتا ہے۔


یاد رکھنا چاہیے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ برپا تھی، مکہ پر مشرکین قابض تھے، عرب کے ہر حصے سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کے لیے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے اور ان کے درمیان جنگ ہی سہی، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کے لیے جانور یہ لیے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو، کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بےاحترامی کا۔
 (تفہیم القرآن ، جلد 1 ص 438 حاشیہ نمبر 5)

اس سلسلے میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " مثلاً قربانی حقیقتِ اسلام کا ایک مظہر ہے۔ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالہ کردے۔ اپنی کوئی محبوب سے محبوب چیز بھی اس سے دریغ نہ رکھے۔ اس حقیقت کا عملی مظاہرہ جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کر کے فرمایا، وہ تاریخ انسانی کا ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی یادگار میں جانوروں کی قربانی کو ایک شعیرہ کے طور پر مقرر فرما دیا تاکہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے اندر اسلام کی اصل حقیقت برابر تازہ ہوتی رہے۔ 

اسی طرح حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ یہ پتھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے اس روایت کا ایک نشان ہے کہ اس کو بوسہ دے کر یا اس کو ہاتھ لگا کر بندہ اپنے رب کے ساتھ اپنے عہد بندگی اور اپنے میثاق اطاعت کی تجدید کرتا ہے۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں اس کو یمین اللہ (خدا کا ہاتھ) سے تعبیر کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب اس کو ہاتھ لگاتا ہے تو گویا وہ خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اس سے تجدید بیعت کرتا ہے۔ اور جب اس کو بوسہ دیتا ہے تو گویا یہ اس کی طرف سے خدا کے ساتھ عہد محبت و وفاداری کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح جمرات بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ یہ نشانات اس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ حجاج ان پر کنکریاں مار کر اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کے دشمنوں اور اسلام کے دشمنوں پر، خواہ وہ ابلیس کی ذریات سے تعلق رکھنے والے ہوں یا انسانوں کے کسی گروہ سے، لعنت کرتے ہیں اور ان کے خلاف جہاد کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔ 

علی ہذا القیاس بیت اللہ بھی ایک شعیرہ بلکہ سب سے بڑا شعیرہ ہے جو پوری امت کا قبلہ اور توحید و نماز کا مرکز ہے۔ اس کے ارد گرد طواف کر کے اور اپنی نمازوں اور اپنی تمام مسجدوں کا اس کو قبلہ قرار دے کر ہم اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ جس خدائے واحد کی عبادت کے لیے یہ گھر تعمیر ہوا ہم اسی کے بندے، اسی کی طرف رخ کرنے والے، اسی کے عبادت گزار اور اسی کی شمع توحید پر پروانہ وار نثار ہیں۔

اسی طرح صفا اور مروہ بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔ ان کے شعائر میں سے ہونے کی وجہ عام طور پر تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہی دونوں پہاڑیوں کے درمیان حضرت ہاجرہ نے حضرت اسمعیل کے لیے پانی کی تلاش میں تک و دو کی تھی لیکن استاذ امام(مولانا حمید الدین فراہی) کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ اصل قربان گاہ مروہ ہے۔ یہیں حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں فرمانبردارانہ اور غلامانہ سرگرمی دکھائی اس وجہ سے سے ان دونوں پہاڑیوں کو شعائر میں سے قرار دے دیا گیا اور ان کی سعی کی یادگار ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی ۔


شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں۔

مزید لکھتے ہیں " ان شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ یہ شعائر، اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ ہیں۔ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی چیز کو دین کے شعائر میں سے قرار دے دے اور جو چیز شعائر میں داخل ہے اس کو شعائر کی فہرست سے خارج کردے۔ دین میں اس قسم کے من مانے تصرفات سے شرک و بدعت کی راہیں کھلتی ہیں۔ جن قوموں نے اپنے جیسے شعائر قرار دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اس طرح شرک و بت پرستی کی راہیں کھول دی۔

دوسری یہ کہ جس طرح شعائر،  اللہ کے مقرر کردہ ہیں اسی طرح اسلام میں ان شعائر کی تعظیم کے حدود بھی خدا اور رسول ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ جس شعیرہ کی تعظیم کی جو شکل شریعت میں ٹھہرا دی گئی ہے وہی اس حقیقت کے اظہار کی واحد شکل ہے جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے، اس سے سرِ مو انحراف نہ صرف اس شعیرہ کی حقیقت سے انسان کو محروم کردینے والی بات ہے بلکہ اس سے شرک و بدعت کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔  فرض کیجیے کہ حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ اس کی تعظیم کے لیے اس کو حالت طواف میں بوسہ دینے یا اس کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوم لینے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی شکلیں کود دین کے لانے والے کی طرف سے مقرر کردی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص تعظیم کی صرف انہی شکلوں پر قناعت نہ کرے بلکہ تعظیم شعائر اللہ کے جوش میں وہ اس پتھر کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگے یا اس کے سامنے نذریں پیش کرنے لگے یا اس پر پھول نثار کرنے لگے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کرنے لگے تو ان باتوں سے وہ نہ صرف یہ کہ اس حقیقت سے بالکل دور ہوجائے گا جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے بلکہ وہ شرک و بدعت میں بھی مبتلا ہوجائے گا۔

 تیسری یہ کہ ان شعائر میں اصل مطمح نظر وہ حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہے۔ ان حقیقتوں کے اظہار کے لیے یہ شعائر گویا قالب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ملت کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں یہ حقیقتیں برابر زندہ اور تازہ رکھی جائیں۔ اگر یہ اہتمام سرد پڑجائے تو دین کی اصل روح نکل جاتی ہے، صرف قالب باقی رہ جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی اصل توجہ صرف قوالب پر مرکوز ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین صرف ایک مجموعہ رسوم بن کے رہ جاتا ہے۔ 

--------------------------------------------
( تدبر قرآن، جلد 2 سورۃ المائدہ، آیت :2) 

قیامت کا منظر

قیامت اور آخرت کا منظر سُوْرَةُ الْاِنْفِطَار کی روشنی میں

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ اِنفَطَرَت سے ماخوذ ہے۔ انفطار مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر آیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کا اور سورۂ تکویر کا مضمون ایک دوسرے سے نہایت مشابہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سورتیں قریب قریب ایک ہی زمانے میں نازل ہوئی ہیں۔
موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع آخرت ہے۔ مسند احمد، ترمذی، ابن المنذر، طبرانی، حاکم اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ ارشاد بیان کیا:
” جو شخص چاہتا ہے کہ روز قیامت کو اس طرح دیکھے لے جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے تو سورۂ تکویر اور سورۂ انفطار، اور سورۂ انشقاق کو پڑھ لے“
اس میں سب سے پہلے روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آ جائے گا تو ہر شخص کے سامنے اس کا کیا دھرا سب آ جائے گا۔ اس کے بعد انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ جس رب نے تجھ کو وجود بخشا اور جس کے فضل و کرم سے آج تو سب مخلوقات سے بہتر جسم اور اعضاء لیے پھرتا ہے، اس کے بارے میں یہ دھوکا تجھے کہاں سے لگ گیا کہ وہ صرف کرم ہی کرنے والا ہے، انصاف کرنے والا نہیں ہے؟ اس کے کرم کے معنی یہ تو نہیں ہیں کہ تو اس کے انصاف سے بے خوف ہو جائے۔ پھر انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ تو کسی غلطی فہمی میں مبتلا نہ رہے، تیرا پورا نامۂ اعمال تیار کیا جا رہا ہے۔ اور نہایت معتبر کاتب ہر وقت تیری تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہے ہیں۔ آخر میں پورے زور کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یقیناً روز جزا برپا ہونے والا ہے جس میں نیک لوگوں کو جنت کا عیش اور بد لوگوں کو جہنم کا عذاب نصیب ہوگا۔ اس روز کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا، فیصلے کے اختیارات بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے۔

(مزید تفسیر حاشیہ کے لے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾ وَ اِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴿ۙ۳﴾ وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ ۙ﴿۴﴾ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَ اَخَّرَتۡ ؕ﴿۵﴾ یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الۡکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾ الَّذِیۡ خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾ فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ﴿۸﴾ کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾ وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾ اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ اِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿ۚۖ۱۴﴾ یَّصۡلَوۡنَہَا یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿۱۵﴾ وَ مَا ہُمۡ عَنۡہَا بِغَآئِبِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۱۷﴾ ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۸﴾ یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب آسمان پھٹ جائے گا، اور جب تارے بکھر جائیں گے، اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے، اور جب قبریں کھول دی جائیں گی، اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا۔
اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس ربّ ِ کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نِک سُک سے درست کیا، تجھے متناسِب بنایا، اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا ہر گز نہیں بلکہ ﴿اصل بات یہ ہے کہ ﴾ تم لوگ جزا و سزا کو جھُٹلاتےہو، حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں
یقیناً نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بے شک بدکار لوگ جہنّم میں جائیں گے ۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اُس سے ہر گز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہو گا۔ ؏١


(تفہیم القرآن جلد 6 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )



محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت


محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت  اور سورۃُ المُزَّمِّل  کے مضامین 

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ المزمل کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف نام ہے، اس کے مضامین کا عنوان نہیں ہے۔

زمانۂ نزول :
اس سورت کے دو رکوع الگ زمانوں میں نازل ہوئے ہیں۔
پہلا رکوع بالاتفاق مکی ہے۔اس کے مضامین اور احادیث کی روایات دونوں سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مکی زندگی کے کس دور میں نازل ہوا ہے، اس کا جواب روایات سے تو نہیں ملتا، لیکن اس رکوع کے مضامین کی داخلی شہادت اس کا زمانہ متعین کرنے میں بڑی مدد دیتی ہے:
اولاً، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کیا کریں تاکہ آپ کے اندر نبوت کے بارِ عظیم کواٹھانے اور اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی قوت پیدا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کے ابتدائی دور ہی میں نازل ہوا ہوگا جبکہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس منصب کے لیے آپ کی تربیت کی جا رہی تھی۔
ثانیاً، اس میں حکم دیا گیا ہے کہ نمازِ تہجد میں آدھی آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ یہ ارشاد خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُس وقت قرآن مجید کا کم از کم اتناحصہ نازل ہو چکا تھا کہ اس کی طویل قرات کی جا سکے۔
ثالثاً، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالفین کی زیادتیوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے اور کفار مکہ کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رکوع اس زمانے میں نازل ہوا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع کر چکے تھے اور مکہ میں آپ کی مخالفت زور پکڑ چکی تھی۔
دوسرے رکوع کے متعلق اگرچہ بہت سے مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ بھی مکہ ہی میں نازل ہوا ہے، لیکن بعض دوسرے مفسرین نے اسے مدنی قرار دیاہے، اور اس رکوع کے مضامین سے اسی خیال کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ اس میں قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے، اورظاہر ہے کہ مکہ میں اس کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا تھا، اور اس میں فرض زکٰوۃ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اور یہ بات ثابت ہے کہ زکٰوۃ یک مخصوص شرح اور نصاب کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔
موضوع اور مضامین :

پہلی سات آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا گیا ہے کہ جس کارِ عظیم کا بار آپ پر ڈالا گیا ہے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے آپ اپنے آپ کو تیار کریں، اور اس کی عملی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ راتوں کو اٹھ کر آپ آدھی آدھی رات، یا اس سے کچھ کم و بیش نماز پڑھا کریں۔
آیت 8 سے 14 تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تلقین کی گئی ہے کہ سب سے کٹ کر اس خدا کے ہو رہیں جو ساری کائنات کا مالک ہے۔ اپنے سارے معاملات اسی کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیں۔ مخالفین جو باتیں آپ کے خلاف بنا رہے ہیں ان پر صبر کریں، ان کے منہ نہ لگیں اور ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں کہ وہی ان سے نمٹ لے گا۔ اس کے بعد آیات 15 سے 19 تک مکہ کے ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کر رہے تھے، متنبہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اسی طرح تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف بھیجا تھا، پھر دیکھ لو کہ جب فرعون نے اللہ کے رسول کی بات نہ مانی تو وہ کس انجام سے دوچار ہوا۔ اگر فرض کر لو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذاب نہ آیا تو قیامت کے روز تم کفر کی سزا سے کیسے بچ نکلو گے؟
یہ پہلے رکوع کے مضامین ہیں۔ دوسرا رکوع حضرت سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق اس کے دس سال بعد نازل ہوا اور اس میں نماز تہجد کے متعلق اس ابتدائی حکم کے اندر تخفیف کر دی گئی جو پہلے رکوع کے آغاز میں دیا گیا تھا۔ اب یہ حکم دیا گیا کہ جہاں تک تہجد کی نماز کا تعلق ہے وہ تو جتنی باآسانی پھی جا سکے پڑھ لیا کرو لیکن مسلمانوں کو اصل اہتمام جس چیز کا کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ پنج وقتہ فرض نماز پوری پابندی کے ساتھ قائم رکھیں، فریضہ زکٰوۃ ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خلوصِ نیت کے ساتھ صرف کریں۔ آخر میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ جو بھلائی کے کام تم انجام دو گے وہ ضائع نہیں جائیں گے بلکہ ان کی حیثیت اس سامان کی سی ہے جو ایک مسافر اپنی مستقل قیام گاہ پر پہلے سے بھیج دیتا ہے۔ اللہ کے ہاں پہنچ کر تم وہ سب کچھ موجود پاؤ گے جو دنیا میں تم نے آگے روانہ کیا ہے، اور یہ پیشگی سامان نہ صرف یہ کہ اس سامان سے بہت بہتر ہے جو تمہیں دنیا ہی میں چھوڑ جانا ہے، بلکہ اللہ کے ہاں تمہیں اپنے بھیجے ہوئے اصل مال سے بڑھ کر بہت بڑا اجر بھی ملے گا۔

(مزید حاشیہ کے لیے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾ قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾ نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾ اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۶﴾ اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبۡحًا طَوِیۡلًا ؕ﴿۷﴾ وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا ؕ﴿۸﴾ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾ وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۱۰﴾ وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا ﴿۱۱﴾ اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٭۱۳﴾ یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا ﴿۱۴﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾ فَعَصٰی فِرۡعَوۡنُ الرَّسُوۡلَ فَاَخَذۡنٰہُ اَخۡذًا وَّبِیۡلًا ﴿۱۶﴾ فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا ﴿٭ۖ۱۷﴾ السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ کَانَ وَعۡدُہٗ مَفۡعُوۡلًا ﴿۱۸﴾ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿٪۱۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے1، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم2، آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو3، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو4۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں5۔ در حقیقت رات کا اُٹھنا6 نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر 7 اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے8۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔ اپنے ربّ کے نام کا ذکر کیا کرو9 اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو10۔ اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاوٴ11۔اِن جُھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو12 اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت میں رہنے دو۔ ہمارے پاس ﴿اِن کے لیے﴾ بھاری بیڑیاں ہیں13 اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔ یہ اُس دن ہو گا جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر جو بکھرے جا رہے ہیں14۔
تم15 لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے16 جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسُول بھیجا تھا۔ ﴿پھر دیکھ لو کہ جب ﴾ فرعون نے اُس رسُول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاوٴ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے17 گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہو گا؟ اللہ کا وعدہ تو پُور ا ہو کر ہی رہنا ہے۔ یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن ، جلد 6، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودوی ؒ )

حق بات کو چھپانا بد ترین جرم ہے ۔

قرآن کی آیت وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ الخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ گڈمڈ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب مغالطہ میں پڑجائے جائز نہیں اسی طرح کسی خوف یا طمع کی وجہ سے حق بات کا چھپانا بھی جرم ہے ، اس آیت کے ضمن میں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں حق کو چھپانے سے پرہیز کرنے کا ایک واقعہ اور مفصل مکالمہ حضرت ابو حازم تابعی اور خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا نقل کیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ہدایت کی گئی کہ 


لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ (١٨٣: ٣) (کہ لوگوں کے سامنے حق بات بیان کرو اس کو مت چھپاؤ) یہی وہ بات ہے جس کے لئے امام قرطبی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں ایک طویل حکایت درج فرمائی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف حق گوئی میں کس قدر بے باک تھے ۔ یہ واقعہ مشہور تابعی ابوحاز ؒ کا ہے ۔ 

مسند دارمی میں سند کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبد الملک مدینہ طیبہ پہنچے اور چند روز قیام کیا تو لوگوں سے دریافت کیا کہ مدینہ طیبہ میں اب کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس نے کسی صحابی کی صحبت پائی ہو؟ لوگوں نے بتلایا ہاں ابوحازم ایسے شخص ہیں، سلیمان نے اپنا آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا جب وہ تشریف لائے۔


تو سلیمان نے کہا کہ اے ابوحازم یہ کیا بےمروتی اور بیوفائی ہے؟

ابوحازم نے کہا آپ نے میری کیا بےمروتی اور بیوفائی دیکھی ہے؟ 

سلیمان نے کہا کہ مدینہ کے سب مشہور لوگ مجھ سے ملنے آئے آپ نہیں آئے۔


ابوحازم نے کہا امیر المؤ منین میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں جو واقعہ کے خلاف ہو آج سے پہلے نہ آپ مجھ سے واقف تھے اور نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا تھا ایسے حالات میں خود ملاقات کے لئے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیوفائی کیسی؟

سلیمان نے جواب سن کر ابن شہاب زہری اور حاضرین مجلس کی طرف التفات کیا تو امام زہری نے فرمایا کہ ابوحازم نے صحیح فرمایا آپ نے غلطی کی، 

اس کے بعد سلیمان نے روئے سخن بدل کر کچھ سوالات شروع کئے اور کہا اے ابوحازم یہ کیا بات ہے کہ ہم موت سے گھبراتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت کو ویران اور دنیا کو آباد کیا ہے اس لئے آبادی سے ویرانہ میں جانا پسند نہیں ۔

سلیمان نے تسلیم کیا اور پوچھا کہ کل اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کیسے ہوگی؟ فرمایا کہ نیک عمل کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جائے گا جیسا کوئی مسافر سفر سے واپس اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہے اور برے عمل کرنے والا اس طرح پیش ہوگا جیسا کوئی بھاگا ہوا غلام پکڑ کر آقا کے پاس حاضر کیا جائے،

سلیمان یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا صورت تجویز کر رکھی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ اپنے اعمال کو اللہ کی کتاب پر پیش کرو تو پتہ لگ جائیگا، سلیمان نے دریافت کیا کہ قرآن کی کس آیت سے یہ پتہ لگے گا ؟ فرمایا اس آیت سے، اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ۚوَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ (١٤: ١٣: ٨٢) یعنی بلاشبہ نیک عمل کرنے والے جنت کی نعمتوں میں ہیں اور نافرمان گناہ شعار دوزخ میں، 

سلیمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو بڑی ہے وہ بدکاروں پر بھی حاوی ہے فرمایا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (٥٦: ٧) یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک عمل کرنے والوں سے قریب ہے، 

سلیمان نے پوچھا اے ابو حازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ کون عزت والا ؟ فرمایا وہ لوگ جو مروّت اور عقل سلیم رکھنے والے ہیں،

پھر پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ تو فرمایا کہ فرائض وواجبات کی ادائیگی حرام چیزوں سے بچنے کے ساتھ، 

پھر دریافت کیا کہ کونسی دعا زیادہ قابل قبول ہے؟ تو فرمایا کہ جس شخص پر احسان کیا گیا ہو اس کی دعا اپنے محسن کے لئے اقرب الی القبول ہے،

پھر دریافت کیا کہ صدقہ کونسا افضل ہے؟ تو فرمایا کہ مصیبت زدہ سائل کے لئے باوجود اپنے افلاس کے جو کچھ ہوسکے اس طرح خرچ کرنا کہ نہ اس سے احسان جتائے اور نہ ٹال مٹول کرکے ایذاء پہونچائے،

پھر دریافت کیا کہ کلام کونسا افضل ہے؟ تو فرمایا کہ جس شخص سے آپ کو خوف ہو یا جس سے تمہاری کوئی حاجت ہو اور امید وابستہ ہو اس کے سامنے بغیر کسی رو رعایت کے حق بات کہہ دینا پھر دریافت کیا کہ کونسا مسلمان سب سے زیادہ ہوشیار ہے؟ فرمایا وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے تحت کام کیا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دی ہو،

پھر پوچھا کہ مسلمانوں میں کون شخص احمق ہے؟ فرمایا وہ آدمی جو اپنے کسی بھائی کی اس کے ظلم میں امداد کرے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اس نے دوسرے کی دنیا درست کرنے کے لئے اپنا دین بیچ دیا سلیمان نے کہا کہ صحیح فرمایا

اس کے بعد سلیمان نے اور واضح الفاظ میں دریافت کیا کہ ہمارے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، ابوحازم نے فرمایا کہ مجھے اس سوال سے معاف رکھیں تو بہتر ہے سلیمان نے کہا کہ نہیں آپ ضرور کوئی نصیحت کا کلمہ کہیں ۔

ابوحازم نے فرمایا اے امیر المؤ منین! آپ کے آباء واجداد نے بزور شمشیر لوگوں پر تسلط کیا اور زبردستی ان کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت قائم کی اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ اب وہ مرنے کے بعد کیا کہتے ہیں اور ان کو کیا کہا جاتا ہے۔

حاشیہ نشینوں میں ایک شخص نے بادشاہ کے مزاج کے خلاف ابوحازم کی اس صاف گوئی کو سن کر کہا کہ ابوحازم آپ نے یہ بہت بری بات کہی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو بری بات نہیں کہی بلکہ وہ بات کہی جس کا ہم کو حکم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء سے اس کا عہد لیا ہے کہ حق بات لوگوں کو بتلائیں گے چھپائیں گے نہیں لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ (١٨٣: ٣) یہی وہ بات ہے جس کے لئے یہ طویل حکایت امام قرطبی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں درج فرمائی ہے،

سلیمان نے پھر سوال کیا کہ اچھا اب ہمارے درست ہونے کا کیا طریقہ ہے؟ فرمایا کہ تکبر چھوڑو مروّت اختیار کرو اور حقوق والوں کو ان کے حقوق انصاف کے ساتھ تقسیم کرو ۔

سلیمان نے کہا کہ ابوحازم کیا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں فرمایا خدا کی پناہ! سلیمان نے پوچھا یہ کیوں؟ فرمایا کہ اس لئے کہ مجھے خطرہ یہ ہے کہ میں تمہارے مال ودولت اور عزت وجاہ کی طرف کچھ مائل ہوجاؤں جس کے نتیجہ میں مجھے عذاب بھگتنا پڑے،

پھر سلیمان نے کہا کہ اچھا آپ کی کوئی حاجت ہو تو بتلائیے کہ ہم اس کو پورا کریں ؟ فرمایا ہاں ایک حاجت ہے کہ جہنم سے نجات دلادو اور جنت میں داخل کردو، سلیمان نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں فرمایا کہ پھر مجھے آپ سے اور کوئی حاجت مطلوب نہیں، 

آخر میں سلیمان نے کہا کہ اچھا میرے لئے دعا کیجئے تو ابوحازم نے یہ دعا کی یا اللہ اگر سلیمان آپ کا پسندیدہ ہے تو اس کے لئے دنیا وآخرت کی بہتری کو آسان بنا دے اور اگر وہ آپ کا دشمن ہے تو اس کے بال پکڑ کر اپنی مرضی اور محبوب کاموں کی طرف لے آ،

سلیمان نے کہا کہ مجھے کچھ وصیت فرمادیں ارشاد فرمایا کہ مختصر یہ ہے کہ اپنے رب کی عظمت وجلال اس درجہ میں رکھو کہ وہ تمہیں اس مقام پر نہ دیکھے جس سے منع کیا ہے اور اس مقام سے غیر حاضر نہ پائے جس کی طرف آنے کا اس نے حکم دیا۔ 

سلیمان نے اس مجلس سے فارغ ہونے کے بعد سو گنیاں بطور ہدیہ کے ابوحازم کے پاس بھجیں ابوحازم نے ایک خط کے ساتھ ان کو واپس کردیا خط میں لکھا تھا کہ اگر یہ سو دینار میرے کلمات کا معاوضہ ہیں تو میرے نزدیک خون اور خنزیر کا گوشت اس سے بہتر ہے اور اگر اس لئے بھیجا ہے کہ بیت المال میں میرا حق ہے تو مجھ جیسے ہزاروں علماء اور دین کی خدمت کرنے والے ہیں اگر سب کو آپ نے اتنا ہی دیا ہے تو میں بھی لے سکتا ہوں ورنہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، 

ابوحازم کے اس ارشاد سے کہ اپنے کلمات نصیحت کا معاوضہ لینے کو خون اور خنزیر کی طرح قرار دیا ہے اس مسئلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ کسی اطاعت وعبادت کا معاوضہ لینا ان کے نزدیک جائز نہیں۔

(بحوالہ معارف القرآن ، حضرت مولانا مفتی  محمد شفیع ؒ  تفسیر سورہ بقرہ: آیت : 42)

محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی کون سی خصوصی مہربانیاں تھیں ؟

محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی  کون سی خصوصی مہربانیا ں تھیں؟  

سورۃُ الضُّحی   کی روشنی میں 
نام :

پہلے ہی لفظ والضحٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضور سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کارفرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات کا سکون طاری کرنے میں کارفرما ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپ پر برابر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے۔ اس لیے بیچ میں وقفہ دیا گیا تاکہ آپ کو سکون مل جائے۔ یہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپ کو وحی کے نزول کی شدت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ (نزول وحی کا کس قدر شدید بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعصاب پر پڑتا تھا اس کے لیے دیکھیے مضمون سورۂ مدثر اور مطالعہ کیجیے سورۂ مزمل) بعد میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون :
اس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالٰی آپ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا جس سے آپ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی ان صریح پیشینگوئیوں میں سے ایک ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالانکہ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت کہیں دور دور بھی اس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اسے اتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روز پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے، ہم نے تمہاری پرورش اور خبر گیری کا بہترین انتظام کر دیا۔ تم ناواقفِ راہ تھے، ہم نے تمہیں راستہ بتایا۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتدا سے ہمارے منظور نظر ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شامل حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ آیات 37 تا 42 کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے جبار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالٰی نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ اس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل تمہارے ساتھ ہوگا۔
آخر میں اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا برتاؤ کیا ہونا چاہیے، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔




بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾ فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے روزِ روشن کی1 اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے2﴿ اے نبی ؐ ﴾ تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا3۔ اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے4، اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے5۔ کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا6؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی7۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا8۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو9، اور سائل کو نہ جھِڑکو10، اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو11۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

محمد رسول اللہ ﷺکی شخصیت سورۃ الانشراح کی روشنی میں


                                                                    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ   


اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾ وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾ فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ﴿۷﴾ وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ﴿۸﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا1؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اُتار دیا جو تمہاری کمر توڑ ڈال رہا تھا اور تمہاری خاطر تمہارے ذِکر کا آواز  بلند کر دیا پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاوٴ اور اپنے ربّ ہی کی طرف راغب ہو 

----------------
حواشی :

1 -  اس سوال سے کلام کا آغاز ، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالی نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟


اللہ تعالی کا ایک نبی کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتاہے؟

اللہ  کاایک نبی کےساتھ اور ایک نبی  کاخلق خدا کےساتھ کیا برتاؤ ہوتاہے؟  

 سُورَۃ ُالضُّحیٰ کی روشنی میں 

نام :
پہلے ہی لفظ والضحٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 
زمانۂ نزول :
اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضور سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کارفرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات کا سکون طاری کرنے میں کارفرما ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپ پر برابر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے۔ اس لیے بیچ میں وقفہ دیا گیا تاکہ آپ کو سکون مل جائے۔ یہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپ کو وحی کے نزول کی شدت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ (نزول وحی کا کس قدر شدید بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعصاب پر پڑتا تھا اس کے لیے دیکھیے مضمون سورۂ مدثر اور مطالعہ کیجیے سورۂ مزمل) بعد میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون :
اس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالٰی آپ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا جس سے آپ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی ان صریح پیشینگوئیوں میں سے ایک ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالانکہ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت کہیں دور دور بھی اس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اسے اتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روز پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے، ہم نے تمہاری پرورش اور خبر گیری کا بہترین انتظام کر دیا۔ تم ناواقفِ راہ تھے، ہم نے تمہیں راستہ بتایا۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتدا سے ہمارے منظور نظر ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شامل حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ آیات 37 تا 42 کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے جبار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالٰی نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ اس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل تمہارے ساتھ ہوگا۔
آخر میں اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا برتاؤ کیا ہونا چاہیے، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔






بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾ فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے روزِ روشن کی1 اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے2﴿ اے نبی ؐ ﴾ تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا3۔ اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے4، اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے5۔ کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا6؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی7۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا8۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو9، اور سائل کو نہ جھِڑکو10، اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو11۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

چار قرآنی اصطلاحات : الہ، رب، دین، اور عبادت کی اہمیت

سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی  کتاب " قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات " علوم قرآن  میں بڑی اھمیت رکھتی ہے یہ مواد اس سے ماخوز ہیں ۔ یہ کتاب قرآن کی ان بنیادی اصطلاحات (Terminologies) کو کھولتی ہے جن کے درست فہم پر ایک مسلم فرد اور معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہے۔

 اس کتاب کی اہمیت اس لے بھی ہے کہ عصر حاضر میں خدا کا تصور ، دین و عبادت کو انسان کی شخصی اور انفرادی زندگی تک محدود کرنا جدید تصورات حیات (مغربی جمہوریت ، سرمایہ دارانہ نظام معیشت ، شوشل ازم ، کمیونزم یا اشتراکیت وغیرہ ) کے ایجنڈے کا ایک باقاعدہ حصہ ہے۔ یہ اکتاب ایک طرف اسلام کے آفاقی اور ہمہ گیر تصور کی طرف راہنمائی کرتی ہے تو ساتھ ہی دین کو محض عقائد سے نتھی کر نے اور عبادت کو پوجا پاٹ ، اور چند مذھبی رسم ورواج کا نام دیکر زندگی کے ہر میدان سے الگ کر دینے کی ملحدانہ کوششوں کو بے نقاب کرتی ہے اور دین اسلام کے اصولی نقطہ نظر کو واضح کر تی ہے۔

الٰہ، رب، دین اور عبادت :یہ چار الفاظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب و الٰہ ہے، اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ رب، اور نہ الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے، لہٰذا اسی کو اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر کسی کی الٰہیت اور ربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہردوسرے دین کو رد کر دو۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ(الانبیاء :۲۵)

"ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، کہ "میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے لہٰذا میری عبادت کرو”

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ(التوبہ:۳۱)

"اور ان کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ ایک ہی الٰہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ پاک ہے۔ اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں "

إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبیاء:۹۲)

"یقیناً تمہارا (یعنی تمام انبیاء کا) یہ گروہ ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری عبادت کرو"

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ(انعام:۱۶۴)

"کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی ا ور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔ "

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَا ءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا۔ (کہف:۱۱۰)

"تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے۔ "

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ(نحل:۳۶)

"ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرو۔ "

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ(آل عمران:۸۳)

"تو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمینوں میں ہیں۔ سب چار و ناچار اس کی مطیع ہیں اور اسی کی طرف انہیں پلٹ کر جانا ہے۔ "

قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْن (زمر:۱۱)

"(اے نبی ﷺ) کہو، کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے "

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ(آل عمران:۵۱)

"اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تم سب کا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ "

یہ چند آیات محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ ورنہ جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اول نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارا بیان انہی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیالCentral Idea یہی ہے کہ :

اللہ رب اور الٰہ ہے۔ اور ربوبیت و الٰہیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔ لہٰذا عبادت اسی کی ہونی چاہیے۔ اور دین دین خالصتا اسی کے لیے ہونا چاہیے۔

اب یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن کی تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان چاروں اصطلاحوں کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا بالکل ناگزیر ہے۔ 

اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ الٰہ اور رب کا مطلب کیا ہے ؟ عبادت کی تعریف کیا ہے ؟ اور دین کسے کہتے ہیں ؟ تو دراصل اس کے لیے پورا قرآن بے معنی ہو جائے گا۔ وہ نہ توحید کو جان سکے گا، نہ شرک کو سمجھ سکے گا، نہ عبادت کو اللہ کے لیے مخصوص کر سکے گا، اور نہ دین ہی اللہ کے لیے خالص کر سکے گا۔

 اسی طرح اگر کسی کے ذہن میں ان اصطلاحوں کا مفہوم غیر واضح اور نامکمل ہو تو اس کے لیے قرآن کی پوری تعلیم غیر واضح ہو گی اور قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کا عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل رہ جائیں گے۔ وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا رہے گا اور اس کے باوجود بہت سے ارباب من دون اللہ اس کے رب بنے رہیں گے۔ وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، اور پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا۔ وہ پورے زور کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے دین میں ہوں، اور اگر کسی دوسرے دی کی طرف اسے منسوب کیا جائے تو لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ 

مگر اس کے باوجود بہت سے دینوں کا قلادہ اس کی گردن میں پڑا رہے گا۔ اس کی زبان سے کسی غیر اللہ کے لیے "الٰہ” اور "رب” جیسے الفاظ تو کبھی نہ نکلیں گے مگر یہ الفاظ جن معانی کے لیے وضع کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے بہت سے الٰہ اور رب ہوں گے اور بے چارے کو خبر تک نہ ہو گی کہ میں نے واقعی اللہ کے سوا دوسرے ارباب و الٰہ بنا رکھے ہیں۔ اس کے سامنے اگر آپ کہہ دیں کہ تو دوسروں کی "عبادت” کر رہا ہے اور "دین” میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ پتھر مارنے اور منہ نوچنے کو دوڑے گا مگر عبادت اور د ین کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے واقعی وہ دوسروں کا عابد اور دوسروں کے دین میں داخل ہو گا اور نہ جانے گا کہ یہ جو کچھ میں کر ر ہا ہوں یہ حقیقت میں دوسروں کی عبادت ہے اور یہ حالت جس میں میں مبتلا ہوں حقیقت میں غیر اللہ کا دین ہے۔

غلط فہمی کا اصل سبب

عرب میں جب قران پیش کیا گیا تو ہر شخص جانتا تھا کہ الٰہ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلے سے مستعمل تھے، انہیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا اللہ ہی اکیلا الٰہ اور رب ہے اور الوہیت و ربوبیت میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے، تو وہ پوری بات کو پا گئے۔ انہیں بلا کسی التباس و اشتباہ کے معلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیے کس چیز کی نفی کی جا رہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے مخالفت کی یہ جان کر کی کہ غیر اللہ کی الوہیت و ربوبیت کے انکار سے کہاں کہاں ضرب پڑتی ہے، اور جو ایمان لائے وہ یہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہو گا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں، عبودیت کس حالت کا نام ہے، عبادت سے کونسا رویہ مراد ہے، اور دین کا کیا مفہوم ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ، تو انہیں قران کی دعوت سمجھنے میں کوئی غلط فہمی پیش نہ آئی۔ وہ سنتے ہی یہ سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کے نظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے۔

لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصل معنی جو نزول قران کے وقتسمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ان کے لیے الٰہ اور رب اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے جو نزول قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے۔ انہی دونوں وجوہ سے دور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآنی الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کی بجائے ان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے۔ مثلاً:

لفظ الٰہ کو قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا، رب کو پالنے اور پوسنے والے یا پروردگار کا مترادف ٹھہرایا گیا، عبادت کے معنی پوجا اور پرستش کیے گئے۔

دین کو دھرم اور مذہب اور (religion) کے مقابلہ کا لفظ قرار دیا گیا۔

طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جانے لگا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی سمجھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ بناؤ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بتوں ا ور دیوتاؤں کو چھوڑ دیا ہے لہٰذا قرآن کا منشا پورا کر دیا، حالانکہ الٰہ کا مفہوم اور جن جن چیزوں پر عائد ہوتا ہے ان سب کو وہ اچھی طرح پکڑے ہوئے ہیں اور انہیں خبر نہیں ہے کہ ہم غیر اللہ کو الٰہ بنا رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو رب تسلیم نہ کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ کے سوا کسی کو پروردگار نہیں مانتے لہٰذا ہماری توحید مکمل ہو گئی، حالانکہ رب کا اطلاق اور جن مفہومات پر ہوتا ہے ان کے لحاظ سے اکثر لوگوں نے خد اکی بجائے دوسروں کی ربوبیت تسلیم کر رکھی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ طاغوت کی عبادت کو چھوڑ دو اور صرف اللہ کی عبادت کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے، شیطان پر لعنت بھیجتے ہیں، اور صرف اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا ہم نے قران کی یہ بات بھی پوری کر دی، حالانکہ پتھر کے بتوں کے سوا دوسرے طاغوتوں سے وہ چمٹے ہوئے ہیں اور پرستش کے سوا دوسری قسم کی تمام عبادتیں انہوں نے اللہ کی بجائے غیر اللہ کے لیے خاص کر رکھی ہیں۔ یہی حال دین کا ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خاص کرنے کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی”مذہب اسلام” قبول کر لے اور ہندو یا عیسائی یا یہودی نہ رہے۔ اس بنا پر ہر وہ شخص جو "مذہب اسلام” میں ہے یہ سمجھ رہا ہے کہ میں نے اللہ کے لیے دین کو خالص کر رکھا ہے، حالانکہ دین کے وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہے۔

غلط فہمی کے نتائج

پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی(۴/۳) سے زیادہ تعلیم بلکہ اس کی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ہے، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و اعمال میں جو نقائص نظر آرہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے۔

اگرچہ میں اس سلسلے میں اس سے پہلے اپنے متعدد مضامین میں ان کے مفہوم پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر چکا ہوں۔ لیکن جو کچھ اب تک میں نے بیان کیا ہے وہ نہ تو بجائے خود تمام غلط فہمیوں کو صاف کرنے کے لیے کافی ہے، اور نہ اس سے لوگوں کو پوری طرح اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ ان چار اصطلاحوں کا مکمل مفہوم واضح کر دوں، اور کوئی ایسی بات بیان نہ کروں جس کا ثبوت لغت اور قرآن سے نہ ملتا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دنیا میں انسان کی حیثیت - مفکراسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ

دنیا میں انسان کی حیثیت سُورَۃُ البلَد کی روشنی 

اس سورت میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے اور یہ قرآن کا کمال ایجاز ہے کہ ایک پورا نظریۂ حیات، جسے مشکل سے ایک ضخیم کتاب میں بیان کیا جا سکتا تھا، اس چھوٹی سی سورت کے چھوٹے چھوٹے فقروں میں نہایت مؤثر طریقے سے بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کا موضوع دنیا میں انسان کی، اور انسان کے لیے دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے سعادت اور شقاوت کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں، ان کو دیکھنے اور ان پر چلنے کے وسائل بھی اسے فراہم کر کر دیے ہیں، اور اب یہ انسان کی اپنی کوشش اور محنت پر موقوف ہے کہ وہ سعادت کی راہ پر چل کر اچھے انجام کو پہنچتا ہے یا شقاوت کی راہ اختیار کر کے برے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔
سب سے پہلے شہر مکہ اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر گزرنے والے مصائب اور پوری اولادِ آدم کی حالت کو اِس حقیقت پر گواہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے آرام گاہ نہیں ہے جس میں وہ مزے اڑانے کے لیے پیدا کیا گیا ہو، بلکہ یہاں اس کی پیدائش ہی مشقت کی حالت میں ہوئی ہے۔ اس مضمون کو اگر سورۂ نجم کی آیت 39 لیس للانسان الا ما سعٰی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت پر ہے۔

اس کے بعد انسان کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ یہاں بس وہی وہ ہے اور اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جو اس کے کام کی نگرانی کرنے والی اور اس پر مواخذہ کرنے والی ہو۔

پھر انسان کے بہت سے جاہلانہ تصورات میں سے ایک چیز کو بطور مثال لے کر بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس نے بڑائی اور فضیلت کے کیسے غلط معیار تجویز کر رکھے ہیں۔ جو شخص اپنی کبریائی کی نمائش کے لیے ڈھیروں مال لٹاتا ہے وہ خود بھی اپنی اِن شاہ خرچیوں پر فخر کرتا ہے اور لوگ بھی اسے خوب داد دیتے ہیں، حالانکہ جو ہستی اس کے کام کی نگرانی کر رہی ہے وہ یہ دیکھتی ہے کہ اس نے یہ مال کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں میں کس نیت اور کن اغراض کے لیے خرچ کیا۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو علم کے ذرائع اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دے کر اس کے سامنے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں۔ ایک راستہ وہ ہے جو اخلاق کی پستیوں کی طرف جاتا ہے اور اس پر جانے کے لیے کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی بلکہ نفس کو خوب لذت حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا راستہ اخلاق کی بلندیوں کی طرف جاتا ہے جو ایک دشوار گزار گھاٹی کی طرح ہے کہ اس پر چلنے کے لیے آدمی کو اپنے نفس پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اس گھاٹی پر چڑھنے کی بہ نسبت کھڈ میں لڑھکنے کو ترجیح دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ وہ گھاٹی کیا ہے جس سے گزر کر آدمی بلندیوں کی طرف جا سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ریا اور فخر اور نمائش کے خرچ چھوڑ کر آدمی اپنا مال یتیموں اور مسکینوں کی مدد پر خرچ کرے، اللہ اور اس کے دین پر ایمان لائے، اور ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہو کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لے جو صبر کے ساتھ حق پرستی کے تقاضوں کو پورا کرنے والا اور خلق پر رحم کھانے والا ہو۔ اس راستے پر چلنے والوں کا انجام یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں کا مستحق ہو، اور اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کرنے والوں کا انجام دوزخ کی آگ ہے جس سے نکلنے کے سارے دروازے بند ہیں۔


(مزید تفسیری حاشیوں کے لیے ترجمہ میں درج نمبرپر کلک کریں )


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۲﴾ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾ اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ یَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ اَحَدٌ ۘ﴿۵﴾ یَقُوۡلُ اَہۡلَکۡتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ﴿۶﴾ اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ یَرَہٗۤ اَحَدٌ ؕ﴿۷﴾ اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ عَیۡنَیۡنِ ۙ﴿۸﴾ وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیۡنِ ۙ﴿۹﴾ وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾ فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ ﴿۫ۖ۱۱﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾ فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾ یَّتِیۡمًا ذَا مَقۡرَبَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ﴿ؕ۱۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا ہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ﴿ؕ۱۹﴾ عَلَیۡہِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَۃٌ ﴿٪۲۰﴾


اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔


نہیں1، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی2 اور حال یہ ہے کہ ﴿اے نبی ؐ ﴾ اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے3، اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی4، درحقیقت ہم نے انسان کو مشقّت میں پیدا کیا ہے5۔ کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا6؟ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اُڑا دیا7۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا8؟ کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے9؟ اور دونوں نمایاں راستے اُسے ﴿نہیں ﴾ دکھا دیے10؟ مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمّت نہ کی11۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟ کسی گردن کو غلامی سے چھُڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا12۔ پھر ﴿اِس کے ساتھ یہ کہ ﴾ آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے13 اور جنہوں نے ایک دُوسرے کو صبر اور ﴿خلقِ خدا پر﴾ رحم کی تلقین کی14۔ یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں15، ان پر آگ چھائی ہوئی16 ہو گی۔ ؏١



( تفہیم القرآن جلد 6 ،)

توحید کی دعوت

توحید کی دعوت ، قیامت اور احوال قیامت کی تصویرسُورَۃ ُ الغاَشِیہ  کی روشنی میں  

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ الغاشیۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ کی روشنی میں
زمانہ نزول :

سورت کا پورا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تبلیغِ عام شروع کر چکے تھے اور مکہ کے لوگ بالعموم اسے سن سن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔
موضوع اور مضمون :

اس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید، دوسرے آخرت اور اہل مکہ ان دونوں باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضمون اور انداز بیاں پر غور کیجیے۔
اس میں سب سے پہلے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے اچانک ان کے سامنے ایک سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں اس وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہوگی؟ اس کے بعد فوراً بعد ہی تفصیل بیان کرنی شروع کر دی گئی ہے کہ اس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر دو مختلف انجام دیکھیں گے۔ ایک وہ جو جہنم میں جائیں گے اور انہیں ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں گے۔ دوسرے وہ جو عالی مقام جنت میں جائیں گے اور ان کو ایسی اور ایسی نعمتیں میسر ہوں گی۔
اس طرح لوگوں کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو قرآن کی تعلیمِ توحید اور خبرِ آخرت کو سن کر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں، اپنے سامنے کی ان چیزوں کو نہیں دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں سابقہ پیش آتا ہے؟ عرب کے صحرا میں جن اونٹوں پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے، کبھی یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک انہیں خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی؟ اپنے سفروں میں جب یہ چلتے ہیں تو انہیں یہ آسمان نظر  آتا ہے، یا پہاڑ، یا زمین۔ انہی تین چیزوں پر یہ غور کریں۔ اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہو گئے؟ نیچے یہ زمین کیسے بچھ گئی؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق صانعِ حکیم کی کاریگری کے بغیر ہو گیا ہے؟ اگر یہ مانتے ہیں کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کے ساتھ ان چیزوں کو بنایا ہے، اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں شریک نہیں ہے، تو اسی کو اکیلا رب ماننے سے انہیں کیوں انکار ہے؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا، تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ وہی خدا قیامت لانے پربھی قادر ہے؟ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے؟
اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفار کی طرف سے رخ پھیر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں، تم ان پر جبار بنا کر تو مسلط کیے نہیں گئے ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے، سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخرکار انہیں آنا ہمارے ہی پاس ہے۔ اس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لیں گے اور نہ ماننے والوں کو بھاری سزا دیں گے۔
(مزید تفسیری حاشیوں کے لے ترجمہ میں درج نمبروں پر کلک کریں )





بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾ تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾ تُسۡقٰی مِنۡ عَیۡنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ﴿۵﴾ لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾ لَّا یُسۡمِنُ وَ لَا یُغۡنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ﴿۸﴾ لِّسَعۡیِہَا رَاضِیَۃٌ ۙ﴿۹﴾ فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۱۰﴾ لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾ فِیۡہَا عَیۡنٌ جَارِیَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾ فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾ وَّ نَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَۃٌ ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ زَرَابِیُّ مَبۡثُوۡثَۃٌ ﴿ؕ۱۶﴾ اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾ وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾ وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾ وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾ فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الۡعَذَابَ الۡاَکۡبَرَ ﴿ؕ۲۴﴾ اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿٪۲۶﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے1 ؟ کچھ چہرے2 اُس روز خوف زدہ ہوں گے، سخت مشقت کر رہے ہوں گے، تھکے جاتے ہوں گے، شدید آگ میں جھُلس رہے ہوں گے، کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا، خاردار سُوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ3 ہوگا، جو نہ موٹا کرے نہ بھُوک مٹائے ۔ کچھ چہرے اُس روز بارونق ہوں گے، اپنی کار گزاری پر خوش ہوں گے4، عالی مقام جنّت میں ہوں گے، کوئی بےہودہ بات وہاں نہ سُنیں گے5، اُس میں چشمے رواں ہوں گے، اُس کے اندر اُونچی مسندیں ہوں گی، ساغر رکھے ہوئے ہوں گے6، گاوٴ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔
﴿یہ لوگ نہیں مانتے﴾ تو کیا یہ اُونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اُٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی7؟
اچھاتو ﴿اے نبی ؐ ﴾ نصیحت کیے جاوٴ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو8۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کی بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے، پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمّہ ہے۔ ؏

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکراسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

 اس موضوع سے متعلق مزید مطالعہ کریں :

1-  آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات سورۃ الفجر کی روشنی میں

صحف ابراھیم ؑ، موسیؑ اور قرآن مجید کی مشترکہ تعلیمات

 صحف ابراھیم ؑ، موسیؑ اور قرآن مجید کی مشترکہ تعلیمات 
مطالعہ سُوْرَةُ الْاَعْلٰی
نام :

پہلی ہی آیت سبح اسم ربک الاعلٰی کے لفظ الاعلٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کے مضمون سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، اور آیت نمبر 6 کے یہ الفاظ بھی کہ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے “
یہ بتاتے ہیں کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ابھی وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق نہیں ہوئی تھی اور نزول وحی کے وقت آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں میں اس کے الفاظ بھول نہ جاؤں۔ اس آیت کے ساتھ اگر سورۂ طٰہٰ کی آیت 114 اور سورۂ قیامہ کی آیات 16 – 19 کو ملا کر دیکھا جائے، اور تینوں آیتوں کے اندازِ بیاں اور موقع و محل پر بھی غور کیا جائے تو واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اس سورت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اطمینان دلایا گیا کہ آپ فکر نہ کریں، ہم یہ کلام آپ کو پڑھوا دیں گے اور آپ اسے نہ بھولیں گے۔ پھر ایک مدت کے بعد، دوسرے موقع پر جب سورۂ قیامہ نازل ہو رہی تھی، حضور بے اختیار الفاظِ وحی کو دہرانے لگے۔ اس وقت فرمایا گیا "اے نبی، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، اس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے، لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں اس وقت تم اس کی قرات کو غور سے سنتے رہے، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔" آخری مرتبہ سورۂ طٰہ کے نزول کے موقع پر حضور کو پھر بتقاضائے بشریت اندیشہ لاحق ہوا کہ یہ 113 آیتیں جو متواتر نازل ہوئی ہیں ان میں سے کوئی چیز میرے حافظے سے نہ نکل جائے اور آپ ان کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس پر فرمایا گیا "اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے" اس کے بعد پھر کبھی اس کی نوبت نہیں ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسا کوئی خطرہ لاحق ہوتا، کیونکہ ان تین مقامات کے سوا کوئی چوتھا مقام قرآن میں ایسا نہیں ہے جہاں اس معاملے کی طرف کوئی اشارہ پایا جاتا ہو۔

موضوع اور مضمون :
اس چھوٹی سی سورت کے تین موضوع ہیں۔ توحید، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت اور آخرت۔
پہلی آیت میں توحید کی تعلیم کو اس ایک فقرے میں سمیٹ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے نام کی تسبیح کی جائے، یعنی اس کو کسی ایسے نام سے یاد نہ کیا جائے جو اپنے اندر کسی قسم کے نقص، عیب، کمزوری یا مخلوقات سے تشبیہ کا کوئی پہلو رکھتا ہو کیونکہ دنیا میں جتنے بھی فاسد عقائد پیدا ہوئے ہیں ان سب کی جڑ اللہ تعالٰی کے متعلق کوئی نہ کوئی غلط تصور ہے جس نے اس ذات پاک کے لیے کسی غلط نام کی شکل اختیار کی ہے لہٰذا عقیدے کی تصحیح کے لیے سب سے مقدم یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کو صرف ان اسماء حسنٰی ہی سے یاد کیا جائے جو اس کے لیے موزوں اور مناسب ہیں۔
اس کے بعد تین آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ تمہارا رب، جس کے نام کی تسبیح کا حکم دیا جا رہا ہے، وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا، اس کا تناسب قائم کیا، اس کی تقدیر بنائی، اسے وہ کام انجام دینے کی راہ بتائی جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے، اور تم اپنی آنکھوں سے اس کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھ رہے ہو کہ وہ زمین پر نباتات کو پیدا بھی کرتا ہے اور پھر انہیں خس و خاشاک بھی بنا دیتا ہے۔ کوئی ہستی نہ بہار لانے پر قادر ہے نہ خزاں کو آنے سے روک سکتی ہے۔
پھر دو آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا جا رہا ہے، یہ لفظ بلفظ آپ کو یاد کیسے رہے گا۔ اس کو آپ کے حافظے میں محفوظ کر دینا ہمارا کام ہے، اور اس کا محفوظ رہنا آپ کے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں بلکہ ہمارے فضل کا نتیجہ ہے، ورنہ ہم چاہیں تو اسے بھلا دیں۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کے سپرد ہر ایک کو راہ راست پر لے آنے کا کام نہیں کیا گیا ہے بلکہ آپ کا کام بس حق کی تبلیغ کر دینا ہے، اور تبلیغ کا سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ جو نصیحت سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہو اسے نصیحت کی جائے اور جو اس کے لیے تیار نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑا جائے۔ جس کے دل میں گمراہی کے انجامِ بد کا خوف ہوگا وہ حق بات کو سن کر قبول کر لے گا اور جو بدبخت اسے سننے اور قبول کرنے سے گریز کرے گا وہ اپنا برا انجام خود دیکھ لے گا۔
آخر میں کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ فلاح صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو عقائد، اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کریں، اور اپنے رب کا نام یاد کر کے نماز پڑھیں۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں ساری فکر بس اسی دنیا کے آرام و آسائش اور فائدوں اور لذتوں کی ہے حالانکہ اصل فکر آخرت کی ہونی چاہیے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کی نعمتوں سے آخرت کی نعمتیں بدرجہا بڑھ کر ہیں۔ یہ حقیقت صرف قرآن ہی میں نہیں بتائی جا رہی ہے، بلکہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی علیہم السلام کے صحیفوں میں بھی انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا۔
(مزید تفسیری حاشیہ کے لے  ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ﴿۲﴾ وَ الَّذِیۡ قَدَّرَ فَہَدٰی ۪ۙ﴿۳﴾ وَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰی ۪ۙ﴿۴﴾ فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحۡوٰی ؕ﴿۵﴾ سَنُقۡرِئُکَ فَلَا تَنۡسٰۤی ۙ﴿۶﴾ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ یَعۡلَمُ الۡجَہۡرَ وَ مَا یَخۡفٰی ؕ﴿۷﴾ وَ نُیَسِّرُکَ لِلۡیُسۡرٰی ۚ﴿ۖ۸﴾ فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۹﴾ سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ۙ۱۰﴾ وَ یَتَجَنَّبُہَا الۡاَشۡقَی ﴿ۙ۱۱﴾ الَّذِیۡ یَصۡلَی النَّارَ الۡکُبۡرٰی ﴿ۚ۱۲﴾ ثُمَّ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی ﴿ؕ۱۳﴾ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾ وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿۫ۖ۱۶﴾ وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی ﴿ؕ۱۷﴾ اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾ صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی ﴿٪۱۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
﴿اے نبی ؐ ﴾ اپنے ربِّ برتر کے نام کی تسبیح کرو1 جس نے پیدا کیا اور تناسُب قائم کیا2، جس نے تقدیر بنائی3 پھر راہ دکھائی4، جس نے نباتات اُگائیں5 پھر اُن کو سیاہ کُوڑا کرکٹ بنا دیا6۔
ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے7 سوائے اُس کے جو اللہ چاہے8 ، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جوکچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی9۔
اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں، لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو10۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے11 گا، اور اس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بد بخت جو بڑی آگ میں جائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا اور نہ جیے12 گا۔
فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی13 اور اپنے ربّ کا نام یاد کیا14 پھر نماز پڑھی15۔ مگر تم لوگگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو16، حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے17 ۔ یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی، ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کے صحیفوں میں18۔ ؏

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

قرآن سے تربیت و رہنمائی

قرآن سے تربیت و رہنمائی

ڈاکٹرمحی الدین غازی



__  قرآن مجید کتاب ایمان ہے، وہ دل کو ایمان ویقین سے منور کرتا ہے۔
__  قرآن مجید کتاب عمل ہے، وہ زندگی کو بہترین عمل سے آراستہ کرتا ہے۔
__  قرآن مجید کتاب حکمت ہے، وہ عقل کو آزادی اور توانائی عطا کرتا ہے۔
__  قرآن مجید کتاب دعوت ہے، وہ بہترین داعی اور دردمند مربی بناتا ہے۔
یہ چاروں اوصاف انسانوں کی زندگی میں نظر آنے لگیں تو گویا زندگی میں قرآن مجید ظہور پذیر ہونے لگے، اور اگر یہی نظر نہیں آئے تو گویا قرآن مجید کا نہ دل پر نزول ہوا ، نہ زندگی میں ظہور ہوا۔
بندگی کا جذبہ ایمان سے پیدا ہوتا ہے، اور ایمان کی قوت کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ کن چیزوں پر کیا ایمان لانا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کس درجے کا ایمان لانا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایمان والوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایمان کیسے بڑھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی آیات کو سننے سے ایمان بڑھتا جاتا ہے، اور ایک کرن سے نُور کا ہالا بن جاتا ہے۔ قرآن مجید فلسفہ اور کلام کی غیر ضروری بحثوں سے بچاتے ہوئے، یقین کی بلند منزلوں کی سیر اور ایمان کی بلند چوٹیوں کو سر کراتا ہے۔ قرآن مجید وہ ایمان مانگتا ہے اور عطا کرتا ہے: جو غفلت کو قریب نہ پھٹکنے دے، جو بخل اور بزدلی سے آزاد کردے، جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور اللہ کی مرضی کو سب سے زیادہ پسندیدہ بنادے، جو اللہ کے دین کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے لیے بے قرار کردے۔ قرآن مجید اس ایمان کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کے ظرف کو وسیع کرے، اس کے اندر خیر سے محبت اور برائی سے نفرت پیدا کرے، اور اس کے دل میں اللہ کی بندگی، بندوں کی خدمت اور صالحین میں شمولیت کا شوق پیدا کرے۔
> قرآن مجید میں اچھے عمل کو جس قدر اہمیت دی گئی ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ عمل کو نجات اور کامیابی کے لیے شرط بھی قرار دیا گیا ہے، اور اسے نجات اور کامیابی کا ضامن بھی بتایا گیا ہے۔ قرآن مجید کا مقصود باایمان اور باعمل فرد کی تیاری ہے۔ بے ایمان یا بے عمل کا انجام آخرت میں کیا ہوگا اس سے قطع نظر، یہ بات یقینی ہے کہ وہ قرآن مجید کے سایے میں تیار ہونے والا انسان نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس کے لئے نہ کوئی وعدہ ہے، اور نہ کوئی بشارت ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے جو ایمان اور عمل میں سے کسی ایک کے بغیر نجات اور کامیابی کی گنجایش بتاتا ہو۔ قرآن مجید میں ایمان اور عمل ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کسی ایک پر زیادہ زور دینے سے دوسرے کی اہمیت کم ہوسکتی ہے۔ ہرجگہ دونوں کی اہمیت برابر نظر آتی ہے۔ قرآن مجید میں نہ ایمان کے اضافے کی کوئی آخری حد بتائی گئی ہے، اور نہ عمل کے ذخیرے کی کوئی آخری حد بتائی گئی ہے۔ ایمان کا مسلسل بڑھتے رہنا بھی عین مطلوب ہے، اور عمل کا بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ ہوتے رہنا بھی عین مقصود ہے۔
 قرآن مجید میں عقل کے اطمینان کا سامان کیا گیا، عقل کو استعمال کرنے کی تاکید کی گئی اور غور وفکر پر اُبھارا گیا ہے۔ غوروفکر نہ کرنے پر مذمت کی گئی ہے، اس کے لیے مناسب ترین ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ غوروفکر کے راستے کی رکاوٹوں کو دُور کیا گیا ہے۔ بہتر طریقے سے غوروفکر کرنے کی تربیت کا انتظام رکھا گیا ہے، اور قرآن مجید کو غور وفکر کا ایسا زبردست سرچشمہ بنا دیا گیا ہے، جہاں غور وفکر کے بے شمار مواقع ہیں، اور جہاں سے غور وفکر کے بہت سے میدانوں کی راہیں ملتی ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں عقل کی مذمت نہیں ہے، ہر جگہ عقل کی تعریف ہے۔ کہیں عقل کے استعمال پر قدغن نہیں ہے، عقل کو استعمال کرنے کی پوری آزادی ہے۔ قرآن مجید نے عقل کو جتنا اُونچا مقام دیا ہے، اور جتنا اہم کام قرار دیا ہے، اتنا اونچا مقام اور اتنا اہم کام تو خود انسان اپنی عقل کو نہیں دے سکتا تھا۔ قرآن مجید کے کلام حق ہونے کی ایک بڑی دلیل اس کی حکمت دوستی اور عقل نوازی ہے۔
قرآن مجید کی ہر آیت دعوت وتربیت کی آیت ہے، ہر آیت دعوت وتربیت کے سفر کے لیے بہترین زاد راہ ہے۔ قرآن کی کوئی آیت خاموش نہیں ہے، ہر آیت بول رہی ہے۔ بات رکھنے کا سلیقہ، جواب دینے کا طریقہ، عقل کو مطمئن کرنے کا انداز، دل تک پیغام رسانی کا اسلوب، غرض ایک داعی اور ایک مربی کی بہترین تیاری کا سامان قرآن مجید کی سبھی آیتوں میں موجود ہے۔    مکی آیتیں داعی تیار کرتی ہیں، اور مدنی آیتیں مصلح اور مربی تیار کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی آیتوں میں ایک عظیم داعی اور ایک عظیم مربی صاف دکھائی دیتا ہے، وہی قرآن مجید کا مطلوبہ داعی اور     مربی ہے۔ قرآن مجید کے مطابق زندگی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی دعوتی گفتگو اور تگ ودو قرآن مجید میں نظر آتی ہے، اسی جیسی اس انسان کی زندگی میں بھی نظر آنے لگے۔
اس وقت قرآن مجید سے ہماری بہت زیادہ دوری کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہمارا حال قرآن مجید کی بنیادی خصوصیات سے یکسر عاری ہے۔ خود ملامتی میرے نزدیک بھی اچھی بات نہیں ہے، لیکن اپنے حال کا صحیح تجزیہ نہ کرنا اور جھوٹ میں گندھی ہوئی خاموشی کو اپنی زبانوں پر تھوپے رہنا اور بھی برا ہے۔ اپنے حال کو خود اپنی نگاہ کے سامنے بے نقاب کرنا اور خوش فہمی کی قبر سے خود کو باہر نکالنا ہی سمجھ داری ہے، اگر ہماری زندگی میں سمجھ داری کے لیے تھوڑی سی بھی جگہ ہے۔
ہم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں، لیکن ایمان کی ساری خصوصیات سے محروم ہیں۔ ہمارے ایمان میں نہ یقین ہے اور نہ اطمینان، نہ جذبہ ہے اور نہ تمنا، نہ وہ غفلت کا پردہ چاک کرتا ہے اور نہ بدعتوں سے روکتا ہے، نہ معروف کو عام کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور نہ منکر کو مٹانے کی ہمت دیتا ہے، نہ اعلان حق کی جرأت بیدار کرتا ہے، نہ آنسو کے سوتے جاری کرتا ہے، نہ کسی خطرے کا سامنا کرنے دیتا ہے، اورنہ کسی بھاری بوجھ کو اٹھانے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔ ایسے کمزور ایمان کے ساتھ تو دنیا کی کوئی مہم سر نہیں کی جاسکتی ہے، بھلا آخرت کا سفر کیسے طے کیا جاسکتا ہے!
جھوٹی اُمیدوں نے ہماری زندگی کو عمل سے بے زار بنادیا ہے۔ بے کاری اور بے عملی ہماری خراب پہچان بن گئی ہے۔ اچھے کاموں کی دوڑ میں ہم آگے نظر نہیں آتے۔ آسان اور تھوڑے سے اعمال کو بہت کافی سمجھ لیتے ہیں۔ بڑے اور بہترین کام، مشکل اور قربانیوں والے کام، فتوحات اور اللہ کو خوش کرنے والے کام، شیطان کو شکست دینے اور قوموں کی امامت والے کام، مختصر یہ کہ قرآن مجید میں کثرت سے نظر آنے والے کام ہماری زندگی میں کم سے کم ہی نظر آتے ہیں۔ مزید یہ کہ عمل کے بغیر جنّت میں چلے جانے کا ہمیں اس قدر یقین ہے، گویا ہمیں جنت کے مالکانہ حقوق حاصل ہیں۔
ہماری عقلیں نہ کائنات کی نشانیوں پر غور کرتی ہیں، اور نہ قرآن مجید کی آیتوں میں تدبر کرتی ہیں، نہ انسانوں کے مسائل پر سوچتی ہیں اور نہ اپنی عاقبت ہی کی فکر کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری عقلوں کے لیے اس دنیا میں کوئی مصرف ہی نہیں ہے۔ ہمارے رسم ورواج، ہماری عادات ومعمولات، ہمارا رویہ، ہماری عبادتیں، ہمارے تعلقات، غرض ہماری زندگی کے ہر ہر پہلو میں بے عقلی بلکہ عقل دشمنی جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ کیا ماجرا ہے کہ قرآن مجید نے جنھیں لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ کہا تھا وہ اس قدر قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ  ہوگئے۔
ہماری زندگی یوں تو ہر طرح سے جمود کا شکار ہے، مگر دعوت وتربیت کو تو ہماری سرگرمیوں میں بالکل بھی جگہ نہیں ملتی۔ ہم دوسروں سے متاثر اور مرعوب رہتے ہیں۔ ہم دوسروں کے بنائے ہوئے منصوبوں میں رنگ بھرنے کے کام آتے ہیں، دوسروں کے اٹھائے ہوئے ایشوز پر کام کرنے یا انھی کو دُہرانے کا کام کرتے ہیں، اور دوسروں کے چھیڑے ہوئے سُروں پر سر دُھنتے ہیں، نہ ہم اپنے ایشوز اٹھاتے ہیں اور نہ اپنے سُر چھیڑتے ہیں۔ غرض یہ کہ قرآنِ مجید تو ہم کو داعی بناتا ہے، مگر ہم مدعو بنے ہوئے ہیں۔ الیکشن میں کھڑے ہونے والے اُمیدواروں کے حواری ان کا جس قدر پرچار کرتے ہیں، کم از کم اتنا پرچار بھی اگر اللہ کے انصار اور رسول کے حواری نہیں کریں گے توپھر کیسے خیر امت قرار پائیں گے؟ مزید یہ کہ جو داعی اور مربی ہونے کے دعوے دار ہیں، بسااوقات ان کی دعوت وتربیت میں قرآن سے دوری اورلاتعلقی صاف نظر آتی ہے، اور کہیں سے نہیں لگتا کہ ان کی تربیت قرآن مجید کی آیات سے ہوئی ہے۔
قرآن مجید سے تربیت لینے والا انسان ایمان ویقین کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے، عمل کے میدان میں سب سے آگے ہوتا ہے، عقل وحکمت کے میدان کا بہترین شہسوار ہوتا ہے، اور اپنے مشن کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔ یہ چار اوصاف جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اسے عروج و ترقی کے قلعے یکے بعد دیگر فتح کرنے اور دنیا کی امامت کا تاج زیب سر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ ایسے ہی لوگ بلاشبہہ اہل القرآن ہوتے ہیں، اور وہی بے شک اہل اللہ بھی ہوتے ہیں۔

(بشکریہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، بانی سید ابوالاعلی مودودی ؒ ، تاریخ اشاعت :مارچ 2018 ء )