ام الکتاب ۔ (تفسیر سورۃ الفاتحۃ- 1/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(یہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تفسیر ترجمان القرآن سے ماخوز ہے ۔ سورۃ الفاتحۃ کی تفسیر الگ سے ام الکتاب کے نام  سے شائع ہوئی ۔ مولانا نے اس کو ایک اجنبی مسافر سے منسوب کیا )  

انتساب​

غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔

آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔

کہاں سے؟

سرحد پار سے۔۔

یہاں کب پہنچے؟

آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔

افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟

اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔

مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔

١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ

سورت کی اہمیت اور خصوصیات


یہ قرآن کی سب سے پہلی سورت ہے۔ اس لیے فاتحۃ الکتاب کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

جو بات زیادہ اہم ہوتی ہے، قدرتی طور پر پہلی اور نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ سورت قرآن کی تمام سورتوں میں خاص اہمیت رکھتی تھی، اس لیے قدرتی طور پر اس کی موزوں جگہ قرآن کے پہلے صفحے ہی میں قرار پائی۔ چنانچہ خود قرآن نے اس کا ذکر ایسے ہی لفظوں میں کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ (87:15)

اے پیغمبر ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی چیزیں عطا فرمائی اور قرآن عظیم۔

احادیث و آثار سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس آیت میں ’’ سات دہرائی جانے والی چیزوں‘‘ سے مقصود یہی سورت ہے کیونکہ یہ سات آیتوں کا مجموعہ ہے اور ہمیشہ نماز میں دہرائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کو سبع المثانی بھی کہتے ہیں۔

قرآنی استدلال کی ایک مثال

اس کے لیے ہم نےسورۃ الرعد کا انتخاب کیا ہے اس سورۃ میں اللہ تعالی نے بتایا کہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں وہی حق ہے،اس سورہ کی  ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف کائناتی حقائق سے توحید ، معاد اور رسالت کی حقانیت پر استدلال کیا گیا ، ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی قوائد سمجھائے گئے ہیں، ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں، اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کا مقصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں ، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے، اس لیے نرے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھیر کر طرح طرح سے تخویف، ترہیب، ترغیب ، اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگ اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں۔

دورانِ تقریر میں جگہ جگہ مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کئے بغیر ان کے جوابات دیے گئے ہیں، اور ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ اہلِ ایمان کو بھی  تسلی دی گئی ہے۔ 

مطالعہ اس طریقے سے کریں کہ سب پہلے ترجمہ پر غور فرمائیں شروع سے لیکر آخر تک پوری توجہ سے ایک مرتبہ  مطالعہ کریں اس کےبعد  مرکزی مضمون کو ذھن میں  رکھتے ہوئے دوبارہ غور فرمائیں اس طرح سورت کے مجموعی مطالب واضح ہونے کے بعد حاشیہ پر نظر ڈالیں اس کے لیے ترجمہ پر درج نمبر پر کلک کریں ۔ یہ ترجمہ  اور حاشیہ ہم نے مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کی آن لائن  تفہیم القرآن  سے انتخاب کیا ہے ۔

------------------------------------

ارشاد باری تعالی ہے : 

ا۔ل۔م۔ر، یہ کتاب الہٰی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر ﴿تمہاری قوم کے﴾ اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔1

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں2، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا3، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کاپابند بنایا۔4 اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے5 اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے6، شاید کہ تم اپنے ربّ کی ملاقات کا یقین کرو۔7

اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے۔8 ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیےجو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خِطّے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔9 انگور کے باغ ہیں،کھیتیاں ہیں، کھجُور کے درخت ہیں جن میں کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔10 سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔11

دنیا پرست آدمی کی مثال

ارشاد باری تعالی ہے ؛ 

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ  ، وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 

ترجمہ " اور اے محمد ﷺ  ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا،  مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔ آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتّے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں ۔  "

(سورۃ الاعراف : 175تا 176) 
---------------------------------------
مولانا مودودیؒ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" ان الفاظ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرور کوئی متعین شخص ہوگا جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کی یہ انتہائی اخلاقی بلندی ہے کہ وہ جب کبھی کسی کی برائی کو مثال میں پیش کرتے ہیں تو بالعموم اس کے نام کی تصریح نہیں کرتے بلکہ اس کی شخصیت پر پردہ ڈال کر صرف اس کی بری مثال کا ذکر کردیتے ہیں تاکہ اس کی رسوائی کیے بغیر اصل مقصد حاصل ہوجائے۔ اسی لیے نہ قرآن میں بتایا گیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں کہ وہ شخص جس کی مثال یہاں پیش کی گئی ہے، کون تھا۔ مفسرین نے عہد رسالت اور اس سے پہلے کی تاریخ کے مختلف اشخاص پر اس مثال کو چسپاں کیا ہے۔ کوئی بلعم بن باعوراء کا نام لیتا ہے، کوئی اُمیّہ بن ابی الصَّلت کا، اور کوئی صَیفی ابن الراہب کا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خاص شخص تو پردہ میں ہے جو اس تمثیل میں پیش نظر تھا، البتہ یہ تمثیل ہر اس شخص پر چسپاں ہوتی ہے جس میں یہ صفت پائی جاتی ہو ۔

وعدۂ الست یا عہد فطرت کیا ہے ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

 وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  ۭ قَالُوْا بَلٰي  شَهِدْنَا ، اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ،  اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ، وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ  

ترجمہ:  "  اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمارا رب نہیں ہوں؟"  انہوں نے کہا  "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں " ۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ  ہم اس بات سے بےخبر تھے یا یہ نہ کہنے لگو کہ " شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا" ۔  دیکھو، اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں ۔ اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں ۔ 

(سورۃ الاعراف : 133 تا 134)

--------------------------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں : 
اوپر کا سلسلہ بیان اس بات پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت کا عہد لیا تھا۔ اب عام انسانوں کی طرف خطاب کر کے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے، درحقیقت تم سب اپنے خالق کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں ایک روز جواب دہی کرنی ہے کہ تم نے اس میثاق کی کہاں تک پابندی کی ۔

جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا تھا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح پوری نسل آدم کو بھی، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت اُبَیّ بن کعب نے غالباً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے۔ وہ فرماتے ہیں :۔

اصحاب اعراف کون لوگ ہوں گے ؟

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ (سورۃ الاعراف  46؀۔ )

ترجمہ :" اور ان کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہٰں گے کہ آپ پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو، وہ اس میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن متوقع ہوں گے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار ہے : وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ، حجاب مراد جیسا کہ خود قراان کے دوسرے مقام سے واضح ہے، وہ دیور ہے جو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑی کردی جائے گی۔ سورۃ حدید میں ہے۔ فضرب بینہم بسور (حدید ۔14) (پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی) ایک ایسی دیوار کے طور و عرض کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم جنت اور سارے عالمِ دوزخ کے درمیان حد فاصل کا کام دے گا جب کہ صرف جنت کی وسعتوں کی تمثیل قراان نے آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے دی ہے۔ 

امت محمدی کے لے قبلہ کا تعین

مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ 


ارشاد باری تعالی ہے : 

"ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔149 جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رُخ﴿نماز کے وقت﴾ مسجدِ حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل بر حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رُخ مسجدِ حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔150 ہاں جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں151 اور اس توقع پر 152کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے جس طرح ﴿تہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ﴾ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہارے زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے ۔ لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو ، کفرانِ نعمت نہ کرو۔ "  (سورۃ البقرۃ : آیات 148 - 152)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حاشیہ نمبر :149

پہلے فقرے اور دُوسرے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے، جسے سامع خود تھوڑے سے غور و فکر سے بھر سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نماز جسے پڑھنی ہوگی، اسے بہرحال کسی نہ کسی سمت کی طرف رُخ کرنا ہی ہوگا۔ مگر اصل چیز وہ رُخ نہیں ہے، جس طرف تم مُڑتے ہو، بلکہ اصل چیز وہ بھلائیاں ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے تم نماز پڑھتے ہو۔ لہٰذا سَمْت اور مقام کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں فکر بھلائیوں کے حصُول ہی کی ہونی چاہیے۔

صَفَا اور مَرْوَہ کی سَعْی کی حقیقت


ارشاد باری تعالی ہے  : 

اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿سورۃ البقرۃ : ۱۵۸﴾

"یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لےاور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔" 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ تفسیر میں لکھتے ہیں :

ذُولحجّہ کی مقرر تاریخوں میں کعبے کی جو زیارت کی جاتی ہے، اس کا نام حج ہے اور ان تاریخوں کے ماسوا دُوسرے کسی زمانے میں جو زیارت کی جائے ، وہ عُمْرَہ ہے۔

“صَفَا اور مَرْوَہ مسجدِ حرام کے قریب دو پہاڑیاں ہیں، جن کے درمیان دَوڑنا منجملہ اُن مَناسِک کے تھا، جو اللہ تعالیٰ نے حج کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کو سکھائے تھے۔ بعد میں جب مکّے اور آس پاس کے تمام علاقوں میں مُشرکانہ جاہلیّت پھیل گئے، تو صَفَا پر ”اِساف“ اور مَرْوَہ پر ”نائلہ“ کے استھان بنا لیے گئے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اسلام کی روشنی اہلِ عرب تک پہنچی ، تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صَفَا اور مَرْوَہ کی سَعْی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا محض زمانہء شرک کی ایجاد ہے، اور یہ کہ سَعْی سے کہیں ہم ایک مشرکانہ فعل کے مرتکب تو نہیں ہوجائیں گے۔ 

حضرت ابراھیم ؑ کا وصیت نامہ - مولانا وحید الدین خاں

سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 130 تا 134:

ارشاد باری تعالی ہے :

"اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند نہ کرے، مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کردو تو اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا۔ اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ پس ایمان کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت نہ آئے۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔ انھوں نے کہا ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء- ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کرتے آئے ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں ۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے اعمال کی پوچھ نہ ہوگی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود ، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی  جس دین ابراہیمی کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ "اسلام" تھا۔ یعنی اللہ کے لیے کامل حوالگی و سپردگی۔ قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انہوں نے اسی کی وصیت کی۔ اس کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جو دین منسوب کر رکھا تھا اس میں حوالگی و سپردگی کا کوئی سوال نہ تھا۔ اس میں آزادانہ زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہوجاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دارومدار تمام تر عمل پر تھا، جب کہ یہود نے اللہ کے مقبول بندوں کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لیے کافی سمجھ لیا تھا۔ اول الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایات کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گروہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔ 

ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کرکے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کیکمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہوجائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انہوں نے نجات متوارث کا عقیدہ وضع کرلیا۔ انہوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر ایک کے آگے وہی آئے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کو دوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کیے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ "تم نہ مرنا مگر اسلام پر" یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی، تمہاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا ۔ (1) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1-  تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں 

حضرت ابراھیم ؑ اور بعثت محمد ﷺ- مولانا وحید الدین خاں

خانہ کعبہ 

ارشاد باری تعالی ہے : 

" اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ اور امن کا مقام ٹھیرایا۔ اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں، پھلوں کی روزی عطا فرما۔ اللہ نے کہا جو انکار کرے گا، میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔" سورۃ البقرۃ ؛ تفسیر آیات 125 تا 126:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ساری دنیا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لیے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طور پر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے۔ اور اللہ کے لیے رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں ریتلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتاہائی طور پر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار برس پہلے حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسا دو۔ حضرت ابراہیم نے ادنی تامل کے بغیر اس کی تعمیل کی۔ اور جب خاندان کو اس بے آب و گیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی کہ خدا یا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن و امان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لیے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے ۔

صلوۃ خوف اور قصر کی شرعی حیثیت

صلوۃ خوف اور  قصر کا حکم درج ذیل آیات سے مشروع ہیں ، ارشاد باری تعالی ہے : 

"اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کردو ﴿خصوصاً﴾ جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کُھلم کُھلّا تمہاری دُشمنی پر تُلے ہوئے ہیں۔

اور اے نبی ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور ﴿حالتِ جنگ میں﴾ انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اسلحہ لیے رہے، پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دُوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنّا رہےاور اپنے اسلحہ لیے رہے، کیوں کہ کفّار اِس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یک بارگی ٹوٹ پڑیں۔ البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں، مگر پھر بھی چوکنّے رہو، یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رُسوا کُن عذاب مہیّا کررکھا ہے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پُوری نماز پڑہو۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیِ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔۔"  (سورۃ النساء : 101 تا 103

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

"زمانۂ امن کے سفر میں قصر یہ ہے کہ جن اوقات کی نماز میں چار رکعتیں فرض ہیں ان میں دو رکعتیں پڑھی جائیں۔ اور حالتِ جنگ میں قصر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ جنگی حالات جس طرح بھی اجازت دیں ، نماز پڑھی جائے۔ جماعت کا موقع ہو تو جماعت سے پڑھو ورنہ فرداً فرداً ہی سہی۔ قبلہ رُخ نہ ہو سکتے ہو تو جدھر بھی رُخ ہو ۔ سواری پر بیٹھے ہوئے اور چلتے ہوئے بھی پڑھ سکتے ہو۔ رکوع و سجدہ ممکن نہ ہو تو اشارہ ہی سے سہی۔ ضرورت پڑے تو نماز ہی کی حالت میں چل بھی سکتے ہو۔ کپڑوں کو خون لگا ہوا ہو تب بھی مضائقہ نہیں۔ ان سب آسانیوں کے باوجود اگر ایسی پر خطر حالت ہو کہ کسی طرح نماز نہ پڑھی جا سکے تو مجبوراً مؤخر کی جائے جیسے جنگِ خندق کے موقع پر ہوا۔

سورۃ التکاثر : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  پہلی آیت کے لفظ التکاثر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :


ابو حیان اور شوکانی کہتے ہیں کہ یہ تمام مفسرین کے نزدیک مکی ہے اور امام سیوطی کا قول ہے کہ مشہور ترین بات یہی ہے کہ یہ مکی ہے، لیکن بعض روایات ایسی ہیں جن کی بنا پر اسے مدنی کہا گیا ہے، اور وہ یہ ہیں :


ابن ابی حاتم نے ابو بریدہ (رض) کی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت انصار کے دو قبیلوں بنی حارثہ اور بنی الحرث کے بارے میں نازل ہوئی۔ دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں پہلے اپنے زندہ آدمیوں کے مفاخر بیان کیے، پھر قبرستان جا کر اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں کے مفاخر پیش کیے۔ اس پر یہ ارشاد الٰہی نازل ہوا کہ "الھٰکم التکاثر لیکن شان نزول کے بارے میں صحابہ و تابعین کا جو طریقہ تھا، اس کو اگر نگاہ میں رکھا جائے تو یہ روایت اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ سورۃ تکاثر اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں قبیلوں کے اس فعل پر یہ سورت چسپاں ہوتی ہے۔


امام بخاری اور ابن جریر نے حضرت ابی بن کعب (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کو کہ "لو ان لابن ادم وادیین من مال التمنی وادیا ثالثا ولا یملأ جوف ابن ادم الا التراب۔ (اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا)، قرآن میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ "الھٰکم التکاثر نازل ہوئی"۔ اس حدیث کو سورۃ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ حضرت ابی مدینے میں مسلمان ہوئے تھے۔ مگر حضرت ابی کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ صحابہ کرام کس معنی میں حضور {{درود}] کے ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ اسے قرآن کی آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے، کیونکہ صحابہ کی عظیم اکثریت ان اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف حرف سے واقف تھے، ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے اور اگر قرآن میں سے ہونے کا مطلب قرآن سے ماخوذ ہونا لیا جائے تو اس روایت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینۂ طیبہ میں جو اصحاب داخل اسلام ہوئے تھے انہوں نے جب پہلی مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے یہ سورت سنی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے، اور پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مذکورۂ بالا ارشاد کے متعلق ان کو یہ خیال ہوا کہ وہ اسی سورت سے ماخوذ ہے۔ ابن جریر، ترمذی اور ابن المنذر وغیرہ محدثین نے حضرت علی (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں پڑے رہے ہیں یہاں تک کہ "الھٰکم التکاثر نازل ہوئی" اس کو سورۃ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ عذاب قبر کا ذکر مدینے میں ہی ہوا تھا، مکہ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ بات غلط ہے۔ قرآن کی مکی سورتوں میں بکثرت مقامات پر قبر کے عذاب کا ایسے صریح الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے کہ شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعام آیت 93، النحل 28، المومنون 99 – 100، المومن 45 – 46۔ یہ سب مکی سورتیں ہیں۔ اس لیے حضرت علی (رض) کے ارشاد سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ یہ ہے کہ مذکورۂ بالا مکی سورتوں کے نزول سے پہلے سورۃ تکاثر نازل ہوچکی تھی، اور اس کے نزول نے عذاب قبر کے بارے میں صحابہ کے شک کو دور کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان روایات کے باوجود مفسرین کی عظیم اکثریت اس کے مکی ہونے پر متفق ہے۔ یہ سورت صرف مکی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا مضمون اور انداز بیان یہ بتا رہا ہے کہ یہ مکے کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون :


اس میں لوگوں کو اس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گيا ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذتیں اور جاہ و اقتدار حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے، اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس ایک فکر نے ان کو اس قدم منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بےفکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے میں تم کو آخرت میں جواب دہی کرنی ہوگی۔

سورۃ الکوثر : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  انآ اعطینٰک الکوثر کے لفظ الکوثر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔


زمانۂ نزول :


ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن الزبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے، کلبی اور مقاتل بھی اسے مکی کہتے ہیں اور جمہور مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ لیکن حضرت حسن بصری، عکرمہ، مجاہد اور قتادہ اس کو مدنی قرار دیتے ہیں۔ امام سیوطی نے اتقان میں اسی قول کو صحیح ٹھیرایا ہے، اور امام نووی نے شرح مسلم میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ وجہ اس کی وہ روایت ہے جو امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ محدثین نے حضرت انس بن مالک سے نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟


اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۃ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔ اس روایت سے اس سورۃ کے مدنی ہونے پر اس وجہ سے استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت انس (رض) مکہ میں نہیں بلکہ مدینے میں تھے، اور ان کا یہ کہنا کہ ہماری موجودگی میں یہ سورت نازل ہوئی، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مدنی ہے۔ مگر اول تو انہی حضرت انس سے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور ابن جریر نے یہ روایات نقل کی ہیں کہ جنت کی یہ نہر (کوثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو معراج میں دکھائی جا چکی تھی، اور سب کو معلوم ہے کہ معراج ہجرت سے پہلے مکہ میں ہوئی تھی۔ دوسرے، جب معراج میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ کی نہ صرف خبر دی جا چکی تھی بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا گیا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ حضور کو اس کی خوشخبری دینے کے لیے مدینۂ طیبہ میں سورۃ کوثر نازل کی جاتی۔ تیسرے، اگر صحابہ کے ایک مجمع میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود سورۃ کوثر کے نزول کی خبر دی ہوتی جو حضرت انس (رض) کی مذکورۂ بالا روایت میں بیان ہوئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلی مرتبہ یہ سورت اسی وقت نازل ہوئی ہے، تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) جیسے باخبر صحابہ اس سورت کو مکی قرار دیتے اور جمہور مفسرین اس کے مکی ہونے کے قائل ہوجاتے؟ اس معاملہ پر غور کیا جائے تو حضرت انس کی روایت میں خلا صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس میں یہ تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے کہ جس مجلس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس میں پہلے سے کیا گفتگو چل رہی تھی۔ ممکن ہے کہ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مسئلے پر کچھ ارشاد فرما رہے ہوں، اس کے دوران میں وحی کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا ہو کہ اس مسئلے پر سورۃ کوثر سے روشنی پڑتی ہے، اور آپ نے اسی بات کا ذکر یوں فرمایا ہو کہ مجھ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کے واقعات متعدد مواقع پر پیش آئے ہیں جن کی بنا پر مفسرین نے بعض آیات کے متعلق کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں۔ اس دوسرے نزول کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ آیت تو پہلے نازل ہوچکی تھی، مگر دوسری بار کسی موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعۂ وحی اسی آیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ایسی روایات میں کسی آیت کے نزول کا ذکر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ وہ مکی ہے یا مدنی، اور اس کا اصل نزول فی الواقع کسی زمانے میں ہوا تھا۔ حضرت انس (رض) کی یہ روایت اگر شک پیدا کرنے کی موجب نہ ہو تو سورۃ کوثر کا پورا مضمون بجائے خود اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ میں نازل ہوئی تھی اور اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انتہائی دل شکن حالات سے سابقہ درپیش تھا۔

تاریخی پس منظر :


اس سے پہلے سروۂ ضحٰی اور سورۃ الم نشرح میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ نبوت کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے، پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی، مزاحمتوں کے پہاڑ راستے میں حائل تھے، مخالفت کا طوفان ہر طرف برپا تھا، اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور تک کہیں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے تھے، اس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔ سورۃ ضحٰی میں فرمایا


” اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں وہ کچھ دے گا جس سے تم خوش ہوجاؤ گے “


اور الم نشرح میں فرمایا ” اور ہم نے تمہارا آوازہ بلند کردیا “


یعنی دشمن تمہیں ملک بھر میں بدنام کرتے پھر رہے ہیں مگر ہم نے ان کے علی الرغم تمہارا نام روشن کرنے اور تمہیں ناموری عطا کرنے کا سامان کردیا ہے اور


” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، یقیناً تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “


یعنی اس وقت حالات کی سختیوں سے پریشان نہ ہو، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں کا دور آنے ہی والا ہے۔


ایسے ہی حالات تھے جن میں سورۃ کوثر نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشینگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں اور ان کی حیثیت ایک بےکس اور بےیار و مددگار انسان کی سی ہوگئی ہے۔ 

عکرمہ کی روایت ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہوگئے ہیں جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقع یہی ہے کہ کچھ مدت بعد وہ سوکھ کر پیوند خاک ہوجائیں گے" حوالہ : ابن جریر۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مکہ کے سردار عاص بن وائل سہمی کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا "اجی چھوڑو انہیں، وہ تو ایک ابتر (جڑ کٹے) آدمی ہیں، ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں، مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لیوا بھی نہ ہوگا"۔ شمر بن عطیہ کا بیان ہے کہ عقبہ بن ابی معیط بھی ایسی ہی باتیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کہا کرتا تھا حوالہ : ابن جریر۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک دفعہ کعب بن اشرف (مدینہ کا یہودی سردار) مکہ آیا تو قریش کے سرداروں نے اس سے کہا "بھلا دیکھو تو سہی، اس لڑکے کو جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے بہتر ہے، حالانکہ ہم حج اور سدانت اور سقایات کے منتظم ہیں حوالہ : بزار۔ اسی واقعہ کے متعلق عکرمہ کی روایت یہ ہے کہ قریش والوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے "کمزور، بےیار و مددگار اور بےاولاد آدمی جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے" کے الفاظ استعمال کیے تھے حوالہ : ابن جریر۔ ابن سعد اور ابن عساکر کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے صاحب زادے قاسم (رض) تھے، ان سے چھوٹی حضرت زینب (رض) تھیں، ان سے چھوٹے حضرت عبد اللہ (رض) تھے، پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں ام کلثوم، فاطمہ اور رقیہ (رض) تھیں۔ ان میں سے پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہوا، پھر حضرت عبد اللہ نے بھی وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا کہ "ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اب وہ ابتر ہیں" (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔

 بعض روایات میں یہ اضافہ ہے کہ عاص نے کہا "محمد ابتر ہیں، ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے جو ان کا قائم مقام بنے، جب وہ مر جائیں گے تو ان کا نام دنیا سے مٹ جائے گا اور ان سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا"۔ عبد بن حمید نے ابن عباس (رض) کی جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے عبد اللہ کی وفات پر ابو جہل نے بھی ایسی ہی باتیں کہی تھیں۔ شمر بن عطیہ سے ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس غم پر خوشی مناتے ہوئے ایسے ہی کمینہ پن کا مظاہرہ عقبہ بن ابی معیط نے کیا تھا۔ عطاء کہتے ہیں کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا چچا ابو لہب (جس کا گھر بالکل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے متصل تھا) دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور ان کو یہ "خوشخبری" دی کہ "آج رات محمد لا ولد ہوگئے یا ان کی جڑ کٹ گئی" یہ تھے وہ انتہائی دلشکن حالات جن میں سورۃ کوثر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے تھے کہ آپ صرف اللہ ہی کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے علانیہ رد کردیا تھا۔

 اسی وجہ سے پوری قوم میں جو مرتبہ و مقام آپ کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔ آپ کے چند مٹھی بھر ساتھی بھی سب بےیار و مددگار تھے اور مارے کھدیڑے جا رہے تھے۔ اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے بجائے وہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی باتیں تھیں جس نے اپنے تو اپنے غیروں تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مختصر ترین سورت کے ایک فقرے میں وہ خوش خبری دی ہے جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔

سورۃ الکافرون : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت قل یایھا الکٰفرون کے لفظ الکافرون کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :


حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حسن بصری اور عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ سورت مکی ہے، حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مدنی ہے، اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مکی سورت ہے اور اس کا مضمون خود اس کے مکی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔


تاریخی پس منظر :


مکۂ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہوچکا تھا، لیکن ابھی قریش کے سردار اس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا۔

 اس لیے وقتاً فوقتا وہ آپ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے تاکہ آپ ان میں سے کسی کو مان لیں اور وہ نزاع ختم ہوجائے جو آپ کے اور ان کے درمیان رونما ہوچکی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم آپ کو اتنا مال دیے دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی برائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپ کو منظور نہیں، تو ہم ایک اور تجویز آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبودوں لات اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھا، ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی درجہ میں بھی اس تجویز کو قابل قبول کیا معنی قابل غور بھی سمجھتے تھے، اور آپ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری آ جائے۔ بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بےجا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے، مگر وہ خود صاف انکار کر دینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں سے کہے کہ میں آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں، جو کچھ وہاں سے جواب آئے گا وہ آپ کو بتا دوں گا۔ اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کر دے تو لوگوں کا اصرار رہتا ہے لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت کا جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہوجاتے ہیں۔ بہرحال اس پر وحی نازل ہوئی "قل یایھا الکٰفرون ۔۔۔ اور یہ کہ "ان سے کہو، اے نادانو! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں" (الزمر، آیت 64) حوالہ ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی۔ ابن عباس (رض) کی ایک اور روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا "اے محمد، اگر تم ہمارے معبود بتوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔" اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ حوالہ عبد بن حمید سعید بن میناء (ابو البحتری کے آزاد کردہ غلام) کی روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے اور آپ سے کہا "اے محمد، آؤ ہم تمہارے معبود کی عبادت کرتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں میں تمہیں شریک کیے لیتے ہیں۔ اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اس سے پا لیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اس سے بہتر ہوئی جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ اس میں شریک ہو گے اور اس سے اپنا حصہ پا لو گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی قل یایھا الکٰفرون حوالہ ابن جریر و ابن ابی حاتم۔ ابن ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر آپ پسند کریں تو ایک سال ہم آپ کے دین میں داخل ہوجائیں اور ایک سال آپ ہمارے دین میں داخل ہوجایا کریں حوالہ عبد بن حمید۔ ابن ابی حاتم ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفار قریش نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں اور اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے کر ان کی اس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کے معاملے میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر ان سے کوئی مصالحت کرلیں گے۔


موضوع اور مضمون :



اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں، بلکہ اس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفار کے دین اور ان کی پوجا پاٹ اور ان کے معبودوں سے قطعی براءت، بیزاری اور لا تعلقی کا اعلان کردیا جائے اور انہیں بتا دیا جائے کہ دین کفر اور دین اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، ان کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتداءً قریش کے کفار کو مخاطب کر کے ان کی تجاویز مصالحت کے جواب میں کہی گئی تھی، لیکن یہ انہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے قرآن میں درج کر کے تمام مسلمانوں کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دین کفر جہاں جس شکل میں بھی ہے ان کو اس سے قول اور عمل میں براءت کا اظہار کرنا چاہیے اور بلا رو رعایت کہہ دینا چاہیے کہ دین کے معاملے میں وہ کافروں سے کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت نہیں کرسکتے۔ اسی لیے یہ سورت اس وقت بھی پڑھی جاتی رہی جب وہ لوگ مر کھپ گئے تھے جن کی باتوں کے جواب میں اسے نازل فرمایا گیا تھا، اور وہ لوگ بھی مسلمان ہونے کے بعد اسے پڑھتے رہے جو اس کے نزول کے وقت کافر و مشرک تھے، اور ان کے گزر جانے کے صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لا تعلقی ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں اس سورت کی کیا اہمیت تھی، اس کا اندازہ ذیل کی چند احادیث سے کیا جا سکتا ہے : حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے بارہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں میں قل یایھا الکٰفرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے دیکھا ہے۔ (اس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، ترمذی، نسائی ابن ماجہ، ابن حبان اور ابن مردویہ نے ابن عمر (رض) سے نقل کی ہیں)۔ حضرت خباب (رض) کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹو تو قل یایھا الکٰفرون پڑھ لیا کرو" حوالہ ابو یعلٰی طبرانی حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا سوتے وقت قل یایھا الکٰفرون پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے حوالہ بیہقی فی الشعب فروہ بن نوفل اور عبد الرحمٰن بن نوفل، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہ (رض) الاشجعی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قل یایھا الکٰفرون آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے حوالہ مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ابی شیبہ، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بن حارثہ کے بھائی حضرت جبلہ بن حارثہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا حوالہ مسند احمد، طبرانی


سورۃ الاخلاص : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون فضیلت اور اہمیت - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  الاخلاص اس سورۃ کا محض نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے، کیونکہ اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو، لیکن اس سورۃ میں لفظ اخلاص کہیں وارد نہیں ہوا ہے، اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے، جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔

زمانہ نزول :


اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف ان روایات کی بنا پر ہے جو اس کے سبب نزول کے بارے میں منقول ہوئی ہیں۔ ذیل میں ہم ان کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں ۔


(١) حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (طبرانی)


(٢) ابو العالمیہ نے حضرت ابی بن کعب کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی (مسند احمد، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ترمذی، بخاری فی التاریخ، ابن المنذر، حاکم، بیہقی) ترمذی نے اسی مضمون کی ایک روایت ابو العالیہ سے نقل کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعب کا حوالہ نہیں ہے اور اسے صحیح تر کہا ہے۔


(٣) حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے (اور بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، طبرانی فی الاوسط، بیہقی، ابو نعیم فی الحلیہ)


(٤) عکرمہ نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب وغیرہ شامل تھے اور انہوں نے کہا " اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بتائیے کہ آپ کا وہ رب کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے"۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (ابن ابی حاتم، ابن عدی، بیہقی فی الاسماء والصفات)


ان کے علاوہ مزید چند روایات ابن تیمیہ نے اپنی تفسیر سورۃ اخلاص میں نقل کی ہیں جو یہ ہیں :


(٥) حضرت انس کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا " اے ابو القاسم، اللہ نے ملائکہ کو نور حجاب سے، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں سے، اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے)"۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے کہا اے محمد، ان سے کہیے هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔


(٦) عامر بن الطفیل نے حضور سے کہا " اے محمد، آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا " اچھا تو اس کی کیفیت مجھے بتائیے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا لوہے سے" ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔


(٧) ضحاک اور قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضور کے پاس آئے اور انہوں نے کہا " اے محمد، اپنے رب کی کیفیت ہمیں بتائیے، شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں نازل کی ہے۔ آپ بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ کس جنس سے ہے؟ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے، یا پیتل سے یا لوہے سے، یا چاندی سے؟ اور کیا وہ کھاتا اور پیتا ہے؟ اور کس سے اس نے دنیا وراثت میں پائی ہے اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا ؟" اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔


(٨) ابن عباس کی روایت ہے کہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سات پادریوں کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضور سے کہا " ہمیں بتائیے آپ کا رب کیسا ہے، کس چیز سے بنا ہے"؟ آپ نے فرمایا میرا رب کس چیز سے نہیں بنا ہے، وہ تمام اشیاء سے جدا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔


ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس معبود کی ماہیت اور کیفیت دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے، اور ہر موقع پر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو جواب میں یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکہ میں قریش کے مشرکین نے آپ سے کیا اور اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مدینہ طیبہ میں کبھی یہودیوں نے، کبھی عیسائیوں نے، اور کبھی عرب کے دوسرے لوگوں نے حضور سے اسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ جواب میں یہی سورت آپ ان کو سنا دیں۔ ان روایات میں سے ہر ایک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، اس سے کسی کو یہ خیال نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں باہم متضاد ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورۃ نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں جب کبھی حضور کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجاتی تھی کہ اس کا جواب فلاں آیت یا فلاں سورۃ میں ہے، یا اس کے جواب میں وہ آیت یا سورۃ لوگوں کو پڑھ کر سنا دی جائے۔ احادیث کے راوی اس چیز کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جب فلاں معاملہ پیش آیا، یا فلاں سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورۃ نازل ہوئی۔ اس کو تکرار نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ایک آیت یا سورۃ کا کئی مرتبہ نازل ہونا۔


پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورۃ دراصل مکی ہے بلکہ اس کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بیان میں قرآن کی مفصل آیات ابھی نازل نہیں ہوئی تھیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت الی اللہ کو سن کر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر آپ کا وہ رب ہے کیسا جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورت ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مکہ میں جب حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف ان کو دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بڑا سا پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ اَحَدٌ اَحَدٌ پکارتے تھے۔ یہ لفظ احد اسی سورۃ سے ماخوذ تھا۔

موضوع اور مضمون :


شان نزول کے بارے میں جو روایات اوپر درج کی گئی ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توحید کی دعوت لے کر اٹھے تھے اس وقت دنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ بت پرست مشرکین ان خداؤں کو پوج رہے تھے جو لکڑی، پتھر، سونے، چاندی وغیرہ مختلف چیزوں کے بنے ہوئے تھے۔ شکل، صورت اور جسم رکھتے تھے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی باقاعدہ نسل چلتی تھی۔ کوئی دیوی بےشوہر نہ تھی اور کوئی دیوتا بےزوجہ نہ تھا۔ ان کو کھانے پینے کی ضرورت بھی لاحق ہوتی تھی اور ان کے پرستار ان کے لیے اس کا انتظام کرتے تھے۔ مشرکین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں ظہور کرتا ہے اور کچھ لوگ اس کے اوتار ہوتے ہیں۔ عیسائی اگرچہ ایک خدا کو ماننے کے مدعی تھے، مگر ان کا خدا بھی کم از کم ایک بیٹا تو رکھتا ہی تھا، اور باپ بیٹے کے ساتھ خدائی میں روح القدس کو بھی حصہ دار ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حتی کہ خدا کی ماں بھی ہوتی تھی اور اس کی ساس بھی۔ یہودی بھی ایک خدا کو ماننے کا دعوی کرتے تھے، مگر ان کا خدا بھی مادیت اور جسمانیت اور دوسری انسانی صفات سے خالی نہ تھا، وہ ٹہلتا تھا، انسانی شکل میں نمودار ہوتا تھا، اپنے کسی بندے کشتی بھی لڑ لیتا تھا۔ اور ایک عدد بیٹے (عزیر) کا باپ بھی تھا۔ ان مذہبی گروہوں کے علاوہ مجوسی آتش پرست تھے اور صابئی ستارہ پرست۔ اس حالت میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو ماننے کی دعوت لوگوں کو دی گئی تو ان کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا کہ وہ سب ہے کس قسم کا جسے تمام ارباب اور معبودوں کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی رب اور معبود تسلیم کرنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے ان سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کردیا جو تمام مشرکانہ تصورت کا قلع قمع کردیتا ہے اور اس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دیتا۔

فضیلت اور اہمیت :


یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں اس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اس کو پڑھیں اور عوام الناس میں اسے پھیلائیں، کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے (توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کردیتی ہے جو فورا انسان کے ذہن نشین ہوجاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضور نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، طبرانی وغیرہ میں اس مضمون کی متعدد احادیث ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدرداء، معاذ بن جبل، جابر بن عبداللہ، ابی بن کعب، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط، ابن عمر، ابن مسعود، قتادہ بن النعمان، انس بن مالک اور ابو مسعود (رض) سے منقول ہوئی ہیں۔ مفسرین نے حضور کے اس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اس کی بنیاد تین عقیدے ہیں۔ ایک توحید، دوسرے رسالت، تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔


حضرت عائشہ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صاحب کو ایک مہم پر سردار بنا پر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں ان کا مستقل طریقہ یہ رہا کہ ہر نماز میں وہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔ پر قرأت ختم کرتے تھے۔ واپسی پر ان کے ساتھیوں نے حضور سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں رحمان کی صفت بیان کی گئی ہے اس لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ حضور نے یہ بات سنی تو لوگوں سے فرمایا اخبروہ ان اللہ تعالیٰ یحبہ " ان کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ انہیں محبوب رکھتا ہے"۔


اسی سے ملتا جلتا واقعہ بخاری میں حضرت انس سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک صاحب قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھتے، پھر کوئی اور سورت تلاوت کرتے۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان سے کہا کہ یہ تم کیا کرتے ہو کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اس کے ساتھ ملا لیتے ہو؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یا تو صرف اسی کو پڑھو اور یا اسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھو۔ انہوں نے کہا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ تم چاہو تو میں تمہیں نماز پڑھاؤں ورنہ امامت چھوڑ دوں۔ لیکن لوگ ان کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آخر کار معاملہ حضور کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے ان سے پوھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اسے قبول کرنے میں تم کو کیا امر مانع ہے؟ تمہیں ہر رکعت میں یہ سورت پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ آپ نے فرمایا حبک ایاھا ادخلک الجنۃ " اس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا"۔

مُعَوِّذَتَیُن : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون، معوذتین کی قرآنیت - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ



نام : قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کو مشترکہ طور پر مُعَوِّذَتَیُن کہا جاتا ہے۔


اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں، اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام "مُعَوِّذَتَیُن" (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام معوذتین ہے۔ ہم یہاں دونوں پر ایک ہی مضمون لکھ رہے ہیں کیونکہ ان سے متعلقہ مسائل و مباحث بالکل یکساں ہیں ۔

زمانۂ نزول :


حضرت حسن بصری، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ مگر ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) اور قتادہ کا بھی ہے۔ اس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک مسلم، ترمذی، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روز مجھ سے فرمایا :


” الم تر اٰیاتٍ اُنزلَت اللیلۃ، لم یُرَ مثلھن، اَعُوُذُ بَرَبّ الُفَلَق، اَعُوذ بِرَبِ النَّاس - تمہیں کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں؟ یہ بےمثل آیات ہیں۔ اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ الناس “


یہ حدیث اس بنا پر ان سورتوں کے مدنی ہونی کی دلیل ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود ان کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ دوسری روایات جو اس قول کی تقویت کی موجب بنی ہیں وہ ابن سعد، مُحیّ السُّنّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَہَیقَی، حافظ ابن حَجَر، حافظ بدر الدین عینی، عَبُدبن حمیّد وغیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں کہ جب مدینے میں یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تھے اس وقت یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ابن سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سنہ 7 ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عُیَینَہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔


لیکن جیسا کہ سورۃ الاخلاص کے مضمون میں بیان ہوچکا ہے کہ کسی سورۃ یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازما یہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہوچکی تھی، اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورت حال پیش آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ معوذتین کا بھی ہے۔ ان کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ ابتداءً مکہ میں اس وقت نازل ہوئی ہوں گی جب وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں جب مدینہ طیبہ میں منافقین، یہود، اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پھر انہی دونوں سورتوں کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا اور آپ کی علالت مزاج نے شدت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے آکر پھر یہی سورتیں پڑھنے کی آپ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مفسرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو ان دونوں سورتوں کو مکی قرار دیتے ہیں۔ جادو کے معاملہ کے ساتھ ان کو مخصوص سمجھنے میں تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اس کے ساتھ صرف سورۃ فلق کی صرف ایک آیت وَمِنُ شَرِّ النّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے، سورۃ فلق کی باقی آیات اور پوری سورۃ الناس کا اس معاملہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

موضوع اور مضمون :


مکۂ معظمہ میں یہ دونوں سورتیں جن حالات میں نازل ہوئی تھیں وہ یہ تھے کہ اسلام کی دعوت شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ جوں جوں آپ کی دعوت پھیلتی گئی، کفار قریش کی مخالفت بھی شدید ہوتی چلی گئی۔ جب تک انہیں یہ امید رہی کہ شاید وہ کسی طرح کی سودے بازی کر کے، یا بہلا پھسلا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کام سے باز رکھ سکیں گے، اس وقت تک تو پھر بھی عناد کی شدت میں کچھ کمی رہی۔ لیکن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس طرف سے بالکل مایوس کردیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ دین کے معاملہ میں کوئی مصالحت کرنے پر آمادہ ہوسکیں گے، اور سورۃ کافرون میں صاف صاف ان سے کہہ دیا گیا کہ جن کی بندگی تم کرتے ہو ان کی بندگی کرنے والا میں نہیں ہوں، اور جس کی بندگی میں کرتا ہوں اس کی بندگی کرنے والے تم نہیں ہو، اس لیے میر راستہ الگ ہے اور تمہارا راستہ الگ، تو کفار کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خصوصیت کے ساتھ جن خاندانوں کے افراد (مردوں یا عورتوں، لڑکوں یا لڑکیوں) نے اسلام قبول کرلیا تھا ان کے دلوں میں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہر وقت بھٹیاں سلگتی رہتی تھیں۔ گھر گھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کو سا جارہا تھا۔ خفیہ مشورے کیے جارہے تھے کہ کسی وقت رات کو چھپ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیا جائے تاکہ بنی ہاشم کو قاتل کا پتہ نہ چل سکے اور بدلہ نہ لے سکیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جادو ٹونے کیے جارہے تھے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا تو وفات پاجائیں یا سخت بیمار پڑجائیں، یا دیوانے ہوجائیں۔ شیاطین جن و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہوکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور بھاگنے لگیں۔ بہت سے لوگوں کے دلوں میں حسد کی آگ بھی جل رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے سوا، یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا، دوسرے کسی شخص کا چراغ جلتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر، ابو جہل جس بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں حد سے بڑھتا چلا جاتا تھا اس کی وجہ وہ خود یہ بیان کرتا ہے کہ {{اقتباس| ہمارا اور بنی عبد مناف (یعنی رسول اللہ کے خاندان) کا باہم مقابلہ تھا۔ انہوں نے کھانے کھلائے تو ہم نے بھی کھلائے۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دیے تو ہم نے بھی دیے۔ یہاں تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں برابر کی ٹکر ہوگئے تو اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔ بھلا اس میدان میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ خدا کی قسم ہم ہرگز اس کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے


ان حالات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں طلوع صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادو گروں اور جادو گرنیوں کے شر سے، اور حاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے خواہ وہ شیاطین جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں ان کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا


اِنِّی عُذُتُ بِرَبّیِ وَرَبِّکُم مِن کُلِّ مُتکبّرٍ لَّا یؤمِنُ بِیَوم الحِسَابِ


میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا— القرآن سورۃ المؤمن :27


وَاِنِّی عُذتُ بَربِّی وَرَبکم اَن تَرُجُمُونِ


اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو— القرآن سورۃ الدخان :20


دونوں مواقع پر اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا مقابلہ بڑی بےسر وسامانی کی حالت میں بڑے سرو سامان اور وسائل و ذرائع اور قوت و شوکت رکھنے والوں سے تھا۔ دونوں مواقع پر وہ طاقتور دشمنوں کے آگے اپنی دعوت حق پر ڈٹ گئے درانحالیکہ ان کے پاس کوئی مادی طاقت ایسی نہ تھی جس کے بل پر وہ ان کا مقابلہ کرسکتے۔ اور دونوں مواقع پر انہوں نے دشمنوں کی دھمکیوں اور خطرناک تدبیروں اور معاندانہ چالوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا کہ تمہارے مقابلے میں ہم نے رب کائنات کی پناہ لے لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اولوالعزمی اور ثابق قدمی وہی شخص دکھا سکتا ہے جس کو یہ یقین ہو کہ اس رب کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہیں، اور اس کی پناہ جسے حاصل ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ حق کے اعلان سے ہرگز نہیں ہٹوں گا، تم جو چاہو کرلو، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ میں تمہارے اور اپنے اور ساری کائنات کے رب کی پناہ لے چکا ہوں ۔

معوذتین کی قرآنیت :


اتنی بحث ہی کافی ہے جو اوپر کی جا چکی ہے۔ لیکن چونکہ حدیث وتفسیر کی کتابوں میں ان کے متعلق تین ایسے مباحث آگئے ہیں جو دلوں میں شبہات پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے ہم ان کو بھی صاف کردینا ضروری سمجھتے ہیں ۔


ان میں سے اولین قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ آیا ان دونوں سورتوں کا قرآنی سورتیں ہونا قطعی طور پر ثابت ہے، یا اس میں کسی شک کی گنجائش ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) جیسے عظیم المرتبہ صحابی سے متعدد روایتوں میں یہ بات منقول ہوئی ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی سورتیں نہیں مانتے تھے اور اپنے مصحف سے انہوں نے ان کو ساقط کردیا تھا۔ امام احمد، بزّار، طَبرَانی، ابن مردویہ، ابو یعلی، عبد اللہ بن احمد بن حنبل، حُمَیدی، ابو نعیم، ابن حبان، وغیرہ محدثین نے مختلف سندوں سے اور اکثرو بیشتر صحیح سندوں سے یہ بات حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کی ہے۔ ان روایات میں نہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ ان سورتوں کو مصحف سے ساقط کردیتے تھے، بلکہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے " قرآن کے ساتھ وہ چیزیں نہ ملاؤ جو قرآن کا جز نہیں ہیں۔ یہ دونوں قرآن میں شامل نہیں ہیں۔ یہ تو ایک حکم تھا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا تھا کہ آپ ان الفاظ میں خدا کی پناہ مانگیں۔ " بعض روایات میں اس پر یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ ان سورتوں کو نماز میں نہیں پڑھتے تھے۔


ان روایات کی بنا پر مخالفین اسلام کو قرآن کے بارے میں یہ شبہات ابھارنے کا موقع مل گیا کہ معاذ اللہ یہ کتاب تحریف سے محفوظ نہیں ہے بلکہ اس میں جب دو سورتیں ابن مسعود (رض) جیسے صحابی کے بیان کے مطابق الحاقی ہیں تو نہ معلوم اور کیا کیا حذف و اضافے اس کے اندر ہوئے ہوں گے۔ اس طعن سے پیچھا چھڑانے کے لیے قاضی ابوبکر الباقِلانی اور قاضی عیاض وغیرہ نے یہ تاویل کی کہ ابن مسعود (رض) مُعوذتین کی قرآنیت کے منکر نہ تھے بلکہ صرف ان کو مصحف میں درج کرنے سے انکار کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک مصحف میں صرف وہی چیز درج کی جانی چاہیے تھی جس کے ثبت کرنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہو، اور ابن مسعود (رض) تک یہ اطلاع نہ پہنچی تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن یہ تاویل درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح سندوں کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ابن مسعود نے ان کے قرآنی سورتیں ہونے کا انکار کیا ہے۔ کچھ دوسرے بزرگوں، مثلاً امام نووی، امام ابن حَزُم اور امام فخر الدین رازی نے سرے سے اس بات ہی کو جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے کہ ابن مسعود (رض) نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ مگر مستند تاریخی حقائق کو بلا سند رد کردینا کوئی علمی طریقہ نہیں ہے۔


اب سوال یہ ہے کہ ابن مسعود کی ان روایات سے قرآن پر جو طعن وارد ہوتا ہے اس کا صحیح رد کیا ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں جن کو ہم سلسلہ وار درج کرتے ہیں :


(1) حافظ بزار نے اپنی مسند میں ابن مسعود کی یہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اپنی اس رائے میں وہ بالکل منفرد ہیں۔ صحابہ میں سی کسی نے بھی ان کے اس قول کی تائید نہیں کی ہے۔


(2) تمام صحابہ کے اتفاق سے خلیفہ ثالث سیدنا عثمان (رض) نے قرآن مجید کے جو نسخے مرتب کروائے تھے اور خلافت اسلامیہ کی طرف سے جن کو دنیائے اسلام کے مراکز میں سرکاری طور پر بھیجا تھا ان میں یہ دونوں سورتیں درج تھیں ۔


(3) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک سے آج تک تمام دنیائے اسلام کا جس مصحف پر اجماع ہے اس میں یہ دونوں سورتیں درج ہیں۔ تنہا عبد اللہ بن مسعود کی رائے، ان کی جلالت قدر کے باوجود، اس عظیم اجماع کے مقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔


(4) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہایت صحیح و معتبر احادیث کے مطابق یہ ثابت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سورتوں کو نماز میں خود پڑھا ہے، دوسروں کو پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور قرآن کی سورتوں کی حیثیت ہی سے لوگوں کو ان کی تعلیم دی ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کی احادیث ملاحظہ ہوں :


مسلم، احمد، ترمِذی، اور نسائی کے حوالہ سے حضرت عُقُبہ (رض) بن عامر کی یہ روایت ہم اوپر نقل کرچکے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورۃ فَلَق اور سورۃ ناس کے متعلق ان سے یہ فرمایا کہ آج رات یہ آیات مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ نسائی کی ایک روایت عقبہ بن عامر سے یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں پڑھیں۔ ابن حِبّان نے انہی حضرت عُقُبہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا " اگر ممکن ہو تو تمہاری نمازوں سے ان دونوں سورتوں کی قراءت چھوٹنے نہ پائے۔ " سعید بن منصور نے حضرت معاذ بن جبَل سے روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ امام احمد نے اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ ایک اور صحابی کی یہ روایت لائے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اس میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرو۔ مسند احمد، ابو داؤد اور نسائی میں عُقُبہ بن عامر کی یہ روایت آئی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا " کیا میں دو ایسی سورتیں تمہیں نہ سکھاؤں جو ان بہترین سورتوں میں سے ہیں جنہیں لوگ پڑھتے ہیں؟ " انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہی معوّذتین پڑھائیں۔ پھر نماز کھڑی ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی دو سورتیں اس میں بھی پڑھیں۔ اور نماز کے بعد پلٹ کرجب آپ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا " اے عُقَب، کیسا پایا تم نے؟ " اور اس کے بعد ان کو ہدایت فرمائی کہ جب تم سونے لگو اور جب سوکر اٹھو تو ان سورتوں کو پڑھا کرو۔ مسند احمد، ابو داؤد، تِرُمِذِی اور نسائی میں عُقُبہ بن عامر کی ایک روایت یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہر نماز کے بعد مُعَوّذات (یعنی قل ہو اللہ احد اور معوّذتین) پڑھنے کی تلقین کی۔ نسائی، ابن مَرُدُوُیہ اور حاکم نے عُقُبہ بن عامر کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر چلے جارہے تھے اور آپ کے قدم مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ میں نے عرض کیا مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف سکھا دیجئے۔ فرمایا " اللہ کے نزدیک بندے کے لیے قل اَعُوذُ بِرَبِّ الفلَقِ سے زیادہ نافع کوئی چیز نہیں ہے۔ " عبد اللہ بن عابِس الجُہنِی کی روایت نسائی، بَہیقِی، بَغَوی اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا " ابن عابِس، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ پناہ مانگنے والوں نے جتنی چیزوں کے ذریعہ سے اللہ کی پناہ مانگی ہے ان میں سب سے افضل کونسی چیزیں ہیں؟ " میں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ۔ فرمایا " قُل اَعُوذ بِرَبِّ الفَلَقِ اور قل اَعُوذ بِرَبِّ النَّاسِ یہ دونوں سورتیں۔ " ابن مردُویہ نے حضرت ام سلمہ کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ کو جو سورتیں سب سے زیادہ پسند ہیں وہ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہیں ۔


یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کو یہ غلط فہمی آخر کیسے لاحق ہوئی کہ یہ دونوں قرآن مجید کی سورتیں نہیں ہیں؟ اس کا جواب ہمیں دو روایتوں کو جمع کر کے دیکھنے سے ملتا ہے۔ ایک یہ روایت کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے کہ یہ تو ایک حکم تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا تھا کہ آپ اس طرح تعوُّذ کیا کریں۔ دوسری وہ روایت جو کئی مختلف سندوں سے امام بخاری نے صحیح البخاری میں، امام احمد نے اپنی مسند میں، ابو نُعَیم نے اپنی المُستخرَج میں اور نسائی نے اپنی سُنَن میں زر بن حُبَیش کے حوالے سے تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت اُبَی بن کعب سے، جو علم قرآن کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے، زر بن حُبَیش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی کے بھائی سے کہا کہ آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعود ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ آپ ان کے اس قول کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا قل، تو میں نے بھی کہا قُل۔ اس لیے ہم بھی اسی طرح کہتے تھے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے تھے۔ " امام احمد کی روایت میں حضرت ابی کے الفاظ یہ ہیں : " میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے آپ سے قل اعوذ برب الفلق کہا تھا اس لیے آپ نے بھی ایسا ہی کہا، اور انہوں نے قل اعوذ برب الناس کہا تھا اس لیے آپ نے بھی ایسا ہی کہا۔ لہٰذا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ " ان دونوں روایتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کو دونوں سورتوں میں لفظ قل (کہو) دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس کہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حضرت ابی بن کعب کے ذہن میں بھی اس کے متعلق سوال پیدا ہوا اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو پوچھ لیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے چونکہ قل کہا تھا اس لیے میں بھی قل کہتا ہوں۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر کسی کو حکم دینا مقصود ہو اور اس سے کہا جائے کہ " کہوں‘ میں پناہ مانگتا ہوں، " تو وہ حکم کی تعمیل میں یہ نہیں کہے گا کہ " کہو‘ میں پناہ مانگتا ہوں " بلکہ وہ " کہو " کا لفظ ساقط کر کے " میں پناہ مانگتا ہوں " اور یہ پیغام اسے اپنے تک رکھنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں تک پہنچانے کے لیے دیا جائے تو وہ لوگوں تک پیغام کے الفاظ کو جوں کا توں پہنچائے گا، اس میں سے کوئی چیز ساقط کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ پس ان دونوں سورتوں کی ابتدا لفظ قل سے ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ کلام وحی ہے جسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہی الفاظ میں پہنچانے کے پابند تھے جن الفاظ میں یہ آپ کو ملا تھا۔ اس کی حیثیت محض ایک حکم کی نہ تھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں ان دو سورتوں کے علاوہ ٣٣٠ آیتیں ایسی ہیں جو لفظ قل (کہو) سے شروع ہوئی ہیں۔ ان سب میں قل کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کلام وحی ہے جسے انہی الفاظ میں پہنچانا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ فرض تھا جن الفاظ میں یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا تھا۔ ورنہ ہر جگہ قل اگر ایک حکم ہوتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لفظ کو ساقط کر کے وہ بات کہتے جس کے کہنے کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، اور اسے قرآن میں درج نہ کیا جاتا بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اس حکم کی تعمیل میں وہ بات کہہ دینے پر اکتفا فرماتے جسے کہنے کا آپ کو حکم دیا گیا تھا۔


اس مقام پر اگر آدمی کچھ غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ صحابہ کرام کو بےخطا سمجھنا اور ان کی کسی بات کے لیے غلط کا لفظ سنتے ہی توہین صحابہ کا شور مچا دینا کس قدر بےجا حرکت ہے۔ یہاں آپ دیکھ رہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود جیسے جلیل القدر صحابی سے قرآن کی دو سورتوں کے بارے میں کتنی بڑی چوک ہوگئی۔ ایس چوک اگر اتنے عظیم مرتبہ کے صحابی سے ہو سکتی ہے تو دوسروں سے بھی کوئی چوک ہوجانی ممکن ہے۔ ہم علمی تحقیق کے لیے اس کی چھان بین بھی کرسکتے ہیں، اور کسی صحابی کو کوئی بات یا چند باتیں غلط ہوں تو انہیں غلط بھی کہہ سکتے ہیں۔ البتہ سخت ظالم ہوگا وہ شخص جو غلط کو غلط کہنے سے آگے بڑھ کر ان پر زبان طعن دراز کرے۔ انہی معوِّذتین کے بارے میں مفسرین و محدثین نے ابن مسعود کی رائے کو غلط کہا ہے، مگر کسی نے یہ کہنے کی جرأت نہیں کی کہ قرآن کی دوسورتوں کا انکار کر کے معاذ اللہ وہ کافر ہوگئے تھے۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونا :


دوسرا مسئلہ جو ان سورتوں کے معاملہ میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ روایات کی رو سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا تھا، اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہوگئے تھے، اور اس اثر کو دور کرنے کے لیے جبریل (علیہ السلام) نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سورتیں پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ اس پر قدیم اور جدید زمانے کے بہت سے عقلیت پسندوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ روایات اگر مان لی جائیں تو شریعت ساری کی ساری مشتبہ ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا تھا، اور ان روایات کی رو سے ہوگیا تھا، تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ مخالفین نے جادو کے زور پر نبی سے کیا کیا کہلوا اور کروا لیا ہو، اور اس کی دی ہوئی تعلیم میں کتنی چیزیں خدا کی طرف سے ہوں اور کتنی جادو کے زیر اثر۔ یہی نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کو سچ مان لینے کے بعد تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جادو ہی کے ذریعہ سے نبی کو نبوت کے دعوے پر اکسایا گیا ہو اور نبی نے غلط فہمی میں مبتلا ہو کر یہ سمجھ لیا ہو کہ اس کے پاس فرشتہ آیا ہے۔ ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ یہ احادیث قرآن مجید سے متصادم ہیں۔ قرآن میں تو کفار کا یہ الزام بیان کیا گیا ہے کہ نبی ایک مسحور، یعنی سحر زدہ آدمی ہے ( یَقُول الظّٰلِمُونَ ان تَتَّبِعُون الا رَجُلاً مُّسحُوراً۔ بنی اسرائیل ٤٧) مگر یہ احادیث کفار کے الزام کی تصدیق کرتی ہیں کہ واقعی نبی پر سحر کا اثر ہوا تھا۔


اس مسئلے کی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا درحقیقت مستند تاریخی روایات کی رو سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہوا تھا ؟ اور اگر ہوا تھا تو وہ کیا تھا اور کس حد تک تھا ؟ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ جو کچھ تاریخ سے ثابت ہے اس پر وہ اعتراضات وارد بھی ہوتے ہیں یا نہیں جو کئے گئے ہیں ؟


قرون اولیٰ کے مسلمان علماء کی یہ انتہائی راستبازی تھی کہ انہوں نے اپنے خیالات اور مزعومات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے یا حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بلکہ جو کچھ تاریخی طور پر ثابت تھا اسے جوں کا توں بعد کی نسلوں تک پہنچا دیا اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ ان حقائق سے اگر کوئی الٹے نتائج نکالنے پر اتر آئے تو ان کا فراہم کردہ یہ مواد کس طرح اس کے کام آسکتا ہے۔ اب اگر ایک بات نہایت مستند اور کثیر تاریخی ذرائع سے ثابت ہو تو کسی دیانت دار صاحب علم کے لیے نہ تو یہ درست ہے کہ وہ اس تاریخ کا انکار کردے کہ اس کو مان لینے سے اس کے نزدیک فلاں فلاں قباحتیں رونما ہوتی ہیں، اور نہ یہی درست ہے کہ جتنی بات تاریخ سے ثابت ہے اس کو قیاسات کے گھوڑے دوڑا کر اس کی اصلی حد سے پھیلانے اور بڑھانے کی کوشش کرے۔ اس کے بجائے اس کا کام یہ ہے کہ تاریخ کو تاریخ کی حیثیت سے مان لے اور پھر دیکھے کہ اس سے فی الواقع کیا ثابت ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔


جہاں تک تاریخی حیثیت کا تعلق ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونے کا واقعہ قطعی طور پر ثابت ہے اور علمی تنقید سے اس کو اگر غلط ثابت کیا جاسکتا ہو تو پھر دنیا کا کوئی تاریخی واقعہ بھی صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسے حضرت عائشہ (رض)، حضرت زید بن ارقَم اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، امام احمد، عبد الرزاق، حُمَیدی، بہیقی، طبرانی، ابن سعد، ابن مردویہ، ابن ابی شیبہ، حاکم، عبد بن حمید وغیرہ محدثین نے اتنی مختلف اور کثیر التعداد سندوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا نفس مضمون تواتر کی حد کو پہنچا ہوا ہے‘ اگرچہ ایک ایک روایت بجائے خود خبر واحد ہے، اس کی تفصیلات جو روایات میں آئی ہیں انہیں ہم مجموعی طور پر تمام روایات سے مرتب کرکے ایک مربوط واقعہ کی صورت میں یہاں درج کرتے ہیں۔


صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس تشریف لائے تو محرم 7 ھ میں خیبر سے یہودیوں کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہور جادوگر لبید بن اعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زُرَیق سے تعلق رکھتا تھا۔ (1) ان لوگوں نے اس سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہم نے ان پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں، کیونکہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو، یہ تین اشرفیاں حاضر ہیں، انہیں قبول کرو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک زور کا جادو کردو۔ اس زمانے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اس سے ساز باز کر کے ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کرلیا جس میں آپ کے موئے مبارک تھے۔ انہی بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر جادو کیا گیا۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ لَبِید بِن اَعصم نے خود جادو کیا تھا، اور بعض میں یہ ہے کہ اس کی بہنیں اس سے زیادو جادوگرنیاں تھیں، ان سے اس نے جادو کروایا تھا۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو، اس جادو کو ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف (2) میں رکھ کر لَبِید نے بنی زُرَیق کے کنویں ذروان یا ذی اَرُوان نامی کی تہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس جادو کا اثر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوتے ہوتے پورا ایک سال لگا، دوسری ششماہی میں کچھ تغیر مزاج محسوس ہونا شروع ہوا، آخری چالیس دن سخت اور آخری تین دن زیادہ سخت گزرے۔ مگر اس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپ گھلتے چلے جارہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ وہ کرلیا ہے مگر نہیں کیا ہوتا تھا، اپنی ازواج کے متعلق خیال فرماتے کہ آپ ان کے پاس گئے ہیں مگر نہیں گئے ہوتے تھے، اور بعض اوقات آپ کو اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپ کی ذات تک محدود رہے، حتی کہ دوسرے لوگوں کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔ رہی آپ کے نبی ہونے کی حیثیت تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں آپ قرآن کی کوئی آیت بھول گئے ہوں، یا کوئی آیت آپ نے غلط پڑھ ڈالی ہو، یا اپنی صحبتوں میں اور اپنے وعظوں اور خطبوں میں آپ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہوگیا ہو، یا کوئی ایسا کلام آپ نے وحی کی حیثیت سے پیش کردیا ہو جو فی الواقع آپ پر نازل نہ ہوا ہو، یا نماز آپ سے چھوٹ گئی ہو اور اس کے متعلق بھی کبھی آپ نے سمجھ لیا ہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔ ایسی کوئی بات معاذ اللہ پیش آجاتی تو دھوم مچ جاتی، اور پورا ملک عرب اس سے واقف ہوجاتا کہ جس نبی کو کوئی طاقت چت نہ کرسکی تھی اسے ایک جادوگر کے جادو نے چت کردیا۔ لیکن آپ کی حیثیت نبوت اس سے بالکل غیر متاثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی میں آپ اپنی جگہ اسے محسوس کرکے پریشان ہوتے رہے۔ آخر کار ایک روز آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے کہ آپ نے بار بار اللہ تعالیٖ سے دعا مانگی۔ اسی حالت میں نیند آگئی یا غنودگی طاری ہوئی اور پھر بیدار ہو کر آپ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ میں نے جو بات اپنے رب سے پوچھی تھی وہ اس نے مجھے بتا دی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ وہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا دو آدمی ( یعنی فرشتے دو آدمیوں کی صورت میں ) میرے پاس آئے۔ ایک سرہانے کی طرف تھا اور دوسرا پائینتی کی طرف۔ ایک نے پوچھا انہیں کیا ہوا ؟ دوسرے نے جواب دیا ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے کیا ہے؟ جواب دیا لَبِید بن اَعُصَم نے۔ پوچھا کس چیز میں کیا ہے؟ جواب دیا کنگھی اور بالوں میں ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر۔ پوچھا وہ کہاں ہے؟ جواب دیا بنی زریق کے کنویں ذی اَرُوان ( یا ذَرُوان) کی تہ کے پتھر کے نیچے ہے۔ پوچھا اب اس کے لیے کیا کیا جائے؟ جواب دیا کہ کنویں کا پانی سونت دیا جائے اور پھر پتھر کے نیچے سے اس کو نکالا جائے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی، حضرت عمّار بن یاسر اور حضرت زبیر (رضی اللہ عنہم) کو بھیجا۔ ان کے ساتھ جُبَیر بن ایاس الزرقی اور قیس بن محصن الزرقی (یعنی بنی زریق کے یہ دو اصحاب) بھی شامل ہوگئے۔ بعد میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی چند اصحاب کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ پانی نکالا گیا اور وہ غلاف برآمد کرلیا گیا۔ اس میں کنگھی اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑھی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل (علیہ السلام) نے آکر بتایا کہ آپ معوِّذتین پڑھیں۔ چنانچہ آپ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہے۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں گھل گئیں، ساری سوئیاں نکل گئیں، اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر بالکل ایسے ہوگئے جیسے کوئی شخص بندھا ہوا تھا، پھر کھل گیا۔ اس کے بعد آپ نے لَبِید کو بلا کر باز پرس کی۔ اس نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور آپ نے اس کو چھوڑدیا، کیونکہ اپنی ذات کے لیے آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے اس معاملہ کا چرچا کرنے سے بھی یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے اللہ نے شفا دی ہے۔ اب میں نہیں چاہتا کہ کسی کے خلاف لوگوں کو بھڑکاؤں۔


یہ ہے سارا قصہ اس جادو کا۔ اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ کے منصب نبوت میں قادح ہو۔ ذاتی حیثیت سے اگر آپ کو زخمی کیا جاسکتا تھا جیسا کہ جنگ احد میں ہوا، اگر آپ گھوڑے سے گر کر چوٹ کھا سکتے تھے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اگر آپ کو بچھو کاٹ سکتا تھا، جیسا کہ کچھ اور احادیث میں وارد ہوا ہے، اور ان میں سے کوئی چیز بھی اس تحفظ کے منافی نہیں ہے جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ نے آپ سے وعدہ کیا تھا، تو آپ اپنی ذاتی حیثیت میں جادو کے اثر سے بیمار بھی ہوسکتے تھے۔ نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے، یہ بات تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ سورۃ اعراف میں فرعون کے جادوگروں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں جب وہ آئے تو انہوں نے ہزارہا آدمیوں کے اس پورے مجمع کی نگاہوں پر جادو کردیا جو وہاں دونوں کا مقابلے دیکھنے کے لیے جمع ہوا تھا (سَحَرُوا اعیُن الناسِ۔ آیت ١١٦) اور سورۃ طٰہٰ میں ہے کہ جو لاٹھیاں اور رسیاں انہوں نے پھینکی تھیں ان کے متعلق عام لوگوں ہی نے نہیں حضرت موسیٰ نے بھی یہی سمجھا کہ وہ ان کی طرف سانپوں کی طرح دوڑی چلی آرہی ہیں اور اس سے حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ خوف نہ کرو تم ہی غالب رہو گے، ذرا اپنا عصا پھینکو (فَاِذَا حِبَالُہُم وَعِصِیُّہُم یُخَیَّلُ اِلَیہِ مِن سحرِہِم اَنَّہَا تَسعیٰ۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ مُّوسی۔ قُلنا لا تخَف اِنَکَ انت الاعلیٰ۔ وَاَلق ما فی یَمِینِک۔ آیات ٦٦ تا ٦٩)۔ رہا یہ اعتراض کہ یہ تو کفار مکہ کے اس الزام کی تصدیق ہوگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ سحرزدہ آدمی کہتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفار آپ کو سحرزدہ آدمی اس معنی میں نہیں کہتے تھے کہ آپ کسی جادوگر کے اثر سے بیمار ہوگئے ہیں، بلکہ اس معنی میں کہتے تھے کہ کسی جادوگر نے معاذ اللہ آپ کو پاگل کردیا ہے اور اسی پاگل پن میں آپ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں اور جنت ودوزخ کے افسانے سنا رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اعتراض ایسے معاملہ پر سرے سے چسپاں ہی نہیں ہوتا جس کے متعلق تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ جادو کا اثر صرف ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوا تھا، نبوت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔


اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جو لوگ جادو کو محض اوہام کے قبیل کی چیز قرار دیتے ہیں ان کی یہ رائے صرف اس وجہ سے ہے کہ جادو کے اثرات کی کوئی سائنٹفک توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ لیکن دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو تجربے اور مشاہدے میں آتی ہیں، مگر سائنٹفک طریقہ سے یہ بیان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کیسے رونما ہوتی ہیں۔ اس طرح کی توجیہ پر اگر ہم قادر نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس چیز ہی کا انکار کردیا جائے جس کی ہم توجیہ نہیں کرسکتے۔ جادو دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے جس نفس سے گزر کر جسم کو بھی اسی طرح متاثر کرتا ہے جس طرح جسمانی اثرات جسم سے گزر کر نفس کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خوف ایک نفسیاتی چیز ہے، مگر اس کا اثر جسم پر یہ ہوتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور بدن میں تھر تھری چھوٹ جاتی ہے۔ دراصل جادو سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، مگر انسان کا نفس اور اس کے حواس اسے متاثر ہوکر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ حقیقت تبدیل ہوگئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام ) کی طرف جادوگروں نے جو لاٹھیاں اور رسیاں پھینکی تھیں وہ واقعی سانپ نہیں بن گئی تھیں، لیکن ہزاروں کے مجمع کی آنکھوں پر ایسا جادو ہوا کہ سب نے انہیں سانپ ہی محسوس کیا، اور حضرت موسیٰ تک کے حواس جادو کی اس تاثیر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اسی طرح قرآن (البقرہ، آیت ١٠٢) میں بیان کیا گیا ہے کہ بابل میں ہاروت اور ماروت سے لوگ ایسا جادو سیکھتے تھے جو شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دے۔ یہ بھی ایک نفسیاتی اثر تھا، اور ظاہر ہے کہ اگر تجربے سے لوگوں کو اس عمل کی کامیابی معلوم نہ ہوتی تو وہ اس کے خریدار نہ بن سکتے تھے۔ بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ بندوق کی گولی اور ہوائی جہاز سے گرنے والے بم کی طرح جادو کا مؤثر ہونا بھی اللہ کے اذن کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر جو چیز ہزارا ہا سال سے انسان کے تجربے اور مشاہدے میں آرہی ہو اس کے وجود کو جھٹلا دینا محض ایک ہٹ دھرمی ہے۔

اسلام میں جھاڑ پھونک کی حیثیت :


تیسرا مسئلہ ان سورتوں کے معاملہ میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جھاڑ پھونک کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے؟ اور یہ کہ جھاڑ پھونک بجائے خود مؤثر بھی ہے یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بکثرت صحیح احادیث میں یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں معوِّذتین، یا بعض روایات کے مطابق معوِّذات (یعنی قل ہو اللہ اور معوِّذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم پر، جہاں جہاں تک بھی آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے، انہیں پھیرتے تھے۔ آخری بیماری میں جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہ نے یہ سورتیں (بطور خود یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے) پڑھیں اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرے۔ اس مضمون کی روایات صحیح سندوں کے ساتھ بخاری، مسلم، نَسائی، ابن ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں جن سے بڑھ کر کوئی بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خانگی زندگی سے واقف نہ ہوسکتا تھا۔


اس معاملہ میں پہلے مسئلہ شرعی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ احادیث میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی طویل روایت آئی ہے جس کے آخر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میری امت کے وہ لوگ بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے جو نہ داغنے کا علاج کراتے ہیں، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ فال لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (مسلم) حضرت مُغِیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے داغنے سے علاج کرایا اور جھاڑ پھونک کرائی وہ اللہ پر توکل سے بےتعلق ہوگیا (ترمذی)۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے جن میں سے ایک جھاڑ پھونک بھی ہے سوائے معوّذتین یا معوِّذات کے (ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن حِبّان، حاکم)۔ بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھاڑ پھونک سے بالکل منع فرمادیا تھا، لیکن بعد میں اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ اس میں شرک نہ ہو، اللہ کے پاک ناموں یا اس کے کلام سے جھاڑا جائے، کلام ایسا ہو جو سمجھ میں آئے اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس میں کوئی گناہ کی چیز نہیں ہے، اور بھروسہ جھاڑ پھونک پر نہ کیا جائے کہ وہ بجائے خود شفا دینے والی ہے، بلکہ اللہ پر اعتماد کیا جائے کہ وہ چاہے گا تو اسے نافع بنا دے گا۔ یہ مسئلہ شرعی واضح ہوجانے کے بعد اب دیکھیے کہ احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں :


طَبَرانی نے صغیر میں حضرت علی کی روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دفعہ نماز کی حالت میں بچھو نے کاٹ لیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ بچھو پر خدا کی لعنت، یہ نہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔ پھر پانی اور نمک منگوایا اور جہاں بچھو نے کاٹا تھا وہاں آپ نمکین پانی ملتے جاتے تھے اور قل یا ایہا الکافرون، قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے۔


ابن عباس کی یہ روایت بھی احادیث میں آئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین پر یہ دعا پڑھتے تھے اُعِیذُ کمَا بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ ومن کل عین لامۃ " میں تم کو اللہ کے بےعیب کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور موذی سے اور ہر نظر بد سے" (بخاری، مسند احمد، ترمذی اور ابن ماجہ ) ۔


عثمان بن ابی العاص الثقفی کے متعلق مسلم، موطا، طبرانی اور حاکم میں تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے ایک درد محسوس ہوتا ہے جو مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنا سیدھا ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں درد ہوتا ہے، پھر تین مرتبہ بسم اللہ کہو اور سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے ہاتھ پھیرو کہ اعوذ باللہ وقدرتہ من شر ما اجد واحاذر " میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جس کو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کے لاحق ہونے کا مجھے خوف ہے"۔ موطا میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ عثمان بن ابی العاص نے کہا کہ اس کے بعد میرا وہ درد جاتا رہا، اور اسی چیز کی تعلیم میں اپنے گھر والوں کو دیتا ہو۔


مسند احمد اور طحاوی میں طلق بن علی کی روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں بچھو نے کاٹ لیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر پڑھ کر پھونکا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرا۔


مسلم میں ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو جبریل نے آکر پوچھا " اے محمد کیا آپ بیمار ہوگئے؟" آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا باسم اللہ ارقیک من کل شیء یؤذیک من شر کل نفس او عین حاسد‘ اللہ یشفیک باسم اللہ ارقیک " میں اللہ کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اس کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں ۔" اسی سے ملتی جلتی روایت مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت سے منقول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار تھے۔ میں عیادت کے لیے گیا تو آپ کو سخت تکلیف میں پایا۔ شام کو گیا تو آپ بالکل تندرست تھے۔ میں نے اس قدر جلدی تندرست ہوجانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جبریل آئے تھے اور انہوں نے مجھے چند کلمات سے جھاڑا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریب قریب اسی طرح کے الفاظ ان کو سنائے جو اوپر والی حدیث میں نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت عائشہ سے بھی مسلم اور مسند احمد میں ایسی ہی روایت نقل کی گئی ہے۔


امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت حفصہ ام المؤمنین کی روایت نقل کی ہے کہ ایک روز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں آئے اور میرے پاس ایک خاتون شفا (١) [ ان خاتون کا اصل نام لیلی تھا، مگر شفا بنت عبداللہ کے نام سے مشہور تھیں۔ ہجرت سے پہلے ایمان لائیں۔ قریش کے خاندان بنی عَدِی سے ان کا تعلق تھا۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے ایک فرد حضرت عمر تھے۔ اس طرح یہ حضرت حفصہ کی رشتہ دار ہوتی تھیں ۔] نامی بیٹھی تھیں جو نملہ (ذُباب) کو جھاڑا کرتی تھیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حفصہ کو بھی وہ عمل سکھا دو۔


مسلم میں عوف بن مالک اشجعی کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اس معاملہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن چیزوں سے تم جھاڑتے تھے وہ میرے سامنے پیش کرو، جھاڑنے میں مضائقہ نہیں ہے جب تک اس میں شرک نہ ہو۔


مسلم، مسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھاڑ پھونک سے روک دیا تھا۔ پھر حضرت عمر بن حزم کے خاندان کے لوگ آئے اور کہا کہ ہمارے پاس ایک عمل تھا جس سے ہم بچھو (یا سانپ) کاٹے کو جھاڑتے تھے۔ مگر آپ نے اس کام سے منع فرمایا دیا ہے۔ پھر انہوں نے وہ چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنائی جو وہ پڑھتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ’ اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں پاتا، تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا وہ ضرور پہنچائے۔" جابر بن عبد اللہ کی دوسری حدیث مسلم میں یہ ہے کہ آل حزم کے پاس سانپ کاٹے کا عمل تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس کی اجازت دیدی۔ اس کی تائید مسلم، مسند احمد، اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کی یہ روایت بھی کرتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے ایک خاندان کو ہر زہریلے جانور کے کاٹے کو جھاڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ مسند احمد اور ترمذی اور مسلم اور ابن ماجہ میں حضرت انس سے بھی اس سے ملتی جلتی روایات نقل کی گئی ہیں جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زہریلے جانوروں کے کاٹے، اور ذباب کے مرض اور نظر بد کے جھاڑنے کی اجازت دی۔


مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عمیر مولی ابی النحم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں میرے پاس ایک عمل تھا جس سے میں جھاڑا کرتا تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اسے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا فلاں فلاں چیزیں اس میں سے نکال دو، باقی سے تم جھاڑ سکتے ہو۔


موطا میں ہے کہ حضرت ابو بکر اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ بیمار ہیں اور ایک یہودیہ ان کو جھاڑ رہی ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ پڑھ کر جھاڑ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب اگر توراۃ یا انجیل کی آیات پڑھ کر جھاڑیں تب بھی یہ جائز ہے۔


رہا یہ سوال کہ آیا جھاڑ پھونک مفید بھی ہے یا نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوا اور علاج سے نہ صرف یہ کہ کبھی منع نہیں فرمایا، بلکہ خود فرمایا کہ ہر مرض کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے اور تم لوگ دوا کیا کرو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود لوگوں کو بعض امراض کے علاج بتائے ہیں، جیسا کہ احادیث میں کتاب الطب کو دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن دوا بھی اللہ ہی کے حکم اور اذن سے نافع ہوتی ہے، ورنہ اگر دوا اور طبی معالجہ ہر حال میں نافع ہوتا تو ہسپتالوں میں کوئی نہ مرتا۔ اب اگر دوا اور علاج کرنے کے ساتھ اللہ کے کلام اور اس کے اسمائے حسنی سے بھی استفادہ کیا جائے، یا ایسی جگہ جہاں کوئی طبی امداد میسر نہ ہو اللہ ہی کی طرف رجوع کر کے اس کے کلام اور اسماء و صفات سے استعانت کی جائے تو یہ مادہ پرستوں کے سوا کسی کی عقل کے بھی خلاف نہیں ہے (١) [ مادہ پرست دنیا کے بھی بہت سے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ دعا اور رجوع الی اللہ مریضوں کی شفا یابی میں بہت کارگر چیز ہے۔ اور اس کا خود مجھے ذاتی طور پر اپنی زندگی میں دو مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔ ١٩٤٨ٗ میں جب مجھے نظر بند کیا گیا تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں آکر اڑ گئی اور ١٦ گھنٹے تک پیشاب بند رہا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں ظالموں سے علاج کی درخواست نہیں کرنا چاہتا، تو ہی میرا علاج فرمادے۔ چنانچہ وہ پتھری پیشاب کے راستے سے ہٹ گئی اور ٢٠ برس تک ہٹی رہی یہاں تک کہ ١٩٦٨ٗ میں اس نے پھر تکلیف دی اور اس کو آپریشن کر کے نکالا گیا۔ دوسری مرتبہ جب ١٩٥٣ ٗ میں مجھے گرفتار کیا گیا تو میری دونوں پنڈلیاں کئی مہینے سے داد کی سخت تکلیف میں متلا تھیں کسی علاج سے آرام نہیں آرہا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے پھر وہی دعا کی جو ١٩٤٨ میں کی تھی اور کسی علاج اور دوا کے بغیر پنڈلیاں داد سے بالکل صاف ہوگئیں۔ آج تک پھر کبھی وہ بیماری مجھے نہیں ہوئی۔ ]۔ البتہ یہ صحیح نہیں ہے کہ دوا اور علاج کو، جہاں وہ میسر ہو، جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے، اور صرف جھاڑ پھونک سے کام لینے ہی پر اکتفا کیا جائے، اور کچھ لوگ عملیات اور تعویذوں کے مطب کھول کر بیٹھ جائیں اور اسی کو کمائی کا ذریعہ بنا لیں۔


اس معاملہ میں بہت سے لوگ حضرت ابو سعید خدری کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں منقول ہوئی ہے اور اس کی تائید بخاری میں ابن عباس کی بھی ایک روایت کرتی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم پر اپنے چند اصحاب کو بھیجا جن میں حضرت ابو سعید خدری بھی تھے۔ یہ حضرات راستہ میں عرب کے ایک قبیلے کی بستی پر جاکر ٹھرے اور انہوں نے قبیلے والوں سے کہا کہ ہماری میزبانی کرو۔ انہوں نے انکار کردیا۔ اتنے میں قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اور وہ لوگ ان مسافروں کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا عمل ہے جس سے تم ہمارے سردار کا علاج کردو؟ حضرت ابو سعید نے کہا ہے تو سہی، مگر چونکہ تم نے ہماری میزبانی سے انکار کیا ہے اس لیے جب تک تم کچھ دینا نہ کرو، ہم اس کا علاج نہیں کریں گے۔ انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ (بعض روایات میں ہے کہ ٣٠ بکریاں ) دینے کا وعدہ کیا اور حضرت ابو سعید نے جاکر اس پر سورہٗ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور لعاب دھن اس پر ملتے گئے (١) [ اکثر روایات میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ عمل کرنے والے حضرت ابو سعید تھے۔ بلکہ ان میں یہ صراحت بھی نہیں ہے کہ حضرت ابو سعید خود اس مہم میں شریک تھے۔ لیکن ترمذی کی روایت میں دونوں باتوں کی صراحت ہے۔] آخر کار بچھو کا اثر زائل ہوگیا اور قبیلے والوں نے جتنی بکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ لا کر دے دیں۔ مگر ان حضرات نے آپس میں کہا ان بکریوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ نا لیا جائے۔ نہ معلوم اس کام پر اجر لینا جائز ہے یا نہیں۔ چنانچہ یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہنس کر فرمایا "تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ سورۃ جھاڑنے کے کام بھی آسکتی ہے؟ بکریاں لے لو اور ان میں میرا حصہ بھی لگاؤ۔ "


لیکن اس حدیث سے تعویذ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کے مطب چلانے کا جواز نکالنے سے پہلے عرب کے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جن میں حضرت ابو سعید خدری نے یہ کام کیا تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نہ صرف جائز رکھا تھا، بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا حصہ بھی لگاؤ، تاکہ اس کے جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان اصحاب کے دلوں میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ عرب کے حالات اس زمانے میں بھی یہ تھے اور آج تک یہ کہ پچاس پچاس، سو سو، ڈیڑ ڈیڑھ سو میل تک آدمی کو ایک بستی سے چل کر دوسری بستی نہیں ملتی۔ بستیاں بھی اس وقت ایسی نہ تھیں جن میں ہوٹل، سرائے یا کھانے کی دوکانیں موجود ہوں اور مسافر کئی کئی روز کی مسافت طے کر کے جب وہاں پہنچے تو سامان خوردونوش خرید سکے۔ ان حالات میں یہ بات عرب کے معروف اصول اخلاق میں شامل تھی کہ مسافر جب کسی بستی پر پہنچیں تو بستی کے لوگ ان کی میزبانی کریں۔ اس سے انکار کے معنی بسا اوقات مسافروں کے لیے موت کے ہوتے تھے، اور عرب میں اس طرز عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کے اس فعل کو جائز رکھا کہ جب قبیلے والوں نے میزبانی سے انکار کردیا تھا تو ان کے سردار کا علاج کرنے سے انہوں نے بھی انکار کردیا، اور اس شرط پر اس کا علاج کرنے پر راضی ہوئے کہ وہ ان کو کچھ دینا کریں۔ پھر جب ان میں سے ایک صاحب نے اللہ کے بھروسے پر سورہٗ فاتحہ اس سردار پر پڑھی اور وہ اس سے اچھا ہوگیا تو طے شدہ اجرت قبیلے والوں نے لاکر دے دی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اجرت کے لینے کو حلال و طیب قرار دیا۔ بخاری میں اس واقعہ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس کی جو روایت ہے اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ یہ ہیں کہ اِنَّ احقَّ ما اخذت علیہ اجراً کتاب اللہ یعنی بجائے اس کے کہ تم کوئی اور عمل کرتے، تمہارے لیے یہ زیادہ برحق بات تھی کہ تم نے اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر اجرت لی۔ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لئے فرمایا کہ دوسرے تمام عملیات سے اللہ کا کلام بڑھ کر ہے، علاوہ بریں اس طرح عرب کے اس قبیلے پر حق تبلیغ بھی ادا ہوگیا کہ انہیں اس کلام کی برکت معلوم ہوگئی جو اللہ کی طرف سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں۔ اس واقعہ کو ان لوگوں کے لیے نظیر قرار نہیں دیا جاسکتا جو شہروں اور قصبوں میں بیٹھ کر جھاڑ پھونک کے مطب چلاتے ہیں اور اسی کو انہوں نے وسیلہ معاش بنا رکھا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا صحابہ و تابعین اور ائمہٗ سلف کے ہاں نہیں ملتی۔

سورہٗ فاتحہ اور ان سورتوں کی مناسبت :


آخری چیز جو معوِّذتین کے بارے میں قابل توجہ ہے وہ قرآن کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ اگرچہ قرآن مجید ترتیب نزول پر مرتب نہیں کیا گیا ہے، مگر ٢٣ سال کے دوران میں مختلف حالات اور مواقع اور ضروریات کے لحاظ سے نازل ہونے والی آیات اور سورتوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور خود نہیں بلکہ ان کے نازل کرنے والے خدا کے حکم سے اس شکل میں مرتب فرمایا جس میں ہم اب اس کو پاتے ہیں۔ اس ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورہٗ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوِّذتین پر۔ اب ذرا دونوں پر ایک نگاہ ڈالیے۔ آغاز میں اللہ رب العالمین، رحمان و رحیم، اور مالک یوم الدین کی حمد وثنا کر کے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی میں بندگی کرتا ہوں اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں، اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کے لئے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے، اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو ربُّ الفلق، ربُّ الناس، ملِکُ الناس اور الہ الناس ہے، عرض کرتا ہے کہ میں ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ہی کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ راہ راست کی پیروی میں وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں۔ اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 تفہیم القرآن ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ