انَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿ الحج : ۱﴾ کی تفسیر - سید ابوالاعلی مودویؒ


یہ زلزلہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے اور اغلب یہ ہے کہ اس کا وقت وہ ہو گا جب کہ زمین یکایک الٹی پھرنی شروع ہو جاۓ گی اور سورج مشرق کے بجاۓ مغرب سے طلوع ہو گا۔ یہ بات قدیم مفسرین میں سے عَلْقَمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ: یکون ذٰلک عند طلوع الشمس من مغربھا۔ اور یہی بات اس طویل حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو ابن جریر اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ نفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فَزَع ، دوسرا نفخ صَعْق اور تیسرا نفخ قیام الرب العالمین۔ یعنی پہلا نفخ عام سراسیمگی پیدا کرے گا ، دوسرے نفخ پر سب مر کر گر جائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہو کر خدا کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ پھر پہلے نفح کی تفصیلی کیفیت بیان کرتے ہوۓ آپ بتاتے ہیں کہ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہو گی جو موجوں کے تھپیڑے کھا کر ڈگمگا رہی ہو، یا اس معلق قندیل کی سی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ اس وقت زمین کی آبادی پر جو کچھ گزرے گی اس کا نقشہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کھینچا گیا ہے۔مثلاً : 

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّا حِدَۃً وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُ کَّتَا دَکَّۃً وَّ احِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَّ قَعَتِ الْوَ ا قِعَۃُ O (الحاقہ) ’’ پس جب صور میں ایک پھونک ماردی جاۓ گی اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں توڑ دیے جائیں گے تو وہ واقعہ عظیم پیش آ جاۓ گا‘‘۔ 

دنیا و آخرت میں زمین کی وراثت کا قاعدہ - سید ابوالاعلی مودودیؒ

وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿الانبیاء : ۱۰۵﴾ 

ترجمہ : "اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کےلیے۔"

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں " 

 اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کر دیتا ہے ۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے ۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے ، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح ۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وراثت کی مالک بنی ہوئی ہیں ۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر ، مشرک ، دہریے ، فاسق، فاجر، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں ۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پاۓ گئے ہیں اور آج پاۓ جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف الفاظ میں کفر ، فسق ، فجور، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے ، وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئیں اور آج بھی نوازی جا ہی ہیں ۔ فرعون و نمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانرواؤں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر، مخلاف ، بلکہ مد مقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوۓ ہیں ۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ راۓ قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدہ کلیہ تو غلط نہیں ہو سکتا ، اب لامحالہ غلطی جو کچھ ہے وہ ’’ صالح ‘‘ کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یدسں ’’ صالح ‘‘ قرار پا سکیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہوں یا چنگیز اور ہلاکو ۔ اس نۓ تصور کی تلاش میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء ان کی رہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور ’’ صلاح‘‘ کو ڈار دینی تصور ’’ صلاحیت‘‘( (Fitness سے لے جا کر ملا دیتے ہیں ۔ 

حضرت ایوب ؑ کی شخصیت ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

ارشاد باری تعالی :

 "وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ،  فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ ذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ " سورۃ الانبیاء : 83-84)

ترجمہ : 
اور یہی ﴿ہوشمندی اور حکم و علم کی نعمت﴾ ہم نے ایوبؑ  کو دی تھی۔ یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ ” مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تُو ارحم الراحمین ہے۔“ 77 ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، 78 اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ 

-----------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودوی ؒ  لکھتے ہیں : 

" حضرت ایوب کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے ۔ جدید زمانے کے محققینِ میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے ، کوئی مصری اور کوئی عرب ۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے ، کوئی انہیں حضرت داؤد سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے ، اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے ۔ اسی کی زبان، انداز بیان، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں ، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا ہم اس پہر قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے ۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ یسعیاہ نبی اور حزقی ایل نبی کی صحیفوں میں ان کا ذکر آیا ہے ، اور یہ صحیفے تاریخی حیثیت سے زیادہ مستند ہیں ۔ یسعیاہ نبی آٹھویں صدی اور حزقی ایل نبی چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں ، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی یا اس سے پہلے کے بزرگ ہیں ۔ رہی ان کی قومیت تو سورہ نساء آیت 163 اور سورہ انعام آیت 84 میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان تو یہی ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے ، مگر وہب بن منَبّہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے بیٹے عیسُو کی نسل سے تھے ۔ 

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحۃ (13)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

"الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ” اور "الضَّالِّینَ”

پھر "صراط مستقیم” کی پہچان صرف اس کے مثبت پہلو ہی سے واضح نہیں کی گئی، بلکہ اس کا ضد مخالف پہلو بھی واضح کر دیا گیا : "غیر المغضوب علیھم ولا الضالین” "ان کی راہ نہیں جو مغضوب ہوئے، نہ ان کی جو گم راہ ہو کر بھٹک گئے۔”

"مغضوب علیھم” گروہ "منعم علیھم” کی بالکل ضد ہے، کیونکہ انعام کی ضد غضب ہے، اور فطرت کائنات کا قانون یہ ہے کہ راست باز انسانوں کے حصے میں انعام آتا ہے، نافرمانوں کے حصے میں غضب۔ "گمراہ” وہ ہیں جو راہ حق نہ پا سکے اور اس کی جستجو میں بھٹک گئے۔ پس مغضوب وہ ہوئے جنہوں نے راہ پائی اور اس کی نعمتیں بھی پائیں، لیکن پھر اس سے منحرف ہو گئے اور نعمت کی راہ چھوڑ کر محرومی و شقاوت کی راہ اختیار کر لی۔ "گمراہ” وہ ہوئے جو راہ ہی نہ پا سکے، اس لیے ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں اور صراط مستقیم کی سعادتوں سے محروم ہیں۔

"مغضوب علیہ” کی محرومی حصول معرفت کے بعد انکار کا نتیجہ ہے اور "گم راہ” کی محرومی جہل کا نتیجہ۔ پہلے نے پا کر، روگردانی کی اس لیے محروم ہوا، دوسرا پا ہی نہ سکا اس لیے محروم ہے۔ محروم دونوں ہوئے، مگر یہ ظاہر ہے کہ پہلے کی محرومی زیادہ مجرمانہ ہے، کیونکہ اس نے نعمت حاصل کر کے پھر اس سے روگردانی کی، اسی لیے اسے مغضوب کہا گیا اور دوسرے کی حالت صرف گم راہی کے لفظ سے تعبیر کی گئی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (12/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


خلاصہ بحث 

متذکرہ صدر تفصیلات کا ما حصل حسبِ ذیل دفعات میں بیان کیا جا سکتا ہے :

۱۔ نزول قرآن کے وقت دنیا کا مذہبی تخیل اس سے زیادہ وسعت نہیں رکھتا تھا کہ نسلوں، خاندانوں اور قبیلوں کی معاشرتی حد بندیوں کی طرح مذہب کی بھی ایک خاص گروہ بندی کر لی گئی تھی۔ ہر گرہ بندی کا آدمی سمجھتا تھا دین کی سچائی صرف اسی کے حصے میں آئی ہے۔ جو انسان اس مذہبی حد بندی میں داخل ہے نجات یافتہ ہے، جو داخل نہیں ہے نجات سے محروم ہے۔

۲۔ ہر گروہ کے نزدیک مذہب کی اصل و حقیقت محض اس کے ظاہری اعمال ورسوم تھے۔ جوں ہی ایک انسان انہیں اختیار کر لیتا، یقین کیا جاتا کہ نجات و سعادت اسے حاصل ہو گئی، مثلاً عبادت کی شکل، قربانیوں کی رسوم، کسی خاص طعام کا کھانا یا نہ کھانا، کسی خاص وضع و قطع کا اختیار کرنا یا نہ کرنا۔

۳۔ چونکہ یہ اعمال و رسوم ہر مذہب میں الگ الگ تھے اور ہر گروہ کے اجتماعی مقتضیات یکسان نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے ہر مذہب کا پیرو یقین کرتا تھا کہ دوسرا مذہب مذہبی صداقت سے خالی ہے، کیونکہ اس کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔

۴۔ ہر مذہبی گروہ کا دعویٰ صرف یہی نہ تھا کہ وہ سچا ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ دوسرا جھوٹا ہے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ہر گروہ صرف اتنے ہی پر قانع نہیں رہتا کہ اپنے ی سچائی کا اعلان کر دے، بلکہ یہ بھی ضروری سمجھتا کہ دوسروں کے خلاف تعصب و نفرت پھیلائے۔ اس صورت حال نے نوع انسانی کو ایک دائمی جنگ و جدال کی حالت میں مبتلا کر دیا تھا۔ مذہب اور خدا کے نام پر ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت کرتا اور اس کا خون بہانا جائز سمجھتا۔

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحہ (11/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


قرآن کا پیروان مذاہب سے مطالبہ

اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں اس نے کسی مذہب کے پیرو سے بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ کوئی نیا دین قبول کر لے، بلکہ ہر گروہ سے یہی مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے اپنے مذاہب کی حقیقی تعلیم پر جسے تم نے طرح طرح کی تحریفوں اور اضافوں سے مسخ کر دیا ہے، سچائی کے ساتھ کار بند ہو جاؤ۔ وہ کہتا ہے : اگر تم نے ایسا کر لیاتو میرا کام پورا ہو گیا، کیونکہ جوں ہی تم اپنے مذہب کی تعلیم کی طرف لوٹوگے، تمہارے سامنے وہی حقیقت آموجود ہو گی جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ میرا پیام کوئی نیا پیام نہیں ہے، وہی قدیم اور عالم گیر پیام ہے جو تمام بانیان مذہب دے چکے ہیں :

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۱ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا۱ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبُِٔوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۸:۵۔۶۹)

” (اسے پیغمبر! ان لوگوں سے ) کہہ دو، اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اورانجیل کی اور ان تمام صحیفوں کی جو تم پر نازل ہوئے ہیں، حقیقت قائم نہ کرو، اس وقت تک تمہارے پاس دین میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور (اے پیغمبر!) تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے (بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں، تم دیکھو گے کہ) ان میں سے بہتوں کا کفر و طغیان اس کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ جائے گا، تو جن لوگوں نے انکار حق کی راہ اختیار کر لی ہے، تم ان کی حالت پر بے کار کو غم نہ کھاؤ۔ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو نصاریٰ ہیں (یہ ہوں یا کوئی ہو) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس کے عمل بھی نیک ہوئے تو اس کے لیے نہ تو کسی طرح کا خوف ہے، نہ کسی طرح کی غمگینی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (10/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

پیروان مذہب نے دین کی وحدت بھلا دی اور شرع کے اختلاف کو بناء نزاع بنا لیا

قرآن کا جب ظہور ہوا تو دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام پیروان مذاہب،  مذہب کو صرف اس کے ظواہر و رسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا،  ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے،  کیونکہ وہ دیکھتا تھا  دوسرے کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ نہیں،  یہ اعمال و رسوم نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے۔ یہ محض مذہب کی عملی زندگی کا ظاہری ڈھانچا ہے مگر روح و حقیقت ان سے بالاتر ہے اور وہی اصل دین ہے۔ یہ اصل دین کیا ہے ؟ ایک خدا کی پرستش اور نیک عملی کی زندگی،  یہ کسی ایک گروہ ہی کی میراث نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی انسان کو نہ ملی ہو،  یہ تمام مذاہب میں یکساں طور پر موجود ہے۔ اور چونکہ یہ اصل دین ہے،  اس لیے نہ تو اس میں تغیر ہوا نہ کسی سے اختلاف رونما ہوا۔ اعمال و رسوم فرع ہیں،  اس لیے ہر زمانے اور ہر ملک کی حالت کے مطابق بدلتے رہے اور جس قدر بھی اختلاف ہوا انہیں میں ہوا۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ (9/12)، مولانا ابوالکلام آزاد

   اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (۷)


ہدایت

"ہدایت” کے معنی رہنمائی کرنے،  راہ دکھانے،  راہ پر لگا دینے کے ہیں۔ اجمالاً اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں ہم چاہتے ہیں ہدایت کے مختلف مراتب و اقسام پر نظر ڈالیں جن کا قرآن حکیم نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے ایک خاص مرتبہ وحی و نبوت کی ہدایت کا ہے۔


تکوین وجود کے مراتب اربعہ


تم ابھی پڑھ چکے ہو کہ خدا کی ربوبیت نے جس طرح مخلوقات کو ان کے مناسب حال جسم و قویٰ دیے ہیں،  اسی طرح ان کی ہدایت کا فطری سامان بھی مہیا کر دیا ہے۔ فطرت کی یہی ہدایت ہے جو ہر وجود کو زندگی و معیشت کی راہ پر لگاتی اور ضروریات زندگی کی جستجو میں رہنما ہوتی ہے۔ اگر فطرت کی یہ ہدایت موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی زندگی کو بقا کا سامان بہم پہنچا سکتی۔ چنانچہ قرآن نے جا بجا اس حقیقت پر توجہ دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے : ہر وجود کے بننے اور درجہ تکمیل تک پہنچنے کے مختلف مراتب ہیں اور ان میں آخری مرتبہ ہدایت کا مرتبہ ہے۔ سورۃ الاعلیٰ میں بالترتیب چار مرتبوں کا ذکر کیا گیا ہے :

الَّذِی خَلَقَ فَسَوَّىٰ (۲)وَالَّذِی قَدَّرَ فَهَدَىٰ (۳) – سورۃ نمبر ۸۷

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (8/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ صفات رحمت و جمال : ثانیاً تنزیہہ کی طرح صفات رحمت و جمال کے لحاظ سے بھی قرآن کے تصور پر نظر ڈالی جائے تو اس کی شان تکمیل نمایاں ہے۔ نزول قرآن کے وقت یہودی تصور میں قہر و غضب کا عنصر غالب تھا۔ مجوسی تصور نے نور و ظلمت کی دو مساویانہ قوتیں الگ الگ بنا لی تھیں۔ مسیحی تصور نے رحم و محبت پر زور دیا تھا۔ لیکن جزا کی حقیقت مستور ہوگئی تھی۔ اسی طرح پیروان بدھ نے بھی صرف رحم و محبت محبت پر زور دیا۔ عدالت نمایاں نہیں ہوئی۔ گویا جہاں تک رحمت و جمال کا تعلق ہے یا تو قہر و غضب کا عنصر غالب تھا یا مساوی تھا یا پھر رحمت و محبت آئی تھی تو اس طرح آئی تھی کہ عدالت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔

لیکن قرآن نے ایک طرف تو رحمت و جمال کا ایسا کامل تصور پیدا کردیا کہ قہر و غضب کے لیے کوئی جگہ ہی نہ رہی دوسری طرف جزائے عمل کا سر رشتہ بھی ہاتھ سے نہیں دیا کیونکہ جزا کا اعتقاد قہر و غضب کی بنا پر نہیں بلکہ عدالت کی بنا پر قائم کردیا۔ چنانچہ صفات الٰہی کے بارے میں اس کا عام اعلان یہ ہے : "قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی : اے پیغمبر، ان سے کہہ دو، تم خدا کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس صفت سے بھی پکارو اس کی ساری صفتیں حسن و خوبی کی صفتیں ہیں"

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (7/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ ہندوستانی تصور : ہندوستان کے تصور الوہیت کی تاریخ متضاد تصوروں کا ایک حیرت انگیز منظر ہے۔ ایک طرف اس کا توحیدی فلسفہ ہے، دوسری طرف اس کا عملی مذہب ہے۔ توحیدی فلسفہ نے استغراق فکر و عمل کے نہایت گہرے اور دقیق مرحلے طے کیے اور معاملہ کو فکری بلندیوں کی ایک ایسی اونچی سطح تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں قدیم قوموں کے مذہبی تصورات میں نہیں ملتی۔ عملی مذہب نے اشراک اور تعدد الہ کی بے روک راہ اختیار کی اور اصنامی تصوروں کو اتنی دور تک پھیلنے دیا کہ ہر پتھر معبود ہوگیا، ہر درخت خدائی کرنے لگا، اور ہر چوکھٹ سجدہ گاہ بن گئی۔ وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ بلندی کی طرف بھی ڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا۔ اس کے خواص نے اپنے لیے توحید کی جگہ پسند کی اور عوام کے لیے اشراک اور اصنام پرستی کی راہ مناسب سمجھی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (6/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 الرحمن الرحیم کی تفسیر کا بقیہ حصہ):

دنیا میں جب کبھی سچائی کی کوئی دعت ظاہر ہوئی ہے، تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کرلیا ہے کچھ نے انکار کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اس کے خلاف طغیان و جحود اور ظلم و شرارت کی جتھا بندی کرلی ہے۔ قرآن کا جب ظہور ہوا تو اس نے بھی یہ تینوں جماعتیں اپنے سامنے پائیں۔ اس نے پہلی جماعت کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا دوسری کو دعوت و تذکیر کا مخاطب بنایا مگر تیسری کے ظلم و طغیان پر حسب حالت و ضرورت پر زجر و توبیخ کی۔ اگر ایسے گروہ کے لیے بھی اس کے لب و لہجہ کی سختی رحمت کے خلاف ہے تو بلاشبہ اس معنی میں قرآن رحمت کا معترف نہیں اور یقیناً اس ترازو سے اس کی سے اس کی رحمت نہیں تولی جاسکتی۔

تم بار بار سن چکے ہو کہ وہ دین حق کے معنوی قوانین کو کائنات فطرت کے عام قوانین سے الگ نہیں قرار دیتا بلکہ انہی کا ایک گوشہ قرار دیتا ہے۔ فطرت کائنات کا اپنے فعل و ظہور کے ہر گوشے میں کیا حال ہے؟ یہ حال ہے کہ وہ اگرچہ سر تا سر رحمت ہے لیکن رحمت کے ساتھ عدالت اور بخشش کے ساتھ جزا کا قانون بھی رکھتی ہے۔ پس قرآن کہتا ہے، میں فطرت سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ تمہاری جس مزعومہ رحمت سے فطرت کا خزانہ خالی ہے یقینا میرے آستین و دامن میں نہیں مل سکتی :

’’ فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون : اللہ کی فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بناوٹ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی (اللہ کی ٹھہرائی ہوئی فطرت) سچا اور ٹھیک ٹھیک دین ہے لیکن اکثر انسان ایسے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہیں‘‘۔

قرآن کے ان تمام مقامات پر نظر ڈالو جہاں اس نے سختی کے ساتھ منکروں کا ذکر کیا ہے یہ حقیقت بیک نظر واضح ہوجائے گی۔(آیت 2، الرحمن الرحیم، کی تفسیرختم ہوئی)

۔۔۔۔۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (5/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 کی تفسیر کا بقیہ حصہ): ’’إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ : اور (دیکھو) تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اسی کی ایک ذات، رحمت والی اور اپنی رحمت کی بخشایشوں سے ہمیشہ فیض یاب کرنے والی ! بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں، اور کشتی میں جو انسان کی کاربراریوں کے لیے سمندر میں چلتی ہے اور اور بارش میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کی (آبپاشی) سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (اپنی مقررہ جگہ کے اندر) بندھے رکھے ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے (اللہ کی ہستی اور اس کے قوانین فضل و رحمت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں‘‘ (البقرہ : 163۔164)

اسی طرح ان مقامات کا مطالعہ کرو جہاں خصوصیت کے ساتھ جمال فطرت سے استدلال کیا ہے : ’’أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (٦) وَالأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (٧) تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ : کیا کبھی ان لوگوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا نہیں کہ کس طرح ہم نے اسے بنایا ہے اور کس طرح اس کے منظر میں خوشنمائی پیدا کردی ہے اور پھر یہ کہ کہیں بھی اس میں شگاف نہیں؟ اور اسی اور اسی طرح زمین کو دیکھو کس طرح ہم نے اسے فرش کی طرح پھیلا دیا، اور پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور پھر کس طرح قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگا دیں؟ ہر اس بندے کے لیے جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اس میں غور کرنے کی بات اور نصیحت کی روشنی ہے‘‘ (ق :6۔8)

قرآن کریم اور روحانیت

پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی


انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔جسم ایک مادی وجود ہے جسے آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے اور حواس کے ذریعے اسے محسوس کیا جا سکتا ہے، جب کہ روح غیرمادی وجود ہے، جسے نہ تو چھو ا جا سکتا ہے اور نہ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، مگر انسان کے وجود کے لیے اس حد تک لازم ہے کہ جسم اس کے بغیر باقی نہیں رہتا بلکہ فنا ہو جاتا ہے۔ روح کا رشتہ جس لمحے جسم سے منقطع ہوتا ہے انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور وہ مُردہ قرار پاتا ہے۔ جسم اپنی بقا کے لیے روح کا محتاج ہے۔


سوال یہ ہے کہ روح کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟


عصر حاضر کے مغربی مفکرین روح کو بھی مادّی شے سمجھتے ہیں، یعنی جس طرح جسم مادی وجود ہے اسی طرح روح کو بھی مادی وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان دونوں مادوں کے اتصال سے انسانی زندگی قائم رہتی ہے۔ روح سے جدا ہوکر جسم گل سڑ جاتا ہے اور روح بھی فنا ہو جاتی ہے ۔ جرمن فلسفی کانٹ کا کہنا ہے کہ: ’’ہم اپنے وجود کے اندر نہ تو مافوق الشعور شے کو تسلیم کر سکتے ہیں اور نہ اس کے اثرات کا تجربہ کر سکتے ہیں ‘‘۔ (Encyclopedia of Religions and Ethics، نیویارک، ۱۹۵۸ء، جلد xi، ص ۸۳)


ام الکتاب ۔ تفسیرسورۃ الفاتحۃ (4/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

ام الکتاب - سورۃ الفاتحۃ - مولانا ابوالکلام آزاد 
(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے !

ماضی کے ایک نقطہ بعید کا تصور کرو۔ جب ہمارا یہ کرہ سورج کے منتہب کرے سے الگ ہوا تھا۔ نہیں معلوم کتنی مدت اس کے ٹھنڈے اور معتدل ہونے میں گزر گئی اور یہ اس قابل ہوا کہ زندگی کے عناصر اس میں نشوونما پا سکیں۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب اس کی سطح پر نشوونما کی سب سے پہلی داغ بیل پڑی اور پھر نہیں معلوم کتنی مدت کے بعد زندگی کا وہ اولین بیج وجود میں آسکا جسے پروٹو پلازم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر حیات عضوی کے نشوونما کا دور شروع ہوا اور نہیں معلوم کتنی مدت اسی پر گزر گئی کہ اس دور نے بسیط سے مرکب تک اور ادنی سے اعلی درجے تک ترقی کی منزلیں طے کیں۔ یہاں تک کہ حیوانات کی ابتدائی کڑیاں ظہور میں آئیں اور پھر لاکھوں برس اس پر نکل گئے کہ یہ سلسلہ ارتقا وجود انسانی تک مرتفع ہو۔ پھر انسان کے جسمانی ظہور کے بعد اس کے ذہنی ارتقا کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک طول طویل مدت اس پر گزر گئی۔ بالآخر ہزاروں برس کے اجتماعی اور ذہنی ارتقا کے بعد وہ انسان ظہور پذیر ہوسکا جو کرہ ارضی کے تاریخی عہد کا متمدن اور عقیل انسان ہے۔ گویا زمین کی پیدائش سے لے کر تریق یافتہ انسان کی تکمیل تک، جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ بنتا سنورتا رہا ہے وہ تمام تر انسان کی پیدائش و تکمیل ہی کی سرگزشت ہے۔

ام الکتاب : تفسیر سورۃ الفاتحۃ (3/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

ربوبیت

حمد کے بعد بالترتیب چار صفتیں بیان کی گئی ہیں (رب العالمین، الرحمن، الرحیم، مالک یوم الدین) چونکہ الرحمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلوؤں سے ہے اس لیے دوسرے لفظوں میں انہیں یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت، رحمت، عدات، تین صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

الہ کی طرح ’’ رب‘‘ بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہیے۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا ’’ ربی‘‘ اور ’’ رباہ‘‘ پرورش کنندہ، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ’’ رابو‘‘ بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر دیتا ہے۔

بہرحال عربی میں ’’ ربوبیت‘‘ کے معنی پالنے کے لیے ہیں لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہیے۔ اسی لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ ’’ ھو انشاء الشیء حالا فحالا الی حد التمام‘‘ (مفردات راغب اصفہانی)۔ یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا حتی کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو روپیہ دیدے تو یہ اس کا کرم ہوگا، جود ہوگا، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتا جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عافطہ سے خالی ہوگا ربوبیت نہیں ہوسکتا۔

روزہ ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۙ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾ شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾ اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪ وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿  ۱۸۷﴾

ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔1چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دُوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں﴿پھر نہ رکھیں﴾ تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔ 

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔

اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں  یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔

تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو۔ نیز راتوں کو کھاوٴ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہیِ شب کی دھاری سے سپیدہ ٴ صبح کی دھاری نمایا ں نظر آجائے۔ تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پُورا کرو ۔ اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو ، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویےّ سے بچیں گے۔

(سورۃ البقرۃ : 183 تا 187)

--------------------------------

تفسیری حواشی : 

1- اسلام کے اکثر احکام کی طرح روزے کی فرضیّت بھی بتدریج عائد کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مسلمانوں کو صرف ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر یہ روزے فرض نہ تھے۔ پھر سن ۲ ہجری میں رمضان کے روزوں کا یہ حکم قرآن میں نازل ہوا، مگر ا س میں اتنی رعایت رکھی گئی کہ جو لوگ روزے کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور پھر بھی وہ روزہ نہ رکھیں، وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ بعد میں دُوسرا حکم نازل ہوا اور یہ عام رعایت منسُوخ کر دی گئی۔ لیکن مریض اور مسافر اور حاملہ یا دُودھ پلانے والی عورت اور ایسے بڈھے لوگوں کے لیے، جن میں روزے کی طاقت نہ ہو، اس رعایت کو بدستور باقی رہنے دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ بعد میں جب عذر باقی نہ رہے تو قضا کے اتنے روزے رکھ لیں جتنے رمضان میں اُن سے چھُوٹ گئے ہیں۔