انبياء کی بعثت میں اللہ تعالی کی سنت - امین احسن اصلاحی

ارشاد باری تعالی ہے :  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (94)  ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (95) وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97)  أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّـهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (99)  أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (100)   تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ (101)  وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ (102)
( سورۃ الاعراف : 94-102

ترجمہ:  

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔تو کیا بستیوں والے نچنت ( بے خوف) رہ سکے اس بات سے کہ آ دھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ ان پر آ دھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔ ( سورۃ الاعراف : 94-102) 

---------

اسلامی عقائد کے باب میں مسلم فلاسفہ اور متکلمین کی غلطی - ابوالبشر احمد طیب

اسلامی عقائد کے باب میں مسلم فلاسفہ اور متکلمین کی غلطی 
فلسفہ یونان کا اصل موضوع ، ان کے غور و فکر کا اصل میدان طبیعات اور ریاضیات ہے۔ لیکن جس میدان میں ان کو ٹھوکر لگی وہ عقائد یا الہیات ہے۔ لیکن ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو آج بھی عقائد کے مسائل میں ان کو قرآن وحدیث کے مقابل لاتے ہیں ۔ حالانکہ جن غیبی حقائق کی انبیاء علیہ السلام نے خبر دی ان سے یونانی فلاسفر بالکل ناآشنا تھے ۔ 


انسان محدود عقل اور مشاہدات سے ان موجودات کا مشاہدہ کسیے کرسکتا ہے جن تک اس کی رسائی نہیں ہے ۔ ان کا حال تو ایسا تھا جیسے قرآن نے بیان کیا" بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ (یونس : 39) 


انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلا دیا جن کا ان کو پورا علم حاصل نہیں تھا حالانکہ ابھی تک ان پر ان کی پوری حقیقت واضح نہیں ہوئی۔اسی طرح ان سے پہلے والوں نے کیا ۔ 

اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں ایمان لا نے حکم تھا اس لئے یہ کسی علمی موشگافیوں اور قیاس آرائیوں کا مسئلہ نہیں تھا ، اس بارے میں انسانی کا ذریعہ علم صرف انبیاء کرام کی اطلاع اور وحی الہی ہے ۔ اسی سے ہی اللہ کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے ۔ مسلمانوں کے پاس عقائد کی تفصیلات معلوم کرنے کےلئے قرآن و حدیث کی صورت میں سب سے محکم بنیاد موجود ہے ۔ اس باب میں ان کو یونانی فلسفہ کی ذہنی موشگافیوں کی قطعا ضرورت نہیں ہے ۔ صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ کرام ، اور محدثین اسی مسلک پر قائم تھے۔

نِعمَ العَبدُ! حضرت ایوب علیہ السلام - ابوالبشر احمد طیب

اسلامی اور اسرائیلی روایات میں حضرت ایوب ؑ کا قصہ ، بہت معروف و مشہور ہے یہاں تک کہ "صبر ایوب" ایک محاورہ بن گیا ہے ، لیکن اس قصہ پر اسرائیلی روایات کی کچھ ایسی تہہ جم گئی ہے کہ اصل حقیقت خرافات کے پردہ میں چھپ گئی ہے ۔ بائیبل میں ایک صحیفہ، سفر ایّوب ؑ کے نام سے شامل ہے ، محققین کا خیال ہے کہ یہ اصلا قدیم عربی میں لکھی گئی تھی ، حضرت موسی ؑ نے اس کو عربی سے عبرانی میں منتقل کیا ہے ۔ تورات میں سب سے قدیم صحیفہ ،سفر ایوب ہے ، اس اعتبار سے حضرت ایوب ؑ کا زمانہ موسی ؑ سے بہت پہلے تھا ۔ یہ صحیفہ حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس صحیفہ کا تعلق براہ راست حضرت ایوب ؑ سے ہے یا نہیں ۔ اور اس لیے بھی کہ قرآن میں اور خود اس صحیفہ کی ابتدا میں حضرت ایّوب ؑ کے جس صبرِ عظیم کی تعریف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایّوب ؑ اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے، حتٰی کہ ان کے ہمنشین انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے رہےکہ خدا ظالم نہیں ہے، مگر وہ کسی طرح ان کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے ۔

حضرت ایوب ؑ کی نسب ، قوم ، زمانہ کے متعلق بہت شدید اختلافات ہیں، بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے آپ فرزندان یعقوب ؑ کے ہمعصر ہیں، جدید تحقیق میں بعض ان کو مصری اور بعض عرب اور بعض اسرائیلی قرار دیتے ہیں، کوئی ان کو موسی ؑ سے پہلے اور کوئی داؤد ؑاور سلیمانؑ کے زمانہ کا قرار دیتا ہے ۔ اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زوجہ، حضرت یوسف ؑ کےفرزند ابفرائین کی لخت جگر تھی جو بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں ، یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے دوران ، ان کی باوفا بیوی کے سوا گھر کے بیشتر افراد ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ کچھ روایات میں ذکر ہے کہ آپ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے بھائی عیسو کی اولاد میں سے تھے ، عیسو فلسطین سے حضرت اسماعیل ؑ کے پاس آگئےتھے ، وہاں پر اسماعیل ؑ کی صاحبزادی سے شادی کی ہے ، عیسوکا نام عرف عام میں ادوم تھا، اس لیے ان کے خاندان اور علاقہ کا نام ادوم پڑگیا ، چند صدیوں کے بعد یہ ایک عظیم قوم بن گئی ، ادوم کی ایک نسل کانام عوض تھا ، حضرت ایوب ؑ کا تعلق اسی نسل سے تھا ، جدید تحقیق کے مطابق آپ کا علاقہ عرب کے شمال و مغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب تھا ۔ اس لیے بعض علماء نے ان کو عرب قرار دیا ، آپ کا زمانہ معین نہ ہوسکا ، بعض کا خیال ہے کہ آپ کا ز مانہ ایک ہزار قبل مسیح اور سات سو قبل مسیح کے درمیان ہے ۔

ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کا اختلاف - ڈاکٹر اسرار احمد ؒ

ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کا اختلاف 
قرآن حکیم کی ترتیب کے ضمن میں پہلی بات جو بالکل متفق علیہ اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے وہ یہ ہے کہ ترتیب ِنزولی بالکل مختلف ہے اور ترتیب ِمصحف بالکل مختلف ہے. اکثر و بیشتر جو سورتیں ابتدا میں نازل ہوئیں وہ آخر میں درج ہیں اور ہجرت کے بعد جوسورتیں نازل ہوئی ہیں (البقرۃ ‘ آل عمران‘ النساء‘ المائدۃ)ان کو شروع میں رکھاگیاہے. تو اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ترتیب ِنزولی اور ترتیب مصحف مختلف ہے.

جہاں تک ترتیب نزولی کا تعلق ہے‘ اس سے ہر طالب علم کو دلچسپی ہوتی ہے جو قرآن مجید پر غور کرنا چاہتا ہے. اس لیے کہ ترتیبِ نزولی کے حوالے سے قرآن حکیم کے معانی اور مفاہیم کا ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے. ایک تو یہ کہ ایک خاص پس منظر کے ساتھ سورتیں جڑتی ہوئی چلی جاتی ہیں. ابتدا میں کیا حالات تھے جن میں یہ سورتیں نازل ہوئیں‘ پھر حالات نے کیا پلٹا کھایا تو اگلی سورتیں نازل ہوئیں. چنانچہ ترتیبِ نزولی کے حوالے سے قرآن حکیم کو مرتب کیا جائے تو ایک اعتبار سے وہ سیرت النبیؐ کی کتاب بن جائے گی. اس لیے کہ آغاز وحی کے بعد سے لے کر آپؐ کے انتقال تک وہ زمانہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا. دوسرے یہ کہ اس پورے زمانے کے ساتھ قرآن مجید کی آیات اور سورتوں کا جو مجموعی ربط ہے ترتیب نزولی کی مدد سے اسے سمجھنے اور غور و فکر کرنے میں مدد ملتی ہے.

قرآن کی نزولی و مصحفی ترتیب کی تشکیل و تدوین کی مختصر تاریخ - مفتی محمد ہاشم

قرآن کی نزولی و مصحفی ترتیب کی تشکیل و تدوین کی مختصر تاریخ 
 عربی زبان میں’’جمع القرآن‘‘  کالفظ دو (۲)معانی میں استعمال ہوتا ہے:

1)       زبانی حفظ کے معنی میں

2)       کتابت اور تدوین کے معنی میں

عہدِرسالت میں مذکورہ دونوں معنوں میں حفاظت ِقرآن کا انتظام ہوا-جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے تو خود رسول اللہ(ﷺ)نے قرآنِ کریم کو اپنے سینہ میں محفوظ کیا اور قرآنِ کریم آپ (ﷺ)کے صفحاتِ قلب پر نقش تھا-نیز آپ(ﷺ)کے دور میں متعدد صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) قرآنِ کریم کے حافظ تھے،جہاں تک دوسرے معنی میں حفاظت ِقرآن کا تعلق ہے تو اس کا اہتمام بھی دورِ نبوی (ﷺ)میں بخوبی ہوا-آپ (ﷺ)کی نگرانی میں اور آپ(ﷺ)کے سامنے مکمل قرآنِ کریم لکھا گیا،اگرچہ پتھروں،کاغذ اور چمڑے کے ٹکڑوں پر تھا ، لیکن یہ بات حتمی ہے کہ ابھی رسول اللہ(ﷺ)کا انتقال نہیں ہوا تھا کہ قرآنِ کریم اکثر صحابہ کرام(رضی اللہ عنہ)کے سینوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اشیاء پر تحریری شکل میں بھی موجود تھا-

حفاظتِ قرآن مجید کے طریقے:

مستشرقین کی قرآن مجید کے قصوں کے مآخذ کا کھوج لگانے کی ناکام کوشش ۔

قرآن اور مستشرقین
مستشرقین کی قرآن مجید کے قصوں کے
۔ مآخذ کا کھوج لگانے کی ناکام کوشش
مستشرقین مغرب نے  قرآن مجید کے قصوں کے مآخذ کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے ، اوردعوی کیا ہے کہ  محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) نے وحی کے بجائے دوسرے ذرائع سے نقل کر کے یہ قصہ بنا لیا اور پھر دعویٰ کر دیا کہ یہ تو میرے اوپر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔  وہ  تین قصے تاریخ سے پیش کرتے ہیں : ایک داستان گلگامیش ، دوسرے سکندر نامۂ سرُیانی ، اور تیسرے وہ یہودی روایت جس کا تَلْمُود میں ذکر ہے ، مگر اس میں حضرت موسیٰؑ کے بجاۓ ربی یہوحانان بن لادی کی طرف منسوب ہے اور تلمود کا بیان یہ ہے کہ ربی مذکور کو یہ واقعہ حضرت الیاس کے ساتھ پیش آیا تھا جو دنیا سے زندہ اٹھاۓ جانے کے بعد فرشتوں میں شامل کر لیے گۓ ہیں اور دنیا کے انتظام پر مامور ہیں۔ (The Talmud Selections By H Polano, pp. 313 .16 )

مستشرقین کی غلطی یہ ہے کہ  جو تحقیقات  وہ قرآن کے بارے میں  کرتے ہیں اس میں پہلے  یہ طے کر لیتے ہیں کہ قرآن ایک انسانی کلام  ہے یہ منزل من اللہ نہیں ہے  ،اس غلط مقدمہ کی بنیاد پر  وہ کوشش کرتے ہیں  کہ جو کچھ محمدﷺ  نے  پیش کیا ہے یہ فلاں فلاں کتاب اور فلاں فلاں مقامات سے چراۓ ہوۓ مضامین اور معلومات ہیں۔ اس طرز تحقیق میں یہ لوگ اس قدر بے شرمی کے ساتھ کھینچ تان کر زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں ، ایک معقول انسان کو گھن آنی لگتی ہے،   اگر کوئی  ان سے صرف چار سوالوں  کا جواب طلب کرے تو ان کی اس متعصبانہ افترا پردازی کا پردہ بالکل چاک ہو جاۓ : 

قرآنی قصص کا انداز بیان - ابوالبشر احمد طیب

قرآن مجید کےقصص کا اسلوب بہت ہی منفرد ہے۔ اکثر قصص  کی مختلف کڑیوں کو مختلف مقامات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن واقعات کی تمام کڑیاں، ہر مقام وموقع پر سیاق و سباق کے لحاظ سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔  ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان واقعات کی کڑیوں کا ایک خاص نظم  ہے، مکی سورتوں میں اکثر وافعات مختصر اشاروں پر مشتمل ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ مدنی سورتوں میں ان اشاروں میں طوالت آتی جاتی ہے۔ 

قرآنی قصص کے اسلوب کی ایک خوب صورت مثال حضرت موسی ؑ کا قصہ ہے ، ان کا ذکر قرآن مجید میں تیس مقامات میں ملتا ہے ، اس کے درج ذیل مراحل ہیں :

سورہ اعلی مکی سورہ میں حضرت موسی ؑ کے صحیفہ کی طرف صرف مختصر اشارہ ہے وہاں حضرت ابراھیم ؑ کے صحیفہ کے ساتھ موسی کے صحیفہ کا بھی ذکر آیا ۔ بھیر سورہ نجم  اور سورہ فجر جو مکی سورہ ہیں، دونوں میں عاد و ثمود کے ساتھ صرف فرعوں کا  ذکر آیا ہے لیکن حضرت موسی کا ذکر نہیں آیا  (الفجر : 13)،  سورہ اعراف میں جو انتالیسویں سورہ ہے اس میں حضرت موسی کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ ہے اس میں دیگر انبیاء کے بھی واقعات ہیں۔ 

أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدابھی ہے ؟ 


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ ﴿اِن سے پُوچھو﴾ اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ 

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ 

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟  ﴿اِن کاموں میں شریک﴾ ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ہے؟ 


 بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾   ﴿نہیں﴾، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔



 اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ 



اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں ﴿پہاڑوں کی﴾ میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں(میٹھا اور کھارا) کے درمیان پردے حائل کر دیے؟



ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟   کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے؟



بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾   نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔


اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ 

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور ﴿کون ہے جو﴾ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿یہ کام کرنے والا﴾ ہے؟

قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾  تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ 


 اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟

 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟

تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾  بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ 

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟

قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾  کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

 قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا ۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾


بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 

----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66)   ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اصحاب کھف کا مکالمہ

" اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾ اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ  فَقَالُوۡا : "

کیا تم سمجھتے ہو کہ غاراور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔   اور انہوں نے کہا کہ : 

" رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا"  ﴿۱۰﴾

 ” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“

"  فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا ﴿۱۱﴾ ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿۱۲﴾   نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی ﴿۱۳﴾ وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ  اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا :

 تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔  ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں  ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے۔ جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا : 


" رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا " ﴿۱۴﴾

" ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا " ﴿ؕ۱۵﴾ 

 "وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٔۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا"  ﴿۱۶﴾

قرآنی مکالمات : جن کا ایک مکالمہ


یہ مکالمہ سورۃ الجن میں ہے " الجن" اس سورت کا نام بھی ہے،  اس میں جنوں کے قرآن سن کر  اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (1)
ارشاد باری تعالی ہے : 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا : 

اے نبی ؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا پھر ﴿جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے ﴾ کہا:

 اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

” ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے  جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“

 وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾ 

اور یہ کہ” ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾

اور یہ کہ” ہمارےنادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“

 وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾ 

سورۃ الفجر : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  پہلے ہی لفظ والفجر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔


زمانۂ نزول :


اس کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکۂ معظمہ میں اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف ظلم کی چکی چلنی شروع ہوچکی تھی۔ اسی بنا پر اہل مکہ کو عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔


موضوع اور مضمون :


اس کا موضوع آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات ہے جس کا اہل مکہ انکار کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے جس طرح ترتیب وار استدلال کیا گیا ہے، اس کو اسی ترتیب کے ساتھ غور سے دیکھیے۔


سب سے پہلے فجر اور دس راتوں اور جفت اور طاق، اور رخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر سامعین سے سوال کیا گیا ہے کہ جس بات کا تم انکار کر رہے ہو اس کے برحق ہونے کی شہادت دینے کے لیے کیا یہ چیزیں کافی نہیں ہیں؟ یہ چیزیں اس باقاعدگی کی علامت ہیں جو شب و روز کے نظام میں پائی جاتی ہے، اور ان کی قسم کھا کر یہ سوال اس معنی میں کیا گیا ہے کہ خدا کے قائم کیے ہوئے اس حکیمانہ نظام کو دیکھنے کے بعد بھی کیا اس امر کی شہادت دینے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ نظام جس خدا نے قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آحرت برپا کرے، اور اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی بازپرس کرے۔


اس کے بعد انسانی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے بطور مثال عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام کو پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ حد سے گزر گئے اور زمین میں انہوں نے بہت فساد مچایا تو اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں نہیں چلا رہی ہیں، نہ یہ دنیا کسی چوپٹ راجہ کی اندھیر نگری ہے، بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل یہ تقاضا خود اس دنیا میں انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے کہ عقلی اور اخلاقی حس دے کر جس مخلوق کو اس نے یہاں تصرف کے اختیارات دیے ہیں اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔


اس کے بعد انسانی معاشرے کی عام اخلاقی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں عرب جاہلیت کی حالت تو اس وقت سب کے سامنے عملاً نمایاں تھی، اور خصوصیت کے ساتھ اس کے دو پہلوؤں پر تنقید کی گئی ہے۔ ایک، لوگوں کا مادہ پرستانہ نقطۂ نظر جس کی بنا پر وہ اخلاق کی بھلائی اور برائی کو نظر انداز کر کے محض دنیا کی دولت اور جاہ و منزلت کے حصول یا فقدان کو عزت و ذلت کا معیار قرار دیے بیٹھے تھے اور اس بات کو بھول گئے تھے کہ نہ دولت مندی کوئی انعام ہے، نہ رزق کی تنگی کوئی سزا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں حالتوں میں انسان کا امتحان لے رہا ہے کہ دولت پاکر وہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے اور تنگ دستی میں مبتلا ہو کر کس روش پر چل پڑتا ہے۔ دوسرے، لوگوں کا یہ طرز عمل کہ یتیم بچہ باپ کے مرتے ہی ان کے ہاں کسمپرسی میں مبتلا ہوجاتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جس کا بس چلتا ہے مردے کی ساری میراث سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے اور کمزور حق داروں کو دھتا بتا دیتا ہے اور مال کی حرص لوگوں کو ایک ایسی نہ بجھنے والی پیاس کی طرح لگی ہوئی ہے کہ خواہ کتنا ہی مال مل جائے ان کا دل سیر نہیں ہوتا۔ اس تنقید سے مقصود لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جن انسانوں کا یہ طرز عمل ہے ان کا محاسبہ آخر کیوں نہ ہو۔


پھر کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا اور وہ اس روز ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کی سمجھ میں وہ بات آ جائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں مان رہے ہیں، مگر اس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ منکر انسان ہاتھ ملتا ہی رہ جائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں اس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگر یہ ندامت اسے خدا کی سزا سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں سے دنیا میں پورے اطمینان قلب کے ساتھ اس حق کو قبول کرلیا ہوگا جسے آسمانی صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے، خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا کے عطا کردہ اجر سے راضی ہوں گے، انہیں دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے رب کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں اور جنت میں داخل ہوجائیں ۔

سورۃ الفیل : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  پہلی ہی آیت کے لفظ اصحٰب الفیل سے ماخوذ ہے۔


زمانۂ نزول :


یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور اس کے تاریخی پس منظر کو اگر نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نزول مکۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور میں ہوا ہوگا۔


تاریخی پس منظر :


اس سے پہلے تفسیر سورۃ بروج حاشیہ ٤ میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ نجران میں یمن کے یہودی فرمانروا ذونواس نے پیروان مسیح (علیہ السلام) پر جو ظلم کیا تھا اس کا بدلہ لینے کے لیے حبش کی عیسائی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حمیری حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور 525 ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ یہ ساری کارروائی دراصل قسطنطنیہ کی رومی سلطنت اور حبش کی حکومت کے باہم تعاون سے ہوئی تھی، کیونکہ حبشیوں کے پاس اس زمانے میں کوئی قابل ذکر بحری بیڑا نہ تھا۔ بیڑا رومیوں نے فراہم کیا اور حبش نے اپنی 70 ہزار فوج اسی کے ذریعے سے یمن کے ساحل پر اتاری۔ آکے کے معاملات سمجھنے کے لیے یہ بات ابتدا ہی میں جان لینی چاہیے کہ یہ سب کچھ مذہبی جذبے سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے معاشی اور سیاسی اغراض بھی کام کر رہی تھیں، بلکہ غالباً وہی اس کی اصل محرک تھیں اور عیسائی مظلومین کے خون کا انتقام ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ 

رومی سلطنت جب سے مصر و شام پر قابض ہوئی تھی اسی وقت سے اس کی یہ کوشش تھی کہ مشرقی افریقہ، ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ ممالک اور رومی مقبوضات کے درمیان جس تجارت پر عرب صدیوں سے قابض چلے آ رہے تھے، اسے عربوں کے قبضے سے نکال کر وہ خود اپنے قبضے میں لے لے، تاکہ اس کے منافع پورے کے پورے اسی کو حاصل ہوں اور عرب تاجروں کا واسطہ درمیان سے ہٹ جائے۔ اس مقصد کے لیے 24 یا 25 قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے ایک بڑی فوج رومی جنرل ایلیس گالون (Aelius Gallus) کی قیادت میں عرب کے مغربی ساحل پر اتار دی تھی تاکہ وہ اس بحری راستے پر قابض ہوجائے جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ لیکن عرب کے شدید جغرافیائی حالات نے اس مہم کو ناکام کردیا۔ اس کے بعد رومی اپنا جنگی بیڑہ بحیرہ احمر میں لے آئے اور انہوں نے عربوں کی اس تجارت کو ختم کردیا جو وہ سمندر کے راستے کرتے تھے اور صرف بری راستہ ان کے لیے باقی رہ گیا۔ اسی بحری راستے کو قبضے میں لینے کے لیے انہوں نے حبش کی عیسائی حکومت سے گٹھ جوڑ کیا اور بحری بیڑی سے اس کی مدد کر کے اس کو یمن پر قابض کرا دیا۔ یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے متعلق عرب مورخین کے بیانات مختلف ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ وہ دو امیروں کی قیادت میں تھی، ایک اریاط دوسرا ابرھہ اور محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس فوج کا امیر اریاط تھا اور ابرھہ اس میں شامل تھا۔ 


پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ابرھہ اور اریاط باہم لڑ پڑے، مقابلے میں اریاط مارا گیا، ابرھہ ملک پر قابض ہوگیا اور پھر اس نے شاہ حبش کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اسی کو یمن پر اپنا نائب مقرر کرے۔ اس کے برعکس یونانی اور سریانی مورخین کا خیال ہے کہ فتح یمن کے بعد جب حبشیوں نے مزاحمت کرنے والے یمنی سرداروں کو ایک ایک کر کے قتل کرنا شروع کردیا تو ان میں سے ایک سردار السمیفع اشوع (جسے یونانی مورخین esymphaeus لکھتے ہیں) نے حبشیوں کی اطاعت قبول کر کے اور جزیہ ادا کرنے کا عہد کر کے شاہ حبش سے یمن کی گورنری کا پروانہ حاصل کرلیا لیکن حبشی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور ابرھہ کو اس کی جگہ گورنر بنا دیا۔ یہ شخص حبش کی بندرگاہ ادولیس کے ایک یونانی تاجر کا غلام تھا جو اپنی ہوشیاری سے یمن پر قبضہ کرنے والی حبشی فوج میں بڑا اثر و رسوخ حاصل کر گیا تھا۔ شاہ حبش نے اس کی سرکوبی کے لیے جو فوجیں بھیجیں وہ یا اس سے مل گئیں یا اس نے ان کو شکست دے دی۔

 آخر کار شاہ حبش کے مرنے کے بعد اس کے جانشیں نے اس کو یمن پر اپنا نائب السلطنت تسلیم کرلیا (یونانی مورخین اس کا نام ابرامس Abrames اور سریاری مورخین ابراھام Abraham لکھتے ہیں۔ ابرھہ غالباً اسی کا حبشی تلفظ ہے کیونکہ عربی میں اس کا تلفظ ابراہیم ہے) یہ شخص رفتہ رفتہ یمن کا خود مختار بادشاہ بن گیا، مگر برائے نام اس نے شاہ حبش کی بالادستی تسلیم کر رکھی تھی اور اپ آپ کو مفوض الملک (نائبِ شاہ) لکھتا تھا۔ اس نے جو اثر و رسوخ حاصل کرلیا تھا اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جب 543 ء میں وہ سد مارب کی مرمت سے فارغ ہوا تو اس نے ایک عظیم الشان جشن منایا جس میں قیصر روم، شاہ ایران، شاہ حیرہ اور شاہ غسان کے سفرا شریک ہوئے۔ اس کا مفصل تذکرہ اس کتبے میں درج ہے جو ابرھہ نے سد مارب پر لگایا تھا۔ یہ کتبہ آج بھی موجود ہے اور گلیزر (Glaser) نے اس کو نقل کیا ہے۔ حوالہ : مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورۃ سبا، حاشیہ 37) یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد ابرھہ نے اس مقصد کے لیے کام شروع کردیا جو اس مہم کی ابتدا سے رومی سلطنت اور اس کے حلیف حبشی عیسائیوں کے پیش نظر تھا، یعنی ایک طرف عرب میں عیسائیت پھیلانا اور دوسری طرف اس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ 

یہ ضرورت اس بنا پر اور بڑھ گئی تھی کہ ایران کی ساسانی سلطنت کے ساتھ روم کی کشمکش اقتدار نے بلاد مشرق سے رومی تجارت کے دوسرے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ابرھہ نے اس مقصد کے لیے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرایا جس کا ذکر عرب مورخین نے القَلِیس یا القُلَیس یا القُلَّیس کے نام سے کیا ہے (یہ یونانی لفظ ekklesia کا معرب ہے اور اردو کا لفظ کلیسا بھی اسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہے) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اس نے شاہ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا ( یمن پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ کعبہ کے مقابلے میں ایک دوسرا کعبہ بنائیں اور عرب میں اس کی مرکزیت قائم کر دیں۔ انہوں نے نجران میں بھی ایک کعبہ بنایا تھا) ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس نے یمن میں علی الاعلان اپنے اس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرادی۔ اس کی اس حرکت کا مقصد ہمارے نزدیک یہ تھا کہ عربوں کو غصہ دلائے تاکہ وہ کوئی ایسی کارروائی کریں جس سے اس کو مکہ پر حملہ کرنے اور کعبے کو منہدم کر دینے کا بہانہ مل جائے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے اس اعلان پر غضبناک ہو کر ایک عرب سے کسی نہ کسی طرح کلیسا میں گھس کر رفع حاجت کر ڈالی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ فعل ایک قریشی نے کیا تھا اور مقاتل بن سلیمان کی روایت ہے کہ قریش کے بعض نوجوانوں نے جا کر اس کلیسا میں آگ لگا دی تھی۔ 


ان میں سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے کیونکہ ابرھہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں اس پر کسی عرب، یا قریشی کا، یا چند قریشی نوجوانوں کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کرنا یا اس میں آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں تھی۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرھہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اسے مکہ پر چڑھائی کرنے کا بہانہ مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں مقاصد حاصل کرلے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، جب ابرھہ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ کعبے کے معتقدین نے اس کلیسا کی یہ توہین کی ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین نہ لوں گا جب تک کعبے کو ڈھا نہ دوں۔ اس کے بعد وہ 570 ء یا 571 ء میں 60 ہزار فوجی اور 13 ہاتھی (اور بروایت بعض 9 ہاتھی) لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں پہلے یمن کے ایک سردار ذونفر نے عربوں کا ایک لشکر جمع کر کے اس کی مزاحمت کی، مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہوگیا۔ پھر خثعم کے علاقے میں ایک عرب سردار نفیل بن حبیب خثعمی اپنے قبیلے کو لے کر مقابلے پر آیا، مگر وہ بھی شکست کھا کر گرفتار ہوگیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدرقے کی خدمت انجام دینا قبول کرلیا۔ طائف کے قریب پہنچا تو بنی ثقیف نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی طاقت کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے، اور ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ ان کے معبود لات کا مندر بھی تباہ نہ کر دے۔ چنانچہ ان کا سردار مسعود ایک وفد لے کر ابرھہ سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارا بت کدہ وہ معبد نہیں ہے جسے آپ ڈھانے آئے ہیں، وہ تو مکہ میں ہے، اس لیے آپ ہمارے معبد کو چھوڑ دیں، ہم مکہ کا راستہ بتانے کے لیے آپ کو بدرقہ فراہم کیے دیتے ہیں۔ ابرھہ نے یہ بات قبول کرلی اور بنی ثقیف نے ابو رغال نامی ایک آدمی کو اس کے ساتھ کردیا۔ 

جب مکہ تین کوس رہ گیا تو المغمس نامی مقام پر پہنچ کر ابو رغال مر گیا اور عرب مدتوں تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔ بنی ثقیف کو بھی وہ سالہا سال تک طعنے دیتے رہے کہ انہوں نے لات کے مندر کو بچانے کے لیے بیت اللہ پر حملہ کرنے والوں سے تعاون کیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ المغمس سے ابرھہ نے اپنے مقدمۃ الجیش کو آگے بڑھایا اور وہ اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لے گیا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبد المطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکہ بھیجا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔ اگر تم نہ لڑو تو میں تمہاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہل مکہ اگر بات کرنا چاہیں تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکے کے سب سے بڑے سردار اس وقت عبد المطلب تھے۔ ایلچی نے ان سے مل کر ابرھہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچي نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اس قدر وجیہہ اور شاندار شخص تھے کہ ان کو دیکھ کر ابرھہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرھہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں بہت متاثر ہوا تھا، مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا کہ آپ اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دین آبائی کا مرجع ہے۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا میں تو صرف اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور انہی کے بارے میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ رہایہ گھر، تو اس کا ایک رب ہے، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔ ابرھہ نے جواب دیا وہ اس کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا آپ جانیں اور وہ جانے۔ یہ کہہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ آئے اور اس نے ان کے اونٹ واپس کر دیے۔ ابن عباس (رض) کی روایت اس سے مختلف ہے۔ اس میں اونٹوں کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے ان سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابرھہ الصِفاح کے مقام پر پہنچا (جو عرفات اور طائف کے پہاڑوں کے درمیان حدود حرم کے قریب واقع ہے) تو عبد المطلب خود اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے، ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہوجاتے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے یہ گھر امن کا گھر ہے، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ عبد المطلب نے کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے، آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرھہ نے جواب دیا ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں گے۔ عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں ہم سے لے لیں اور واپس چلے جائیں۔ مگر ابرھہ نے انکار کردیا اور عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ دونوں روایتوں کو اس اختلاف کو اگر ہم اپنی جگہ رہنے دیں اور کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیں، تو ان میں سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہرحال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابل فہم بات ہے کہ قریش نے اس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ قریش کو لوگ تو جنگ احزاب کے موقع پر مشرک اور یہودی قبائل کو ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار کی جمعیت فراہم کرسکے۔ وہ 60 ہزار فوج کا مقابلہ کیسے کرتے۔ 

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ابرھہ کی لشکر گاہ سے واپس آ کر عبد المطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہوجائے۔ پھر وہ اور قریش کے چند سردار حرم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اس کے خادموں کی حفاظت فرماۃ ے۔ اس وقت خانۂ کعبہ میں 360 بت موجود تھے۔ مگر یہ لوگ اس نازک گھڑی میں ان سب کو بھول گئے اور انہوں نے صرف اللہ کے آگے دست سوال پھیلایا۔ ان کی جو دعائیں تاریخ میں منقول ہوئی ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں عبد المطلب کے جو اشعار نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں : خدایا! بندہ اپنے گھر کی حفاظۃ کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں غالب نہ آنے پائے اگر تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تو چاہے کر سُہَیلی نے روض الانف میں اس سلسلے کا یہ شعر بھی نقل کیا ہے صلیب کی آل اور اس کے پرستاروں کے مقابلے میں آج اپنی آل کی مدد فرما ابن جریر نے عبد المطلب کے یہ اشعار بھی نقل کی ہیں جو اس موقع پر دعا مانگتے ہوئے انہوں نے پڑھے تھے : اے میرے رب تیرے سوا میں ان کا مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے میرے رب ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے۔ اپنی بساہ کو تباہ کرنے سے ان کو روک یہ دعائیں مانگ کر عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے، اور دوسرے روز ابرھہ مکے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر اس کا خاص ہاتھی محمود، جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تبر مارے گئے، آنکسوں سے کچوکے دیے گئے، یہاں تک کہ اسے زحمی کردیا گیا، مگر وہ نہ ہلا، اسے جنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ اتنے میں پرندوں گے جھنڈ کے جھنڈ اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے آئے اور انہوں سے اس لشکر پر ان سنگریزوں کی بارش کر دی۔ جس پر بھی یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع ہوجاتا۔ 

محمد بن اسحاق اور عکرمہ کی روایت ہے کہ یہ چیچک کا مرض تھا اور بلاد عرب میں سب سے پہلے چیچک اسی سال دیکھی گئی۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جس پر کوئی کنکری گرتی اسے سخت کھجلی لاحق ہوجاتی اور کھجاتے ہی اس کی جلد پھٹتی اور گوشت جھڑنا شروع ہوجاتا۔ ابن عباس (رض) کی دوسری روایت یہ ہے کہ گوشت اور خون پانی کی طرح بہنے لگتا اور ہڈیاں نکل آتی تھیں۔ خود ابرھہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا اجسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر رہا تھا اور جہاں سے کوئی ٹکڑا گرتا وہاں سے پیپ اور لہو بہنے لگتا۔ افراتفری میں ان لوگوں نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ نفیل بن حبیب خثعمی کو، جسے یہ لوگ بدرقہ بنا کر بلاد خثعم سے پکڑ لائے تھے، تلاش کر کے انہوں نے کہا کہ واپسی کاراستہ بتائے۔ مگر اس نے صاف انکار کردیا اور کہا این المفر و الا لہ الطالب – والاشرم المغلوب لیس الغالب اب بھاگنے کی جگہ کہاں ہے جبکہ خدا تعاقب کر رہا اور نکٹا (ابرھہ) مغلوب ہے، غالب نہیں ہے اس بھگدڑ میں جگہ جگہ یہ لوگ گر گر کر مرتے رہے۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ سب کے سب اسی وقت ہلاک نہیں ہوگئے بلکہ کچھ تو وہیں ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گرتے چلے گئے۔ ابرھہ بھی بلاد خثعم پہنچ کر مرا۔ اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ 

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ فیل کے بعد یمن میں ان کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی، جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے، پھر ایک یمنی سردار سیف بن ذی یزن نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کرلی اور ایران کی صرف ایک ہزار فوج جو چھ جہازوں کے ساتھ آئی تھی، حبشی حکومت کا خاتمہ کر دینے کے لیے کافی ہوگئی۔ یہ 575 ء کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی مخصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا تھا۔ صحیح مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حجۃ الوداع کا جو قصہ امام جعفر صادق نے اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے اس میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مزدلفہ سے منٰی کی طرف چلے تو محسر کی وادی میں آپ نے رفتار تیز کر دی۔ امام نووی اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصحاب الفیل کا واقعہ اسی جگہ پیش آیا تھا۔ اس لیے سنت یہی ہے کہ آدمی یہاں سے جلدی گزر جائے۔ موطا میں امام مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مزدلفہ پورا کا پورا ٹھیرنے کا مقام ہے، مگر محسر کی وادی میں نہ ٹھیرا جائے۔ نفیل بن حبیب کے جو اشعار ابن اسحاق نے نقل کیے ہیں ان میں وہ اس واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے۔ اے رُدَینَہ کاش تو دیکھتی، اور تو نہیں دیکھ سکے گی جو کچھ ہم نے وادی محصب کے قریب دیکھا میں نے اللہ کا شکر کیا جب میں نے پرندوں کو دیکھا اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں پتھر ہم پر نہ آ پڑیں ان لوگوں میں سے ہر ایک نفیل کو ڈھونڈ رہا تھا، گویا کہ میرے اوپر حبشیوں کا کوئی قرض آتا تھا یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں شہرت ہوگئی اور اس پر بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔

 ان قصائد میں یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ سب سے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعجاز قرار دیا اور کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں ان بتوں کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں پوجے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر عبد اللہ ابن الزبغریٰ کہا ہے کہ 60 ہزار تھے جو اپنی سرزمین کی طرف واپس نہ جا سکے اور نہ واپس ہونے کے بعد ان کا بیمار (ابرھہ) زندہ رہا) یہاں ان سے پہلے عاد اور جرھم تھے اور اللہ بندوں کے اوپر موجود ہے جو اسے قائم رکھے ہوئے ہے اٹھو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور مکہ و منٰی کی پہاڑیوں کے درمیان بیت اللہ کے کونوں کو مسح کرو جب عرش والے کی مدد تمہیں پہنچی تو اس بادشاہ کے لشکروں نے ان لوگوں کو اس حال میں پھیر دیا کہ کوئی خاک میں پڑا تھا اور کوئی سنگسار کیا ہوا تھا۔ یہی نہیں بلکہ حضرت ام ھانی اور حضرت زبیر بن العوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قریش نے 10 سال (اور بروایت بعض سات سال) تک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ ام ھانی کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتب حدیث میں نقل کی ہے۔ حضرت زبیر کا بیان طبرانی اور ابن مردویہ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کی تائید مزید حضرت سعید بن المسیب کی اس مرسل روایت سے ہوتی ہے و خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔ جس سال یہ واقعہ پیش آیا، اہل اسے اسے عام الفیل (ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں اور اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مبارکہ ہوئی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اصحاب الفیل کا واقعہ محرم میں پیش آیا تھا اور حضور کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے 50 دن بعد ہوئی۔


مقصود کلام :

جو تاریخی تفصیلات اوپر درج کی گئی ہیں ان کو نگاہ میں رکھ کر سورۃ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس سورت میں اس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں اکتفا کیا گیا ہے۔ واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔ مکے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہل عرب اس بات کے قائل تھے کہ ابرھہ کے اس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں اور چند سال تک قریش کے لوگ اس واقعہ سے اس قدر متاثر رہے تھے کہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۃ فیل میں ان تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کی یاد دلانا کافی تھا، تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً، اور اہل عرب عموماً، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آخر اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اس دعوت حق کو دبانے کے لیے انہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔

قرآن مجید کا اسلوب - ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

تاریخ شاہد ہے کہ قرآن مجید سے متعلق مسلمانوں کی خدمات اور جدت طرازیوں کی ایک طویل داستان ہے، کسی نے قرآن مجید کے مفردات پر توجہ دی تو کسی نے قرآن کی  کتابت اور رسم الخط پر ، بعض نے قرآن کی قراءات اور مخارج حروف کی درست ادائیگی  پر عمر بیتادی، تو کچھ اہل علم نے قرآن کی زبان اور قواعد پر اپنی پوری  توجہ صرف کردی  اور کچھ لوگوں نے قرآن کے مضامین، معانی اور مطالب کو اہم سمجھا، کسی نے قرآن کے عقلی دلائل پر توجہ دی اور کسی نے اصول دین اور معاصر مسائل کا استنباط کیا، یا  کسی نے قرآن کی فصاحت و بلاغت نیز قرآن کے الفاظ کے معانی حقیقی اور مجازی  پر نگاہ ڈالی۔ غرض قرآن مجید  کے نزول  کے بعد علوم و فنون کے ایسے شاہکار سامنے آئیے جس کی مثال سابقہ اقوام میں نہیں ملتی ۔

 قرآن کی پہلی  وحی  ہی علم اور آگاہی سے متعلق تھی، مسلمان علم و حکمت کی اہمیت سے واقف تھے ارشاد باری تعالی ہے : 

" وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ(البقرة : 269)" 
( اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔) 

ہمارےعلماء نے  قرآن مجید کے اسالیب میں پنہاں خصوصیات کو مختلف ناموں سے بیان کیا ہے ۔  یہاں ان میں سے چند خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

1- نظم قرآن 

اس سے مراد قرآن مجید کے کلمات اور الفاظ، آیات اور سورتوں کی بندش اور قرآن مجید کے مضامین کا باہمی ربط ہے ، جس کے لیے علماء نے" نظم قرآن" کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ نظم کےمعنی موتیوں کو ایک لڑی میں پرودینا ، گویا قرآن مجید کے الفاظ ، فقرے ، آیات اور سورتیں یا مضامین خوبصورت موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔ بعض علماء نے آیات اور سورتوں کی ترتیب کیے لیے " نظام " اور " تناسب " کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے ، جبکہ الفاظ اورکلمات کی ترتیب کےلیے " نظم " کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ 

 قرآن مجید کے الفاظ کے نظم و نسق کا ایک پہلو صوتی ہم آہنگی ہے اس میں  الفاظ کو فقرے میں اس طرح جوڑا کیاگیا تا کہ وہ انسانی کلام کی فصاحت و بلاغت کے معیار کے مطابق ہو، اور قاری یا سامع کی سماعت میں خوشگوار تاثر پیدا ہو، اس پہلو سے قرآنی الفاظ کے صوتی ہم آہنگی کس درجہ اعلی ہے؟ وہ کسی مصری قاری کی تلاوت سن کر اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ اس کا اعتراف جدید دور کے صوتی نظام کے ماہرین نے بھی کیا ہے انہوں نے جدید آلات کی مدد سے قرآنی الفاظ کی صوتی آہنگ کا جائزہ لیا تو ان کے سامنے قرآن  کى صوتی آہنگ کا اعجاز ظاہر ہوا ۔

 اسی طرح علماء کے نزدیک  قرآن کریم کے تمام مضامین ، معانی اورمطالب میں باہم ربط پا یا جاتا ہے۔ بعض علماء نے قرآن مجید کے اس اسلوب کو ( بلا کسی تشبیہ کے ) غزل مسلسل کی طرح قرار دیا، جس طرح ایک غزل میں ہر شعر بظاہر الگ الگ معلوم ہوتا ہے لیکن غور کرنے سے تمام اشعار میں ایک گہری معنوی مناسبت پائی جاتی ہے ۔ جس کو وحدۃ الموضوع کہا جاتا ہے ۔ ہر شعر یا مختلف مضامین کے مابین ایک ہم آہنگی ہوتی ہے۔ 
   
ہر دور میں علماء نے قرآن مجید کی اس اندرونی ساخت ، آیات و سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید کے مضامین کا باہمی تعلق اور ربط کس نوعیت کی ہے ؟ اور اس لے بھی کہ عام قاری جب قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے تو بظاہر مضامین میں بے ربطی محسوس کرتا ہے یا بہت سارے مضامین ایک طرح کے نظر آتے ہیں یا ایک ہی جگہ یا سورت میں مختلف مضامین یکجا ملتے ہیں ، اگر کسی جگہ توحید کا مضمون ہے تو آخرت کا بھی ہے، کہیں نبی کا تذکرہ ہے تو ساتھ ہی مختلف اقوام پر تبصرہ بھی ، کہیں اخلاقی تعلیمات ہیں تو ساتھ ہی فقہی احکام بھی ، قرآن مجید کے  اس طرح کے بنیادی مضامین تقریبا ہر سورت اورہر جگہ موجود ہیں۔     

مثلا سورہ فاتحہ کا آغاز توحید کے مضمون سے ہوتا ہے پھر فورا ہی آخرت کا ذکر آجا تا ہے اس کے بعد عبادت اور استعانت کا ذکر ہوا ، پھر صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا ہے، ساتھ ہی انعام یافتہ لوگوں  اور ضالین کی گمراہی کی طرف اشارہ  ۔ 

غرض یہ تمام مضامین اس ایک سورت میں موجود ہیں ۔ یہی اسلوب یا نظم، پورے قرآن مجید اور ہر سورت میں موجود ہے ۔  مفسرین کو معلوم ہوا کہ  اگر اس اندرونی ساخت یعنی نظم و نسق کو نظر انداز کرکے کسی کلمہ یا آیت کی تفسیر اور تشریح کی گئی ہے تو وہ قرآن کے اصل مدعا اور مطلب سے ہٹ جاتا ہے ۔ اس لئے علماء نے قرآن مجید کی اندرونی ساخت، آیات اور سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو جاننے کی کوشش کی ہے ۔

اس نظم ونسق کا اعجاز یہ ہے کہ قرآن مجید کے تمام مضامین ہروقت قاری کی نظر میں ہوتےہیں ، دوسرا یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی اور مضامین اس طرح بکھرے ہوئے نہیں ہیں جس طرح دیگر آسمانی کتابوں میں ہیں ۔ بائبل کی کتابوں کو موضوعات کے حساب سے مرتب کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے کتاب پیدائش ، اس میں کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے ، اسی  طرح  سے دیگر کتب کی ترتیب ہے ، اس کا نقصان یہ ہوا کہ جس کو کسی خاص موضوع سے دلچسپی ہے اس کا مطالعہ کر کے باقی دیگر موضوعات کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اس لے کروڑوں یہودی اور عیسائی ایسے ہوں گے جنہوں نے بائبل کے ان حصوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی جن سے ان کو لگاؤ نہیں تھی ۔ انہوں نے تورات ، زبور، انجیل کا صرف وہی حصہ پڑھا جس کی ان کو ضرورت تھی۔

 اگر قرآن مجید کے مضامین بھی اسی ترتیب سے ہوتا مثلا ایک کتاب عقائد ، ایک کتاب قانون ، ایک کتاب اخلاق ، تو قرآن پاک سے مسلمانوں کی دلچسپی کا حشر وہی ہوتا جوتورات اور انجیل کا ہوا ۔ یہی معاملہ دیگر علوم کی کتابوں کے ساتھ بھی ہے ۔ جس کو ادب سے دلچسپی ہے وہ کبھی معاشیات کی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اور جس کو فلسفہ سے لگاؤ ہے وہ کبھی دیگر کتابوں سے دلچسپی نہیں لیتا بلکہ فلسفہ کی کتب ہی زیادہ مطالعہ کرتا ہے ۔

  نظم قرآن کے بارے میں ہمارے قدیم مفسرین میں امام رازی ؒ کا نام سب سے زیادہ روشن ہے انہوں نے سورتوں اور بعض جگہ آیاتوں کی مناسبت بیان کی ہے، برصغیر میں مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے مختلف سورتوں کے مضامین کے مابین ربط اور ان  کی ترتیب میں پنہاں حکمتوں کو بیان کیا ، مولانا حمید الدین فراہی ؒ اور ان کے شاگر مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے ایک خاص نظام دریافت کیا ، پھر اس کی روشنی میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اپنی تفسیر تدبر قرآن لکھی ہے۔ ان کے علاوہ سید ابوالاعلی مودودی ؒ اور مولانا مفتی شفیع ؒ نے بھی اپنی اپنی تفسیر میں سورتوں اور مضامین قرآن  کے مابین مناسبت کی نشان دہی کی ہے ۔

2- خطیبانہ اسلوب 


قرآن مجید کا اسلوب خطیبانہ ہے ، یہ قدیم عربی خطابت سے قریب ضرور ہے لیکن اس کی طرح نہیں، بلکہ قرآن مجید کا انداز خطابت کئی لحاظ سے مختلف ہے، قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ ﷺ اس کی تلاوت فرماتے اور پھر انہیں خطبات کو تحریری شکل دی جاتی ۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ آپ ﷺ بجائے تقریر کے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی ۔  ایک مرتبہ آپ ﷺ حرم شریف میں تھے کفار مکہ جمع تھے اور آپ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ۔ آپ نے خطاب کا ارادہ فرمایا ہی تھا کہ سورہ نجم نازل ہونی شروع ہوگئی تو اپنی تقریر کے بجائے سورہ نجم کی تلاوت فرمائی ۔ 

مقرر جب تقریر کرتا ہے تو دوران خطاب بہت سی باتیں سامعین کی عقل اور فہم پر چھوڑ دیتاہے لیکن یہی باتیں جب تحریر میں لائی جاتی ہیں تو اس میں  بہت سی باتیں جن کا تعلق براہ راست سامعین سے یا ماحول سے ہوتی ہیں  رہ جاتی ہیں اس طرح  ایک قاری کے لیے تقریر کو تحریر کی صورت میں  سمجھنے میں دقت ہوتی ہے، یا تحریر شدہ تقریرکے سیاق و سباق کو ملانے لیے بعض وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ قاری  تقریرکے مدعا کو سمجھنے میں کچھ کمی محسوس کرےگا،  اس لے قرآن مجید  کو سمجھنا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ اس ماحول اور اس دور کے حالات سے براہ راست آشنا تھے لیکن بعد والوں کے لیے قرآن مجید کو سمجھنے میں  مشکل پیش آئی۔ اس لیے مفسرین نے قرآن مجید کے خطبات کے تمام اشارات کو پر کرنے کی کوشش کی، اسی فن کو علماء نے تفسیر کا نام دیا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ 

اس کی ایک مثال یہ ہے ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (4)
 ( سورۃ المزمل) 

یہاں ہر فقرہ انتہائی مختصر ہے، ان جملوں کا مخاطب آپ ﷺ ہیں ، اس لیے آپ ﷺ کو ہی براہ راست اس خطاب کا علم تھا کہ یہاں کس لفظ کس فقرہ سے کیا مراد ہے؟  پھر بعد کے زمانے میں مفسرین نے اس خطیبانہ کلام کی تفصیلات  بیان کی ہے ۔ جس کی مثالیں تفسیر کی کتابوں ميں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ 

3-  ایجاز اور جامعیت  

 قرآن مجید میں مختلف مضامین ہیں، احکام،  شرائع، امثال، مواعظ ، تاریخی واقعات، مظاہر کائنات  اور مناظر قیامت، اللہ تعالی نے  ان  تمام باتوں کی وضاحت کےلیے مختلف  اسلوب تعبیر اختیار فرمایا، تشبیہ ، تمثیل، انشائیہ ، خبریہ، وغیرہ ۔ لیکن یہ سب  اسالیب غیرمعمولی ایجاز اور جامعیت کے حامل ہیں ، یہ ایجاز اگرچہ مدنی سورتوں میں بھی ہے لیکن مکی سورتوں کے ایجاز کی شان ہی اور ہے ۔ بعض جگہ ایک ایک لفظ میں معانی کا سمندر پنہاں ہے ۔ مکی سورتوں کے ایجاز کی ایک مثال یہ ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (5) وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (6) وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (7) ( سورۃ المدثر ) 

اس آیت میں ہر فقرہ ایک ایک لفظ پر مشتمل ہے جیسے :  فَأَنْذِرْ ، فَكَبِّرْ ،فَطَهِّرْ، فَاهْجُرْ،  تَسْتَكْثِرُ، فَاصْبِرْ۔۔۔۔۔۔ ہر فقرہ الگ الگ ہدایات اور نصیحتوں  پر مشتمل ہے، جن کا مخاطب براہ راست آپ ﷺ ہیں، اس لئے مفسرین نے ان الفاظ اور فقروں  کی تفسیر آپ ﷺ کی سیرت پاک کی روشنی میں کی ہے،  جیسے "المدثر" ایک پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب آپ ﷺ پر پہلی بار غار حراء میں جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے تھے تو آپ ﷺ کو نبوت کی ذمہ داری کا اتنی شدت سے احساس ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے تو یہ فرمارہے تھے کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو، مجھے چادر میں لپیٹ دو، اس خطاب میں  يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سے اس پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اس سے قرآن کے اسلوب کی جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ 

       ارشاد باری تعالی ہے  : 
 ( وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ) ( لقمان : 27)

" زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے ) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے ) ختم نہ ہوں گی"

4-  صداقت اور حقیقت 

 قرآن نے جو کچھ پیش کیا وہ سب صداقت اور حقیقت پر مبنی ہے، قرآن مجید میں کوئی بات خلاف عقل ، خلاف فطرت ، خلاف تہذیب یا اخلاق نہیں ہے۔

چانچہ آج علم اور ادب کی دنیا میں قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی ثقہ تحریر نہیں ہے ۔ یہ ایک متفقہ رائی ہے ، اس بات کے گواہ غیر مسلم سکالر بھی ہیں ۔ اس عظمت اور مقام میں دیگر آسمانی کتب کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مغرب کے پاس بائبل کے نام سے آسمانی کتابیں ہیں لیکن وہ جدید مغربی سکالروں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہی ہیں ۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ

( فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ( البقرة :  79) 
 " پس تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے تحریر لکھ کر ، لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے  تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں ۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے  اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت ہے۔" 
  یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی طویل تاریخ میں اسلام کے نظریات اور خالص علم وادب کے مابین کبھی تعارض پیدا نہیں ہوا، اگرچہ  جدید دور میں  بعض نام نہاد روشن خیال ادباء اورنقاد کو یہ غلطی فہمی ہوئی کہ دین کا یا دینی نصوص کا ادب اور فن سے کیا تعلق ہے؟   یہ غلط فہمی در اصل مغرب سے منتقل ہوکر آئی ، چند مسلم ادیبوں  کے ذہنوں پر سوار ہوگئی، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ سچا ادب اور اور دین کے مابین کبھی تصادم نہیں ہوا۔ 

 بد قسمتی سے انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کے پاس ادب اور فن کے نام سے ایسے لٹریچر وجود میں آئیے، جن کا حقیقی دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔  جس طرح ہومر نے اپنے الیڈ کی بنیاد من گھڑت افسانوں پر رکھی ہے اسی طرح جدید افسانہ اور ڈرامہ میں سچے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ فکشن کے نام سے بہت سے افسانے اور ڈرامے  جھوٹے واقعات پر مبنی  ہیں ۔ جبکہ قرآن پاک اس طرح کے فنی خرافات سے پاک ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے :   (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ و لا من خلفہ )،  قرآن نے علمی صداقت اور تاریخی حقائق کو ایسے اسلوب میں پیش کیا ہے  جو بجائے خود ایک معجزہ ہے۔

علماء اسلام نے ہر دور میں شعراء اور ادباء کا خیر مقدم کیا ۔ عربی ، فارسی اور اردو زبان کی ہزار سالہ تاریخ گواہ ہیں کہ اس دور کے تمام بڑے بڑے شعراء اور ادباء مسلمان تھے جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی قیادت کی ۔

5- معجزانہ اسلوب

قرآن کے معجزانہ اسلوب کو سب سے پہلے عرب کے ادباء ، خطباء اور ماہرین لغت نے محسوس کیا، اس لیے غلط فہمی سے کبھی قرآن کو جادو کا منتر اور کبھی شاعری کہتے، لیکن ان کو معلوم ہوا کہ قرآن نہ شاعری ہے نہ جادو کا منتر بلکہ قرآن مجید ایک منفرد نوعیت کا کلام ہے، اس کی مثال نہ عرب کی شاعری میں ہے نہ خطابت میں اور نہ عرب کی کہانت اور جادوئی منتر میں، قرآن میں شعر جیسی غنائیت اور موزونیت تو ہے پر وہ شاعری نہیں، قرآن میں  خطابت کا زور بیان بھی ہے لیکن وہ عرب خطباء کے کلام سے بالکل مختلف ہے، کلام عرب کی طرح  اختصار و جامعیت بھی ہے، لیکن اس میں  معانی و مطالب اور معارف و حقائق کی گہرائی بھی ہے ، حکمت و دانائى کی موتیاں بھی ، اس میں دلائل اور براہین کا تنوع اور استدلال اور قوت بیان بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان سب کے ساتھ یہ کلام فصاحت اور بلاغت کے اس اعلی معیار پر فائز ہے جس تک جن و بشر ملکر بھی نہیں پہنچ سکتے۔ 

ارشاد ہوا : 

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ  فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ( البقرة : 23،  24)
              
ترجمہ : اگر تم قرآن کے بارے میں ذرہ بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد ﷺ ) پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلالو۔ پھر بھی اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور یقینا کبھی نہیں کرسکوگے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے وہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ 

اس آیت میں خاص کر عرب کو زبردست چلینج دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کلام کوئی انسان بنا سکتا ہے تو تم بڑے فصیح و بلیغ ہو تم سب مل کر قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ،  ساتھ ہی قرآن مجید نے دعوی کیا ہے کہ تم سب مل کر بھی ایسا نہیں کر سکوگے اور واقعہ یہ ہے کہ اہل عرب جو اپنی زبان و ادب پر ناز کرتے تھے ان سب کو اس چلینج کے بعد سانپ سونگھ گیا اور کوئی شخص یہ چلینج قبول کرنے کے لیے آگے نہ بڑھا، بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں اور خطیبوں  نے اس خدائی کلام کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اس طرح قرآن کا اعجاز ان پرہمیشہ ہمیشہ کے لیے  ثابت ہوگیا ۔ 

6-  قصص، امثال اور واقعات کا قرآنی اسلوب 

قرآن مجید کے زیادہ تر حصوں کا تعلق قصص، امثال ونظائر، انسانی جذبات واحساسات اور مناظر قیامت اور احوال آخرت کی تعبیرات سے ہیں اور یہ تقریبا تین چوتھائی ہیں، باقی ایک حصہ میں شرعی احکام اور کچھ تنبیہات ہیں۔  قرآن میں ان تمام موضوعات  کی تعبیر کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ( بلاتشبیہ  و تمثیل صرف وضاحت کے لیے ) جدید ادبی اصطلاحات میں واقعہ نگاری، منظر نگاری، تصویر کشی اور شخصیت نگاری یا خاکہ نگاری سے ملتا ہے ، ہم جب قیامت کے مناظر، واقعات، شخصیات اور دیگر مضامین کو قرآن کے لفظوں اور آیات میں  پڑھتے ہیں تو وہ نہ صرف ذہنوں میں نقش ہوتے ہیں بلکہ مجسم اور منقش ہوکر تصور کی نگاہوں کے سامنے نمایاں ہوجاتے ہیں ۔ قرآن میں اللہ تعالی نے الفاظ کے ذریعے جو تصویر کھینچی ہے رنگ ، سیاہی اور جدید کیمرے بھی اس سے عاجز ہے ، سید قطب شہید کے مطابق قرآن کےانداز بیان اور تعبیر کی اصل اساس ہی تصویر کشی اور منظر نگاری ہے ان کے مطابق اس اسلوب کو قرآن کے اکثر مضامین کے بیان  میں ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ صرف تشریعی احکام کا موضوع اس سے خارج ہے ۔ 

قرآن کریم کے اسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ الفاظ ، معانی اور مطالب کی ذہنی اور متخیلہ صورت کو مجسم اور متحرک صورت میں پیش کیا گیا ہے ، تخیل سے مراد وہ معانی جو  انسانی وجدان میں پوشیدہ ہیں،  قرآن نے ان معانی کی  مجسم منظر کشی کی ہے ، ان کے ذریعے تخیل کو حرکت میں لا یاگیا تاکہ متخیلہ صورت ان مناظر اور حرکات سے مشابہ ہوجائے جو خارج کی زندگی میں رنگ اور صورت میں موجود ہے ۔ اگر قرآن ماضی کا کوئی واقعہ بیان کرتا ہے تو قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ واقعہ اس کے سامنے وقوع پذیر ہے اس کا اندازہ جدید دور کی فلم بینی سے کيا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال درج ذیل آیت  ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: 

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ (الانفال: ٢٢)

کچھ شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتروہ ہے جو  بہرے، گونگے ہیں، جو کچھ نہیں سمجھتے۔ 

عربی زبان میں " الدواب"  کا لفظ عموما حیوانات کے لے استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں انسان بھی شامل ہے اس لحاظ سے " دابۃ" کے معنی ہیں زمین پر چلنے والا اور انسان بھی زمین پر چلتا ہے اس لیے اس کو بھی دابۃ کہ دیتے ہیں۔  لیکن اس لفظ کو انسان کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ  عموما حیوانات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ آیت میں  انسان کے لیے "دابۃ"  کا لفظ استعمال کرنا پھر اس کو گونگے بہرے کہ کر اس کی حیوانی حالت کو نمایاں کرنا جس کی وجہ سے وہ  قبول ہدایت سے محروم ہے۔ ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ  اس طرح ایک حیوان نما انسان کی تصویر نمایا ہوکر ہماری نگاہ میں آجا تی ہے اور ساتھ ہی "لایعقلون"  (وہ عقل سے کام نہیں لیتے ) کے اضافہ سے " حیوانی صفات  کی مزید وضاحت ہوگئی۔ اس طرح لغوی اور معنوی اعتبار سے قاری اور قرآن مجید کے الفاظ ، معانی اور متخیلہ صورت کے درمیان ایسی مطابقت ہوجاتی ہے جس طرح جدید اصطلاح کے مطابق ( بلاتشبیہ و تمثیل )  ایک فلم اور فلم بین کے مابین ہوتی ہے، یہ قرآن کے اسلوب بیان کا معجزانہ کمال ہے قرآن کے سوا کسی کلام میں اس جیسی خوبیاں  ہمیں نہیں مل سکتی ۔

 قرآن مجید کا ایک اسلوب منظرنگاری ہے، مختلف مناظر کو عام زندگی  سے قریب تر کر کے پیش کیا ہے ، قرآن نے اپنے معانی کو متحرک لفظوں کی مدد سے ایسی تصویر کشی کی کہ ان مناظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی ہے ، مثلا قیامت کے ہولناک مناظر کی تصویر کشی کی ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے:

"یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا  " ( المزمل : 14)

جس دن زمین اور پہاڑ کا نپنے لگیں اور پہاڑ ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا :

" فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا  السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ " ( المزمل :17) 

 تو اس دن س تم  کیونکر بچوگے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور جس سے آسمان پھٹ جائے گا ۔
        قرآن کی تلاوت کے وقت ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز زندہ اور متحرک ہے درخت،  انسان ، حیوان ، پہاڑ ، جنگل ، سمندر، بادل ، زمین،  آسمان ، چاند،  سورج،  ستارے  گویا ہر چیز زندہ مناظر ہے کائنات میں کوئی چیز مردہ اور بے جان اور ساکت نہیں ۔ جیسے " یسبح لہ ما فی السموات والارض"  کے مطابق کائنات میں ہر سو، ہر چگہ، ہر لمحہ اس کےمظاہر کی تسبیحات گونج رہی ہیں۔ جیسے ایک جگہ صبح کا منظر قرآن میں ملتا ہےگویا ایک جاندار کی طرح سانس لیتا محسوس ہوتا ہے ،  ارشاد باری تعالی ہے :

والصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسْ  (التکویر)  اور صبح کی قسم جب وہ سانس لیتی ہے !

اسی طرح  قرآن کی زبان میں رات بھی ایک جاندار کی طرح چلنے لگتی ہے۔

،واللَّیْلِ اِذَا یَسْر (الفجر : 4 )  قرآن کے نزدیک دن تیزی سے بھاگ کر رات کو تلاش کر تا ہے ۔

یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ   (الاعراف : 54)  "وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا  چلا آتا ہے "
        یہ چند مثالیں ہیں، اس طرح کی مثالیں قرآن کی ہر سورت اور ہر جگہ موجود ہیں ۔ 

----------------------------------------------
مصادر و مراجع : 

1- مولانا سید ابوالاعلی مودی ؒ کا مقدمہ جو تفہیم القرآن جلد اول میں ہے۔
2- مولا حمید الدین فراہی کے مختلف عربی مضامین جو اردو ترجمہ اور تشریح کے ساتھ  ان کے شاگرد مولانا امیں احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نے شائع کیے ہیں۔
3- سید قطب شہید کی کتاب "التصویر الفنی فی القرآن" جس کا  اردو ترجمہ  پروفیسر غلام احمد حریری نے"  قرآن مجید کے فنی محاسن" کے نام سے کیا ہے ۔ 


قرآن میں جنگ کے احکام - مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ

قرآن میں جنگ کے احکام 
 فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ ( سورہ محمد ) 

پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کر دیا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔

مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق و سباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آ جانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ’’جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈ بھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔

کائنات میں انسان کا مقام - ابوالبشر احمد طیب

کائنات میں انسان کا مقام 
انسان کے لیے یہ سوالات ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں کہ اس وسیع کائنات میں اس کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور اس کے لیے دنیا میں زندگی گزار نے کا صحیح رویہ کیا ہے ۔ اس پر ہر زمانہ میں دانشوروں اور فلسفیوں نے مختلف جوابات دیے ہیں ۔ اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے بھی رہنمائی ملتی ہے ۔ 

جہاں تک فلسفیوں کا تعلق ہے تو سقراط سے پہلے دو مکتب فکر نمایا ں ہیں ۔ ان میں ایک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کائنات میں انسان دیگر حیوانات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ، جو انجام ان حیوانات کا ہے وہی انجام اس کا بھی ہے ۔ 

دوسرا مکتبہ فکر سو فسطائیوں کا ہے جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کائنات کا محور اور مرکز ہے یہی اس کائنات میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے اندر جو صلاحیتیں اور قوتیں پوشیدہ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کوبڑا مقام اور مرتبہ دیا ہے ۔ وہ انسان میں ایک عقل یزدانی (Divine Reason) کے وجود کے قائل ہیں ۔ جہاں تک سقراط کا تعلق ہے تو تمام فلسفیوں میں اس کا مقام اونچا ہے اس کا مشہور کلمہ کہ " اے انسان تو اپنے آپ کو پہنچان " ایتھنز کے معبد ڈلفی پر منقش ہے ۔ سقراط نے سب سے پہلے توجہ دلائی کہ دیگر مخلوقات سے اہم خود انسان ہے وہ خود اپنے کو پہنچانے کہ وہ کیا ہے اور قدرت نے اس کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ سقراط کے ہاں انسان کو ہی اصل اہمیت حاصل ہے ، دوسری چیزوں کی حیثیت اس کے ہاں ثانوی تھی ۔ اس کے شاگر افلاطوں نے اسی فکر کو آگے بڑھایا ۔ اس کو زندگی کے مختلف شعبوں : اخلاقیات ، سیاسیات ، نفسیات اور اجتماعیات وغیرہ میں اطلاق کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے نزدیک انسان حیوان نہیں اگرچہ اس کی پیدائش حیوان کے طریقہ پر ہوئی ہے ۔ انسان کے اندر ایک روح بھی ہے جو ملکوتی عقل کا حصہ ہے ۔ جس کے ذریعے انسان اس کائنات کے ابدی کلیات کو معلوم کر سکتا ہے ۔ انسان کا ایک جسم بھی ہے وہ اس ملکوتی عقل پر کمنڈ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر قابو پائے اور اس کمنڈ کو توڑ کر مادی جسم سے بلند ہوکر غور و فکر کرے ۔ 

خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب

خدا کی ذات و صفات کی معرفت 
مذہب اور فلسفہ دونوں اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے زندگی کی رہنمائی کے لیے وجود میں آئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفہ عقل پر اعتماد کرتا ہے جبکہ مذہب وحی الہی سے رہنمائی لیتا ہے ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ مذہب کا عقل سے کوئی تعلق نہیں اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے متعلق قرآن مجید اور فلسفہ کے بنیادی مسائل کا تقابلی مطالعہ کیا جائے درج ذیل مضمون اسی مقصد لیے لیے ترتیب دیا گیا اس کے لیے ہم نے مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب " فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن حکیم کی روشنی میں " سے استفادہ کیا ۔ 

ابتدائی دور کے یونانی فلسفیوں نے زندگی اور کائنات کی مختلف طریقوں سے توجیہ کی ہے بعض یونانی فلسفیوں جیسے تھیلیز(624 ق م - 554ق م ) انیکسی مانڈر (610 ق م - 546ق م) کا کہنا ہے کہ کائنات کو کسی دیوی یا دیوتا نے پیدا نہیں کیا ، چھٹی صدی قبل مسیح کے فلسفی شاعر زینو فینسز(Zenophanes) نے دیوتاؤں پر سخت تنقید کی اس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی شکلوں پر دیوتاؤں کو بنایا ہے جبکہ خدا ہر لحاظ سے انسان سے مختلف ہے خدا ایک وحدت ہے جس کی ابتدا ہے نہ انتہا ۔۔اس کے نزدیک خدا ہی کائنات ہے ۔ عظیم فلسفی سقراط (470 ق م - 399 ق م) نے خدا کی وحدانیت کا تصور دیا اس جرم میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔ افلاطون (428 ق م -347 ق م) کا کہنا ہے کہ خدانے تمام کائنات کو پید ا کیا اور انسان میں اپنی روح پھونکی ۔ البتہ ان تمام فلسفیوں میں ارسطو (384 ق م – 322 ق م ) خد ا کی وحدانیت پر پختہ یقین رکھتاتھا ، اس کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ہے، وہی محرک اول ہے ، کائنات کو چلانے والا بھی وہی ہے ۔ اسی طرح رواقی فلسفی خدا کی وحدانیت کے شدت سے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خدا نے ہر چیز پیدا کی ہے ، برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دیتا ہے ، رواقیوں کا فلسفہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی ہے۔ 

قرآن کا بائبل کی تصحیح کرنا : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

آیات متشابہات سے مراد : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

حروف مقطعات : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن کی سورتوں کے نام ؛ افکار امین احسن اصلاحی ۔ مقرر : ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن میں تقابل الٖفاظ کی اہمیت - افکار امین احسن اصلاحی - مقرر: ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن کی جمع و ترتیب - افکار حمید الدین فراہی : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن میں زبان کا ایک اسلوب : افکار امین احسن اصلاحی ، مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

خیالات اثنائے ترجمۂ قرآن - مولانا حمید الدین فراہیؒ

خیالات اثنائے ترجمۂ قرآن - مولانا حمید الدین فراہی ؒ 
۱۔ جس طرح الفاظ مشترک ہوتے ہیں، اسی طرح اسلوب بھی مشترک ہوتے ہیں۔ مثلاً استفہام انکاری، زجر اور تسکین، دونوں موقع پر آتا ہے۔ مثلاً 'امّا' تقسیم اور مقابلہ، دونوں مقصد کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔


۲۔ ایجاز اور اطناب کا اثر مختلف ہے۔ اس لیے ترجمہ میں اس کا لحاظ ضرور کرنا چاہیے۔


۳۔ نیز ادا، شان اور اظہار جذبات کلام کی جان ہیں۔ ان کو بدلنا عبارت کو مسخ کرنا ہے۔ واعظ، جنرل، خطیب، نبی اور خدا کا کلام اس خاص امر میں بالکل ممتاز ہوتا ہے۔ کلام سے قائل کی عظمت ٹپکتی ہے۔


۴۔ خاص الفاظ اور محاورات اور بندش سے جذبات کی نوعیت اور مقدار معلوم ہوتی ہے۔ استعمال نے اور نیز مزاج اور تاریخ ملک نے خاص خاص الفاظ اور طرز کو خاص خاص جذبات اور مواقع کے لیے اور نیز مدارج متکلم کے لیے مختص کر لیا ہے۔


۵۔ شان کلام اور جذبۂ کلام کو بدلنا زیادہ مضر ہے۔ بلکہ اگر اس کو جذبہ اور شان سے معرّا کر دیا جائے تو کم ضرر ہے۔ بادشاہ کے محاورہ کو مثلاً سوقی کے محاورہ میں ظاہر کرنا، اس کو مسخ کرنا ہے۔ شاہ عبدالقادر کا ترجمہ بعض دل چسپ ترجموں سے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ کچھ تو جذبات سے معرّا ہے، اور کچھ قدامت زبان نے اس کو اور پھیکا کر دیا ہے۔