اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔
یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
قرآن کے مطابق کائنات کی وسعت
" کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایا ہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتا ہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جا سکے۔
جواب کا خاص قرآنی اسلوب
ارشاد باری تعالی ہے :
اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ (سورۃ الدخان: 13)
"اب ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع باقی رہا! ان کے پاس تو ایک واضح کر دینے والا رسول آ چکا تھا "
یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آ جانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا! بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لیے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کر دی تھی لیکن انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کو سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہو گیا ہے۔ اب توبہ کا وقت گزر چکا۔ توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انھوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لیے واپس آنے والا نہیں ہے۔
تعیین خطاب
مولانا حمید الدین فراہیؒ
مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ پورا قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن میں تمام خطاب بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ مثلاً 'اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ'۱ (ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں) میں ظاہر ہے کہ خطاب بندہ کی طرف سے ہے۔ علما اس کی توجیہ یوں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ تعلیم فرمائی ہے، گویا یوں فرمایا کہ اس طرح کہو، لیکن یہاں ''کہو'' کا لفظ موجود نہیں ہے تو اس مقدر کو کیسے جانا جائے؟
شان نزول کے بارے میں مولانا مودودی ؒ کا نکتۂ نظر
مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے " آیا کہ سورۃ الدھر مکی ہے یا مدنی " مفسرین کے اختلافات کا تجزیہ کیا ، اس بارے میں روایت کا درایتی تجزیہ کرکے اس کے زمانہ نزول کا تعین کیا ۔ ساتھ ہی شان نزول کے بارے میں سلف کے نکتۂ نظر کا ذکر بیان کیا۔ سورتوں ، آیاتوں کے شان نزول اور زمانہ نزول کے بارے میں ان کی یہ بحث نہایت دلچسپ اور اہم ہے، اس سے شان نزول کے بارے میں ان کا نکتۂ نظر بھی معلوم ہوتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ۔
" اکثر مفسرین اس( سورۃ الدھر ) کو مکی قرار دیتے ہیں۔ علامہ زمخشری، امام رازی، قاضی بیضاوی، علامہ نظام الدین نیسا بوری، حافظ ابن کثیر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اسے مکی ہی لکھا ہے، اور علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہی جمہور کا قول ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین نے پوری سورت کو مدنی کہا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ سورت ہے تو مکی مگر آیات 8 تا 10 مدینے میں نازل ہوئی ہیں ۔
حضرت داؤد ؑ کی زندگی کا ایک حیرت انگیز واقعہ
ارشاد باری تعالی ہے :
" اے نبی (ﷺ ) ! صبر کرو ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں ، اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا۔ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔ پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اسکی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے ، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔
پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے ان مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟۔ جب وہ داؤد کے پاس پہنچا تو وہ ا نہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انہوں نے کہا :
’’ڈریے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے ، بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے ۔ یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘ ۔
داؤد نے جواب دیا :
’’ اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا ، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں ، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں ، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ‘‘
(یہ بات کہتے کہتے ) داؤد سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا ۔ تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے ۔ (ہم نے اس سے کہا)
’’ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے ‘‘
( سورہ ص آیات 18 تا 26 )
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اس واقعہ پر بائیبل کے حوالے سے اپنا تبصرہ لکھا ، وہ لکھتے ہیں ۔
" جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس )کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس میں حضرت داؤد پر اُوریاہ حِتّی (Orian the Hittite)کی بیوی سے زنا کرنے ، اور پھر اوریاہ کو ایک جنگ میں قصداً ہلاک کروا کر اس کی بیوی سے نکاح کر لینے کا صاف صاف الزام لگایا گیا ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی عورت، جس نے ایک شخص کی بیوی ہوتے ہوئے اپنے آپ کو داؤد کے حوالے کیا تھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی ماں تھی۔ یہ پورا قصہ بائیبل کی کتاب سموئیل دوم ، باب 11۔12 میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہے ۔ نزول قرآن سے صدیوں پہلے یہ بائیبل میں درج ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو بھی اپنی کتاب مقدس کی تلاوت کرتا، یا اسے سنتا تھا، وہ اس قصے سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اس پر ایمان بھی لاتا تھا۔ انہی لوگو ں کے ذریعہ سے یہ دنیا میں مشہور ہوا اور آج تک حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بنی اسرائیل اور عبرانی مذہب کی تاریخ پر کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جاتی جس میں حضرت داؤد کے خلاف اس الزام کو دہرایا نہ جاتا ہو۔ اس مشہور قصے میں یہ بات بھی ہے کہ:
’’خداوند نے نَاتَن کو داؤد کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آ کر اس سے کہا کسی شہر میں دو شخص تھے ۔ ایک امیر، دوسرے غریب۔ اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلّے تھے ۔ پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا۔ اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی نوالے میں کھاتی اور اسکے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لیے بطور بیٹی کے تھی۔ اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے مسافر کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلّے میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی۔تب داؤد کا غضب اس شخص پر بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم، وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے ۔ اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا۔ تب ناتن نے داؤد سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے ـــــــ تو نے حتّی اوریاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی غمّون کی تلوار سے قتل کروایا۔‘‘ (2۔سموئیل،باب 12۔ فقرات 1 تا 11)
اس قصے اور اس کی اس شہرت کی موجودگی میں یہ ضرورت باقی نہ تھی کہ قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی تفصیلی بیان دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے بھی نہیں کہ وہ اپنی کتاب پاک میں ایسی باتوں کو کھول کر بیان کرے ۔اس لیے یہاں پردے پردے ہی میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اہل کتاب نے اسے بنا کیا دیا ہے ۔ اصل واقعہ جو قرآن مجید کے مذکورہ بالا بیان سے صاف سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اوریاہ (یا جو کچھ بھی اس شخص کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے ۔ اور چونکہ یہ خواہش ایک عام آدمی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر فرمانروا اور ایک زبردست دینی عظمت رکھنے والی شخصیت کی طرف سے رعایا کے ایک فرد کے سامنے ظاہر کی گئی تھی، اس لیے وہ شخص کسی ظاہری جبر کے بغیر بھی اپنے آپ کو اسے قبول کرنے پر مجبور پا رہا تھا۔ اس موقع پر، قبل اس کے کہ وہ حضرت داؤد کی فرمائش کی تعمیل کرتا، قوم کے دو نیک آدمی اچانک حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ایک فرضی مقدمے کی صورت میں یہ معاملہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت داؤد ابتداء میں تو یہ سمجھے کہ یہ واقعی کوئی مقدمہ ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اسے سن کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن زبان سے فیصلہ کے الفاظ نکلتے ہی ان کے ضمیر نے تنبیہ کی کہ یہ تمثیل پوری طرح ان کے اور اس شخص کے معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے ، اور جس فعل کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں اُس کا صدور خود اُن سے اُس شخص کے معاملہ میں ہو رہا ہے ۔ یہ احساس دل میں پیدا ہوتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور توبہ کی اور اپنے اس فعل سے رجوع فرما لیا۔
بائیبل میں اس واقعہ کی وہ گھناؤنی شکل کیسے بنی؟ یہ بات بھی تھوڑے سے غور کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد کو اُس خاتون کی خوبیوں کا کسی ذریعہ سے علم ہو گیا تھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ایسی لائق عورت ایک معمولی افسر کی بیوی ہونے کے بجائے ملک کی ملکہ ہونی چاہیے ۔ اس خیال سے مغلوب ہو کر انہوں نے اس کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے طلاق دے دے ۔ اس میں کوئی قباحت انہوں نے اس لیے محسوس نہ کی کہ بنی اسرائیل کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی کہ ایک شخص اگر کسی کی بیوی کو پسند کرتا تو بی تکلف اس سے درخواست کر دیتا تھا کہ اسے میرے لیے چھوڑ دے ۔ ایسی درخواست پر کوئی برا نہ مانتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات دوست ایک دوسرے کے پاس خاطر سے بیوی کو خود طلاق دے دیتے تھے تاکہ دوسرا اس سے شادی کر لے ۔ لیکن یہ بات کرتے وقت حضرت داؤد کو اس امر کا احساس نہ ہوا کہ ایک عام آدمی کی طرف سے اس طرح کی خواہش کا اظہار تو جبر و ظلم کے عنصر سے خالی ہو سکتا ہے ، مگر ایک فرمانروا کی طرف سے جب ایسی خواہش ظاہر کی جائے تو وہ جبر سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو کی طرف جب اس تمثیلی مقدمہ کے ذریعہ سے ان کو توجہ دلائی گئی تو وہ بلا تامّل اپنی اس خواہش سے دست بردار ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر بعد میں کسی وقت جب ان کی کسی خواہش اور کوشش کے بغیر اس خاتون کا شوہر ایک جنگ میں شہید ہو گیا، اور انہوں نے اس سے نکاح کر لیا، تو یہودیوں کے خبیث ذہن نے افسانہ تراشی شروع کر دی، اور یہ خبیث نفس اس وقت اور زیادہ تیزی سے کام کرنے لگا جب بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت سلیمانؑ کا دشمن ہو گیا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ 582)۔ ان محرکات کے زیر اثر یہ قصہ تصنیف کر ڈالا گیا کہ حضرت داؤد نے معاذاللہ اوریاہ کی بیوی کو اپنے محل کی چھت پر سے اس حالت میں دیکھ لیا تھا کہ وہ برہنہ نہا رہی تھی۔ انہوں نے اس کو اپنے ہاں بلوایا اور اس سے زنا کا ارتکاب کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر انہوں نے اوریاہ کو بنی عمّون کے مقابلہ پر جنگ میں بھیج دیا اور فوج کے کمانڈر ہوآب کو حکم دیا کہ اسے لڑائی میں ایسی جگہ مقرر کر دے جہاں وہ لازماً مارا جائے ۔ اور جب وہ مارا گیا تو انہوں نے اس کی بیوی سے شادی کر لی، اور اسی عورت کے پیٹ سے سلیمان (علیہ السلام ) پیدا ہوئے ۔ یہ تمام جھوٹے الزامات ظالموں نے اپنی ’’ کتاب مقدس‘‘ میں ثبت کر دیے ہیں تاکہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے رہیں اور اپنی قوم کے ان دو بزرگ ترین انسانوں کی تذلیل کرتے رہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد ان کے سب سے بڑے محسن تھے ۔
قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک گروہ نے تو ان افسانوں کو قریب قریب جوں کا توں قبول کر لیا ہے جو بنی اسرائیل کے ذریعہ سے ان تک پہنچے ہیں ۔ اسرائیلی روایات کا صرف اتنا حصہ انہوں نے ساقط کیا ہے جس میں حضرت داؤد پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور عورت کے حاملہ ہو جانے کا ذکر تھا۔ باقی سارا قصہ ان کی نقل کردہ روایات میں اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح وہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا۔ دوسرے گروہ نے سرے سے اس واقعہ ہی کا انکار کر دیا ہے کہ حضرت داؤد سے کوئی ایسا فعل صادر ہوا تھا جو دنبیوں والے مقدمہ سے کوئی مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے اس قصے کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہیں ، جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور خود قرآن کے سیاق و سباق سے بھی وہ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں ۔ لیکن مفسرین ہی میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک بات تک پہنچا ہے اور قرآن کے واضح اشارات سے قصے کی اصل حقیقت پا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :
مسروق اور سعید بن جبیر، دونوں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس عورت کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑ دے ‘‘۔(ابن جریر)
علامہ زَمَخشری اپنی کشّا ف میں لکھتے ہیں کہ ’’ جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس شخص سے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اُن کے لیے پنی بیوی کو چھوڑ دے ۔‘‘
علامہ ابوبکر جصّاص اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ عورت اس شخص کی منکوحہ نہیں بلکہ صرف مخطوبہ یا منسوبہ تھی، حضرت داؤد نے اسی عورت سے نکاح کا پیغام دے دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہو ا کیونکہ انہوں نے اپنے مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ ان کے گھر میں پہلے سے کئی بیویاں موجود تھیں (احکام القرآن )۔ بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے ۔ لیکن یہ بات قرآن کے بیان سے پوری مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن مجید میں مقدمہ پیش کرنے والے کے جو الفاظ نقل ہوئے ہیں ہو ہ یہ ہیں کہ لِیْ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا۔ ’’میرے پاس بس ایک ہی دُنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسے میرے حوالہ کر دے ‘‘۔ یہی بات حضرت داؤد نے بھی اپنے فیصلہ کیں ارشاد فرمائی کہ فَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ۔’’ اس بت تیری دنبی مانگنے میں تجھ پر ظلم کیا۔‘‘ یہ تمثیل حضرت داؤد اور اوریاہ کے معاملہ پر اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی ہے جبکہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہو۔ پیغام پر پیغام دینے کا معاملہ ہوتا تو پھر تمثیل یوں ہوتی کہ ’’ ایک دنبی لینا چاہتا تھا اور اس نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دے ۔‘‘
قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اصل واقعہ بس یہی ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی چھوڑ دے ، اور سنجیدگی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا ــــــ قرآن میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ شخص ان کے اس مطالبہ پر اپنی بیوی سے دست پردار ہو گیا اور حضرت داؤد نے اس عورت سے اس کے بعد شادی بھی کر لی اور حضرت سلیمانؑ اسی بطن سے پیدا ہوئے ــــــ جس بات پر عتاب ہوا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے ایک عورت کے شوہر سے یہ چاہا کہ وہ ان کی خاطر اسے چھوڑ دے ــــــــ یہ فعل خواہ فی الجملہ جائز ہی ہو مگر منصب نبوت سے بعید تھا، اسی لیے ان پر عتاب بھی ہوا اور ان کو نصیحت بھی کی گئی۔‘‘
یہی تفسیر اس سیاق و سباق سے بھی مناسبت رکھتی ہے جس میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ سلسلہ کلام پر غور کرنے سے یہ با ت صاف معلوم ہوتے ہے کہ قرآن مجید میں اس مقام پر یہ قصہ دو اغراض کے لیے بیان کیا گیا ہے ۔ پہلی غرض نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر کی تلقین کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ ’’ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو‘‘۔ یعنی تمہیں تو ساحر اور کذاب ہی کہا جا رہا ہے ، لیکن ہمارے بندے داؤد پر تو ظالموں نے زنا اور سازشی قتل تک کے الزامات لگا دیے ، لہٰذا ان لوگوں سے جو کچھ بھی تم کو سننا پڑے اسے برداشت کرتے رہو۔ دوسری غرض کفار کو یہ بتانا ہے کہ تم لوگ ہر محاسبے سے بے خوف ہو کر دنیا میں طرح طرح کی زیادتیاں کرتے چلے جاتے ہو، لیکن جس خدا کی خدائی میں تم یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ کسی کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا، حتیٰ کہ بو بندے اس کے نہایت محبوب و مقرب ہوتے ہیں ، وہ بھی اگر ایک ذرا سی لغزش کے مرتکب ہو جائیں تو خداوند عالم ان سے سخت مواخذہ کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا گیا کہ ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو ایسی اور ایسی خوبیوں کا مالک تھا، مگر جب اس سے ایک بے جا بات سرزد ہو گئی تو دیکھو کہ ہم نے اسے کس طرح سرزنش کی۔
اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی اور باقی رہ جاتی ہے جسے رفع کر دینا ضروری ہے ۔تمثیل میں مقدمہ پیش کرنے والے نے یہ جو کہا ہے کہ اس شخص کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے جسے یہ مانگ رہا ہے ، اس سے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید حضرت داؤد پاس 99 بیویاں تھیں اور وہ ایک عورت حاصل کر کے 100 کا عدد پورا کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن دراصل تمثیل کے ہر ہر جُّز ء کا حضرت داؤد اور اوریاہ حتّی کے معاملے لفظ بہ لفظ چسپاں ہونا ضروری نہیں ہے ۔ عام محاورے میں دس، بیس، پچاس وغیرہ اعداد کا ذکر صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ ٹھیک تعداد بیان کرنے لے لیے ۔ ہم جب کسی سے کہتے ہیں کہ دس مرتبہ تم سے فلاں بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ نہی ہوتا کہ دس بار گِن کر وہ بات کہی گئی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے بارہا وہ بات کہی جاچکی ہے ۔ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے ۔ تمثیلی مقدمہ میں وہ شخص حضرت داؤد کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس متعدد بیویاں ہیں ، اور پھر بھی آپ دوسرے شخص کی بیوی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی بات مفسر نیسابوری نے حضرت حسنؓ بصری سے نقل کی ہے کہ لم یکن لداؤد تسع وتسعون امرأۃ وانما ھٰذا مثل، ’’ حضرت داؤد کی 99 بیویاں نہ تھیں بلکہ یہ صرف ایک تمثیل ہے ۔‘‘
(اس قصے پر تفصیلی بحث مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں کی ہے ۔ جو اصحاب اس بیان کردہ تاویل کی ترجیح کے مفصل دلائل معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب کے صفحات 29 تا 44 ملاحظہ فرمائیں ۔)
( تفہیم القرآن جلد چہارم ص 323- 327 ، سُوْرَةُ صٓ حاشیہ نمبر :28 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )
تفسیر تذکیر القرآن کی خصوصیات
1- تذکیر القرآن کا مقصد قرآن کی یاد دہانی ہے ۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ نصیحت ہے ۔ تذکیر القرآن کی ترتیب میں سب سے زیادہ اسی پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لیے نصیحت بن سکے ۔
2- قرآن عام انسانی کتاب کی طرح ابواب کے انداز میں نہیں ہے ۔ مگر اس کا عام انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک پورا پیغام ہے ۔ ایک ایک " پیراگراف" میں ایک ایک بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تذکیر القرآن مین اشی شذراتی انداز کو تشریح کے لیے اختیار کیا گیا ہے ۔ یعنی قرآن کا ایک ٹکڑا یا ایک " پیراگراف " لے کر اس میں جو بات کہی گئی ہے اس کو مسلسل مضمون کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تشریح کو پڑھتے وہئے قاری کے ذہن میں معانی کا سلسلہ نہ ٹوٹے اور وہ قرآن کی تذکیری غذا مسلسل لیتا چلا جائے ۔
3- تذکیر القرآن کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ پہلے قرآن کا زیر تشریح ٹکڑا " پیراگراف" درج کیا گیا ہے ۔ اس کے نیچے اس کا ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کے بعد ایک لکیر دے کر متعلقہ ٹکڑے کی تشریح ہے ۔ جہاں تشریح ختم ہو تی ہے وہاں پھر قرآن کا اگلا ٹکڑا درج کرکے دوربارہ مذکورہ ترتیب سے ترجمہ اور تشریح درج ہے ۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک پوری سورہ تفسیر ہے ۔ اس ترتیب میں قاری ہر تشریح کو پڑھتے ہوئے بیک وقت اس کا متن بھی سامنے رکھ سکتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی ۔
4- تذکیر القرآن میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ ہر جزء میں ایک پوری بات آجائے ۔ آدمی اگر ایک صفحہ پڑھے تب بھی قرآنی نصیحت کا کوئی حصہ اسے مل جائے اور زیادہ صفحات پڑھے تب بھی ۔
5- تذکیر القرآن میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ وہ نہ پوری طرح لفظی او رنہ پوری طرح بامحاورہ ۔ بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے۔ دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے ۔
6- تفسیرمیں عام طور پر تفصیل سے پرہیز کیا ہے ، زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے ، وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں بھی باقی رہے ، قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف وہ انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے تفسیر میں بس انھیں اصل پہلوؤں کو غیر فنی انداز میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
جمعہ 13 نومبر 1981 وحید الدین خاں
(دیباچہ تذکیر القرآن )
قرآنی قصص کا اسلوب
قرآن میں کئی تاریخی واقعات اور معجزات کا تذکرہ ہے جن کو علماء نے علمِ تذکیر بایّام اللہ کا نا م دیا ہے، دراصل یہ علمِ تاریخ ہے۔ اس کو اصطلاح میں علمِ قصص بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مذہبی تاریخ ہے جس کو مختصرا قرآن بیان کرتا ہے۔ اس میں حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آخری نبیؐ تک کی اہم قوموں اور پیغمبروں کے احوال و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
ان واقعات کے بیان کرنے کی ایک بڑی غرض انذار اور عبرت آموزی ہے۔ چنانچہ ایک طرف آخری نبی کے مخاطبین کو بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے، بلکہ پچھلی دعوتوں ہی کی تجدید اور ان کی تکمیل ہے، تو دوسری طرف منکرین کو خبر دار کیا گیا ہے کہ سنت اللہ کے مطابق ایک دن ان کو بھی اسی انجامِ بد سے دوچار ہونا ہے جس سے ان سے پہلے کی سرکش قومیں دوچار ہو چکی ہیں۔
اسی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین و تشفی دی گئی ہے کہ حق و باطل کی اس لڑائی میں حق کو فتح حاصل ہو گی اور باطل سرنگوں ہو گا۔ اس باب میں اللہ کی سنت ناقابلِ تغیر ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا گیا ہے:
وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ. (سورۂ ہود۱۱: ۲۰)
’’اور رسولوں کے احوال میں سے یہ سارے قصے ہم تم سے بیان کرتے ہیں (اور غرض یہ ہے) کہ ان کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو تقویت دیں، (اس کو جمائے رکھیں) اور جو حق بات ان قصّوں میں ہے وہ تم تک پہنچ چکی ہے اور (اس میں) مومنوں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔‘‘
قرآنی قصص کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت اجمال کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض قصّوں میں صرف اشارے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ صرف تین سورتوں، یوسف، کہف، مریم، میں واقعات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اجمال ہو یا تفصیل، دونوں با مقصد ہیں۔ جہاں اجمال ہے وہاں ہدایت کے نقطۂ نظر سے اجمال ہی مطلوب ہے اور جہاں تفصیل ہے وہاں تذکیر کا پہلو متقاضی تھا کہ اس کو کھول کر بیان کیا جائے۔
تاریخی واقعات کے بیان سے قرآن کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان اس سے یاد دہانی حاصل کریں، جیسا کہ سورۂ ہود کی مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے ’’و ذکریٰ للمومنین‘‘۔ اس سلسلے میں قرآن میں خاص طور اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کے واقعات مکرّر بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان دیکھ لیں کہ ان کی دینی اور دنیوی بربادی کے اسباب کیا تھے۔ مثلاً یہودیوں کے مذہبی افتراق اور فرقہ بندی کے حوالے سے فرمایا گیا ہے:
قرآنی قصص کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اختلافی امور کو نظر انداز کر کے قصّے کے مرکزی خیال کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ کہف میں اصحابِ کہف اور ان کے کتوں کی تعداد اور غار میں ان کی مدتِ قیام کے بارے میں پہلے سے مختلف رائیں تھیں (آیات ۲۲ تا ۲۵)، اس لیے قرآن نے ان کو مبہم ہی رہنے دیا اور ان غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کر کے قصہ کی اصل روح کو نمایاں کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ نیکو کار بندوں کی مدد کے سلسلے میں خدا کا وعدہ سچا ہے (سورۂ کہف۔ ۲۱)۔ لیکن مفسرین نے حسب عادت اس اختلافی مسئلے میں قیاس آرائی سے گریز نہیں کیا ہے۔
( علوم قرآن ، جاوید احمد غامدی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمونہ کے طور پر ہم یہاں اصحاب کھف کا قصہ جس طرح قرآن نے بیان کیا نقل کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوگا کہ قرآنی قصص کا انداز اسلوب کیا ہے ۔ آسانی کے لیے عربی متن کے بغیر صرف اردو ترجمہ پیش نظر ہے، ترجمہ تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ سے ماخوذ ہے ۔ واقعہ ایک تمہید سے شروع ہو تا ہے، اس میں نزول قرآن کا مقصد نمایا کیا ، اس کے بعد اہل کتاب پر سخت تنقید کی گئی اور آخر میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے )
ارشاد باری تعالی ہے :
" تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔"
"اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سرو سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہید کے بعد اصل واقعہ کا آغاز ان الفاظ میں ہے ۔
" کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے(اصحاب کھف ) ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا:
” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“
تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔
ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا :
” ہمارا ربّ تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ۔
ہم اُسے چھوڑ کر کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکاریں گے۔
اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے۔"
” یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دُوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔
یہ لوگ ان کے معبُود، ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟
آخراُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھُوٹ باندھے؟ "
"اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔
تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کےلیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“
تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے۔
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا:
”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “
دُوسروں نے کہا:
” شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“
پھروہ بولے:
”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔
چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے۔
اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔
اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبر دستی ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے،
اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں اس رد عمل کا ذکر ہے جو اصحاب کھف کے زندہ ہونے کے بعد لوگوں نےکیا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
" اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ ﴿مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی﴾ اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ ا کرہے تھے کہ اِن ﴿اصحابِ کھف﴾کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا:
”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔“
مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے (حکمران ) اُنہوں نے کہا:
”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(یہاں سے اس واقعہ کا اختتام ہے واقعہ کا اصل مخاطب یعنی محمد ﷺ کو اس کی روشنی میں آخری پیغام دیا ارشاد باری تعالی ہے : )
" کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔ کہو:
" میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے" ۔
کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔
اور دیکھو،کسی چیز کے بارےمیں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔ ﴿تم کچھ نہیں کر سکتے﴾ اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو:
” اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔“
۔۔۔۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور ﴿کچھ لوگ مدّت کے شمار میں﴾ سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو،
"اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے ،
آسمانوں اور ز مین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا!
زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔"
اے نبیؐ ، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ﴿جُوں کا تُوں﴾ سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، ﴿اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو﴾ اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔
اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟
کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ صاف کہہ دو کہ
" یہ حق ہے" تمہارے ربّ کی طرف سے ،
اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ ہم نے ﴿انکار کرنے والے﴾ ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔
وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!
فرآن ربانی دستر خوان ہے
قرآن کو کچھ لوگ فضائل کی کتاب سمجھتے ہیں ، کچھ لوگ مسائل کی کتاب اور کچھ لوگ سیاست کی کتاب ۔ تینوں باتوں میں جزئی صداقت ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن کی صحیح تعبیر نہیں ۔
قرآن کو فضائل کی کتاب ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آ یتوں اور سورتوں میں طلسماتی برکتیں چھپی ہوئی ہیں ۔ اور قرآن کے محض الفاظ کو دہرا لینا برکتوں کے حصول کے لیے کافی ہے ۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو قرآن کی وہ تمام آیتیں بے معنی ہوجاتی ہیں جن میں آدمی کو غور کرنے پر ابھارا گیا ہے ۔ قرآن ایسی آیتوں سے بھرا ہوا ہے جو آدمی کو اکساتی ہیں کہ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرے ۔ وہ قرآن میں تدبر کرے اور قرآنی زاویہ نگاہ سے اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھنے ۔ ان تعلیمات کی روشنی میں دیکھئے تو قرآن کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جن کی فکری قوتیں بیدار ہوں ، جو قرآن سے ذہنی غذا حاصل کریں اور عبرت کی نگاہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاریں ۔ ایسی حالت میں قرآن کو فضائل کی کتاب کہنا قرآن کی تصغیر ہے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ذہنوں کو کھولنے والی کتاب نہیں ۔ وہ برکت کی کتاب ہے جس کو بند ذہن کے ساتھ پڑھاجائے اور پھر بند غلاف میں محفوظ کر کے رکھ دیا جائے ۔
اسی طرح قرآن کو مسائل کی کتاب کہنا بھی قرآن پر ظلم کرنا ۔ "مسائل" کے لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ایسے اعمال کی کتاب ہے جن کو ظاہری آداب کے ساتھ ادا کرلینا کافی ہے ، حالانکہ قرآن میں اس کے مطلوب اعمال کے ظاہری آداب کا ذکر ہی نہیں ۔ قرآن آدمی کو ایمان کی دعوت دیتا ہے مگر وہ اس ایمان کو ایمان نہیں مانتا جو داخل القلب ایمان نہ ہو، جس میں صحت مخارج کے ساتھ کلمہ ایمان کےالفاظ کو دہرا دیا گیا ہو ۔ قرآن کے نزدیک حقیقی ایمان وہ ہے جو روح میں اتر جائے جس میں آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں ، قرآن نماز کو فلاح کا ذریعہ بتایا ہے مگر قرآن کی مطلوب نماز وہ ہے جو خشوع کی نماز ہو نہ کہ سہو کی نماز ۔ و الہانہ شیفتگی شامل ہو جو قومی ہیروؤں کے ذکر میں ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ قرآن کے نزدیک قربانی بہت بڑا عمل ہے مگر وہ قربانی نہیں جو گوشت اور خون کے ہم معنی ہو بلکہ وہ قربانی جو آدمی کے لیے تقوی کا ذریعہ بن جائے ۔
اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو بتا تے ہیں کہ قرآن معروف معنوں میں مسائل کی کتاب نہیں بلکہ حقیقت کی کتاب ہے ۔ وہ انسان کے اندر زندہ عمل دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محض ظاہری آداب و قواعد والا عمل ۔
قرآن میں یقینا بعض سیاسی نوعیت کے احکام ہیں ۔ مگر قرآن کو کتاب سیاست سمجھنا ایساہی ہے جیسے بعض جزئی مشابہت کی بنا پر انسان کو معاشی حیوان سمجھنا ۔ اس نکتہ نظر کے حاملین یہ دیکھتے ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا کہ دعوت و تبلیغ سے شروع ہوکر آپ کا مشن حکومت و سیاست تک پہنچا۔ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبر اس لئے آتے ہیں کہ مخصوص احکام کی بنیاد پر خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان کا مشن الگ الگ نہ تھا بلکہ سب کا مشن ایک تھا ۔ حتی کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا ذکر کر کے نبی آخرالزماں سے کہا گیا ہے کہ تم بھی انھیں کی پیروی کرو(فبھداھم اقتدہ) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب نبیوں کا مشن خدائی حکومت قائم کرنا ہو تا ہے تو آخری نبی کے سوا دوسرے نبیوں نے بھی آپ کی طرح حکومت کیوں نہ قائم کی۔
اس نکتہ نظر کے حاملین اس کا جواب دیتے ہیں کہ عمل کی حد تک تمام نبیوں نے خدائی حکومت کے قیام کے لیے جد وجہد کی ۔ البتہ کسی کا عمل کوشش کے مرحلہ میں رہ گیا اور کسی کا عمل آخری نتیجہ تک پہنچا ۔ مگر یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت موسی ؑ کو لیجئے ۔ اگر آنجناب کا مشن یہ تھا کہ مصر کے اقتدار سے فرعون کو بے دخل کر کے وہاں خدائی قانون کی حکومت قائم کریں تو ایسا کیوں ہوا کہ جب خدا نے فرعون کو ہلاک کر دیا اور اس کی پوری جنگی طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا تو حضرت موسی ؑ مصر چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ آگر آپ ﷺ کا مشن مصر میں حکومت الہیہ قائم کر نا تھا تو فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں اس کا پورا موقع آپ کے لیے کھل چکا تھا ۔ ایسی حالت میں مصر کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیا توجیہ کی جائے گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی نعمتوں کا ابدی خزانہ ہے ، قرآن خدا کا تعارف ہے ، قرآن بندے اور خدا کا مقام ملاقات ہے ۔ مگر اس قسم کے مفروضہ خیالات نے قرآن کو لوگوں کے لیے ایک ایسی کتاب بنادیا جو یا تو لفظی مجموعہ ہے جس سے ہر آدمی بس اپنے مخصوص ذہن کے تصدیق حاصل کرلے ۔ وہ اصلا خود اپنے آپ کو پائے اور یہ سمجھ کر خوش ہو کہ اس نے خدا کو پا لیا ہے ۔
(دیباچہ ، تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں )
سستی نجات کے مقدس نسخے
آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جو یہود نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہری فریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں۔
(اکاذیب مختلقۃ سمعوھا من علمائہم فنقلوھا علی القلید، البحر المحیط عن ابن عباس ومجاھد والفراء)
ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کے لیے نہیں ہے۔ ان میں اپنے بزرگوں سے منسوب کرکے ایسی باتیں ملائی گئی تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ بنی اسرائیل اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس میں ایسے طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ اس کی معمولی معمولی چیزیں بھی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے ور جنت کے باغوں میں پہنچا دینے کے لیے کافی ہیں ۔
سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے کیونکہ اس میں ان کو اپنی اس خوش خیالی کی تصدیق مل رہی تھی کہ ان کو اپنی غیر ذمہ دارانہ زندگی پر روک لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر محض ٹونے ٹوٹکے کی برکت سے جنت میں پہنچ جائیں گے۔
چنانچہ جو یہودی علماء بزرگوں کے حوالے سے یہ خوش کن کہانیاں سناتے تھے ان کو لوگوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخرت کے معاملہ کو آسان بنانا ان کے لیے شان دار دنیوی تجارت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ان کے اوپر نذرانوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ لوگوں کو مفت جنت حاصل کرنے کا راستہ بتاتے تھے، لوگوں نے اس کے بدلے ان کے لیے اپنی طرف سے مفت دنیا فراہم کردی۔
یہی ہر دور میں حامل کتاب قوموں کا مرض رہا ہے۔ جو لوگ اس قسم کے لذیذ خوابوں میں جی رہے ہوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ چند رسمی اعمال کے سوا ان پرکسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ جو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوں کہ ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گورا نہیں کرتے۔ کیونکہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔
تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات 78 تا 82، مولانا وحید الدین خاں )
قرآنِ مُبین کے بعض اسالیب
قرآن کا اسلوب ایک منفرد اسلوب ہے ۔ اِس میں نثر کی سادگی اور ربط و تسلسل ہے، لیکن اِسے نثر نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ نظم کا غنا ،موسیقی اور حسن تناسب اپنے اندر لیے ہوئے ہے،لیکن اِسے نظم بھی نہیں کہہ سکتے ۔یہ اِس طرح کی کوئی کتاب بھی نہیں ہے، جس طرح کی کتابوں سے ہم واقف ہیں اور جن میں ابواب و فصول قائم کر کے کسی ایک موضوع یا موضوعات پر بحث کی جاتی ہے ۔اہل عرب اِسے کبھی شاعری کہتے اور کبھی کاہنوں کے سبحع سے مشابہ ٹھیراتے تھے ، لیکن اُن کا یہ تردد ہی واضح کر دیتا ہے کہ وہ خود بھی اپنی اِس بات سے مطمئن نہیں تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے قرآن ایک بالکل ہی منفرد کتاب ہے ۔ اِس میں دریاؤں کی روانی ہے ، سمندروں کا زور ہے ، حسن استدلال کی ندرتیں ہیں، ربط معنی کی ادائیں ہیں ،مثالیں ہیں ،قصے ہیں ،کلام میں اپنے مرکز کی طرف باربار کا رجوع ہے، تہدید و زجر اورعتاب کے گوناگوں اسالیب ہیں ،افسوس ہے ،حسرت ہے ،شدت یقین ہے ،گریز کی مختلف صورتیں اور اعراض کے مختلف انداز ہیں ۔اِس میں محبت و التفات کے موقعوں پر ، ایں چیست کہ چوں شبنم برسینۂ من ریزی ــــــ کی کیفیت ہے اور غضب کے موقعوں پر ، دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان کا سماں ہے ۔ خطاب کے وہ عجائب تصرفات ہیں کہ آدمی اُن میں بالکل کھو کر رہ جاتا ہے ۔
قرآن کے بلند پایہ اور اعلیٰ مقام کو سمجھنے کے لیے اس کے اسالیب کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس مضمون میں قرآن کے چند اسالیب سے مختصر بحث کی گئی ہے۔
1- عَود علیٰ البَدء
یہ قرآن پاک کا ایک اہم اسلوب ہے۔ یعنی کلام کا آغاز جس چیز سے ہوا ہو اسی پر کلام کا خاتمہ بھی کرنا، تاکہ اس مضمون کی افادیت و اہمیت دلوں پر نقش ہوجائے اور سامع اسے فراموش نہ کرسکے۔ بیچ میں کسی خاص مناسبت اور تقریب سے کچھ مزید چیزیں اور بحثیں بھی آجاتی ہیں جن پر بقدر ضرورت روشنی ڈال دی جاتی ہے پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرکے پوری گفتگو سمیٹ دی جاتی ہے۔
سورۃ مومنون کی ابتدائی آیات میں مومنین کی صفات گنائی گئی ہیں اور اس کی ابتداء نماز سے کی گئی ہے۔ فرمایا گیا:
قَد اَفلَحَ المُومِنُونَ۔ الَّذِینَ ھُم فِی صَلَاتِھِم خَاشِعُونَ (مومنون 1، 2 ) یقیناً فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
درمیان میں مختلف صفات کا تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں پھر اسی صفت کا اعادہ کیا گیا: ” اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔”
مقصد نماز کو نیکیوں کا منبع اور ان کا محافظ ثابت کرنا ہے۔ اس امر پر زور دینا ہے کہ نماز ہی سے نیکی کی شروعات ہوتی ہے اور نماز ہی سے ان کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ اسی مضمون کو حضور سرور عالم ﷺ نے اپنی احادیث میں اس طرح زور دے کر فرمایا ہے:
لَا خیر فِی دینٍ بلا صلوٰۃٍ۔( ابوداؤد ج3 ص242) یعنی جس دین میں نماز نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع کا مطالعہ کیجئے جن میں دین کی بنیادی اخلاقیات بیان ہوئی ہیں۔ ان میں والدین کے حقوق، رشتہ داروں اور مسکینوں کے حقوق ، کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب، قتلِ اولاد کی ممانعت، زنا، قتل، یتیموں کا مال کھانا، ناپ تول میں کمی کرنا، زمین پر تکبر اور اکڑفوں کی چال چلنا ان سب سے روکا گیا ہے لیکن ان سارے اوامر ونواہی کی ابتداء توحید سے ہوئی ہے اور سب سے پہلے توحید پر زور دیا جاتا اور شرک سے روکا جاتاہے:
لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً اٰخَرَ فَتَقعُدَمَذمُوماً مّخذُولاً (بنی اسرائیل:22) “تواللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار ومددگار بیٹھا رہ جائیگا۔”
اور اس اخلاقی درس کی انتہا بھی شرک سے اجتناب کی اسی تعلیم پر ہوتی ہے۔ اس ٹکڑے کے آخر میں فرمایا جاتا ہے:
وَلَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتُلقٰی فِی جَھَنَّمَ مَلُومًا مَّدحُورًا (بنی اسرائیل:39) اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈآل دیا جائے گا ملامت زدہ اور راندہ ہوکر۔
یہاں یہ حقیقت ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ ان تمام بھلائیوں سے وابستگی اور ان تمام حقوق کی ادائیگی توحید ہی سے ممکن ہے۔ جو شخص توحید کی اس تعلیم پر قائم رہے گا وہی ان تمام حقوق کو ادا کرسکتا اور ان اخلاقیات کا پابند رہ سکتاہے۔ اسی سے ان فضائل کی ابتداء اور اسی پر ان کی انتہا بھی ہوتی ہے۔
2- علیٰ سبیل المشاکلہ
عربی ادب کا ایک عام اسلوب یہ ہے کہ کبھی کبھی بعض الفاظ محض مجانست اور صوتی ہم آہنگی کی وجہ سے استعمال ہوجاتے ہیں۔ ان کا مفہوم ان کے لغوی معنیٰ کے لحاظ سے نہیں بلکہ موقع ومحل سے متعین ہوتاہے۔ مثال کے طور پر حماسی شاعر کہتاہے:
وَلم یبق سِوی العدوان دِنَّا ھم کما دانوا
(اور ظلم کا بدلہ دینے کے سوا کوئی راہ باقی نہ رہی۔ ہم نے انھیں بدلہ دیا جس طرح انھوں نے ہمارے ساتھ سلوک کیا۔)
یہاں دَانوا اپنے لغوی مفہوم(انھوں نے بدلہ دیا) میں نہیں بلکہ فَعلوایاظَلَموا کے معنیٰ میں مستعمل ہے۔ اس لئے کہ دشمن نے حملہ میں پہل کی تھی اور اس صورت میں دشمن کے لیے بدلہ دینے کا مفہوم بے معنیٰ ہوجاتاہے۔ اس اسلوب کی مثال سورۃ شوریٰ کی آیت 40 ہے۔ فرمایا:
وَجَز ؤُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃ مِّثلُھَا فَمَن عَفَاوَاَصلَحَ فَاَجرُہُ عَلَی اللہِ اِنَّہُ لَایُحِبُّ الظَّالِمِینَ۔ (شوریٰ:40 برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
یہاں کسی برائی کے جواب میں جو اقدام کیا جائے اسے بھی برائی کے لفظ سے تعبیر کیاگیا ہے حالانکہ برائی کا جواب دینا اور انتقام لینا جائز ہے بشرطیکہ حد سے تجاوز نہ ہولیکن اسے بھی برائی کہنا محض لفظی مجانست اور صوتی ہم آہنگی کی وجہ سے ہے ۔ یعنی اہل ایمان کسی برائی کے جواب میں اتنی ہی کاروائی کرتے ہیں جو برائی کے ہم وزن ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔
3- نہی کے ساتھ قید
یہ قرآنِ پاک کا ایک اہم اسلوب ہے جس سے ناواقفیت ایک طالب علم کو بڑی الجھن میں ڈال دیتی ہے۔ نہی کے ساتھ جو قید لگی ہوتی ہے اس کا مقصود صورت حال کا اظہار اور واقعہ کے گھناؤنے پن کو نمایاں کرناہوتاہے قید اس کے ساتھ محض اس لیے بڑھادی جاتی ہے تاکہ وہ صورت حال سامنے آجائے جو اس کے ارتکاب میں مضمر ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ نور میں اسی اسلوب کی بلاغت ملاحظہ فرمائیے:
وَلَاتُکرِھُوافَتَیٰتِکُم عَلَی البِغَآءِ اِن اَرَدنَ تَحَصُّنًا لِّتَبتَغُوا عَرَضَ الحَیٰوۃِ الدُّنیاً (نور:33)
اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جب کہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں۔
یہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر لونڈیاں نکاح کی قید میں آنا چاہیں تو ان سے زنا نہ کرو لیکن اگر وہ قیدِ نکاح میں آنے کو تیار نہ ہوں تو ان کو قحبہ گری پر مجبور کیا جاسکتاہے بلکہ اِن اَرَدنَ تَحَصُّنَا(اگر وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں) کی شرط سے مقصود صرف حال کی تصویر اور اس کے نفرت انگیز ہونے کا اظہار ہے۔ جب اسلام نے زنا پر حد جاری کرنے کا حکم دے دیا اور غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی ہدایت فرمائی،( نور:32 “تم میں سے جولوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو) تو قدرتی طور پر لونڈیوں کے اندر بھی ایک عام احساس بیدار ہوا کہ وہ اپنے اخلاقی معیار کو اونچا کریں اور ان میں سے جو اپنے مالکوں کے دباؤ کی وجہ سے پیشہ کراتی تھیں وہ خواہش مند ہوئیں کہ یہ حرام پیشہ چھوڑ کر پاکدامنی کی زندگی بسر کریں۔
چنانچہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور چکلوں کے مالکوں کو تنبہہ فرماتے ہوئےکہا کہ اب ان لڑکیوں کو جبکہ وہ زنا سے توبہ کرکے پاکدامنی کی زندگی اختیارکرنا چاہتی ہیں بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ روایات میں آتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں باقاعدہ چکلے قائم تھے جہاں قحبہ گری کا کاروبار بڑے زور وشور سے ہوتاتھا۔ وہ لوگ اپنی لونڈیوں سے پیشہ کراتے تھے اور ان کی آمدنی سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان میں سے بعض دورِ اسلام میں بھی خفیہ طور سے یہ کاروبار چلارہے تھے چنانچہ تاریخوں میں یہ ذکر موجود ہے کہ مشہور منافق عبداللہ بن اُبی نے ایک چکلہ قائم کر رکھا تھا۔
یہی اسلوب سورۃ بنی اسرائیل میں استعمال ہوا ہےجہاں مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔وہاں بھی خشیۃ املاق کی قید محض اس کے گھنونے پن کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔
بنی اسرائیل : 31 ” اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔”
یعنی اپنی اولاد کو قتل کرنے کا کام محض فقروفاقہ اور مفلسی سے بچنے کے لیے کیا جارہا ہے جبکہ رزّاق والدین نہیں بلکہ وہ خدا ہے جو اولاد اور والدین دونوں کو روزی دیتاہے۔
4- تصریف
اس لفظ کے لغوی معنیٰ گردش دینے اور ہیر پھیر کر بیان کرنے کے ہیں۔ قرآن پاک کا ایک اہم اسلوب یہ ہے کہ وہ آیتوں کو الٹ الٹ کر مختلف زاویوں سے بیان کرتاہے۔ اس کے لیے اس نے تصریف آیات کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مضمون مختلف سورتوں میں بار بار آتا ہے لیکن ہر جگہ ایک ہی پیش و عقب اور ایک ہی قسم کے لواحق وتضمنات کے ساتھ نہیں آتا بلکہ ہر جگہ اس کے اطراف وجوانب اور اس کے تعلقات وروابط بدلے ہوئے ہوتے ہیں۔ مقام کے لحاظ سے اس میں مناسب حال تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ ایک ہی چیز کبھی مرکزی مضمون کی حیثیت سے آتی ہے کبھی ضمنی مضمون کی حیثیت سے، کبھی وہی چیز اجمال کے ساتھ آتی ہے کبھی تفصیل کے ساتھ ۔ کبھی ایک چیز مقدم ہوتی ہے کبھی موخر، کبھی تنہا ہوتی ہے کبھی اپنے مقابل کے ساتھ، کبھی کسی چیز کے ساتھ اس کا جوڑ ہوتاہے کبھی کسی چیز کے ساتھ ۔
بالکل یکساں مضمون مختلف سورتوں میں مختلف ترتیبوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں ظاہر ہے کہ جب ایک ہی شے اپنے مختلف پہلوؤں سے جلوہ گر ہوگی تو اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینے اور پوری طرح پہچاننے میں دقت نہ ہوگی اگر ایک ادا نگاہ سے چوک گئی تو دوسرا جلوہ سامنے آجائے گا۔ (فراہیؒ،حمیدالدین: مقدمہ تفسیرنظام القرآن ص 48 ، 49) قرآن پاک نے خود بھی اس تصریف کا مقصد یہی بتایاہے کہ تاکہ لوگ سمجھ سکیں اور اس کی آیات پر غور کرسکیں۔ فرمایا
اُنظُرکَیفَ نُصَرِّفُ الاٰیٰتِ لَعَلَّھُم یَفقَھُونَ (انعام:65) دیکھو،کس کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔
اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے تصریف کی حقیقت بالکل آشکارا ہوجاتی ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ انسان کا عجیب حال ہے کہ جب کسی آفت میں گرفتار ہوتاہے تو گڑگڑا کربھی اور دل میں چپکے چپکے بھی خدا ہی کو پکارتاہے لیکن جب اس سے نجات پاجاتاہے تو پھر ناشکری ونافرمانی کی وہی زندگی اختیار کرلیتا ہے جس میں پہلے مبتلا تھا یہاں تک کہ اگر خدا کی پکڑ سے اسے ڈرایاجاتا ہے تو ڈھیٹ ہو کر عذاب کا مطالبہ کربیٹھتاہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ دیکھو کس طرح ہم اپنی قدرت کی نشانیاں اور اپنے اختیار وتصرف کی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ اسے یہ سمجھیں لیکن یہ سمجھنے کے بجائے ہمارا عذاب ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی سورۃ میں ذرا پہلے اسی بات کو یوں کہاگیاہے:
اُنظُرکَیفَ نُصَرِّفُ الاٰیٰتِ ثُمَّ ھُم یَصدِفُونَ (انعام:46) دیکھو، کس کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوؤں سے پیش کرتے ہیں، پھر بھی وہ اعراض کررہے ہیں۔
پورے قرآن میں اصلًا تین چیزوں کی دعوت دی گئی ہے اور انھیں مختلف اسلوبوں اور پیرایوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اس سے کلام کی دلکشی اور جاذبیت بڑھ گئی ہے اور کہیں بھی تکرار کا عیب پیدا نہیں ہونے پایاہے۔: (1) توحید (2) معاد (3) رسالت
قرآن نے ان ہی تینوں چیزوں کو مختلف انداز سے باربار اس طرح دوہرایاہے کہ ہر جگہ یہ مستقل اور نئے مضامین معلوم ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر عقیدہ توحید کو لیجئے ۔ کہیں قرآن نے اسے انسانی فطرت کی پکار کہاہے اور یہ ثابت کیاہے کہ توحید انسان کے دل کی آواز اور عین تقاضائے فطرت ہے۔ شرک اس کے خلاف ہے۔
1؎ کہیں اس پر اس حیثیت سے گفتگو کی ہے کہ یہ تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت رہی ہے اور ان سب نے اپنے اپنے زمانے میں توحید ہی کی طرف لوگوں کو بلایا ہے۔ 2؎ کہیں مشرکین کے اپنے نفس کی شہادت سے استدلال کیا گیاہے کہ جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور انھیں موت یا تباہی سامنے کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو وہ اپنے سب بناوٹی معبودوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی سے مدد کی دعا مانگتے ہیں۔ 3؎ کہیں کائنات کے پورے نظام سے توحید کے حق میں زبردست دلائل دیے گئے ہیں اور یہ ثابت کیاگیاہے کہ اس سارے عالم ہست وبود کا خدا ایک ہی ہے۔ 4؎ کہیں خدا کے بے شمار احسانات اور بے پایاں نعمتوں کا تذکرہ کرکے انسان کے جذبہ عبودیت کو مہمیز کیاگیاہے اور اسے اس بات پر آمادہ کیاگیا ہے کہ وہ ایک ہی خدا کو اپنی محبتوں اور اطاعتوں کا مرکز بنائے۔ 5؎ غرض یہ کہ مختلف پیرایوں میں بات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور کہیں بھی عبارت اور کلام میں تکرار کا عیب پیدا نہیں ہواہے نہ ثقالت اور غیرضروری طوالت کا احساس ہونے پایا ہے بلکہ ہر بیان کی نوعیت دوسرے بیانات کی نوعیت سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اور ع کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جاایں جاست کا مصداق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1؎: روم: 30 . فِطرَتَ اللہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیھَا، لَا تَبدیلَ لِخَلقِ اللہِ، ذَالِک الدِّینُ القَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لَا یَعلَمُونَ یعنی”قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیاہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔”
2؎: نمل:36۔ انبیاء:25۔ بیّنہ:5۔ یوسف:39،40۔ مائدہ:72۔ انعام:74تا81۔ ابراہیم: 35،36۔
3؎: انعام: 40، 41۔ یونس:22 ، 23۔ روم: 32، 33۔ زمر: 8۔
4؎: بقرۃ:21،22۔ روم: 20 تا 27۔ یٰس: 36تا 44۔ حدید: 4تا 6۔ انعام: 95 تا 98۔ مومنون: 90۔
5؎: نمل: 60تا 64۔ فرقان: 1تا 3۔ نحل: 65 تا 73۔
5-تخلیص
اس اسلوب کو اردو شاعری کی اصطلاح میں گریز کہاجاسکتاہے ۔ یعنی بات میں سے بات پیدا کرنا، ایک مضمون بیان کرتے کرتے بیچ میں کوئی موقعہ کی ہدایت ونصیحت یا واقعہ بیان کرکے اصل موضوع کی طرف پلٹ آنا، اس کو امام ابن قیم جوزیؒ نے تخلص یا انتقال من فنٍ الی فنٍ کہا ہے۔
یہ اسلوب بڑی مہارت اور حسن بلاغت کا متقاضی ہے۔ مضمون کا رخ تھوڑے سے وقفہ کے بعد پھر اسی اصل مواد کی طرف پلٹا دیاجائے اور یہ تھوڑا سا عرصہ اس طرح نکالا جائے اور اصل مضمون سے اس کا تعلق اس طرح جوڑ دیاجائے کہ درمیان میں کوئی بے ربطی کسی قسم کا جھول اور کوئی بیگانگی پیدانہ ہو۔
سورہ مومنون کامطالعہ کیجئے۔ ابتدا اہل ایمان کی فلاح اور حق کی تکذیب کرنے والوں کے خسران کے اعلان سے ہوتی ہے جس میں خدا کی ربوبیت کے شواہد سے جزاوسزا پر استدلال بھی شامل ہے اور یہ سلسلہ آیت 23 وَعَلَیھَاعَلَی الفُلکِ تُحمَلُونَ( اور ان (جانوروں) پر اور کشتیوں پر سواری بھی کرتے ہو) پر ختم ہوتاہے۔ آگے مکذبین کے خسران اور مومنین کی فلاح پر تاریخی شواہد کا سلسلہ شروع ہوتاہے تو سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کا تذکرہ ہوتا ہے جو تاریخی تقدم کے اعتبار سے بھی رسولوں کی سرگزشت کا سرنامہ ہے اور خاص طور پر کشتی ہی کو ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نجات کا اللہ تعالیٰ نے ذریعہ بنایا۔ کشتی کے ذکر کے بعد اس کشتی والے کے واقعہ کا ذکر اس طرح آگیا ہے گویا بات میں سے بات پیدا ہوگئی ہے۔ فرمایا:
” اور ان(جانوروں) پر اور کشتیوں پر سواری بھی تم کرتے ہو۔ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا، اسے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سواتمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔”(مومنون:22 ،23 )
تاریخی شواہد کے بعد آیت 50 سے پھر اصل مضمون شروع ہوگیاہے۔
سورۃ انبیاء آیات 30 تا 33 کا مطالعہ بھی اس اسلوب کو سمجھنے کے لیے مفید ہوگا۔ یہاں توحید معاد اور جزا پر آفاق سے دلائل فراہم کئے گئے ہیں اور انسانوں کو دعوت، فکر دی گئی ہے فرمایا: ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دئے جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ ان کے سمیت کسی سمت کو لڑھک کر کسی اور کرہ سے جاٹکرائے اوریہ اہتمام بھی کیا کہ ان پہاڑوں کے درمیان درّے بھی بنائے کہ وہ لوگوں کے راستے کا کام دیں اور وہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک کو آجا سکیں۔ اگر خدا نے ایسا نہ کیا ہوتا تو لوگ اپنے اپنے علاقوں ہی کے اندر بند ہوکر رہ جاتے اور کسی کے امکان میں بھی نہ ہوتاکہ وہ سفر اور تجارت کی راہیں کھول سکے۔ اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر پہاڑوں کے اصل مقصدِ تخلیق کی طرف بھی اشارہ کردیاکہ خدا نے اپنی یہ عظیم نشانیاں اسی لیے نمایاں فرمائیں کہ ان کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھلیں، ان پر پہاڑوں کے خالق کی قدرت عظمت اور حکمت کی شان واضح ہو، اور وہ خدا تک پہونچ سکیں۔
“اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انھیں لےکر ڈھلک نہ جائیں۔اور اس میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ لوگ(خدا کی طرف) رہنمائی حاصل کرسکیں۔” (انبیاء: 31)
انبیاء کی مندرجہ بالا آیت میں اصل مقصدِ تخلیق کی طرف اشارہ کرکے اگلی آیت سے پھر اصل مضمون شروع کردیاگیا اور زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان کی نشانیوں پر توجہ دلائی گئی۔ سورہ نحل کی مندرجہ ذیل آیات بھی اس اسلوب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں:
“اس نے جانور پیدا کئے جس میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی ، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی۔ ان میں تمہارے لیے جمال ہے، جبکہ تم انھیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جبکہ شام انھیں واپس لاتے ہو۔ وہ تمہارے لیے بوجھ کو ڈھو کر ایسے مقامات تک لیجاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہونچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے۔ اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق ہیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتاہے جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔” (نحل: 5 تا 9)
دیکھیئے کس خوبصورتی کے ساتھ تخلیص سے کام لے کر مقصد تخلیق اور ہدایت ورہنمائی کی طرف بیچ میں اشارہ کردیا۔ فرمایا کہ خدا کی یہ نوازشیں اور انعامات ہیں جن کا تقاضا یہ تھا کہ انسان ان کی قدر کرے اور اپنے منعم حقیقی کا شکریہ ادا کرے اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک نہ کرے۔ توحید کی سیدھی راہ خدا تک پہنچاتی ہے۔ اس کے بعد آیت 10 سے پھر اصل مضمون کا سلسلہ شروع کردیا اور ماقبل سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس اسلوب کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو زخرف : 10 تا 14۔ سورہ شعراء: 72 تا78۔ نمل : 14، 15۔
قرآن فہمی کے شرائط
قرآن ایک فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کی گنجائش رہتی ہے ۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پڑھنے والا خالی الذھن ہو ۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود اپنی بات پڑھے گا ۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ : سورۃ البقرۃ : 165)
"کچھ لو گ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مد مقابل بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کر تے ہیں جیسی محبت اللہ کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔ "
ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی اکھیڑ پچھاڑکو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مدمقابل ) پر رک جائے گا ۔ وہ قرآن سے " مد مقابل " کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مقابل ٹھہرانا ہے ۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے ۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لیے اس بات کا اجازت نامہ بن جائے گا کہ جس کو وہ خدا کا " سیاسی مد مقابل " بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کر دے ۔
اس کے بر عکس جو آدمی سادہ مفہوم متعین کر ے گا ۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مد مقابل ٹھہرا نے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست ۔ یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے ۔ " حب شدید " کے معاملے میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔
قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن پڑھے ۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے اس کو ایک اور شرط پوری کر نی پڑتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے جس کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے ۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کی رہنما کتاب ہے اور کسی عملی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملا ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے ۔
یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے ۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیتا کسی خارج کے مقابلہ میں ۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے ۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتاہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو ۔
قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے ۔ اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو ، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا ۔
قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خدائی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے ۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے ۔
قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح وشام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے ۔
قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے ۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہو اور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہو تا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے ۔
قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس سے سر شار وہ ۔ اب جو شخص اپنی عظمت و کبریائی کے مینار میں لذت لے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کی کبریائی کو اس طرح پاتا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔
قرآنی عمل اصلا نفس یا انسان کے اندرونی وجود کی سطح پر ہو تا ہے ۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے ۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہوجاتا ہے ۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپنا تا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کر نے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو تا ہے ۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے ۔
دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزار تے ہوئے طرح طرح کے تعلقات و معاملات پیش آتے ہیں ۔ کسی سے لینا ہو تا ہے اور کسی کو دینا ، کسی سے اتفاق ہو تا ہے اور کسی سے اختلاف ، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت ۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے ، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کر تا ہے ۔
اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآن کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے ۔
قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیتا کوئی " نظام " قائم کرنے کا مشن نہیں ۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے ۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج ۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج پر ۔ تاہم افراد کی قابل لحاظ تعداد اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لازما نکلنا شروع ہو تے ہیں ۔ یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں ۔
قرآن میں مختلف انبیاء کے واقعات انھیں سماجی نتائج اور سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر آدمی اپنی آنکھیں کھول رکھی ہوں تو وہ ہر صورت حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پا تا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ قرآن فطرت انسانی کی کتاب ہے ۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طورپر سمجھ سکتا ہے جس کے لیے قرآن اس کی فطرت کا مثنی بن جائے ۔
( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں )
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے
قرآن عام طرز کی علمی تصنیف نہیں ، وہ ایک دعوتی کتاب ہے .
اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو ساتویں صدی عیسوی کے ثلث اول میں ایک خاص قوم کے اندر اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا اور اس کو اپنے پیغام کی پیغامبری پر مامور فرمایا ۔ اس پیغمبر نے اپنے ماحول میں یہ کام شروع کیا اور اسی کے ساتھ قرآن کا تھوڑا تھوڑا حصہ حسب ضرورت اس کے اوپر اترتا رہا ، یہاں تک کہ 23 سال میں پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے ساتھ قرآن بھی تکمیل ہوگئی ۔
قرآن اگرچہ خدا کی ابدی رہنمائی ہے مگر مذکورہ ترتیب نے اسی کے ساتھ اس کو تاریخی کتاب بھی بنا دیا ہے ۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی ابدی رہنمائی کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔
ایسی حالت میں بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا آدمی کو ایک نئے مسئلہ سے دوچار کر دیتا ہے ۔ قرآن کی تفسیر اگر اس ابتدائی پس منظر کی روشنی میں کی جائے جس میں قرآن کے احکام اترے تھے تو قرآن قدیم زمانہ کی ایک تاریخی کتاب معلوم ہوگی ۔ اس کے بر عکس قرآن کی تفسیر اگر اس کی ابدی اہمیت کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا تاریخی پہلو مجروح ہو تا دکھائی دیتا ہے ۔
اس مسئلہ کی وجہ سے بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا ایک ایسا کام بن گیا ہے ۔ جس میں دوگونہ پہلوؤں کو نبھانا ضروری ہو۔
اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو ساتویں صدی عیسوی کے ثلث اول میں ایک خاص قوم کے اندر اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا اور اس کو اپنے پیغام کی پیغامبری پر مامور فرمایا ۔ اس پیغمبر نے اپنے ماحول میں یہ کام شروع کیا اور اسی کے ساتھ قرآن کا تھوڑا تھوڑا حصہ حسب ضرورت اس کے اوپر اترتا رہا ، یہاں تک کہ 23 سال میں پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے ساتھ قرآن بھی تکمیل ہوگئی ۔
قرآن اگرچہ خدا کی ابدی رہنمائی ہے مگر مذکورہ ترتیب نے اسی کے ساتھ اس کو تاریخی کتاب بھی بنا دیا ہے ۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی ابدی رہنمائی کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔
ایسی حالت میں بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا آدمی کو ایک نئے مسئلہ سے دوچار کر دیتا ہے ۔ قرآن کی تفسیر اگر اس ابتدائی پس منظر کی روشنی میں کی جائے جس میں قرآن کے احکام اترے تھے تو قرآن قدیم زمانہ کی ایک تاریخی کتاب معلوم ہوگی ۔ اس کے بر عکس قرآن کی تفسیر اگر اس کی ابدی اہمیت کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا تاریخی پہلو مجروح ہو تا دکھائی دیتا ہے ۔
اس مسئلہ کی وجہ سے بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا ایک ایسا کام بن گیا ہے ۔ جس میں دوگونہ پہلوؤں کو نبھانا ضروری ہو۔
تذکیر القرآن ( مولانا وحید الدین خان کی تفسیر ) میں یہی دوگونہ انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ اس میں تاریخی پس منظر بھی مختصر طور پر دکھایا گیا ہے مگر اس طرح نہیں کہ قرآن ایک تاریخی کتاب معلوم ہونے لگے ، اسی طرح اس میں قرآنی تعلیمات کو آج کے حالات کے مطابق کرتے ہوئے بیان کیاگیا ہے ، مگر ایسا نہیں کہ قرآن اپنی تاریخی بنیاد سے بالکل علیحدہ ہوجائے ۔
( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحیدالدین خاں )
( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحیدالدین خاں )
قرآن کا مقصدِ نزول
قرآن کس لئے اتارا گیا ہے، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کی اسکیم کو بتانے کے لیے۔
انسان کو خدا نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ موجودہ محدود دنیا میں پچاس سال یا سوسال گزار کر اس کو آخرت کی دنیا میں داخل کردیا جاتا ہے ۔ جہاں اس کو مستقل طور پر رہنا ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا انجام پانے کی جگہ ہے ۔ آج کی زندگی میں آدمی جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برابدلہ پائے گا ۔ کوئی اپنی نیک کرداری کے نتیجہ میں ابدی طور پر جنت میں جائےگا اور کوئی اپنی بد کرداری کی وجہ سے ابدی طور پر جہنم میں۔
قرآن اس لئے اتارا گیا کہ اس سنگین مسئلہ سے آدمی کو باخبر کرے اور اس کو بتائے کہ اگلی زندگی میں برے انجام سے بچنے کے لیے اسے اپنی موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے۔
خدانے انسان کو فہم و شعور کے اعتبار سے اسی صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے جو اس کو انسانوں سے مطلوب ہے۔ پھر اس نے گرد وپیش کی پوری کائنات کو مطلوبہ درست کر دار کا عملی مظاہرہ بنادیا ہے ۔ تاہم یہ سب کچھ خاموش زبان میں ہے۔ انسانی فطرت احساسات کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور فطرت کے مظاہر تمثیل کی صورت میں۔
قرآن اس لئے آیا کہ فطرت اور کائنات میں جوکچھ خاموش زبان میں موجود ہے وہ نطق کی زبان میں اس کا اعلان کردے تاکہ کسی کے لیے اس کا سمجھنا مشکل نہ رہے۔
فطرت اور کائنات اگر آدمی کی خاموش رہنما ہیں تو قرآن ایک ناطق رہنما۔
مزید یہ کہ قرآن ایک ایسے پیغمبر پر اتارا گیا جو غلبہ کا پغمبر تھا ۔ پچھلے انبیاء صرف داعی کی حیثیت سے بھیجے گئے۔ ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتاتھا جب کہ وہ اپنی مخاطب قوم کو خدا کی مرضی سے پوری طرح آگاہ کردیں۔ انھوں نے اپنی مخاطب قوموں کی زبان میں کلام کیا ۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر تے ہوئے ان کی بات نہیں مانی ۔ اس طرح پچھلے زمانوں میں خدا کی مرضی انسان میں عملی صورت اختیار نہ کرسکی ۔
پیغمبر آخرالزماں کو خدا نے غلبہ کی نسبت دی۔ یعنی آپ ﷺ کے لیے فیصلہ کر دیا کہ آپ کا مشن صرف پیغام رسانی پر ختم نہ ہوگا بلکہ خدا کی خصوصی مدد سے اس کو عملی واقعہ بننے تک پہنچایا جائے گا ۔ اس خدائی فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے دین کے حق میں ہمیشہ کے لیے ایک مزید تائیدی بنیاد فراہم ہوگئی۔ یعنی مذکورہ بالا اہتمام کے علاوہ انسان کی حقیقی زندگی میں خدا کی مرضی کا ایک کامل عملی نمونہ۔
پچھلے زمانہ میں خدا کے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی دعوت کو لے کر آئے جس کو لے کر پیغمبر آخرالزماں کو بھیجاگیا تھا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ عام طور پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے پیغام کو نہ مانا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ان کو غلط طور پر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے خدا کے سچے دین کو پکڑا تو ان کی بنی بنائی دنیا تباہ ہو جاے گی ۔ قرآن کی تاریخ اس اندیشہ کی عملی تردید ہے ۔
قرآن کے ذریعہ جو تحریک چلائی گئی اس کو خدا نے اپنی خصوصی نصرت کے ذریعہ دعوت سے شروع کر کے واقعہ بننے کے مرحلہ تک پہنچایا اور اس کے عملی نتائج کو دیا ۔ اس طرح خدا کے دین کی ایک مستقل تاریخ وجود میں آگئی ۔ اب قیامت تک لوگ حقیقی تاریخ کی زبان میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے سچے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کس طرح زمین و آسمان کی تمام برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔
پھر اسی کے ذریعہ قرآن کی مستقل حفاظت کا انتظام بھی کردیا گیا۔ ایک بڑے جغرافیہ میں اہل اسلام کا اقتدار اور وہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قرآن کو ایسا حفاظتی ماحول مل جائے جہاں کوکئی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پر قاادر نہ ہو سکے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ تقریبا ڈیڑھ ہزار سال سے قرآن کا چوکیدار بناہوا ہے ۔
( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں )
مطالعۂ قرآن ( آیت بسم اللہ )
آیت بسم اللہ کی تاریخی حیثیت
قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا مضمون بہت قدیم زمانہ سے اہل مذاہب میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق خود قرآن مجید میں یہ نقل ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جب کشتی میں سوار کرایا تو اس وقت اسی سے ملتے جلتے الفاظ کہے ’’ وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‘‘ (ھود :41)، اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا، بے شک میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکۂ سبا کو جو خط لکھا، اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے :’’ اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘‘ (نمل :30): یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے۔
آیت بسم اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید سے متعلق پچھلے آسمانی صحیفوں میں موجود ایک پیشین گوئی کی بھی تصدیق کر رہی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچویں کتاب باب 18-19 میں یہ الفاظ وارد ہیں ’’ میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا‘‘۔
آیت بسم اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید سے متعلق پچھلے آسمانی صحیفوں میں موجود ایک پیشین گوئی کی بھی تصدیق کر رہی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچویں کتاب باب 18-19 میں یہ الفاظ وارد ہیں ’’ میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا‘‘۔
آیت بسم اللہ ایک دعا ہے
یہ آٰیت ایک دعا کی صورت میں ہے۔ ایک بندۂ مؤمن کے دل کی یہ ایک فطری صدا ہے جو ہر قابل ذکر کام کرتے وقت اس کی زبان سے نکلنی چاہئے۔ اللہ تعالی نے اس فطری صدا کو قرآن مجید میں الفاظ کا جامہ پہنا دیا ہے ۔
کوئی کام کرنے سے پہلے جب یہ دعا ارادہ اور شعور کے ساتھ ہماری زبان سے نکلتی ہے تو اس کام کو اللہ کی طرف سے خصوصی اہمیت ملتی ہے اس میں خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے اور جو کام اس دعا کے بغیر کیا جاتا ہے وہ اللہ تعالی کی تمام برکتوں سے خالی ہوتا ہے اس وجہ سے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو کام ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہے ۔
بسم اللہ کی یہ برکتیں تو ہر کام کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں لیکن خاص قرآن کی تلاوت کا آغاز اس دعا سے کرنے میں بندہ اس حکم کی تعمیل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالکل ابتدائی وحی نازل کرتے وقت ہی دیا تھا ’’ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَق‘‘ (العلق :1) (اپنے رب کے نام سے پڑھ، جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا)۔
قرآن میں اس آیت کی جگہ
اس آیت سے متعلق ایک اہم سوال بیدا ہوا کہ قرآن مجید میں اس کی اصل جگہ کہاں ہے ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا کیونکہ یہ ہر سورۃ کے شروع میں (سورۂ توبہ کے سوا) ایک مستقل آیت کی حیثیت سے لکھی ہوئی ہے لیکن کسی سورۃ میں بھی (سوائے سورۂ نمل) اس کے ایک جزو کی حیثیت سے یہ شامل نہیں ہے۔ اس وجہ سے مفسرین کے ہاں اختلاف ہوا ہے کہ یہ کسی خاص سورہ کا حصہ ہے یا نہیں ۔
مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء اور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ یہ قرآن کی سورتوں میں سے کسی سورۃ کی بھی (بشمول سورۂ فاتحہ) آیت نہیں ہے بلکہ ہر سورہ کے شروع میں اس کو محض تبرک اور ایک علامتِ فصل کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
یہی مذہب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
اس کے برعکس مکہ اور کوفہ کے فقہاء کا خیال ہے کہ یہ سورۂ فاتحہ کی بھی ایک آیت ہے اور دوسری سورتوں کی بھی ایک آیت ہے۔ یہ مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کا ہے۔
لیکن قوئ بات یہ ہے کہ مصحف کی موجودہ ترتیب تمام تر وحی الٰہی کی رہنمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات کے تحت عمل میں آئی ہے اور بسم اللہ کی کتابت بھی اسی ترتیب کا ایک حصہ ہے۔ اس ترتیب میں جہاں تک بسم اللہ کے لکھے جانے کی نوعیت کا تعلق ہے سورۂ فاتحہ اور غیر سورۂ فاتحہ میں کسی قسم کا فرق نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر سورۃ کے آغاز میں اس کو ایک ہی طرح درج کیا گیا ہے۔ اس کی حیثیت سورۃ سے الگ ایک مستقل آیت کی نظر آتی ہے ۔
لیکن قوئ بات یہ ہے کہ مصحف کی موجودہ ترتیب تمام تر وحی الٰہی کی رہنمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات کے تحت عمل میں آئی ہے اور بسم اللہ کی کتابت بھی اسی ترتیب کا ایک حصہ ہے۔ اس ترتیب میں جہاں تک بسم اللہ کے لکھے جانے کی نوعیت کا تعلق ہے سورۂ فاتحہ اور غیر سورۂ فاتحہ میں کسی قسم کا فرق نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر سورۃ کے آغاز میں اس کو ایک ہی طرح درج کیا گیا ہے۔ اس کی حیثیت سورۃ سے الگ ایک مستقل آیت کی نظر آتی ہے ۔
نظم قرآن اور مدرسۂ فراہی - ساجد حمید
(ماہنامہ الاشراق، تاریخ اشاعت: نومبر 2017)
مدرسۂ فراہی کے تصورِ نظم قرآن سے متعلق یہ سوال بہت اٹھایاجاتا ہے کہ یہ قرآن کے کلام میں موجود ہے یا خارج سے کلام الٰہی میں ڈالا جارہا ہے؟ ذیل کی سطور میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس سوال کا مختصراً جواب تو یہ ہے کہ مدرسۂ فراہی کا تصورِنظم قرآن خارجی نہیں، بلکہ یہ قرآن کے کلام ہی سے ماخوذ ہے۔اب اس کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
مقدر مقدمات
مولانا فراہی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرآن فہمی میں رکاوٹ مقدر مقدمات کونہ سمجھنے میں ہے۔۱ یہی بات دراصل نظم قرآن کے تصورکا خلاصہ ہے۔پہلے مولانا کے اس جملے کو سمجھتے ہیں۔مقدر سے مراد وہ بات ہے جو کلام کے پس منظر میں موجود ہوتی ہے، مگر لفظوں میں بیان نہیں ہوتی۔ مقدمہ اس بات کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر باتیں کی جاتی ہیں۔ جیسے باپ کا بیٹے کو یہ کہنا کہ سچ بولو، یہ اس مقدمے پر قائم ہے کہ ’’سچ بولنا اچھائی ہے‘‘۔ یہ مقدمہ اگر موجود نہ ہو تو باپ کے اس حکم میں کوئی جان نہیں ہے۔ ’’سچ بولو‘‘کے اس جملے میں ’’سچ اچھا ہے‘‘ ایک مقدر مقدمہ ہے۔ہماری تمام باتیں مقدر مقدمات پر قائم رہتے ہوئے ہی کہی اور سمجھی جاتی ہیں۔انھیں عموماً بولا نہیں جاتا۔
جب بھی ہم کوئی بات کہتے ہیں تووہ معاشرے، عقل ، تجربے ، تصورات ، تہذیب اوردین وغیرہ میں موجود کچھ مقدمات (باتوں) پر قائم ہوتی ہے۔ مثلاً جب برصغیر پاک و ہند میں ایک بیوی اپنے شوہر کویہ آواز دیتی ہے کہ ’راستہ بدل لو، کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہے‘ تو ’’راستہ بدل لو‘‘ جملے کا ’’کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہے‘‘ سے کوئی تعلق اس وقت تک واضح نہیں ہوتا، جب تک کہ ہم یہ مقدر نہ کھولیں کہ ’کالی بلی کا راستہ کاٹنا منحوس سمجھا جاتا ہے‘۔ تو گویا دونوں جملوں کا ربط اس توہّم پر مبنی ایک مقدر تصور کے جاننے پر منحصر ہے۔ اسی طرح غالب نے جب یہ کہا کہ:
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
تو اس شعر کے دونوں مصرعوں کاباہمی تعلق ایک مقدر مقدمے پر قائم ہے، وہ مقدر مقدمہ سیدنا عیسیٰ کی مسیحائی ہے۔ اگر کوئی شخص اس مقدر سے واقف نہیں ہو گا تو شعرکا نہ مضمون سمجھ سکے گا اور نہ اس سے حظ اٹھا سکے گا، کیونکہ دونوں مصرعوں کا ربط ہی اُس پر نہیں کھلے گا۔
فراہی مکتبِ فکر انھی مقدرات کے کھولنے کونظم کلام کہتا ہے۔یہ مقدرات اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں ہوتے، مگر کلام ان پر استوار ہوتا ہے۔ روز مرہ کی گفتگو ہو، یا علمی و تحقیقی مقالات ہوں، انھی مقدرات پر اپنے معنی پاتے، اور باتوں کو مربوط کرتے ہیں۔ان مقدرات کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ آفاقی مقدمات،جو تمام انسانوں کے تصورات میں موجود ہیں۔ مثلاً(ذہنی) سچ بولنا اچھائی ہے، (حسی) آسمان نیلا ہے۔ جیسے ’’گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا‘‘،میں گنبد نیلوفر ی سے مراد آسمان ہے۔
۲۔ علاقائی مقدمات، جو ایک علاقے میں تو موجود ہوں، مگر باقی دنیا ان سے ناواقف ہو ۔مثلاً اردو شعر کی روایت میں ستم زدہ عاشق کے رونے سے سیلاب آسکتے ہیں جس سے گھر اور بستیاں ویران ہو سکتی ہیں، جیسے:
گر یونہی روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے
یہ علاقائی مقدرات پھر دو قسم کے ہوتے ہیں:
۱۔ اس علاقے کے آفاقی، جیسے ہندوستان میں ذات پات میں برہمن کا تقدس اور شودر کا تذلل۔یا مثلاً برہمن کا غیب گو ہونا، غالب نے اس سے مضمون باندھا ہے:
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض!
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
۲۔ متکلم کے خود ساختہ مقدمات جسے وہ مقدار کی حیثیت سے استعمال کرے۔ جیسے علامہ اقبال کا تصورِ خودی، لیکن مقدر کے طور پر استعمال کے لیے شاعر کو اسے متعارف کرانا پڑتا ہے ۔اقبال نے اپنے اس تصور کا اپنی شاعری میں خوب تعارف کرایا ہے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ تصور نیا ہے، لوگ اسے سمجھ نہیں سکیں گے، لہٰذا وہ مختلف پیرایوں سے اسے بیان کرتے ہیں، ہمارے عہد کے بعض شعرا نے علامتی شاعری کی ہے، لیکن وہ اپنی علامتوں کو متعارف نہ کراسکے، اس لیے علامتی شاعری ان کے حلقوں سے باہر نہ نکل سکی۔
اب اصول یہ سمجھیے کہ مقدرات دراصل وہ تصورات ہیں جو کلام میں کہی گئی باتوں میں مقدمات کا کردار ادا کرتے ہیں، جن پر معنی کا دارو مدار ہوتا ہے۔ یہ مقدرات جس قدر معروف ہوں گے اسی قدر کلام واضح دو ٹوک اور دلالت میں صریح ہوگا۔ لیکن بعض اوقات یہ مقدرات غیر اہل زبان کے ہاں مختلف ہونے کی وجہ سے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثلاً اردو میں ’برسا ت کا دن‘ مضمون لکھنے کو دیا جائے تو یہ دل پسند اور خوب صورت وقت کا بیان ہو گا ، لیکن انگریزی کا rainy-day مصیبت کے لیے معروف ہے۔ اب جس کو اس کا پتا نہیں ہو گا،اس کے لیے اس جملے saving money for a rainy day کا مطلب ہوگا کہ پیسہ جمع کرکے برسات کے دنوں میں عیش کریں گے ، حالاں کہ انگریز یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں ایمرجنسی کے لیے روپے جمع کررہا ہوں۔ لہٰذا غیر زبان کے بعض مقدرات نا معلوم ہونے کی وجہ سے کلام غیر مفہوم رہ سکتا ہے۔یہی وہ بات ہے جو مولانا فراہی نے لکھی ہے کہ کلام کے مقدر مقدمات کونہ سمجھنے کی وجہ سے قرآن فہمی میں رکاوٹ رہی ہے۔ مقدر کلام کے دروبست سے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔۲ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے اہل زبان کے ہاں معروف نہ ہو، لیکن جب وہ معروف سے پھوٹا ہو گا تو فوراً سمجھ میں آئے گا، اور اگر معروف سے نہیں پھوٹا ہو گا تو مختلف فیہ ہو جائے گا، لہٰذا کلام مبہم یا زیادہ غور کا محتاج ہو جائے گا۔اسی عمل سے لسانی ارتقا ہوتا ہے اور الفاظ اپنے دامنِ معنی کو وسیع کرتے جاتے، اور بعض معانی کواپنے دامن سے نکال پھینکتے رہتے ہیں۔کلام کے دروبست سے پیدا ہونے والے مقدر کو ذیل کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں:
میں کلاس میں داخل ہوا، طالب علم شور مچارہے تھے۔مجھے دیکھتے ہی سب احتراماً خاموش ہو کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ پھر میں پڑھانے لگا۔
اس کلام میں واحد متکلم کو آخری جملے نے استاد کی حیثیت دے دی ہے۔یہ مقدر کلام کے دروبست نے پیدا کیا ہے۔اب اگر میں اس کی شرح میں لکھ دوں کہ استاد نے ایسا کہاتو غلط نہ ہوگا۔اگر ایسا نہ کیا جائے تواوپر خط کشیدہ میں اور ’’احتراماً‘‘ اور ’’پڑھانے‘‘ کا ربط واضح نہیں ہوگا۔
مختصر یوں کہیے کہ ہمارے ذہنوں میں کچھ مانے اور جانے بوجھے تصورات ہوتے ہیں، جن کوذہن میں رکھ کر ہم بات کرتے ہیں، لیکن ان کو لفظوں میں نہیں بتاتے۔ایسی باتوں کو مقدرات کہتے ہیں، کلام کے معنی کا بڑا انحصار انھی کے علم و دریافت پر کھڑا ہوتا ہے۔عرب اپنے مزاج میں عجمیوں سے زیادہ مقدر مقدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ان کے کلام کا یہ وصف ’خیر الکلام أقل و أدل‘، ان کے کلام کو دنیا سے ممتاز کرتا ہے۔قرآن بھی انھی کے اسلوب میں اترا ہے۔ ایسے کلام میں مقدرات کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔لہٰذا ایسا کلام اعلیٰ تر ذکاوت اور ژرف نگاہی کا تقاضا کرتا ہے۔ عجمیوں کا یہ مزاج نہیں تھا، اس لیے انھیں قرآن غیر مربوط دکھائی دیتارہا، کیونکہ دو جملوں کو جوڑنے والے مقدرات ان پر منکشف نہیں ہوئے تو وہ کلام کے ربط کونہ پاسکے۔
انھی مقدرات کے تحت تعلیل، تقابل، اصل، فرع، اعتراض اور استدراک وغیرہ کے تعلق کلام میں پیدا ہوتے اور معنی آفرینی کرتے ہیں۔
معنوی بندھن اور مقدرات
محذوف مقدرات کے بعد دوسری اہم چیز کلام کے معنی کے بندھن میں ان مقدرات کا کردارہے۔ درج ذیل مثال پر غور فرمائیں:
o ماں نے بیٹے سے کہا: بہت گرمی لگ رہی ہے۔
بیٹے کی طرف سے چند ممکنہ جوابات یہ ہوسکتے ہیں:
o امی، اے سی چلا لیں۔
o سورج نے تو جلانے کی قسم کھا رکھی ہے۔
o ہاں گرمی تو جانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
یہ جوابات ماں کی بات سے واضح طور پر مربوط ہیں۔ کسی کو ان کے ربط سے انکار نہیں ہو گا۔ لیکن ماں کی اسی بات کہ بہت گرمی لگ رہی ہے کے جواب میں ذرا بیٹے کے ان جملوں پر توجہ دیجیے:
o امی، ابھی آیا۔
o امی، ذرا انتظار کریں ، نہار ہا ہوں۔
o اماں، فرج خراب ہے۔
یہ جوابات بظاہر غیر متعلق ہیں، لیکن ایک مقدر مفہوم پر منحصر ہیں، اس لیے بظاہر غیر متعلق ہوتے ہوئے بھی عین متعلق ہیں۔ ماں نے جب کہا کہ گرمی لگ رہی ہے تو بیٹے نے یہ سمجھا کہ والدہ کہہ رہی ہیں کہ آکر میرا پنکھا چلادو ، یا مجھے ٹھنڈا پانی دو۔ تینوں جملے اس مفہوم کو سامنے رکھ کر جواب میں کہنے ممکن ہیں ۔ اگر والدہ کے اس جملہ کہ گرمی لگ رہی ہے، میں یہ مقدر نہ مانا جائے کہ والدہ پنکھا چلانے یا ٹھنڈاپانی مانگ رہی ہیں تو یہ تینوں جواب غلط ہیں۔ بیٹے نے اس سادہ جملے میں مقدر معنی کو محسوس کیا ہے، اس لیے اس کے احساس کے مطابق اس نے نہایت متعلق باتیں کہی ہیں۔لیکن جو اس جملے کا یہ مقدر نہ سمجھے، وہ بیٹے کو بے وقوف سمجھے گا کہ کس طرح کے غیر متعلق جواب دیے جارہا ہے۔ لہٰذا مقدر مفاہیم دو باتوں کے درمیان بندھن کا کام کرتے ہیں، جو بظاہر مختلف یا غیر متعلق ہوتے ہیں۔
یہ بندھن کئی پہلوؤں سے ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں چارعمومی طور پر ممکن مقدرات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔
۱۔ مفہوم، جملہ جس بات کو کہنے کے لیے بولا گیا ہے۔ مثلاًماں نے بیٹے سے کہا: بہت گرمی لگ رہی ہے، کا جملہ موسم کی حالت کا پتا دے رہا ہے۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ صرف موسم پر تبصرہ کررہی ہیں)۔
۲۔ مدعا: جملہ جس بات کو سامع تک پہنچانا چاہتا ہے۔ مثلاً اس جملے میں ماں بیٹے کوکہنا چاہتی ہے کہ گرمی ہے پنکھا چلادیا جائے، یا ٹھنڈا پانی پینے کو دیا جائے وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ گرمی کا کہہ کر کچھ مطالبہ کررہی ہیں)۔
۳۔ نتائج: کہی گئی بات کے کچھ نتیجے نکلیں گے۔ مثلاًیہ کہ موسم خوشگوار نہیں ہے، باہر جانا آسان نہیں ہے ، ماں تکلیف میں ہے، وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ موسم کا کہہ کر کسی کام سے روکنا چاہتی ہیں، یا کچھ نتائج کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہیں)۔
۴۔ تقاضا: اس جملے کے کچھ تقاضے پیدا ہوں گے۔ مثلاً پنکھا فوراً چلنا چاہیے، ماں کی تکلیف زائل ہونی چاہیے، وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ مدعا پر عمل کیا جائے، نتائج کا خیال رکھا جائے ، دی گئی اطلاع کو پیش نظر رکھا جائے)۔ ]یہ اوپر کے تینوں مقدرات کا خیال رکھنا ہے[۔
یہ سارے معنی اس جملے کا ممکنہ حصہ ہیں جو ماں نے بیٹے سے کہا۔ اگرچہ بولے نہیں گئے۔اب اگلے جملے ان میں سے کسی کی رعایت کرتے ہوئے بولے جائیں تو وہ ایک ربط رکھتے ہوں گے خواہ وہ بظاہر غیر مربوط معلوم ہوتے ہوں۔
مثلاً بیٹا ماں کو کہے: اچھا میں پنکھا چلاتا ہوں، یا وہ کہے کہ ماں ، بجلی نہیں آرہی ہے، یا وہ کہے: ماں، میں نے کہا تھا ناکہ اس وقت باہر نہ جاؤ، واضح طور پر مربوط ہوں گے۔پہلا اور دوسرا جواب تقاضے کے پہلو سے ہے ، تیسرا نتائج کے اعتبار سے ہے ۔ لیکن اگر بیٹا ماں سے کہے کہ میں نہا رہا ہوں، تو یہ جملہ قدرے غیر متعلق لگ رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مربوط ہے، تقاضے کے لحاظ سے وہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نہا رہا ہوں آپ کا پنکھا فوراًنہیں چلا سکتا۔آپ کو کچھ انتظار کرنا ہوگا، یا خود اٹھ کر چلا لیں۔
اب غالب کے درج ذیل شعر پراس زاویۂ نگاہ سے غور کیجیے کہ اس نے کس طرح مقدرمقدمات سے دو مصرعوں کو مربوط بنایا ہے:
گھرہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
ان دونوں مصرعوں کا دور دور تک کوئی باہمی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک شاعرانہ اور دو مادی تجربے پر مبنی مقدمات مقدر ہیں ۔شاعرانہ مقدمہ یہ ہے کہ رونے سے اتنا پانی جمع ہوجاتا ہے کہ گھر غرقاب ہوجاتا ہے۔پہلے مصرعے میں یہی مقدر مقدمہ موجود ہے۔ اگر میں نہ روتا، یعنی گھر غرقاب نہ بھی ہوتا تو تب بھی ویران ہوتا۔ دوسرے مصرعے میں دومادی تجربے پر مبنی مقدر ات کو بطور دلیل بنایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اگر سمندر سے پانی نکال دیا جائے تو باقی بیایاں ہی بچے گا۔دوسرا یہ کہ بیاباں ویران ہوتا ہے ۔ اب دونوں مصرعے نہایت مربوط ہیں، یعنی شاعر اپنے مخاطب سے کہتا ہے کہ تم مجھے کہہ رہے ہو کہ تمھارے رونے سے تمھارا گھر پانی میں غرقاب ہو کر ویران ہوگیا ہے، اگر تم نہ روتے تو گھر ویران نہ ہوتا، تو تمھاری بات درست نہیں، اس لیے کہ میرے نہ رونے سے گھر غرقاب نہ ہوتا تو تب بھی گھر ویران ہی ہوتا، اس لیے کہ یہاں اگرپانی نہ ہوتا تو ویران بیاباں ہوتا، کیونکہ بحر سے پانی نکال دیا جائے تو اس کے بعد بیاباں ہی نمودار ہوگا، آباد گھر تو برآمد نہیں ہوگا۔
لفظی مقدرات
باتوں اور جملوں کی طرح لفظ بھی مقدرات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ جن چیزوں کے نام یا علامت ہیں، ان کے اوصاف و خصائص کویہ مقدرات کے طور پر اپنے جلو میں لیے کلام میں چلتے ہیں۔ مثلاً پانی کا لفظ، سیال ہونے، مشروب ہونے، آگ اور پیاس بجھانے والا ہونے، جیسے متعدد مقدرات اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اردو محاورے ’آگ پانی کا کھیل‘ اور ’پانی میں آگ لگانا‘ میں پانی اور آگ کے وہ اوصاف مقدر کا کام کررہے ہیں جو دونوں کومادی دنیا میں یکجا نہیں ہونے دیتے۔
بسم اللہ میں صفاتِ رحمن و رحیم پر اسی زاویے سے غور کریں۔ برکت و سازگاری رحمت کا ایک مقدر مفہوم ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے اس کا پڑھناطلب برکات و ساز گاری کے لیے ہے۔قرآن مجید کی سورتوں میں سرنامے کے طور پر اس کا استعمال رحمت اور ہدایت کے اس تعلق سے ہے جو سورۂ رحمن میں بتایا گیا ہے کہ ’اَلرَّحْمٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘۔ یہی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’رحمۃً للعالمین‘ کہنے میں پیش نظر ہے۔یعنی براہِ مہربانی و خیر خواہی صحیح بات کی طرف ہدایت رحمت کا ایک مقدر حصہ ہے۔ یہاں دیکھیے کہ کس طرح رحمت اپنے مقدر مفہومات سے معنی آفرینی اور ربط کا عمل سرانجام دے رہی ہے۔مولانا فراہی اور ان کے پہلی اور دوسری نسل کے تلامذہ انھی مقدرات کو پہچانتے اور معنی میں ربط تلاش کرتے ہیں۔یہ ہر گز خارج سے داخل کیے گئے تصورات نہیں ہیں۔
یوں مقدرات وہ بنیادی اکائی ہیں، جن پراجزاے کلام کا معنوی ربط قائم ہوتا ہے۔قرآن مجید نے انسانی فطرت، عرب سماج، دین ابراہیمی، عرب لسانی تصورات، اخلاقی حسن و قبح، انسان اور عربوں کے عقلی مسلمات،مادی تجربات، اور ظواہر کائنات وغیرہ پر مبنی مقدمات پر اپنے کلام کی معنویت کی بنیادیں استوار کی ہیں۔ ان کے بیچوں بیچ اس نے نئے الوہی ، اسلامی، اخلاقی اور حکمت الٰہیہ کے مقدمات کو بھی متعارف کراکے مقدرات کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب قرآن مجید سے چندمثالیں دیکھتے ہیں۔
مولانا فراہی نے سورۂ نجم کی ایک آیت کے جملے: ’فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی‘ (۵۳: ۳۲) پر لکھا ہے:
یعنی اپنے مزکی ہونے (یا پاکی داماں) کی حکایت اتنی نہ بڑھاؤ، کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے کون متقی ہے۔ تو مولانا کہتے ہیں کہ اس سے یہ واضح ہوا کہ تزکیہ دراصل تقویٰ ہے۔۳ آیت کے خط کشیدہ الفاظ کا موازنہ کریں۔ مولانا کی مراد یہ ہے کہ ’تُزَکُّوْا‘ میں تقویٰ کا مفہوم مقدر تھا، تبھی اس پر یہ جملہ بولنا مربوط ہو گا کہ وہ متقیوں کو جانتا ہے۔ میں مولانا فراہی کا حوالہ اس لیے دے رہا ہوں تاکہ یہ واضح ہو کہ میں یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا کہ نظم کلام کا داخلی جزو ہے، بلکہ اس تصور کے موجدِ اول نے یہی بات کہی ہے۔
اب ایک مجموعۂ آیات کو دیکھیے کہ مولانا نے اسے کیسے حل کیا ہے:
وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ. وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ. وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ. فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ.(الذاریات۵۱: ۴۷۔۵۰)
’’آسمان کو ہم نے عظیم قدرت کے ساتھ بنایا ہے اور ہم بڑی وسعت رکھنے والے ہیں۔ اور زمین کو ہم نے بچھا دیا ہے، سو کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تا کہ تم یاددہانی حاصل کرو۔ اِس لیے دوڑو اللہ کی طرف، میں اُسی کی طرف سے تمھیں ایک کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘
مولانا فراہی یہ کہتے ہیں کہ اس مجموعۂ آیات میں جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر خدا کی قدرت اور حکمت پر دلالت کر رہا ہے، پھر اس دارفانی کے تتمہ۴ آخرت پر دلالت کررہا ہے، اور پھر اعمال کے لیے مجازات کے تتمہ پر دلالت کررہا ہے۔ ۵ مولانا کی بات کا مطلب یہ ہے کہ آسمان کے لیے ’بَنَیْنَا‘ (عمارت)کا لفظ اور زمین کے لیے ’فَرَشْنَا‘ (فرش یا زمین)کا لفظ بولا گیا ، پھر کہا گیا کہ ہم نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے۔ تو واضح ہوا کہ زمین و آسمان عمارت اور فرش ہونے کی وجہ سے جوڑا جوڑا ہوئے۔ گویا اگر کسی جگہ صرف عمارت تو ہو، مگر نیچے زمین نہ ہوتو گھر نہ بنا، اسی طرح فرش تو ہو، مگرعمارت نہ ہوتو تب بھی گھر نہ ہوا۔تو یوں گھر بنانے کے لیے آسمان اور زمین ایک دوسرے کے لیے تتمہ ہوئے۔ یعنی دونوں مل کر گھر تشکیل کرتے ہیں۔ پھر کلام آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر چیز کو جوڑے جوڑے اس لیے بنایا کہ تم ان سے یاددہانی حاصل کرو۔ مراد یہ کہ ہر چیز کو جوڑا اس لیے بنایا کہ تم اس کائنات پر اس زاویے سے نگاہ دوڑا کر ایک مخفی حکمت کو جانو کہ ہر چیز جوڑا جوڑا ہے۔ لیکن قرآن کی یاددہانی مادی نہیں، بلکہ روحانی ہے ۔ اس لیے کلام آگے بڑھا تو کہا کہ اللہ کی طرف لپکو۔اور اس لپکنے کی دعوت کو ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ سے جوڑ کر ڈر انا قرار دیا۔ اب جب ہر چیز جوڑا ہے، اور جوڑے تذکیر کے لیے بنائے گئے، اس تذکیر سے نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کی طرف بڑھو، ورنہ مارے جاؤ گے تو کلام منہ کھول کر اعلان کررہا ہے کہ چیزیں جوڑا جوڑا بنانے کے عمل میں کوئی خبردار ہونے کی چیز موجود ہے۔ اس سے مولانا فراہی نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ کون سا جوڑا ہے جس سے خبر دار ہونا چاہیے تو قرآن کے مضامین کی روشنی میں انھوں نے زمین کے فرش اور آسمان کے عمارت ہونے جیسے دو جوڑے نکالے ہیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا ایک جوڑا ہونا چاہیے جو اس دنیا کے تتمہ کا کام کرے۔ اور دوسرے یہ کہ اعمال کا تتمہ ان کی جزا و سزا ہے۔ یہ دونوں جوڑے بلاشبہ تتمہ بھی ہیں، لیکن ساتھ ہی ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ کی دعوت کا حصہ بھی ۔ اسے مختصراً یوں سمجھیے:
آسمان اور زمین مل کر اس دنیا کومکمل بناتے ہیں،
یہ اس اصول پر ہے کہ ہر چیز جوڑا جوڑا ہے، جن کے ملنے سے ایک یونٹ مکمل ہوتا ہے،
جوڑا جوڑا بنایا جاناایک نشان ہے جس سے نصیحت حاصل ہوتی ہے،
یہ نصیحت خدا کی طرف بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔
لہٰذا جوڑوں کے اس اصول میں کوئی ایسی بات ہے جو خدا کی یاددہانی دلوں میں ڈالتی ہے۔
اب چیزوں پر غور کریں تو ہر چیز کا جوڑا ہے، مگر اس دنیا کا جوڑا نہیں ہے۔ یعنی یہ دنیا دارالعمل ہے، لیکن دار العمل دار الجزا کا تقاضا کرتا ہے۔تب جاکر اس کی نیکی بدی کے شعور والے انسا ن کی زندگی کی معنویت مکمل ہوتی ہے۔
تو اس دارالعمل کا جوڑا دار الجزا ہونا چاہیے، یعنی آخرت۔
یہ وہ شان دار استدلال ہے جو مولانا نے ان آیات کے نظم سے کشید کیا ہے۔ اسی کو مولاناکہتے ہیں کہ نظم حکمتِ قرآن کا دروازہ ہے۔
غرض یہ کہ لفظ، جملے، پیراگراف، سورتیں اور پھر ابواب اسی طرح کے مقدرات کے ساتھ مربوط ہو کر ایک شان دار مرتب کتاب کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس مضمون کا تنگ ناے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ان تمام پہلوؤں پر بات ہو سکے۔ لیکن مذکورہ بالا اصول اور اس کی روشنی میں چند مثالیں امید ہے بات کو سمجھانے کے لیے مفید ہوں گی۔ اس اصول کی عملی تطبیق کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مدرسۂ فراہی کے اکابرین کی تفاسیر کو پڑھا جائے۔ مولانا فراہی رحمہ اللہ کا ’’مجموعہ تفاسیر‘‘، مولانا امین احسن صاحب اصلاحی رحمہ اللہ کی ’’تدبر قرآن‘‘ اور استاذی الجلیل غامدی صاحب دامت برکاتہ کی ’’البیان‘‘ اسی نظم کی دریافت پر مبنی تفاسیر ہیں۔ ان کا اس زاویے سے مطالعہ اس بات کو مزید واضح کرے گا کہ نظمِ قرآن خارج سے قرآن کے کلام میں نہیں ڈالا گیا ، بلکہ اس کے الفاظ و جمل کی دلالت اس طرف لے جاتی ہے۔وہ زاویہ یہ ہے کہ کلام کے مقدرات کو کھول کر مربوط کرنے کا نام نظم قرآن ہے۔ ان کے علاوہ فراہی صاحب کی ’’دلائل النظام‘‘ اصلاحی صاحب کی ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ اوراستاذ گرامی کی ’’میزان‘‘ میں ’’اصول و مبادی‘‘ کا باب اور ’’البیان‘‘ کا ’’خاتمہ‘‘ بھی مفید مطلب ثابت ہوگا۔ لیکن مقدرات کے کھولنے اور نظم واضح کرنے کی عملی صورت بہرحال صرف تفاسیر ہی میں ملے گی۔
وہ تفاسیر، جو شانِ نزول، فلسفہ، منطق، تصوف اور اسلاف کی آرا پر مشتمل ہیں ، وہ دراصل خارج سے متن قرآن کی تفسیر کرنا ہے، جب کہ ہم پیروانِ مدرسۂ فراہی، اسی معنی کو قبول کرتے ہیں، جن کو قرآن کے الفاظ ،جمل اور سیاق و سباق وغیرہ اپنے معانی اور ان سے وابستہ مقدرات کے طور پر قبول کرتے ہوں۔ یہ اتنا محکم ضابطہ ہے کہ اس میں کسی مفسر کی غلطی پکڑنے اوراس کی تفسیر کی اصلاح و تصحیح کا باب ہمیشہ وا رہتا ہے۔ مثلاً اگر مولانا فراہی کسی مقدر کو غلط کھولیں اورکلام کسی اور مقدر کی طرف اشارہ کررہا ہو تو فکرفراہی کا ایک طالب علم بھی ان سے اختلاف کرکے اصلاح کر سکتا ہے ۔اسی بات کو استاذ گرامی یوں کہتے کہ قرآن کے شہرستان معانی کا ایک ہی دروازہ ہے، اور وہ لفظ ہے۔
لیکن جب معنیِ قرآن کا فیصلہ خارج سے ہونا ہو، اور ان لوگوں کے اقوال سے ہونا ہو، جنھیں امامت کا درجہ حاصل ہوتو پھر اصلاح و تصحیح کی کوئی گنجایش نہیں رہتی ۔ یہ مقام صرف رسولِ خدا کو حاصل ہے کہ ان کی بات سے چون و چرا نہ کیا جائے۔ آپ کے بعد یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے۔اسی وجہ سے مدرسۂ فراہی سنتِ متواترہ کو قرآن کی حتمی تفسیر مانتا ہے۔ لیکن خبر آحاد کے بارے میں توقف اور غور وفکر کا قائل ہے، اس لیے کہ آپ سے ان کی نسبت کے ظن اور روایت بالمعنیٰ میں خطا کے امکان نے اس کا مقامِ معصومیت اس سے چھین لیا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ سنتِ متواترہ بھی لسانی تواتر کا حصہ ہے، یہ بھی خارج سے تفسیر نہیں ہے۔ جب قرآن ’اَقِمِ الصَّلٰوۃَ‘ کہتا ہے،توہم ’الصَّلٰوۃ‘ کے معنی پنجگانہ نماز صرف اس لیے نہیں کرتے کہ یہ سنت متواتر ہ میں آیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ عہدِ نزولِ قرآن سے تا حال ’الصَّلٰوۃ‘ کے لغت میں متواتر معنی یہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ حجج القرآن ۲۷۔ واضح رہے کہ نظم کے داخلی ذرائع میں اور بھی پہلو ہیں، مگر یہاں صرف مقدرا ت پر بات کرنا پیش نظر ہے، اس لیے کہ یہ بنیادی چیز ہے۔
۲ آگے قرآن سے دی گئی مثالوں میں ’وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰہَا‘، والی آیات اسی نوع کی مثال ہے۔
۳ رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن ۱۱۸۔
۴ Complemental Halfوہ چیز جو کسی مجموعہ کو مکمل کرنے میں آدھا کردار ادا کرتی ہو یا کسی یونٹ کو مکمل کرتی ہو۔
۵ رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن ۱۱۹۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
