سورتوں کا چوتھا گروپ : تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سورتوں کا چوتھا گروپ : تعارف مضامین و مطالب کا تجزیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

33۔ سورہ الاحزاب : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


33۔ سورہ الاحزاب کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
١۔ سورۃ کا عمود، گروپ کے ساتھ اس کا تعلق اور زمانہ نزول
جس طرح سورۃ نور اپنے گروپ کے آکرمیں پورے گروپ کے تکملہ وتتمہ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح سورۃ احزاب اپنے پورے گروپ کا جو فرقان سے شروع ہواہے، تکملہ و تتمہ ہے۔ یہ گروپ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہں، قرآن و رسالت کے اثبات میں ہے۔ اس تعلق سے اس سورۃ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
٭ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بحیثیت رسول جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی تھی اس کی وضاحت اور بے کوف لومتہ لائم اس کو ادا کرنے کی تاکید۔
٭ انبیاء و رسل کے طبقہ کے اندر آپ کو جو امتیاز خاص اور جو مرتبہ و مقام حاصل ہے اس کا بیان۔
٭ امت کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت اور امت پر آپ کے حقوق اور ان کے مقتضیات کی وضاحت۔
٭ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) کا درجہ امت کے اندر اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے تعلق کی مخصوص نوعیت۔
٭ اس عظیم امانت کا حوالہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر ڈالی گئی ہے اور جس کی وضاحت کے لئے اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کے حقوق و فرائض کی یاد دہانی۔
یہ سورۃ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب منافقین و منافقات نے قرآن کی بعض اصلاحات کو بہانہ بنا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پر اپیگنڈے کی ایک نہایت مکروہ مہم چلا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ ازواج مطہرات (رض) کے ذہن کو بھ یانہوں نے مسموم کرنے ی کوشش کی۔ اس میں ان فتنوں کی طرف بھی اشارات ہیں جو مناقین نے غزوہ احزاب کے دوران، جو ٥ ھ ؁ میں واقع ہوا، مسلمانوں کو بددل کرنے کے لئے اٹھائے۔ اسی سلسلہ میں حضرت زید (رض) اور حضرت زینب (رض) کے واقعہ کی اصلی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اس اس لئے کہ اس واقعہ کو بھی وقعہ افک کی طرح جس کا ذکر سورۃ نور میں گزر چکا ہے، منافین نے فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(١۔ ٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس امر کی تاکید کہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے آپ پر جو کچھ نازل کیا تھا بے خوف لومتہ لائم اس کی تبلیغ کریں اور کفارو منافقین کے مخالفانہ غوغا کی مطلق پروانہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا مددگار و کارساز ہے، اس پر بھروسہ رکھیں۔
(٤۔ ٦) ظہار اور منہ بولے بیٹے کے معاملے میں رسومِ جاہلیت کی اصلاح کہ ان رسوم کو عقل و فطرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مخالفین اس اصلاح کے خلاف کتنا ہی ہنگامہ اٹھائیں، ان کے شوروغوغا کی کوئی پروانہ کی جائے۔ یہ لوگوں کی مند گھڑے بدعات ہیں۔ اللہ تعالیٰ معاشرتی زندگی کی ان تضادات سے پاک کرے اس کو فطرت کو صحیح راپ ہر لانا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کی ہدایت کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں سے منسوب کرو۔ اگر ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو انکو اپنے واملی کے درجہ میں رکھو، اپنے صلبی بیٹیوں کو درجہ دینے کی کوشش نہ کرو۔ اب تک رسومِ جاہلیت کے زیر اثر جو کچھ ہوا ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا لیکن اب، اس وضاحت کے بعد، اس کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ اسلامی معاشرے میں سب سے اونچا درجہ اور سب سے بڑا حق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے۔ اور ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا درجہ امہات المومنین کا ہے۔ باقی اولوالارحام کا باہمی قرب وبعد اس قانون کے مطابق ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے۔
(٧۔ ٨) اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی سے اس بات کا مضبوط عہد کرلیا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کے دین کی دعوت دیں۔ اس معاملہ میں نہ کسی کا پاس کا پاس و لحاظ کریں نہ کسی کی مخالفت کی پروا تاکہ یہ چیز کھرے اور کھوٹے، مخلص اور منافق کے درمیان امتیاز کی کسوٹی نے ور ہر شخص اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔
(٩۔ ٢٧ ) غزوہ احزاب کے واقعات پر اجمالی تبصرہ جس سے مقصود دونوں کے اندر اس اعتماد علی اللہ اور توکل کو راسخ کرنا ہے جس کی تعلیم پہلی آیت میں دی گئی ہے۔ باوجودیکہ کفار اپنی تمام پارٹیوں کی مجتمعہ قوت کے ساتھ، مدینہ پر پل پڑے تھے اور منافین نے بھی اپنی رشتہ دوایوں اور سازشوں سے مسلمانوں کے قدم اکھاڑ دینے کے لے پورا زور لگا یا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی فوجوں سے مسلمانوں کی مدد کی اور دشمنوں کو ذلیل و خواہ ہو کر پسپا ہونا پڑا۔ اسی طرح اگر مسلمان مخالفوں کی مخالفت علی الرغم اللہ کے دین پر قائم اور اس کے رسول کے وفا ار و جان نثار رہے تو اللہ تعالیٰ ہر محاذ پر ان کی مدد فرمائے گا۔
(٢٨۔ ٣٥) مسلمانوں کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت پر مجتمع کرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج (رض) کی خطاب کرکے ان پر ان کی منصبی ذمہ داریاں واضح فرمائی گئی ہیں کہ رسول کے ساتھ نسبت رکھنے کے سبب سے ان کے درجے بھی بہت اونچے ہیں اگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گی، اور ان کے لئے سزا بھی بڑی ہی سخت ہے اگر ان سے کوئی حکم عدولی صادر ہوئی۔ ان کا اصلی فریضہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و وفاداری اور اس کتاب وحکمت کی روشنی کو پھیلانا ہے جس کی تعلیم ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل رہی ہے۔ اس وجہ سے ان کے شایانِ شان بات یہ ہے کہ وہ وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور ان منافقین و منافقات کے اثر سے اپنے کو بچائیں جو ان کی کریم النفسی سے فائدہ اٹھا کر ان کے دلوں میں محبت دنیا کی تخم ریزی کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیت نبوت کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک اور صرف کتاب و حکمت کی تعلیم و دعوت کے لئے خاص رکھے۔
(٢٦۔ ٤٠ ) حضرت زید (رض) اور حضرت زینب (رض) کے واقعہ کی طرف ایک اجمالی اشارہ جس میں سب سے پہلے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ جب کسی معاملہ میں اللہ و رسول کوئی فیصلہ صادر فرما دیں تو کسی مومن یا مومنہ کے لئے اس میں کسی چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اللہ و رسول کا حق سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت زید (رض) کے واقعہ کا حوالہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب (رض) کے ساتھ ان کا نکاح کرکے ان کی عزت افزائی چاہی لیکن وہ نباہ نہ کرسکے اور آپ کی طرف سے بامرا اد کے جانے کے باوجود انہوں نے طلاق دے چھوڑی۔ یہ نکاح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی نے کرایا تھا جس کے بعد منافقین اور منافقات برابر حضرت زینب (رض) کو یہ طعنہ دیتے رہے تھے کہ محمد و نے یہ سخت ظلم کیا ہے کہ ایک معزز گھرانے کی خاتون کا عقد ایک آزاد کردہ غلام سے کردیا ہے۔ ان طعنوں کے باوجود حضرت زینب (رض) نہایت صبر وشکر کے ساتھ حجرت زید (رض) کے ساتھ نباہ کرتی رہیں۔ لیکن حضرت زید (رض) نے محض اپنے ذاتی احساس کی بنا پر، جس کی تفصیل تفسیر میں آئے گی، ان کو طلاق دے دی۔ اس سے فطری طور پر حضرت زینب (رض) کو مزید صدمہ پہنچا۔ ان کے اس زخم کے اندمال کی واحد شکل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نظر آئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ان کو اپنے حبالہء عقد میں لے لیں لیکن اس سے ایک اور فتنہ کے اُٹھ کھڑے ہونے کا اندیشہ تھا۔ حضرت زید (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متنبی کی حیچیت سے متعارف تھے اور متنبی عرب جاہلیت میں حقیقی بیٹوں کی منزلت میں سمجھا جاتاتھا۔ حضرت زینب (رض) کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح کو مخالفین فتنہ انگیزی کا ذریعہ بناتے کہ اس شخص نے اول تو ایک شریف زادی کا نکاح اپنے ایک آزاد کردہ غلام سے کیا جس کو اپا متنبی بنا رکھا تھا اور اب اپنے متنبی کی بیوی سے خود نکاح رچا لیا۔ علاوہ ازیں، ازواج کے باب میں چار تک کی تحدید کا حکم نازل ہوچکا تھا اس وجہ سے بھی آپ اس معاملے میں متردور ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تمام اندیشوں سے بے پروا ہو کر یہ نکاح کرلیں تاکہ آپ کے عمل سے جاہلیت کی اس رسمِ بد کی اصلاح ہو۔
(٤١۔ ٤٨ ) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رکھیں۔ نبی و کی بعثت کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ان پر نازل ہوئی تاکہ انہیں کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکل کر ایمان واسلام کی روشنی میں آنا نصیب ہو۔ اگر اس روشنی کی انہوں نے قدر کی تو ان کو دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت حاصل ہوگی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فریضہ منصبی کی یاددہانی کہ آپ خلق کے لئے اللہ کے دین کی شہادت دینے والے ہیں، جو اس کو قبول کریں ان کو جنت کی بشارت دیں، جو اس کو رد کریں ان کو دوزخ سے آگاہ کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے داعی اوعر خلق کو کفر وشرک کی تاریکیوں سے نکالنے کے لئے چراغ ہدایت ہیں۔ اس فرض کی ادائیگی میں آپ برابر سرگرم رہیں۔ کفار و منافقین کی مخالفتوں اور ان کی ایزا رسانیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔
(٤٩۔ ٥٢ ) اس امر کا اعلان کہ آپ کی تمام ازواج آپ کے لئے جائز ہیں۔ آپ پر چار کی قید اور وہ پابندیاں نہیں ہیں جو عام امت کے لئے قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ البتہ بعض دوسری پابندیاں ہیں جو عام امت پر نہیں ہیں۔ اس خصوصیت کے بعض مصالح کی طرف اشارہ۔ ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس فیصلہ الٰہی کی تعمیل کی ہدایت۔ منافقین کو تنبیہ کہ وہ ازواجِ نبی (رضی اللہ عنہم) کے معاملے میں ریشہ دوانیاں کرکے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اذیت کا سبب نہ بنیں۔
(٥٣۔ ٦٢ ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں بدون اجازت داخل ہونے کی ممانعت۔ گھروں سے باہر نکلنے کی صورت میں آپ کی ازواج اور عام مسلمان خواتین کے لئے پردے کی ہدایت تاکہ منافقین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا رسانی اور مسلمان خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی موقع نہ ملے۔ اس سلسلہ منافین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا رسانی اور مسلمان خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی موقع نہ ملے۔ اس سلسلہ میں منافقین کو یہ آخری دھمکی کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو بہت جلد ان کے قلع قمع کے لئے آخری ہدایات نازل ہوجائیں گی اور پھر ان کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔
(٦٣۔ ٧٣) خاتمہ ٔ سورۃ جس میں پہلے قیامت کی یاددہانی ہے کہ اس کو بہت دور نہ سمجھو۔ وہ سر پر آئی کھڑی ہے۔ اس دن کوئی کسی کے کام آنے والا نہ بنے گا۔ گمراہ لیڈر اور گمراہ پیرو سب ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔
منافقین کو تنبیہ کہ ان یہود کی روش کی تقلید نہ کرو جنہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو قدم قدم پر ایذا دی۔ بالآخر اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو عزت ووقار سے اٹھایا اور ان لوگوں پر لعنت کردی جنہوں نے ان کو ایذا دی۔ صحیح روش یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور رسول کی ہر بات پر سمعنا و اطعنا، کہو۔ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کو سدھارے گا، تمھارے گناہوں کو بخشے گا۔ یہی راہِ فوزِ عظیم کی راہ ہے۔

آخر میں اس عظیم عہد و امانت کی یاددہانی جس کا اہل تمام مخلوقات میں سے صرف انسان بنایا گیا ہے۔ اسی عہد و امانت پر انسان کے تمام شرف کا انحصار ہے۔ اگر وہ اس کے حقوق ادا کرسکے تو اس زیادہ اونچا کوئی نہی اور اگر وہ اس میں ناکام ہوجائے تو پھر اس سے بڑا بدقسمت بھی کوئی نہیں ۔

32۔سورۃ السجدۃ : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


32۔سورۃ السجدۃ کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
١۔ سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ سابق سورہ…لقمان…کا مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآنی نام بھی دونوں کا ایک ہی یعنی الم ہے۔ تمہید بھی دونوں کی ایک ہی نوع کی ہے۔ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب خداوند عالم کی تاری ہوئی کتاب ہے۔ اس کو اتار کر اللہ تعالیٰ نے ان امی عربوں پر عظیم احسان فرمایا ہے جن کے اندر اب تک کوئی منذر نہیں آیا تھا۔ وہ انتہائی ناشکرے ہوں گے اگر انہوں نے اس کی قدر کرنے کے بجائے اس کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوے کو افترار قرار دیا۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے بعد کلام کا رُخ قرآن کے ان دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا ہے جو خاص طور پر مخالفین کی وحشت کا باعث تھے اور جن کے سبب سے وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ آخر میں تورات کا حوالہ ہے کہ اسی طرح کی کتاب، اللہ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر بھی اتاری تھی جس کی فرعون اور اس کی قوم نے مخالفت کی اور اس کا نہایت برا انجام ان کے سامنے آیا۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح تورات کے حاملین کو صبر کے امتحانوں سے گزرنے کے بعد کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو بھی صبر کے امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ اگر تم ان مراحل سے کامیابی سے گزر گئے تو فتح تمہی کو حاصل ہوگی، تمھارے یہ مخالفین بالآخر پامال ہو کر رہیں گے۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(١۔ ٣) یہ قرآن اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اس کے کتابِ الٰہی ہونے میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کی طرف اس کی نسبت ایک افتراء وہے وہ آگاہ رہیں کہ یہ افتراء نہیں بلکہ یہ بالکل حق ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو انداز کرنا ہے جن کے اندر کوئی منذراب تک نہیں آیا تھا۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان قوموں کا ہوچکا ہے جنہوں نے خدا کے منذروں کی تکذیب کی۔
(٤۔ ٩) یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال نہیں بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہے اور پیدا کرکے اس نے اس کو چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ براہِ راست وہ اس کا انتظام فرما رہا ہے۔ تمام احکام سی کی طرف سے صادر ہوتے اور پھر اسی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔ اس کا کوئی دوسرا شریک و شفیع نہیں ہے۔ وہ خود تمام غائب و حاضر کا جاننے والا ہے۔ اس نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور خدا کے شکر گزار بنتے ہیں۔
(١٠۔ ١٤) منکرین قیامت کے شبہات کا جواب اور ان کے اصل محرکِ انکار کی طرف اشارہ۔ قیامت کے دن ان کا جو حال ہوگا اس کی تصویر اور اس امر کا بیان کہ اس دن کسی کا قرارء و اعتراف کسی کے لئے کچھ نافع نہ ہوگا۔ حقائق کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ان کا ماننا معتبر ہوتا تو اللہ تعالیٰ سب کو ایمان ہی پر پیدا کرتا، پھر یہ عقل و تمیز کی صلاحیتیں دینے اور ان کے امتحان کی کیا ضرور ت تھی !
(١٥۔ ٢٢ ) قرآن پر ایمان لانے والوں کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کہ جو لوگ استکبار سے پاک ہیں اور جن کی نگاہوں میں حق کی عزت ہے وہ اس پر ایمان لائیں گے۔ یہ لوگ اس کی آیات سن کر اپنے سر جھکا دیتے ہیں، راتوں میں اٹھ اٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے اور اس کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی جو ٹھنڈک چھپا رکھی ہے آج ان کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کے ساتھ ایک ہی معاملہ نہیں کرے گا۔ ان نافرمانوں کو آخرت میں جو سزا ہونی ہے وہ تو ہوگی ہی، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان کو سز ادے گا تاکہ وہ متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہوجائیں ۔
(٢٣۔۔۔ ٦ ٢) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تم سے پہلے اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی تو جن لوگوں نے اس کو جھٹلایا خدا نے ان سے انتقام لیا۔ اسی طرح اس کتاب کے جھٹلانے والوں سے بھی وہ لازماً انتقام لے گا اور جس طرح بنی اسرائیل کے اندر سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو امامت کا منصب بخشا جو حق پر ثابت قدم رہے اسی طرح وہ تمھارے ساتھیوں کو بھی خلق کی رہنمائی کے منصب پر سرفراز فرمائے گا اگر وہ حق پر مضبوطی سے جمے رہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی تاریخ کی طرف اجمالی اشارہ کہ تاریخ کی شہادت اسی حقیقت کو ثابت کر رہی ہے بشرطیکہ لوگوں کے پاس سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔
(٢٧۔ ٣٠) کفارکو وعید کہ وہ اہلِ حق کے غلبہ کی اس بشارت کو بہت بعید از امکان چیز سمجھتے ہیں اور مذاق سے پوچھتے ہیں کہ یہ فتح کب ظاہر ہوگی ! ان کو جواب کہ جب یہ چیز ظاہر ہوگی تو اس وقت اس کو ماننا ان لوگوں کے لیے ذرا بھی نافع نہ ہوگا جوآج اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قسم کے کج فہموں سے اعراض کی ہدایت کہ اگر یہ لوگ فیصلہ کے دن ہی کے متنظر ہیں تو تم بھی ان کا پیچھا چھوڑو اور اسی ک انتظار کرو۔


31۔ سورہ لقمان : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


31۔ سورہ لقمنٰ کا تعارف اور مطالب کا تجزیہ
١۔ سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
دونوں سابق سورتوں…العنکبوت اور الروم…کی طرح اس سورۃ کا قرآن نام بھی الم ہی ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے عمود و مضمون میں فی الجملہ اشتراک ہے۔ اس سورۃ کی تمہید میں بھی بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس برکت ورحمت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون لوگ اس سے محروم رہیں گے۔
سابق سورۃ میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن اس دینِ فطرت کے دعوت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس دعوے پر آفاق وانفس کے دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ اس سورۃ میں آفاق وانفس کے دلائل کے ساتھ ساتھ عرب کے مشہور حکیم…لقمان…کے نصائح کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصودِ اہل عرب پر یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے اندر جو صحیح فکر و دانش رکھنے والے لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن باتوں کی تعلیم یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقل سلیم (Common Sense) انہی باتوں کے حق میں ہے جو قران میں بیان ہوئی ہیں، نہ کہ ان باتوں کے حق میں جن کی وکالت قرآن کے مخالفین کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اصل فطرت یہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سوچنے سمجھنے والے لوگ ان حقائق تک کس طرح پہنچتے ؟
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مغربی فلاسفہ جب اخلاقیات پر بحث کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ عقلِ عام کے معروف اخلاقی مسلمات (Common Sense Ethics) ہی پر رکھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کہ یہ اخلاقی مسلمات کہاں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ یہ کہ وہ ایک حکیم فاطر اور فطرۃ اللہ کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اس حقیقت سے گزریر کی سزا ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ ان کا سارا فلسفۂ معین کر سکیں اور نہ وہ یہ بتا سکے کہ کیوں انسان کو نیکی کرنی چاہیے اور کیوں بدی سے بچنا چاہیے۔ سود مندی، لذت، خوشی اور فرض برائے فرض وغیرہ کی قسم کے جتنے نظریات بھی انہوں نے ایجاد کیے سب پادر ہوا ثابت ہوئے اور خود انہی نے ان کے بخے ادھیڑ کر رکھ دیے۔ قرآن نے نہ صرف اخلاقیات کی بلکہ پورے دین کی بنیاد فطرت پر رکھی ہے اور یہ فطرت چونکہ ایک حکیم فاطر کی بنائی ہوئی ہے اس وجہ سے کسی کے لئے اس سے انحراف جائز نہیں ہ۔ جو شخص اپنے فطرت سے انحراف اختیار کرے گا وہ اپنے آپ کو تباہ اور پنے فاطر کو ناراض کریگا۔ انسان کی رہنمائی کے لئے اس کی فطرت اپنے اندر حقائق و معارف کا خزانہ رکھتی ہے لیکن انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر بگڑ بھی سکتا ہے اور اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنی فطرت کی خلاف ورزی بھی کرسکتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ے اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے فطرت کے تمام مضمرات واضح کردیے تاکہ کسی کے لئے کسی التباس واشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ بلکہ ہر شخص فطرت کی سیدھی راہ پر چل کر دنیا کی فورزو فلاح اور آخرت میں اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرسکے۔
اس سورۃ میں لقمان کی حکمت کے حوالے سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قرآن کی تائید میں ایک ایسے حکیم کی شہادت پیش کرنا ہے جس نے زندگی کے حقائق پر غور کیا تھا اور جو قرآن کے مخالفین کے نزدیک بھی نہایت رہی بلند پایا اور واجب الاحترام حکیم سمجھا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس میں قرآن کی دعوت کی تائید میں آفاق وانفس کے دلائل ایک نئے اسلوب سے پیش کیے گئے ہیں۔


ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
یہ کتاب ایک پُر حکمت کتاب ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت و رحمت بن کر نازل ہوئی ہے لیکن اس کا فیض انہی لوگوں کو پہنچے گا جو اپنی فطرت کی صلاحتیں زندہ رکھنے، اور ان سے کام لینے والے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اس حکیمانہ کلام پر مخالفین کی مز خوف باتوں کو ترجیح دیتے اور اس سے متکبرانہ اعراض کررہے ہیں تو وہ اپنے اس اشکبار کی پاداش میں ذلت کے عذاب سے دور چار ہوں گے، عزت و سرفرازی صرف اس پر ایما لانے والوں ہی کو حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ شدنی ہے اس لئے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی مخلوق ہے، کسی اور کی اس میں کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ جولوگ مدعی ہیں کہ اس میں کسی اور کی بھی حصہ داری ہے وہ دکھائیں کہ ان کے معبودوں نے کیا پیدا کیا ہے۔
(١٢۔ ١٩) لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی ہے اس کا حوالہ، جس سے مقصود یہ دکھانا ہے کہ اہلِ عرب جس کی حکمت پر فخر کرتے اور جس کی روایات ان کے لٹریچر میں موجود ہیں، اس نے بھی اپنے بیٹے کو انہی باتوں کی نصیحت کی تھی جن کی دعوت یہ حکیمانہ کتاب دے رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عقلِ سلیم اسی دعوت کے حق میں ہے۔ جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں وہ درحقیقت عقلِ سلیم اور فطرت سلیم سے جنگ کر رہے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لئے خاص طور پر تنبیہ ہے جو اس دور میں، جیسا کہ سورۃ عنکبوت میں گزر چکا ہے، اپنے بیٹھوں کواسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے ان پر ظلم کر رہے تھے۔ گویا قرآن نے یہ دکھایا ہے کہ لقمان اپنے بیٹے کو جن باتوں پر کاربندہونے کے لئے اس دل سوزی سے نصیحت کرتے تھے آج انہی باتوں سے روکنے کے لئے باپوں کی طرف سے بیٹوں پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔
(٢٠۔ ٢٤ ) تمہید کے مضمون کی تائید کہ جتنی ظاہری و باطنی نعمتیں انسان کو ملی ہوئی ہیں وہ ہیں تو سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ، اس حقیقت سے کسی کے لئے انکار کی گنجائش نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے نادان لوگ اللہ کی توحید کے باب میں جھگڑرہے ہیں حالانکہ نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے، نہ کسی حکیم یا کسی پیغمبر کی رہنمائی اور نہ کسی کتاب الٰہی کی روشنی اور جب ان کو اللہ کی کتاب کی پیروی کی دعوت دی جاتی ہے تو بڑے پندار کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے چریقے کی پیروی کرتے رہیں گے اگرچہ ان کے باپ دادا شیطان کی پیروی کرتے رہے ہوں۔ خدا کے ساتھ تعلق کی مضبوط رسی صرف ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو خدا کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کریں اس لئے کہ بالآخر تمام امور کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ ایسے سرپھرے لوگوں کا غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ایک دن ان لوگوں کا انجام ان کے سامنے رکھ دے گا۔
(٢٥۔ ٣٠) مخالفین کی تردید میں خود ان کے اعتراضات کا حوالہ کہ یہ لوگ خود اپنے مسلمان کے لوازم کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کو اعتراف ہے کہ تمام آسمان و زمین کا خالق اللہ ہی ہے تو جب وہی خالق ہے تو شکر اور عبادت کا حقدار اس کے سوا کوئی اور کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ہر چیز اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ کسی کے ہاتھ بٹانے کا محتاج نہیں اور وہ خود ستودہ صفات ہے اس وجہ سے اس کی نظر عنایت کو متوجہ کرنے کے لئے کسی کی سفارش کی حاجت نہیں۔ اس کی قدرت و حکمت کی اتنی نشانیاں اس کائنات میں موجود ہیں کہ مگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر، مزید سات سمندروں کے اضافے کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی اس کی تمام نشانیوں کو قلم بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے تمام خلق کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ویساہی ہے جیسا ایک جان کو پیدا کردینا۔ رات اور دن سب اسی کے حکم سے گردش کرتے ہیں اور وہ ہر چیز سے پوری طرح باخبرہے۔ اگر اس کائنات کے نظام میں کسی اور کا بھی دخل ہوتا تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتا۔

(٣١۔ ٣٤) کشتی کی تمثیل سے مخالفین کو تنبیہ کہ ذرا میں اترانے والے اور ذرا میں مایوس ہوجانے والے زنبو بلکہ نعمت میں شکر کرنے والے اور مصیبت میں صبر کرنے والے ہو۔ آج جو کچھ تمہیں حاصل ہے اس کا حق یہ ہے کہ اپنے رب کے شکرگزار بنو اور اس دن کو یاد رکھو جس دن نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آسکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے۔ اس دن کا آنا ایک امر قطعی ہے۔ محض اس بنیاد پر اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ آج تمہیں اس کے ظہور کے وقت نہیں معلوم ہے۔ زندگی کی کتنی حقیقتیں ہیں جن کے ظہور کے وقت کسی کو معلوم نہیں لیکن کوئی عاقل ان کوانکار نہیں کرتا۔ حقیقی علیم و خبیر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔

29۔ سورہ العنکبوت : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


29۔ سورہ العنکبوت کا تعارف اور مضامین کا تجزیہ
ا۔ سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
اس سورۃ کا آغاز ان لوگوں کو مخاطب کرکے ہوا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے جرم میں ستائے جا رہے تھے۔ خاص کر نوجوان اور غلام، سورۃ کے نزول کے دور میں، اپنے باپوں اور آقائوں کے ہاتھوں بڑی سخت آزمائش کے دور سے گزر رہے تھے۔ قدرتی طور پر اس صورتِ حال نے کمزور ارادے کے لوگوں کے اندر بہت سے سوالات قرآن اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت سے متعلق پیدا کردیے۔ جن کا برسرِ موقع جواب دیا جانا ضروری ہوا۔ تاکہ مظلوموں اور کمزوروں کی ہمت افزائی بھی ہو اور جو لوگ خدا کی ڈھیل کو اپنی فتح سمجھ کر ظلم وستم میں بالکل بے باک ہوتے جا رہے تھے ان کو بھی تنبیہ ہو۔
حالات کے تقاضے سے اس میں ہجرت کی طرف بھی اشارات ہیں اور مظلوم مسلمانوں کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ انہیں بہرحال ظلم کے آگے سپر نہیں ڈالنی چاہیے۔ اگر حق کی خاطر انہیں اپنے وطن کو چھوڑ نا پڑجائے توا سکے لئے بھی انہیں تیار رہنا چاہیے۔ نہ خدا کی زمین تنگ ہے اور نہ اس کے خزانہ رزق میں کمی ہے۔ جو لوگ خدا کی راہ میں ہجرت کریں گے خدا ان کے لئے خود اپنا دامنِ رحمت پھیلائے گا اور ان کی ساری ضروریات کا کفیل ہوگا۔
پچھلی سورۃ میں اہل کتاب کی مخالفت کی طرف بعض اشارات گزرے ہیں۔ اس سورۃ میں ان کی مخالفت کھل کر سامنے آگئی ہے اور اس وجہ سے مسلمانوں کو یہ رہنمائی بھی دی گئی ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ بحث میں ان کو کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(١۔ ٧) اس حقیقت کی طرف اشارہ کہ حق کی راہ میں آزمائشیں لازماً پیش آتی ہیں۔ یہی پہلے بھی ہوا ہے اور یہی آئندہ بھی ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے۔ اسی سے مومن و منافق میں امتیاز ہوتا ہے۔ البتہ آج جن لوگوں کو اللہ نے ڈھیلی دے رکھی ہے اور اس بات کو یاد رکھیں کہ وہ خدا کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکتے اور جو لوگ ظلم و ستم کا ہدف بنے ہوئے ہیں وہ یہ یقین رکھیں کہ آج ایمان کی راہ میں جو دکھ وہ جھیل رہے ہیں ان سے کہیں بڑھ کر وہ اس کا صلہ پانے والے ہیں۔
(٧۔ ١٣) والدین اور بزرگوں کی اطاعت کے حددد کی وضاحت کہ ان کی اطاعت خدا کی اطاعت کے تحت ہے اس وجہ سے اگر کسی کے ماں باپ اس سے خدا کی نافرمانی کا مطالبہ کریں توا س معاملے میں ان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ خدا کے ہاں کوئی دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ ہر شخص کو اپنے اعمال کی جواب دہی کو خود کرنی ہے۔
ّ١٤۔ ٤٠ ) حضرت نوح ( علیہ السلام)، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام)، حضرت لوط ( علیہ السلام) اور مدین، عاد، ثمود، قارون، فرعون اور ہامان کے واقعات کی طرف اجمالی اشارہ جس سے مقصود انہی باتوں کی تاریخ کی روشنی میں مدلل کرنا ہے جو تمہید میں مذکورہ ہوئی ہیں۔ یعنی
٭ حق کی راہ میں امتحان کے مراحل سے گزرنا اللہ تعالیٰ کی ایک مقرر کردہ سنت ہے۔
٭ حق کے مقابل میں رشتوں، قرابتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سب سے بڑا حق اللہ کا ہے۔
٭ جو لوگ اللہ کے بندوں اور بندیوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں وہ خدا کی گرفت سے باہر نہیں جاسکتے۔
(٤١۔ ٤٥ ) ان لوگوں کے زور و اثر کی تمثیل جو دوسرے سہاروں کے بل پر خدا کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی تمام سعی و تدبیر کی مثال مکڑی کے جالے کی ہے جس سے زیادہ کمزور اور بے بنیاد تعمیر کوئی بھی نہیں ہے۔ ان کے مزعومہ شرکاء وشنعار کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے بلکہ ایک غایت و حکمت کے ساتھ خدا نے اس کو بنایا ہے اور وہ غایت و حکمت ایک دن لازماً ظہور میں آئے گی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم تمام مخالفتوں سے بے پروا ہو کر لوگوں کو اللہ کی کتاب سنائو اور نماز کا اہتمام کرو۔ اسی نماز کے اندر اہلِ ایمان کے لئے تمام شرورآفات سے امان اور یہی طاقت کی اصلی خزانہ ہے۔
(٤٦۔ ٥٢ ) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر اہل کتاب کے بعض اعتراضات کو جواب۔ ان کے ساتھ بحث میں مسلمانوں کو جو روش اختیار کرنی چاہیے اس کی ہدایت۔ اچھے اہل کتاب کی تحسین۔ جو لوگ کسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے تھے ان کو جواب۔
(٥٣۔ ٥٥ ) عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں جو جواب اور اس بات میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اس کی وضاحت۔
(٥٦۔ ٦٠ ) جو مسلمان ایمان لانے کے جرم میں کفار کے ہاتھوں ستائے جا رہے تھے ان کو ہجرت کی ہدایت اور دنیا وآخرت دونوں میں ان کو فوز و فلاح کی بشارت۔

ّ(٦١۔ ٦٩ ) خاتمۂ سورۃ جس میں خود مشرکین کے مسلّمات سے ان پر توحید کے باب میں حجّت قائم کی گئی ہے اور ساتھ ہی ان کی ملامت کی گئی ہے کہ اس سرزمین میں تمہیں امن و رفاہیت تو خدا کے حرم کی بدولت حاصل ہوئی لیکن تم خدا کی نعمت ک ناشکری کر رہے ہو اور عین خدا کے حرم میں میں بیٹھ کر اپنے خود تراشیدہ معبودوں کے گن گار رہے ہو۔ ان کی اس ناشکرکی کا جو انجام ان کے سامنے آنے والا ہے اس کا بیان اور اہلِ حق کو خدا کی مددو نصرت کی بشارت جوا س تاریک ماحول میں حق کا نور پھیلانے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے ۔

30۔ سورۃ الروم : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


30۔ سورۃ  الروم  کا تعار ف اور مطالب کا تجزیہ
١۔ سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ، سابق سورۃ۔ عنکبوت۔ کا مثنی ہے اور دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی الم ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورۃ میں ظاہری حالات کے علی الرغم مسلمانوں کو نصرتِ الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی ہے اور اس بشارت کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ تمام امرونہی اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اس دنیا میں بھی اپنے رسول اور اپنے ساتھیوں کو غلبہ بخشے گا اور اس دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس میں اس کے کامل حق و عدل کا ظہور ہوگا۔ اس وقت باطل یکسر نابود ہوجائے گا اور حق و اہل حق کو ابدی بادشاہی حاصل ہوگی۔
یہ مسائل مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان زیرِ بحث ہی تھے کہ اسی اثناء یعنی ٢١٤؁ء میں پڑوس کے ملک یعنی شام اور فلسطین میں یہ انقلاب پیش آیا کہ مجوسیوں نے حملہ کرکے رومیوں کو وہاں سے بے دخل کردیا۔ رومی چونکہ نصرانیت کے پیرو تھے اس وجہ سے دین و عقیدہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں سے قریب تھے اور اس قربت کے سبب سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو ان سے ہمدردی تھی۔ اس کے برعکس مجوسیدین شرک کے پیرو تھے اس وجہ سے مشرکین کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ مجوسیوں کے ہاتھوں رومیوں کی اس شکست سے مشرکین مکہ کو بڑی شہ ملی۔ اس کی آر میں انہوں نے قرآن کی ان تمام باتوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا جو ان کی خواہشوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دینِ توحید ہی حق ہے یا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگا یا قیامت آنے والی ہے جس میں حق کا بول بالا ہوگا، یہ سب باتیں ان کی محض لا یعنی ہیں۔ اگر ان کی یہ باتیں سچی ہوتیں تو بھلا مجوسیوں کو رومیوں پر کس طرح غلبہ حاصل ہوتا ! یہ واقعہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ہمارا ہی دین و عقیدہ اور ہمارا ہی نظر یۂ زندگی صحیح ہے اور ہم ہی غالب و حاکم رہیں گے۔
قرآن نے اس سورۃ میں اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر ان تمام حقائق کو ازسرِ نو مبرہین کیا ہے جن کو مشرکین نے مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔
اس سورۃ کا نظام سمجھنے کے لئے اگرچہ یہ تمہید بھی کافی ہے لیکن ہم سہولت کے لئے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(٧٠١) رومیوں اور مجوسیوں کے واقعہ کی طرف ایک اجمالی اشارہ اور اس حقیقت کا اظہار کہ اس دنیا میں قوموں کے ردّو و بدل کے جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں پیش آتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک مبنی برعدل سنت کے تحت ظہور میں آتے ہیں لیکن اس سنت تک ان لوگوں کی نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں جو صرف اس دنیا کے ظواہر کو دیکھنے کے عادی ہیں۔
ّ(١٨٠٨) اس دنیا کے نظام اور اس کی تاریخ پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا کہ اس کے خالق نے اس کو کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے اس وجہ سے یہ لازماً جزا و سزا پر منتہی ہوگی۔ قوموں کی تاریخ سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے کردار کے مطابق معاملہ کیا ہے اس وجہ سے قیامت ناگزیر ہے۔ جو لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں وہ ایک بدیہی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں۔ جب قیامت آئے گی تو اس دن اہلِ ایمان کو فلاح حاصل ہوگی اور اہلِ کفر نامراد ہوں گے۔ جن لوگوں نے شرکاء و شفعاء بنا رکھے ہیں وہ نہایت ہی غلط سہارے پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن یہ شفعاء بالکل بے حقیقت ثابت ہوں گے۔ عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار اللہ ہے۔ اسی کی حمدو تسبیح اس کائنات کی ہر چیز کر رہی ہے۔ اس وجہ سے انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ صبح و شام اسی کی تسبیح کریں۔
(١٩۔ ٢٩ ) قیامت اور توحید کے آفاقی وانفسی دلائل
(٣٠۔ ٤٥ ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) کو اصل دینِ فطرت پر قائم رہنے اور اسی کی دعوت دینے کی تاکید۔ اس دین کی بنیاد نماز اور زکوٰۃ پر ہے۔ جن لوگوں نے اس دین فطرت کو بگاڑا ہے ان کو زجرو تنبیہ کہ اب ان کے محاسبہ کا وقت آگیا ہے، وہ پچھلی قوموں کی تاریخ سے سبق ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تم صبر کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو اور فیصلہ کے دن کا انتظار کرو۔
(٤٦۔ ٦٠ ) اللہ تعالیٰ کے وعدۂ نصرت کے ظہور کے جو دلائل و آثار تاریخ و آفاق میں موجود ہیں ان کی طرف اشارہ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تم اپنی دعوت انہی لوگوں کے دلوں میں اتار سکتے ہو جو سننے سمجھنے والے ہیں۔ اس وجہ سے ان لوگوں کے رویہ سے بددل نہ ہو جو اندھے بہرے بن چکے ہیں۔ سوچنے سمجھنے والوں کے لئے یہ قرآن کافی ہے۔ باقی رہے ضدی اور ہٹ دھرم تو ان کو کوئی معجزہ بھی قائل نہیں کرسکتا۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ اللہ کا وعدہ نصرت پورا ہو کر رہے گا ۔


28۔ سورۃ القصص : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


28۔ سورۃ القصص کا تعارف  اور مضامین کا تجزیہ
ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
یہ سورۃ سابق سورۃ … نمل … کا مثنیٰ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ البتہ اجمال و تفصیل اور اسلوب بیان و نہج استدلال کے اعتابر سے دونوں میں فرق ہے۔ سابق سورۃ میں حضرت مسویٰ کی سرگزشت کا صرف اتنا حصہ اجمالا بیان ہوا ہے جوان کو رسالت عطا کئے جانے اور فرعون کے پاس جانے کے حکم سے متعلق ہے۔ اس سورۃ میں وہ پوری سرگزشت نہایت تفصیل سے بیان ہوتی ہے جو ان کی ولادت با سعادت سے لے کر ان کو تورات عطا کئے جانے تک کے احوال و مشاہدات پر مشتمل ہے۔ سابق سورۃ میں بنی اسرائیل کی طرف صرف ایک مخفی اشارہ تھا، اس سورۃ میں ان کے صالحین و مفسدین دونوں کا رویہ نسبتہ وضاحت سے زیر بحث آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں یہود کھل کر سامنے آگئے تھے ۔
حضرت موسیٰ کی سرگزشت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعینیہ اسی مقصد سے سنائی گئی ہے جس مقصد سے سورۃ یوسف میں حضرت یوسف کی سرگزشت سنائی گئی ہے کہ اس آئینہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اچھی طرح دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حفاظت وصیانت اور اپنی اسکیموں کو بروئے کار لانے کے لئے اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے اور آپ کے مخالفین بھی دیکھ لیں کہ اس دعوت کی مخالفت میں بالآخر ان کو کس انجام سے دوچار ہونا ہے ۔
قریش پر اس سورۃ میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح اس نے اس پیغمبر اور اس کتاب کو تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم پر اللہ کی ہدایت پوری طرح واضح ہوجائے اور تمہارے پاس گمراہی پر جمے رہنے کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے ۔
بنی اسرائیل پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر یہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت مسوی کی زندگی کے ان گوشوں سے بھی یہ واقف ہوتے جن سے تم بھی صحیح صحیح اور اس تفصیل سے واقف نہیں ہو ! اور ساتھ ہی اس امر واقعی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جو ہدایت، اللہ نے تم پر نازل فرمائی تھی وہ تم نے اختلافات میں پڑ کر گم کر دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے اس رسول کے ذریعہ سے اس ہدایت کو از سر نو زندہ کرے اور خلق پر اپنی حجت تمام کرے ۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں یہ تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے اللہ سے مانگ کر نہیں لیا ہے بلکہ اللہ نے خود تما پر اس کی ذمہ داریاں ڈالی ہیں تو جب اس نے خود تم پر اس کا بارڈالا ہے تو تم مخالفوں کی مخالفت اور راہ کی مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنا فرض انجام دو جس اللہ نے یہ بوجھ تم پر ڈالا ہے وہ خود ہر قدم پر تمہاری رہنمائی و دست گیری فرمائے گا اور تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(4-1) حضرت مسویٰ کی سرگزشت ان کی ولادت باسعادت کے وقت سے لے کر تورات کے عطا کئے جانے تک (46-44) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف التفات جس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ تم حضرت موسیٰ کی زندگی کے ان مراحل و مقامات سے واقف نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سے واقف کیا کہ تمہارے ذریعہ سے اللہ کی ہدایت و شریعت دنیا میں پھر زندہ ہو۔ یہ اللہ کا تمہارے اوپر بھی فضل ہے اور تمہاری اس قوم پر ھبی جس کے اندر اب تک کوئی رسول نہیں آیا تھا۔ اللہ نے یہ چاہا کہ ان کو کوئی سزا دینے سے پہلے تمہارے ذریعہ سے ان پر اپنی حجت تمام کر دے ۔
(55-47) قریش کی طرف سے اس دعوت حق کی مخالفت اور اشرار یہود کی شہ پر یہ مطالبہ کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اس طرح کے معجزے کیوں نہیں دکھاتے جس قسم کے معجزے حضرت موسیٰ نے دکھائے ؟ اس معارضہ کا مسکمت جواب اور ساتھ ہی ان اچھے اہل کتاب کی تحسین جو اپنی قوم کے تمام غوغا کی علی الرغم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کی دعوت کی تاکید کر رہے تھے ۔
(61-52) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور قریش کے اس اندیشہ کا جواب کہ اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں گے تو اس سے ان کی تمام سیاست و معیشت تباہ ہوجائے گی ۔
(75-62) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور قریش کے اس اندیشہ کا جواب کہ اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں گے تو اس سے ان کی تمام سیاست و معیشت تباہ ہوجائے گی ۔
(75-62) ان شرکاء و شفعار کی بے حقیقتی کی وضاحت جن کو مشرکین اپنی تمام کامیابیوں کا ذریعہ سمجھتے اور ڈرتے تھے کہ اگر ان کو انہوں نیچھوڑا تو ان پر تباہی آجائے گی ۔
(84-76) ایک یہودی سرمایہ دار کے انجام کا بیان جس سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ نعمتیں جو بھی ملتی ہیں سب خدا کی طرف سے ملتی ہیں لیکن بدبخت لوگ ان کو اپنی قابلیت کا ثمرہ اور اپنے فرضی معبودوں کا فضل و کرم سمجھتے ہیں ۔

(88-85) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و عزیمت کی تلقین کہ تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو۔ مخالفین کے غوغا کی پروا نہ کرو۔ جس خدا نے تم پر قرآن کی دعوت کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ تمہاری راہ کی ہر مشکل آسان کرے گا ۔

27۔سورہ نمل : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی


27۔سورہ نمل کا تعارف  اور مطالب کا تجزیہ :
ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق
سابق سورۃ میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ یہ قرآن کوئی شاعری اور کہانت میں ہے بلکہ اللہ کا اتارا ہوا کلام ہے لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں لانا چاہتے وہ اس کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ قرآن ان کو جس چیز سے ڈرا رہا ہے جب وہ اس کو دیکھ لیں گے تب اس پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ عذاب کو دعوت دینے کے بجائے رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ اس سورۃ میں یہ واضح فرمایا کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و بشارت بنا کر نازل فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے دلوں کے اندر آخرت کا خوف ہے جو لوگ اس دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہیں وہ اپنے ان مشاغل سے دستبردار نہیں ہو سکتے جن میں وہ مشغول ہیں۔ ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دیئے گئے ہیں کہ اب کوئ تذکیر و تنبیہ بھی ان پر کارگر نہں ل ہو سکتی۔ پچھلی سورۃ میں بحث کی بنیاد صفات الٰہی میں سے صفات … عزیز و رحیم پر رکھی ہے جن کے تمام پہلوئوں کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ اس سورۃ کی بنیاد صفات … حکیم و علیم … پر ہے کہ یہ قرآن خدائے حکیم و علیم کا اتارا ہوا ہے تو وہ جو کچھ کرے گا وہ حکمت اور علیم پر مبنی ہوگا۔ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو اپنے رب حکیم و علیم پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ وہ ان کو اچھے انجام سے ہمکنار کرے گا ۔
ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ
(6-1) سورۃ کی تمہید، جو سورۃ بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اس میں واضح فرمایا ہے کہ یہ قرآن بجائے خود نہایت واضح اور قعل و دل کو اپیل کرنے والی کتاب ہے، لیکن جو لوگ آخرت کو نہیں ماننا چاہتے وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ جن دلچسپیوں میں منہمک ہیں شیطان نے ان کی نگاہوں میں وہ اس طرح کھبا دی ہیں کہ اب وہ ان کے پیچھے اندھے ہوچکے ہیں۔ وہ اسی طرح بھٹکتے رہیں گے ۔
(14-7) حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ابتدائی حصہ جس میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کو نہایت واضح نو نشانیوں کے ساتھ فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا لیکن فرعون اور اس کی قوم نے یہ یقین کرنے کے باوجود کہ یہ خدائی نشانیاں ہیں حضرت موسیٰ کی رسالت تسلیم نہیں کی اور بالآخر وہ ہلاک ہو کر رہے ۔
(44-15) اللہ تعالیٰ کے صالح و مصلح بندوں کا ذکر کہ نعمت ان کو اندھا نہیں بناتی بلکہ جتنا ہی ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اتنی ہی منعمحقیقت کے آگ ان کے ذوتنی اور سرافگندگی بڑھتی جاتی ہے۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہوئے ان میں سے بعض کا حوالہ جن سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نعمت و جاہ اور حکمت و سائنس میں سے جو کچھ ان کو بخشا وہ کسی کو بھی نہیں بخشا لیکن انہوں نے ہر نعمت کو اللہ کا فضل جانا اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھی کہ یہ نعمتیں دے کر اللہ تعالیٰ ان کا امحتان کر رہا ہے کہ وہ اس کے شکر گزار بندے بنتے ہیں یا ناشکرے ۔
(53-45) مفسدین فی الارض کے انجام کو واضح کرنے کے لئے قوم ثمود کی مثال کا حوالہ پچھلی سورۃ میں بھی ان کے فساد فی الارض کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس سورۃ میں اس کی مزید وضاحت ہوئی ہے کہ ان کی جمعیت بہت بھاری تھی۔ ان کے نو نہایت جنگجو قبائل تھے اور یہ برابر جنگ و فساد میں سرگرم رہتے تھے۔ حضرت صالح نے ان کی اصلاح کی کوشش کی لیکن انہوں نے صرف یہ کہ ان کی بات سنی نہیں بلکہ ان کے قتل کے بھی در پے ہوگئے۔ بالآخر ان پر اللہ کا فیصلہ کن عذاب آیا اور ان کی پرشوکت تعمیرات، جن پر ان کو ناز تھا، کھنڈروں کی شکل میں تبدیل ہو گئں ا۔ ان کھنڈروں کے آثار قریش کی عبرت کے لئے موجود تھے ۔
(58-54) قوم لوط کی سرگزشت کی طرف اجمالی اشارہ حضرت لوط نے ان کے اخلاقی فساد کی اصلاح کی کوشش فرمائی اور اس کے برے انجام سے ان کو ڈرایا لیکن وہ ان کی بات سننے کے بجائے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے اندر سے نکال دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں کہ ہمیں نصیحت کرنے اٹھے ہیں۔ بالآخر ان پر بھی خدا کا عذاب آیا جس نے ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ ان کے آثار پر سے بھی قریش کو اکثر گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے ۔
(68-59) اس کائنات کی گونگاوں نشانیوں اور نعمتوں میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ کر کے مخاطبوں سے سوال کہ ان میں سے کس چیز کو تم خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکتے ہو ؟ جب ان میں سے کسی چیز کو بھی خدا کے سوا کسی اور کی طرفمنسوب نہیں کرسکتے تو آخر اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی کیوں پرستش کرتے ہو اور ان کے پل پر اللہ اور اس کے رسول سے کیوں لڑنے اٹھ کھڑے ہوئے ہو ! آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کہ جہاں تک شرک اور آگاہ کا تعلق ہے ان کے حق میں تو کوئی دلیل یہ پیش نہیں کرسکتے لیکن آخرت کے معاملے میں یہ سخت تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ اس کو یہ محض اگلوں کا افسانہ کہتے ہیں اور یہی چیز درحقیقت ان کی ساری سرکشی کا سبب ہے ۔
(93-69) خاتمہ سورۃ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گی ہے کہ نہ ان کے حال پر غم کرو، نہ ان کی چالوں سے پریشان ہو۔ اگر یہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ جو مہلت ملی ہوئی ہے اس پر اللہ کا شکر کرو، اپنی شامت نہ بلائو تم اپنا فرض ادا کر دو۔ اگر یہ نہیں سنتے تو تمہارا کام مردوں اور بہروں کو سناتا نہیں ہے۔ تم یہ اعلان کر دو کہ مجھے اسی قرآن کے سنانے کی ہدیات ہوئی ہے۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کا نفع اسی کو پہنچے گا اور جو اس کا انکار کرے گا اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میں صرف ایک منذر ہوں۔ لوگوں پر کوئی داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجا گیا ہوں ۔


26۔ سورہ شعراء تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

ا - سورۃ کا عمود اور سابق سورۃ سے تعلق

یہ سورۃ سابق سورۃ … سورۃ فرقان … کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا اثبات ہے لیکن نہج استدلال اور اسلوب بیان اس کا سابق سورۃ سے مختلف ہے ۔

سابق سورۃ میں جن انبیائے کرام کی سرگزشتوں کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا اس میں ان کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے ۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قریش کا ہن اور شاعر ہونے کا جو الزام لگاتے تھے اس میں اس الزام کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے ۔
اس میں ہر پیرے کے بعد آیات ان فی ذلک لایۃ ط وما کان اکثرھم مومنین وان ربک لھو العزیز الرحیم بطور ترجیح آٹھ بار وارد ہوئی ہیں۔ اس ترجیح سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے آپ سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس میں خاص طور پر مخاطب ہیں۔ ان کو تاریخ کے حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ سے سبق لیں۔ ان لوگوں کی روش کی تقلید نہ کریں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے ۔

ب۔ سورۃ کے مطالب کا تجزیہ

سورہ کے مطالب پر بھی ایک اجمای نظر ڈال لیجیے تاکہ عمود کے ساتھ اس کے مختلف اجزاء کا تعلق اور اس کا مجموعی ربط و نظام اچھی طرح واضح ہوجائے ۔

(9-1) تمہید، جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قرآن کے مخالفین اس پر ایمان نہیں لا رہے ہیں، کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو آپ اس چیز سے پریشان نہ ہوں۔ اگر اللہ چہے گا تو کوئی ایسی نشانی اتار دے گا جو ان سب کی گردنیں قرآن کے آگے جھکا دے گی لیکن قرآن کی صداقت کسی خارجی نشانی کی محتاج نہیں ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر ہی رکھتا ہے۔ اگر یہ لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں تو جن خطرات سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ سب ایک ایک کر کے پیش آ کر رہیں گے۔ اس کائنات میں نشانیوں کی کمی نہیں ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کے لئے کوئی نشانی کارگر نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کو خدا جب چاہے پکڑ سکتا ہے، وہ عزیز و غایت ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ نہایت رحیم بھی ہے اس وجہ سے لوگوں کی سرکشی کے باوجود ان کو مہلت دیتا ہے ۔

(68-10) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت جس میں وہ واقعات اجمالاً بیان ہوئے ہیں جو فرعون کے پاس جانے کے حکم سے لے کر اس کی غرقابی تک پیش آئے۔ سرگزشت کے آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے ۔

(104-69) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا حوالہ جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی۔ اسی ذیل میں ان لوگوں کے انجام کا بیان ہے جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے بے پروا ہیں۔ آخر میں آیات ترجیح ہیں ۔

(122-105) حضرت نوح کی دعوت اپنی قوم کو اور قوم کا متکبرانہ جواب اور انجام کا راس کی غرقابی۔ آخر میں آیات ترجیح

(140-123) حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت اپنی قوم عاد کو قوم کی طرف سے ان کی متکبرانہ تکذیب اور اس کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کا ظہور … آخر میں آیات ترجیح

(159-141) حضرت صالح کی دعوت قوم ثمود کو قوم ثمود کی تکذیب اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح ۔

(175-160) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، ان کی قوم کا رویہ اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح

( 191-176) حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کے ساتھ اہل مدین کا سلوک اور بالآخر ان کا حشر۔ اس سرگزشت کے آخر میں بھی انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے ۔

(227-192) خاتمہ سورۃ جس میں تمہید کے مضمون کی پوری وضاحت فرما دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات تفسیر میں آئیں گی۔ یہاں اجمالاً مندرجہ ذیل امور ذہن میں رکھیے ۔

(ا) قرآن کا منبع وحی الٰہی ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت روح الامین کے ذریعہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے ۔

(ب) اس کا عربی مبین میں نازل ہونا اہل عرب پر اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو یہ ان کی انتہائی محرومی و بدبختی ہے ۔

(ج) اس کے دلائل پچھلے انبیاء کے صحیفوں میں موجود ہیں اور علمائے اہل کتاب ان سے واقف ہیں ۔

(د) یہ کفار کے لئے انذا رو تنبیہ ہے تاکہ مواخذہ سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیا جائے تو جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہں وہ اس کے نتائج دور تک سوچ لیں ۔

(ھ) اس کو جنوں اور شیطانوں کی وحی قرار دینا محض خرد باختگی ہے۔ شیاطین جس قسم کے لوگوں پر اترتے ہیں۔ ان کی علامات کی طرف اشارہ ۔

(و) یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ قرآن اور شعر، پیغمبر اور شاعر میں امتیاز کرنے والی بعض کسوٹیوں کی طرف اشارہ ۔

25۔ سورہ فرقان : تعارف، مضامین اور مطالب کا تجزیہ - مولانا امین احسن اصلاحی

25۔ سورہ فرقان کا تعارف :
ا۔ سورتوں کے چوتھے گروپ پر ایک اجمالی نظر
سورہ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں … فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ … مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورۃ … احزاب …مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دوسرے گروپوں کی طرح اس میں بھی مرعی ہے۔ البتہ سورۃ احزاب کی حیثیت خلاصہ بحث یا سورۃ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار دعوت، ہجرت، جہاد … اور تمام بنیادی مطالب توحید، رسالت، معاد اس میں بھی زیر بحث آئے ہیں البتہ اسلوب، انداز اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں ی فی الجملہ مختلف نظر آئے گا ۔
اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب میں دیئے گئے ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا اصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلہ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے۔ اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے ۔
یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی نظر ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کرگروپ کی ایک ایک سورۃ کی الگ الگ تفسیر شروع کرتے ہیں ۔
ب - سورۃ کا عمود
اس سورۃ کا عمود قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع ہے۔ مخالفین نے جو شبہات و اعترضات، قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اٹھائے وہ اس میں نقل کر کے ان کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی مخالفین کے اعتراض و انکار کے اصل محرکات کا بھی پتہ دیا گیا ہے اور قرآن کی جن باتوں سے وہ خاص طور پر متوحش تھے، مثلاً دعوت توحید یا انذار عذاب، وہ مزید دلائل سے مبرہن کی گی ہے ۔
ج -  سورہ کے مطالب کا تجزیہ
 (9-1) قرآن کا نزول سب سے بڑی برکت والی ہستی کی طرف سے سب سے بڑی برکت و رحمت کا نزول ہے لیکن توحید اور قیامت کے منکرین اس کو افتراء اور سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان باتوں کا حوالہ جو مخالفین آنحضرت صلعم اور قرآن سے برگشتہ و بدگمان کرنے کے لئے لوگوں میں پھیلاتے تھے ۔
(34-10) مخالفین کے اعتراضات و مطاعن کا جواب، اور اس مخالفت کے پس پردہ محرک کی طرف اشارہ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو صبر و استقامت کی تلقین اور تکذیب کرنے والوں کے انجام بدکا بیان ۔
(44-35) رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ کی طرف ایک اجمالی اشارہ جس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو صبر و استقامت کی تلقین ہے کہ جو لوگ اس کتاب کی تکذیب کر رہے ہیں یہ نہ خیال کرو کہ یہ سننے سمجھنے والے لوگ ہیں۔ یہ چوپایوں سے بھی زیادہ لایعقل اور اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم ان پر حجت تمام کر دو۔ یہ اسی راہ پر چلیں گے جس پر چل رہے ہیں اور اس انجام سے دوچار ہوں گے جو ان کے لئے مقدر ہے تم اپنے فرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہو، ان کے رخ موڑ دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔
(60-45) قرآن کی دعوت کے اساسی مسائل … توحید اور معاد … کے اثبات میں آفاق کے بعض دلائل کی طرف اشارہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس امر کی تلقین کہ مخالفین کے مطالبہ معجزات سے بے پروا ہو کر اسی قرآن کے ذریعے سے ان پر اتمام حجت کرو۔ اس قرآن میں گوناگون اسالیب سے وہ ساری باتیں واضح کر دی گئی ہیں جن کا واضح ہونا تمام حجت کے نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ اگر لوگ اس کو نہیں مانتے تو تمہارا کام صرف انذار و تبشیر ہے۔ تم اپنا فرض ادا کر کے ان کو ان کے حال پر چھوڑو، ان بے سروپا اعتراضات کو کوئی اہمیت نہ دو جو انہوں نے محض کی مخالفت کے لئے بطور بہانہ ایجاد کئے ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کیر گا جس کا وہ مستحق ہے ۔
(77-61) اس دنیا کے روز و شب تذکیر و تنبیہ کے لئے کافی ہیں بشرطیکہ انسان یاد دہانی حاصل کرنا اور اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا چاہئے جن لوگوں کے اندر انابت اور اخشیت ہوتی ہے وہ اس طرح اکڑا نہیں کرتے جس طرح یہ متمردین اکڑ رہے ہیں بلکہ ان کی روش ان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ خدا کے ذاکر و شاکر بندوں کی صفات کا بیان۔ آخر میں متمردین قریش کو تنبیہ کہ تمہیں جو اس درجہ اہمیت دی گئی اور تمہارے لئے تعلیم و دعوت کا یہ اہتمام کیا گیا تو اس لئے نہیں کہ تمہارے بغیر خدا کا کوئی کام بند ہے یا بند ہوجائے گا بلکہ مقصود صرف تمہاری صلاح و فلاح تھی۔ اب اگر تم خدا کی اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہو تو وہ چیز لازماً پیش آ کے رہے گی جو اس ناقدری کا لازمی نتیجہ ہے ۔مطالب کے اس تجزیہ سے سورۃ کا عمود اور نظام اچھی طرح واضح ہوگیا ہے۔