یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
حاملین قرآن کا کردار
دنیا کی چیزوں میں کشش کیوں رکھی گئی ہے ؟ - مولانا وحید الدین خاں
کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں
آیات محکمات اور متشابہات ہمارے مفسرین کی نظر میں
![]() |
| آیات محکمات اور متشابہات |
متشابہات کی بعض مثالیں :
تاویل کا مفہوم :
محکمات و متشابہات کے بارے میں چند تنبیہات :
علم تجوید القرآن کی چند اہم اصطلاحات
(1) حروف
(2) حروف حلقی
(3) حروف مستعلیہ
(4) حروف شفوی
(5) حروفِ مدّہ (حروف ہوائیہ )
(6) حروفِ لین
( 7) حرکت
(8) فتحہ اشباعی
(9) ضَمّہ اشباعی
(10) کسرہ اشباعی
(11) متحرک
(12) فتحہ
(13) کسرہ
(14) ضَمّہ
(15) تنوین
(16) نونِ تنوین
(17) ما قبل حرف
(18) مابعد حرف
(19) ترتیل
(20) حدر
(21) تدویر
(22) اظہار
(23) اقلاب
(24) اِخفاء
(25) غُنّہ
(26) موقوف علیہ
(27) وقف
(28) اِدغام
(29) مُدْغَمْ فِیہ
(30) سکون
(31) ساکن
کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!
کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!
اصل تورات اور انجیل کا تعارف
عام طور پر لوگ تورات سے مراد بائیبل کے پرانے عہد نامے کی ابتدائی پانچ کتابیں اور انجیل سے مراد نئے عہد نامے کی چار مشہور انجیلیں لے لیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا فی الواقع یہ کتابیں کلام الٰہی ہیں؟ اور کیا واقعی قرآن ان سب باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان میں درج ہیں؟ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تورات بائیبل کی پہلی پانچ کتابوں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر مندرج ہے، اور انجیل نئے عہد نامہ کی اناجیل اربعہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر پائی جاتی ہے۔
قرآن کریم کا سائنسی اعجاز غورو فکر کے چند پہلو
قرآن کریم کا سائنسی اعجاز غورو فکر کے چند پہلو
’’اس سے مراد وہ طریقۂ تفسیر ہے جس میں قرآن کی عبارت میں سائنسی اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مختلف علوم اور فلسفیانہ آراء مستنبط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔ ۱؎
’’اس سے مراد قرآن کریم کی آیاتِ کائنات اور تجرباتی علوم کی ایجادات کے درمیان ربط ظاہر کرنے کے لیے مفسّر کی ایسی کوشش ہے جس سے قرآن کا اعجاز نمایاں ہوجائے اور یہ واضح ہوجائے کہ وہ انسانی کاوش نہیں ہے، بلکہ اسے نازل کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور یہ کہ وہ ہر زمان و مکان کا ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ ۲؎
’’سائنسی تفسیر سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی آیاتِ کائنات کی تفسیر سائنسی معلومات کی روشنی میں کی جائے، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ اس طرح اس تعریف میں صحیح اور غلط دونوں تفسیریں آجاتی ہیں‘‘۔ ۳؎
۱- ’’اس سے مراد قرآن کا کسی ایسی حقیقت کی خبر دینا ہے جس کا اثبات تجرباتی علم (سائنس) سے ہوا ہو اور جس کا ادراک عہدِ رسالت یا زمانۂ نزولِ وحی میں انسانی علمی وسائل کے ذریعے ممکن نہ رہا ہو‘‘۔۲- ’’اس سے مراد جدید ثابت شدہ اور مستقل سائنسی اکتشافات کے ذریعے قرآن کریم میں وارد حقائق کا اثبات کرنا ہے، ایسے دلائل کے ذریعے جو قطعی اور یقینی ہوں اور جن پر ماہرین کا اتفاق ہو‘‘۔۳- ’’اس سے مراد وحی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہونے والے علم الٰہی کی سچائی کا اظہار ہے، جس سے اس کا امر واقعہ ہونا ثابت ہوجائے اور کوئی شخص اس کی نسبت حضرت محمد ﷺ یا آپ کے زمانے کے کسی انسان کی طرف نہ کرسکے‘‘۔
قرآن کا سائنسی اعجاز – چند حقائق
- اول یہ کہ سائنسی اعجاز بذاتِ خود مقصود نہیں ہے۔
- دوم یہ کہ قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور اس ہدایت کے ذرائع میں سے وہ اہم علمی و سائنسی دلائل بھی ہیں جو کتابِ عزیز کی آیات میں پائے جاتے ہیں۔
قُلْ أَنزَلَہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ إِنَّہُ کَانَ غَفُوراً رَّحِیْماً۔ (الفرقان:۶)ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے اس نے جو زمین اور آسمان کا بھید جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔شیخ مصطفی صادق الرافعیؒ فرماتے ہیں:
’’قرآن میں کائناتی اور سائنسی آیات کی موجودگی اس کے ایک دوسرے اعجاز کی دلیل ہے۔ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ زمانہ بحث و دلیل پر قائم علمی رخ پر رواں دواں ہے اور انسانیت اپنے عہدِ عروج میں اسی راہ پر گام زن ہے اور مذہب بہت جلد عقلی بنیادوں پر استوار ہوگا۔ قرآن میں اس پہلو کی رعایت زمانہ میں اس کے وجود میں آنے سے چودہ صدیوں پہلے ، غیب سے ظاہر ہونے والی کھلی شہادت ہے، جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پھر اگر صبح روشن ہوگئی ہو ، لیکن بعض لوگ سورہے ہوں، انھیں صبح کا پتا نہ چلا ہو تو یہ ان کی نیند کا قصور ہے، بعض دوسرے لوگ ہیں جو اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس کی بنا پر وہ صبح کو دیکھنے پر قادر نہیں، لیکن بہ ہر حال یہ حقیقت ہے کہ صبح نمودار ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْْہَا۔ (الانعام: ۱۰۴) ۵؎
اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا۔موجودہ صورت حال
’’جوش میں آکر بعض نئے مفسرین نے اس طریقہ کو استعمال کرنے میں اس حد تک مبالغہ سے کام لیا کہ خود ایمان خطرہ میں پڑگیا، اس لیے کہ اس سے یا تو نص کے مفہوم پر اعتماد میں کمی آتی ہے، کہ اس سے ایسی باتیں مستنبط کی جاتی ہیں جن کے، قرآنی الفاظ اور جملے متحمل نہیں ہوتے، یا سائنس دانوں کی آرائ، یہاں تک کہ ان کے باہم متضاد مفروضات یا وہ نظریات جن کی صحت کو ثابت کرنا دشوار ہوتا ہے، ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرلیا جاتاہے‘‘۔ ۶؎
سید قطب شہیدؒ فرماتے ہیں:’’قرآنی اشارات کو سائنس کے جدید اور ہمہ آں متغیر نظریات پر محمول کرنے کی کوشش منہجی اعتبار سے بنیادی غلطی ہے۔ ساتھ ہی اس میں تین باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو قرآن کی عظمت و جلال کے شایانِ شان نہیں ہیں:اول: اندرونی احساسِ شکست، جس کی بنا پر بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ سائنس کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ وہ قرآنی بیانات کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے یا ان پر سائنس سے استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ قرآن اپنے موضوع پر کامل اور اپنے بیان کردہ حقائق کے سلسلے میں فائنل کتاب ہے اور سائنس کا حال یہ ہے کہ اس میں کل تک جو چیز ثابت تھی آج اس کی تردید ہوجاتی ہے۔دوم: قرآن کے مزاج اور اس کے مقصدِ بعثت کے بارے میں غلط فہمی، جب کہ قرآن علی الاطلاق ایسی آخری حقیقت ہے جو انسانی وجود کی ایسی تشکیل کرتی ہے جو اس کائنات کے مزاج اور اس کے الٰہی ناموس سے ہم آہنگ ہو ، تاکہ انسان اور کائنات میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو، بلکہ انسان کا کائنات سے قریبی تعلق استوار ہوجائے، وہ اس کے بعض اسرار جان لے اور اس کے بعض مظاہر کو اپنے کارِ خلافت میں استعمال کرسکے۔سوم: نصوصِ قرآن کی بہ تکلّف اور دور از کار تاویل، کہ قرآنی آیات کو من چاہے معانی کا جامہ پہنایا جائے اور ان کے ساتھ ایسے سائنسی مفروضات اور نظریات کے پیچھے دوڑا جائے جو ثابت شدہ اور دائمی نہیں ہیں، بلکہ ہر دن ان میں نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہے۔۷؎
سائنسی تفسیر کے مخالفین
’’ان کا یہی معاملہ علوم کے سلسلے میں ہے۔ وہ مختلف علوم کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ بحث کرتے کرتے ایک علم سے دوسرے علم میں جاپہنچتے ہیں۔ ہمارے استاذ علامہ ابوجعفر احمد بن ابراہیم بن الزبیر الثقفیؒ کہا کرتے تھے: ’’جب تم دیکھو کہ کوئی شخص بحث و تحقیق یا تصنیف و تالیف میں ایک فن سے دوسرے فن میں پہنچ جاتا ہو تو جان لو کہ یا تو اس کا سبب اس فن میں اس کی کم علمی ہے یا اس کے ذہن میں مباحث پوری طرح واضح نہیں ہیں، اسے موضوع کا بہ خوبی ادراک نہیں ہے اور وہ گمان کرتا ہے کہ باہم مختلف چیزیں مماثل ہیں‘‘۔ ۹؎
’’ اول: لغوی پہلو سے : زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے قرآنی الفاظ کی دلالتیں بدل گئی ہیں اور ان میں توسّع آگیا ہے۔ تو کیا یہ بات قرینِ عقل ہوگی کہ الفاظِ قرآن کے فہم میں ہم بھی اتنے ہی توسّع سے کام لیں اور ان سے وہ معانی مستنبط کریں جنھیں جدید اصطلاحات کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔دوم : بلاغی پہلو سے: بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بات مطابقِ حال کہی جائے ۔ سائنسی تفسیر سے قرآن کی بلاغت کو ضرر پہنچتا ہے، اس لیے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں جن لوگوں کو مخاطب بنایا گیا اگر وہ ان معانی سے ناواقف تھے جنھیں تفسیر میں بیان کیا جاتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ انھیں وہ بتانا چاہتا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن غیر بلیغ ہے، اس لیے کہ اس نے مخاطبین کے حالات کی رعایت نہیں کی اور اگر وہ ان معانی کو جانتے تھے تو کیوں عربوں کی علمی ترقی نہیں ہوئی، جب کہ قرآن میں اولین و آخرین کے تمام علوم پائے جاتے تھے۔سوم: اعتقادی پہلو سے: اگر ہم ان لوگوں کا مسلک اختیار کرلیں جو قرآن سے ہر چیز مستنبط کرنے لگتے ہیں اور اس کو تمام علوم کا سرچشمہ بنادیں تو قرآن کے سلسلے میں مسلمانوں کے عقیدہ کو ہم مشکوک بنادیں گے۔ اس لیے کہ سائنسی علوم کے قواعد و نظریات دائمی اور اٹل نہیں ہیں۔ اگر ہم قرآن سے سے جدید سائنسی نظریات مستنبط کرنے لگیں، پھر یہ نظریات غلط قرار پاجائیں تو اس سے قرآن کریم پر مسلمانوں کا اعتقاد متزلزل ہوجائے گا، اس لیے کہ قرآن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں ہے کہ کل اس کی جو بات صحیح تھی وہ آج غلط ہوسکتی ہے‘‘۔ ۱۰؎
سائنسی تفسیر کے مؤیّدین
’’وہ نظریات اور معقولات جن کے فہم میں غورو فکر کرنے والوں کو دشواری اور ان کے درمیان اختلاف ہوا ہے، قرآن میں ان کی طرف اشارے اور دلالتیں پائی جاتی ہیں۔ مخصوص اہلِ فہم ہی ان کا ادراک کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ استنباطات ظاہرِ تفسیر سے ٹکراتے نہ ہوں، وہ اسے مکمل کرتے ہوں نہ کہ اس کا بدل ہوں‘‘۔
’’قرآن میں اوّلین و آخرین کے علوم جمع ہیں۔ ان کا علم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو تھا، پھر اس نے اپنے رسول کو ان سے باخبر کیا (سوائے کچھ چیزوں کے جن کا علم اس نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے) پھر ان سے کبارِ صحابہ مثلاً خلفائے اربعہ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ وغیرہ نے اخذ کیا، یہاں تک کہ بعض صحابہ کہا کرتے تھے: ’’اگر اونٹ کو باندھنے والی کوئی رسّی بھی کھوجائے تو میں اسے کتاب اللہ میں پالوں گا‘‘، پھر ان سے تابعین نے اخذ کیا، اس کے بعد ہمتیں پست ہوگئیں، عزائم میں فتور آگیا، اہل علم ان علوم و فنون کے حامل نہ رہے جن سے صحابہ و تابعین بہرہ ور تھے‘‘۔ ۱۱؎
’’اللہ کی کتابِ عزیز میں ہر چیز پائی جاتی ہے۔ رہے مختلف علوم تو ان کے ہر باب اور ہر مسئلے کی اصل قرآن میں پائی جاتی ہے۔ اس میں عجیب و غریب مخلوقات اور آسمانوں، زمین، افق اعلیٰ اور زیرِ زمین پائی جانے والی چیزوں کا بیان، ابتدائے تخلیق کی تفصیل، مشہور پیغمبروں اور فرشتوں کے نام اور گزشتہ قوموں کے حالات مذکور ہیں‘‘۔ ۱۲؎
’’قرآن کے ایک ایک حرف سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔۔۔ اس کی ہر سورت سے اوائل و اواخر کے علوم کا اظہار ہوتا ہے‘‘۔ ۱۳؎ آگے لکھتے ہیں: ’’قرآن ہر علم و حکمت کا سرچشمہ ہے‘‘ ۔ ۱۴؎
’’ہماری نظر میں شیخ طنطاوی جوہری نے اس تفسیر کو لکھ کر بہت برا کیا، حالاں کہ وہ گمان کررہے ہیں کہ انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ان کی تفسیر کو بہت سے اہل علم کے نزدیک مقبولیت نہیں ملی ہے، اس لیے کہ اس میں آیات سے دور دراز معانی مستنبط کرنے کے لیے بہت کھینچ تان کی گئی ہے۔ اسی لیے اس تفسیر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں ہر چیز ہے سوائے تفسیر کے‘‘۔ ۱۵؎
’’بسا اوقات سائنس کے بعض مسائل کا آیاتِ قرآنی کی تفسیر سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ان کو اسی طرح پیش کیا جاسکتا ہے جس طرح ہم کسی قرآنی دلیل کے اثبات کے لیے کوئی کلامی مسئلہ پیش کرتے ہیں۔
مثلاً: " آیت لَوْکَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ اِلاَّاللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔ الانبیائ ' : ۲۲ (اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑجاتا) کی تشریح میں برہان التمانع اور آیت " وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ" ۔ الذاریات:۴۷ (آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور اہم اس کی قدرت رکھتے ہیں) کی تشریح میں مسألۃ المتشابہ سے بحث کرتے ہیں‘‘۔
’’اس کے قابلِ قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس میں ایجاز و اختصار کا طریقہ اپنایا جائے، سائنسی معلومات کا صرف خلاصہ بیان کیا جائے، بہت زیادہ تفصیل نہ ذکر کی جائے کہ وہی مقصود معلوم ہونے لگے‘‘۔
اول: جو کچھ انھوں نے کہا ہے اس کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن چاہتا ہے کہ عربوں کے حال میں کوئی تبدیلی نہ ہو، حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔دوم: قرآن کا مقصد دعوت اسلامی کی اشاعت ہے اور یہ رہتی دنیا تک باقی رہنے والا معجزہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ایسی باتیں ہوں جو سائنسی ترقی کے زمانے کے لوگوں کی فہم کے مطابق ہوں۔سوم: سلف نے کہا ہے کہ ’’قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوسکتے‘‘ اس سے ان کی مراد قرآن کے معانی سے ہے۔ اب اگر امام شاطبی کی بات صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے عجائبات اس کے معانی کے محصور ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوگئے۔چہارم: اس کا کمالِ اعجاز یہ ہے کہ اس کے الفاظ میں ایجاز ہونے کے باوجود اس کے معانی میں کثرت ہو کہ وہ کتابوں میں نہ سماسکیں۔پنجم: ضروری ہے کہ مخاطبینِ اول نے آیاتِ قرآن کے معانیٔ اصلیہ سمجھ لیے ہوں۔ رہے زائد معانی تو ممکن ہے کہ انھیں کچھ لوگ سمجھ لیں اور کچھ نہ سمجھ پائیں۔ بسا اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ بات پہنچانے والے سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ششم: وہ باتیں جن کا تعلق مقاصد قرآن سے ہے، ان کے بارے میں یہ چیز قابل تسلیم نہیں ہے کہ سلف ان کی تشریح میں ظاہر آیت پر توقف کرتے تھے، بلکہ ان میں انھوں نے خوب تشریح و توضیح سے کام لیا ہے اور مختلف علوم کی تفصیل پیش کی ہے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے ہم بھی ایسے علوم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو مقاصد قرآن کی خدمت کرتے ہوں اور جن سے علوم اسلامی کی وسعت کا اظہار ہوتا ہو۔ ۱۶؎
سائنسی اعجاز کے دلائل
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عن قریب ہم قرآن کے برحق اور منزّل من اللہ ہونے پر اپنے دلائل و براہین ان پر ظاہر کردیں گے۔ فی الآفاق سے مراد خارجی دلائل ہیں، مثلاً فتوحات، ممالک و مذاہب پر اسلام کا غلبہ اور فی انفسہم سے مراد داخلی دلائل ہیں یعنی غزوۂ بدر اور فتح مکہ جیسے واقعات۔ یہ مجاہد ، حسن اور سدّی کا قول ہے ۔۔۔ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا جسم کن چیزوں سے مرکب ہے؟ اس میں کون کون سے مادے اور اخلاط پائے جاتے ہیں؟ اور اس سے کیسے افعال صادر ہوتے ہیں، جیسا کہ علم تشریح البدن میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی کاری گری کی حکمت واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کی فطرت میں کون سے اچھے اور برے اخلاق ودیعت کیے گئے ہیں؟ اور کس طرح وہ تقدیر الٰہی کے تابع محض ہوکر زندگی گزار رہے ہیں کہ اس سے ذرا بھی تجاوز نہیں کرسکتے‘‘۔ ۱۷؎
قرآن میں سائنسی اعجاز کے ضوابط
وہ امور جن کی رعایت ضروری ہے۔
ہُدیً لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (البقرۃ:۲) ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے ۔
قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ۔ یَہْدِیْ بِہِ اللّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ (المائدۃ: ۱۵-۱۶) تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالأَرْضِ۔ (یونس: ۱۰۱) ان سے کہو ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو‘‘۔
وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ جَمِیْعاً مِّنْہُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیٰتٍ لَّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ۔ (الجاثیۃ: ۱۳) اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمھارے لیے مسخّر کردیا۔ سب کچھ اپنے پاس سے ۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔
إِنَّ اللَّہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہٖ۔ (فاطر: ۴۱) حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا انھیں تھامنے والا نہیں ہے۔
وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَرْضُ جَمِیْعاً قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ بِیَمِیْنِہٖ۔ (الزمر: ۶۷) ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرتِ کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔
سائنسی تفسیر کی بعض مثالیں
پہلی مثال: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالسَّمَاء بَنَیْْنٰہَا بِأَیْْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ۔ (الذاریات: ۴۷) آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں جمال الدین الفندی نے لکھا ہے:
’’ یہ وسیع الاطراف مادی کائنات کروڑوں کہکشاؤں پر مشتمل ہے۔ ہر کہکشاں میں کروڑوں سورج اور ستارے ہیں اور ہر سورج یا ستارہ کے ماتحت بہت سے سیارے اور چاند ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فضا میں مختلف خصوصیات اور صلاحیتوں کی طاقتیں (ENERGIES) اور شعاعیں (RAYS) ہیں، یہ تمام چیزیں خالق کائنات کی قدرت کے تابع ہیں۔ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابتداء میں جب کائنات پیدا کی تھی تو آسمان کو خوب وسیع کردیا تھا، چنانچہ کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود آسمان ان سب پر حاوی ہے۔سائنسی پہلو سے دیکھا جائے تو کائنات کاحجم اب تک نہیں دریافت کیا جاسکا ہے۔ سائنس دانوں نے ستاروں کی چمک کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی کی ہے، جو ستارے ننگی آنکھ سے قبّۂ آسمان میں دکھائی دیتے ہیں اور جن میں مختلف درجات کی چمک پائی جاتی ہے، ان کی تعداد چھ ہزار سے زائد نہیں ہے، لیکن جب فلکیاتی دور بینوں سے دیکھا گیا تو ماہرینِ فلکیات نے بتایا کہ ہماری یہ کہکشاں ایک ٹکیہ کے مثل ہے۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے مرکز سے تیس ہزار شمسی سال کی دوری پر ہے۔ اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ شمسی سال اور اس کی موٹائی تقریباً چھ ہزار شمسی سال کے برابر ہے‘‘۔ ۲۲؎
دوسری مثال: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِیْ لِأَجَلٍ مُسَمًّی أَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ ۔ (الزمر:۵) اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے۔ اُسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخّر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چلا جارہا ہے۔ جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔
امام راغبؒ نے لکھا ہے: ’’کَوَّرَ کے معنیٰ ہیں گھمانا اور لپیٹنا ، جیسے عمامہ کو لپیٹا جاتا ہے۔ اس سے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ سورج کی گردش سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے ہیں‘‘۔ ۲۳؎لسان العرب میں ہے: ’’تکویر اللیل والنہار کا مطلب یہ ہے کہ رات اور دن میں سے ہر ایک کو دوسرے سے ملادیا جائے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رات اور دن میں سے ہر ایک کو دوسرے پر چڑھادیا جائے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک کو دوسرے میں داخل کردیا جائے۔ یہ تینوں معانی قریب قریب ہیں‘‘۔ ۲۴؎الصحاح میں ہے: یُکَوِّرُ الَّلیْلَ عَلَی النَّہَارِ کا مطلب یہ ہے کہ رات دن کو ڈھک لیتی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ رات بڑی ہوجاتی ہے، دن چھوٹا ہوجاتا ہے، تکویر کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے میں داخل ہوجائے۔ اس کی اصل تکویر العمامۃ ہے یعنی عمامہ کو لپیٹنا۔ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی روشنی سمیٹ لی جائے گی اور اسے عمامہ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ کُوِّرَتْ کے ایک معنی غُوِّرَتْ کے ہیں، یعنی اس کی روشنی اندر چلی جائے گی۔ ۲۵؎سید قطبؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’یہ عجیب و غریب تعبیر ہے، جو اس میں غور و فکر کرنے والے کو مجبور کرتی ہے کہ ان معلومات کی طرف رجوع کرے جو زمین کے گول ہونے سے متعلق ماضی قریب میں دریافت ہوئی ہیں۔ باوجود یہ کہ میں نے اس تفسیر میں پوری کوشش کی ہے کہ قرآن کو انسان کے دریافت کردہ نظریات پر محمول نہ کروں، اس لیے کہ یہ نظریات غلط بھی ہوسکتے ہیں اور صحیح بھی، آج اگر یہ صحیح معلوم ہورہے ہیں تو کل یہ غلط ثابت ہوسکتے ہیں، جب کہ قرآن بر حق ہے، وہ بذات خود اپنی سچائی کی نشانی ہے، اس کی تائید و تصدیق کے لیے کم زور و ناتواں انسانوں کی تحقیقات و انکشافات کے حوالے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود یہ قرآنی تعبیر مجھے مجبور کررہی ہے کہ میں زمین کے گول ہونے سے متعلق معلومات میں غور کروں، اس سے ایک ایسی مادی حقیقت کی تصویر کشی ہوتی ہے جو روئے زمین پر قابل مشاہدہ ہے۔ گول زمین سورج کے سامنے اپنے محور پر گردش کررہی ہے، اس کی گول سطح کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہاں دن ہوتا ہے، لیکن یہ حصہ ایک حال پر قائم نہیں رہتا، اس لیے کہ زمین گردش کررہی ہے اور جوں جوں اس کی حرکت جاری رہتی ہے وہ سطح جس پر دن تھا، اس پر رات چھانے لگتی ہے۔ زمین کی یہ سطح برابر ڈھکی رہتی ہے، پہلے دن کی روشنی کے ذریعے، پھر رات کی تاریکی کے ذریعے، کچھ عرصہ کے بعد دوسرے گوشے سے پھر دن کا آغاز ہوتا ہے جو رات پر چھاجاتا ہے۔ یہ حرکت برابر جاری رہتی ہے۔ آیت یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ کے الفاظ سے شکل بھی نگاہ میں آجاتی ہے، مقام کی بھی تعیین ہوجاتی ہے اور زمین کی ماہیت اور اس کی حرکت کی نوعیت بھی طے ہوجاتی ہے۔ زمین کے گول ہونے اور اپنے محور پر گردش کرنے سے قرآنی تعبیر کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے۔ یہ تفسیر کسی بھی دوسری تفسیر کے مقابلے میں ، جسے اس نظریہ کی روشنی میں نہ کیا گیا ہو، زیادہ دقیق تفسیر ہے‘‘۔ ۲۶؎
تیسری مثال: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاَرْسَلْنَا الرِّیْحَ لَوَاقِحَ ۔ (الحجر: ۲۲) بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں پہلے کے لوگ کہتے تھے کہ یہ تشبیہ ہے اس چیز کی کہ ٹھنڈی ہوائیں بادلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے بارش ہوتی ہے اور جانوروں کے نَر مادہ کو بار آور کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب یورپ کے سائنس دانوں نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ہوائیں بار آوری کا عمل براہ راست انجام دیتی ہیں اور دعوی کیا کہ یہ بات اس عہد سے پہلے کے لوگوں کو نہیں معلوم تھی تو قرآن سے واقف بعض لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ عربوں کو یہ بات معلوم تھی۔ مستشرق اجنیری ، جو گزشتہ صدی میں آکسفورڈ میں عربی زبان کا استاد تھا، اس نے کہا ہے: ’’اونٹ چرانے والوں کو اہل یورپ سے تیرہ صدیوں قبل معلوم تھا کہ ہوائیں درختوں اور پھلوں کو بارآور کرتی ہیں‘‘ ہاں یہ بات صحیح ہے کہ کھجور کی کاشت کرنے والے اہل عرب عمل بار آوری سے واقف تھے، اس لیے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے نر کھجوروں کے شگوفوں کو مادہ کھجوروں پر چھڑکتے تھے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بارآوری کا کام ہوائیں انجام دیتی ہیں، اسی وجہ سے اس عہد کے مفسرین نے اس آیت سے یہ بات نہیں سمجھی تھی، بلکہ اسے مجاز پر محمول کیا تھا۔ ۲۷؎
چوتھی مثال: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالأَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَأَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَأَنبَتْنَا فِیْہَا مِن کُلِّ شَیْْء ٍ مَّوْزُونٍ۔ (الحجر: ۱۹) ہم نے زمین کو پھیلایا، اس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔
اس آیت میں لفظ ’’موزون‘‘ (ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار) بہت دقیق اور عجیب و غریب تعبیر ہے۔ علم کیمیا (CHEMISTRY) اور علم نباتات (BOTANY) کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ کوئی نبات جن عناصر پر مشتمل ہوتی ہے، ان میں سے ہر عنصر اس میں ایک متعین مقدار میں شامل ہوتا ہے۔ اس مقدار کا صحیح اندازہ ناپ تول کی دقیق ترین مشینوں سے، جن سے سینٹی گرام اور ملی گرام بھی ناپاجاتا ہے، کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہرنبات میں یہ عناصر ایک خاص تناسب سے رہتے ہیں ۔ آیت میں کل شئ (ہرچیز) کہا گیا ہے، جس میں انتہائی عموم پایا جاتا ہے اور اس کی صفت ’موزون‘ لائی گئی ہے۔ اس کے ذریعے ایسے فنّی سائنسی مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس دور سے قبل کسی انسان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آسکتے تھے اور جن کی تفصیلات کے لیے ایک ضخیم کتاب درکار ہے۔
