حاملین قرآن کا کردار

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

قرآن میں حاملین قرآن کے  صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استٖغفار۔ 



1۔ "صبر "کی حقیقت نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و استقامت ہے۔ غربت، بیماری، مصیبت، مخالفت، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دو چار ہونا پڑے عزم و ہمت کے ساتھ ان کو برداشت کرے، ان کا مقابلہ کرے، ان سے عہدہ بر آ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے مکان کے حد تک موقف حق پر جما رہے۔ دل کو مایوسی اور گھبراہٹ سے، زبان کو شکوہ تقدیر سے اور اپنی گردن کو کسی باطل کے آگے جھکنے سے بچائے۔ دین کا بڑا حصہ اسی صبر پر قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ وصف نہ ہو تو کوئی طمع، کوئی ترغیب، کوئی آزمائش بھی اس کو حق سے ہٹا کر باطل کے آگے سرنگوں کر دے سکتی ہے۔ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنا چاہے اور اس پر چل کر استوار رہنے کا آرزو مند ہو اسے سب سے پہلے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرنی چاہیے۔ مزاحمتوں کے مقابلے کے لیے اور اس راہ میں ہر قدم پر مزاحمتوں سے مقابلہ ہے۔ اصلی ہتھیار بندے کے پاس یہی ہے۔ فلسفہ دین کے نقطہ سے دین نصف شکر ہے اور نصف صبر۔ لیکن عملی تجربہ گواہ ہے کہ آدمی میں صبر نہ ہو تو شکر کا حق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ یہاں چونکہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہیں سچائی کی سب سے بڑی بلندی پر چرھنے کی دعوت دی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کے سامنے، جن لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ان کے کردار میں سب سے پہلے ان کے صبر ہی کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔


2۔ ’ صدق‘ کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابق واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح پختگی اور ٹھوس پن ہے نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہو رہی ہیں آزمائش سے بھی ویسی ہی مضبوط ثابت ہوں تو ایسی نیزے کو عربی میں صادق الکعوب کہیں گے۔ زبان دل سے ہم آہنگ ہو، عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں، عقیدہ اور فعل دونوں ہم عناں ہوں، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر و باطن انہی سے روشن ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی ساری معنویت ختم ہو کر رہ جاتی ہے یہی چیز ہے جو انسان کو وہ پر پرواز عطا کرتی ہے جس سے وہ روحانی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس سے اس کے صبر کو بھی سہارا ملتا ہے۔ 



3۔ ’’ قنوت‘‘ کی اصل روح اللہ جل شانہ کے لیے تواضع و تذلل ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں کے شعور اور اس کی بے نہایت عظمتوں کے احساس کا قدرتی ثمرہ ہے۔ یہ نعمت کو شکر کا اور مصیبت کو صبر کا ذریعہ بناتی ہے اور ہر حالت میں بندے کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔ اصلاً تو یہ عقل و دل کی فروتنی اور انکساری ہے لیکن جس طرح قلب کی ہر حالت کا عکس انسان کے ظاہر پر بھی نمایاں ہوتا ہے اسی طرح اس کا عکس بھی انسان کی وضع قطع، چال ڈھال، گفتار کردار ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہ اس غرور اور گھمنڈ کی ضد ہے جو نعمتوں کو اپنے استحقاق ذاتی کا ثمرہ سمجھنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس تلون اور بے صبرے پن کے بھی منافی ہے جو صبر و صدق کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔


4۔ "انفاق" کے معنی واضح ہیں۔ یہ مرغوبات دنیا کی اس محبت کی ضد صفت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر مرغوبات دنیا کی محبت دل پر اس طرح چھا جائے کہ وہ خدا اور بندوں کے حقوق سے انسان کو روک دے تو یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے ’’ زین للناس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ انفاق کی خصلت اس امر کی شہادت ہے کہ صاحبِ انفاق کی نظر میں اصلی قدر و قیمت دنیوی خزف ریزوں کی نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی لازوال نعمتوں کی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں ساری قدر وقیمت بس اس فانی دنیا کی فانی لذتوں ہی کی ہے، آخرت کی زندگی کا اس کے ذہن میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔


5۔’’ استغفار‘‘ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے تضرع و زاری کہ وہ اپنے بندے کی کوتاہیوں، گناہوں اور جرموں پر پردہ ڈالے۔ یہ تضرع اس حیا اور خوف کا نتیجہ ہے جو بندے کے دل میں اپنے پروردگار کے بے پایاں احسانات و انعامات کے احساس اور اس کے عدل و انتقام کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ’’ وقت سحر‘‘ کی قید لگی ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ وقت قبولیت استٖغفار کے لیے سب سے زیادہ موزوں، ریا کی آفتوں سے سب سے زیادہ محفوظ، دلجمعی اور آیات الٰہی میں تفکر و تدبر کے لیے سب سے زیادہ ساز گار ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں ہی میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ہوئی ہے اور یہ رب کریم کا عظیم احسان ہے کہ اس نے استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ استغفار کی قبولیت کے لیے سب سے زیادہ سازگار وقت کا بھی خود ہی پتہ دے دیا۔ اس ٹکڑے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے جہاں ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کن صفات کے لوگ ہیں جو قرآن کے حامل ہوسکتے ہیں وہیں یہ بات بھی اس سے نکلی کہ وہ موانع کیا ہیں جو قرآن کے ان مخالفین اور قرآن کے درمیان حائل ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان میں وہ صبر نہیں ہے جو نفس اور شیطان کی مزاحمتوں کے مقابل میں ان کو پابر جا رکھ سکے، وہ صدق نہیں ہے جو ان کے عقیدہ اور عمل، قول اور فعل، ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرسکے، وہ قنوت نہیں جو سب سے بڑے صاحبِ حق کے آگے ان کی گردن اور ان کے دل دونوں کو جھکا دے، ابدی زندگی کا وہ شوق نہیں ہے جو انہیں آخرت کے لیے دنیا کو قربان کرنے پر ابھار سکے اور خدائے منعم و دیان کی نعمتوں اور نقمتوں کا وہ شعور و احساس نہیں ہے جو انہیں غفلت کے بستروں سے اٹھا کر مناجات سحر کے لیے ان کو ان کے رب کے حضور لا کھڑا کرے۔ اور ساتھ ہی اسلوب بیان نے ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی کردیا کہ آج جن لوگوں نے اس قرآن کو قبول کرلیا ہے اور اس کے پھیلانے میں اللہ کے رسول کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ان صفات سے متصف ہیں اور ان صفات سے متصف ہونے ہی کے سبب سے وہ اس بارِ گراں کے اٹھانے کے اہل بن سکے ہیں ۔"



(تدبر قرآن سورہ آل عمران : 179 )

دنیا کی چیزوں میں کشش کیوں رکھی گئی ہے ؟ - مولانا وحید الدین خاں

دنیا کی چیزوں میں انسان کے لیے کیوں  کشش رکھی گئی ہے ؟ 


دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لیے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہوکر دنیا کی چیزوں میں کھوجاتا ہے۔ اور کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی ان دیکھی چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ آدمی کو دنیا کی چیزوں میں تسکین ملتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ماحول کے اندر ان کے ذریعہ سے وقار قائم ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہوں تو اس کے سب کام بنتے چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی چیزیں اصل اہمیت کی چیزیں ہیں۔ اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سمٹ کر بیوی بچوں اور مال و جائداد کے گرد جمع ہوجاتی ہیں۔

 یہی چیز آخرت کے تقاضوں کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اہمیت کا احساس آدمی کو آخرت کی چیزوں کی طرف سے غافل کردیتا ہے۔ دنیا میں اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر میں وہ اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ دنیا سے ماورا بھی کوئی "مستقبل" ہے جس کی تعمیر کی اس کو فکر کرنا چاہیے۔ دنیا میں اپنے گھر کو آباد کرنا اس کے لیے اتنا محبوب بن جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ اس کے سوا بھی کوئی "گھر" ہے جس کی آبادی میں اس کو لگنا چاہیے۔ دنیا میں دولت سمیٹنا اور جائداد بنانا اس کو اتنا زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ نہیں پاتا کہ اس کے سوا بھی کوئی "دولت" ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے کو وقف کرے۔ 

مگر اس قسم کی تمام چیزیں صرف موجودہ عارضی زندگی کی رونق ہیں۔ اگلی طویل تر زندگی میں وہ کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں ۔


جو شخص آخرت کی مستقل زندگی کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے اس کی زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ دنیا کی رونقیں اس کی نظر میں حقیر بن جائیں گی۔ وہ اس یقین سے بھر جائے گا کہ آخرت کا معاملہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرے گا اور سب سے زیادہ آخرت کا حریص بن جائے گا۔ معاملات میں وہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں چلے گا بلکہ اللہ کی عدالت کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ متعین کرے گا۔ اس کے قول و عمل میں فرق نہیں ہوگا۔ اس کا مال اپنا مال نہ رہے گا بلکہ خدا کے لیے وقف ہوجائے گا۔ اللہ کی راہ میں چلنے میں خواہ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں وہ پوری استقامات کے ساتھ اس پر قائم رہے گا۔

 کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ اللہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا سہارا بنے۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے اس طرح پگھل اٹھے گا کہ وہ بے تابانہ اس کو پکارنے لگے گا۔ اس کی تنہائیاں اپنے رب کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گی۔ اللہ کے عظمت و کمال کے آگے اس کو اپنا وجود سرتاپا غلطی نظر آئے گا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ۔ اے میرے رب مجھے معاف کردے ۔




( تذکیر القرآن ، سورہ آل عمران :14۔ ۔17 ، مولانا وحیدالدین خان)

کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں


”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کر دینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں : 


ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔ 


دوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ 


تیسرے یہ کہ اصولاً اس بات کو بھی تسلیم کرلے کہ اسے اللہ ہی کی ہدایت پر چلنا چاہیے، مگر اللہ اپنی ہدایات اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے جن پیغمبروں کو واسطہ بنا تا ہے، انہیں تسلیم نہ کرے۔ 


چوتھے یہ کہ پیغمبروں کے درمیان تفریق کرے اور اپنی پسند یا اپنے تعصبات کی بنا پر ان میں سے کسی کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ 


پانچویں یہ کہ پیغمبروں نے خدا کی طرف سے عقائد، اخلاق اور قوانین حیات کے متعلق جو تعلیمات بیان کی ہیں ان کو، یا ان میں سے کسی چیز کو قبول نہ کرے۔ 


چھٹے یہ کہ نظریے کے طور پر تو ان سب چیزوں کو مان لے مگر عملاً احکام الہٰی کی دانستہ نافرمانی کرے اور اس نافرمانی پر اصرار کرتا رہے، اور دنیوی زندگی میں اپنے رویّے کی بنا اطاعت پر نہیں بلکہ نافرمانی ہی پر رکھے۔ 


یہ سب مختلف طرز فکر و عمل،  اللہ کے مقابلے میں باغیانہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک رویّے کو قرآن کفر سے تعبیر کرتا ہے۔ 

اس کے علاوہ بعض مقامات پر قرآن میں کفر کا لفظ کفران نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور شکر کے مقابلے میں بولا گیا ہے۔  شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت جس نے دی ہے انسان اس کا احسان مند ہو، اس کے احسان کی قدر کرے، اس کی دی ہوئی نعمت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرے، اور اس کا دل اپنے محسن کے لیے وفاداری کے جذبے سے لبریز ہو۔

 اس کے مقابلے میں کفر یا کفران نعمت یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے محسن کا احسان ہی نہ مانے اور اسے اپنی قابلیت یا کسی غیر کی عنایت یا سفارش کا نتیجہ سمجھے، یا اس کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرے اور اسے ضائع کر دے، یا اس کی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے، یا اس کے احسانات کے باوجود اس کے ساتھ غدر اور بےوفائی کرے۔ اس نوع کے کفر کو ہماری زبان میں بالعموم احسان فراموشی، نمک حرامی، غداری اور ناشکرے پن کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔



(تفہیم القرآن سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :8 مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :161)


آیات محکمات اور متشابہات ہمارے مفسرین کی نظر میں

ارشاد باری تعالی ہے : 

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ : (سورہ آل عمران : 7)

آیات محکمات اور متشابہات
( وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ " ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں ۔" اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں ۔)


مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں " محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ ”آیات محکمات“ سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کی پیاس بجھانے کے لیے آیات محکمات ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔

متشابہات، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا کوئی راستہ تجویز نہیں کیا جا سکتا، جب تک کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس میں انسان کی حیثیت اور ایسے ہی دوسرے بنیادی امور کے متعلق کم سے کم ضروری معلومت انسان کو نہ دی جائیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس سے ماورا ہیں، جو انسانی علم کی گرفت میں نہ کبھی آئی ہیں، نہ آسکتی ہیں، جن کو اس نے نہ کبھی دیکھا، نہ چھوا، نہ چکھا، ان کے لیے انسانی زبان میں نہ ایسے الفاظ مل سکتے ہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں اور نہ ایسے معروف اسالیب بیان مل سکتے ہیں، جن سے ہر سامع کے ذہن میں ان کی صحیح تصویر کھنچ جائے۔ لامحالہ یہ ناگزیر ہے کہ اس نوعیت کے مضامین کو بیان کرنے کے لیے الفاظ اور اسالیب بیان وہ استعمال کیے جائیں، جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی محسوس چیزوں کے لیے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ مابعد الطبیعی مسائل کے بیان میں قرآن کے اندر ایسی ہی زبان استعمال کی گئی ہے اور متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں، جن میں یہ زبان استعمال ہوئی ہے۔

لیکن اس زبان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ بس اتنا ہی ہوسکتا ہے کہ آدمی کو حقیقت کے قریب تک پہنچا دے یا اس کا ایک دھندلا سا تصور پیدا کردے۔ ایسی آیات کے مفہوم کو متعین کرنے کی جتنی زیادہ کوشش کی جائے گی، اتنے ہی زیادہ اشتباہات و احتمالات سے سابقہ پیش آئے گا، حتٰی کہ انسان حقیقت سے قریب تر ہونے کے بجائے اور زیادہ دور ہوتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ طالب حق ہیں اور ذوق فضول نہیں رکھتے، وہ تو متشابہات سے حقیقت کے اس دھندلے تصور پر قناعت کرلیتے ہیں جو کام چلانے کے لیے کافی ہے اور اپنی تمام تر توجہ محکمات پر صرف کرتے ہیں، مگر جو لوگ بوالفضول یا فتنہ جو ہوتے ہیں، ان کا تمام تر مشغلہ متشابہات ہی کی بحث و تنقیب ہوتا ہے۔

یہاں کسی کو یہ شبہہ نہ ہو کہ جب وہ لوگ متشابہات کا صحیح مفہوم جانتے ہی نہیں، تو ان پر ایمان کیسے لے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک معقول آدمی کو قرآن کے کلام اللہ ہونے کا یقین، محکمات کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ متشابہات کی تاویلوں سے۔ اور جب آیات محکمات میں غور و فکر کرنے سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی کتاب ہے، تو پھر متشابہات اس کے دل میں کوئی خلجان پیدا نہیں کرتے۔ جہاں تک ان کا سیدھا سادھا مفہوم اس کی سمجھ میں آجاتا ہے، اس کو وہ لے لیتا ہے اور جہاں پیچیدگی رونما ہوتی ہے، وہاں کھوج لگانے اور موشگافیاں کرنے کے بجائے وہ اللہ کے کلام پر مجمل ایمان لا کر اپنی توجہ کام کی باتوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن جلد اول ، سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :5، 6، 7، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

پیر کرم شاہ ازہری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں " بعض علماء نے والراسخون کا عطف (لفظ ) اللہ پر کیا ہے۔ اس قول کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ متشابہات کی حقیقی غرض اللہ تعالیٰ اور علمائے راسخین کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن دوسرے علما نے الا اللہ پر وقف کیا ہے اور والراسخون الخ کو مستقل جملہ قرار دیا ہے۔ ان کے قول کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ متشابہات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اور علمائے راسخین نہ جاننے کے باوجود ان آیات کی حقانیت اور منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ اب یہ شبہ وارد ہوتا ہے۔ کہ کیا قرآن کریم میں ایسی آیات بھی ہیں جن کا مفہوم کسی کو معلوم نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ان کے نازل کرنے کا کیا فائدہ جب ان کو کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان سے ہدایت نہیں حاصل کی جا سکتی۔ مفسرین نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ جو علماء الا اللہ پر وقف کرتے ہیں وہ متشابہات کا عام معنی مراد نہیں لیتے بلکہ ان کے نزدیک متشابہات سے مراد وہ امور ہیں۔ ’’ ما استاثرہ اللہ تعالی بعلمہ کقیام الساعۃ والحروف المقطعۃ فی اوائل السور‘‘۔ جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خاص کیا ہوا ہے جیسے قیامت کا وقت، سورتوں سے پہلے حروف مقطعات وغیرہ۔

اب یہاں یہ چیز کھٹکتی ہے کہ کیا ان امور کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں بتایا۔ تو اس کا نہایت واضح جواب علامہ سید محمد آلوسی بغدادی نے دیا ہے۔ فرماتے ہیں :۔ لعل القائل بکون المتشابہ مما استاثر اللہ بعلمہ لا یمنع تعلیمہ للنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بواسطۃ الوحی مثلا ولا القاء ہ فی روع الولی الکامل مفصلا لکن لا یصل الی درجۃ الا حاطۃ۔ کعلم اللہ تعالی۔ ومنع ھذا وذاک مما لا یکاد یقول بہ من یعرف رتبۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورتبۃ اولیاء امتہ الکاملین وانما المنع من الاحاطۃ ومن معرفتہ علی سبیل النظر والفکر الخ (روح المعانی ) یعنی جن علما کے نزدیک متشابہات سے مراد وہ امور ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے مختص فرمایا ہے۔ وہ علما بھی اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان امور کا علم بذریعہ وحی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا، یا اولیائے کاملین کے قلوب میں القا فرمایا ہے۔ کیونکہ جو شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام رفیع اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے اولیائے کاملین کے مرتبہ کو پہنچانتا ہے وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ نفی علم محیط کی ہے اور اس علم کی جو انسان اپنی عقل وفکر سے حاصل کرتا ہے نہ اس علم کی جو اللہ اپنے نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ الہام عطا فرماتا ہے۔ (تفسیر ضیاء القرآن ، پیر کرم شاہ ازہری سورہ آل عمران آیت 7 کی تفسیر )

مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر" تدبر قرآن" میں لکھتے ہیں " آیات محکمات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہیں جو آفاق و انفس کی بالکل بدیہیات، خیر و شر کے مسلمات، اور معروف و منکر کے قطعیات و یقینیات پر مشتمل ہیں۔ جن کو دل قبول کرتے ہیں اور جن کو قبول کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی شرط نہیں ہے کہ دل سلیم ہو۔ جن کے حق میں ہر عقل گواہی دیتی ہے بشرطیکہ اس پر تعصب جذبات اور غیر فطری عقلیات کے پردے پڑے ہوئے نہ ہوں۔ انہی محکمات پر ہر صحیح مذہب کی بنیاد ہوتی ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب اور تمام انبیاء سے یہ تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ چونکہ فطرت انسانی کے اندر ان کی جڑیں نہایت مستحکم ہوتی ہیں، شبہات و شکوک کی آندھیاں ان کو ہلانے سے قاصر رہتی ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو محکمات سے تعبیر کیا ہے ۔


’ آیات محکمات کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ ان کی حیثیت ام الکتاب کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ ساری کتاب کا مرجع و مرکز وہی محکمات ہوتی ہیں، انہی پر ساری بحث کا مدار ہوتا ہے، ساری شاخیں انہی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کوئی نزاع و اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی انہی کی کسوٹی پر پرکھ کر ہوتا ہے۔ پھر انہی کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کو اصول قرار دے کر ان سے مسائل مستنبط کیے جائیں اور ان مسائل پر اسی طرح اعتماد کیا جائے جس طرح اصولوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ 

متشابہات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں ہمارے مشاہدات و معلومات کے دسترس سے باہر کی باتیں تمثیلی و تشبیہی رنگ میں قرآن نے بتائی ہیں۔ یہ باتیں جس بنیادی حقیقت سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں وہ بجائے خود واضح اور مبرہن ہوتی ہے، عقل اس کے اتنے حصے کو سمجھ سکتی ہے جتنا سمجھنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ البتہ چونکہ اس کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن ان کو تمثیل و تشبیہ کے انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ علم کے طالب بقدر استعداد ان سے فائدہ اٹھا لیں اور ان کی اصل صورت و حقیقت کو علمِ الٰہی کے حوالہ کریں۔ یہ باتیں خدا کی صفات و افعال یا آخرت کی نعمتوں اور اس کے آلام سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ان کا جس حد تک ہمارے لیے سمجھنا ضروری ہے اتنا ہماری سمجھ میں آجاتا ہے اور اس سے ہمارے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی حد سے آگے بڑھ کر ان کی اصل حقیقت اور صورت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے ذہن سے شک کا ایک کانٹا نکالنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں بے شمار کانٹے اس کے اندر چبھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نایافتہ کی طلب میں اپنی یافتہ دولت کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے اور نہایت واضح حقائق کی اس لیے تکذیب کردیتا ہے کہ ان کی شکل و صورت ابھی اس کے سامنے نمایاں نہیں ہوئی۔ قرآن نے اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ (یونس :39) بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جو ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی ہے ۔

متشابہات کی بعض مثالیں : 


ہم یہاں قرآن سے اس قسم کے بعض متشابہات کی مثالیں نقل کرتے ہیں۔ سورۃ مدثر میں قرآن نے دوزخ کے عذاب کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے ’’ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ (٢٦ ) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ (٢٧ ) لا تُبْقِي وَلا تَذَرُ (٢٨ ) لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ (٢٩ ) عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (٣٠)‘‘، میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا ہے ؟ وہ نہ ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی، جسموں کو جھلس دینے والی ہوگی۔ اس پر خدا کے انیس سرہنگ مقرر ہوں گے (مدثر :26-30)۔ اس آیت میں جس سزا کا ذکر ہے وہ ایک حقیقت ہے اور قانون مجازات پر جس کا ایمان ہو اس کے لیے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، رہی اس کی تفصیل تو اس کا تعلق چونکہ ایک نادیدہ عالم سے ہے اس وجہ سے اس کی اصل صورت کسی طرح ہماری گرفت میں نہیں آسکتی۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح روش یہ ہے کہ آدمی اتنے پر قناعت کرے جو سمجھ میں آتا ہے۔ جو سمجھ میں نہیں آتا وہ اس عالم میں سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا، اس وجہ سے اس کے درپے ہونے کے بجائے اس کو خدا کے حوالے کرے۔ سلیم الطبع انسان ایسا ہی کرتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں کئی اور عقلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ یہ روش اختیار کرنے کے بجائے متشابہات و تمثیلات کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں جس سے وہ خود بھی فتنوں میں پڑتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے بہتوں کو بھی فتنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے مذکورہ بالا آیت میں تسعۃ عشر کا جو لفظ آیا تو قرآن نے اس کے متعلق شرارت پسندوں کا رد عمل یہ بتایا ہے کہ وہ اسی کے درپے ہوگئے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے فرشتے مراد ہیں تو یہ سوال انہوں نے اٹھایا کہ انیس کے عدد کی تخصیص میں کیا رمز ہے ؟ قرآن نے ان کے اس رد عمل پر ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ’’ وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلا مَلائِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا وَلا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلا هُوَ وَمَا هِيَ إِلا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ : اور ہم نے دوزخ کی پہرہ داری پر نہیں مقرر کیے ہیں مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی تعداد کو نہیں بنایا مگر کافروں کے لیے فتنہ، تاکہ وہ لوگ یقین کریں جن کو کتاب ملی ہے اور ایمان والے اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور کتاب پانے والے اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کافر ہیں وہ یہ کہیں کہ اس قسم کی تمثیل سے اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ نہیں ہے مگر انسانوں کے لیے یاد دہانی‘‘ (مدثر :31)۔۔ اسی طرح سورۃ بقرہ میں جنت کی نعمتوں کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب اہل جنت کے سامنے جنت کی نعمتیں پیش کی جائیں گی تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ یہ تو وہی نعمتیں ہیں جن کی ہمیں پہلے قرآن میں سیر کرا دی گئی تھی، قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا : وہ پکاریں گے، یہ تو وہی چیز ہے جو ہمیں اس سے پہلے بخشی گئی اور وہ دیے جائیں گے اس سے ملتی جلتی (بقرہ :25)۔ یعنی جنت کی نعمتوں کا ذکر جو تمثیلات و متشابہات کے رنگ میں قرآن میں ہوا ہے اس سے اہل ایمان کو تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بیٹھے ہوئے ایک سیر جنت کی کرلیتے ہیں لیکن انہی تمثیلات و متشابہات سے متعلق فتنہ جویوں اور ضلالت پسندوں کے رویہ کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے ’’إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلا الْفَاسِقِينَ : اللہ اس بات سے نہیں جھجھکتا کہ کوئی تمثیل بیان کرے خواہ وہ کسی مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی، تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے پروردگار ہی کی جانب سے ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تمثیلیں پیش کرنے سے اللہ تعالیٰ نے کیا چاہا ؟ اللہ ان تمثیلوں سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور ان سے بہتوں کو راہ یاب کرتا ہے اور ان سے نہیں گمراہ کرتا مگر انہیں لوگوں کو جو خدا کی نافرمانی کرنے والے ہوں‘‘ (بقرہ :26)۔۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیات متشابہات سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جن میں یا تو آخرت کی نعمتوں اور نقمتوں میں سے کسی نعمت و نقمت کا بیان تمثیلی و تشبیہی رنگ میں ہوا ہے یا خدا کی صفات و افعال میں سے کوئی بات تمثیلی اسلوب میں پیش ہوئی ہے۔ مثلا آدم میں خدا کا اپنی روح پھونکنا یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بن باپ کے پیدا کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی آیات سے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا اہل ایمان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہوتی ہے وہ انہی کے اندر موشگافیاں کر کے بہت سے فتنے پیدا کرلیتے ہیں۔ 

تاویل کا مفہوم : 


تاویل کا لفظ بھی اس آیت میں ذرا ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے یہاں مراد مذکورہا بالا قسم کی کسی بیان کردہ شے کی حقیقت اور اس کی صورت ہے۔ جس مفہوم میں یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں سورۃ یوسف میں استعمال ہوا ہے ’’ قَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا : اس نے کہا اے میرے باپ، یہ ہے میرے اس خواب کی حقیقت جو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا، میرے پروردگار نے اس کو واقعہ ثابت کر دکھایا‘‘ (یوسف :100)۔ 

محکمات و متشابہات کے بارے میں چند تنبیہات : 

یہاں چند باتیں بطور تنبیہ اور بھی قابل ذکر ہیں۔ ان سے اس راہ کی ساری الجھنیں انشاء اللہ دور ہوجائیں گی۔۔ ایک یہ کہ اس آیت میں اسلوبِ کلام حصر کا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں گمان کرنا چاہیے کہ بس قرآن کی آیات دو ہی قسموں، محکمات اور متشابہات، ہی میں تقسیم ہیں۔ یہاں صرف انہی دونوں قسموں کا ذکر متقابل قسموں کی حیثیت سے ہوا ہے اور مقصود ان کے ذکر سے محض فتنہ پسندوں اور ہدایت پسندوں کے اختلافِ ذوق کو نمایاں کرنا ہے کہ جو طبیعتیں فتنہ پسند ہوں ان کی ساری دلچسپی صرف متشابہات سے ہوتی ہے تاکہ ان کے ذوق فتنہ جوئی کے لیے کوئی غذا فراہم ہوسکے۔ برعکس اس کے جو علم و معرفت کے طالب ہوتے ہیں اور جن پر حقیقت پسندی کا رنگ غالب ہوتا ہے ان کی اصلی دلچسپی محکمات سے ہوتی ہے۔ جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے ان کا جتنا حصہ ان کی سمجھ میں آتا ہے اس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو حصہ سمجھ میں نہیں آتا اس کی صورت ہیئت معلوم کرنے کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ اس کو خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ محکمات کی بدولت چونکہ ان کے قدم علم میں بہت راسخ ہوجاتے ہیں اس وجہ سے اس طرح کی چیزیں ان کو متزلزل نہیں کرتیں۔ قرآن میں ان دو قسموں کے علاوہ بھی آیات ہیں لیکن مقصود یہاں چونکہ آیات قرآنی کی تمام انواع کا احاطہ نہیں ہے اس وجہ سے ان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ مثلاً قصص قرآن، امثال قرآن، تلمیحات و اشارات۔ یہ چیزیں نہ تو ام الکتاب کے درجے اور مرتبے کی ہیں اور نہ ان کو ان متشابہات کے درجے میں رکھنا صحیح ہے جن کی تاویل میں غور و فکر کرنا ممنوع ہو۔۔ دوسری یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کی آیات کا محکم و متشابہ ہونا ہرگز بلحاظ الفاظ نہیں ہے بلکہ صرف بلحاظ معنی ہے۔ قرآن، اپنے الفاظ اور اپنی زبان کے اعتبار سے، تمام تر عربی مبین میں ہے۔ الفاظ کی تاویل میں جو اختلافات ہوئے ہیں وہ بالعموم تین اسباب سے ہوئے ہیں۔ یا تو غور و تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے یا کسی غلط عقیدے کی بے جا عصبیت اس کا باعث ہوئی ہے، یا عربی زبان سے ناواقفیت اس کا سبب بنی ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں اس طرح کے کسی سبب سے کوئی الجھن پیدا ہوئی ہو تو اس پر غور و فکر عربی زبان کے معروف و مسلم قواعد و ضوابط کی روشنی میں ہونا چاہیے، یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے جن پر غور وفکر ممنوع ہو۔۔ تیسری بات یہ ہے کہ متشابہات ہوں یا محکمات، قرآن میں یہ دونوں قسمیں ممیز اور معلوم ہیں۔ یہ بات نہیں ہے، جیسا کہ بعض متکلمین نے گمان کیا ہے کہ یہ دونوں غیر ممیز ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت کوئی مشتبہ اور مشکوک چیز ہے۔ جن لوگوں نے ایسا سمجھا ہے انہوں نے بالکل غلط سمجاھ ہے۔ ان میں سے پہلی بات تو صریحاً غلط ہے اور دوسری بات نہایت مبہم ہے جو سرے سے قرآن ہی سے مایوس کردینے والی ہے حالانکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے نور وبرہان بنا کر اتارا ہے، جو باتیں عالم غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کے متعلق خدا نے ہماری ضرورت کے حد تک خبر دے دی ہے، اس کا جو حصہ ہم سے محجوب رکھا گیا ہے بس اس کی تاویل پردہ خفا میں ہے۔۔ چوتھی یہ کہ قرآن نے یہاں محکم اور متشابہ کا ایک خاص مفہوم مراد لیا ہے جو ان کے لغوی مفہوم سے ایک حد تک الگ ہے۔ بعض دوسرے مقامات میں بھی قرآن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں جہاں ان کے لغوی مفہوم مراد ہیں۔ مثلا محکم سے مراد وہ کلام ہے جو جامع، واضح اور موجز ہو۔ اس صورت میں اس کا مقابل لفظ مفصل آتا ہے۔ مثلاً ’’كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ : یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں، پھر ان کی تفصیل کی گئی خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے‘‘ (ھود :1)۔ سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیمات و ہدایات قولِ محکم کی شکل میں اتاریں تاکہ وہ ذہن و حافظے میں اچھی طرح راسخ ہوسکیں اور دل و زبان دونوں کے لیے وہ ہلکی پھلکی محسوس ہوں پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے ذریعے سے ان کی تفصیل فرما دی۔ اسی طرح متشابہ کا ایک عام مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہم آہنگ و ہم رنگ چیز اپنے اس مفہوم کے اعتبار سے پورا قرآن مشابہ ہے۔ چنانچہ اسی پہلو سے قرآن کو متشابہ کہا گیا ہے ’’كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ‘‘ (زمر :23)۔۔ پانچویں یہ کہ جس طرح قرآن محکمات و متشابہات دونوں ہی قسم کی آیات پر مشتمل ہے اسی طرح عالم انفس اور عالم آفاق میں جو نشانیاں ہیں وہ بھی محکمات و متشابہات دونوں ہی پر مشتمل ہیں۔ ان کے باب میں بھی ارباب علم اور اہل زیغ کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اوپر مذکورہوا جن کے ذہن و فکر میں پختگی ہوتی ہے وہ محکمات سے اطمینان و یقین حاصل کرتے ہیں اور متشابہات سے شبہات وشکوک میں گرفتار ہونے کے بجائے ان کو خدا کے علم و حکمت کے حوالے کرتے ہیں اور اپنے علم کی کوتاہی کا اقرار کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ ان متشابہات کو اپنی اور دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس مسئلے پر مفصل بحث انشاء اللہ ہم سورۃ کہف کی تفسیر کریں گے۔ غزوہ احد کے واقعہ کو بھی، جیسا کہ ہم تمہیدی بحث میں اشارہ کرچکے ہیں، ایک متشابہ واقعہ کی نوعیت حاصل ہے، چنانچہ اس جنگ کے بعد اس عظیم آیت کا اترنا اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے تھا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس طرح غزوہ بدر حق و باطل کے درمیان ایک یوم فرقان تھا جس سے اہل ایمان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر مطمئن ہوئے اور اس نے ایک آیت محکم بن کر اہل کفر پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کردی اسی طرح غزوہ احد کی حیثیت ایک آیت متشابہ کی ہے اس لیے کہ اس میں بظاہر باطل کو حق پر غلبہ حاصل ہوا جس سے کفار کو یہ گمان ہوا کہ جنگ میں کامیابی و ناکامی کا تعلق صرف تدابیر اور اسباب و وسائل ہی سے ہے، اس میں نہ خدا کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کا کوئی تعلق حق اور باطل سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک شدید قسم کی غلط فہمی تھی، جس کا دور ہونا نہایت ضروری تھا چنانچہ جب اس کے دور کرنے لیے مناسب وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یہ دور فرمائی اور یہ اس سلسلے کی ایک عظیم آیت ہے۔ 

زیغ کی حقیقت : اس آیت میں ’ زیغ‘ کا جو لفظ آیا ہے مختصراً اس کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ زیغ کے اصل معنی میل یعنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ یہ لفظ بیک وقت دو مفہوموں کا حامل ہے، ایک کجی، اور دوسرے سقوط، کوئی چیز جو کھڑی ہو جب جھک جاتی ہے تو گرنے سے قریب ہوجاتی ہے۔ یہ حالت اس رسوخ کے برعکس حالت ہے جو اس آیت میں الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ کی بیان ہوئی ہے۔ یہ زیغ یوں تو اہل ضلالت کی عام بیماری ہے لیکن اہل کتاب اس مرض میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا رہے ہیں۔ یہود کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ شروع ہی سے اس بیماری میں مبتلا رہے۔ اور ان کے زیغ کا یہ پہلو خاص طور پر نہایت سنگین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں اس میں مبتلا رہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے۔ قرآن میں اس بات کا ذکر ہوا ہے۔ سورۃ صف میں اس کا ذکر اس طرح ہے ’’ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچا رہے ہو جب کہ تم اچھی طرح یہ جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس جب وہ کج ہوگئے تو خدا نے بھی ان کے دل کج کردیے اور اللہ بد عہدوں کو ہدایت نہیں بخشتا‘‘ (صف :5)۔۔ یہی یہود ہیں جنہوں نے کلمۃ اللہ اور اس قسم کے بعض دوسرے الفاظ کی حقیقت کی تشریح میں فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کر کے ان کو ایک گورکھ دھندا بنایا جس سے نصاری کے لیے گمراہی کی راہیں کھلیں اور وہ حضرت مسیح کی الوہیت کے عقیدے میں مبتلا ہوئے۔ بعد میں نصاری کی اس گمراہی پر مزید اضافہ بت پرست قوموں کی تقلید سے ہوا اور پھر آہستہ آہستہ وہ حق سے اتنے دور ہوگئے کہ اس سے ان کا رشتہ ہی منقطع ہوگیا اور وہ صریح کفر میں مبتلا ہوگئے۔ چنانچہ قرآن نے ان کے بارے میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ ’’ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ : ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ (مائدہ :72)۔ 


یہود و نصاریٰ کی گمراہی میں فرق : یہود اور نصاری کی گمراہی کی نوعیت میں بس یہ فرق ہے کہ یہود کی گمراہی اصلاً عملی ہے اور نصاری کی اعتقادی۔ اس فرق کی وجہ سے حق کی مخالفت میں ان کا رویہ بھی ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ یہود تو قرآن کو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت کرتے تھے۔ نصاری جس طرح تورات اور انجیل کے متشابہات میں پڑنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح قرآن میں بھی ان کی ساری دلچسپی بس متشابہات ہی سے تھی۔ انہی میں موشگافیاں کر کے وہ طرح طرح کے فتنے پیدا کرتے اور اس طرح اپنی گمراہی کا بھی سامان کرتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے۔ قرآن کے محکمات سے نہ انہوں نے خود دلچسپی لی اور نہ ان لوگوں کو دلچسپی لینے دی جن پر ان کا بس چلا الغرض قلب و نظر کے زیغ اور متشابہات کی پیروی کے باب میں تھے تو یہود و نصاری دونوں ایک ہی سطح پر، یہ بیماری ان میں مشترک تھی لیکن ان کے ذوقی رجحانات ذرا الگ الگ تھے۔ یہود ابتغاء فتنہ سے زیادہ رغبت رکھتے تھے اور نصاری ابتغائے تاویل سے۔ یہ گمراہیاں چونکہ دنیا کے تمام گمراہوں میں مشترک ہیں اس وجہ سے قرآن نے اسلوب بیان عام ہی رکھا ہے تاکہ کلام میں وسعت پیدا ہوسکے، یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہیں کی۔ لیکن قرآن کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اشارہ انہی کی طرف ہے۔ یہی انداز سورۃ فاتحہ میں بھی ہے۔ اس میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کے الفاظ ہر چند عام ہیں اور ان کے عام ہونے کی وجہ سے ان میں بڑی وسعت پیدا ہوگئی ہے لیکن ان کا خاص اشارہ یہود و نصاری کی طرف ہے۔ 

متشابہات سے گمراہی کی ایک مثال : متشابہات کی پیروی کی وجہ سے نصاری جس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اس کو ایک مثال سے واضح کرنا مفید رہے گا۔۔ قرآن اور انجیل دونوں اس امر میں باہم متفق ہیں کہ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں۔ کلمۃ اللہ کا مفہوم بالک واضح ہے کہ اس سے امر و حکم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش چونکہ فطرت کے عام ضابطے کے خلاف ہوئی تھی س وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلمہ سے تعبیر کیا یعنی ان کی ولادت اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’ کن‘ کہنے سے ہوئی ہے، یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اصل شے کسی چیز کے واقع ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ہے۔ اسباب محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ یہ بات قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہیں ہے جس سے کسی صاف ذہن کے آدمی کے اندر کوئی الجھن پیدا ہوسکے۔ قرآن نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے ’’ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ : بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایس ہے جیسی آدم کی، آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہوجا بس وہ ہوگیا‘‘ (آل عمران : 59)۔ یعنی آدم کو کلمہ کن کے ذریعے سے حی و ناطق بنایا۔ اسی چیز کو دوسری جگہ نفخ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعینہ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہے۔ نصاری نے اس واضح بات میں جو تحریف کی اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی بحثیں شروع ہوئیں تو انہوں نے ان پر یہ اعتراض شروع کیا کہ تم تو ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہو، ہم تم سے ہزار درجے افضل ہیں اس لیے کہ ہم آسمانی دیوتاؤں کی پر تستش کرتے ہیں۔ نصاری نے اپنے حریفوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کوشش کی کہ اپنے عقیدے کو بھی انہی کے عقیدے کے سانچے میں ڈھال دیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ دعوی کیا کہ مسیح تو ابن اللہ ہیں، وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اپنے اس نئے عقیدے کی آرائش میں انہوں نے ایک طرف تو یونانیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے فکر و فلسفہ سے مواد لیا اور دوسرے ان یہودی متکلمین کے علم کلام سے رہنمائی حاصل کی جو یہود کے آخری دور کی پیداوار تھے اور جو نہ صرف خالق اور مخلوق کے درمیان وسائل و وسائط کے قائل تھے بلکہ ان کو مستقل ذوات کا درجہ دیتے اور ان کو کلمۃ اللہ کہتے تھے۔ نصاری نے بعینہ یہی عقیدہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے اختیار کرلیا۔ کچھ عرصے تک تو بات اسی حد تک رہی لیکن آہستہ آہستہ گمراہی سے گمراہی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے ان کو خدا کا کفو، اسی کے جوہر سے اور ازل سے اس کے ساتھ قرار دے دیا۔ اور پھر اس عقیدے کی تائید کے لیے انجیل یوحنا کے آغاز میں تحریف کے چور دروازے سے بعض عبارتیں بھی داخل کردیں تاکہ باہر سے بر آمد کیے ہوئے اس عقیدے کے لیے گھر کی ایک دلیل بھی فراہم ہوجائے۔ 

وَمَا یعلم الایۃ پر وقف ہے : وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ (اور اس کی اصل حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ): اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ یہاں وقف ہے۔ یہی مذہب جمہور اہل سنت کا ہے اور یہی حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ، حضرت علی، حضرت حسن، مالک بن انس، کسائی اور فرا سے منقول ہے۔ البتہ شیعہ اور بعض متکلمین یہاں وصل کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک متشابہات کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں۔ اس کی وجہ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے، وہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ رہے دوسرے لوگ جو اس بات کے قائل ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تاویل سے مراد معنی لیتے ہیں حالانکہ آیت کا سیاق و سباق اس کے خلاف ہے۔ اوپر اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ اگرچہ آیت کے الفاظ اور اس کے مختلف اجزا کی اس وضاحت کے بعد آیت کی صحیح تاویل خود بخود سامنے آگئی ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر مزید اطمینان کے لیے ہم اس کا واضح مفہوم بھی پیش کیے دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خدا جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، جو زندہ بھی اور قیوم بھی، اسی نے تورات اور انجیل اتاریں، پھر جب ان میں گھپلا کردیا گیا تو اس کی حکمت اور قیومیت مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن اتارے تاکہ اس کے ذریعے سے حق و باطل میں امتیاز ہوسکے تو جو لوگ اس کی مزاحمت کریں گے وہ یاد رکھیں کہ خدائے عزیز حق کو مظلوم نہیں چھوڑے گا، وہ اس کا ضرور انتقام لے گا۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب جو اس فرقان کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ فی نفسہ اس کتاب میں کوئی بات ایسی ہے جو ان کی وحشت کا باعث ہو رہی ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں کجی ہے۔ اس کجی کے سبب سے ان کو اس کتاب کے محکمات سے، جن کی حیثیت اصل کتاب کی ہے اور جن پر اس کی تمام تعلیمات اور اس کے سارے حکمت و فلسفہ کی بنیاد ہے، کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں اگر دلچسپی ہے تو بس اس کی ان آیات متشابہات سے ہے جن میں کوئی بات تمثیلی و تشبیہی رنگ میں بتائی گئی ہے۔ وہ اپنی طبیعت کے بگاڑ کے سبب سے انہی کے درپے ہوتے ہیں اور فساد انگیزی اور فتنہ آرائی کے لیے ان کی صورت و حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ جس حد تک ان کا علم ضروری ہے وہ خدا نے کھول دیا ہے، بس اتنے پر قناعت کرنی چاہیے، ان کی اصل حقیقت کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے، وہ اس دن کھلیں گی جس دن وہ سامنے آئیں گی، جو لوگ علم میں راسخ ہیں ان کی روش متشابہات کے معاملے میں یہی ہے۔ وہ محکمات اور متشابہات دونوں کو اپنے رب ہی کا عطیہ سمجھتے ہیں اور دونوں پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اپنے علم کی پختگی کی وجہ سے اس رمز سے واقف ہیں کہ آیات الٰہی کا مقصود بندوں کو یاد دہانی ہے اور چونکہ وہ عقل رکھتے ہیں اس وجہ سے ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہیے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کسی سعی نامراد و لا طائل میں اپنا وقت برباد کر کے اپنے خسران کے اسباب نہیں فراہم کرتے، اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اس کی آیات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور اس عقل سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ 

ان مطالب کا اکثر حصہ استاذ امام رحمہ اللہ کے افادات سے ماخوذ ہے، صرف بعض مطالب کی توضیح میری طرف سے ہے اس وجہ سے اس کی صحیح باتیں مولانا کی طرف منسوب کیجیے اور اگر کہیں خامی ہو تو اس کی ذمہ داری تنہا میرے سر ہے ۔

( تدبر قرآن سورہ آل عمران آیت :7 مولانا امین احسن اصلاحی )

علم تجوید القرآن کی چند اہم اصطلاحات

(1) حروف

     الف سے لیکر یا تک تمام حرفوں کی تعداد ۲۹ ہے ان کو حروف تہجی کہتے ہیں۔

(2) حروف حلقی

    وہ تما م حروف جو حلق سے ادا ہوتے ہیں ان کی تعداد ۶ ہے اوروہ یہ ہیں (ء ، ھ ، ع ، ح ، غ ، خ)

(3) حروف مستعلیہ

   وہ حروف جو ہر حال میں پُر پڑھے جاتے ہیں ۔ان کی تعداد ۷ ہے ۔ (خ، ص،ض، ط،ظ ،غ اورق ) حروفِ مستعلیہ کا مجموعہ " خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ " ہے ۔

(4) حروف شفوی

            وہ حروف جو ہونٹوں سے ادا ہوتے ہیں ۔ تعداد کے اعتبار سے ۴ ہیں ۔( ب ۔ م ۔ و ۔  ف)

(5) حروفِ مدّہ (حروف ہوائیہ )

     وہ حروف جو ہوا پر ختم ہوجاتے ہیں ۔ انکی مقدار ایک الف کے برابر ہوتی ہے ۔ الف ماقبل مفتوح ، واو ساکن ماقبل مضموم، یا ساکن ماقبل مکسور۔

(6) حروفِ لین

         وہ حروف جو نرمی سے پڑھے جاتے ہیں ۔ واو اور یا ساکن ماقبل مفتوح ۔

( 7) حرکت

         زبر، زیراور پیش میں سے ہر ایک کو حرکت کہتے ہیں اور ان کو مجموعی طور پر حرکات کہتے ہیں ۔

(8) فتحہ اشباعی

               کھڑے زبر کو کہتے ہیں ۔

(9) ضَمّہ اشباعی

               اُلٹے پیش کو کہتے ہیں۔

(10) کسرہ اشباعی 

              کھڑے زیر کو کہتے ہیں ۔

(11)  متحرک 

            جس حرف پر حرکت ہو اسے متحرک کہتے ہیں ۔

(12)  فتحہ 

         زبر کو کہتے ہیں ۔جس حرف پر فتحہ ہو اسے مفتوح کہتے ہیں ۔

(13)  کسرہ 

            زیر کو کہتے ہیں ۔ جس حرف کے نیچے کسرہ ہو اسے مکسور کہتے ہیں ۔

(14)  ضَمّہ 

             پیش کو کہتے ہیں ۔ جس حرف پر ضمہ ہو اُسے مضموم کہتے ہیں۔

(15) تنوین 


             دو زبر ً ، دو زیر ' ' ٍ ' ' اوردو پیش ' ' کو کہتے ہیں اورجس حرف پر تنوین ہو اسے مُنَوَّنْ کہتے ہیں ۔

 (16)  نونِ تنوین

             تنوین کی ادائیگی میں جو نون کی آواز پیدا ہوتی ہے اسے نونِ تنوین کہتے ہیں۔

(17)  ما قبل حرف

            کسی حرف سے پہلے والے حرف کو کہتے ہیں۔

(18)  مابعد حرف

             کسی حرف کے بعد والے حرف کو کہتے ہیں۔

(19) ترتیل

     بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا (علمِ تجوید اورعلمِ وقف کی رعایت کے ساتھ صحیح وصاف پڑھنا)جیسے قراء حضرات محافل میں تلاوت کرتے ہیں ۔

(20)  حدر

             جلدی جلدی پڑھنا جس سے تجوید نہ بگڑے ۔ جیسے اما م تراویح میں پڑھتا ہے ۔

(21) تدویر

         ترتیل اورحدر کی درمیانی رفتار سے پڑھنا (جس طرح امام فجر ، مغرب اورعشاء میں قدرے بلند آوازمیں پڑھتا ہے)

(22) اظہار

             (ظاہر کرنا) نون ساکن ، نون تنوین اورمیم ساکن کو بغیر غنہ کے ظاہر کر کے پڑھنا۔

(23) اقلاب

            (تبدیل کرنا) نون ساکن اورنونِ تنوین کو میم سے بدل دینا (یہ صرف اس کے ساتھ خاص ہے )

(24) اِخفاء 

            (چھپانا)نون ساکن اورمیم ساکن کو چھپاکر ادا کرنا۔

 (25) غُنّہ 

         ناک کے بانسے میں آواز کو ایک الف کے برابر چکر دینا اسے غنہ کہتے ہیں۔

(26) موقوف علیہ 

         جس حرف پر وقف کیا جائے ۔

(27) وقف

    
       وقف کا لغوی معنٰی ٹھہرنا، رکنا ۔ اصطلاح تجوید میں کلمہ کے آخر پرسانس اورآواز توڑ دینا اورموقوف علیہ (جس پر وقف کیا جائے ) اگر متحرک ہوتو ساکن کردینا وقف کہلاتاہے۔

(28) اِدغام 

        (ملانا)دوحرفوں کو ملادینا۔ (پہلا مدغم اوردوسرا مدغم فیہ کہلاتاہے)

(29) مُدْغَمْ فِیہ


       جس حرف میں ادغام کیا گیا ہو۔

(30) سکون 

      سکون جزم کو کہتے ہیں ۔

(31)  ساکن

         جس حرف پر سکون ہو اسے ساکن کہتے ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں !












کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!

کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!


ڈاکٹر عطا الرحمان
وقت رواں کے ساتھ جیسے سائنسی علوم میں وسعت ہورہی ہے ویسے کائنات کی تخلیق میں ان اہم عناصر کا کردار عیاں ہوتا جارہا ہے جن کے بغیرکائنات کا وجودممکن نہیں ہو تا۔ مثال کے طور پر ایک جاندار خلیے کا پیچیدہ نظام انسانی عقل ودانش کو دنگ کرنے کیلئے کافی ہے۔ بلا شبہ انسانی دماغ ازخود کائنات کا پیچیدہ ترین جز ہے ۔ ہمارے دماغ میںتقریباً سو ارب ایسے خلیے ہیں جو عصبونات (neurons) کہلاتے ہیں اور ہر عصبون (neuron) دس ہزاردوسرے عصبونات سے منسلک ہوتاہے۔ یعنی سو ارب ضرب دس ہزار ایسے راستے ہیں جن پر عصبون میں ربط کے ذریعے خیالات سفر کرتے ہیں۔یہ نہایت پیچیدہ نظام معلومات کو پہنچانے اور آپس میں رابطے کا سبب بنتاہے ۔لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ خیالات کی سالمیاتی بنیادکیا ہے؟ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ خیالات کی دراصل ایک مادی حیثیت ہوتی ہے اور یہ بھی جوہروں اور سالموں سے وجود میں آتے ہیں۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ خیالات اور فکر کے پیچھے کونسے کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ انہیں عوامل کے بارے میں ابھی حال ہی میں، ا مریکی جریدے نیورو سائنس(Neuro Science) میں میرے دو مقالے شائع ہوئے ہیں۔
جدید سائنس کے مطابق کائنات کی تخلیق کی ابتداء حالت اکایت (state of singularity) سے آج سے 13.8 ارب سال پہلے ایک انفجار عظیم (big bang) کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ انٰفجار عظیم کا تصور بیلجیم (Belgium) کے ایک سائنسدانGeorges Lemaitre نے تقریباً سو سال پہلے پیش کیا تھا جو کہ کیتھولک جامعہ (Catholic University) کے ایک پادری تھے۔ اور وہ ماہرین فلکیات اور طبعیات کے پروفیسر بھی تھے۔ ان کے مطابق پوری کائنات ایک اکائی کی شکل میں ایک نقطے پر مرکوز تھی اور پھر ایک بہت عظیم دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ در حقیقت اس نظرئیے کا ذکر قرآن مجید میں پہلے ہی سے مو جود ہے کہ ایک اکائی سے کائنات بہت بڑے دھماکے کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’ ’ کیا وہ کفار نہیں جانتے کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘ (سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 30)۔کیاGeorges Lemaitre نے یہ اندازہ قرآن کی اس آیت سے لگایا جو کہ آج سے37 14 سال پہلے نازل ہوئی ؟
(University Johannes utenberg) جو کہ شہرمینز (Mainz) جرمنی میں واقع ہے وہاںکے ڈاکٹر الفریڈکارنر جو کہ ایک معروف ماہر ارضیات تھے وہ اس حقیقت پر مندرجہ ذیل الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں ’’ذرا سوچئے محمدﷺکو اس زمانے میں یہ علم کیسے ہوا ،یہ ناقابل یقین ہے کیونکہ سائنسدانوں نے تو یہ معلوما ت ابھی چند سال پہلے ہی حاصل کی ہیں وہ بھی نہایت پیچیدہ اور جدید تکنیکی طریقوں کے ذریعےـ‘‘۔ ان الفاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور قرآن مجید کی حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔
ابتدائی دھماکے کے نتیجے میں توسیع کے بعد کائنات آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی اور نیم جوہری ذرات پر مشتمل ایک دھوئیں دار مواد کو جنم دیا جو بالآخر سادے جوہروں (atoms) میں تبدیل ہوئے۔یہ دھوئیں کے دیوقامت بادل کشش ثقل کی وجہ سے آخر کارستاروں اور کہکشاؤں میں تبدیل ہو گئے۔کہکشاؤں کے ’’ دھوئیں ‘‘ جیسے مادے سے تشکیل کا ذکر بھی قرآن پا ک کی سورہٗ دخان میں ہے’’ پھر اس نے کائنات میں تبدیل کردیا جب وہ دھواں تھا‘‘ (القر آن 41:11 )
رابن کولنز کائنات کی تخلیق کے سلسلے میں اپنے ایک مقالے بعنوان ’’The Fine Tuning Design Argument‘‘ میں بیان کرتے ہیں ’’فرض کریں کہ ہم مریخ پر کسی خلائی مہم پر جاتے ہیں جہاں ہمیں ایک گنبد نما کو ئی جگہ ملتی ہے جس کے اندر ہر چیز بالکل صحیح ترتیب میں موجودہو جو کہ زندگی کیلئے بالکل مناسب ہو یعنی حرارت 70درجہ فارن ہائٹ ہو، نمی 50% ہو ، اسکے علاوہ آکسیجن کا گردشی نظام ہو، توانائی کا اجتماع نظام ہو ، اور مکمل خوراک کا پیداواری نظام ہو، بلکہ اسے اور سادہ لفظوں میں لے لیں کہ یہ گنبد نما جگہ ایک جیتا جاگتا مکمل کام کرتا ہو ا حیاتیاتی نظام ہو ۔ آپ کے خیال میں اس سیارے پر اس قسم کی جگہ کو دیکھ کر کوئی کیا نتیجہ اخذ کرے گا؟ کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ سب محض اتفاقیہ وجود میں آگیا ہوگا؟ یقینانہیں، بلکہ ہم بلامبالغہ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہ ضرور کسی ذہین عقل کا کارنامہ ہے۔ ہم ایسا کیوں سوچیں گے؟ کیونکہ ایک ذہین تخلیق کار ہی اس قسم کے وجود کی مو جودگی کی وجہ ہو سکتا ہے ـ‘‘ ۔وہ مزید بیان کرتے ہیں ’’ طبعیات میں حالیہ دریافتوں کے مطابق یہ بات طے ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق محض کوئی حادثہ نہیں ہو سکتی بلکہ ایک نہایت سمجھدار’’حیاتیاتی نظامـ‘‘ کے مطابق وجود میںآئی ہے ‘‘۔ اور یہ سب محض اتفاق نہیں ہوسکتا کیونکہ کائنات کے تقریباً تمام بنیادی اصول و قوانین نہایت باریک بینی سے بنائے گئے ہیں تاکہ زندگی وجود میں آسکے۔
کائنات کی موجودہ صورت میں تشکیل کیلئے بہت سے عالمگیر طبعیاتی دائم کا خاص مقدار میں ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ کہکشاؤں کی تشکیل، سیاروں کے ابھرنے اور کائنات میں حیات کا وجود ان کے بغیر ناممکن تھا۔ کائنات پر زندگی صرف اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب کچھ مخصوص بنیادی عالمگیر طبعیاتی دائم صرف ایک خاص رقم و میزان میںواقع ہوں ۔ اگر ان میں ذرہ برابر بھی فرق ہوتا تویہ توازن نہیں قائم ہوتااورکائنات کا وجود اور پھر اس میںزندگی کا وجود ممکن نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر اگر انفجار عظیم (big bang) کے دھماکے کی قوت میں نہایت ہی کم فرق ہوتا یعنی ایک بٹا ارب ، ارب ، ارب، ارب، ارب، ارب کروڑ حصّہ کمی آتی تو کائنات کی تخلیق ہی نہ ہو پاتی یا تو یہ خود اپنے آپ میں ہی سمٹ جاتی ، یا اس قدر تیزی سے وجود میں آتی کہ ستارے تخلیق ہی نہ ہو پاتے ، اس کے وجود کیلئے ایک خاص اور بالکل درست توانائی کی مقدار کی ضرورت تھی۔اس کا موازنہ پستول سے نکلی ایسی گولی سے بھی کیا جاسکتا ہے جسکاآپ ایسا صحیح نشانہ لگائیں کہ جس شے پر آپ نشانہ لگا رہے ہیںوہ صرف ایک انچ کے برابر ہو اور وہ ہماری کائنا ت کے دوسرے سرے پر ہویعنی فاصلہ ہدف پچاس ارب نوری سال کے برا بر ہو۔ یہ تقریباً ناممکن ہے بالکل اسی طرح اگر کشش ثقل کی قوت مطلوبہ توازن سے ذرا سی بھی کم یا زیادہ ہو جاتی تو زندگی کو برقرار رکھنے کے ستارے مثلاًسورج کا وجود ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اس کا وجود ناممکن ہو جا تا ۔ اسی طرح وہ قوت جو کہ پروٹون اور نیوٹرون مضبوط جوہری قوت جوہرمیں یکجا رکھتی ہے ۔اپنی موجودہ مقدار سے ذرہ برابر بھی مختلف ہوتی تو زندگی ناممکن ہو جاتی۔ یہی دلائل دیگر طبعیاتی توازن کیلئے ہیں (جیسا کہ برقی و مقناطیسی قوت، پروٹون کے مقابلے میں نیوٹرون کا وزن وغیرہ)۔ ان سب کو نہا یت باریکی اور تفصیل کے ساتھ تخلیق دیا گیا ہے تاکہ کہکشائیں وجود میں آسکیں اورپھرکرہ ارض پر زندگی نمودار ہو سکے ۔
ان تمام عوامل کا انتہائی باریکی کے ساتھ جو توازن موجود ہے وہ محض اتفاق نہیں ہو سکتاجیسا کہ کشش ثقل کی بدولت ستاروں اور سیارو ں کا آپس میں قریب آنا اور سیاہ توانائی کا اسکے برعکس انہیں پرے کرنا، ان کے بارے میں سورۃٗ رحمان میں ذکر ہے ’’ میزان (توازن) تمام زمین اور آسمانوں میں رکھاگیا ہے‘‘
لامذہب لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہماری کائنات صرف اربوں کھربوں حادثات کے تسلسل کے نتیجے میں وجود میںآ ّئی ہے۔ حتیٰ کہ اس بنیا دی عالمگیر طبعیاتی دائم کو جھٹلانے کیلئے وہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ایسی ان گنت کائناتیں ہونگی اور ایسے بنیا دی عالمگیر طبعیاتی دائم صرف ہماری کائنات میں اتفاقیہ طور پر موجود ہیں اور دیگر کائناتوں میں ان کا ہونا ضروری نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ہم محض درست کائنات میں ہیں جہاںپرتمام عوامل اور اصول نہایت درستگی کے ساتھ اتفاقیہ طورپر موجو ہیں۔ اسی طرح اتفاقیہ طور پر ہم درست سیاّرے پر موجود ہیں جہاں پانی اور دیگر عناصر موجود ہیں۔یہ جواہر صرف حادثاتی طور پرآپس میںجڑ ے گئے اورحیات کے سالمے (امینو ایسڈ اور نیوکلک ایسڈ وغیرہ) اتفاقیہ طور پر تخلیق ہوئے۔یہ مردہ سالمے اپنی مماثلت کے سالموں کو پہچان کر پھر حادثاتی تسلسل سے جڑتے گئے اور بالآخر ہم انسان وجود میں آئے۔ ایسے مسلسل اتفاقات کو کوئی عقل مندشخص قبول نہیں کرسکتا۔

(آن لائن حوالہ : http://www.dunyapakistan.com/103132/#.WmG5HryWbZ6)

اصل تورات اور انجیل کا تعارف

سید ابوالاعلی مودودیؒ 


عام طور پر لوگ تورات سے مراد بائیبل کے پرانے عہد نامے کی ابتدائی پانچ کتابیں اور انجیل سے مراد نئے عہد نامے کی چار مشہور انجیلیں لے لیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا فی الواقع یہ کتابیں کلام الٰہی ہیں؟ اور کیا واقعی قرآن ان سب باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان میں درج ہیں؟ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تورات بائیبل کی پہلی پانچ کتابوں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر مندرج ہے، اور انجیل نئے عہد نامہ کی اناجیل اربعہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر پائی جاتی ہے۔



دراصل تورات سے مراد وہ احکام ہیں، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے لے کر ان کی وفات تک تقریباً چالیس سال کے دوران میں ان پر نازل ہوئے۔ ان میں سے دس احکام تو وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے پتھر کی لوحوں پر کندہ کر کے انہیں دیے تھے۔ باقی ماندہ احکام کو حضرت موسیٰ نے لکھوا کر اس کی ١٢ نقلیں بنی اسرائیل کے ١٢ قبیلوں کو دے دی تھیں اور ایک نقل بنی لاوِی کے حوالے کی تھی تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں۔ اسی کتاب کا نام ” تورات“ تھا۔ یہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے بیت المقدس کی پہلی تباہی کے وقت تک محفوظ تھی۔ اس کی ایک کا پی جو بنی لاوی کے حوالے کی گئی تھی، پتھروں کی لوحوں سمیت، عہد کے صندوق میں رکھ دی گئی تھی اور بنی اسرائیل اس کو ”توریت“ ہی کے نام سے جانتے تھے۔ لیکن اس سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچ چکی تھی کہ یہودیہ کے بادشاہ یوسیاہ کے عہد میں جب ہیکل سلیمانی کی مرمت ہوئی تو اتفاق سے سردار کاہن (یعنی ہیکل کے سجادہ نشین اور قوم کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا) خلقیاہ کو ایک جگہ توریت رکھی ہوئی مل گئی اور اس نے ایک عجوبے کی طرح اسے شاہی منشی کو دیا اور شاہی منشی نے اسے لے جا کر بادشاہ کے سامنے اس طرح پیش کیا، جیسے ایک عجیب انکشاف ہوا ہے (ملاحظہ ہو ٢- سلاطین، باب ٢٢- آیت ٨ تا ١٣)۔ 

یہی وجہ ہے کہ جب بخت نَصَّر نے یروشلم فتح کیا اور ہیکل سمیت شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، تو بنی اسرائیل نے تورات کے وہ اصل نسخے، جو ان کے ہاں طاق نسیاں پر رکھے ہوئے تھے اور بہت تھوڑی تعداد میں تھے، ہمیشہ کے لیے گم کر دیے۔ پھر جب عزر اکاہن (عزیر ) کے زمانے میں بنی اسرائیل کے بچے کھچے لوگ بابل کی اسیری سے واپس یروشلم آئے اور دوبارہ بیت المقدس تعمیر ہوا، تو عزرا نے اپنی قوم کے چند دوسرے بزرگوں کی مدد سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ مرتب کی، جو اب بائیبل کی پہلی ١٧ کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس تاریخ کے چار باب، یعنی خروج، احبار، گنتی اور استثنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت پر مشتمل ہیں اور اس سیرت ہی میں تاریخ نزول کی ترتیب کے مطابق تورات کی وہ آیات بھی حسب موقع درج کر دی گئی ہیں، جو عزرا اور ان کے مددگار بزرگوں کو دستیاب ہو سکیں۔ پس دراصل اب تورات ان منتشر اجزا کا نام ہے، جو سیرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم انہیں صرف اس علامت سے پہچان سکتے ہیں کہ اس تاریخی بیان کے دوران میں جہاں کہیں سیرت موسوی کا مصنف کہتا ہے کہ خدا نے موسیٰ سے یہ فرمایا، یا موسیٰ نے کہا کہ خداوند تمہارا خدا یہ کہتا ہے، وہاں سے تورات کا ایک جز شروع ہوتا ہے اور جہاں پھر سیرت کی تقریر شروع ہوجاتی ہے، وہاں وہ جز ختم ہوجاتا ہے۔ بیچ میں جہاں کہیں کوئی چیز بائیبل کے مصنف نے تفسیر و تشریح کے طور پر بڑھا دی ہے، وہاں ایک عام آدمی کے لیے یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ آیا یہ اصل تورات کا حصہ ہے، یا شرح و تفسیر۔ تاہم جو لوگ کتب آسمانی میں بصیرت رکھتے ہیں، وہ ایک حد تک صحت کے ساتھ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ ان اجزا میں کہاں کہاں تفسیری و تشریحی اضافے ملحق کر دیے گئے ہیں ۔


قرآن انہیں منتشر اجزا کو ”تورات“ کہتا ہے، اور انہیں کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کر کے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرمو فرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کرسکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں ۔


اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ وہ کلمات طیبات آپ کی زندگی میں لکھے اور مرتب کیے گئے تھے یا نہیں، اس کے متعلق اب ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں نے انہیں نوٹ کرلیا ہو، اور ممکن ہے کہ سننے والے معتقدین نے ان کو زبانی یاد رکھا ہو۔ بہرحال ایک مدت کے بعد جب آنجناب کی سیرت پاک پر مختلف رسالے لکھے گئے، تو ان میں تاریخی بیان کے ساتھ ساتھ وہ خطبات اور ارشادات بھی جگہ جگہ حسب موقع درج کر دیے گئے، جو ان رسالوں کے مصنفین تک زبانی روایات اور تحریری یادداشتوں کے ذریعے سے پہنچے تھے۔ آج متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی جن کتابوں کو اناجیل کہا جاتا ہے، دراصل انجیل وہ نہیں ہیں، بلکہ انجیل حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں، جو ان کے اندر درج ہیں۔ ہمارے پاس ان کو پہچاننے اور مصنفین سیرت کے اپنے کلام سے ان کو ممیز کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جہاں سیرت کا مصنف کہتا ہے کہ مسیح نے یہ فرمایا یا لوگوں کو یہ تعلیم دی، صرف وہی مقامات اصل انجیل کے اجزا ہیں۔ قرآن انہیں اجزا کے مجموعے کو ”انجیل“ کہتا ہے اور انہیں کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کر کے قرآن سے ان کا مقابلہ کر کے دیکھے، تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہوگا، وہ بھی غیر معتصبانہ غور و تامل کے بعد بآسانی حل کی جا سکے گا۔(1)


مولانا عبد الماجد دریابادی موجودہ تورات و انجیل پر تبصرہ کرتے ہوئیے لکھتے ہیں : "توریت اور انجیل قرآن مجید کی اصطلاح میں دو مستقل آسمانی کتابوں کے نام ہیں۔ اور قرآن تصدیق انہی کی کرتا ہے۔ موجودہ بول چال میں توریت نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا۔ جن میں سے ہر صحیفہ کسی نہ کسی نبی کی جانب منسوب ہے لیکن ان میں سے کسی ایک صحیفہ کی بھی تنزیل لفظی کا دعوی کسی یہودی کو نہیں۔ اسی طرح انجیل نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا جن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق مختلف گمنام اور بےنشان لوگوں کی جمع کی ہوئی حکایتیں، روایتیں اور ملفوظات ہیں، لیکن ان میں سے کوئی صحیفہ بھی مسیحیوں کے عقیدہ میں آسمانی نہیں۔ بلکہ مسیحی صاف صاف کہتے ہیں کہ یہ مجموعہ ’’ حواریوں کے دور میں بلاارادہ اور بلاتوقع تیار ہوگیا ‘‘۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 3 صفحہ 5 13) طبع چہاردہم) خوب سمجھ لیا جائے کہ ایسے بےسند ’’ مقدس نوشتوں‘‘ کی تصدیق وتوثیق کی ذمہ داری قرآن ہرگز نہیں لیتا اور موجودہ بائبل، یعنی عہد عتیق وعہد جدید کا کوئی جزو بھی قرآن مجید کے ماننے والوں پر حجت نہیں۔ "(2) 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) تفہہیم القرآن ، جلد اول سورۃ آعمران حاشیہ نمبر : 2 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ 


(2) تفسیر ماجدی سورہ آل عمران، فائدہ 7 ، عبدالماجد دریابادی





قرآن کریم کا سائنسی اعجاز غورو فکر کے چند پہلو

قرآن کریم کا سائنسی اعجاز غورو فکر کے چند پہلو

ڈاکٹر محمد عبدالتواب حامد
ترجمہ و تلخیص: محمد رضی الاسلام ندوی
سائنسی اعجازِ قرآن اور سائنسی تفسیر میں فرق

    قرآن کے سائنسی اعجاز پر بحث سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعجاز اور سائنسی تفسیر میں فرق بیان کردیا جائے، اس لیے کہ اس موضوع پر لکھنے والے بہت سے لوگ دونوں میں خلط ملط کردیتے ہیں۔

    سائنسی تفسیر کی تعریف ڈاکٹر حسین ذہبی نے یہ کی ہے:

’’اس سے مراد وہ طریقۂ تفسیر ہے جس میں قرآن کی عبارت میں سائنسی اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مختلف علوم اور فلسفیانہ آراء مستنبط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔ ۱؎

    یہ تعریف اصلاً استاذ امین الخولی کی ہے ۔ اسے انھوں نے اپنی کتاب: " التفسیر معالم حیاتہ ومنہجہ الیوم"  میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر فہد الرومی نے لکھا ہے:

’’اس سے مراد قرآن کریم کی آیاتِ کائنات اور تجرباتی علوم کی ایجادات کے درمیان ربط ظاہر کرنے کے لیے مفسّر کی ایسی کوشش ہے جس سے قرآن کا اعجاز نمایاں ہوجائے اور یہ واضح ہوجائے کہ وہ انسانی کاوش نہیں ہے، بلکہ اسے نازل کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور یہ کہ وہ ہر زمان و مکان کا ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ ۲؎

    شیخ اہدل اس کی یہ تعریف کرتے ہیں:

’’سائنسی تفسیر سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی آیاتِ کائنات کی تفسیر سائنسی معلومات کی روشنی میں کی جائے، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ اس طرح اس تعریف میں صحیح اور غلط دونوں تفسیریں آجاتی ہیں‘‘۔ ۳؎

    مذکورہ بالا تعریفات میں شیخ اہدل کی تعریف زیادہ درست اور جامع معلوم ہوتی ہے۔

    رہا سائنسی اعجازِ قرآن تو شیخ زندانی نے اس کی تین تعریفیں ذکر کی ہیں:

۱- ’’اس سے مراد قرآن کا کسی ایسی حقیقت کی خبر دینا ہے جس کا اثبات تجرباتی علم (سائنس) سے ہوا ہو اور جس کا ادراک عہدِ رسالت یا زمانۂ نزولِ وحی میں انسانی علمی وسائل کے ذریعے ممکن نہ رہا ہو‘‘۔

۲- ’’اس سے مراد جدید ثابت شدہ اور مستقل سائنسی اکتشافات کے ذریعے قرآن کریم میں وارد حقائق کا اثبات کرنا ہے، ایسے دلائل کے ذریعے جو قطعی اور یقینی ہوں اور جن پر ماہرین کا اتفاق ہو‘‘۔

۳- ’’اس سے مراد وحی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہونے والے علم الٰہی کی سچائی کا اظہار ہے، جس سے اس کا امر واقعہ ہونا ثابت ہوجائے اور کوئی شخص اس کی نسبت حضرت محمد ﷺ یا آپ کے زمانے کے کسی انسان کی طرف نہ کرسکے‘‘۔

    یہ تینوں تعریفیں صحیح اور قابلِ قبول ہیں، لیکن ان میں صحیح ترین اور دقیق ترین اول الذکر تعریف معلوم ہوتی ہے۔

قرآن کا سائنسی اعجاز – چند حقائق


    بعض قرآنی آیات کو علمی (سائنسی) قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیگر آیات، جن کا ان علوم سے تعلق نہیں ہے، ان کے علمی ہونے کی نفی کی جارہی ہے۔ بلکہ اس سے مراد تجرباتی علم ہے، تاکہ اس سے فلسفیانہ ، معاشرتی اور اخلاقی علوم خارج ہوجائیں، اس لیے کہ قرآن ان علوم کی مبادیات پر مشتمل ہے اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، کسی انسان کا گھڑا ہوا نہیں ہے۔ 

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کریم میں سائنسی اعجاز کا مسئلہ دو بنیادی حقیقتوں پر قائم ہے:

  • اول یہ کہ سائنسی اعجاز بذاتِ خود مقصود نہیں ہے۔
  • دوم یہ کہ قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور اس ہدایت کے ذرائع میں سے وہ اہم علمی و سائنسی دلائل بھی ہیں جو کتابِ عزیز کی آیات میں پائے جاتے ہیں۔

    اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم اس حیثیت سے بھی معجزہ ہے کہ وہ ایسے علمی حقائق پر مشتمل ہے جن کا انکشاف عہدِ نزول قرآن کے بعد کے زمانوں میں ہوا ہے۔ اس سے قطعی طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ ان حقائق کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ علماء کا یہ اتفاق اجمالی طور پر ہے۔ رہی تفصیل تو اس میں ان کے درمیان کسی قدر اختلاف ہے، اس کا سبب علوم و معارف، سائنسی ایجادات اور حقائقِ علوم سے واقفیت میں ان کا تفاوت ہے۔

    قرآن کریم کا مطالعہ کرنے اور اس کی آیات کا تتبّع کرنے والا بہت سی ایسی آیات پاتا ہے (بعض محققین نے ان کی تعداد نوسو (۹۰۰) سے زائد بتائی ہے) جن میں اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی سنتوں اور نظام اور اپنی مخلوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عنایات کا بیان ہے، اس لیے قرآنی مطالعات سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس اہم پہلو کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور قرآن کریم کے ان عظیم او ردقیق حقائق کو واشگاف کریں جو ایک ایسے امّی شخص کی زبان سے ظاہر ہوئے ہیں جسے ان علوم کی ادنیٰ واقفیت بھی نہیں تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ان علوم کو اس ذاتِ گرامی سے حاصل کیا ہے جو آسمان اور زمین کے تمام اسرار سے واقف ہے۔ ارشادِ باری ہے:

        
        قُلْ أَنزَلَہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ إِنَّہُ کَانَ غَفُوراً رَّحِیْماً۔ (الفرقان:۶)

ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے اس نے جو زمین اور آسمان کا بھید جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
شیخ مصطفی صادق الرافعیؒ فرماتے ہیں:
’’قرآن میں کائناتی اور سائنسی آیات کی موجودگی اس کے ایک دوسرے اعجاز کی دلیل ہے۔ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ زمانہ بحث و دلیل پر قائم علمی رخ پر رواں دواں ہے اور انسانیت اپنے عہدِ عروج میں اسی راہ پر گام زن ہے اور مذہب بہت جلد عقلی بنیادوں پر استوار ہوگا۔ قرآن میں اس پہلو کی رعایت زمانہ میں اس کے وجود میں آنے سے چودہ صدیوں پہلے ، غیب سے ظاہر ہونے والی کھلی شہادت ہے، جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پھر اگر صبح روشن ہوگئی ہو ، لیکن بعض لوگ سورہے ہوں، انھیں صبح کا پتا نہ چلا ہو تو یہ ان کی نیند کا قصور ہے، بعض دوسرے لوگ ہیں جو اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس کی بنا پر وہ صبح کو دیکھنے پر قادر نہیں، لیکن بہ ہر حال یہ حقیقت ہے کہ صبح نمودار ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

         فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْْہَا۔ (الانعام: ۱۰۴) ۵؎

اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا۔
موجودہ صورت حال
    اس زمانے میں سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی اور نئی ایجادات اور سائنسی اکتشافات کی کثرت کے سبب بہت سی ایسی تالیفات منظر عام پر آئی ہیں، جن میں قرآن کی سائنسی تفسیر بیان کی گئی ہے اور بہت سے شائقینِ علم ان تالیفات کی جانب مائل ہوئے ہیں۔

    اسی طرح مسلمانوں کو اس اندازِ تفسیر یا اس وجہِ اعجاز میں ایک مناسب میدان ہاتھ لگا ہے، جس کے ذریعے وہ مؤثر انداز میں اسلام کی دعوت پیش کریں اوراس بات پر دلیل قائم کریں کہ قرآن انسانی کلام نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے اور وہ ایک حکیم و حمید ذات کی جانب سے نازل ہوا ہے، اس زمانے میں جب عربوں کی زبان دانی کم زور پڑگئی ہے اور وہ قرآن کریم کے اعجازِ بیان کو محسوس کرنے پر قادر نہیں رہ گئے ہیں، دوسری طرف یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ جدید (سائنسی) اعجاز عرب اور غیر عرب دونوں کو مخاطب کرسکتا ہے۔

    یہ اہلِ قلم اور مفکّرین آیاتِ قرآنی کی اپنی سائنسی تفسیروں کو ’قرآن کے سائنسی اعجاز‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں، جسے وہ اس زمانے میں قرآن کے وجوہِ اعجاز میں سب سے مشہور وجہ سمجھتے ہیں۔ چند سال پہلے سعودی عرب میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس کا نام ہیئۃ الاعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ ہے۔ اس بورڈ کی جانب سے قرآن و سنت میں اعجاز کے موضوع پر بہت سی کتابیں شائع ہوئی ہیں اور بہت سی کانفرنسیں منعقد کی گئی ہیں، اسی طرح اس نے مشرق و مغرب کے، مختلف علوم و فنون کے مشہور ماہرین، محققین اور سائنس دانوں سے، قرآن کا سائنسی اعجاز نمایاں کرنے میں مدد لی ہے، البتہ بعض علماء اس قسم کے اعجاز کے سلسلے میں تحفّظ رکھتے ہیں، اس لیے کہ اس موضوع پر لکھنے والے بعض لوگوں کی کتابوں میں ایسی بے بنیاد اور غیر معتدل باتیں آگئی ہیں جو قرآن کی عظمت سے میل نہیں کھاتی ہیں۔

    اس موضوع پر لکھنے والے جن غلطیوں کا شکار ہوئے ہیں ان میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے آیات قرآنی کی تفسیر میں بہت سے ان سائنسی نظریات پر بھروسہ کرلیا ہے جو ابھی قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں اور دوسری جانب انھوں نے صحیح احادیث و روایات کو قبول کرنے سے اعراض کیا ہے، الفاظِ قرآنی کے مدلول سے بھی وہ واقف نہیں ہیں اور قطعی دلائل سے ثابت شدہ عقائد کی وہ کوئی پروا نہیں کرتے۔ مزید خرابی اس سے پیدا ہوئی کہ اس قسم کے موضوعات پر بہت سے ایسے لکھنے والے میدان میں آگئے جنھیں نہ اسلامی علمی ورثہ سے کوئی خاص واقفیت تھی اور نہ وہ سائنسی علوم میں مہارت رکھتے تھے، اس بنا پر مارکیٹ میں ایسی کتابیں اور تحقیقات آگئیں جن میں سے بہت سوں پر نظر ثانی اور اصلاح کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹر محمد عبداللہ درازؒ لکھتے ہیں:

’’جوش میں آکر بعض نئے مفسرین نے اس طریقہ کو استعمال کرنے میں اس حد تک مبالغہ سے کام لیا کہ خود ایمان خطرہ میں پڑگیا، اس لیے کہ اس سے یا تو نص کے مفہوم پر اعتماد میں کمی آتی ہے، کہ اس سے ایسی باتیں مستنبط کی جاتی ہیں جن کے، قرآنی الفاظ اور جملے متحمل نہیں ہوتے، یا سائنس دانوں کی آرائ، یہاں تک کہ ان کے باہم متضاد مفروضات یا وہ نظریات جن کی صحت کو ثابت کرنا دشوار ہوتا ہے، ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرلیا جاتاہے‘‘۔ ۶؎

    سید قطب شہیدؒ فرماتے ہیں:
’’قرآنی اشارات کو سائنس کے جدید اور ہمہ آں متغیر نظریات پر محمول کرنے کی کوشش منہجی اعتبار سے بنیادی غلطی ہے۔ ساتھ ہی اس میں تین باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو قرآن کی عظمت و جلال کے شایانِ شان نہیں ہیں:
اول: اندرونی احساسِ شکست، جس کی بنا پر بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ سائنس کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ وہ قرآنی بیانات کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے یا ان پر سائنس سے استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ قرآن اپنے موضوع پر کامل اور اپنے بیان کردہ حقائق کے سلسلے میں فائنل کتاب ہے اور سائنس کا حال یہ ہے کہ اس میں کل تک جو چیز ثابت تھی آج اس کی تردید ہوجاتی ہے۔
دوم:  قرآن کے مزاج اور اس کے مقصدِ بعثت کے بارے میں غلط فہمی، جب کہ قرآن علی الاطلاق ایسی آخری حقیقت ہے جو انسانی وجود کی ایسی تشکیل کرتی ہے جو اس کائنات کے مزاج اور اس کے الٰہی ناموس سے ہم آہنگ ہو ، تاکہ انسان اور کائنات میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو، بلکہ انسان کا کائنات سے قریبی تعلق استوار ہوجائے، وہ اس کے بعض اسرار جان لے اور اس کے بعض مظاہر کو اپنے کارِ خلافت میں استعمال کرسکے۔
سوم:  نصوصِ قرآن کی بہ تکلّف اور دور از کار تاویل، کہ قرآنی آیات کو من چاہے معانی کا جامہ پہنایا جائے اور ان کے ساتھ ایسے سائنسی مفروضات اور نظریات کے پیچھے دوڑا جائے جو ثابت شدہ اور دائمی نہیں ہیں، بلکہ ہر دن ان میں نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہے۔۷؎
    لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سائنس کے ذریعے کائنات، زندگی اور انسان کے بارے میں جن حقائق کا انکشاف ہوا ہے ان سے آیاتِ قرآنی کے فہم میں فائدہ نہ اٹھایا جائے، بلکہ ضروری ہے کہ آفاق و انفس میں سائنس کے ذریعے اللہ کی جن نشانیوں کا انکشاف ہورہا ہے ان پر ہم غور کریں۔ اس سے اس حکم الٰہی کی بھی تعمیل ہوگی جو اس نے اپنی آیات میں تدبر کرنے اور کائنات میں غورو فکر کرنے کے سلسلے میں دیا ہے۔

سائنسی تفسیر کے مخالفین

    امام ابو اسحاق شاطبیؒ ان لوگوں میں سر فہرست ہیں جنھوں نے اس پہلو پر اعتراض کیا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ سلفِ صالح یعنی صحابہ و تابعین قرآن اور اس کے علوم و معارف سے سب سے زیادہ باخبر تھے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کسی نے اس موضوع پر کچھ بھی گفتگو کی ہو۔ ضروری ہے کہ فہم قرآن کے سلسلے میں مدد حاصل کرنے میں اس پر اکتفا کیا جائے جس کا علم خاص طور پر عربوں کی طرف منسوب ہو۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ فہمِ شریعت کے معاملے میں ’امیّیّن ‘ یعنی عرب، جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا ہے، ان کے درمیان معروف امور کی پیروی کی جائے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں اظہارِ خیال کرنے والے کے لیے درست نہیں ہے کہ ان میں بہ تکلّف ایسے معانی مستنبط کرے جن کی عربوں کی زبان میں گنجائش نہ نکلتی ہو، بلکہ اس سے شایانِ شان یہ ہے کہ وہ بھی اتنا ہی آگے جائے جتنا عرب گئے تھے اور وہیں پر رک جائے جہاں عرب رک گئے تھے‘‘ وہ مزید فرماتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگ قرآن میں اظہارِ خیال کرنے کے معاملے میں اس حد سے تجاوز کرگئے ہیں، چنانچہ انھوں نے اس میں متقدمین و متاخرین کے تمام قابل ذکر علوم، مثلاً طبیعیات ، تعلیمات اور منطق وغیرہ کو اس میں شامل کردیا ہے‘‘۔۸؎

ان مخالفین میں سے ابوحیان اندلسیؒ بھی ہیں، جنھوں نے اپنی تفسیر میں امام رازیؒ پر تنقید کی ہے کہ وہ اپنی تفسیر اور دیگر کتابوں میں مختلف علوم کو جمع کرتے ہیں اور کسی موضوع پر بحث کرتے ہوئے ایک علم سے دوسرے علم کے دائرہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’ان کا یہی معاملہ علوم کے سلسلے میں ہے۔ وہ مختلف علوم کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ بحث کرتے کرتے ایک علم سے دوسرے علم میں جاپہنچتے ہیں۔ ہمارے استاذ علامہ ابوجعفر احمد بن ابراہیم بن الزبیر الثقفیؒ کہا کرتے تھے:  ’’جب تم دیکھو کہ کوئی شخص بحث و تحقیق یا تصنیف و تالیف میں ایک فن سے دوسرے فن میں پہنچ جاتا ہو تو جان لو کہ یا تو اس کا سبب اس فن میں اس کی کم علمی ہے یا اس کے ذہن میں مباحث پوری طرح واضح نہیں ہیں، اسے موضوع کا بہ خوبی ادراک نہیں ہے اور وہ گمان کرتا ہے کہ باہم مختلف چیزیں مماثل ہیں‘‘۔ ۹؎

موجودہ دور میں سائنسی تفسیر کے مخالفین میں امین الخولی، محمد عزہ دروزہ، عباس محمود العقاد، صبحی صالح، سید قطب اور محمد حسین ذہبی قابلِ ذکر ہیں۔ ڈاکٹر ذہبی نے اس پر متعدد پہلوؤں سے اعتراض کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ اول: لغوی پہلو سے : زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے قرآنی الفاظ کی دلالتیں بدل گئی ہیں اور ان میں توسّع آگیا ہے۔ تو کیا یہ بات قرینِ عقل ہوگی کہ الفاظِ قرآن کے فہم میں ہم بھی اتنے ہی توسّع سے کام لیں اور ان سے وہ معانی مستنبط کریں جنھیں جدید اصطلاحات کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔

دوم : بلاغی پہلو سے: بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بات مطابقِ حال کہی جائے ۔ سائنسی تفسیر سے قرآن کی بلاغت کو ضرر پہنچتا ہے، اس لیے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں جن لوگوں کو مخاطب بنایا گیا اگر وہ ان معانی سے ناواقف تھے جنھیں تفسیر میں بیان کیا جاتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ انھیں وہ بتانا چاہتا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن غیر بلیغ ہے، اس لیے کہ اس نے مخاطبین کے حالات کی رعایت نہیں کی اور اگر وہ ان معانی کو جانتے تھے تو کیوں عربوں کی علمی ترقی نہیں ہوئی، جب کہ قرآن میں اولین و آخرین کے تمام علوم پائے جاتے تھے۔

سوم: اعتقادی پہلو سے: اگر ہم ان لوگوں کا مسلک اختیار کرلیں جو قرآن سے ہر چیز مستنبط کرنے لگتے ہیں اور اس کو تمام علوم کا سرچشمہ بنادیں تو قرآن کے سلسلے میں مسلمانوں کے عقیدہ کو ہم مشکوک بنادیں گے۔ اس لیے کہ سائنسی علوم کے قواعد و نظریات دائمی اور اٹل نہیں ہیں۔ اگر ہم قرآن سے سے جدید سائنسی نظریات مستنبط کرنے لگیں، پھر یہ نظریات غلط قرار پاجائیں تو اس سے قرآن کریم پر مسلمانوں کا اعتقاد متزلزل ہوجائے گا، اس لیے کہ قرآن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں ہے کہ کل اس کی جو بات صحیح تھی وہ آج غلط ہوسکتی ہے‘‘۔ ۱۰؎

    سائنسی تفسیر پر اعتراض کرنے والے اور بھی بعض دلائل پیش کرتے ہیں، طوالت کے اندیشہ سے ہم انھیں ذکر نہیں کررہے ہیں۔

سائنسی تفسیر کے مؤیّدین

        جو حضرات قرآن کی سائنسی تفسیر کی تائید کرتے ہیں ان کے نقطہ ہائے نظر میں کچھ اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض مبنی بر اعتدال ہیں تو بعض میں غلو پایاجاتا ہے۔ ہرایک کی اپنی دلیلیں ہیں۔ سائنسی تفسیر کے زبردست مؤیّدین میں امام ابوحامد الغزالیؒ ہیں۔ انھوں نے احیاء العلوم میں لکھا ہے:

 ’’وہ نظریات اور معقولات جن کے فہم میں غورو فکر کرنے والوں کو دشواری اور ان کے درمیان اختلاف ہوا ہے، قرآن میں ان کی طرف اشارے اور دلالتیں پائی جاتی ہیں۔ مخصوص اہلِ فہم ہی ان کا ادراک کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ استنباطات ظاہرِ تفسیر سے ٹکراتے نہ ہوں، وہ اسے مکمل کرتے ہوں نہ کہ اس کا بدل ہوں‘‘۔

        مؤیّدین میں امام فخر الدین رازیؒ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں مختلف طبیعیاتی علوم، فلکیات اور علم نجوم وغیرہ کی تفصیلات ذکر کی ہیں۔ ان میں امام زرکشیؒ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب البرہان فی علوم القرآن میں ایک خاص فصل قائم کی ہے جس کا عنوان یہ ہے ’’فی القرآن علم الاولین والآخرین‘‘ یعنی قرآن میں قدیم و جدید زمانوںکے تمام علوم ہیں۔

    علامہ سیوطیؒ نے نقل کیا ہے کہ ابوالفضل المرسیؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

 ’’قرآن میں اوّلین و آخرین کے علوم جمع ہیں۔ ان کا علم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو تھا، پھر اس نے اپنے رسول کو ان سے باخبر کیا (سوائے کچھ چیزوں کے جن کا علم اس نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے) پھر ان سے کبارِ صحابہ مثلاً خلفائے اربعہ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ وغیرہ نے اخذ کیا، یہاں تک کہ بعض صحابہ کہا کرتے تھے: ’’اگر اونٹ کو باندھنے والی کوئی رسّی بھی کھوجائے تو میں اسے کتاب اللہ میں پالوں گا‘‘، پھر ان سے تابعین نے اخذ کیا، اس کے بعد ہمتیں پست ہوگئیں، عزائم میں فتور آگیا، اہل علم ان علوم و فنون کے حامل نہ رہے جن سے صحابہ و تابعین بہرہ ور تھے‘‘۔ ۱۱؎

    خود امام سیوطیؒ کے نقطۂ نظر کی وضاحت ان کے اس اقتباس سے ہوتی ہے:

’’اللہ کی کتابِ عزیز میں ہر چیز پائی جاتی ہے۔ رہے مختلف علوم تو ان کے ہر باب اور ہر مسئلے کی اصل قرآن میں پائی جاتی ہے۔ اس میں عجیب و غریب مخلوقات اور آسمانوں، زمین، افق اعلیٰ اور زیرِ زمین پائی جانے والی چیزوں کا بیان، ابتدائے تخلیق کی تفصیل، مشہور پیغمبروں اور فرشتوں کے نام اور گزشتہ قوموں کے حالات مذکور ہیں‘‘۔ ۱۲؎

    مؤیّدین میں امام ابن قیّمؒ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنی تصنیف کتاب الفوائد المشوّق الی علوم القرآن و علم البیان کے مقدمے میں لکھا ہے:

’’قرآن کے ایک ایک حرف سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔۔۔ اس کی ہر سورت سے اوائل و اواخر کے علوم کا اظہار ہوتا ہے‘‘۔ ۱۳؎    آگے لکھتے ہیں: ’’قرآن ہر علم و حکمت کا سرچشمہ ہے‘‘ ۔ ۱۴؎

        سائنسی تفسیر کی حمایت کرنے والے نمایاں متاخرین میں شیخ طنطاوی جوہری بھی ہیں۔ ان کی تفسیر " جواہر القرآن " قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کی نمائندہ کتاب ہے۔ اس میں انھوں نے عجائباتِ کائنات، اسرارِ علوم اور سائنسی مفروضات کی خاصی بڑی مقدار شامل کردی ہے۔ وہ اپنی تفسیر کی بنیاد عموماً ان سائنسی اصولوں اور مفروضات پر رکھتے ہیں جو عصر حاضر کی تحقیقات سے حاصل ہوئے ہیں اور آیتِ قرآنی کی تشریح و توضیح کرتے کرتے ان سائنسی اصولوں اور مفروضات کو بیان کرنے لگتے ہیں۔ بسا اوقات وہ آیات قرآنی میں پائے جانے والے سائنسی اشارات کاموازنہ سائنس کے اصولوں سے کرنے لگتے ہیں اور تائید میں مختلف علومِ کائنات کے ماہر مغربی سائنس دانوں کی آراء پیش کرنے لگتے ہیں۔

        اس تفسیر پر لوگوں نے بہت تنقید کی ہے۔ بعض حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے کسی بھی طور پر تفسیر کی کتاب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس کے مؤلف نے اس میں بہت سی غیر ضروری تفصیلات شامل کردی ہیں اور اسے مختلف سائنسی علوم سے بھر دیا ہے۔ اس بنا پر یہ کتاب ایک سائنسی انسائیکلوپیڈیا کے مثل ہوگئی ہے، مزید برآں اس میں جو سائنسی باتیں درج کی گئی ہیں ان میں سے بہت سی محتاجِ ثبوت ہیں اور بہت سی اپنے حال پر باقی نہیں رہی ہیں۔ شیخ منّاع القطّان فرماتے ہیں:

’’ہماری نظر میں شیخ طنطاوی جوہری نے اس تفسیر کو لکھ کر بہت برا کیا، حالاں کہ وہ گمان کررہے ہیں کہ انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ان کی تفسیر کو بہت سے اہل علم کے نزدیک مقبولیت نہیں ملی ہے، اس لیے کہ اس میں آیات سے دور دراز معانی مستنبط کرنے کے لیے بہت کھینچ تان کی گئی ہے۔ اسی لیے اس تفسیر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں ہر چیز ہے سوائے تفسیر کے‘‘۔ ۱۵؎

    سائنسی تفسیر کے مؤیّدین میں سے شیخ طاہر ابن عاشورؒ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنی تفسیر التحریر والتنویر میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ تفسیر میں مختلف علوم سے استفادہ ضروری ہے، اس لیے کہ اس سے آیت کا معنیٰ مزید واضح اور روشن اور قرآن کا مدّعا مزید پختہ اور راسخ ہوجاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’بسا اوقات سائنس کے بعض مسائل کا آیاتِ قرآنی کی تفسیر سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ان کو اسی طرح پیش کیا جاسکتا ہے جس طرح ہم کسی قرآنی دلیل کے اثبات کے لیے کوئی کلامی مسئلہ پیش کرتے ہیں۔

    مثلاً: "  آیت لَوْکَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ اِلاَّاللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔ الانبیائ ' : ۲۲ (اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑجاتا) کی تشریح میں برہان التمانع اور آیت " وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ" ۔ الذاریات:۴۷ (آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور اہم اس کی قدرت رکھتے ہیں) کی تشریح میں مسألۃ المتشابہ سے بحث کرتے ہیں‘‘۔


    ابن عاشورؒ جب ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آیات کی سائنسی تفسیر کی جاسکتی ہے تو ساتھ ہی وہ اس کی کچھ شرطیں بھی بیان کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’اس کے قابلِ قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس میں ایجاز و اختصار کا طریقہ اپنایا جائے، سائنسی معلومات کا صرف خلاصہ بیان کیا جائے، بہت زیادہ تفصیل نہ ذکر کی جائے کہ وہی مقصود معلوم ہونے لگے‘‘۔

    آگے ابن عاشور نے امام شاطبیؒ کا، جو سائنسی تفسیر کے مخالفین میں سے ہیں، رد کیا ہے، ان کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:   ’’یہ بے بنیاد بات ہے۔ اس کی چھ دلیلیں ہیں۔ 

اول: جو کچھ انھوں نے کہا ہے اس کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن چاہتا ہے کہ عربوں کے حال میں کوئی تبدیلی نہ ہو، حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔ 

دوم: قرآن کا مقصد دعوت اسلامی کی اشاعت ہے اور یہ رہتی دنیا تک باقی رہنے والا معجزہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ایسی باتیں ہوں جو سائنسی ترقی کے زمانے کے لوگوں کی فہم کے مطابق ہوں۔ 

سوم: سلف نے کہا ہے کہ ’’قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوسکتے‘‘ اس سے ان کی مراد قرآن کے معانی سے ہے۔ اب اگر امام شاطبی کی بات صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے عجائبات اس کے معانی کے محصور ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوگئے۔ 

چہارم: اس کا کمالِ اعجاز یہ ہے کہ اس کے الفاظ میں ایجاز ہونے کے باوجود اس کے معانی میں کثرت ہو کہ وہ کتابوں میں نہ سماسکیں۔ 

پنجم: ضروری ہے کہ مخاطبینِ اول نے آیاتِ قرآن کے معانیٔ اصلیہ سمجھ لیے ہوں۔ رہے زائد معانی تو ممکن ہے کہ انھیں کچھ لوگ سمجھ لیں اور کچھ نہ سمجھ پائیں۔ بسا اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ بات پہنچانے والے سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ 

ششم: وہ باتیں جن کا تعلق مقاصد قرآن سے ہے، ان کے بارے میں یہ چیز قابل تسلیم نہیں ہے کہ سلف ان کی تشریح میں ظاہر آیت پر توقف کرتے تھے، بلکہ ان میں انھوں نے خوب تشریح و توضیح سے کام لیا ہے اور مختلف علوم کی تفصیل پیش کی ہے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے ہم بھی ایسے علوم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو مقاصد قرآن کی خدمت کرتے ہوں اور جن سے علوم اسلامی کی وسعت کا اظہار ہوتا ہو۔ ۱۶؎

        شیخ طاہر بن عاشورؒ نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اگرچہ اہم اور قیمتی ہے، لیکن اس سے امام شاطبیؒ کی باتوں کی بالکلیہ تردید نہیں ہوتی۔  

        اپنی تحریروں میں آیاتِ قرآنی کی سائنسی تفسیر کا اہتمام کرنے والوں میں شیخ رشید رضا، شیخ محمد مصطفی المراغی، محمد فرید وجدی، محمد احمد الغمراوی، حنفی احمد اور شیخ محمد متولی شعراوی وغیرہ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو ہم ان حضرات کی تصنیفات اور ان کے افکار پر تفصیل سے بحث کرتے۔

        سائنسی تفسیر کے سلسلے میں اہل علم کا جو اختلاف ہے وہ اوپر گزرا۔ رہا سائنسی اعجاز تو اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے (سائنسی تفسیر اور سائنسی اعجاز میں فرق مقالہ کے شروع میں واضح کیا جاچکا ہے)۔

سائنسی اعجاز کے دلائل

اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  بَلْ کَذَّبُواْ بِمَا لَمْ یُحِیْطُواْ بِعِلْمِہِ وَلَمَّا یَأْتِہِمْ تَأْوِیْلُہُ یونس: ۳۹  اصل یہ ہے کہ جو چیز ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا، اس کو انھوں نے (خواہ مخواہ اٹکل پچّو) جھٹلادیا۔

        اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن بے شمار وجوہ سے معجزہ ہے۔ مگر انھوں نے، قبل اس کے کہ اس میں غور و فکر کرتے یا اس نے مستقبل کی جن چیزوں کی خبر دی ہے، ان کے پیش آنے کا انتظار کرتے، اول وہلہ میں اسے جھٹلادیا۔ یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ قرآن میں بعض ایسے حقائق پائے جاتے ہیں جو آئندہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوں گے۔

دوم: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ۔ (حم السجدۃ: ۵۳)     عن قریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی۔ یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟
اس آیت کی تشریح میں ابن کثیرؒ نے لکھا ہے:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عن قریب ہم قرآن کے برحق اور منزّل من اللہ ہونے پر اپنے دلائل و براہین ان پر ظاہر کردیں گے۔ فی الآفاق سے مراد خارجی دلائل ہیں، مثلاً فتوحات، ممالک و مذاہب پر اسلام کا غلبہ اور فی انفسہم سے مراد داخلی دلائل ہیں یعنی غزوۂ بدر اور فتح مکہ جیسے واقعات۔ یہ مجاہد ، حسن اور سدّی کا قول ہے ۔۔۔ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا جسم کن چیزوں سے مرکب ہے؟ اس میں کون کون سے مادے اور اخلاط پائے جاتے ہیں؟ اور اس سے کیسے افعال صادر ہوتے ہیں، جیسا کہ علم تشریح البدن میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی کاری گری کی حکمت واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کی فطرت میں کون سے اچھے اور برے اخلاق ودیعت کیے گئے ہیں؟ اور کس طرح وہ تقدیر الٰہی کے تابع محض ہوکر زندگی گزار رہے ہیں کہ اس سے ذرا بھی تجاوز نہیں کرسکتے‘‘۔ ۱۷؎
 سوم:  اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:  ما من الأنبیاء نبیّ الا أعطی من الآیات ما مثلہ آمن علیہ البشر، وانما کان الذی اوتیتہ وحیاً أوحاہ اللہ الیّ، فأرجو ان اکون اکثرہم تابعاً یوم القیامۃ۔ ۱۸؎    اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء بھی بھیجے، ان میں سے ہر ایک کو ایسی نشانی دی جسے دیکھ کر لوگ ایمان لے آئے۔ لیکن اس نے مجھے جو نشانی عطا کی ہے وہ قرآن کی شکل میں ہے جسے اس نے میری طرف وحی کی ہے۔ اس بنا پر مجھے امید ہے کہ روزِ قیامت میرے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔

قرآن میں سائنسی اعجاز کے ضوابط

        سائنسی اعجاز کو نمایاں کرتے وقت چند اہم ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔ وہ ضوابط درج ذیل ہیں:

اول:  یہ عقیدہ ہو کہ قرآن اول درجہ کی کتابِ ہدایت ہے، سائنس اور طبیعیات کی کتاب نہیں ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی ان کے خالق کی طرف رہ نمائی ہو، وہ زمین میں خلافت قائم کریں ، جس کی انھیں ذمہ داری سونپی گئی ہے اور عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوں، جس کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے آیاتِ کائنات سے متعلق قرآنی مطالعات کو اسی دائرے میں رہنا چاہیے اور اس پر کسی دوسرے پہلو کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ جائز نہیں کہ قرآن کے ساتھ کسی ایسی چیز کا اضافہ کردیا جائے جس کا وہ تقاضا نہ کرتا ہو اور نہ یہ صحیح ہے کہ کسی ایسی چیز کا انکار کردیا جائے جس کا وہ تقاضا کرتا ہو۔

دوم:  عربی زبان، جس میں قرآن کا نزول ہوا ہے، اس کی دلالتوں کی پابندی کی جائے، اس کے مفردات، تراکیب، اسالیب، عموم و خصوص، اطلاق و تقیید اور اجمال و بیان وغیرہ کو ملحوظ رکھا جائے، اس کے متعیّن قواعد کی رعایت کی جائے، مثلاً مطلق کو مقیّد پر اور عام کو خاص پر محمول کرنا، لفظ کے حقیقی معنیٰ مراد لینا، الاّ یہ کہ کسی وجہ سے مجازی معنیٰ لینا ضروری ہو، اور علومِ لغت اور اصولِ تفسیر میں سے ان چیزوں کو ضرور پیش نظر رکھا جائے جن پر معانیٔ آیات کا فہم موقوف ہو۔

سوم:  اعجازِ قرآن کی وضاحت میں دور دراز تاویلات سے احتراز کیا جائے، قوی دلیل کے بعد آیت کے ظاہری مفہوم سے انحراف نہ کیا جائے، اس لیے مناسب یہ ہے کہ قرآنی منہج کی پیروی کی جائے اور قرآنی نصوص سے وہ معانی نہ نکالے جائیں جو بہ ظاہر ان سے نہ نکلتے ہوں۔ اسی طرح مناسب یہ ہے کہ ہم قرآن کی تفسیر کو سائنس کی کتاب نہ بنادیں کہ اس کو مختلف سائنسی علوم سے بھر دیں اور اس معاملے میں حد اعتدال سے تجاوز کرجائیں۔

چہارم:  علمی مضامین کے اظہار میں قرآنی اسلوب کی لچک سے واقفیت حاصل کی جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ آیت کی تاویل میں کون کون سی توجیہیں قابلِ قبول ہوسکتی ہیں۔ اس لیے قرآن کے کسی لفظ یا عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرتے وقت اس لفظ کی حقیقی اور مجازی دلالتوں اور عربی زبان میں اس کے استعمالات کی طرف ضرور رجوع کیا جائے، تاکہ اس میں جن معانی کی گنجائش نکل سکتی ہو، اس کی تفسیر کرتے وقت وہ ذہن میں واضح رہیں۔

پنجم:  کائنات اور انفس و آفاق سے متعلق آیاتِ الٰہی میں غورو خوض اور اللہ کی سنتوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے علم و معرفت کے بارے میں قرآنی منہج کی پیروی کی جائے۔ چوںکہ کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کے طبیعی قوانین (سنن) پر قائم ہے اور وہ انہی کے مطابق کائنات کو چلارہا ہے اس لیے جو شخص ان طبیعی قوانین کو جان لے گا وہ اپنے فائدے کے لیے کائنات کو مسخّر کرسکے گا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے مطابق بہتر وسائلِ زندگی فراہم کرسکے گا اور مادی ترقی حاصل کرسکے گا ، خواہ وہ کسی بھی عقیدے کا ماننے والا ہو اور کیسی بھی زندگی گزارتا ہو۔

ششم:  تفسیر کرنے والا آیت کا مفہوم قرآن کی دیگر آیات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے، پھر سنتِ نبوی، پھر اقوال صحابہ، پھر اقوالِ تابعین سے رجوع کرے۔ اصطلاحی طور پر اسے ’تفسیر ماثور‘ کہتے ہیں، غرض یہ کہ تفسیر کے اصول و قواعد کو ملحوظ رکھے۔

ہفتم:  قرآن کے بیان کردہ حقائق کو محلِّ نظر نہ بنادیا جائے، بلکہ ضروری ہے کہ ان کو اصل قرار دیا جائے۔ پھر جو چیز اس کے موافق ہو اسے قبول کیا جائے اور جو چیز اس کے مخالف ہو اس کو رد کردیا جائے۔

ہشتم:  قرآن کی تفسیر سائنس کی صرف یقینی اور ثابت شدہ معلومات سے کی جائے، تفسیر آیات کے ضمن میں صرف سائنسی حقائق پر اکتفا کیا جائے اور ان سائنسی نظریات کی جانب توجہ نہ دی جائے جو ابھی حقائق کے درجے تک نہ پہنچے ہوں اور انھیں قطعاً ذکر نہ کیا جائے، اس لیے کہ کسی آیت کی تفسیر میں کسی ایسے سائنسی نظریہ کو پیش کرنا جس میں تبدیلی ہوسکتی ہو یا بعد میں وہ غلط ثابت ہوسکتا ہو، اس سے قارئین کے ذہن میں وہ نظریہ بیٹھ جائے گا اور بعد میں اس کے غلط ثابت ہوجانے کی صورت میں وہ آیت کے اپنے فہم کے بارے میں ذہنی الجھن اور انتشار کا شکار ہوں گے۔ ماضی میں ایسا ہوچکا ہے کہ کتب تفسیر میں اسرائیلیات کی بھرمار کے سبب بعض آیاتِ قرآنی کا مفہوم غلط سمجھ لیاگیا۔ ۱۹؎

وہ امور جن کی رعایت ضروری ہے۔


        قرآن میں علومِ کائنات کی نسبت سے پانچ چیزوں کی رعایت ضروری ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ انھیں بیان کیا جارہا ہے:

اول:  قرآن نے ان علومِ کائنات کو اپنا موضوع نہیں بنایا ہے، اس لیے کہ وہ مختلف قوانین کے تابع ہیں اور ان کی تفصیلات میں اتنی باریکی اور غموض ہے کہ وہ عوام کے فہم سے بالاتر ہیں۔ پھر یہ کہ قرآن کے عظیم تر مقصد، کہ وہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو نجات دلانا اور اسے دنیا و آخرت کی سعادت سے ہم کنار کرنا چاہتا ہے، اس کے مقابلے میں یہ چیز بہت ہیچ ہے۔  

قرآن ہدایت اور اعجاز کی کتاب ہے، اس لیے مناسب نہیں کہ ہم ان حدود سے تجاوز کریں۔ وہ جب کائنات کی کسی چیز کا تذکرہ کرتا ہے تو اس کا مقصد ہدایت اور  مخلوق کو حق کی رہ نمائی ہوتا ہے، فلکیات، ہیئت، طبیعیات اور دیگر سائنسی علوم کے حقائق بیان کرنا اس کا مقصد نہیں ہوتا، اس لیے کہ اس چیز کے لیے وہ نازل نہیں کیا گیا ہے۔
وہ لوگ جو قرآنی آیات کے ذریعے سائنسی معلومات کااستنباط کرتے ہیں وہ در حقیقت غلطی پر ہیں اور حدِّ اعتدال سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ قرآن نے اپنا مقصد نزول یہ قرار دیا ہے:

ہُدیً لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (البقرۃ:۲)  ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے ۔

    قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ۔ یَہْدِیْ بِہِ اللّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ (المائدۃ: ۱۵-۱۶)  تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔

    قرآن کی عظمت اس بات پر موقوف نہیں ہے کہ ہم اس کے لیے کوئی نیا کام گھڑلیں اور اسے ایسی ذمہ داری دے دیں جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں نازل کی ہے۔

دوم:  قرآن نے ان علوم کی طرف جو دعوت دی ہے وہ مظاہر کائنات میں غورو فکر اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اوراس کی چیزوں سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالأَرْضِ۔ (یونس: ۱۰۱) ان سے کہو ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو‘‘۔
وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ جَمِیْعاً مِّنْہُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیٰتٍ لَّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ۔ (الجاثیۃ: ۱۳)      اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمھارے لیے مسخّر کردیا۔ سب کچھ اپنے پاس سے ۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔

سوم:  قرآن نے ان مظاہر کائنات کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اوراس کی مشیّت کے تابع ہیں۔ اس نے ان لوگوں کا رد کیا ہے جو انھیں معبود اور تاثیر و اقتدار کا مالک سمجھتے ہیں اور صراحت کی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اقتدار کے تابع ہیں:

إِنَّ اللَّہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہٖ۔ (فاطر: ۴۱)    حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا انھیں تھامنے والا نہیں ہے۔ 
وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَرْضُ جَمِیْعاً قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ بِیَمِیْنِہٖ۔ (الزمر: ۶۷)  ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرتِ کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔

چہارم:  قرآن جب ہدایتِ الٰہی کے سیاق میں کائنات کی کسی نشانی کاتذکرہ کرتا ہے تو اس کا بیان اس ذاتِ الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے جو کائنات کے تمام علوم کااحاطہ کیے ہوئے ہے اور آسمانوں اور زمین کے تمام اسرار سے بہ خوبی واقف ہے اور جس سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اس چیز نے علوم کائنات سے دل چسپی رکھنے والے بعض لوگوں کو حیران اور ششدر کردیا ہے، وہ حدِّ اعتدال سے آگے بڑھ گئے ہیں اور انھوں نے علومِ کائنات کو علومِ قرآن میں سے سمجھ لیا ہے۔

پنجم:  قرآن نے کائنات کی نشانیوں کے بارے میں اظہار خیال کے لیے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ بہترین اسلوب ہے۔ اس میں بہ یک وقت تفصیل بھی پائی جاتی ہے اور اجمال بھی۔ وہ ہر نسل اور ہر قبیل کے انسانوں کو مخاطب کرتا ہے، ان کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ ہدایت اور اس کے دلائل پیش کرتا ہے اور جو کچھ بیان کرتا ہے، لوگ اپنی صلاحیتوں، دستیاب وسائل اور علوم و فنون کے مطابق کم و بیش اس کی جزئیات و تفاصیل اور دقائق سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ ۲۰؎

        میں سمجھتا ہوں کہ اس پہلو (یعنی کائنات اور انسان کے بارے میں سائنسی حقائق، جن کی طرف کتاب اللہ میں اشارے پائے جاتے ہیں) میں حقیقی اعجاز قرآن کے طرز تعبیر میں پایا جاتا ہے، یعنی ان امور میں جن کا تذکرہ سطور بالا میں کیا گیا، نہ کہ اس چیز میں جسے ہم سائنسی تفسیر کا نام دیتے ہیں، اس لیے کہ اس میں غلطی اور صحت دونوں کا امکان رہتا ہے۔ قرآن نے ان حقائق کو اس انداز سے بیان کیا ہے جو تمام زمانوں میں لوگوں کی سمجھ میں آجانے والے ہیں، یعنی قرآن کا اسلوب، نظم اور بیان ان علمی و سائنسی حقائق کے اظہار میں اس حد تک وسیع ہوگیا ہے کہ کسی زمانے کے انسان کو خطاب کرنے سے عاجز نہیں رہا ہے اور اس سے وہ معانی نہیں نکالے گئے ہیں جن کا وہ متحمل نہ رہا ہو۔

        یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس طرح ان چیزوں کو بیان کرسکے جس طرح قرآن نے بیان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان زمانوں میں سے ہر زمانے کے مطابق قرآن کو سمجھا گیا ہے اور اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں، جو سائنسی ایجادات و اکتشافات کا زمانہ ہے، ایک خاص انداز سے قرآن کو سمجھنے اور اس کی تفسیر و تشریح کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان سے متعلق قرآنی اشارات کے سائنسی یا حقیقی مدلول کو سمجھنا تجربہ اور انسانی عمل پر موقوف ہے، جو زمانۂ نزولِ قرآن کے بعد کے زمانوں کا عمل ہے اور قرآن- جیسا کہ ہم جانتے ہیں- تمام زمانوں کے لیے ہے، یعنی اس کا مدار ان اشارت و ظواہر کے ساتھ تعامل کے سلسلے میں قرآنی منہج کی تطبیق یا غور و فکر اور مشاہدہ و تجربہ کے قرآنی حکم کی تعمیل پر ہے۔ ۲۱؎

        سائنسی تفسیر کے مؤیّدین اور مخالفین دونوں کے نقطہ ہائے نظر کی وضاحت کے بعد ہم کہیں گے کہ سائنسی تفسیر کا نہ تو مطلق انکار صحیح ہے اور نہ اس کی مطلق تائید کو درست قرار دیا جاسکتا ہے، بلکہ دونوں حقیقتوں کو جمع کرنا مبنی بر صواب رویّہ ہوگا، ایک قرآنی حقیقت جو یقینی نص کے ذریعے ثابت ہے اور دوسری سائنسی حقیقت جو قطعی تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے۔ اسی بنا پر تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم کا کسی سائنسی حقیقت سے ٹکراؤ نہ کبھی پہلے ہوا ہے اور نہ کبھی آئندہ ہوگا۔ ٹکراؤ اس وقت ہوتا ہے جب سائنسی حقیقت اور قرآنی حقیقت میں سے کوئی ایک خود ساختہ ہو۔

سائنسی تفسیر کی بعض مثالیں

پہلی مثال:  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالسَّمَاء  بَنَیْْنٰہَا بِأَیْْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ۔ (الذاریات: ۴۷)  آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں جمال الدین الفندی نے لکھا ہے:

’’ یہ وسیع الاطراف مادی کائنات کروڑوں کہکشاؤں پر مشتمل ہے۔ ہر کہکشاں میں کروڑوں سورج اور ستارے ہیں اور ہر سورج یا ستارہ کے ماتحت بہت سے سیارے اور چاند ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فضا میں مختلف خصوصیات اور صلاحیتوں کی طاقتیں  (ENERGIES) اور شعاعیں  (RAYS) ہیں، یہ تمام چیزیں خالق کائنات کی قدرت کے تابع ہیں۔ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابتداء میں جب کائنات پیدا کی تھی تو آسمان کو خوب وسیع کردیا تھا، چنانچہ کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود آسمان ان سب پر حاوی ہے۔     

  سائنسی پہلو سے دیکھا جائے تو کائنات کاحجم اب تک نہیں دریافت کیا جاسکا ہے۔ سائنس دانوں نے ستاروں کی چمک کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی کی ہے، جو ستارے ننگی آنکھ سے قبّۂ آسمان میں دکھائی دیتے ہیں اور جن میں مختلف درجات کی چمک پائی جاتی ہے، ان کی تعداد چھ ہزار سے زائد نہیں ہے، لیکن جب فلکیاتی دور بینوں سے دیکھا گیا تو ماہرینِ فلکیات نے بتایا کہ ہماری یہ کہکشاں ایک ٹکیہ کے مثل ہے۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے مرکز سے تیس ہزار شمسی سال کی دوری پر ہے۔ اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ شمسی سال اور اس کی موٹائی تقریباً چھ ہزار شمسی سال کے برابر ہے‘‘۔ ۲۲؎

دوسری مثال:  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِیْ لِأَجَلٍ مُسَمًّی أَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ ۔ (الزمر:۵)   اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے۔ اُسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخّر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چلا جارہا ہے۔ جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔

 

        امام راغبؒ نے لکھا ہے: ’’کَوَّرَ کے معنیٰ ہیں گھمانا اور لپیٹنا ، جیسے عمامہ کو لپیٹا جاتا ہے۔ اس سے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ سورج کی گردش سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے ہیں‘‘۔ ۲۳؎
لسان العرب میں ہے: ’’تکویر اللیل والنہار کا مطلب یہ ہے کہ رات اور دن میں سے ہر ایک کو دوسرے سے ملادیا جائے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رات اور دن میں سے ہر ایک کو دوسرے پر چڑھادیا جائے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک کو دوسرے میں داخل کردیا جائے۔ یہ تینوں معانی قریب قریب ہیں‘‘۔ ۲۴؎
الصحاح میں ہے: یُکَوِّرُ الَّلیْلَ عَلَی النَّہَارِ کا مطلب یہ ہے کہ رات دن کو ڈھک لیتی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ رات بڑی ہوجاتی ہے، دن چھوٹا ہوجاتا ہے، تکویر کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے میں داخل ہوجائے۔ اس کی اصل تکویر العمامۃ ہے یعنی عمامہ کو لپیٹنا۔ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی روشنی سمیٹ لی جائے گی اور اسے عمامہ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ کُوِّرَتْ کے ایک معنی غُوِّرَتْ کے ہیں، یعنی اس کی روشنی اندر چلی جائے گی۔ ۲۵؎

سید قطبؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’یہ عجیب و غریب تعبیر ہے، جو اس میں غور و فکر کرنے والے کو مجبور کرتی ہے کہ ان معلومات کی طرف رجوع کرے جو زمین کے گول ہونے سے متعلق ماضی قریب میں دریافت ہوئی ہیں۔ باوجود یہ کہ میں نے اس تفسیر میں پوری کوشش کی ہے کہ قرآن کو انسان کے دریافت کردہ نظریات پر محمول نہ کروں، اس لیے کہ یہ نظریات غلط بھی ہوسکتے ہیں اور صحیح بھی، آج اگر یہ صحیح معلوم ہورہے ہیں تو کل یہ غلط ثابت ہوسکتے ہیں، جب کہ قرآن بر حق ہے، وہ بذات خود اپنی سچائی کی نشانی ہے، اس کی تائید و تصدیق کے لیے کم زور و ناتواں انسانوں کی تحقیقات و انکشافات کے حوالے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود یہ قرآنی تعبیر مجھے مجبور کررہی ہے کہ میں زمین کے گول ہونے سے متعلق معلومات میں غور کروں، اس سے ایک ایسی مادی حقیقت کی تصویر کشی ہوتی ہے جو روئے زمین پر قابل مشاہدہ ہے۔ گول زمین سورج کے سامنے اپنے محور پر گردش کررہی ہے، اس کی گول سطح کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہاں دن ہوتا ہے، لیکن یہ حصہ ایک حال پر قائم نہیں رہتا، اس لیے کہ زمین گردش کررہی ہے اور جوں جوں اس کی حرکت جاری رہتی ہے وہ سطح جس پر دن تھا، اس پر رات چھانے لگتی ہے۔ زمین کی یہ سطح برابر ڈھکی رہتی ہے، پہلے دن کی روشنی کے ذریعے، پھر رات کی تاریکی کے ذریعے، کچھ عرصہ کے بعد دوسرے گوشے سے پھر دن کا آغاز ہوتا ہے جو رات پر چھاجاتا ہے۔ یہ حرکت برابر جاری رہتی ہے۔ آیت یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ کے الفاظ سے شکل بھی نگاہ میں آجاتی ہے، مقام کی بھی تعیین ہوجاتی ہے اور زمین کی ماہیت اور اس کی حرکت کی نوعیت بھی طے ہوجاتی ہے۔ زمین کے گول ہونے اور اپنے محور پر گردش کرنے سے قرآنی تعبیر کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے۔ یہ تفسیر کسی بھی دوسری تفسیر کے مقابلے میں ، جسے اس نظریہ کی روشنی میں نہ کیا گیا ہو، زیادہ دقیق تفسیر ہے‘‘۔ ۲۶؎

تیسری مثال:  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاَرْسَلْنَا الرِّیْحَ لَوَاقِحَ ۔ (الحجر: ۲۲)  بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں۔

     اس آیت کی تفسیر میں پہلے کے لوگ کہتے تھے کہ یہ تشبیہ ہے اس چیز کی کہ ٹھنڈی ہوائیں بادلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے بارش ہوتی ہے اور جانوروں کے نَر مادہ کو بار آور کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب یورپ کے سائنس دانوں نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ہوائیں بار آوری کا عمل براہ راست انجام دیتی ہیں اور دعوی کیا کہ یہ بات اس عہد سے پہلے کے لوگوں کو نہیں معلوم تھی تو قرآن سے واقف بعض لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ عربوں کو یہ بات معلوم تھی۔ مستشرق اجنیری ، جو گزشتہ صدی میں آکسفورڈ میں عربی زبان کا استاد تھا، اس نے کہا ہے: ’’اونٹ چرانے والوں کو اہل یورپ سے تیرہ صدیوں قبل معلوم تھا کہ ہوائیں درختوں اور پھلوں کو بارآور کرتی ہیں‘‘ ہاں یہ بات صحیح ہے کہ کھجور کی کاشت کرنے والے اہل عرب عمل بار آوری سے واقف تھے، اس لیے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے نر کھجوروں کے شگوفوں کو مادہ کھجوروں پر چھڑکتے تھے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بارآوری کا کام ہوائیں انجام دیتی ہیں، اسی وجہ سے اس عہد کے مفسرین نے اس آیت سے یہ بات نہیں سمجھی تھی، بلکہ اسے مجاز پر محمول کیا تھا۔ ۲۷؎


چوتھی مثال:  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالأَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَأَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَأَنبَتْنَا فِیْہَا مِن کُلِّ شَیْْء ٍ مَّوْزُونٍ۔ (الحجر: ۱۹)  ہم نے زمین کو پھیلایا، اس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔

 اس آیت میں لفظ ’’موزون‘‘ (ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار) بہت دقیق اور عجیب و غریب تعبیر ہے۔ علم کیمیا (CHEMISTRY) اور علم نباتات (BOTANY) کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ کوئی نبات جن عناصر پر مشتمل ہوتی ہے، ان میں سے ہر عنصر اس میں ایک متعین مقدار میں شامل ہوتا ہے۔ اس مقدار کا صحیح اندازہ ناپ تول کی دقیق ترین مشینوں سے، جن سے سینٹی گرام اور ملی گرام بھی ناپاجاتا ہے، کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہرنبات میں یہ عناصر ایک خاص تناسب سے رہتے ہیں ۔ آیت میں کل شئ (ہرچیز) کہا گیا ہے، جس میں انتہائی عموم پایا جاتا ہے اور اس کی صفت ’موزون‘ لائی گئی ہے۔ اس کے ذریعے ایسے فنّی سائنسی مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس دور سے قبل کسی انسان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آسکتے تھے اور جن کی تفصیلات کے لیے ایک ضخیم کتاب درکار ہے۔


حواشی و مراجع

۱؎    محمد حسین الذہبی، التفسیر والمفسرون، ادارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ، کراچی، پاکستان، ۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۷ئ، ۲/۴۷۴
۲؎    فہد الرومی، اتجاہات التفسیر فی القرن الرابع عشر، رئاسۃ إدارۃ البحوث العلمیۃ و الافتاء والدعوۃ والإرشاد، سعودی عرب، ۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶ئ، ۲/۵۴۹
۳؎    احمد عطا محمد عمر، الاتجاہ العلمی للتفسیر فی القرن العشرین، ایم اے ڈیزرٹیشن، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد، ۱۹۹۶- ۱۹۹۷ئ، ص۱۰
۴؎    الشیخ زندانی، المعجزۃ العلمیۃ فی القرآن، بحوث مؤتمر الاعجاز العلمی، بین الاقوامی اسلامی یو نی ورسٹی ، اسلام آباد
۵؎    مصطفی صادق الرافعی، اعجاز القرآن والبلاغۃ النبویۃ، مطبع و تاریخ طبع غیر مذکور، ص۱۳۱
۶؎    محمد عبداللہ دراز، مدخل الیٰ القرآن الکریم، دار القلم دمشق، ۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸ئ، طبع دوم، ص۱۷۶
۷؎    سید قطب، فی ظلال القرآن، دارالشروق، ۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸ئ، طبع / ۱۵، ۱/۱۸۲
۸؎    الشاطبی، الموافقات فی اصول الاحکام، تعلیق: محمد حسنین مخلوف، دارالفکر للطباعۃ والنشر، بیروت، ۲/۵۳
۹؎    ابوحیان الاندلسی، البحر المحیط، دارالفکر بیروت، ۱۴۰۳ھ/ ۱۹۸۳ئ، طبع دوم، ۱/۳۴۱
۱۰؎    ملاحظہ کیجیے التفسیر والمفسرون، ۲/۴۹۲ و مابعد
۱۱؎    جلال الدین السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، منشورات رضی، بیدار عزیزی، ۱۳۴۳ھ، طبع دوم، ۴/۳۰
۱۲؎    حوالہ سابق، ۴/۳۸-۴۰ بہ تصرف
۱۳؎    شمس الدین ابوعبداللہ محمد المعروف بابن قیم الجوزیۃ، کتاب الفوائد المشوّق الی علوم القرآن وعلم البیان، تحقیق: السید محمد بدرالدین النعسانی، مطبعۃ السعادۃ مصر، ۱۳۲۸ھ، طبع اول، ص۵
۱۴؎    حوالہ سابق، ص۶
۱۵؎    الشیخ منّاع القطان، مباحث فی علوم القرآن، مکتبۃ وہبۃ القاہرۃ، ۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰ئ، طبع ہفتم، ص۳۸۳ ( بہ تصرف)
۱۶؎    الطاہر بن عاشور، التحریر والتنویر، الدار التونسیۃ للنشر، ۱۹۸۴ئ، ۱/۴۵
۱۷؎    ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵ئ، طبع اول ، ۴/۱۶۶
۱۸؎    صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب کیف نزل الوحی، ۴۹۸۱، عن أبی ہریرۃ
۱۹؎    ملاحظہ کیجیے مصطفیٰ مسلم، مباحث فی اعجاز القرآن، دارالمنارۃ للنشر والتوزیع، جدۃ، سعودی عرب، ۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸ئ، طبع اول، ص۱۷۱، صلاح الخالدی، اعجاز القرآن البیانی، دارعمار للنشر و التوزیع، عمان، الاردن، ۱۴۲۱ھ/ ۲۰۰۰ئ، طبع اول، ص۳۹۵
۲۰؎    الشیخ محمد عبدالعظیم الزرقانی، مناہل العرفان فی علوم القرآن، داراحیاء الکتب العربیۃ، عیسیٰ البابی الحلبی وشرکاؤہ، طبع سوم، سنۂ طبع غیر مذکور، ۲/۲۵۰  (بہ تصرف)
۲۱؎    عدنان محمد زرزور، مدخل الی تفسیر القرآن و علومہ، ص۲۳۴
۲۲؎    مصطفیٰ مسلم، مباحث فی اعجاز القرآن، ص۱۶۳، بہ حوالہ جمال الدین القندی، القرآن والعلم ، ص۲۱۳ (بہ اختصار)
۲۳؎    الراغب الاصفہانی، معجم مفردات الفاظ القرآن، تحقیق: ندیم مرعثلی، دارالکتاب العربی، بیروت، ص۱۶۵
۲۴؎    ابن منظور، لسان العرب، ۵/۱۵۶
۲۵؎    حوالہ سابق
۲۶؎    سید قطب، فی ظلال القرآن، ۵/۳۰۳۸