زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اس بارے میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے تفہیم القرآن میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "
جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اَینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔
وہاں پیہم ترقی ہو گی بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو۔ اور وہاں خلافت الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔

عالم آخرت میں زمین کی کیا شکل بنے گی ؟

 آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ ’’ زمین پھیلا دی جاۓ گی‘‘۔

 سورۂ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ، ’’ سمندر پھاڑ دیے جائیں گے ‘‘ 

جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جاۓ گا سورۂ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ،’’ سمندر بھریے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے ‘‘۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جاۓ گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر ، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کیطرح بنا دیا جاۓ گا۔

 یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۂ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّ لُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔’’ وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جاۓ گی۔ ‘‘ اور یہی زمین کی وہ شکل ہو گی جس پر حشر قائم ہو گا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرماۓ گا۔ 

پھر اس کی آخری اور دائمی شل وہ بنادی جاۓ گی جس کو سورۂ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُو ا لْحَمْدُ لِلہِ الَّذِ یْ صَدَ قَٓنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّ اُمِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآ ءُ ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ ’’ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا ، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہبنا سکتے ہیں۔ پس بہتریں اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ‘‘۔ 

32 سال کے طویل عرصے میں باوضو ہوکر سوئی دھاگے سے کپڑے پر پورا قرآن مجید لکھنے والی دنیا کی پہلی خاتون


سوئی دھاگے سے کپڑے پر پورا قرآن مجید لکھنے والی دنیا کی پہلی خاتون، 32 سال کے طویل عرصے میں باوضو ہوکر یہ شاندار کارنامہ سرانجام دینے والی ماں سے گفتگو آپ بھی دیکھئے

*Full* Sheikh Hajjaj Ramadhan Al-Hindawi - Pakistan - 2006

Hajjaj Hindawi - Namal Zuha AlamNashrah Alaq - (2/3) الشيخ حجاج الهنداوي

Hajjaj Hindawi - Namal Zuha AlamNashrah Alaq - (1/3) الشيخ حجاج الهنداوي

Hajjaj Hindawi - Namal Zuha AlamNashrah Alaq - (3/3) الشيخ حجاج الهنداوي

پاکستان میں | الشيخ عبدالباسط عبدالصمد | الضحى والشرح |...

يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ کی تلاوت : عبد الباسط ...

قاری عبد الباسط کی تلاوت ۔۔۔۔۔ وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشين گوئی اور انجیل برنا باس - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

انجیل برناباس
" حقیقت یہ ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کو نہیں ، خود حضرت عیسیٰ کے اپنے صحیح حالات اور آپ کی اصل تعلیمات کا جاننے کا بھی معتبر ذریعہ وہ چار انجیلیں نہیں ہیں جن کو مسیحی کلیسا نے معتبر و مسلم انا جیل(Canonical Gospels) قرار دے رکھا ہے ، بلکہ اس کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ وہ انجیل برنا باس ہے جسے کلیسا غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) کہتا ہے ۔ عیسائیوں نے اسے چھپانے کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ صدیوں تک یہ دنیا سے ناپید رہی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کے اطالوی ترجمے کا صرف ایک نسخہ پوپ سکسٹس (Sixtus) کے کتب خانے میں پایا جاتا تھا اور کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں وہ ایک شخص جان ٹولینڈ کے ہاتھ لگا۔ پھر مختلف ہاتھوں میں گشت کرتا ہوا 1738ء میں ویانا کی امپریل لائبریری میں پہنچ گیا۔ 1907ء میں اسی نسخے کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس سے شائع ہو گیا تھا مگر غالباً اس کی اشاعت کے بعد فوراً ہی عیسائی دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ یہ کتاب تو اس مذہب کی جڑ ہی کاٹے دے رہی ہے جسے حضرت عیسیٰ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کے مطبوعہ نسخے کسی خاص تدبیر سے غائب کر دیے گۓ اور پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آ سکی۔ دوسرا ایک نسخہ اسی اطالوی ترجمہ سے اسپینی زبان میں منتقل کیا ہو اٹھارویں صدی میں پایا جاتا تھا، جس کا ذکر جارج سیل نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں کیا ہے ۔ مگر وہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا اور آج اس کا بھی کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمے کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بہ لفظ ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشين گوئی کا تفصیلی جائزہ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ؑ کی بشارت کا تفصیلی جائزہ 
ارشاد باری تعالی : 

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ " ﴿سورہ الصف: ۶﴾

اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہو ا رسول ہوں تصدیق کر نے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ،  اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آۓ گا جس کا نام احمد  ہو گا۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

 " یہ قرآن مجید کی ایک بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لے دے بھی کی گۓ ہے اور بدترین خیانت مجرمانہ سے بھی کام لیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صاف صاف نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی جاۓ۔

ظہار کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم

وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴

جو لوگ7 اپنی بیویوں سے ظاہر کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی 8 ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہو گا ۔ اس سے تم کو نصیحت کی 9 جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے10 ۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے 11۔
یہ حکم اس لئے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ 12 یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا 13 ہے۔

اس دنیا میں انسانی سعی اور اس کی حقیقت

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾ ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾ وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾ (سورہ نجم ) 

اس دنیا میں انسانی سعی کی حقیقت 
"یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ۓ گا ، اور یہ کہ انسان کے لیۓ کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے ، اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جاۓ گی  اور اس کی پوری جزا سے دی جاۓ گی، اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے " 

مولانا سید ابوالاعلی  مودودی ؒ  آیت  اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی  کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

 اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمی داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی الا یہ کہ اس فعل کے صُدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے ۔

اور آیت :  وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پاۓ گا اپنے عمل کا پھل پاۓ گا۔ دوسرے یہکہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پا سکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔

سورہ النجم کی آیات : " وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی " کی تفسیر

ارشاد باری تعالی : 

" وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾ سورہ النجم 

ترجمہ ُ: " وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے" 


مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن جلد پنجم (سُوْرَةُ النَّجْم حاشیہ نمبر :4 ) میں لکھتے ہیں :  

" مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گیا ہے ، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے ، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعواۓ نبوت کر دیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزاۓ اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے ، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے ۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے ، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ’’ آپؐ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپؐ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپؐ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟ آیا اس کا اطلاق ان سارے باتوں پر ہوتا ہے جو آپ بولتے تھے ، یا بعض باتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض باتوں پر نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اس پر تو اس ارشاد کا اطلاق بدرجہ اَولیٰ ہوتا ہے ۔ رہیں وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔

حضرت الیاس ؑ (یا ال یاسین ؑ ) اور ان کی قوم

حضرت الیاس( ال یاسین ؑ  ) اور ان کی قوم 
حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورۃ انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جِلْعاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے ۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبِی (elijah theTishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں : 

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam) کی نااہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا، اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہوگئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا۔ اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے، لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان ) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔ 

بعل دیوتا کی تاریخی حیثیت

بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورۃ بقرہ آیت 228، سورۃ نساء آیت 127، سورۃ ہود آیت 72، اور سورۃ نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا :

قراء اتِ قرآنیہ - گولڈ زیہر، آرتھر جیفری اور ڈاکٹر پیوئن کی تحقیقات کا مطا لعہ - محمد فیروز الدین شاہ کھگہ​ (٭)

مستشرقین کے ایک گروہ کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن پہلی دوصدیوں کے دوران اپنی تکمیلی شکل و صورت کے مراحل سے گذرتا رہا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ عہد نبویﷺ و عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں قرآن مکمل نہ ہونے کی وجہ سے گویا تحریفات اور کمی بیشی کا شکار ہوتا رہا ۔ ان مستشرقین کا موقف حسبِ ذیل خیالات سے عبارت ہے :
قراءات قرآنیہ - گولڈزیہر ، آرتھر جیفری اور ڈاکٹر پیوئن کی
تحقیقات کا خصوصی مطالعہ 

٭ اسلامی تاریخ کے مصادر، عصری تحقیقی معیارات پر پورا نہیں اترتے لہٰذا ان کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

٭ جزیرہ عرب کے مضافاتی علاقوں میں کھدائی کے دوران جو آثار اور قدیم تحریر ی نقوش دریافت ہوئے ہیں وہ یہ بات واضح کرتے ہیں کہ پہلی صدی ہجری میں قرآن موجود ہ شکل میں نہیں تھا۔

٭ قدیم قرآنی مخطوطات جو یمن کے شہر صنعاء سے ماضی قریب میں منصہ شہود پر آئے ہیں وہ ایک لمبا عرصہ قرآنی متن میں اِرتقاء اور تغیرات کا اِشارہ دیتے ہیں۔

تاویل قرآن کے صحیح اصول - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

تاویل قرآن کے صحیح اصول - سید ابوالاعلی مودودی
(امریکہ کی ٹفٹس یونی ورسٹی (Tufts University) کے ایک پروفیسر نے چند سوالات اس درخواست کے ساتھ بھیجے تھے کہ ان کا مفصل جواب دے کر ان مشکلات کو رفع کیا جائے جو انہیں فہم القرآن کے معاملہ میں پیش آرہی ہیں۔ یہ سوال نامہ اور اس کا جواب درج ہے)

سوال: اسلام کو سمجھنے کی کوشش میں جس مسئلے کو میں نے سب سے زیادہ پریشان کن پایا، وہ قرآن کی تاویل کا مسئلہ ہے۔ ذیل کے سوالات میں نے اس غرض کے لیے مرتب کیے ہیں کہ اس معاملے میں میرے ذہن کی الجھن کو دور کیا جائے۔ میں نے ایک مخصوص مسئلے کو اپنے سوالات کا محور صرف اس لیے بنایا ہے تاکہ تاویل قرآن کو جاننے کے ساتھ یہ بھی معلوم کر سکوں کہ مخصوص مسائل پر ان اصولوں کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘ (بقرۃ آیت ۲۵۶) اس پر حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

(۱) کیا ایران میں بہائیوں کا استیصال اس آیت کے خلاف نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں ؟ کیا پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ہنگامے اس آیت کے خلاف نہ تھے؟ اگر نہ تھے تو کیوں؟

(۲) اکراہ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ لفظ قہر (Coercion) سے زیادہ وسیع نہیں ہے؟ اگر موجودہ زمانے کی ایک ریاست میں مسلمانوں کو ٹیکس میں رعایات ملیں یا شہریت کے زیادہ فوائد حاصل ہوں تو کیا یہ بھی غیر مسلموں کے حق میں اکراہ نہ ہوگا؟ یقیناً ایک ایسا تاجر جو تھوڑے منافع پر کام کر رہا ہو، اپنی روزی محفوظ رکھنے کے لیے ایسے حالات میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

قرآن میں وہ کون سی امانت کا ذکر ہے جو آسمان اور زمین اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا

(  سورۃ الاحزاب:  72 )

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بےشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے  ۔ 

 اس آیت کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔

اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بےشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں، اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لیے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کو " خلافت " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہاں انہی کے لیے " امانت " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

قرآن میں ہر شخص اپنا تذکرہ پڑھ لے - ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی

قرآن کی نصیحت اور یاد دہانی سادہ اور عام فہم لفظوں میں ہرفرد کے لیے بالکل عام ہے۔  وہ سب کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے اور اپنے خالق ومالک کی طرف پلٹ کر آنے کی بار بار دعوت دیتا ہے ۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اس کتابِ عظیم کے لیے ’ذکر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اللہ ربّ العزت کا ارشادہے:

 اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۸۷ (ص۳۸:۸۷) یہ تو بس تمام دنیا کے لیے یاددہانی ہے۔

وَمَا ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۵۲ۧ (القلم۶۸:۵۲)یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔

 اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۲۷ۙلِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَــقِيْمَ۝۲۸ۭ (التکویر ۸۱:۲۷-۲۸) یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے تم میں سے ہراس شخص کے لیے جو راہِ راست پر چلنا چاہتا ہو۔

 فَاَيْنَ تَذْہَبُوْنَ۝۲۶ۭ  اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۲۷ۙ (التکویر ۸۱:۲۶-۲۷) پس تم کہاں بھاگے جا رہے ہو، یہ (قرآن) تو ساری دنیا کے لوگوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی ہے۔

 وَھٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰہُ ۝۰ۭاَفَاَنْتُمْ لَہٗ مُنْكِرُوْنَ۝۵۰ۧ (الانبیاء۲۱:۵۰) اور یہ بابرکت ذکر ہم نے (تمھارے لیے ) نازل کیا ہے۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو ؟

 قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا۝۰ۭاِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ۝۹۰ۧ (الانعام ۶:۹۰)  کہہ دو میں اس (دعوت دین )پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے ۔

ایک جگہ اس کتاب کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے: وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ۝۱ۭ  (ص۳۸:۱)۔ ’ذکر ‘و ’ذکریٰ‘ کا مفہوم تقریباً وہی ہے ، جو موعظت یا نصیحت کا ہے۔ اس کے مفہوم میں: ’’نصیحت یا اچھی بات بتانا ، یاد دلانا یا یاد دہانی کراتے رہنا، سب کچھ شامل ہے‘‘۔

حضرت سلیمان ؑ اور تمثال (تصویر یا مجسمہ سازی ) کا فن اور ہمارے مفسرین کی غلط فہمی

ارشاد باری تعالی :   یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾ ( سورہ سبا) 

 اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے 19۔ ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں تصویریں20، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں21۔۔۔۔ اے آلِ داؤد عمل کو شکر کے طریقے پر 22، میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہیں۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے سورہ سبا کی  مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تمثال یعنی تصویر اور مجسمہ سازی کی شرعی حیثیت کا تفصیل سے جائزہ لیا اور بعض قدیم اور جدید مغرب زدہ مفسرین پرغلط فہمی پر سخت تنقید کی ہے وہ لکھتے ہیں:  

" اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تِمثَال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بے جان چیز۔التمشال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلا من خلق اللہ (لسان العرب)"" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو ‘‘ التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بے جان ‘‘۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جو ’’ تماثیل ‘‘ بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جب سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔

مستشرق آرتھر جیفری اور کتاب المصاحف ۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

(حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں)

ابن ابی داؤدؒ  کا تعارف
آرتھر جیفری اور کتاب المصاحف 

ان کا نام عبد اللہ بن سلیمان بن اشعث بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران ازدی سجستانی ہے۔ کنیت ابوبکر ہے۔ ۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے۔ ۳۱۶ھ میں وفات پائی۔ جس دن ان کی وفات ہوئی ۳ لاکھ افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور تقریباً ۸۰ مرتبہ ان کا جنازہ پڑھا گیا۔ (کتاب المصاحف مع تحقیق الدکتور محب الدین واعظ: ۱۵۔۱۶)

ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد محترم امام ابو داؤد ﷫سے حاصل کی۔ امام ابو داؤد علم کے حصول کی خاطر سفر میں اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ امام صاحب اپنے بیٹے کو خراسان‘ اصبہان‘ فارس‘ بصرۃ‘ بغداد‘ کوفہ ‘ مکہ ‘ مدینہ‘ شام‘ مصر‘ جزیرہ‘ جبال اور ثغور کے علاقوں میں لے کر گئے جہاں وہ اساتذہ سے روایات سنتے بھی تھے اور لکھتے بھی تھے۔(أیضاً: ص ۱۸)

 ابن ابی داؤد ؒ  پر جرح و تعدیل

ابن ابی داؤدؒ  کے بارے جرح و تعدیل دونوں منقول ہیں۔

 ‏ابن ابی داؤد ؒ کی تعدیل


جمہور ائمہ جرح و تعدیل اور محدثین نے ابن ابی داؤدرحمہ اللہ کوثقہ راوی قرار دیا ہے:

٭ ابو حامد بن اسد﷫ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن سلیمان بن اشعث جیسا عالم نہیں دیکھا۔

٭ ابو الفضل صالح بن احمد الحافظ﷫ فرماتے ہیں: ابو بکر عبد اللہ بن سلیمان اہل عراق کا امام ہے۔ انہوں نے مختلف شہروں سے علم حاصل کیا، سلطان نے ان کیلئے ایک منبر بنایا ہے جس پر بیٹھ کر وہ اسکے سامنے حدیث بیان کرتے ہیں۔

خطیب بغدادیؒ  فرماتے ہیں: سمجھدار‘ عالم‘ حافظ اور زاہد آدمی تھے۔

٭ امام دارقطنیؒ  فرماتے ہیں: ثقہ تھے لیکن حدیث میں بہت زیادہ غلطیاں کرتے تھے۔

٭ ابن عدیؒ  فرماتے ہیں: اصحاب حدیث کے ہا ں مقبول ہیں۔ ان کے والد نے ان کے بارے میں جو کلام کیا ہے‘ مجھے نہیں معلوم انہوں نے اس میں کیا دیکھ کر اس کے بارے میں ایسی بات کی ہے۔

٭ خلیلی﷫کہتے ہیں: حافظ‘ امام وقت‘ نشان علم‘ متفق علیہ اور امام ابن امام تھے۔ (أیضاً: ۳۴،۳۵)

رسالت اور دعوت محمدی ﷺ کی حقیقت سورہ براءۃ کی روشنی میں از مولانا وحید الدین خان

قسط (ا)

آیت : 1۔ تا ۔4:۔ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے اور جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت وارد کرکے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے ۔

یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتا ہے ان پر وہ آخری حد تک کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کردی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس لیے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کردیا جاتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خد اکی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیا گیا۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہل توحید کو مکہ کے اہل شرک پر غالب کرکے ان کے اوپر اتمام حجت کردیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کرلو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمہاری خاتمہ کردیا جائے گا۔

پھر یہ سارا معاملہ تقوی کے اصول پر کیا گیا نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر۔ مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کردیا گیا۔ ان کو پیشگی انتباہ کے ذریعہ کئی مہینے تک سوچنے کا موقع دیا گیا۔ آخرت وقت تک ان کے لیے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جو لوگ توبہ کرلیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہوجائیں۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملہ کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھا گیا، وغیرہ ۔

آیات درود کی تفسیر و تشریح اور اس کی شرعی حیثیت فقہاء اسلام کی نظر میں - از سید ابوالاعلی مودودیؒ

آیات : ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا "  ﴿۵۸﴾ (سورہ الاحزاب ) 

ترجمہ : 

 اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں (حاشیہ نمبر106،)  اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو(حاشیہ نمبر107) 
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان  اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ 

تفسیر : 

 حاشیہ نمبر :106 میں سید ابوالاعلی مودودی  لکھتے ہیں :

" اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بے حد مہربان ہے ، آپ کی تعریف فرماتا ہے ، آپؐ کے کام میں برکت دیتا ہے ، آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ 

ملائکہ کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپؐ حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے ، آپؐ کے دین کو سر بلند کرے ، آپؐ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپؐ کو مقام محمُود پر پہنچائے۔

 سیاق و سباق پر نگاہ ڈالنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنانِ اسلام اس دینِ مبین کے فروغ پر اپنے دِل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اُچھال کر وہ آپؐ کے اُس اخلاقی اثر کو ختم کر دیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ان حالات میں یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو یہ بتایا کہ کفّار و مشرکین اور منافقین میرے نبی کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں ، آخر کار وہ منہ کی کھائیں گے ، اس لیے کہ میں اُس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اُس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔ وہ اس کی مذمت کر کے کیا پا سکتے ہیں جبکہ میں اس کا نام بلند کر رہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ ربّ العالمین، محمدؐ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے"۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ابتدائی مذہبی تفکرات : سید ابوالاعلی مودودی ؒ

" قوم ابراہیم (علیہ السلام) کے جو حالات(قرآن میں ) بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف چاند، سورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لیے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی رب ہوسکتا ہے؟ اسی مرکزی سوال پر انھوں نے غور و فکر کیا اور آخر کار اپنی قوم کے سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ جن جن کے رب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان میں سے کسی کے اندر بھی ربُوبیّت کا شائبہ تک نہیں ہے، رب صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور بندگی پر مجبور کیا ہے۔


اس قصہ کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر چاند دیکھا اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر سورج دیکھا اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو یہ کہا، اس پر ایک عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال کھٹکتا ہے کہ کیا بچپن سے آنکھ کھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رات طاری نہ ہوتی رہی تھی اور کیا وہ ہر روز چاند، تاروں اور سورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے؟ ظاہر ہے کہ یہ غور و فکر تو انہوں نے سن رشد کو پہنچنے کے بعد ہی کیا ہوگا۔ پھر یہ قصہ اس طرح کیوں بیان کیا گیا ہے کہ جب رات ہوئی تو یہ دیکھا اور دن نکلا تو یہ دیکھا ؟ گویا اس خاص واقعہ سے پہلے انہیں یہ چیزیں دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، حالانکہ ایسا ہونا صریحاً مستبعد ہے۔ یہ شبہ بعض لوگوں کے لیے اس قدر ناقابل حل بن گیا کہ اسے دفع کرنے کی کوئی صورت انہیں اس کے سوا نظر نہ آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش کے متعلق ایک غیر معمولی قصہ تصنیف کریں۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایک غار میں ہوئی تھی جہاں سن رشد کو پہنچنے تک وہ چاند، تاروں اور سورج کے مشاہدے سے محروم رکھے گئے تھے۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی کسی داستان کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوٹن کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے اس کا ذہن اچانک اس سوال کی طرف متوجہ ہوگیا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گرا کرتی ہیں، یہاں تک غور کرتے کرتے وہ قانون جذب و کشش کے استنباط تک پہنچ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہیں دیکھی تھی؟ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھی ہوگی اور بارہا دیکھی ہوگی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسی خاص تاریخ کو سیب گرنے کے مشاہدے سے نیوٹن کے ذہن میں وہ حرکت پیدا ہوئی جو اس سے پہلے روز مرہ کے ایسے سینکڑوں مشاہدات سے نہ ہوئی تھی؟ اس کا جواب اگر کچھ ہوسکتا ہے تو یہی کہ غور وفکر کرنے والا ذہن ہمیشہ ایک طرح کے مشاہدات سے ایک ہی طرح متأثر نہیں ہوا کرتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، مگر ایک وقت اسی چیز کو دیکھ کر یکایک ذہن میں ایک کھٹک پیدا ہوجاتی ہے جس سے فکر کی قوتیں ایک خاص مضمون کی طرف کام کرنے لگتی ہیں۔ یا پہلے سے کسی سوال کی تحقیق میں ذہن الجھ رہا ہوتا ہے اور یکایک روز مرہ ہی کی مشاہدات میں سے کسی ایک چیز پر نظر پڑتے ہی گتھی کا وہ سرا ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے ساری الجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بھی پیش آیا۔ راتیں روز آتی تھیں اور گزر جاتی تھیں۔ سورج اور چاند اور تارے سب ہی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور ابھرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اس راہ پر ڈال دیا جس سے بالآخر وہ توحید الٰہ کی مرکزی حقیقت تک پہنچ کر رہے۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذہن پہلے سے اس سوال پر غور کر رہا ہو کہ جن عقائد پر ساری قوم کا نظام زندگی چل رہا ہے ان میں کس حد تک صداقت ہے، اور پھر ایک تارا یکایک سامنے آکر کشود کار کے لیے کلید بن گیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تارے کے مشاہدے ہی سے ذہنی حرکت کی ابتدا ہوئی ہو۔


اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیم ہی نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے، اور جب چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا، تو کیا اس وقت عارضی طور پر ہی سہی، وہ شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالب حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیے ٹھیرتا ہے، اصل اعتبار ان منزلوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اعتبار اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ہے اور اس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان پر ٹھیرنا بسلسلہ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورت فیصلہ۔ اصلاً ٹھیراؤ سوالی و استفہامی ہوا کرتا ہے نہ کہ حکمی۔ طالب جب ان میں سے کسی منزل پر رک کر کہتا ہے کہ ” ایسا ہے“ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”ایسا ہے“؟ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پاکر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھیرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔"

---------------------------------
(سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :53، تفہم القرآن ، جلد اول ص 556-557)

لقمان ؑ کی شخصیت - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی ۔شعرائے جاہلیت،مثلاً امراؤ القیس ،لَبِید،اَعْشیٰ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں اُن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے اُن کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا ۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اوّلین شخص جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا ۔ وہاں حضورؐ اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوتِ اسلام دیتے پھر رہے تھے ۔اس سلسلہ میں سُو ید نے جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے ۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان ۔ پھر آپؐ کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپؐ کو سنایا۔ یہ بہت اچھا کلام ہے ،مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے ۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے (سیر ۃ ابن ہشام،ج ۲، ص ۶۷۔۶۹۔ اُسُد الغابہ ،ج ۲، صفحہ ۳۷۸) 

مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص ( سُوَید بن صامت) مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر ’’ کامل‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا تھا ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدّت بعد جنگ بُعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا ۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضورؐ سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہو گیا تھا ۔ 

لھو الحدیث - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ لقمان : ۷﴾

ترجمہ : اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے 5 جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر  بھٹکا دے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

 اصل لفظ ہیں’’ لَھُوَ الْحَدِیث‘‘ یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے ۔لعنت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے ۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بُری اور فضول اور بے ہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے ،مثلاً گپ ،خرافات ، ہنسی مذاق ،داستانیں، افسانے اور ناول ، گانا بجانا ، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔ 

تخلیق کا راز

اس راز کو اللہ تعالی نے  یوں بیان فرمایا ، ارشاد باری تعالی ہے : 

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ  ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  (النمل : 64 ) 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ 

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔

ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الٰہی ـ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

یہاں (سورۃ البقرۃ کی آیت "ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم") جس ختم قلوب کا ذکر ہے اس کے بارے میں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ اس ختم سے مراد ختم ظاہری نہیں ہے بلکہ ختم معنوی مراد ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا تعلق ہے یہ لوگ ان کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے تھے لیکن اس مشرب کے لوگ اپنی سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں دنیا کے ظواہر و محسوسات ہی تک محدود رکھتے ہیں، ان ظواہر و محسوسات کے پس پردہ جو حقائق ہیں ان کی طرف نہ تو یہ خود متوجہ ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے توجہ دلانے والے کی بات پر کان ہی دھرتے ہیں۔ دنیا اور زخارف دنیا میں ان کا انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کی ان کے اندر گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اپنی ذہانت و فطانت اسی ایک مقصد پر صرف کرتے ہیں۔ 

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان وزمین کا طول وعرض ناپنے میں تو ان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے لیکن روحانی اقدار و حقائق کے معاملہ میں وہ بالکل ہی کند ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ان کے مذاق کو بھی اس قدر بگاڑ دیتی ہے کہ صرف وہی باتیں ان کو اچھی لگتی ہیں جن سے ان کے اس بگرے ہوئے مذاق کو غذا ملے۔ جن کو باتوں سے اس کی حوصلہ شکنی ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول ہوں، ان سے ان کی طبیعت کو وحشت ہوتی ہے۔  اسی صورت حال کو یہاں ختم قلوب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔

سورۃ الفیل میں فعل " تَرمِیھم " کا فاعل ؟

مولانا مودودی ؒ  نے سورۃ الفیل کی آیت "  تَرْمِيْهِمْ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ " میں فعل "ترمیھم"  کا فاعل ابابیل قرار دیا جبکہ مولانا حمید الدین فراہی ؒ  کی  تاویل میں اس کا فاعل قریش ہے ابابیل نہیں، انہوں نے اس کے حق میں عقلی دلائل دیئے۔

  مولانا حمیدالدین فراہی کے شاگر مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اپنے استاد کے حق میں تفصیل سے ان دلائل کو بیان کیا ہے، ان کے نزیک بھی  ترمیھم کا فاعل قریش ہے ، ان کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے  : 

وہ لکھتے ہیں اگرچہ اس قو ل پر تمام مفسرین متفق ہیں لیکن گوناگوں وجوہ سے یہ بالکل غلط ہے : 

١۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس موقع پر قریش پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مدافعت سے کلیۃً دست بردار ہو کر پہاڑوں میں جا چھپے تھے، بلکہ ابرہہ کی عظیم فوج کے مقابل میں مدافعت کی واحد ممکن شکل جو وہ اختیار کرسکتے تھے یہی تھی اس وجہ سے انہوں نے یہی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق کہ بندہ جب اپنے امکان کے حد تک اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی مدد فرماتا ہے، اس نے قریش کی مدد فرمائی ۔

خورد ونوش کے قرآنی احکام

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ،  اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ۔ 

 ( سورۃ البقرۃ: 172، 173) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔ ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

-----------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے :

" اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ ساری چھوت چھات، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربّیوں اور پادریوں نے، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو۔ اسی مضمون کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ یعنی جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا وہ مسلمان ہے۔

اصحاب کھف، بائیبل اور مستشرقین

حضرت موسیٰ کو یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا ؟ اس کی کوئی تصریح قرآن نے نہیں کی ہے۔ حدیث میں عوفی کی ایک روایت ہمیں ضرور ملتی ہے جس میں وہ ابن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ نے مصر میں اپنی قوم کو آباد کیا تھا۔ لیکن ابن عباس سے جو قوی تر روایات بخاری اور دوسری کتب حدیث میں منقول ہیں وہ اس بیان کی تائید نہیں کرتیں، اور نہ کسی دوسرے ذریعے سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ کبھی مصر میں رہے تھے۔ بلکہ قرآن اس کی تصریح کرتا ہے کہ مصر سے خروج کے بعد ان کا سارا زمانہ سینا اور تیہ میں گزرا۔ اس لیے یہ روایت تو قابل قبول نہیں ہے۔

دین و ایمان کا معیار ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن  : سورۃ البقرۃ ، تفسیرآیات 135 تا 141

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے یہود و نصاری اپنے کو منسوب کیے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی کی دعوت کے مطابق دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہوکر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس یہود کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی ہر فخر نفسیات پر زد پڑتی تھی، اس لیے وہ آپ کے دشمن بن گئے ۔

جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبر ان کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے۔ اس لیے وہی شخصیتیں ان کو شخصیتیں نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خد اکی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علماء کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے۔ مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انہوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ 

آسان عربی لیکچر : 11 مدرس : آصف حمید


آخرت کی دلیلیں : سید ابوالاعلی مودودیؒ


يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا   وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ  ۣ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۭ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ  (سورۂ روم آیات : 7-9)

لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا ؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیےپیدا کیا ہے۔مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کےمنکر ہیں۔اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ 

-----------------
آیات :  يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا   وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ  ۣ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ

سید ابوالاعلی مودودی ؒ اس کی تفسیر حاشیہ 5 میں  لکھتے ہیں : 

یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں :

ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بےشمار چیزیں اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں ۔

دوسرے یہ کہ اسے اپنی راہ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے جاسکتا ہے۔ حق اور باطل، صحیح اور غلط جس طریقے کو بھی اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ ہر راستے پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم کردہ ذرائع استعمال کرسکتا ہے، خواہ وہ خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔
تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حس رکھ دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیار اعمال میں فرق کرتا ہے، اختیاری اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے اور بداہۃ یہ رائے قائم کرتا ہے کہ اچھا عمل جزا کا اور برا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔

سورۂ روم کا تاریخی پس منظر : سید ابوالاعلی مودودی ؒ

جو پیش گوئی اس سورة کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے ۸ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Maurice) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوکاس (Phocas)تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کراکے باپ بیٹوں کےسر قسطنطنیہ میں بر سر عام لٹکوا دیے، اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کے لئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ ٦۰۳ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے درپے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا ﴿موجودہ اُورفا﴾ تک اور دوسری طرف شام میں حَلَب اورانطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے بیٹے ہرقل (Heracllus) کو ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ٦١۰ء کا واقعہ ہے، اور وہی سال ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔

وحدت ادیان کا گمراہ کن فلسفہ - مولانا صلاح الدین یوسف

ارشاد باری تعالی ہے : " اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ   وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ( البقرۃ : 62) 

"مسلمان ہوں، یہودی ہوں،  نصاری  ہوں یا صابی  ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ "
وحدت ادیان کا گمراہ کن فلسفہ ۔ مولانا صلاح الدین یوسف 

بعض جدید مفسرین کو اس آیت کے مفہوم سمجھنے میں بڑی غلطی لگی ہے اور اس سے انہوں نے "وحدت ادیان " کا فلسفہ کشید کرنے کی مذموم کو سعی کی ہے ۔ یعنی رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا اور اچھے عمل کرتا ہے اس کی نجات ہوجائے گی۔

 یہ فلسفہ سخت گمراہ کن ہے آیت کی صحیح تفسیر یہ ہےکہ جب اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں یہود کی بدعملیوں اور سرکشیوں اور اس کی بنا پر ان کے مستحق عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا تو ذہن میں اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ ان یہود میں جو لوگ صحیح کتاب الٰہی کے پیروکار اور اپنے پیغمبر کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا یا کیا معاملہ فرمائے گا ؟

قرآن كا تعارف | ڈاکٹر شہزاد سلیم

(ماہنامہ اشراق،  شمارہ اپریل 2019 ء )

پس منظر


قرآن ایک منفردكتاب ہے۔ یہ خداے رب العزت كا انسانیت كے لیے آخری صحیفۂ ہدایت ہے۔ اس  سے پہلے وقتًا فوقتًا اس نےبہت سے پیغمبروں كو ہدایت سے سرفراز كیا۔ عہد نامۂ قدیم اور عہد نامۂ جدید كے بعد یہ خدا كا آخری عہد نامہ ہے جو اسنے لوگوں كی ہدایت كے لیے نازل فرمایا۔ یہ اُسی دین كو پیش كرتا ہے جو اِس سے پہلےسابقہ انبیا اور رسولوں نے پیش كیا۔ تا ہم پچهلے آسمانی صحیفوں كے برخلاف یہ اپنی اصل زبان اور صورت میں ہمارے پاس  محفوظ  ہے۔

قرآن کا تعارف
اس كی صنف ان كتابوں سے یكسر مختلف ہے جن سے ہم واقف اور مانوس ہیں۔ چنانچہ اس كے پڑھنے والے ہرسنجیدہ طالب علم كے لیے یہ  نہایت ضروری ہےكہ وہ اس كی صنف كا فہم ركهتا ہو۔ نیز اگر اس فہم كے ساتھ اس كتاب كے موضوع اور اسكی ترتیب سے بهی واقفیت پیدا كر لی جائے  توقاری اس كتاب كے فہم سے كما حقہٗ بہرہ یاب ہو سكتا ہے۔ وہ اس كتاب كو پڑھ كر حظ محسوس كرے گا اور اس كے ذہن كے دریچے وا ہوں گے۔ وہ خدا كی سنن اور افعال كا شاہد بن جائے گا اور رب كائنات سے اپنے آپ كو ہم كلام محسوس كرے گا۔  وہ خدا كو اگرچہ دیكھ نہیں سكتا، مگر اس كو محسوس كر پائے گا، كیونکہ وہ الہٰی اسالیب كلام اور آداب گفتگو سے اپنے آپ كو قریب محسوس كرے گا۔  اس كے بحر وجود كی موجیں متلاطم ہوں گی اور اس كے دل و دماغ پكار اٹهیں گے:

؎ ایں كتاب از آسمانے دیگر است۔

قرآن كی صنف


قرآن  ایک بے مثل ادبی شہ پارہ ہے جس كی نظیر انسانی كلام میں كہیں نہیں پائی جاتی۔ بلاشبہ، اس كتاب كی صنف كو  اسالیب اور تحریر كےموجودہ پیمانوں پر قیاس كرنا ایک مشكل امر ہے۔ تاہم اس كی سب سے قریبی مشابہت خطبا كے كلام سے قرار دی جا سكتی ہے۔ یہ كتاب مكالمات پر مشتمل ہے جو زندہ كرداروں كے ما بین ہوا  جو ساتویں صدی میں عرب كے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ یہ كردار ایک مخصوص پس منظر میں آپس میں ہم كلام ہوتے نظر آتے ہیں۔ جیسے كسی تمثیلیا ڈرامے  میں احوال اور پیش منظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بالكل ویسے ہی اس كتاب میں یہ پہلو ہمیں جابجا نظر آئے گا۔ الله تعالیٰ كی ذات والا صفات خود ان مكالمات كی مصنف ہے۔

سورة الرحمن

 سورہ رحمن کا اسلوب باکل منفرد ہے اس میں کائنات کے اہم مظاہر کا مشاہدہ کرواگیا ہے ،  ہر مظاہر کے ذکر کے بعد انسان اور جنون سے سوال کیا گیا کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 31 مرتبہ یہ سوال دہرا گیا اس طرح سورت میں ایک خوبصورت اہنگ اور سر  قاری کی دلچسپی میں اضافہ کرتا ہے اور ذہن کو بھی بیدار رکھتا ہے ۔  
پوری سورت میں کائنات کے مختلف مظاہر کو بطور شہادت بیش فرماکر انسان اور جنوں کو چلینج دیا گیا کہ تم اپنے رب کی کن کن چیزوں کا انکار کر وگے؟  پھر انسان اور جنوں کو آگاہ کیا گیا ایک زبدست چلینج درج ذیل الفاظ میں  دیا گیا  ارشاد ہوا: 

سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾


 اس کا آغاز ایک منفرد انداز سے ہوتا ہے ،  الرحمن،  اللہ کی صفت سے جملہ خبریہ میں  بطور مبتدا  اس کا آغاز ہوتا  ہے قاری اس سے آگاہ ہوکر خبروں کے لیے  منتظر ہوتا ہے  اس کے بعد فورا مختلف خبروں کا ذکر آتا ہے اس کا  اختتام بھی صفت باری تعالی  پر ہوتا ہے ۔ اس کی آیات میں قافیہ بندی بھی ہے ۔ 

یہ سورۃ  قاری عبد الباسط کی تلاوت اور عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ ایک  ترتیب اور نظم  کے ساتھ قاری کے لیے پیش کی جاتی ہے ۔ 


بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

 الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿٦﴾ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾

 أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿٨﴾ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾

 وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿١٠﴾ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿١١﴾ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ﴿١٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٣﴾ 

خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ﴿١٤﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ﴿١٥﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٦﴾

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ﴿١٧﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٨﴾ 

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾

 يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٢٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾

 وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ﴿٢٤﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾

 كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿٢٧﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٨﴾

 يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ﴿٢٩﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٠﴾

 سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾

 يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ 

يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾

 فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ﴿٣٧﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٨﴾

 فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ﴿٣٩﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٠﴾

يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ﴿٤١﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٢﴾

 هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿٤٣﴾ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ﴿٤٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٥﴾

 وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾

 ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿٤٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٩﴾

 فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ﴿٥٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥١﴾

 فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿٥٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٣﴾

 مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ﴿٥٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٥﴾

 فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٥٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾ 

كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٥٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾

 هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿٦٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦١﴾

 وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿٦٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٣﴾

 مُدْهَامَّتَانِ ﴿٦٤﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٥﴾

 فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿٦٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٧﴾

فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿٦٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٩﴾

 فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿٧٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧١﴾

 حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ﴿٧٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٣﴾

 لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٧٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾ 

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٧﴾

 تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿٧٨﴾

-------------------

اردو ترجمہ : از سید ابوالاعلی مودودی ؒ 


اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

رحمن نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے ۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھا یا ۔ 

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں  اور تارے درخت سب سجدہ ریز ہیں ۔ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تو لو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو ۔ 

زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیۓ بنایا اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں ۔ کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوۓ ہیں ۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی ۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوۓ گارے سے بنا یا  اور جن کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا ۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن عجائب قدرت  کو جھٹلاؤ گے؟ 

دونوں مشرق اور دونوں مغرب ، سب کا مالک پروردگار ہی ہے ۔

 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ با ہم مل جائیں ، پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے ۔

 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

ان سمندروں سے موتی اور  مونگے نکلتے ہیں۔

  پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟

اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوۓ ہیں ۔ 

پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ ع

 ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کے کن کن کما لات کو جھٹلاؤ گے؟ 

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں ۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمید ہ کو جھٹلاؤ گے؟ ۔

اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیۓ فارغ ہو ۓ جاتے ہیں، 

(پھر دیکھ لیں گے کہ )، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ تے ہو؟۔ 

اے گرہ جن و انس اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ نہیں بھاگ سکتے ۔ اس کے لیۓ بڑا زور چاہیے ۔ 

اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو ) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں  چھوڑ دیا جاۓ گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے ۔

 اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

 پھر (کیا بنے گی اس وقت ) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جا ۓ گا؟

 اے جن و انس (اس وقت ) تم اپنے کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گنا ہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو گی ۔

 پھر پھر (دیکھ لیا جاۓ گا کہ ) تم دونوں گروہ رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

۔ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیۓ جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جاۓ گا ۔ 

اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

 (اس وقت کہا جاۓ گا ) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے ۔ اسی جہنم اور کھولتے ہوۓ پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں  گے ۔

 پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟ ع

 اور ہر اس شخص کے لیۓ جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ 

دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر و بیز ریشم کے ہوں گے ، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑی ہوں گی ۔ 

اپنے رب کی کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے۔؟

 ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہو گا۔ 

ا پنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

 ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ۔

 پھر اے جن و انس ، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے ؟

 اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 گھنے سر سبز و شاداب باغ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

 دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوۓ ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہو گا ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ 

وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام ۔ع