انَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿ الحج : ۱﴾ کی تفسیر - سید ابوالاعلی مودویؒ


یہ زلزلہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے اور اغلب یہ ہے کہ اس کا وقت وہ ہو گا جب کہ زمین یکایک الٹی پھرنی شروع ہو جاۓ گی اور سورج مشرق کے بجاۓ مغرب سے طلوع ہو گا۔ یہ بات قدیم مفسرین میں سے عَلْقَمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ: یکون ذٰلک عند طلوع الشمس من مغربھا۔ اور یہی بات اس طویل حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو ابن جریر اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ نفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فَزَع ، دوسرا نفخ صَعْق اور تیسرا نفخ قیام الرب العالمین۔ یعنی پہلا نفخ عام سراسیمگی پیدا کرے گا ، دوسرے نفخ پر سب مر کر گر جائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہو کر خدا کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ پھر پہلے نفح کی تفصیلی کیفیت بیان کرتے ہوۓ آپ بتاتے ہیں کہ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہو گی جو موجوں کے تھپیڑے کھا کر ڈگمگا رہی ہو، یا اس معلق قندیل کی سی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ اس وقت زمین کی آبادی پر جو کچھ گزرے گی اس کا نقشہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کھینچا گیا ہے۔مثلاً : 

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّا حِدَۃً وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُ کَّتَا دَکَّۃً وَّ احِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَّ قَعَتِ الْوَ ا قِعَۃُ O (الحاقہ) ’’ پس جب صور میں ایک پھونک ماردی جاۓ گی اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں توڑ دیے جائیں گے تو وہ واقعہ عظیم پیش آ جاۓ گا‘‘۔ 

دنیا و آخرت میں زمین کی وراثت کا قاعدہ - سید ابوالاعلی مودودیؒ

وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿الانبیاء : ۱۰۵﴾ 

ترجمہ : "اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کےلیے۔"

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں " 

 اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کر دیتا ہے ۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے ۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے ، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح ۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وراثت کی مالک بنی ہوئی ہیں ۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر ، مشرک ، دہریے ، فاسق، فاجر، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں ۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پاۓ گئے ہیں اور آج پاۓ جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف الفاظ میں کفر ، فسق ، فجور، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے ، وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئیں اور آج بھی نوازی جا ہی ہیں ۔ فرعون و نمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانرواؤں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر، مخلاف ، بلکہ مد مقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوۓ ہیں ۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ راۓ قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدہ کلیہ تو غلط نہیں ہو سکتا ، اب لامحالہ غلطی جو کچھ ہے وہ ’’ صالح ‘‘ کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یدسں ’’ صالح ‘‘ قرار پا سکیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہوں یا چنگیز اور ہلاکو ۔ اس نۓ تصور کی تلاش میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء ان کی رہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور ’’ صلاح‘‘ کو ڈار دینی تصور ’’ صلاحیت‘‘( (Fitness سے لے جا کر ملا دیتے ہیں ۔ 

حضرت ایوب ؑ کی شخصیت ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

ارشاد باری تعالی :

 "وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ،  فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ ذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ " سورۃ الانبیاء : 83-84)

ترجمہ : 
اور یہی ﴿ہوشمندی اور حکم و علم کی نعمت﴾ ہم نے ایوبؑ  کو دی تھی۔ یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ ” مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تُو ارحم الراحمین ہے۔“ 77 ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، 78 اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ 

-----------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودوی ؒ  لکھتے ہیں : 

" حضرت ایوب کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے ۔ جدید زمانے کے محققینِ میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے ، کوئی مصری اور کوئی عرب ۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے ، کوئی انہیں حضرت داؤد سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے ، اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے ۔ اسی کی زبان، انداز بیان، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں ، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا ہم اس پہر قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے ۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ یسعیاہ نبی اور حزقی ایل نبی کی صحیفوں میں ان کا ذکر آیا ہے ، اور یہ صحیفے تاریخی حیثیت سے زیادہ مستند ہیں ۔ یسعیاہ نبی آٹھویں صدی اور حزقی ایل نبی چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں ، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی یا اس سے پہلے کے بزرگ ہیں ۔ رہی ان کی قومیت تو سورہ نساء آیت 163 اور سورہ انعام آیت 84 میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان تو یہی ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے ، مگر وہب بن منَبّہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے بیٹے عیسُو کی نسل سے تھے ۔ 

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحۃ (13)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

"الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ” اور "الضَّالِّینَ”

پھر "صراط مستقیم” کی پہچان صرف اس کے مثبت پہلو ہی سے واضح نہیں کی گئی، بلکہ اس کا ضد مخالف پہلو بھی واضح کر دیا گیا : "غیر المغضوب علیھم ولا الضالین” "ان کی راہ نہیں جو مغضوب ہوئے، نہ ان کی جو گم راہ ہو کر بھٹک گئے۔”

"مغضوب علیھم” گروہ "منعم علیھم” کی بالکل ضد ہے، کیونکہ انعام کی ضد غضب ہے، اور فطرت کائنات کا قانون یہ ہے کہ راست باز انسانوں کے حصے میں انعام آتا ہے، نافرمانوں کے حصے میں غضب۔ "گمراہ” وہ ہیں جو راہ حق نہ پا سکے اور اس کی جستجو میں بھٹک گئے۔ پس مغضوب وہ ہوئے جنہوں نے راہ پائی اور اس کی نعمتیں بھی پائیں، لیکن پھر اس سے منحرف ہو گئے اور نعمت کی راہ چھوڑ کر محرومی و شقاوت کی راہ اختیار کر لی۔ "گمراہ” وہ ہوئے جو راہ ہی نہ پا سکے، اس لیے ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں اور صراط مستقیم کی سعادتوں سے محروم ہیں۔

"مغضوب علیہ” کی محرومی حصول معرفت کے بعد انکار کا نتیجہ ہے اور "گم راہ” کی محرومی جہل کا نتیجہ۔ پہلے نے پا کر، روگردانی کی اس لیے محروم ہوا، دوسرا پا ہی نہ سکا اس لیے محروم ہے۔ محروم دونوں ہوئے، مگر یہ ظاہر ہے کہ پہلے کی محرومی زیادہ مجرمانہ ہے، کیونکہ اس نے نعمت حاصل کر کے پھر اس سے روگردانی کی، اسی لیے اسے مغضوب کہا گیا اور دوسرے کی حالت صرف گم راہی کے لفظ سے تعبیر کی گئی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (12/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


خلاصہ بحث 

متذکرہ صدر تفصیلات کا ما حصل حسبِ ذیل دفعات میں بیان کیا جا سکتا ہے :

۱۔ نزول قرآن کے وقت دنیا کا مذہبی تخیل اس سے زیادہ وسعت نہیں رکھتا تھا کہ نسلوں، خاندانوں اور قبیلوں کی معاشرتی حد بندیوں کی طرح مذہب کی بھی ایک خاص گروہ بندی کر لی گئی تھی۔ ہر گرہ بندی کا آدمی سمجھتا تھا دین کی سچائی صرف اسی کے حصے میں آئی ہے۔ جو انسان اس مذہبی حد بندی میں داخل ہے نجات یافتہ ہے، جو داخل نہیں ہے نجات سے محروم ہے۔

۲۔ ہر گروہ کے نزدیک مذہب کی اصل و حقیقت محض اس کے ظاہری اعمال ورسوم تھے۔ جوں ہی ایک انسان انہیں اختیار کر لیتا، یقین کیا جاتا کہ نجات و سعادت اسے حاصل ہو گئی، مثلاً عبادت کی شکل، قربانیوں کی رسوم، کسی خاص طعام کا کھانا یا نہ کھانا، کسی خاص وضع و قطع کا اختیار کرنا یا نہ کرنا۔

۳۔ چونکہ یہ اعمال و رسوم ہر مذہب میں الگ الگ تھے اور ہر گروہ کے اجتماعی مقتضیات یکسان نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے ہر مذہب کا پیرو یقین کرتا تھا کہ دوسرا مذہب مذہبی صداقت سے خالی ہے، کیونکہ اس کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔

۴۔ ہر مذہبی گروہ کا دعویٰ صرف یہی نہ تھا کہ وہ سچا ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ دوسرا جھوٹا ہے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ہر گروہ صرف اتنے ہی پر قانع نہیں رہتا کہ اپنے ی سچائی کا اعلان کر دے، بلکہ یہ بھی ضروری سمجھتا کہ دوسروں کے خلاف تعصب و نفرت پھیلائے۔ اس صورت حال نے نوع انسانی کو ایک دائمی جنگ و جدال کی حالت میں مبتلا کر دیا تھا۔ مذہب اور خدا کے نام پر ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت کرتا اور اس کا خون بہانا جائز سمجھتا۔

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحہ (11/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


قرآن کا پیروان مذاہب سے مطالبہ

اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں اس نے کسی مذہب کے پیرو سے بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ کوئی نیا دین قبول کر لے، بلکہ ہر گروہ سے یہی مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے اپنے مذاہب کی حقیقی تعلیم پر جسے تم نے طرح طرح کی تحریفوں اور اضافوں سے مسخ کر دیا ہے، سچائی کے ساتھ کار بند ہو جاؤ۔ وہ کہتا ہے : اگر تم نے ایسا کر لیاتو میرا کام پورا ہو گیا، کیونکہ جوں ہی تم اپنے مذہب کی تعلیم کی طرف لوٹوگے، تمہارے سامنے وہی حقیقت آموجود ہو گی جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ میرا پیام کوئی نیا پیام نہیں ہے، وہی قدیم اور عالم گیر پیام ہے جو تمام بانیان مذہب دے چکے ہیں :

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۱ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا۱ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبُِٔوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۸:۵۔۶۹)

” (اسے پیغمبر! ان لوگوں سے ) کہہ دو، اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اورانجیل کی اور ان تمام صحیفوں کی جو تم پر نازل ہوئے ہیں، حقیقت قائم نہ کرو، اس وقت تک تمہارے پاس دین میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور (اے پیغمبر!) تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے (بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں، تم دیکھو گے کہ) ان میں سے بہتوں کا کفر و طغیان اس کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ جائے گا، تو جن لوگوں نے انکار حق کی راہ اختیار کر لی ہے، تم ان کی حالت پر بے کار کو غم نہ کھاؤ۔ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو نصاریٰ ہیں (یہ ہوں یا کوئی ہو) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس کے عمل بھی نیک ہوئے تو اس کے لیے نہ تو کسی طرح کا خوف ہے، نہ کسی طرح کی غمگینی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (10/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

پیروان مذہب نے دین کی وحدت بھلا دی اور شرع کے اختلاف کو بناء نزاع بنا لیا

قرآن کا جب ظہور ہوا تو دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام پیروان مذاہب،  مذہب کو صرف اس کے ظواہر و رسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا،  ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے،  کیونکہ وہ دیکھتا تھا  دوسرے کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ نہیں،  یہ اعمال و رسوم نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے۔ یہ محض مذہب کی عملی زندگی کا ظاہری ڈھانچا ہے مگر روح و حقیقت ان سے بالاتر ہے اور وہی اصل دین ہے۔ یہ اصل دین کیا ہے ؟ ایک خدا کی پرستش اور نیک عملی کی زندگی،  یہ کسی ایک گروہ ہی کی میراث نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی انسان کو نہ ملی ہو،  یہ تمام مذاہب میں یکساں طور پر موجود ہے۔ اور چونکہ یہ اصل دین ہے،  اس لیے نہ تو اس میں تغیر ہوا نہ کسی سے اختلاف رونما ہوا۔ اعمال و رسوم فرع ہیں،  اس لیے ہر زمانے اور ہر ملک کی حالت کے مطابق بدلتے رہے اور جس قدر بھی اختلاف ہوا انہیں میں ہوا۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ (9/12)، مولانا ابوالکلام آزاد

   اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (۷)


ہدایت

"ہدایت” کے معنی رہنمائی کرنے،  راہ دکھانے،  راہ پر لگا دینے کے ہیں۔ اجمالاً اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں ہم چاہتے ہیں ہدایت کے مختلف مراتب و اقسام پر نظر ڈالیں جن کا قرآن حکیم نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے ایک خاص مرتبہ وحی و نبوت کی ہدایت کا ہے۔


تکوین وجود کے مراتب اربعہ


تم ابھی پڑھ چکے ہو کہ خدا کی ربوبیت نے جس طرح مخلوقات کو ان کے مناسب حال جسم و قویٰ دیے ہیں،  اسی طرح ان کی ہدایت کا فطری سامان بھی مہیا کر دیا ہے۔ فطرت کی یہی ہدایت ہے جو ہر وجود کو زندگی و معیشت کی راہ پر لگاتی اور ضروریات زندگی کی جستجو میں رہنما ہوتی ہے۔ اگر فطرت کی یہ ہدایت موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی زندگی کو بقا کا سامان بہم پہنچا سکتی۔ چنانچہ قرآن نے جا بجا اس حقیقت پر توجہ دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے : ہر وجود کے بننے اور درجہ تکمیل تک پہنچنے کے مختلف مراتب ہیں اور ان میں آخری مرتبہ ہدایت کا مرتبہ ہے۔ سورۃ الاعلیٰ میں بالترتیب چار مرتبوں کا ذکر کیا گیا ہے :

الَّذِی خَلَقَ فَسَوَّىٰ (۲)وَالَّذِی قَدَّرَ فَهَدَىٰ (۳) – سورۃ نمبر ۸۷

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (8/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ صفات رحمت و جمال : ثانیاً تنزیہہ کی طرح صفات رحمت و جمال کے لحاظ سے بھی قرآن کے تصور پر نظر ڈالی جائے تو اس کی شان تکمیل نمایاں ہے۔ نزول قرآن کے وقت یہودی تصور میں قہر و غضب کا عنصر غالب تھا۔ مجوسی تصور نے نور و ظلمت کی دو مساویانہ قوتیں الگ الگ بنا لی تھیں۔ مسیحی تصور نے رحم و محبت پر زور دیا تھا۔ لیکن جزا کی حقیقت مستور ہوگئی تھی۔ اسی طرح پیروان بدھ نے بھی صرف رحم و محبت محبت پر زور دیا۔ عدالت نمایاں نہیں ہوئی۔ گویا جہاں تک رحمت و جمال کا تعلق ہے یا تو قہر و غضب کا عنصر غالب تھا یا مساوی تھا یا پھر رحمت و محبت آئی تھی تو اس طرح آئی تھی کہ عدالت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔

لیکن قرآن نے ایک طرف تو رحمت و جمال کا ایسا کامل تصور پیدا کردیا کہ قہر و غضب کے لیے کوئی جگہ ہی نہ رہی دوسری طرف جزائے عمل کا سر رشتہ بھی ہاتھ سے نہیں دیا کیونکہ جزا کا اعتقاد قہر و غضب کی بنا پر نہیں بلکہ عدالت کی بنا پر قائم کردیا۔ چنانچہ صفات الٰہی کے بارے میں اس کا عام اعلان یہ ہے : "قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی : اے پیغمبر، ان سے کہہ دو، تم خدا کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس صفت سے بھی پکارو اس کی ساری صفتیں حسن و خوبی کی صفتیں ہیں"

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (7/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ ہندوستانی تصور : ہندوستان کے تصور الوہیت کی تاریخ متضاد تصوروں کا ایک حیرت انگیز منظر ہے۔ ایک طرف اس کا توحیدی فلسفہ ہے، دوسری طرف اس کا عملی مذہب ہے۔ توحیدی فلسفہ نے استغراق فکر و عمل کے نہایت گہرے اور دقیق مرحلے طے کیے اور معاملہ کو فکری بلندیوں کی ایک ایسی اونچی سطح تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں قدیم قوموں کے مذہبی تصورات میں نہیں ملتی۔ عملی مذہب نے اشراک اور تعدد الہ کی بے روک راہ اختیار کی اور اصنامی تصوروں کو اتنی دور تک پھیلنے دیا کہ ہر پتھر معبود ہوگیا، ہر درخت خدائی کرنے لگا، اور ہر چوکھٹ سجدہ گاہ بن گئی۔ وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ بلندی کی طرف بھی ڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا۔ اس کے خواص نے اپنے لیے توحید کی جگہ پسند کی اور عوام کے لیے اشراک اور اصنام پرستی کی راہ مناسب سمجھی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (6/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 الرحمن الرحیم کی تفسیر کا بقیہ حصہ):

دنیا میں جب کبھی سچائی کی کوئی دعت ظاہر ہوئی ہے، تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کرلیا ہے کچھ نے انکار کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اس کے خلاف طغیان و جحود اور ظلم و شرارت کی جتھا بندی کرلی ہے۔ قرآن کا جب ظہور ہوا تو اس نے بھی یہ تینوں جماعتیں اپنے سامنے پائیں۔ اس نے پہلی جماعت کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا دوسری کو دعوت و تذکیر کا مخاطب بنایا مگر تیسری کے ظلم و طغیان پر حسب حالت و ضرورت پر زجر و توبیخ کی۔ اگر ایسے گروہ کے لیے بھی اس کے لب و لہجہ کی سختی رحمت کے خلاف ہے تو بلاشبہ اس معنی میں قرآن رحمت کا معترف نہیں اور یقیناً اس ترازو سے اس کی سے اس کی رحمت نہیں تولی جاسکتی۔

تم بار بار سن چکے ہو کہ وہ دین حق کے معنوی قوانین کو کائنات فطرت کے عام قوانین سے الگ نہیں قرار دیتا بلکہ انہی کا ایک گوشہ قرار دیتا ہے۔ فطرت کائنات کا اپنے فعل و ظہور کے ہر گوشے میں کیا حال ہے؟ یہ حال ہے کہ وہ اگرچہ سر تا سر رحمت ہے لیکن رحمت کے ساتھ عدالت اور بخشش کے ساتھ جزا کا قانون بھی رکھتی ہے۔ پس قرآن کہتا ہے، میں فطرت سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ تمہاری جس مزعومہ رحمت سے فطرت کا خزانہ خالی ہے یقینا میرے آستین و دامن میں نہیں مل سکتی :

’’ فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون : اللہ کی فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بناوٹ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی (اللہ کی ٹھہرائی ہوئی فطرت) سچا اور ٹھیک ٹھیک دین ہے لیکن اکثر انسان ایسے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہیں‘‘۔

قرآن کے ان تمام مقامات پر نظر ڈالو جہاں اس نے سختی کے ساتھ منکروں کا ذکر کیا ہے یہ حقیقت بیک نظر واضح ہوجائے گی۔(آیت 2، الرحمن الرحیم، کی تفسیرختم ہوئی)

۔۔۔۔۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (5/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 کی تفسیر کا بقیہ حصہ): ’’إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ : اور (دیکھو) تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اسی کی ایک ذات، رحمت والی اور اپنی رحمت کی بخشایشوں سے ہمیشہ فیض یاب کرنے والی ! بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں، اور کشتی میں جو انسان کی کاربراریوں کے لیے سمندر میں چلتی ہے اور اور بارش میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کی (آبپاشی) سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (اپنی مقررہ جگہ کے اندر) بندھے رکھے ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے (اللہ کی ہستی اور اس کے قوانین فضل و رحمت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں‘‘ (البقرہ : 163۔164)

اسی طرح ان مقامات کا مطالعہ کرو جہاں خصوصیت کے ساتھ جمال فطرت سے استدلال کیا ہے : ’’أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (٦) وَالأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (٧) تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ : کیا کبھی ان لوگوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا نہیں کہ کس طرح ہم نے اسے بنایا ہے اور کس طرح اس کے منظر میں خوشنمائی پیدا کردی ہے اور پھر یہ کہ کہیں بھی اس میں شگاف نہیں؟ اور اسی اور اسی طرح زمین کو دیکھو کس طرح ہم نے اسے فرش کی طرح پھیلا دیا، اور پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور پھر کس طرح قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگا دیں؟ ہر اس بندے کے لیے جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اس میں غور کرنے کی بات اور نصیحت کی روشنی ہے‘‘ (ق :6۔8)

قرآن کریم اور روحانیت

پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی


انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔جسم ایک مادی وجود ہے جسے آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے اور حواس کے ذریعے اسے محسوس کیا جا سکتا ہے، جب کہ روح غیرمادی وجود ہے، جسے نہ تو چھو ا جا سکتا ہے اور نہ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، مگر انسان کے وجود کے لیے اس حد تک لازم ہے کہ جسم اس کے بغیر باقی نہیں رہتا بلکہ فنا ہو جاتا ہے۔ روح کا رشتہ جس لمحے جسم سے منقطع ہوتا ہے انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور وہ مُردہ قرار پاتا ہے۔ جسم اپنی بقا کے لیے روح کا محتاج ہے۔


سوال یہ ہے کہ روح کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟


عصر حاضر کے مغربی مفکرین روح کو بھی مادّی شے سمجھتے ہیں، یعنی جس طرح جسم مادی وجود ہے اسی طرح روح کو بھی مادی وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان دونوں مادوں کے اتصال سے انسانی زندگی قائم رہتی ہے۔ روح سے جدا ہوکر جسم گل سڑ جاتا ہے اور روح بھی فنا ہو جاتی ہے ۔ جرمن فلسفی کانٹ کا کہنا ہے کہ: ’’ہم اپنے وجود کے اندر نہ تو مافوق الشعور شے کو تسلیم کر سکتے ہیں اور نہ اس کے اثرات کا تجربہ کر سکتے ہیں ‘‘۔ (Encyclopedia of Religions and Ethics، نیویارک، ۱۹۵۸ء، جلد xi، ص ۸۳)


ام الکتاب ۔ تفسیرسورۃ الفاتحۃ (4/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

ام الکتاب - سورۃ الفاتحۃ - مولانا ابوالکلام آزاد 
(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے !

ماضی کے ایک نقطہ بعید کا تصور کرو۔ جب ہمارا یہ کرہ سورج کے منتہب کرے سے الگ ہوا تھا۔ نہیں معلوم کتنی مدت اس کے ٹھنڈے اور معتدل ہونے میں گزر گئی اور یہ اس قابل ہوا کہ زندگی کے عناصر اس میں نشوونما پا سکیں۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب اس کی سطح پر نشوونما کی سب سے پہلی داغ بیل پڑی اور پھر نہیں معلوم کتنی مدت کے بعد زندگی کا وہ اولین بیج وجود میں آسکا جسے پروٹو پلازم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر حیات عضوی کے نشوونما کا دور شروع ہوا اور نہیں معلوم کتنی مدت اسی پر گزر گئی کہ اس دور نے بسیط سے مرکب تک اور ادنی سے اعلی درجے تک ترقی کی منزلیں طے کیں۔ یہاں تک کہ حیوانات کی ابتدائی کڑیاں ظہور میں آئیں اور پھر لاکھوں برس اس پر نکل گئے کہ یہ سلسلہ ارتقا وجود انسانی تک مرتفع ہو۔ پھر انسان کے جسمانی ظہور کے بعد اس کے ذہنی ارتقا کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک طول طویل مدت اس پر گزر گئی۔ بالآخر ہزاروں برس کے اجتماعی اور ذہنی ارتقا کے بعد وہ انسان ظہور پذیر ہوسکا جو کرہ ارضی کے تاریخی عہد کا متمدن اور عقیل انسان ہے۔ گویا زمین کی پیدائش سے لے کر تریق یافتہ انسان کی تکمیل تک، جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ بنتا سنورتا رہا ہے وہ تمام تر انسان کی پیدائش و تکمیل ہی کی سرگزشت ہے۔

ام الکتاب : تفسیر سورۃ الفاتحۃ (3/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

ربوبیت

حمد کے بعد بالترتیب چار صفتیں بیان کی گئی ہیں (رب العالمین، الرحمن، الرحیم، مالک یوم الدین) چونکہ الرحمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلوؤں سے ہے اس لیے دوسرے لفظوں میں انہیں یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت، رحمت، عدات، تین صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

الہ کی طرح ’’ رب‘‘ بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہیے۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا ’’ ربی‘‘ اور ’’ رباہ‘‘ پرورش کنندہ، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ’’ رابو‘‘ بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر دیتا ہے۔

بہرحال عربی میں ’’ ربوبیت‘‘ کے معنی پالنے کے لیے ہیں لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہیے۔ اسی لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ ’’ ھو انشاء الشیء حالا فحالا الی حد التمام‘‘ (مفردات راغب اصفہانی)۔ یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا حتی کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو روپیہ دیدے تو یہ اس کا کرم ہوگا، جود ہوگا، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتا جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عافطہ سے خالی ہوگا ربوبیت نہیں ہوسکتا۔

روزہ ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۙ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾ شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾ اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪ وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿  ۱۸۷﴾

ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔1چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دُوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں﴿پھر نہ رکھیں﴾ تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔ 

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔

اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں  یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔

تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو۔ نیز راتوں کو کھاوٴ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہیِ شب کی دھاری سے سپیدہ ٴ صبح کی دھاری نمایا ں نظر آجائے۔ تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پُورا کرو ۔ اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو ، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویےّ سے بچیں گے۔

(سورۃ البقرۃ : 183 تا 187)

--------------------------------

تفسیری حواشی : 

1- اسلام کے اکثر احکام کی طرح روزے کی فرضیّت بھی بتدریج عائد کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مسلمانوں کو صرف ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر یہ روزے فرض نہ تھے۔ پھر سن ۲ ہجری میں رمضان کے روزوں کا یہ حکم قرآن میں نازل ہوا، مگر ا س میں اتنی رعایت رکھی گئی کہ جو لوگ روزے کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور پھر بھی وہ روزہ نہ رکھیں، وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ بعد میں دُوسرا حکم نازل ہوا اور یہ عام رعایت منسُوخ کر دی گئی۔ لیکن مریض اور مسافر اور حاملہ یا دُودھ پلانے والی عورت اور ایسے بڈھے لوگوں کے لیے، جن میں روزے کی طاقت نہ ہو، اس رعایت کو بدستور باقی رہنے دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ بعد میں جب عذر باقی نہ رہے تو قضا کے اتنے روزے رکھ لیں جتنے رمضان میں اُن سے چھُوٹ گئے ہیں۔


مشہور عرب سردار احنف بن قیس کا فہم قرآن

(… اپنے آپ کو پا لیا)

سیّدابوالحسن علی ندویؒ


احنف بن قیس ایک بڑے عرب سردار تھے۔ مشہور تھا کہ: اگر احنف کو غصّہ آتا ہے تو ایک لاکھ تلواروں کو غصّہ آجاتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت تو انھوں نے نہیں کی، مگر آپؐ کی زیارت کرنے والوں کی زیارت کی اور ان کے ساتھ رہے۔ خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے معتقد اور مخلص تھے۔ ایک دن کسی قاری نے یہ آیت تلاوت کی:

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْہِ ذِكْرُكُمْ ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۱۰ۧ (الانبیا ۲۱:۱۰) ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ہی تذکرہ موجود ہے۔ تم غوروفکر سے کام نہیں لیتے؟

عربی اُن کی زبان تھی، یہ سن کر چونک پڑے۔ گویا نئی بات سنی، کہنے لگے: ’’ہمارا تذکرہ! ذرا قرآن تو لائو، دیکھوں میرا کیا تذکرہ ہے اور میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں؟‘‘قرآن مجید دیکھا تو لوگوں کی صورتیں ان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔

٭ایک گروہ آیا جس کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَہْجَعُوْنَ۝۱۷ وَبِالْاَسْحَارِہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۝۱۸ وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝۱۹ (الذاریات ۵۱:۱۷-۱۹) وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں استغفار کیا کرتے تھے اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق تھا۔

٭پھر کچھ ایسے لوگ آئے جن کا حال یہ تھا کہ:
تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۡوَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۱۶ (السجدہ ۳۲:۱۶) ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے رب کو اُمید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔

امام رازی ؒ کی "تفسیر کبیر" کا تعارف

مولانا عمار ناصر 

ماہنامہ اشراق ، مئی 2002


’’مفاتیح الغیب‘‘ یعنی تفسیر کبیر کا شمار تفسیر بالرائے کے طریقہ پر لکھی گئی اہم ترین تفاسیر میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیف چھٹی صدی ہجری کے نام ور عالم اور متکلم امام محمد فخر الدین رازی (۵۴۳ھ ۔ ۶۰۶ھ) نے شروع کی ، لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا ۔ بعد میں اس کی تکمیل، حاجی خلیفہ کی رائے کے مطابق قاضی شہاب الدین بن خلیل الخولی الدمشقی نے اور ابن حجر کی رائے کے مطابق شیخ نجم الدین احمد بن محمد القمولی نے کی۔ یہ بات بھی معین طور پر معلوم نہیں کہ تفسیر کا کتنا حصہ خود امام صاحب لکھ پائے تھے ۔ ایک قول کے مطابق سورۂ انبیا تک ، جبکہ دوسرے قول کے مطابق سورۂ فتح تک تفسیر امام صاحب کی اپنی لکھی ہوئی ہے۔ ۱؂ تاہم اس معاملے میں سب سے زیادہ تشفی بخش اور مدلل نقطہ نظر الاستاذ عبد الرحمن المعلمی نے اپنے مضمون ’’حول تفسیر الفخر الرازی‘‘ میں اختیار کیا ہے۔ انھوں نے مضبوط داخلی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ تفسیر کے درج ذیل حصے خود امام صاحب نے لکھے ہیں ، جبکہ باقی اجزا الخولی یا القمولی کے لکھے ہوئے ہیں:
۱۔ سورۂ فاتحہ تا سورۂ قصص
۲۔ سورۂ صافات ، سورۂ احقاف
۳۔ سورۂ حشر، مجادلہ اور حدید
۴۔ سورۂ ملک تا سورۂ ناس ۲؂


خصوصیات: 

جامعیت

تفسیر کبیر کی نمایاں ترین خصوصیت، جس کا اعتراف اکابر اہل علم نے کیا ہے، اس کی جامعیت ہے۔ وہ جس مسئلہ پر لکھتے ہیں، اس کے متعلق جس قدر مباحث ان سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں، ان سب کا استقصا کر دیتے ہیں۔ محمد حسین ذہبی لکھتے ہیں :

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " البیان" : خصائص و امتیازات (۱)

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018

قرآن مجید کو اس وضاحت کے ساتھ اتاراگیاہے کہ یہ سراسرہدایت اورحق کے معاملے میں پیداہوجانے والے اختلافات میں خداکی آخری حجت ہے۔اس کی دین میں یہی حیثیت ہے کہ اسے سیکھنے اوردوسروں کوسکھانے کاکام ہر زمانے میں حقیقی مسلمانوں کاہدف رہا ہے۔یہ کام شروع دورمیں بہت سادہ اورکسی حدتک آسان بھی تھاکہ لوگ اس کی زبان سے مکمل طورپرآشنا،اس کی آیات کے پس منظر اور جس ماحول میں یہ اُتریں،اُن سے اچھی طرح سے واقف تھے۔لیکن یہ قدرے مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا گیاجب اس کتاب کے براہ راست مخاطبین اس دنیامیں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کی زبان میں کچھ ناگزیرتبدیلیاں رونماہونے لگیں۔ الفاظ میں متولد مفاہیم پیدا ہوئے تو بعض اسالیب متروک ہوکرنئی نئی صورتوں میں ظاہرہونے لگے۔اس سلسلے کی ایک مشکل اُن نومسلموں کے ہاں بھی پیدا ہوئی جو عربی زبان سے قطعی نابلدہونے کی بناپر اپنے اورقرآن کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب دیکھتے تھے۔ 

یہ حالات تھے جن میں صاحبان علم کواس بات کا شدت سے احساس ہواکہ فہم قرآن کے کام کوباقاعدہ علمی طریقے سے انجام دیاجائے ۔سواُنھوں نے اسے متعددزبانوں میں بیان کرنا شروع کیاجوترجمہ کی ایک مستقل اورشان دار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اس سے پہلے کتاب کا اصل مدعا جاننے کے لیے انھوں نے بہت سی تفسیری کاوشوں کابھی اہتمام کیااوراس کے لیے عام طورپردوطریقوں کواختیارکیا:ایک یہ کہ اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کے بجاے صرف اگلے لوگوں کی آراکونقل کردیااوردوسرے یہ کہ اصل زبان سے استشہادکرتے ہوئے اورتاریخ کی حتمی شہادت اور آیات کے بین السطورسے مددلیتے ہوئے خوداس کے مطالب کوبیان کیا۔یہ کوششیں بہت سالوں تک اسی طرح ہوتی رہیں اور مسلمانوں کے تفسیری علم میں گراں قدراضافے کاباعث بنیں۔

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (2)


 جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن
" ​البیان" : خصائص و امتیازات (2) 

’’واو‘‘

’’واو‘‘ کا حرف بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اسے مترجمین بالعموم’’اور‘‘کے لفظ سے اداکرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے درست ہے کہ عربی کے ’’واو‘‘ کی طرح یہ بھی اپنے اندرمعنی و مفہوم کی بہت سی وسعتیں رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کواپنی گرفت میں لے لینا، ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ قرآن کے اصل فہم کوترجمے میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ’’ واو‘‘جس مقام پرجس معنی میں استعمال ہوا ہو، وہاں اُسی معنی کواداکرنے والے اردوکے الفاظ لائے جائیں۔ ’’البیان‘‘ میں یہ اہتمام کس قدر کیا گیا ہے، ذیل کی چندمثالیں بڑی حدتک اسے بیان کردیتی ہیں:

۱۔ ہاں

وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا.(النساء ۴: ۵)
’’ہاں،اِس سے فراغت کے ساتھ اُن کوکھلاؤ،پہناؤاوراُن سے بھلائی کی بات کرو۔‘‘


یتیموں کے بارے میں فرمایاہے کہ اگروہ نادان اوربے سمجھ ہوں تواُن کامال اُن کے حوالے نہ کرو۔اس ہدایت کا منشا یہ بالکل نہیں تھا کہ اُن کی واجبی ضروریات کوبھی پورانہ کیاجائے،چنانچہ اصل حکم پراستدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوھُمْ‘۔ یعنی، جہاں تک اُن کی ضروریات کاتعلق ہے توانھیں فراغت کے ساتھ پورا کرو۔ یہاں ’’واو‘‘کاترجمہ’’ اور‘‘کے لفظ سے کریں تویہ مدعاکسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں ’’ہاں‘‘ کا لفظ آسانی سے اس مشکل کوحل کردیتاہے۔
’’البیان‘‘ میں بعض مقامات پرکلام کی مناسبت سے اس’’ہاں‘‘میں مزیدلفظوں کا اضافہ بھی کیاگیاہے،جیساکہ ’’ہاں،البتہ‘‘ یا ’’اورہاں‘‘وغیرہ:

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (3)

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018 


’’تنوین‘‘

تنوین بھی ایک حرف ہے کہ اسے نحوی حضرات ’’ن‘‘ کاقائم مقام قراردیتے ہیں۔یہ اصل میں تنکیرکے لیے آتی ہے،مگرکلام عرب میں اس سے بعض دوسرے معانی کوبھی اداکیاجاتاہے۔ان میں سے ایک معنی تفخیم شان کابھی ہے اوراس کاترجمہ عام طورپراس کے صرف ایک پہلو کے لحاظ سے کیاجاتاہے،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’’البیان‘‘ میں تفخیم کی اس تنوین کاترجمہ ہرجگہ ایک سانہیں کیاگیاکہ مختلف مقامات پراس کے مختلف پہلومرادہواکرتے ہیں،مثلاً:

۱۔ عظمت

سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النور ۲۴: ۱)
’’یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کوہم نے اتاراہے اوراس کے احکام (تم پر)فرض ٹھیرائے ہیں اوراس میں نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم یادرکھو۔‘‘


یہاں ’سُوْرَۃٌ‘ کی تنوین اصل میں اس کی عظمت اوراہمیت کے اظہارکے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبرہے اوراس حذف سے مقصودیہ ہے کہ ساری توجہ خبرپرمرکوزہوکررہ جائے۔مزیدیہ کہ اگلے جملے، جیساکہ اسے ہم نے اتاراہے،اس کے احکام فرض ٹھیرادیے ہیں ،اس میں نہایت واضح تنبیہات اتاردی ہیں؛ان سب سے بھی ’سُوْرَۃٌ‘ کے اس لفظ میں عظمت واہمیت کاپہلوپیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ ’’ایک عظیم سورہ‘‘ کے الفاظ میں کیاگیاہے۔

۲۔ برتری

بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلآی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۲)
’’ہرگزنہیں،بلکہ یہ توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداکوایک برترطریقے پرپایاہے اورہم اُنھی کے قدم بہ قدم ٹھیک راستے پرچل رہے ہیں۔‘‘

واقعۂ نوح

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق 2018 


یہ انسانی تاریخ کاایک اہم واقعہ ہے جس کابیان ہمیں کئی مذہبی روایات میں ملتاہے۔بائیبل میں تاریخی ترتیب کے ساتھ اس کی تفصیل آئی ہے تو قرآن میں تذکیری اندازکے مطابق جستہ جستہ اس کے متعلق بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں الہامی ہونے کے لحاظ سے چونکہ ایک ہی روایت کی امین ہیں اور ان میں اکثر و بیش تر واقعات باہم موافق پائے جاتے ہیں،اس لیے ان میں یہ واقعہ بھی اپنی اصل کے لحاظ سے ایک ساآیاہے۔ تاہم،کئی مقامات پریہ اپنے بیان میں مختلف بھی ہوگیاہے اور تورات کی نقل میں غلطی، اِلحاق اور تحریف جیسے امکانات کے ہوتے ہوئے ایساہوجاناناممکن نہیں ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات کیاہیں؟ان سے توہم سب لوگ واقف ہیں اور اُنھیں یہاں بیان کرنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں،مگراس کے بارے میں چندسوالات ایسے پیداہوتے ہیں جو شدت سے اس بات کا تقاضاکرتے ہیں کہ اُن کے تشفی بخش جواب ضروردیے جائیں، مثال کے طورپر:
۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیا سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟
۲۔ طوفان نوح کیاپوری زمین پرآیا؟
۳۔ اُن کی کشتی میں کون سوارہوئے؟
۴۔ کیانوح کے اہل محض اہل ہونے کی بناپرسوارہوئے؟
۵۔ آج کے سب انسان کس کی اولادہیں؟
۶۔ سیدنا ابراہیم کیاواقعی حضرت نوح کی نسل سے ہیں؟
ہم ذیل میں ان سوالات کے جواب میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں:

۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیاسب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟

تفسیر اور تذکیر کا فرق

محمد ذکوان ندوی 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018


قرآن مجید سے ذِکر ونصیحت کا فائدہ حاصل کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ مفروضہ ہے کہ — قرآن ایک مشکل کتاب ہے۔ اُس کو سمجھنا عام لوگوں کا کام نہیں۔یہ صرف علما کا مقام ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اُس سے استفادہ کرسکیں۔

اِس قسم کا مفروضہ قرآن کے تذکیری اور تفسیری مطالعے میں فرق نہ کرنے کی بنا پرپیدا ہواہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن سے استفادہ کرنے کی دو سطحیں ہیں: ایک ہے تلاوت براے تذکیر، اور دوسری ہے تلاوت براے تفسیر۔ قرآن میں بار بار ارشادہوا ہے کہ تذکیر کے لیے اُسے پوری طرح موزوں بنا دیا گیا ہے: ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ‘۔ قرآن کے مطابق، تذکیر کے لیے اصلاً ’تَقْوٰی‘ (الحاقہ ۶۹: ۴۸) اور ’اِنَابَت‘ (غافر۴۰: ۱۳) جیسی داخلی صفات درکار ہیں۔ البتہ تفسیر کے لیے، بلاشبہ یہ ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر مطلوب علمی استعدادپیدا کرے۔

اِس معاملے میں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اِس باب میں خود قرآن مجید کا اپنا بیان کیا ہے؟ قرآن کا مطالعہ واضح طورپر بتاتا ہے کہ یہ مفروضہ بالکل بے اصل ہے۔ قرآن نے متعدد مقام پر باربار اِس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد کے بیان واِبلاغ کے اعتبار سے بالکل ایک واضح کتاب ہے۔ وہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اپنے ابدی مستقبل (جنت یا جہنم) کا آخری فیصلہ سننے کے لیے اُس کے حضور میں پیش ہونا ہے۔

اِسی کے ساتھ قرآن میں باربار یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن نصیحت کے لیے پوری طرح موزوں بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک ہی سورہ میں چار مرتبہ بہ تکرار اِس حقیقت کو دہرا یا گیا ہے: ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ، فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ‘ (القمر۵۴: ۱۷، ۲۲، ۳۲، ۴۰)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو یاددہانی کے لیے نہایت موزوں بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا؟ 
اِس کے علاوہ،ایک معمولی فرق کے ساتھ یہی بات قرآن میں مزید دوبار حسب ذیل الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

* ’فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیۡنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا‘ (مریم ۱۹: ۹۷)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو تمھاری زبان میں اِسی لیے سہل اور موزوں بنا دیا ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو اِس کے ذریعے سے بشارت دو جو خدا سے ڈرنے والے ہیں،اوراِن ہٹ دھرم لوگوں کو اِس کے ذریعے سے خبردار کردو۔ 

* ’فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ‘ (الدخان ۴۴: ۵۸)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو تمھاری زبان میں نہایت موزوں بنا دیا ہے تاکہ وہ اِس سے یاددہانی حاصل کریں۔

اِسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے: ’وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ. قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ‘ (الزمر ۳۹: ۲۷- ۲۸)، یعنی ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کی تذکیر کے لیے ہر قسم کی تمثیلیں بیان کردی ہیں تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔وہ ایک عربی قرآن کی صورت میں ہے جس کے اندر کوئی ٹیڑھ نہیں پائی جاتی۔ 

اِن آیات سے یہ حقیقت پوری طرح مبرہن ہوجاتی ہے کہ تذکیرکے لیے قرآن بالکل واضح اور آسان کتاب ہے ۔اِسی کے ساتھ قرآن میں ہرگزکسی قسم کی کوئی فلسفیانہ پیچیدگی نہیں پائی جاتی۔وہ فصیح و بلیغ زبان، اور ایسے فطری اور دل نشیں اسلوب میں نازل کیا گیا ہے جس سے اُس کا اصل مقصد ہرجگہ کسی ابہام کے بغیر پوری قطعیت کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے۔ 

بائبل کے ترجمے کی کہانی


ڈاکٹر کوثرمحمود

ہمارے اُردو دان طبقے کو لفظ بائبل ذرا نامانوس لگے گا ۔ ہم نے قرآن سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں تورات، زبور اور انجیل کا نام سُن رکھا ہے لیکن ان پر فرداً فرداً بات کرنے سے پہلے یہ سُن لیجئے کہ حدیث میں وارد ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے جن میں 315صاحبِ کتاب تھے۔ آدم ؑ کے دس صحیفوں کا ذکر ملتا ہے لیکن اب وہ ناپید ہیں ۔ قدیم ترین صحائف میں حضرت ادریس ؑ (ا خنوخ یا انوخ) کا صحیفہ بحرِ مردار کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حال ہی میں انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔

علاوہ ازیں آتش پرستوں کے ہاں قدیم مذہبی کتاب؛ زردشت کی ’’اوستا‘‘ پائی جاتی ہے جو ژند زبان میں لکھی گئی پھر جب ژند زبان متروک ہو گئی تو اس کا خلاصہ اور شرح ’’ پاژند‘‘ نامی زبان میں لکھا گیا اور اب اس کا بھی صرف دسواں حصہ محفوظ ہے۔

ہندوستان میں بھی کچھ مذہبی کتابیں مثلاً وید ، پران ، اپنثد اور دوسری کتابیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہندو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں سال پرانی ہیں لیکن علمائے مستشرقین نے ان کی قدامت کو 1500سے1200 قبل مسیح کے لگ بھگ مانا ہے۔ ’سر ایڈورڈ کا لبروک ‘نے اسے1400قبل مسیح کی تصنیف مانا ہے۔ *۱

عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تورات ،زبور اورانجیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جو بائبل ملتی ہے یہ ایک کتاب نہیں بلکہ تین زبانوں عبرانی، آرامی اور یونانی کی بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ آج تک دُنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اب تک اس کے531 زبانوں میں مکمل تراجم ہو چکے ہیں تین ہزار کے لگ بھگ اِس کے جزوی تراجم موجود ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں ،

1۔۔۔عہد نامۂ عتیق ( یا عہدنامۂ قدیم)
2۔۔۔ عہد نامہ جدید

عہد نامۂ عتیق میں حضرت موسی ؑ سے منسوب پانچ کتابیں ہیں جن میں ایک نام تورہ (Torah) بمعنی قانون ہے جسے ہم تورات کے نام سے جانتے ہیں یہ اُن احکامات کا مجموعہ ہے جو موسیٰ ؑ پر الواح کی شکل میں نازل ہوئے تھے۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق داؤد ؑ پر اُترنے والی کتاب کا نام زبور تھا۔ یہ زبور بھی عہدنامۂ عتیق میں ’سام‘ (Psalm) نامی کتاب میں ’’ خدا کی حمد و ثنا کی نظمیں‘‘ کے نام سے موجود ہے۔

کیا قرآن کریم کا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

اجمل کمال

کیا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب کی ایک معنویت تو وہ ہے جو ادبی تحریروں پر صادق آ سکتی ہے؟ ۔ چنانچہ جب غیرعربی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کی نوبت آئی تو اس سے متعلق کئی سوالات پر اختلاف رائے پیدا ہوا۔ ان بحثوں میں تین سوالات زیادہ اہم تھے:

۱) کیا قرآن کا کسی غیرعربی زبان میں ترجمہ ممکن ہے؟
۲) کیا قرآن کا ترجمہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
۳) کیا کوئی غیرعربی ترجمہ قرآن کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

روٹلج انسائیکلو پیڈیا آف ٹرانسلیشن اسٹڈیز ۱۹۹۸ء میں قرآن کے ترجمے کے موضوع پر حسن مصطفی کا لکھا ہوا مضمون شامل ہے جس سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:2

(۱) قرآن کے ترجمے کے جواز کے مسئلے کو اس کے قابلِ ترجمہ ہونے کے نسبتاًعمومی سوال سے علیحدہ کرنا دشوار ہے۔ جو لوگ قرآن کے قطعی ناقابل ترجمہ ہونے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی واضح حمایت سورۂ یوسف کی آیت 2سے حاصل کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے:

“We have sent it down/as an Arabic Qur’an”

آج بھی ایک طاقتور اور بااثر مکتب فکر ایسا موجود ہے جس کی رائے ہے کہ قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جتنے بھی ’ترجمے‘ موجود ہیں وہ سب ناجائز ہیں۔ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن کا ترجمہ کرنا ہی ہو تو مترجم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ …تاہم قرآن کے ترجمے کے ناجائز ہونے کے عقیدے کے مخالفین بھی ہمیشہ موجود رہے ہیں، یہاں تک کہ اسلام کے قرون اولیٰ میں بھی موجود تھے۔ عراق سے تعلق رکھنے والے محقق اور عالم دین امام ابوحنیفہ (c.700-67) مانتے تھے کہ قرآن کی تمام آیات کاکسی غیرزبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے لیکن ’’اس ترجمے کو ایک جلد میں اس طرح شائع کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مقابل اصل عربی آیات درج نہ ہوں‘‘۔

مختصر تاریخ اردو ترجمۂ قرآن

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

بارہویں صدی ہجری میں اردو زبان برصغیر پاک وہند میں نہ صرف ادبی زبان بن کر اُبھر رہی تھی بلکہ کثیر تصنیفات و تالیفات اور تراجم کے باعث ایک عام فہم زبان بھی بنتی جارہی تھی ۔ اگرچہ دکن کی اسلامی ریاستوں میں عرصۂ دراز سے اردو زبان میں عقائد تصوف و اخلاقیات اور فقہی کتابوں کے تراجم ہورہے تھے مگر اردو ترجمۂ قرآن کا آغاز ابھی نہ ہوا تھا۔ شاید اردو کی نشوونما کی ابتداء میں چونکہ ذخیرہئ الفاظ محدود تھا اس لئے ترجمۂ قرآن کی طرف علماء نے قدم نہ اٹھایا۔ دوسری طرف بر صغیر سے عربی زبان کے بعد فارسی زبان بھی تیزی کے ساتھ رخصت ہونے لگی تو عوام تو عوام، خواص کے لئے بھی اب ترجمہ قرآن اردو زبان میںضروری سمجھا جانے لگا چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م1176ھ)جو خود فارسی ترجمہ قرآن کے برصغیرمیں اولین مترجم میں شمار ہوتے ہیں ان کے دو صاحبزادں کو اردو زبان کے ترجمہ قرآن کے اولین مترجم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

شاہ محمد رفیع الدین دہلوی (م 1233ھ/1817ء) نے اردو زبان کا پہلا مکمل لفظی ترجمہ قرآن 1200ھ میں مکمل کیا جب کہ آپ کے چھوٹے بھائی شاہ محمد عبدالقادر دہلوی (م 1230ھ/1814ء) نے اردو زبان کی تاریخ کا پہلا مکمل بامحاورہ ترجمہ قرآن 1205 ھ /1790ء میں مکمل کیا ۔ یہ دونوں تراجم قرآن تیرھویں صدی ہجری ہی میں شائع ہونا شروع ہوگئے جس کے باعث ان کو اولیت کے ساتھ ساتھ پذیرائی بھی حاصل ہوئی اگرچہ تاریخ میں ان دونوں اردو تراجم قرآن سے قبل کے بھی تراجم پائے جاتے ہیں لیکن یاتو وہ مکمل ترجمہ قرآن نہیں تھے یا مخطوطہ ضائع ہوگئے اس لحاظ سے ان دونوں بھائیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ایک لفظی ترجمہ قرآن کا بانی ہے تو دوسرا با محاورہ ترجمہ قرآن کا حامل ۔

شاہ برادران کے بعد فورٹ ولیم کالج ( قائم شدہ 1214ھ/ 1800ء) نے پہلے انجیل کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا اور پھر 5 مولوی حضرات نے مل کر اردو میں ترجمہ قرآن (1219 ھ /1804ء) میں مکمل کیا ۔

 تیرھویں صدی ہجری میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 25 ترجمہ قرآن اردو زبان میں کئے گئے مگر کسی کو بھی شاہ برادران کی طرح پذیرائی حاصل نہ ہو سکی البتہ سرسید احمدخاں کی تفسیر اور ترجمہ 15 پاروں تک شائع ہو ا تھا اور علی گڑھ کے ہم خیال لوگوں کے درمیان اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔

اصول ترجمہ قرآن کریم

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری


قرآن مجیدکی تعلیمات زمانی و مکانی قیود سے ماورا بنی نوع انسان کی ہدایت پر مبنی ہیں اس اعتبار سے اس کی تعلیمات دنیا کی دیگر زبانوں تک پہنچنا ہی اس کا اصل ھدف ہے کہ اسی کیفیت میں اس کے نزول کا مقصد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے لہذا قرآن مجید کی ترجمانی یا ترجمہ دیگر زبانوں میں کرنا اس کے کچھ آداب اور معین کیفیات ہیں جن کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور اگر ان امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو قرآن مجید کی ترجمہ کما حقہ ناممکن ہے یا اس کا آفاقی پیغام اپنی اصل روح کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے لفظ قرآن ، تفسیر اور ترجمہ کے معانی و مفاہیم ذکر کردیے جائیں تاکہ اصل مطلب کے فہم اور تفہیم میں آسانی رہے۔
قرآن : عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)

"بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو"

پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔

تفسیر: عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے "واضح کرنا اور بیان کرنا" اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے: وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا(الفرقان 25/ 33)
"اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے"

اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔
جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔

علم قراء ت: اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔

علم رسم عثمانی: اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔
علم کلام: اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔
علم صرف: اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔
علم نحو: اس میں کلمات کے معرب و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔
علم معانی: اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔
علم بیان: اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔
علم بدیع: اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔

وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:

علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے: (1) لغت (2) صرف (3) نحو (4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید (7) قصص (8) ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی (10) اسباب نزول کی معرفت (11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث ،  وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔

ترجمہ و تفسیر قرآن کے لئے شرائط

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

قرآن مجیدفرقان حمید دنیا میں واحد کتاب ہے جس کو مسلسل 1400سال سے شائع کیاجارہا ہے ، اور کسی زمانے میں اس کی اشاعت کے وقت اس کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکی یہاں تک کہ زیرزبر پیش میں بھی کبھی مسلمانوں میں (معاذاللہ) تنازعہ نہ ہوسکا اور نہ ہوسکے گا کیو نکہ جب سے یہ نازل ہوئی ہے اس کو عربی زبان میں حفظ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسی لئے اس میں کبھی بھی کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہے یہاں راقم صرف ایک حوالہ انسائیکلو پیڈیا سے دینا چاہے گا جس سے دنیا کے سامنے یہ بتایاجا سکے کہ مسلمان ایک ایسی کتاب کے پیروکار ہیں جس پر تمام مسلمان ١٤٠٠ سال سے متفق ہیں اور تاقیامت متفق رہیں گے۔ اور یہ گواہی بھی ایک عیسائی مصنف کی ہے۔

Yet There is no doubt that the Koran of today is substantially same as it came from Prophet (Muhammad Sallallaho Aalaihe Wasallam) (The Webster Family Encyclopedia V.10 p. 237, 1984(

قرآن کریم کا نزول مکہ کی وادی سے شروع ہوا جہاں تمام مقامی لوگ عرب تھے اور عربی زبان بولتے تھے اور قرآن کریم کے نزول کا اختتام مدینہ پاک کی وادی میں ہوا جہاں انصار بھی عربی ہی بولتے تھے۔ اللہ پاک نے اپنے کلام کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا تاکہ پہلے پہل عمل کرنے والے اس کو اچھی طرح سمجھ کر عمل کرسکیں تاکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ماڈل بن جائیں اور پھر عجمی لوگ عملی قرآن ان صحابہ کرام کے عمل سے سیکھ سکیں اور یوں یہ سلسلہ جاری رہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اِنَّآ اَنزَلْنٰہُ قُرئٰنًا عَرَ بِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ O (الیوسف:10)
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو ۔

مخطوطہ قرآن ، برمنگھم یونیورسٹی

 مخطوطہ برمنگھم , قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق  ہے
 برطانیہ کی برمنگھم  یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود قرآن کریم کا دو ورقی نسخہ جو سن 2015ء میں برمنگھم کتب خانے سے دریافت ہوا۔[1][2] جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم ترین نسخہ ہے، جامعہ کے مطابق ریڈیو کاربن تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ مخطوطہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مخطوطہ جامعہ برمنگھم کے کتب خانے میں مشرق وسطیٰ کی دیگر کتابوں اور دستاویزات کے ساتھ ایک صدی سے موجود تھا۔ جامعہ آکسفرڈ کے ریڈیو کاربن ایکسلیریٹر یونٹ میں کیے گئے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا ہے، نیز اس تجزیے کے مطابق یہ سنہ 568ء اور سنہ 645ء کے درمیان کا نسخہ ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کے مسیحیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس کے بقول:

اس تاریخ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے چند سال بعد کا نسخہ ہے۔ اور اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ جس نے بھی یہ لکھا وہ شخص پیغمبر اسلام کے وقت زندہ تھا۔ جس نے یہ لکھا ہے ممکن ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے قریب تھے۔ ممکنہ طور پر انھوں نے پیغمبر کو دیکھا ہو گا اور ان کو تبلیغ کرتے ہوئے سنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ اور یہ ایک اہم بات ہے۔ قرآن کو کتاب کی صورت میں 650 میں مکمل کیا گیا۔ یہ اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا جو حصہ اس چمڑے پر لکھا گیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے گزر جانے کے دو دہائیوں کے بعد کا ہے۔

قرآن سے مطابقت

ڈاکٹر محمد بن شمس الدین کا کہنا ہے کہ مخطوطہ برمنگھم موجودہ مصحف کے مطابق ہے، نیز ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تقابلی مطالعہ میں رائج مصحف کو اصل بنیاد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ نسخہ ہم تک تواتر سے پہونچا ہے۔ جبکہ مخطوطات میں اغلاط کا احتمال ہوتا ہے کیونکہ مخطوطہ نویس کا علم ہوتا ہے، نہ اس کے مذہب و تدین اور حالات زندگی کا؛ تاہم مخطوطہ برمنگھم قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق ہونے کی بنا پر درست ہے۔[3]

====================
حوالہ جات
 1- "Birmingham Qur'an manuscript dated among the oldest in the world"۔ جامعہ برمنگھم۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
2-  "'Oldest' Koran fragments found in Birmingham University"۔ بی بی سی۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
3-  "شیخ محمد بن شمس الدین کی ویب سائٹ"۔ فتوى.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2015۔

سامری اور بچھڑے کی حقیقت

ارشاد باری تعالی : 

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ 95؀  قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِيْ 96؀ (سورۃ طہ )

ترجمہ : " موسیٰ نے کہا کہ اے سامری، تمھارا کیا معاملہ ہے۔  اس نے کہا کہ مجھ کو وہ چیز نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی۔ میرے نفس نے مجھ کو ایسا ہی سمجھایا۔" 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید ابوالاعلی مودودیؒ نے کی تفسیر میں لکھا ہے کہ " اس آیت کی تفسیر میں دو گروہوں کی طرف سے عجیب کھینچ تان کی گئی ہے۔ 

ایک گروہ جس میں قدیم طرز کے مفسرین کی بڑی اکثریت شامل ہے، اس کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ " سامری نے رسول یعنی حضرت جبریل کو گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور ان کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی، اور یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔ " حالانکہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا ہے فی الواقع ایسا ہوا تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ کی باز پرس کے جواب میں سامری نے یہ بات بنائی۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مفسرین اس کو ایک امر واقعی، اور قرآن کی بیان کردہ حقیقت کیسے سمجھ بیٹھے۔ 

دوسرا گروہ سامری کے قول کو ایک اور ہی معنی پہناتا ہے۔ اس کی تاویل کے مطابق سامری نے دراصل یہ کہا تھا کہ " مجھے رسول، یعنی حضرت موسیٰ میں، یا ان کے دین میں وہ کمزوری نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہ آئی۔ اس لیے میں نے ایک حد تک تو اس کے نقش قدم کی پیروی کی، مگر بعد میں اسے چھوڑ دیا "۔ یہ تاویل غالباً سب سے پہلے ابو مسلم اصفہانی کو سوجھی تھی، پھر امام رازی نے اس کو اپنی تفسیر میں نقل کر کے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا، اور اب طرز جدید کے مفسرین بالعموم اسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن یہ حضرات اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ قرآن معموں اور پہیلیوں کی زبان میں نازل نہیں ہوا ہے بلکہ صاف اور عام فہم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کو ایک عام عرب اپنی زبان کے معروف محاورے کے مطابق سمجھ سکے۔ کوئی شخص جو عربی زبان کے معروف محاورے اور روز مرہ سے واقف ہو، کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ سامری کے اس مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لیے عربی مبین میں وہ الفاظ استعمال کیے جائیں گے جو آیت زیر تفسیر میں پائے جاتے ہیں۔ نہ ایک عام عرب ان الفاظ کو سن کر کبھی وہ مطلب لے سکتا ہے جو یہ حضرات بیان کر رہے ہیں۔ لغت کی کتابوں میں سے کسی لفظ کے وہ مختلف مفہومات تلاش کرلینا جو مختلف محاوروں میں اس سے مراد لیے جاتے ہوں۔ اور ان میں سے کسی مفہوم کو لا کر ایک ایسی عبارت میں چسپاں کر دینا جہاں ایک عام عرب اس لفظ کو ہرگز اس مفہوم میں استعمال نہ کرے گا۔ زباں دانی تو نہیں ہو سکتا، البتہ سخن سازی کا کرتب ضرور مانا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے کرتب فرہنگ آصفیہ ہاتھ میں لے کر اگر کوئی شخص خود ان حضرات کی اردو تحریروں میں، یا آکسفورڈ ڈکشنری لے کر ان کی انگریزی تحریروں میں دکھانے شروع کر دے، تو شاید اپنے کلام کی دو چار ہی تاویلیں سن کر یہ حضرات چیخ اٹھیں۔ بالعموم قرآن میں ایسی تاویلیں اس وقت کی جاتی ہیں جبکہ ایک شخص کسی آیت کے صاف اور سیدھے مطلب کو دیکھ کر اپنی دانست میں یہ سمجھتا ہے کہ یہاں تو اللہ میاں سے بڑی بےاحتیاطی ہوگئی، لاؤ میں ان کی بات اس طرح بنا دوں کہ ان کی غلطی کا پردہ ڈھک جائے اور لوگوں کو ان پر ہنسنے کا موقع نہ ملے۔ 

ابراہیم ؑ ، ذریت نوح ؑ نہیں : قرآن کا ایک انکشاف

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق 

 تاریخ اشاعت ، ستمبر 2018


بائیبل کے مطابق طوفانِ نوح کے بعد کشتی میں سوار جانوروں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات مرگئی تھیں۔ گویا طوفانِ نوح عالم گیر طوفان تھا،جس نے زمین کے ہر گوشے سے زندگی کا خاتمہ کردیا تھا۔۱؂ اسی طرح بائیبل یہ بتاتی ہے کہ طوفانِ نوح کے وقت کشتی میں صرف نوح علیہ السلام کے بہو بیٹے ہی سوار تھے، کوئی اور نہ تھا۔ کتاب پیدائش میں لکھا ہے:
’’طوفانی سیلاب سے بچنے کے لیے نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔‘‘ (۷: ۷)


اسی ساتویں باب ہی میں لکھا ہے:
’’چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا، پانی چڑھا تو اس نے کشتی کو زمین سے اٹھا لیا۔ پانی زور پکڑ کر بہت بڑھ گیا، اور کشتی اس پر تیرنے لگی آخر کار پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ تمام اونچے پہاڑ بھی اس میں چھپ گئے۔بلکہ سب سے اونچی چوٹی پر پانی کی گہرائی بیس فٹ تھی۔ زمین پر رہنے والی ہر مخلوق ہلاک ہوئی۔ پرندے، مویشی، جنگلی جانور، تمام جان دار جن سے زمین بھری ہوئی تھی اور انسان، سب کچھ مرگیا۔ زمین پر ہر جان دار مخلوق ہلاک ہوئی۲؂۔ یوں ہر مخلوق کو روے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے والے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کردیا گیا ۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اس کے ساتھی بچ گئے۔ سیلاب ڈیڑھ سو دن تک زمین پر غالب رہا۔‘‘ (۱۷۔۲۴) 


کتاب پیدائش ہی کے آٹھویں باب میں لکھا ہے:
’’پھر اللہ نے نوح سے کہا: اپنی بیوی، بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ کشتی سے نکل آ۔ جتنے بھی جانور ساتھ ہیں، انھیں نکال دے، خواہ پرندے ہوں، خواہ زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور۔ وہ دنیا میں پھیل جائیں، نسل بڑھائیں اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔چنانچہ نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں سمیت نکل آیا۔ تمام جانور اور پرندے بھی اپنی اپنی قسم کے گروہوں میں کشتی سے نکلے۔‘‘(۱۵۔۱۹)

جنت اسی زمین پر ہوگی ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ " زمین پھیلا دی جائے گی "۔ سورۃ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ، " سمندر پھاڑ دیے جائیں گے " جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا سورۃ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ، " سمندر بھردیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے "۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جائے گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کی طرح بنا دیا جائے گا۔ یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۃ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔ " وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی۔ " اور یہی زمین کی وہ شکل ہوگی جس پر حشر قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرمائے گا۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنادی جائے گی جس کو سورۃ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُوا لْحَمْدُ لِلِہ الَّذِیْ صَدَقَٓنَا وَعْدَہ وَ اَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآءُ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ " کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے "۔ 

 اس سے معلوم ہوا کہ آخر کار یہ پورا کرہ جنت بنا دیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے۔ اس وقت پوری زمین ایک ملک ہوگی۔ پہاڑ، سمندر، دریا، صحرا، جو آج زمین کو بےشمار ملوں اور وطنوں میں تقسیم کر رہے ہیں، اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے۔

 (واضح رہے کہ صحابہ و تابعین میں سے ابن عباس (رض) اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہوگی، اور سورۃ نجم کی آیت عِنْد سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ہ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمأویٰ، کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں )

----------------------

تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ، سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :83

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ،  ايَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ  ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ  ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ  (سورۃ البقرۃ :  ١٨٤)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں﴿پھر نہ رکھیں﴾ تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے ، تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔ 

--------------------------------

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا آدمی کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو صحابہ (رض) سفر میں جایا کرتے تھے، ان میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہ رکھتا تھا اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہ کرتا تھا۔ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کبھی سفر میں روزہ رکھا ہے اور کبھی نہیں رکھا ہے۔ ایک سفر کے موقع پر ایک شخص بد حال ہو کر گر گیا اور اس کے گرد لوگ جمع ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حال دیکھ کر دریافت فرمایا : کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا روزے سے ہے۔ فرمایا : یہ نیکی نہیں ہے۔ جنگ کے موقع پر تو آپ حکماً روزے سے روک دیا کرتے تھے تاکہ دشمن سے لڑنے میں کمزوری لاحق نہ ہو۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو مرتبہ رمضان میں جنگ پر گئے۔ پہلی مرتبہ جنگ بدر میں اور آخری مرتبہ فتح مکہ کے موقی پر، اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے چھوڑ دیے۔ ابن عمر (رض) کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضُور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا تھا کہ انہ یوم قتال فافطروا۔ دوسری روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ انکم قدد نوتم من عدوکم فافطروا اقوی لکم۔ یعنی دشمن سے مقابلہ درپیش ہے، روزے چھوڑ دو تاکہ تمہیں لڑنے کی قوت حاصل ہو۔

حضرت موسی ؑ اور خضر ؑ کی گفتگو (سُوْرَةُ الْكَهْف : 60 تا 82)


وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ :

(جب موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا)

"لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا "

(”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“)

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ، فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ:

(پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریامیں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جا کر موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے کہا)

" اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا "

(”لاوٴ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں۔“ )

قَالَ : " اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ عَجَبًا "

(خادم نے کہا”آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر ﴿آپ سے کرنا﴾ بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔“)

قَالَ: " ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ "

(موسیٰؑ نے کہا”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ )

قرآن کا طریقِ دعوت

ابوسلیم محمد عبد الحی

قرآن کریم ایک دعوت کی کتاب ہے اور ایک دعوت اور ایک تحریک کے ساتھ ساتھ نازل کی گئی ہے۔ پورے ۲۳ سال کی مدّت میں اسلامی دعوت کو جن جن مرحلوں سے ہو کر گزرنا پڑا ، ان تمام مرحلوں میں اس کتاب نے بروقت رہنمائی کی ہے۔ ہر موقعے پر ضرورت کے لحاظ سے اس کے مختلف حصے نازل ہوتے رہے ہیں۔ ضرورت کے تقاضوں کے ماتحت اندازبدل بدل کر ایک بات کو بار بار دُہرایا گیا ہے اور ہر موقعے پر کسی ضروری پہلو کو زیادہ ابھارا گیا ہے ۔

ایسی کتاب کو اگر آپ دوسری کتابوں کی طرح پڑھیں گے تو ظاہر ہے کہ آپ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، جو باتیں کسی خاص موقعے اور کسی خاص محل پر کہی جاتی ہیںاگر آپ انھیں موقع اور محل کے تصور سے الگ کر کے دیکھیں تو ان میں نہ اثر باقی رہتا ہے اور نہ سننے والے اس سے وہ لطف محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ نے خود تجربہ کیا ہو گا ۔ کبھی کسی نازک موقعے پر خاص حالات کے تحت کسی شاعر کا ایک مصرع یا کسی شخص کا کوئی مقولہ سننے والوں کو تڑپا دیتا ہے لیکن وہی مصرع اور وہی مقولہ اگر ان حالات سے الگ ہوکر دھرایا جائے تو اس میں کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوتی ۔
٭قرآن ایک دعوت کی کتاب ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن آپ کی آنکھوں کو پُر نم اور آپ کی قوتوں کو متحرک کرے تو آپ پہلے اس دعوت کو اپنائیںجو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔ آپ اس دعوت کو عملاً دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر آپ سچ مچ اسلامی دعوت کو لے کر اٹھیں گے توآپ محسوس کریں گے کہ آپ کو قدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت ہے اور جب آپ کے حسبِ ضرورت وہ رہنمائی براہِ راست مالک ِ کائنات کے الفاظ میں آپ کے سامنے آئے گی تو ممکن نہیں کہ آپ کے جذبات میں اُبھار پیدا نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی آنکھیں پُر نم ہوجائیں اور آپ اپنے اندر ایسی قوت محسوس کرنے لگیں کہ آپ کو دنیا کی ساری قوتیں ہیچ نظر آئیں۔

بنی اسرائیل کی تباہی (2) ، سید ابوالاعلی مودودیؒ


فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا   (بنی اسرائیل : 7) 

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد ﴿بیت المقدس﴾ میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کر کے رکھ دیں ۔ 

--------------------------------

اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے :

مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ پومپی سن ٦٣ ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر سن ٤٠ ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی۔ یہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن ٤٠ سے ٤ قبل مسیح تک رہی۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سر پرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔

ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق ، اگست 2018

(نوٹ : بلاگر کا مضمون نگار کی رائی سے اتفاق لازمی نہیں ) 

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کاماخذِ کُل ہے اورہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی موشگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اورمعیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سرسید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے میعار پر دکھانے کے لیے تفسیر یں لکھیں۔
عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ

یہودیوں کا عروج ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا  ( سورۃ بنی اسرائیل : 6)

اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ 
--------------------------
" یہ اشارہ ہے اس مہلت کی طرف جو یہودیوں (یعنی اہل یہودیہ) کو بابل کی اسیری سے رہائی کے بعد عطا کی گئی۔ جہاں تک سامریہ اور اسرئیل کے لوگوں کا تعلق ہے، وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اٹھے، مگر یہودیہ کے باشندوں میں ایک ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ان لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو یہودیہ میں بچے کھچے رہ گئے تھے، اور ان لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیے گئے تھے۔ آخرکار رحمت الہی ان کی مدد گار ہوئی۔ بابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ سن ٥٣٩ قبل مسیح میں ایرانی فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل کو فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے فرمان جاری کردیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہوگئے جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ سائرس نے یہودیوں کی ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی اجازت بھی دی، مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہوگئی تھیں، مزاحمت کرتی رہیں۔ آخر داریوس (وارا) اول نے سن ٥٢٢ ق م یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور اس نے حِجِّی نبی، زکریا نبی اور سردار کاہن یشوع کی نگرانی میں ہیکل مقدس نئے سرے سے تعمیر کیا۔ پھر سن ٤٥٧ ق م میں ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ حضرت عزیر (عزرا) یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششتا (ارٹا کسر سزیا اردشیر) نے ایک فرمان کی رو سے ان کو مجاز کیا کہ :

بنی اسرائیل کی تباہی (1) ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل آیت 5 ) 

آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ 
----------------------------------
" اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کرچکے ہیں، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گر اکر ایک شکست خوردہ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔

حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوٹے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتِّی اَمَّوری کنعانی، فِرِزِّی، حَوِی، یبوسی، فِلستی وغیرہ سان قوموں میں بد تیرن قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔ ان کے سب سے بڑے معبود کا نام ایل تھا جسے یہ دیوتاؤں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموما سانڈے سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عشیرہ تھا اور اس سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد ٧٠ تک پہنچتی تھی۔ اس کی اولاد میں سب سے زیادہ زبردست بعل تھا جس کو بارش اور روئیدگی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ شمالی علاقوں میں اس کی بیوی اناث کہلاتی تھی اور فلسطین میں عستارات۔ یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا موت کا مالک تھا، کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی۔ کسی دیوتا کو وبا اور قحط لانے کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے، اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔ ان دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی ان کے ساتھ مشتہر ہونا پسند نہ کریں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی کمینہ ہستیوں کو خدا بنائیں اور ان کی پرستش کریں وہ اخلاق کی ذلیل ترین پستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جو حالات آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں وہ شدید اخلاقی گراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی کا عام رواج تھا۔ ان کے معابد زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔ عورتوں کو دیوداسیاں بنا کر عبادت گاہوں میں رکھنا اور ان سے بدکاریاں کرنا عبادت کے اجزاء میں داخل تھا۔ اور اسی طرح کی اور بہت سی بد اخلاقیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں ۔