پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری
قرآن مجیدکی تعلیمات زمانی و مکانی قیود سے ماورا بنی نوع انسان کی ہدایت پر مبنی ہیں اس اعتبار سے اس کی تعلیمات دنیا کی دیگر زبانوں تک پہنچنا ہی اس کا اصل ھدف ہے کہ اسی کیفیت میں اس کے نزول کا مقصد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے لہذا قرآن مجید کی ترجمانی یا ترجمہ دیگر زبانوں میں کرنا اس کے کچھ آداب اور معین کیفیات ہیں جن کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور اگر ان امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو قرآن مجید کی ترجمہ کما حقہ ناممکن ہے یا اس کا آفاقی پیغام اپنی اصل روح کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے لفظ قرآن ، تفسیر اور ترجمہ کے معانی و مفاہیم ذکر کردیے جائیں تاکہ اصل مطلب کے فہم اور تفہیم میں آسانی رہے۔
قرآن : عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)
"بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو"
پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔
تفسیر: عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے "واضح کرنا اور بیان کرنا" اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے: وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا(الفرقان 25/ 33)
"اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے"
اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔
جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔
علم قراء ت: اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔
علم رسم عثمانی: اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔
علم کلام: اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔
علم صرف: اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔
علم نحو: اس میں کلمات کے معرب و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔
علم معانی: اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔
علم بیان: اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔
علم بدیع: اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے۔
غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔
وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:
علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے: (1) لغت (2) صرف (3) نحو (4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید (7) قصص (8) ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی (10) اسباب نزول کی معرفت (11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث ، وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔